پچھلے دنوں میڈیا پرعیسائیوں پر ہونے والے ظلم اور دو آئمہ کا بہت ذکر چلا۔
واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک امام صاحب نے مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر کے اہل علاقہ کو مشتعل کیا، کہ قرآن کی توہین کی گئ ہے اس لیے عیسائی واجب القتل ہیں۔ جس پر افراد کا ایک بڑا گروہ عیسائی علاقے پر حملہ کے لیے روانہ ہوا، جبکہ وہاں موجود ایک دوسرے امام مسجد نے مظاہرین کے اس جوش و خروش کو روکنے کے لیے ان کی منتیں کیں، انہیں قرآن اور رسول کے واسطے دیے، کہ ایسا طرز عمل درست نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسے طرز عمل سے منع فرمایا، پھر ان مظاہرین کے قدموں میں گر کر ان کے رک جانے پر اصرار کیا، عیسائی جو کہ اپنے گھروں سے بھاگ چکے تھے، ان کے گھروں پر تالے لگا دیے۔اس طرح جو ایک بڑا فساد ہونا تھا اس سے علاقہ محفوظ رہا اور کچھ توڑ پھوڑ کے بعد یہ بات ختم ہو گئی۔
ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ ہمارے آئمہ اول الذکر امام صاحب جیسے رویے کے مالک کیوں ہیں۔ آخر کیوں بار بار سادہ لوح عوام کو مشتعل کر کے کسی ایک فرد یا گروہ پر ظلم کروایا جاتا ہے۔ لاؤڈ سپیکر کا ایک غلط استعمال بھی اس واقعے کے دوران دیکھنے میں آیا۔
ہمارے معاشرے کےاسلامی تعلیم سے متعلق رویوں نے کچھ ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ مدرسوں سے فارغ ہونے والے زیادہ تر طلبا کند ذہن اور ٹھکرائے ہوے نالائقوں کا گروہ ہوتے ہیں، اور ان میں سے جو کوئی تیز طرار ہو وہ اسلامی تعلیم تو حاصل کر لیتا ہے مگر عملی زندگی میں اپنا تعلق اسلامی علوم سے وابستہ نہیں رکھتا۔ یوں مدارس میں آنے والے اساتذہ بھی اسی گروہ پر مشتمل ہوتے ہیں ، یوں یہ سلسلہ رکتا نہیں ، اور جاہلیت کا یہ چکر چلتا رہتا ہے۔
لوگوں کا رویہ کچھ ایسا ہے جو بچہ سکول میں پڑھ نہیں پاتا یا کسی طرح سے جسمانی نقص والا ہوتا ہے ہم اسے حافظ قران بنانے کے لیے مدرسہ میں ڈال دیتے ہیں، ہمارے ملک کی کریم یعنی بہترین ذہن رکھنے والے طلبا پہلے انگلش میڈیم سکولوں میں جاتے ہیں جہاں آکسفورڈ کا سیلبس رائج ہوتا ہے۔جس میں اسلامی علوم برائے نام ہوتے ہیں اور بیشتر واقعات کو ایسے متعصبانہ انداز سے لکھا جاتا ہے کہ طلبا ان واقعات کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہوسکتے۔ کس طرح آکسفورڈ کے نصاب میں اسلامی واقعات میں تبدیلی اور ابہام پیدا کیا جارہا ہے اس کے لیے یہ
ربط دیکھیے۔
سکولوں سے فارغ ہونے کے بعد یہ کریم فاسٹ اور لمز جیسے انسٹیٹیوٹس میں جاتی ہے، پھر وہاں سے امریکہ یا لندن جا کر وہاں کے رنگ میں رنگ جاتی ہے اور اپنے ملک کو بھول جاتی ہے۔
جب طلبا یونیورسٹووں میں جاتے ہیں تو پروفیشنل تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں جبکہ ایم اے اسلامیات ہمارے معاشرے کی نظر میں کسی کام کا نہیں ہوتا۔ہم ڈاکٹر اورانجنئیر کو تو عزت دیتے ہیں مگر مولوی صاحب کو دو کوڑی کا بھی نہیں سمجھتے۔
