بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بعض لوگ کہتے ہیں کہ :
جب ہم ان تمام کاموں کو بجا نہیں لا رہے ہیں ، جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور ان تمام کاموں سے اجتناب نہیں کر رہے ہیں ، جن سے ہمیں روکا گیا ہے ، لہذا ہمیں چاہئے کہ دوسروں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے بجائے اپنی فکر کریں اور اپنے اعمال کو سنواریں۔
ان لوگوں نے اپنے موقف کی تائید میں نقلی اور عقلی دلائل پیش کیے ہیں ، جو کہ ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔
نقلی دلائل :
1۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُون
کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو ، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
( البقرة:2 - آيت:44 )
2۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُون 0 كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لاَ تَفْعَلُون
اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو ، جو تم (خود) نہیں کرتے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کو بہت ہی زیادہ ناپسند ہے کہ تم وہ بات کہو جس پر خود عمل نہیں کرتے ہو۔
( الصف:61 - آيت:2-3 )
3۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يجاء برجل فيطرح في النار، فيطحن فيها كطحن الحمار برحاه، فيطيف به اهل النار فيقولون اى فلان الست كنت تامر بالمعروف، وتنهى عن المنكر فيقول اني كنت امر بالمعروف ولا افعله، وانهى عن المنكر وافعله.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اسے آگ میں پھینکا جائے گا ، پھر اسے پیسا جائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد چکر لگاتے ہوئے چکی میں موجود چیز کو پیس کر رکھ دیتا ہے۔ پھر اس کے گرد جہنم والے اکٹھا ہوں گے اور اس سے کہیں گے : اے فلاں ! کیا تو وہی نہیں ہے جو نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا تھا؟
پس وہ کہے گا : بےشک میں نیکی کا حکم تو دیتا تھا لیکن خود اسے بجا نہ لاتا تھا ، برائی سے روکتا تو تھا لیکن خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔
صحيح البخاري , كتاب الفتن , باب الفتنة التي تموج كموج البحر , حديث:7187
عقلی دلائل :
1۔ کسی چیز سے محروم شخص وہی چیز دوسروں کو کیسے دے سکتا ہے؟
2۔ اس شخص کی بات پر کون کان دھرے گا جو نیکی کا حکم تو دے لیکن خود اسے نہ کرے ، برائی سے تو روکے لیکن خود اس کا ارتکاب کرنے والا ہو؟
پروفیسر
فضل الٰہی صاحب نے تفصیل سے ان دلائل کا جو جائزہ لیا ہے ، اسے پیش کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ وہ نتیجہ بتا دیا جائے جو سب سے آخر میں پروفیسر صاحب نے اخذ کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:
ہم اس بات کی تاکید بھی کرتے ہیں کہ :
نیکی کا حکم دینے والا اس نیکی کا سب سے پہلے کرنے والا ہو ، اور برائی سے منع کرنے والا اس برائی کا سب سے پہلے چھوڑنے والا ہو ، جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا طرزِ عمل تھا
لیکن ، یہ کہنا درست نہیں کہ ۔۔۔
نیکی کا کرنا اور برائی کا ترک کرنا ، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے شرط ہے !
