|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 209
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | skjatala (14-07-11), نبیل خان (15-07-11), محمدعدنان (14-07-11), حیدر (14-07-11), راجہ اکرام (15-07-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اصحاب الشجرۃ: اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے چودہ سو سے زائد (تعداد کے بارہ میں مختلف اقوال اور ان میں تطبیق کے لیے فتح الباری جلد۷، ص:۴۴۰ دیکھیے) جاں نثاروں نے حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے بیعت کر کے عزم و استقامت کی داستان رقم کی۔ قرآن کریم نے اس گروہ کو اللہ کی رضا کی بشارت ان الفاظ میں دی۔ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔(سورۃ الفتح:۱۸) ترجمہ: بے شک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان نفوس مطہرہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب الشجرہ کے لقب سے یاد کیا اور رضی اللّٰہ عن المؤمنین کی وضاحت اس حدیث میں فرمائی:لَا یَدْ خُلُ النَّارَ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ مِنَ اَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ ۔ان شاء اللہ اصحاب شجرہ میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل اصحاب الشجرۃ۔۔۔) اہل الصفۃأضیاف الاسلام: اہل صفہ سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جو فقر و فاقہ کی زندگی بسر کرتے تھے اور ان کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہ تھی یہسب لوگ مسجد نبوی کے پچھلے حصے میں شمال کی طرف ایک سایہ دار جگہ میں سکونت رکھتے۔ ان کی تعداد دس سے کم ہوتی اور بعض اوقات ۴۰۰ تک جا پہنچتی۔( تفصیلات مع حوالہ جات کے لیے راقم کی کتاب ’’سماجی بہبود تعلیمات نبوی کی روشنی میں‘‘ ناشر مکتبہ جمال کرم لاہور ۲۰۰۵ء ص:۳۲ ملاحظہ فرمائیں) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اہل صفہ کو بلاؤ تا کہ دودھ کے ایک پیالہ سے وہ بھی سیراب ہو جائیں۔ اس روایت میں ان نفوس قدسیہ کے لیے اہل صفہ اور أضیاف الاسلام دونوں القاب آئے ہیں۔ الحق اہل الصفۃ فادعہم فہم اضیاف الاسلام۔ (مستدرک حاکم، دار الکتب العلمیۃ ۱۴۱۱ھ، جلد ۳، ص:۱۷ راقم الحدیث ۴۲۹۱) (ب) وہ القاب جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منفرداً کسی صحابی کو عطا کیے: صدیق: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا معروف ترین اور زبان زد عام لقب ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس لقب کے حوالہ سے قاضی سلمان منصور پوری کی تحقیق ہدیہ قارئین ہے۔ اس میں ضمناً آپ کے دو دیگر القاب(ثانی اثنین اور خلیفۂ رسول) کا بھی تذکرہ ہے۔ فرماتے ہیں: صدیق معرفت صدق کا عارف ہوتا ہے۔ اس کے احوال و اقوال، عزم و ارادہ مستقیم، احسن، قوی اور راسخ ہوتے ہیں۔ اس کا واحد مقصود’’رضائے حق‘‘ ہوتا ہے یہ وہ کمال ہے جو کمال نبوت سے ملا ہوا ہے۔ یہ وہ سراج ہے جو چراغ نبوت سے روشن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]اُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ۔[/COLOR](النسآء ۶۹) ترجمہ: خدا اور رسول کی اطاعت کرنے والوں کو اللہ کے انعام یافتہ بندوں یعنی انبیاء اور صدیقوں کی معیت دی جائے گی۔ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں صدیقیت و محدَّثیت پر بحث لطیف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صدیق اصل فطرت میں ذات پاک نبی سے قریب تر ہوتا ہے وہ جو تعلیم نبی اللہ سے حاصل کرتا ہے اس کے دل میں ایسی راسخ ہو جاتی ہے گویا وہ علوم اسی کے دل سے نکلے تھے۔ صدیق پر انوار وحی نبوت کا انعکاس ہوتا ہے اور تعاقب درود انوار سے۔ تاثیر و تاثر، فعل و انفعال کا ایسا تسلسل قائم ہو جاتا ہے کہ صدیق فنا وفدا کے منصب پر ممتاز ہو جاتا ہے۔ اور اس وقت یہ کیفیت ہوتی ہے کہ نبی کی روحانیت صدیق کی زبان پر تکلم کیا کرتی ہے۔ صدّیقیت کے انھی احوال پر اُن احادیث میں اشارہ ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہیں۔ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مصاحبت اور زر و مال کی فدیہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا احسان و منت محمد ؐ پر سب سے بڑھ کر ہے۔ دوسری حدیث میں لو کنت اتّخذتُ خَلِیلًالَاتّخذتُ ابا بکرٍ خلیلاً ولکنَّ اللّٰہ اتّخَذَنی خلیلاً۔یعنی اگر میں مخلوق میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ مگر مجھے تو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا۔ صدیقِ امت بالاتفاق ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ آپ کے سوا اور کوئی اس لقب سے ملقب نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں ان ہی کو ثانی اثنین فرمایا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام میں کسی دوسرے کو ثانی رسول نہیں بتایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی سب سے پہلے حج اسلام کا سردار’’امیر الحج‘‘بنایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سب سے آخری غزوہ تبوک میں سب سے بڑی فوج کا سپہ سالار بنایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنایا اور صحابہ میں صرف وہی ہیں جو خلیفہ رسول اللہ کے خطاب سے مخاطب ہوئے۔ دیگر خلفائے راشدین’’امیر المؤمنین‘‘ کے لقب سے مخاطب کیے جاتے تھے۔ ان سب واقعات کی وجہ یہی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ’’صدیق‘‘ تھے اور صدیق ہی نبی اللہ سے قریب تر ہوتا ہے۔ (سلمان منصور پوری، قاضی محمد سلیمان، الجمال والکمال، مکتب الدعوۃ الاسلامیہ پاکستان ۱۹۶۲ء ص:۱۵۰۔ ۱۵۱) آپ کو یہ لقب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق میں سبقت پر ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو حلفاً فرماتے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام ’’صدیق‘‘ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نازل کیا ہے۔( فتح الباری جلد۷، ص:۹ (۹۳۶ العینی، ابو محمد محمود (۸۵۵ھ)، عمدۃ القاری، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۱۴۰۶، جلد۱۶، ص:۱۷۲)یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نام معراج کی تصدیق پر عطا ہوا۔(عمدۃ القاری، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۱۴۰۶، جلد۱۶، ص:۱۷۲) عتیق: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حسن و جمال یا نیکی و خیرات میں سبقت کی بنا پر کہا جاتا ہے ۔( نفس مصدر ) [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]امیر الشاکرین:[/COLOR] حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس لقب کا ذکر علامہ عینی نے کیا ہے اور لکھا ہے کے عزیمت اور قربانیوں کی ایک داستان رقم کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عملاً جس شکر و امتنان کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی بنا پر آپ کی امیر الشاکرین آپ کو امیر الشاکرین کہا جاتا ہے۔ ( نفس مصدر )محمد الصلابی نے ’’الصاحب‘‘ ، ’’الاتقی‘‘، اور’’ الاواہ‘‘ بھی آپ کے لقب ذکر کیے ہیں۔(ابوبکرا لصدیق، شخصیتہٗ وعصرہٗ دار ابن کثیر ۲۰۰۳، ص:۱۷۔۱۹) [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]فاروق:[/COLOR] حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مزاج میں شدّت و جلال تھا جس کی وجہ سے شروع اسلام میں آپ نے مسلمانوں کی شدید مخالفت کی۔ آپ کے قبول اسلام سے حق و باطل میں فرق واضح ہو گیا۔ لانہ فرق باسلامہ من الحق والباطل۔(السنوسی، دار الکتب العلمیۃ بیروت، جلد۶، ص:۱۹۹ ) مسلمان مشکل اور پریشان کن حالات سے نکل آئے وکان اسلامہ فتحاً علی المسلمین وفرجا لہم من الضیق۔( الاصابۃ جلد۲، ص:۵۱۸) اس وجہ سے آپ کو فاروق کہا جاتا ہے لیکن یہ لقب آپ کو کس نے کب عطا کیا اس بارے میں کوئی واضح روایت نہیں مل سکی۔ وأما لقبہ فہو الفاروق باتفاق، فقیل اول من لقبہ بہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔وقیل اہل الکتاب۔۔۔وقیل جبرئیل۔( فتح الباری جلد۷، ص:۴۴، عمدۃ القاری جلد۱۶ ص:۱۹۲) [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]محدّث:[/COLOR] حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لقد کان فیما قبلکم من الامم محدثون فان یک فی امتی احد فانہ عمر۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔ )کہ سابقہ امتوں میں محدث ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی اس مقام پر فائز ہو تو وہ عمر ہیں۔ لفظ محدث کی وضاحت شارحین نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق کی ہے۔(فتح الباری جلد۷، ص:۵۰، الکاشف عن الحقائق السنن جلد۲۲، ص:۲۲۹، تحفۃ الاحوذی، نشر السنۃ ملتان، جلد۴، ص:۳۱۷) علامہ ابن المالکی کی رائے میں محدث وہ ہے جس کے دل میں ملاء اعلیٰ سے القاء ہو والمحدث فی الحقیقۃ انما ہو من اُلقِی فی قلبہٖ شئٌ من الملاِ الاعلی۔گویا محدث کا دل اخبار غیب کا محل ہوتا ہے اور یہ درحقیقت صافی قلب کے حامل لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکریم ہے۔ ان کی اسی فراست کا تذکرہ حدیث میں ہے: اِتَّقُوا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ یَنْظُرُ بِنُورِ اللّٰہِ۔ ابن العربی کے بقول ایسے دلوں کے مقابل لوح محفوظ آجاتی ہے پھر اس مقام کے حامل لوگ ایسی آوازیں سنتے ہیں جن کو دوسرے نہیں سن سکتے اور ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جن سے دوسرے آگاہ نہیں ہوتے۔ حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ عراق میں تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں لیکن حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ نے طویل فاصلہ کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ کی آواز کو سنا۔( علامہ ابی، اکمال اکمال المعلم، دار الکتب العلمیۃ بیروت، جلد۶، ص:۲۰۴ ملخص) امیر المؤمنین: تاریخ اسلام میں سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کو کہا گیا۔ شفاء بنت عبد اللہ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم مدینہ منورہ آئے ان کی ملاقات حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انھوں نے حضرت عمر و رضی اللہ عنہ سے کہا امیر المؤمنین سے ہماری ملاقات کی اجازت لے دیں۔ عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کہا السلام علیک یا امیر المؤمنین،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ کیا،تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:انت الامیر ونحن المؤمنونکہ آپ امیر ہیں اور ہم مؤمن ۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین کے لقب کا استعمال شروع ہوا۔( مجمع الزوائد، مؤسسۃ المعارف بیروت ۱۹۸۶ء جلد۹، ص:۶۴) ذوالنورین: حضرت عثمان بن عفان اس لقب سے مشہور ہوئے۔(فتح الباری جلد۷، ص:۵۴)آپ کو ذوالنورین کہنے کی وجہ علماء نے یہ لکھی ہے کہ آپ کے عقد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں ، رقیہ اور ام کلثوم آئیں۔ (اکمال اکمال المعلم جلد۶، ص:۲۰۶، الاصابہ جلد۲، ص:۴۶۲) [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ابوتراب:[/COLOR] نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عم زاد بھائی اور داماد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سب سے زیادہ بیان ہوئے۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کے لیے فرمایا گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ابو تراب کے نام سے پکارا اور یہ نام آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ صحیح مسلم میں اس لقب کا پس منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور علی رضی اللہ عنہ کو موجود نہ پایا تو پوچھا این ابن عمک کہ تمھارا عم زاد کہا ہے۔ حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی میرے اور ان کے درمیان کوئی شکر رنجی ہو گئی جس سے ناراض ہو کر وہ گھر سے چلے گئے اور میرے پاس قیلولہ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص سے کہا جاؤ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ اس شخص نے آ کر اطلاع دی کہ وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ لیٹے ہوئے تھے اور ایک جانب سے ان کی چادر ڈھلکی ہوئی تھی اور ان پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ رسول اللہ اپنے ہاتھوں سے وہ مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے قم ابا التراب قم ابا التراب۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ)ابن اسحاق کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے: ابن اسحاق:حدثنی بعض اہل العلم ان علیا کان اذا غضب علی فاطمۃ فی شئی لم یکلمہا بل کان یأ خذ ترابا فیضعہ علی رأسہ، وکان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا رأی ذلک عرف فیقول مالک یا ابا تراب۔(فتح الباری۱۰؍۵۸۸) سیرت حلبیہ میں ہے کہ غزوہ ذو عشیرہ میں آپ کو خاک میں اٹے ہوئے دیکھ کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’یا ابا تراب‘‘ارشاد فرمایا۔( سیرت حلبیہ جلد۲، ص:۱۴۲) جاری |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائ
دیا خون صحابہ نے تو اس میں بہار آی |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کمال, کراچی, پہچان, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, موت, محبت, معلوم, معاشرہ, آئینہ, آبادی, آدمی, اہل بیت, ایمان, اللہ, تلاش, جلد, جرم, حواری, خبر, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کویت نیوی کے بعض افسران نے بحرین جانے سے انکار کر دیا | عارف اقبال | خبریں | 0 | 15-04-11 01:04 PM |
| رویت ہلال کمیٹی کل چاند دیکھے گی | جاویداسد | خبریں | 0 | 06-11-10 09:25 PM |
| اختلاف رویت ہلال | فرحان دانش | عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ | 0 | 09-09-10 11:33 PM |
| نجی رویت ہلال کمیٹیاں | فرحان دانش | اپکے کالم | 70 | 20-08-10 01:15 AM |
| رویت ِ ہلال ا ور بصیرت کی آنکھ | Real_Light | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 0 | 16-09-09 01:36 AM |