ہم شکایت کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیم والے مدرسوں میں پڑھانے کا طریقہ کار سختی پر مبنی ہے،کیا ہمارے ملک کا بہترین ٹیلنٹ اسلامی علوم کی طرف آتا ہے ؟ جو ہم توقع کریں کے مدرسوں میں اعلی درجے کے اساتذہ ہوں۔ جب ہم اسلامی علوم میں کچھ اچھا انویسٹ نہیں کریں گے تو ہمیں اچھی آؤٹ پٹ کیسے ملے گی۔ انویسٹ منٹ سے مراد اچھے ذہنوں کی انویسٹ منٹ ہے نہ کہ روپے پیسے کی۔
ہمارے امام مسجد معمولی تنخواہ پر ملازم ہوتے ہیں، محکمہ اوقاف کے بڑے افسران تمام فنڈز کھا جاتے ہیں، زیادہ تر امام مسجد کو تنخواہ بھی نہیں ملتی بلکہ انہیں محلے والوں کے فنڈ پر گزارا کرنا پڑتا ہے، ۔ امام مسجد کو دوسرے سماجی مسائل بھی درپیش ہیں، امام صاحب کی بیٹی کا رشتہ کوئی نہیں لیتا۔ امام صاحب کے گھرکبھی کسی کے گھر سے کھانا جاتا ہے کبھی کسی کے گھر سے کھیر اور حلوہ، اور جو امام صاحب اور ان کے بچے ترسے ہوتے ہیں کچھ اچھا کھانے کو،جب ہم انہیں رغبت سے کھاتے دیکھتے ہیں تو ہم یہ مشہور کر دیتے ہیں کہ مولوی تو حلوہ کھانے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ حلوہ کھانے کے لیے فتوی تک جاری کر سکتے ہیں ۔جب تک ہم امام مسجد اور مولویوں کو معاشرے میں ایک مقام نہیں دیں گےتب تک وہ واقعی حلوے کے شوقین رہیں گے۔
ملک میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے خوفناک حادثات کوروکنے کےلیے قانون پر عمل درامد کروانا حکومتی ذمہ داری ہے اور اسکا سدباب کرنے کے لیے بہتر قانون سازی کرنا بھی، لاوڈ سپیکر کا غلط استعمال ایسی اندھی عوامی تحریکوں اور بے وقوفیوں کو جنم دیتا ہے،یہاں سعودی عرب میں اس مسئلے کا بہت اچھے طریقے سے حل کیا گیا ہے۔ علما کو اپنے ذاتی بیانات اور خیالات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ محکمہ اوقاف ایک تحریری خطبہ ہر جمعہ کے موقع پر ہر مسجد میں فیکس کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ لاوڈ سپیکر کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ اگر پاکستان میں بھی ایسا نظام بنا دیا جائے تو یقیناً بہت سارے غیر اخلاقی واقعات نہیں ہوں گے۔
بعض لوگ صرف نیک نامی حاصل کرنے کے لیے داڑھی رکھ لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد ان کا شمار بھی دینی لحاظ سے اچھے ناموں میں ہونے لگتا ہے، ایسے افراد جب کوئی غلط کام کرتے ہیں تو بدنامی دین کی ہوتی ہے، اگر برقعہ پہن کر چور چوری کرنے لگ جائیں تو بدنامی برقعہ پہننے والی تمام عورتوں کی ہو گی۔ انسانوں کا کوئی طبقہ بھی سوائے انبیا کے معصوم نہیں، میری اس تحریر کا یہ مقصد نہیں کا تمام مولوی حضرات معصوم ہیں اور تمام مدارس بہترین طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں، یقینن ہمارے بیشتر علما اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے نہیں نبھا رہے، لیکن وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور بل واسطہ یا بلاواسطہ ہمارا معاشرہ ہی ان مشکلات اور بے ترتیبیوں کا ذمہ دار ہے۔