جو شخص نیکی کا حکم دے رہا ہو اور خود نہ کرتا ہو ، اسی طرح برائی سے روک رہا ہو لیکن خود اسے کرتا ہو ، اسے یہ نہ کہا جائے گا کہ : نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بند کر دو بلکہ ۔۔۔
ہم اسے کہیں گے کہ نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکنا جاری رکھو لیکن اپنے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، خود بھی نیکی کرو اور برائی سے اجتناب کرو۔
اب ان شبہات کا جواب ، قرآن وسنت کے دلائل کیساتھ سلسلہ وار ملاحظہ فرمائیں۔
بہت سے مفسرین کرام نے وضاحت کی ہے کہ ان نصوص (البقرہ:44 اور الصف:2-3) میں زجر وتوبیخ کا سبب نیکی کا حکم دینا نہیں بلکہ نیکی کا نہ کرنا ہے۔
امام قرطبی علیہ الرحمة فرماتے ہیں:
اعلم وفّقك الله تعالى أن التوبيخ في الآية بسبب ترك فعل البر لا بسبب الأمر بالبر
جان رکھو ! اللہ تعالیٰ تجھے توفیق دے کہ اس آیت میں توبیخ کا سبب نیکی کا نہ کرنا ہے ، نیکی کا حکم دینا باعثِ توبیخ نہیں۔
تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44
امام ابن کثیر علیہ الرحمة فرماتے ہیں:
وليس المراد ذمهم على أمرهم بالبر مع تركهم له
اس آیت سے مراد یہ نہیں کہ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ نیکی ترک کرنے پر ان کی مذمت کی گئی ہے ، بلکہ نیکی کے چھوڑنے پر (ان کی مذمت کی گئی) ہے۔
تفسیر ابن کثیر ، آیت : البقرہ-44
ونیز مزید حوالوں کے لیے ملاحظہ فرمائیں :
تفسیر البیضاوی - ج:1 - ص:59 ، تفسیر ابی السعود - ج:1 - ص:97 ، تفسیر فتح القدیر - ج:1 - ص:77
واجبات دو قسم کے ہیں :
1۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
2۔ نیکی کرنا اور برائی سے اجتناب کرنا
ان نصوص (البقرہ:44 اور الصف:2-3) میں پہلی قسم کے واجب ادا کرنے کی بنا پر مذمت نہیں بلکہ دوسری قسم کے واجب کو چھوڑنے پر مذمت کی گئی ہے۔
ان نصوص میں لوگوں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے مذمت نہیں ہے
بلکہ ان نصوص میں دراصل ۔۔۔ اپنے نفس کو بھول جانے ، نیکی کا کام نہ کرنے ، برائی کا ارتکاب کرنے اور اچھے قول کے مطابق عمل نہ کرنے کی وجہ سے مذمت کی گئی ہے۔
اس کی مثال کو یوں سمجھئے ۔۔۔۔
ایک طالب علم تفسیر کے مضمون میں پاس ہو جاتا ہے لیکن حدیث کے مضمون میں اس کی قسمت یاوری نہیں کرتی ۔۔۔۔
تو سوچئے کہ : کیا تفسیر میں پاس ہو جانا اس کے لیے باعثِ ملامت ہو سکتا ہے؟
ہرگز نہیں ! تفسیر میں اس کی کامیابی قابل تعریف ہے لیکن حدیث میں اس کی ناکامی اس کے لیے باعثِ مذمت ہے۔
اوپر جو دو واجبات گنائے گئے ہیں ، وہ ایسے نہیں ہیں کہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسرے کا چھوڑنا لازم آتا ہو۔
یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا ادراک بہت سے لوگ کرتے ہیں۔
کیا ہم ایسے شخص کو جو نماز تو پڑھتا ہے لیکن روزے نہیں رکھتا ، یہ کہیں گے کہ وہ روزے نہ رکھنے کی بنا پر نماز پڑھنا بھی ترک کر دے ؟
اسی بات کو بہت سے علماء نے بیان کیا ہے۔
امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں :
وجب أن لا يختلف في لزوم فرضه البر والفاجر; لأن ترك الإنسان لبعض الفروض لا يسقط عنه فروض غيره, ألا ترى أن تركه للصلاة لا يسقط عنه فرض الصوم وسائر العبادات؟ فكذلك من لم يفعل سائر المعروف, ولم ينته عن سائر المناكير فإن فرض الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر غير ساقط عنه.
(نیکی کا حکم دینے کے متعلق) لازم ہے کہ نیک اور فاسق پر اس کے واجب ہونے کے بارے میں کچھ فرق نہ ہو ، (بلکہ اس کا ادا کرنا دونوں پر واجب ہے) کیونکہ انسان کے بعض واجبات کے چھوڑنے سے دوسرے واجبات کا چھوڑنا لازم نہیں آتا !
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نماز کا ترک کرنا ، انسان کے روزوں اور دوسری عبادات کے ترک کرنے کے لیے باعثِ جواز نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
احکام القرآن ، ج:2 ، ص:42
اسی بات کو امام نووی علیہ الرحمة نے ایک دوسرے انداز سے واضح کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
قال العلماء: ولا يشترط في الاَمر والناهي أن يكون كامل الحال، ممتثلاً ما يأمر به، مجتنبا ما ينهى عنه، بل عليه الأمر وإن كان مخلاً بما يأمر به، والنهي وإن كان متلبسا بما ينهى عنه، فإنه يجب عليه شيئان: أن يأمر نفسه وينهاها، ويأمر غيره وينهاه. فإذا أخل بأحدهما كيف يباح له الإخلال بالاَخر؟
علمائے کرام نے کہا ہے کہ (نیکی کا) حکم دینے اور (برائی سے) روکنے والے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خود درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہو۔ بلکہ اس پر (نیکی کا) حکم دینا واجب ہے، اگرچہ وہ اسے پوری طرح ادا کرنے والا نہ ہو۔ اسی طرح (برائی سے) روکنا اس پر فرض ہے اگرچہ اس کا دامن اس (برائی) سے آلودہ ہی کیوں نہ ہو۔
پس اس پر دو چیزیں واجب ہیں :
1۔ اپنے نفس کو (نیکی کا) حکم دے اور (برائی سے) روکے
2۔ دوسروں کو (نیکی کا) حکم دے اور (برائی سے) روکے
اور اگر اس نے ایک واجب میں کوتاہی کی ، تو اس کے لیے دوسرے واجب میں غفلت برتنا کیسے جائز ہو گیا؟
شرح مسلم نووی
التفسیر الکبیر - ج:3 - ص:47 ، التفسیر البیضاوی - ج:1 - ص:150 ، التفسیر ابی السعود - ج:1 - ص:97 ، التفسیر السراج المنیر - ج:1 - ص:55
اگر یہ شرط عائد کر دی جائے :
پہلے خود کی اصلاح کر لی جائے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کی جائے ۔۔۔۔
تو پھر ہم کسی کو بھی فریضۂ احتساب ادا کرنے والا نہ پائیں گے اور اس طرح یہ عظیم واجب معطل ہو کر رہ جائے گا !!
علمائے امت نے اس بات کو نہایت واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔
وقال مالك عن ربيعة بن أبي عبدالرحمن سمعت سعيد بن جبير يقول: لو كان المرء لا يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر حتى لا يكون فيه شيء، ما أمر أحد بمعروف ولا نهى عن منكر. قال مالك: وصدق، من ذا الذي ليس فيه شيء.
حضرت سعید بن جبیر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں:
اگر کوئی شخص اس وقت تک نیکی کا حکم نہ دے ، اور برائی سے نہ روکے ، جب تک خود اس میں کوئی (برائی) نہ رہے ، تو (پھر تو) کوئی شخص نیکی کا حکم نہ دے سکے گا اور برائی سے نہ روک سکے گا۔
امام مالک (رحمة اللہ علیہ) قولِ بالا پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اور انہوں (سعید بن جبیر) نے سچ کہا ، وہ کون ہے جس میں کوئی چیز (خرابی) نہیں؟"
تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44
وقال الحسن لمطرِّف بن عبد اللَّه: عِظ أصحابك؛ فقال إني أخاف أن أقول ما لا أفعل؛ قال: يرحمك الله! وأيّنا يفعل ما يقول! ويودّ الشيطان أنه قد ظَفِر بهذا، فلم يأمر أحد بمعروف ولم ينه عن منكر.
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا:
اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا :
میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے :
اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے۔
تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44
امام طبری اسی بات کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
واما من قال لا يأمر بالمعروف الا من ليست فيه وصمة فان أراد أنه الأولى فجيد والا فيستلزم سد باب الأمر إذا لم يكن هناك غيره
اور جس نے یہ کہا کہ :
"نیکی کا حکم وہی دے ، جس میں کوئی غلطی نہ ہو"
اگر کہنے والے کا مقصود یہ ہے کہ 'یہ بہترین صورت ہے' تو یہ عمدہ (بات) ہے۔
بصورت دیگر اس فریضہ کو ادا کرنے والے کسی دوسرے شخص کے موجود نہ ہونے کی صورت میں نیکی کے حکم دینے کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
فتح الباری شرح بخاری - ج:13 - ص:53
کیا گناہ گار کی طرف سے کیا جانے والا احتساب ہمیشہ غیرموثر ہوتا ہے؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عام طور پر کامل شخص کی دعوت گناہ گار شخص کی دعوت سے زیادہ موثر اور مقبول ہوتی ہے۔
لیکن یہ خیال کہ :
کامل شخص کی دعوت ہمیشہ قبول کی جاتی ہے اور گناہ گار شخص کی دعوت ہمیشہ غیرموثر ہوتی ہے ۔۔۔
صحیح خیال نہیں ہے!
کامل اور غلطیوں سے پاک کتنے ہی انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت ان کے قریب ترین رشتہ داروں پر اثرانداز نہ ہو سکی۔
- حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کا ان کی بیوی اور بیٹے پر کچھ اثر نہ ہوا
- حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت سے ان کا باپ فیضیاب نہ ہو سکا
- حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے ان کی دعوت پر لبیک نہ کہی
- خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ان کے چچا ابوطالب کو اسلام کی طرف نہ پھیر سکی۔
اسی طرح کتنے کامل انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو دعوت دی ، مگر ان کے ساتھ بجز چند لوگوں کے اور کوئی ایمان نہ لایا بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے بعض ایسے بھی تھے جن پر ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث سے واضح ہے:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عرضت على الامم فرايت النبي ومعه الرهيط والنبي ومعه الرجل والرجلان والنبي ليس معه احد
مجھ پر سے امتیں پیش کی گئیں ، پس میں نے (ایک) نبی دیکھا جس کے ساتھ مختصر گروہ تھا اور (دوسرا) نبی (دیکھا) جس کے ساتھ ایک آدمی تھا اور (ایک نبی دیکھا جس کے ساتھ) دو آدمی تھے۔ اور (ایسا بھی) نبی (دیکھا) جس کے ساتھ کوئی نہیں تھا!
صحيح مسلم , كتاب الإيمان , باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب , حديث:549
اس کے برخلاف ۔۔۔۔
کتنے ہی ایسے لوگ آج ہم دیکھتے ہیں جن کے اعمال ان کے اقوال کے برعکس ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے لاتعداد پیروکار نظر آتے ہیں۔
- حقوق انسانی کے بڑے بڑے (جھوٹے) علم بردار انسانی حقوق کو سب سے زیادہ پامال کرنے کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا ہمنوا بنا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
- مزدوروں کے حقوق کے (نام نہاد) محافظین کے پیروکاروں کی تعداد بےشمار ہوتی ہے جبکہ وہ مظلوم مزدوروں پر سب سے زیادہ ظلم و ستم ڈھانے والے ہوتے ہیں۔
- مظلوم قوم کے غم میں ڈوبے ہوئے (جھوٹے) دعویداروں کے پیروکاروں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں جبکہ یہی دعویدار مظلوم قوم پر درپردہ ظلم کی انتہا کرنے والوں میں سے ہوتے ہیں۔
بات کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی شخص '
امر بالمعروف اور نھی عن المنکر' کو اس لیے ترک نہ کرے کہ اس کے اپنے اعمال میں کوتاہی ، اس کی طرف سے کئے جانے والے احتساب کو غیرمفید بنا دیتی ہے۔ بسا اوقات ایسے ہی شخص کا احتساب اپنے سے بہتر حالت والے شخص کے احتساب سے زیادہ سودمند ثابت ہو جاتا ہے !!