واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


ª!ª اصطلاحات شریعہ ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-09, 08:15 PM   #1
ª!ª اصطلاحات شریعہ ª!ª
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 23-08-09, 08:15 PM

اسلام علیکم معزز قارئین کرام کچھ عرصہ قبل ہم نے ایک مخصوص مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے چند فقہی اصطلاحات کی تعریف (علماء امت کے حوالہ سے) نقل کی تھی ان تعریفات کی افادیت کے پیش نظر ہم اسے معزز قارئین کے لیے بھی پیش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔۔


فرض

فرض کا لغوی معنی مقرر کرنا اور لازم کرنا ہے یہ لفظ انھی معنوں میں قرآن پاک میں بھی استعمال ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم ۔ ۔ سورہ الاحزاب
ترجمہ بیشک ہم جانتے ہیں کہ جوکچھ ہم نے مقرر (لازم ) کیا اُن پر ازواج کے لیے ۔

فرض کی اصطلاحی تعریف :
فرض وہ ہوتا ہے جو کہ دلیل قطعی سے ثابت ہو یعنی قرآن و حدیث کی ایسی واضح نص یعنی دلیل کہ جس میں کسی قسم کے کوئی شبہ کی گنجائش نہ ہو اور فرائض شریعت میں مقرر ہیں ان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی جیسے نماز پنجگانہ، روزہ زکواۃ ،حج وغیرہ کیونکہ شریعت ان افعال کو کرنے کا لازمی مطابہ کرتی ہے اس لیے بھی انکو فرض کہا جاتا ہے ۔


فرض کا حکم :
فرض میں چونکہ فعل کے بجا لانے کا لازمی مطالبہ ہوتا ہے اس لیے انکے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر گناہ ہوتا ہے اور اسکی فرضیت کے انکار سے کفر لازم ہوتا ہے یعنی کوئی اگر نماز کی فرضیت ہی کا انکار کربیٹھے تو وہ بالاجماع کافر ہے ۔ ۔ ۔


واجب کی لغوی تعریف :
لغوی اعتبار سے واجب کے تین معنٰی ہیں لزوم ، ثبوت ، سقوط
اصطلاحی تعریف :
یہ فرض کا قائم مقام ہوتا ہے اور یہ ایسا حکم کہ جس کے کرنے کا شریعت نے لازمی مطالبہ کیا ہو مگر وہ اپنے ثبوت کے اعتبار سے قطعی نہ ہو بلکہ بلکہ ظنی الدلیل ہو یعنی قرآن و سنت کی کسی ایسی نص سے ثابت ہو کہ جس میں شبہ پایا جائے یعنی اس کا مفھوم تو اپنے تعین میں فرض کی طرح واضح ہو لیکن اسکا ثبوت اپنے اثبات میں قطعی نہ ہو بلکہ کسی شبہ کا شکار ہو جیسے درج زیل حدیث ۔ ۔ ۔
ان رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرض زکواۃ الفطر من رمضان علی الناس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترجمہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رمضان میں صدقہ فطر کو فرض یعنی واجب کیا
اس حدیث میں اگرچہ فرض کا لفظ استعمال ہوا ہے جو کہ فرضیت پر دلالت کرتا ہے مگر چونکہ یہ حدیث خبر واحد ہے اور اخبار احاد اپنے ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہوتی ہیں لہذا ان میں فرض کی شرط یعنی قطعیت یعنی قطعی الثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان سے ثابت ہونے والا کوئی بھی حکم فرض کا درجہ نہیں (کیونکہ فرض اپنے ثبوت اور مدلول پر اپنی دلالت دونوں میں قطعی ہوتا ہے جبکہ واجب اپنے مدلول پر دلالت میں تو قطعی ہوتا ہے مگر ثبوت میں ظنی ہوتا ہے) پاسکتا بلکہ وہ وجوب کے درجہ میں آجائے گا ۔


واجب کا حکم :
واجب کا حکم فرض ہی کی طرح ہے یعنی اس کا بجا لانا ضروری ہے مگر اس کے وجوب کا انکار کرنے والا فرض کے انکار کرنے والے کی طرح کافر نہیں ہوگا بلکہ گمراہ کہلائے گا ۔


مستحب کی تعریف
مستحب یہ استحباب مصدر سے باب استفعال ہے اور اس کا مادہ حب ہے یعنی پسندیدہ ۔ ۔ ۔
اصطلاحی تعریف
:یہ ایسا فعل ہوتا ہے کہ شریعت میں جس کے کرنے والے کی تعریف کی جائے اور نہ کرنے والے کو ملامت نہ کیا جائے ۔ یعنی شریعت کا کسی ایسے کام کو طلب کرنا کہ جس کے ترک پر کچھ بھی لازم نہ آئے یعنی مذمت بھی نہ ہو ۔

مستحب کا حکم :
جس پر عمل کرنا اس پر نہ عمل کرنے سے بہتر ہو اور عمل کے ترک پر کوئی باز پرس نہ ہو۔

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 462
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (24-08-09), shafresha (23-08-09), کنعان (29-10-11), مہتاب (29-10-11), ملک اظہر (29-10-11), احمد نذیر (29-10-11), رضی (29-10-11)
پرانا 23-08-09, 09:18 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
عابد بھائی جزاک اللہ

تھوڑی سی مزید اگر تشریح ہو جائے تو میرے لئے مفید ہو گا

واجب کو ہم سنت کہہ سکتے ہیں؟
اگر ہاں تو پھر سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کی تقسیم کو کسیے سمجھا جائے
یا غیر مؤکدہ کو مستحب کے زمرے میں سمجھا جائے؟

اس حوالے سے اگر کچھ عنایت فرما د یں تو نوازش ہو گی

طالب دعا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (29-10-11)
پرانا 23-08-09, 10:48 PM   #3
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
عابد بھائی جزاک اللہ

تھوڑی سی مزید اگر تشریح ہو جائے تو میرے لئے مفید ہو گا

واجب کو ہم سنت کہہ سکتے ہیں؟
اگر ہاں تو پھر سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کی تقسیم کو کسیے سمجھا جائے
یا غیر مؤکدہ کو مستحب کے زمرے میں سمجھا جائے؟

اس حوالے سے اگر کچھ عنایت فرما د یں تو نوازش ہو گی

طالب دعا
وعلیکم السلام بھائی !
لفظ سنت کن کن معنٰی میں استعمال ہوتا ہے اسکی تفصیل تو ہم یہاں بیان کرچکے مگر آپ کے حکم کے مطابق تھوڑی سی وضاحت مزید کیئے دیتا ہوں ۔ ۔ آپ کے سوال کی اگر فلسفیانہ تشریح کروں تو ہر وہ فعل جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا چاہے شرع میں اسکا تعین فرض یا وجوب کا ہی کیوں نہ ہو وہ ایک طرح کی سنت ہی کہلائے گا کہ اس عمل پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اسے سنت بنانے پر دلالت کرتا ہے مگر حاکم شرعی کے نزدیک مذکورہ فعل کی طلب اسکے فرض واجب یا مستحب ہونے کی حیثیت کو واضح کرتی ہے ہم یہاں چونکہ فقہی اعتبار سے اصطلاحات شریعہ کو بیان کررہے ہیں لہزا سنت کی فقہی تعریف کو بیان کردیتا ہوں
سنت کی فقہی تعریف
دین میں سنت اس طریقہ جاریہ کو کہتے ہیں جو کہ فرض یا واجب نہ ہو اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا فعل سے ثابت ہو ۔

سنت کا حکم :- شارع کا اپنے مکلفین کو سنت کے کرنے کا ایسا مطالبہ کرنا کہ جس میں فرض یا واجب والی سختی نہ پائی جائے مگر چونکہ سنت کو زندہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے اس کا ترک باعث عتاب ضرور ہے لہزا اسکو کرنے پر ثواب اور ترک پر ملامت ہے ۔
پھر اسکی مختلف جہات و اقسام ہیں کہ جنکی تفصیل درج زیل ہے ۔ ۔

فقہی اعتبار سے سنت کی اقسام :-
بنیادی طور پر سنت دو طرح سے تقسیم ہوتی ہے
باعتبار تاکید
باعتبار تکلیف


پھر باعتبار تاکید سنت کی مزید دو اقسام ہیں

سنت مؤکدہ
سنت غیر مؤکدہ


سنت مؤکدہ کی تعریف ، حکم اور مثال :-
جسکو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرضیت یا وجوب سے بچنے کے لیے ) ایک دو مرتبہ کے ترک کے سوا ہمیشہ بطور عبادت اپنایا ہو اور اسکی اقامت تکمیل دین کی خاطر ہو اور ترک باعث اساءت و کراہت ہو ۔ حکم اس کا یہ ہے کہ اس کو ترک کرنا باعث ملامت ہے کیونکہ یہ طلب فعل میں بالکل وجوب کی مانند ہے مگر حکما اس سے جدا ہے لہزا کہہ سکتے ہیں کہ واجب کی قائم مقام ہے ۔ لہزا اذان و اقامت اور نماز باجماعت وغیرہ اسکی مثالیں ہیں ۔

سنت غیر مؤکدہ تعریف حکم اور مثال :-اس سے مراد وہ امور ہیں کہ جنکو کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور کبھی چھوڑ دیا حکم اس کا یہ ہے کہ اس کا کرنا باعث ثواب اور چھوڑنا کسی بھی عتاب کا باعث نہیں اور مثال اسکی عصر اور عشاء سے قبل کی چار سنتیں ہیں ۔ ۔ ۔

تکلیف کے اعتبار سے سنت کی تقسیم
تکلیف کے اعتبار سے بھی سنت کی دو قسمیں ہیں
سنت عین
سنت کفایہ


سنت عین تعریف اورمثال :-ایسی سنت کی جس کی بجا آوری تمام مکلفین کے لیے بطور سنت مسنون ہو مثلا نماز تراویح کہ ہر ایک کے اپنے عمل سے ہی یہ سنت بجا آور ہوگی کسی دوسرے کے کرنے سے ادا نہ ہوگی ۔

سنت کفایہ :- جسکی بجا آوری کا مطالبہ شارع ہر کسی سے نہ کرے بلکہ چند مکلفین کی ادائگی ہی سب کی طرف سے کفایت کرجائے جیسے رمضان میں محلے کی مسجد میں چند احباب کا اعتکاف بیٹھ جانا سارے محلے کی طرف سے کفایت کرجائے گا ۔ ۔

امید کرتا ہوں آپکی تشنگی دور ہوگئی ہوگی وگرنہ ان معاملات میں کافی تفصیل اور بھی ہے ۔ ۔ ۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (24-08-09), کنعان (29-10-11), ملک اظہر (29-10-11), رضی (29-10-11)
پرانا 29-10-11, 02:08 AM   #4
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی کاوش ہے
آپ کا بہت بہت شکریہ
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (29-10-11)
جواب

Tags
color, فرض, کاوش, پاک, پسندیدہ, قرآن, نماز, نظر, مسجد, اللہ, اچھی, اسلام, بھائی, ترک, حکم, حدیث, خبر, دعا, روزہ, رمضان, شکریہ, عبادت, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یعقوب بزنجو کی جعلی قرار دی گئی ڈگری کنعان سیاست 0 07-07-10 04:16 AM
ایک یعنی صرف ایک بھائی گپ شپ 5 31-10-08 04:22 PM
اطلاعات بذریعہ ای میل myown خاص آفرز اور اعلانات 2 20-10-08 03:21 PM
آگ سے بچنے کا ذریعہ !!! kutkutariyaan اپکے کالم 2 03-05-08 03:10 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger