واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


آیہء ’علم الکتاب‘ کی روشنی میں اما مت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-05-11, 01:59 PM   #1
آیہء ’علم الکتاب‘ کی روشنی میں اما مت
حیدر Rehan حیدر Rehan آف لائن ہے 17-05-11, 01:59 PM

آیہء ’علم الکتاب‘ کی روشنی میں اما مت

و یقول الّذین کفرو الست مرسلاً قل کفی باللہ شھیداً بینی و بینکم ومن عندہ علم الکتاب> سورہ رعد/۴۳
”اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں تو کہدیجئے کہ ہمارے اور تمھارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے۔“


قرآن مجید کے سلسلہ میں ابتدائی اورسرسری نگاہ ڈالنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کی آیتوں پر تدبر اور غورو خوض کرناچاہئے۔
کیونکہ قرآن مجید کا ارشادہے:
<فارجع البصرہل تریٰ من فطور․ثمّ ارجع البصرکرّتین >(سورہ ملک/۳۔۴)
”پھر نظراٹھاکردیکھوکہیں کوئی شگاف تو نہیں ہے۔اس کے بعدباربارنگاہ ڈالو “


مندرجہ بالا آیہ شریفہ ان آیتوں میں سے ہے جن میں امیرالمئومنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ایک بڑی فضیلت بلکہ احتجاج۱ کی روآیت کے مطابق سب سے بڑی فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس لئے مناسب ہے اس کے معنی میں مزید غور وخوض کیا جائے۔

اس آیت میں پہلے کفار کی طرف سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے دو گواہ ذکر کئے گئے ہیں ایک اللہ اور دوسرے وہ کہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

آیت کی دلالت کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بحث کو درج ذیل دو محوروں پر جاری رکھا جا ئے

۱۔ اللہ کی گواہی کس طرح سے ہے؟

۲۔من عندہ علم الکتاب سے مراد کون ہے؟


۱-مصباح الھدایة،ص ۴۳

اللہ کی گواہی:

اس آیہء شریفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے پہلے گواہ کے طور پر اللہ کا ذکرہوا ہے۔ اللہ کی اس گواہی کے دوفرض ہیں:

۱۔ممکن ہے یہ گواہی قولی ہو اور گفتگو و کلام کے مقولہ سے ہو اس صورت میں وہی آیتیں جو آنحضرت کی رسالت کو بیان کرتی ہیں اللہ کی اس گواہی کی مصداق ہوں گی، جیسے :<والقران الحکیم انّک لمن المرسلین>۱ ” قرآن حکیم کی قسم آپ مرسلین میں سے ہیں“


۲۔ ممکن ہے یہ گواہی فعلی ہو اور اللہ نے اسے معجزہ کی صورت میں رسول اکرم (ص) کے ذریعہ ظاہر کیا ہو، یہ معجزے آنحضرت (ص) کی رسالت کے سلسلہ میں دعویٰ کے لئے ایک قوی سند ، واضح دلیل اور گو یا گواہ ہیں، خاص کر قرآن مجید ، جو آنحضرت (ص) کاایک لافانی معجزہ ہے اورہر زمانہ میں باقی رہنے والا ہے اوران معجزات کی حیثیت ایک طرح سے اللہ کے فعل کی سی ہے جو رسول خدا (ص) کی رسالت پر گواہ ہیں۔

<من عندہ علم الکتاب >سے مرادکون ہے؟

دوسرے محورمیں بحث اس جہت سے ہوگی کہ ” کتاب“ سے مراد کیا ہے؟ اور جس کے پاس ” کتاب کا علم“ ہے ، وہ کون ہے؟
اس سلسلہ میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں کہ ہم ان پر بحث کریں گے:

پہلا احتمال :” کتاب“سے مرادقرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابیں ہیں اور کتاب کے عالم سے مرادعلمائے یہودو نصاریٰ ہیں:

اس صورت میں اس آیہ شریفہ کے معنی یوں ہوں گے: ” کہدیجئے ! ہمارےاورتمھارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے کافی ہے اللہ اور وہ لوگ جن کے پاس گزشتہ آسمانی کتابوں کا علم ہے جیسے علمائے یہودونصاری چونکہ ان کتابوں میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام آیا ہے اور آنحضرت کی رسالت بیان ہوئی ہے ۔ اسی لئے علمائے یہودو نصاری اس مطلب سے آگاہی رکھتے ہیں اور اس پر گواہ ہیں۔
۱-۔ سورہ لمین/۱۔۲

یہ احتمال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر چہ علمائے یہودونصاری اپنی آسمانی کتابوں کے عالم تھے ، لیکن وہ کافر تھے اور ہر گز اپنے خلاف گواہی دینے کے لئے حاضر نہیں تھے۔

دوسرا احتمال : ” کتاب “سے مراد وہی قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابیں ہیں اور ان کے عالم سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا شمار پہلے علمائے یہودونصاری ٰ میں ہوا کر تا تھالیکن بعد میں اسلام قبول کرکے وہ مسلمان ہوگئے تھے، جیسے : سلمان فارسی ، عبداللہ بن سلام اور تمیم الداری۔ یہ لوگ ایک جہت سے توریت اور انجیل جیسی گزشتہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے اور ایک جہت سے آمادہ تھے تاکہ اسلام کی حقانیت اور نبی اسلام (ص) کی رسالت کے بارے میں جو کچھ انہیں معلوم ہے اس کی گواہی دیں۔

یہ احتمال بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ سورہ رعد اور من جملہ زیر بحث آیہء شریفہ جو اس سورہ کی آخری آیت ہے ، مکہ میں نازل ہوئی ہے اور مذکورہ افراد مدینہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس لئے اس کاکوئی مفہوم نہیں ہے جو ابھی کافر ہیں اور مسلمان نہیں ہوئے ہیں اپنے دین کے خلاف گواہی دینے کے لئے مدعو ہوجائیں۔

شبعی اور سعید بن جبیر سے نقل ہوئی روآیت کے مطابق انہوں نے بھی مذکورہ احتمال یعنی ” من عندہ علم الکتاب“ سے عبداللہ بن سلام کو مراد لینا اس کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس کی دلیل یہ پش کی ہے کہ یہ سورہ مکی ہے اور عبداللہ بن سلام مدینہ میں مسلمان ہوا ہے۔۱

تیسرا احتمال: ” من عندہ علم الکتاب“ سے مقصود اللہ اور ”کتاب“سے مرادلوح محفوظ ہے اور ”من عند ہ علم الکتاب“ کا ” اللہ “ پر عطف ہونا صفت کا اسم ذات پر عطف ہونے کے باب سے ہے۔ اس صورت میں معنی یوں ہوتا ہے: اللہ اور وہ شخص جو لوح محفوظ )جس میں تمام کائنات کے حقائق ثبت ہیں ) کا علم رکھتا ہے، وہ تمہاری رسالت پر گواہ ہے.
۱۔ معالم التنزیل ، ج ۳-، ص ۴۶۴، ۴۶۵-۔ الاتقان ، ج ۱، ص ۳۶، دار ابن کثیر بیروت


اول یہ کہ : جملہء<قل کفی بااللهشھیداً بینی و بینکم و من عندہ علم الکتاب>میں بظاہر عطف یہ ہے کہ ” من عندہ علم الکتاب“ اللہ کے علاوہ ہے کہ جس کا ذکر ابتداء میں پہلے گواہ کے طور پرآیا ہے۔

دوسرے یہ کہ: عربی ادبیات میں صفت کا عطف ، صفت پر موصوف کے سلسلہ میں مشہور اور رائج ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس قسم کا استعمال پایاجاتا ہے، جیسے :آیہء شریفہ : <تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم غافر الذّنب وقابل التوب…>۱ میں ”غافرالذّ نب“)گناہ کو بخشنے والا) اور ”قابل التوب“ )توبہ کو قبول کرنے والا) دوصفتیں ہیں جو حرف عطف کے فاصلہ سے ایک دوسرے کے بعدہیں اور اللہ کے لئے بیان ہوئی ہیں۔ لیکن جن مواقع پر پہلے اسم ذات ذکر ہوا ہے، کبھی بھی مشہور اور رائج استعمالات میں صفت اس پر عطف نہیں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ : آیہ کریمہ میں ” من عندہ علم الکتاب“ سے مراداللہ ہے۔

چوتھا احتمال: کتاب سے مراد ” لوح محفوظ“ ہے اور ” جس کے پاس کتاب کا علم ہے اس سے مراد امیرلمومنین علی علیہ السلام ہیں۔
اور یہ بھی کہ جس کو اللہ نے گواہ کہا ہے بے شک وہ گواہ بھی اور حاضر بھی یعنی جب رسول اکرم ص کی طرف سے بلایا جائے گا تو وہ حاضر بھی ہوگا اور یہ بھی کہ اگر کوئی کافر اس گواہ سے یہ پوچھ لے کہ بتاو ان کو رسالت کب اور کہاں ملی کیونکہ گواہی کو لغت سے لے کر عدالت تک یہی مقصد و حکم ہے کہ گواہ کو واقعے کا علم ہو نہ کہ وہ خود ہی واقع کے وضوع پذیر ہونے کے وقت غیر موجود رہا ہو تو یاد رہے مادی لحاظ سے بھی سوائے مولا علی علیہ سلام کے کوئی بظاہر ایسی ہستی نہی ہے جو گواہ بنے کیونکہ نبی آخرالزمان ص نے مولا علی ع کی ولادت سے لے کر 24 سال کی زندگی تک پرورش بھی کی یعنی کعبہ سے لے کر غدیر کے ممبر تک اپنے ہاتھوں سے بتایا کہ دیکھ لو اب دلیل قران کی یہی آیت خود بنے گی کہ واقعہ کا گواہ ہے جس کے پاس الکتاب کا پورا علم ہے . . .
.

اب ہم اس احتمال پر بحث و تحقیق کرتے ہیں۔

۱۔ سورہ غافر/۲

لوح محفوظ اور حقائق ہستی

قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے تمام حقائق ایک مجموعہ کی شکل میں موجود ہیں کہ قرآن مجید نے اسے ” کتاب مبین“ ۱ یا ” امام مبین“ ۲ یا ” لوح محفوظ“ ۳ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ من جملہ سورہ نمل میں فرماتا ہے: <وما من غائبة فی السّماء والارض إلّا فی کتاب مبین>۴ یعنی: اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیزایسی نہیں ہے جس کا ذکر کتاب مبین ) لوح محفوظ ) میں نہ ہو۔

اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لوح محفوظ میں درج شدہ حقائق سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے؟
اور اگر یہ ممکن ہے تو کون لوگ ان حقائق سے با خبر اور آگاہ ہیں اور کس حد تک؟

مطھّرون اور لوح محفوظ سے آگاہی

اس سلسلہ میں ہم سورہ واقعہ کی چند آیتوں پر غوروخوض کرتے ہیں:

<فلا اٴُ قسم بمواقع النجوموإنّہ لقسم لوتعلمون عظیم إنّہ لقرآن کریمفی کتاب مکنون لایمسّہ إلّا المطھّرون>) سورہ واقعہ/ ۷۵۔--۷۹)

ان آیات میں، پہلے ستاروں کے محل و مدارکی قسم کھائی گئی ہے۔ اس کے بعد اس قسم کی عظمت و اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اس کی نشاندھی کی گئی ہے۔ اس نکتہ پرتو جہ کرنا ضروری ہے کہ قسم کا معیار اور اس کی حیثیت اس حقیقت کے مطابق ہونا چا ہئیے کہ جس کے متعلق یا جس کےاثبات کے لئے قسم کھائی جارہی ہے ۔ اگر قسم با عظمت اور بااہمیت ہے تو یہ اس حقیقت کی اہمیت کی دلیل ہے کہ جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے۔

۱-۔ سورہ یونس/۶۱، سورہ سبا/۱۳، سورہ نمل/۷۵
۲۔ سورہ یسین/۱۲
۳۔ سورہ بروج/ ۲۲
۴۔ سورہ نمل/۷۵


جس حقیقت کے لئے یہ عظیم قسم کھائی گئی ہے، وہ یہ ہے: -<إنّہ لقرآن کریم فی کتاب مکنون لایمسّہ الّا المطھرون>یعنی بیشک یہ بہت ہی با عظمت قرآن ہے جسے ایک پو شیدہ کتاب میں رکھاگیا ہے اسے پاک و پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی چھو بھی نہیں سکتا ہے۔ ) اس کے ساتھ رابطہ نہیں کرسکتا ہے۔)آیہ شریفہ کا یہ جملہ <لا یمسّہ الّاالمطھرون>بہت زیادہ قابل غور ہے۔

ابتدائی نظر میں کہاجاتا ہے کہ بے طہارت لوگوں کا قرآن مجید سے مس کرنا اور اس کے خط پر ہاتھ لگانا حرام ہے، لیکن اس آیہ شریفہ پر عمیق غور وفکر کرنے سے یہ اہم نکتہ و اضح ہو جاتا ہے کہ مس سے مراد مس ظا ہری نہیں ہے اور ” مطھرون“ سے مراد باطہارت )مثلاً باوضو) افراد نہیں ہیں ۔ بلکہ مس سے مراد مس معنوی )رابطہ) اور”مطھرون “ سے مرادوہ افراد ہیں جنہیں خدا نے خاص پاکیزگی عنآیت کی ہے، اور ”لایمسہ“ کی ضمیر کتاب مکنون )لوح محفوظ) کی طرف پلٹتی ہے ۔

آیہ کریمہ سے یہ معنی )مس معنوی) استفادہ کرنے کے لئے چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:

۱۔ جملہء ”لا یمسہ “ کا ظہور اخبار ہے نہ انشاء ، کیونکہ بظا ہر یہ جملہ دوسرے اوصاف کے مانند کہ جو اس سے قبل ذکر ہوئے ہیں، صفت ہے اور انشاء صفت نہیں بن سکتا ہے، جبکہ آیت میں غیر مطہرون کے مس سے حکم تحریم )حرمت) کا استفادہ اس بنا پر کیا جاتا ہے کہ جملہ ”لا یمسہ “ انشاء ہو ، نہ اخبار۔

۲۔ ” لایمسہ“ کی ضمیر بلا فاصلہ ” کتاب مکنوں“ کی طرف پلٹتی ہے ، کہ جو اس جملہ سے پہلے واقع ہے نہ قرآن کی طرف کہ جواس سے پہلے مذکور ہے اور چند کلمات نے ان کے درمیان فاصلہ ڈال دیا ہے۔

۳۔ قرآن مجید کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک پوشیدہ اور محفوظ کتاب میں واقع ہے کہ جس تک عام انسانوں کی رسائی نہیں ہے اور یہ مطلب اس کے ساتھ مس کرنے سے کوئی تناسب نہیں رکھتا ہے۔

۴۔ طہارت شرعی ، یعنی وضو )جہاں پر وضو واجب ہو) یا غسل یا تیمم )جہاں پر ان کا انجام دینا ضروری وفرض)رکھنے والے کو ” متطھرّ“ کہتے ہیں نہ ”مطھّر“۔
اس تشریح سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو کچھ جملہ ء ” لا یمسہ الّا المطھرون “ سے استفادہ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ ” مطھر“ ) پاک قرار دئے گئے)افراد کے علاوہ کوئی بھی ”کتاب مکنون“ )لوح محفوظ) کو مس نہیں کرسکتا ہے، یعنی اس کے حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتا ہے۔


اب دیکھتے ہیں کہ اس خصوصی طہارت کے حامل افراد کون لوگ ہیں اور ”مطھرون“ سے مرادکون لوگ ہیں کہ جو ” لوح محفوظ“ سے اطلاع حاصل کرتے ہیں؟

” مطھرون “سے مرادکون ہیں؟

کیا ” مطھرون“کی اصطلاح فر شتوں سے مخصوص ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے اشارہ کیا ہے ۔ ۱ یایہ کہ اس میں عمومیت ہے یعنی وہ افراد جو خدا کی جانب سے خصوصی طہارت کے حامل ہیں وہ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے:

حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت ، اور خدا کی جانب سے انھیں جانشین مقرر کیا جا نا نیز ”اسماء“الہی کا علم رکھنا یعنی ایک ایسی حقیقت سے آگاہی کہ جس کے بارے میں ملا ئکہ نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام کے لئے ملائکہ کو سجدے کا حکم دینا وغیرہ ان واقعات اور قرآنی آیات ۱ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ خاص علوم سے آگاہی اور تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت انسان کامل میں ملائکہ سے کہیں زیادہ ہے۔
۱۔ ” روح المعانی“ ج ۲۷،۱۵۴،دار احیاء التراث العربی، بیروت


مذکورہ ان صفات کے پیش نظر کوئی دلیل نہیں ہے کہ جملہ <لا یمسہ الّا المطھرون>کو فرشتوں سے مخصوص کیا جائے جبکہ قرآن مجید کے مطابق خدا کے ایسے منتخب بندے موجود ہیں جو خاص طہارت و پاکیزگی کے مالک ہیں۔

آیہ تطہیر اور نبی اکرم ص کے محترم اہلبیت :

<إنّمایریداللہ لےذھب عنکم الرجس اٴھل البیت و یطھر کم تطھیرا>
) سورہ احزاب/۳۳)

” بس اللہ کا ارادہ ہے اے اہل بیت : کہ تم سے ہرطرح کی برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“


یہ آیہ شریفہ دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرم (ص) کا خاندان خدا وندمتعال کی طرف سے ایک خاص اور اعلی قسم کی پاکیزگی کا مالک ہے۔ آیہ کریمہ میں ” تطھیرا“ کا لفظ مفعول مطلق نوعی ہے جو ایک خاص قسم کی طہارت و پاکیزگی کو بیان کرتا ہے۔

نبی اکرم (ص)کے اہل بیت کہ جن میں سب سے نمایاں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام ہیں، اس آیہ شریفہ کے مطابق خداکی طرف سے خاص طہارت و پاکیزگی کے مالک ہیں اور ”مطھرون“ میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ لوح محفوظ کے حقائق سے آگاہی رکھ سکتے ہیں۔
۱۔ سورہ بقرہ/۳۴۔۳۰

”آصف بر خیا“ اور کتاب کے کچھ حصہ کا علم
ہم جانتے ہیں کہ خدا وندمتعال نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک ایسی وسیع سلطنت عطا کی تھی کہ انسانوں کے علاوہ جناّت اور پرندے بھی ان کے تابع تھے ۔ ایک دن جب جن وانس ان کے گرد جمع تھے حضرت سلیمان نے ان سے کہا: تم میں سے کون ہے جو بلقیس کے مسلمان ہونے سے پہلے اس کے تخت کو میرے پاس حاضر کردے؟جنّات میں سے ایک عفریت نے سلیمان نبی سے کہا:قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھے ہیں تخت کو آپ کے پاس حاضر کردوں گا۔ قرآن مجید فرماتا ہے ۱ ” کتاب کے کچھ حصہ کا علم رکھنے والے ایک شخص نے کہا: میں اتنی جلدی تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کردوں گا کہ آپ کی پلک بھی جھپکنے نہیں پائے گی اور اسی طرح اس نے حاضر کیا ۔

جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ کتاب ” لوح محفوظ “ہے اور شیعہ و سنی احادیث کے مطابق مذکورہ شخص حضرت سلیمان کا وزیر ” آصف بر خیا“ تھا ۔ قرآن مجید سے استفادہ ہوتا ہے آصف کی یہ غیر معمولی اور حیرت انگیز طاقت وصلاحیت کتاب )لوح محفوظ) کے کچھ حصہ کا علم جاننے کے سبب تھی اور جو بے شک اللہ کی طرف سے ایک خاص فضل تھا.

واضح رہے کہ طہارت و پاکیزگی کے چند مراحل ہیں۔ جس قدر طہارت کامل تر ہوگی اسی اعتبار سے علم وقدرت میں بھی اضا فہ ہو گا۔

جب ہمیں آیہ کریمہ<لا یمسّہ إلا المطہرون>سے یہ معلوم ہوگیا کہ لوح محفوظ کے حقایق کا علم خدا کی خاص طہارت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اور آیہ تطہیر نے اس خاص طہارت اور پاکیزگی کو اہل بیت علیہم السلام کے لئے ثابت کیا ہے، وہ بھی ایک ایسی تطہیر جورسول اکرم (ص) کی تطہیر کے ہم پلہ ہے۔
لہذا ان صفات کے پیش نظربعید نہیں ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصومین) علیہم السلام) لوح محفوظ کے تمام حقائق کا علم رکھتے ہوں اس لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ثعلبی کہ جو اھل سنت ۱کے نزدیک تفسیر کے استاد نیزحافظ اور امام کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں اور اہل سنت کے ائمہ رجال۲ کے مطابق جن کی روایتیں صحیح اورقابل اعتماد جانی جاتیں ہیں ، تفسیر”الکشف و البیان“۳ میں اور حاکم حسکانی۴ تفسیر شواہد التنزیل۵میں، ابوسعید خدری، عبداللہ بن سلام اور ابن عباس جیسے چند اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ
”من عندہ علم الکتاب“سے مراد امیر المومنین علی، علیہ السلام ہیں۔

۱۔سورہ نمل/۴۰
۲۔کچھ اردو اقوال بھی ہیں کہ تفاسیر کی طرف رجوع کرنا چاہئے


بلکہ ابو سعیدخدریاور عبداللہ بن سلام سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے رسول اکرم (ص) سے سوال کیا کہ
” من عندہ علم الکتاب“سے مراد کون ہے؟ جواب میں نبی آخرالزمان (ص)نے علی علیہ السلام کو” من عندہ الکتاب“کے مصداق کے طور پر پیش کیا۔
اسی مطلب کو )من عندہ علم الکتاب،سے مرادعلی علیہ السلام ہیں)سعید بن جبیر ،ابی صالح نیزمحمد بن حنفیہ سے بھی نقل کیا گیا ہے۔


اسی طرح کئی طریقوں سے نقل کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن عطاء کہ جو امام باقر علیہ السلام کے ہمراہ تھے، جب انھوں نے عبداللہ بن سلام کے بیٹے کو دیکھا تو امام باقر علیہ السلام سے سوال کیا: کیا یہ )عبداللہ بن سلام کا بیٹا) اس شخص کا بیٹا ہے جس کے پاس کتاب کا علم تھا؟ حضرت نے فرمایا: نہیں،”من عندہ علم الکتاب“سے مراد )عبداللی بن سلام نہیں ہے، بلکہ) امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام ہیں۔

۱۔اہل سنت کے علم رجال کے جلیل القدرامام ذہبی نے ” سیر اعلام النبلاء“ ج۱۷، ص۴۳۵ میں ثعلبی کے بارے میں کہا ہے : ” الامام الحافظ العلامة شیخ التفسیر“،
۲۔ عبدالغافر نیشابوری کتاب” تاریخ نیشاپوری“ ص۱۰۹ میں اس کے بارے میں کہتا ہے: الثقة الحافظ․․․ و ہو صحیح النقل موثوق بہ،
۳۔ الکشف وا لبیان، ج۵، ص ۳۰۳۔۳۰۲، داراحیا التراث العربی، بیروت،
۴۔ذہبی کی عبادت کو ہم نے آیہ صادقین کی تفسیر میں اس کے متقن، محکم اسناد کے عالی ہونے کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو
۵۔” شواہد التنزیل“ با تحقیق شیخ محمد باقر محمود، ج۱، ص۴۰۰


اس کے علاوہ ابن شہر آشوب۱نے اپنی ”کتاب مناقب۲“ میں کہا ہے:
” محمدبن مسلم، ابوحمزہ ثمالی اور جابربن یزید نے امام باقر(علیہ السلام) سے اسی طرح علی بن فضل،فضیل بن یسار اور ابو بصیر نے امام صادق(علیہ السلام) سے نیز احمد بن محمدحلبی اور محمد بن فضیل نے امام رضا(علیہ السلام) سے روایت نقل کی ہے اور اس کے علاوہ موسی بن جعفر(علیہ السلام)، زیدبن علی، محمد بن حنفیہ، سلمان فارسی، ابوسعید خدری اور اسماعیل سدی سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں خداوند متعال کے قول:
<کل کفی باللہ شہیداً بینی و بینکم و من عندہ علم الکتاب>کے بارے میں کہا ہے کہ:”من عندہ علم الکتاب“سے مراد علی بن ابیطالب (علیہ السلام) ہیں۔“

شیعہ احادیث میں مختلف طریقوں سے آیا ہے کہ ” من عندہ علم الکتاب“سے مراد امیرالمومنین علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصو مین علیہم السلام ہیں۔ نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل حدیث پر غور فرماہئے: ثقة الاسلام کلینی نے اصول کافی ۳ میں معتبر سند سے بریدبن معاویہ سے کہ جو امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے روایت کی ہے انھوں نے حضرت سے عرض کی:
”آیہ کریمہ <قل کفی بالله شہیداً بینی و بینکم و من عندہ علم الکتاب>میں”من عندہ علم الکتاب“ سے مراد کون ہے؟

حضرت نے فرمایا:اس سے صرف ہم اھل بیت معصومین(ع) کا قصد کیا گیا ہے اور علی ) علیہ السلام) رسول اکرم (ص) کے بعدسب سے مقدم اورہم میں افضل ترین فرد ہیں۔

۱۔ ہم نے آیہ صادقین کی تفسیر میں اس )شہر آشوب) کی صداقت کے بارے میں ابن ابی طما کی زبانی زہبی کی ستائش بیان کی ہے۔
۲۔ مناقب، ابن شہر آشوب، ج۲، ص۲۹، موسسہ انتشارات علامہ قم،
۳۔ اصول کافی، ج۱،ص۱۷۹


فرامین آل محمد ع میں جس کے پاس کتاب کا پورا علم ہے یعنی علی بن ابیطالب علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصومین اور جس کے پاس کتاب کا کچھ علم موجود ہےیعنی آصف برخیا کے در میان دلچسپ موازنہ کیا گیا ہے:

عن اٴبی عبد اللہ قال: ” الذي عندہ علم الکتاب“ ہو امیرالمؤمنین - علیہ السلام - و سئل عن الذي عندہ علم من الکتاب اٴعلم اٴم الذي عندہ علم الکتاب؟ فقال: ما کان علم الّذي عندہ علم من الکتاب عند الذي عندہ علم الکتاب إلّا بقدر ما تاٴخذ البعوضة بجناحہا من مائ البحر․۱

یعنی: امام صادق) علیہ السلام) نے فرمایا:
”جس کے پاس کتاب کا علم تھا علی بن ابیطالب(علیہ السلام) تھے۔
سوال کیا گیا: کیا وہ شخص جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا یعنی آصف برخیازیادہ عالم تھا یا وہ جس کے پاس مطلق کتاب کا علم تھا)یعنی حضرت علی علیہ السلام)
امام صادق ع ع نے فرمایا:جس کے پاس کتاب کا تھوڑا ساعلم تھا،اس کاموازنہ اس شخص سے کہ جس کے پاس مطلق کتاب کا علم تھا ایسا ہے جیسے مچھرکے بھیگے ہوئے پر کا موازنہ سمندرسے کیاجائے۔“

یہ بحث وگفتگواس بناپرتھی کہ جب”من عندہ علم الکتاب“میں”کتاب“سے مرادلوح محفو ظ ہو۔لیکن اگر”الکتاب“سے مراد جنس کتاب ہو،اس بنا پرکہ” الف ولام“جنس کے لئے ہے اور کوئی خاص چیز مد نظرنہ ہوتوہرکتاب اس میں شامل ہو سکتی ہے حتی لوح محفوظ بھی اس کے مصادیق میں سے ایک ہوگا، اس میں گزشتہ آسمانی کتابیں اور قرآن مجید سبھی شامل ہیں۔
۱۔ نورالثقلیب،ج۴،ص۸۸۔۸۷

اس صورت میں بھی”من عندہ علم الکتاب“سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہی ہوں گے کیونکہ حضرت کالوح محفوظ کے حقائق سے آگاہ ہونا آیہ کریمہ”لایمسہ الّا المطہرون“کوآیہ تطہیرکے ساتھ ضمیمہ کرنے سے معلوم ہوجا تا ہے،اورحضرت کاقرآن مجید کے تمام ابعاد سے واقف ہو نابہت سی دلیلوں من جملہ حدیث ثقلین کے ذریعہ ثابت ہے۔اور یہ حضرت علی علیہ السلام کے قرآن مجید کے تمام علوم سے آگاہی رکھنے کی دلیل ہے۔ کیونکہ اگرحضرت قرآن مجید کے کسی پہلوکو نہیں جانتے ہیں تو گو یاوہ اس اعتبار سے قرآن مجید سے اتنا دور ہو گئے ہیں اور یہ حدیث میں بیان کئے گئے مطلب کے خلاف ہے۔

اس لئے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اکرم )صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کے اہل بیت )علیہم السلام) ہرگزقرآن مجید سے جدا نہیں ہوں گے
صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ باب فضائل علی بن ابی طالب:
میں تمہارے درمیان دوگراں قدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں ان میں سے ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت و نور ہے ،لہٰذا کتاب خدا کو لے لو اور اس سے وابستہ ہو جائو، کتاب خدا کے بارے میں ترغیب کی۔ پھر فرمایا:
اور میرے اہل بیت ہیں میں اپنے اہل بیت کے بارے میں خدا کو یاد دلاتا ہوں۔ تین باریہی جملہ دہرایا۔

اسکے علاوہ
سنن ترمذی : ج٢ ص ٣٠٨ کتاب المناقب اہل نبی ح ٣٧٨٨
ترمذی نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے ۔ زید بن ارقم کہتے ہیں: رسولۖ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دوچیزیںچھوڑنے والا ہوں اگر تم اس سے وابستہ رہوگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک دوسری سے عظیم ہے ایک کتابِ خدا ہے جو رسی کی مانند آسمان سے زمین تک ہے، دوسری میری عترت ہے وہی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوںگے ،دیکھنا یہ ہے کہ میرے بعد تم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔

اس کے علاوہ بھی ’’کتاب اور اہلبیت ع‘‘ کو تھامے رکھنے کی احایث رسول ص اہل تشیع حضرات کے بیش بہا خزانے کے علاوہ اہلسنت میں موجود ہیں ...دیکھیں
(١) سنن ترمذی : ج ٢ ص ٣٠٨
(٢) مستدرک الصحیحین:ج ٣ ص ١٠٩ ١٤٨
(٣)مسند احمد ج٣ ص ١٧
(٤) مسند احمد ج٤ ص ٣٧١
(٥)مسند احمد ج ٥ ص ١٨١


اور اس کے علاوہ پڑھیں
صواعق میں ہیثمی لکھتے ہیں: جن حدیثوں میں امت کو اہل بیت ،سے تمسک کرنے کی ترغیب کی گئی ہے ان میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اہل بیت ،سب سے لائق و شائستہ افرد،کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاکہ امت ان سے وابستہ ہو سکے اسی طرح قرآن بھی قیامت تک باقی رہے گا، یہ زمین کے لئے باعثِ امان ہیں جیسا کہ اس حدیث:
فی کل خلف من امت عد ول من اہل بیتی(١) میری امت کی ہر نسل میں میرے اہل بیت سے کچھ عادل ہو نگے۔
(١)الصواعق المحرقہ: ١٥١ طبع مصر ١٩٦٥ئ

آسمانی کتا بوں کے متعلق حضرت علی علیہ السلام کے علم کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت کی احا دیث کی کتا بوں میں آیا ہے، جیسے اگر تمام علم کو دس حصوں میں تقیسم کیا جائے تو اس میں سے 9 حصے علم علی ع کے پاس ہیں اور دسویں حصہ میں بھی تمام لوگوں سے زیادہ حصہ علی ع کا ہے

جیسے من جملہ مندرجہ ذیل حدیث سے جوخود حضرت علی ع سے نقل کی گئی ہے:
” لو ثنّیت لي الوسادة لحکمت بین اٴہل التوراة بتوراتہم، و بین اٴہل الإنجیل بإنجیلہم، و بین اٴہل الزبور بزبورہم“۲
”اگر میرے لئے مسند قضا بچھادی جائے تو میں اہل توریت کے لئے توریت سے، اہل انجیل کے لئے انجیل سے اور اہل زبو ر کے لئے زبور سے فیصلہ کروں گا۔“

۱۔ سنن الترمذی،ج۵ص۶۲۲ مسنداحمد،ج۳،ص۱۴،۱۷،۲۶،۹۵و ج۵،ص۱۸۹۔۱۸۸خصائص امیرالمؤمنین علی نسائی ص ۸۵۔۸۴
۲۔فرائد السمطن،ج۱،ص۳۴۱۔۹۳۳۔شواہد التنزیل ج۱،ص۳۶۶،ح۳۸۴

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 197
Reply With Quote
پرانا 17-05-11, 05:43 PM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کےطرفدار ہیں

امام اور امامت پر یہ موضوع ’’رضا کاردان ‘‘ کی تالیف کردہ کتاب سے لیا ہے جو کہ علمی لحاظ سے بہت ہی مفید ہے

اور اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے لیے دعائے خیر کے ساتھ پاک نیٹ پر شامل کررہا ہوں ۔ ۔
شکریہ

Last edited by حیدر Rehan; 17-05-11 at 05:52 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پاک, واقعات, وزیر, قرآن حکیم, قرآنی, لوگ, مکہ, مولا علی, مجید, معلوم, معجزہ, اہل بیت, اردو, اسلام, استاد, تعلیم, جواب, حدیث, خبر, خدا, علی, عبادت, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger