واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


القاب صحابہ کی معنویت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-07-11, 10:08 AM   #1
القاب صحابہ کی معنویت
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 14-07-11, 10:08 AM

انسانی معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں ہر فرد اپنی صلاحیت کے لحاظ سے بلاشبہ کردار ادا کرتا ہے۔ بعض افراد کسی خاص شعبہ میں ایسی بے مثال خدمات سرانجام دیتے ہیں کہ وہی خدمت ان کی پہچان بن جاتی ہے۔ لقب در حقیقت ان خدمات کا لفظی اعتراف ہوتا ہے۔ لقب اس انسان کے حقیقی نام کے علاوہ اس کی پہچان ہوتا ہے۔ ابن الجوزی کے بقول الالقاب جمع لقب، وہو اسم یدعی بہ الانسان سوی الاسم الذی سمی بہ۔ (زاد المسیر، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۲۰۰۲، جلد: ۲، ص:۲۰۸)

لقب کسی آدمی کی قدرو منزلت اور شخصی اوصاف کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ فیروز آبادی کا نقل کردہ یہ شعر بات کو مزید واضح کرتا ہے:

وقلَّما أبْصَرَتْ عیناکَ ذالقبٍ

اِلاَّ و معناہ أن فتّشتَ فی لَقَبِہ

تم نے کسی صاحب لقب کو نہیں دیکھا ہو گا مگر ذرا تلاش کرنے پر اس کے اوصاف اس کے لقب میں مل سکتے ہیں۔

قرآن کریم نے وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَاب(الحجرات:۱۱) کے ذریعہ کسی کو برے القاب سے یاد کرنے سے منع فرمایا۔ اس سے یہ نتیجہ واضح ہے کہ اچھا لقب ضرور رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ کبار صحابہ میں سے جس میں جو وصف اور کمال دوسرے سے زائد ہوتا اس کو اسی لقب سے ملقب فرماتے۔ امین الامت ابوعبیدۃ بن الجراح کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ عینی نے اسی بات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

والنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم خص کل واحد من کبار الصحابۃ بفضیلۃ واحدۃ وصَفَہٗ بہا فاشعر بقدر زائد فیہا علی غیرہ۔ ( مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، جلد۸، ص:۲۳۸، فتح الباری جلد۷، ص:۹۳ پر بھی یہ الفاظ موجود ہیں)

مفسرین نے ان القاب کی درج ذیل مثالیں بھی بیان کی ہیں:

امام قرطبی لکھتے ہیں:

الا تری ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم لقب عمر بالفاروق، وأبابکر بالصدیق وعثمان بذی النورین وخزیمۃ بذی الشہادتین وأباہریرۃ بذی الشمالین وبذی الیدین فی اشباہ ذلک۔

ایک روایت نقل کرنے کے بعد امام موصوف لکھتے ہیں:

وحمزۃ باسد اللّٰہ و خالداً بسیف اللہ۔

(الجامع لاحکام القرآن جلد۸، ص:۳۳۰؍ زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل دار الکتب العربی، بیروت، جلد۴، ص:۳۷۰)

علامہ آلوسی کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لقب کرم اللہ وجہہٗ بھی ہے۔

(روح المعانی، دار الکتب العلمیۃ بیروت، ۱۹۹۴، جلد۱۳، ص:۳۰۶)

امام قرطبی نے اس حقیقت کو بھی بیان فرمایا کہ آپ جس صحابی کے لیے کسی وصف کو بیان فرما دیتے وہ اس کے لیے عظیم ترین اعزاز ہو جاتا۔

وقد وصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عددا من اصحابہ بأوصاف صارت لہم من أجل الالقاب۔( الجامع لاحکام القرآن، دار احیاء التراث العربی بیروت، جلد۸، ص:۳۳۰)

یہ القاب مفرد اور مرکب دونوں قسم کے ہیں جیسے صدیق، سید اور امین ہذہ الامہ وغیرہ؛ گروہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور فرد سے بھی جیسے مہاجرین و انصار اور حواری رسول وغیرہ، صحابہ کرام کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض صحابیات کو بھی ان کے مقام و مرتبہ، خدمت خلق اور ذاتی شرف کے پیش نظر القاب عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد علمائے امت نے بھی بعض صحابہ کرام کو ان کے اوصاف حسنہ اور خدمات جلیلہ کے عوض اچھے القاب سے یاد کیا ہے، جیسے ساقی الحرمین اور ذوالنورین وغیرہ۔ ذیل میں صحابہ و صحابیات کے چند القاب مع پس منظر ووجۂ تسمیہ و لقب کے درج کیے جاتے ہیں:

(الف) ایسے القابات جو کسی گروہ؍جماعت صحابہ کے ہیں:

صحابی:


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہِ راست فیض یاب ہونے والی جماعت کا معروف ترین لقب ’’صحابی‘‘ ہے۔ رضوان الٰہی کا مژدہ جانفزا اِسی گروہ کو سنایا گیا۔ تورات اور انجیل میں اسی برگزیدہ گروہ کے اوصاف و کمال کا ذکر کیا گیا۔(سورۃ الفتح:۲۹)

صحابی کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور فرمایا: السلام علیکم اے مومنو! ہم بھی ان شاء اللہ تمھارے پاس آنے والے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے دینی بھائیوں کو دیکھیں صحابہ نے عرض کی او لسنا اخوانک یا رسول اللہ کہ کیا ہم آپ کے دینی بھائی نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انتم اصحابی واخواننا الذین لم یاتوا بعد تم میرے صحابہ ہو اور ہمارے دینی بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی پید نہیں ہوئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو امت کے لیے امان قرار دیا۔
( صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باببیان ان بقاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امان لاصحابہ و بقاء۔۔۔)

آپ نے ان لوگوں کے بارہ میں خیر امتی فرمایا۔(نفس مصدر)

ان ہی فضائل و کمالات کی بنا پر صحابہ کا خرچ کیا ہو ایک کلو گرام دوسروں کے احد پہاڑ کے سونے سے بھی بہتر ہے۔ اسی علوِّشان کی وجہ سے سبّ وشتم صحابہ کو جرم قرار دیا۔(نفس مصدر)

فضائل و مناقب صحابہ کے اس تذکرہ کے بعد صحابی کی تعریف سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ابن حجر کے نزدیک اس کی صحیح ترین تعریف یہ ہے کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت ایمان میں زیارت کی اور اسی حالت پر اسے موت آئی۔

ان الصحابی من لقی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنا بہ و مات علی الاسلام۔(الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ، دار صادر بیروت ۱۳۲۸ھ جلد اول ص:۷)

صحابی کی معرفت کے ذرائع درج ذیل ہیں ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے: تدریب الراوی ، المکتبۃ العلمیۃ، مدینہ منورہ، ۱۳۹۲، جلد۲، ص:۲۱۳۔ ۲۱۴)

(۱)
تواتر
: حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور عشرہ مبشرہ کے بارے میں تواترسے معلوم ہے کہ وہ صحابی ہیں۔

(۲)
استفاضہ:
وہ صحابہ جن کی شہرت تواتر سے کم درجہ کی ہو جیسے ضمام بن ثعلبہ اور عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہما۔

(۳)
صحابی کا قول
:کوئی صحابی یہ گواہی دے کہ فلاں شخص صحابی ہے۔ حضرت حممۃ بن ابو حممۃ الدوسی اصفہان رضی اللہ عنہما میں پیٹ کی بیماری سے فوت ہوئے۔ آپ کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ شہید ہوں گے۔

(۴)
تابعی کی خبر
:کوئی تابعی بتائے کہ فلاں شخص صحابی ہے۔

(۵) کوئی شخص بشرط ثبوت و دلائل صحابی ہونے کا دعویٰ کرے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے سو سال بعد کسی کا دعوائے صحابیت قبول نہ ہو گا۔

علماء نے صحابہ کے بارہ طبقات کی تقسیم اس طرح کی ہے:

(۱) وہ اصحاب جنھوں نے مکہ میں اسلام قبول کرنے میں پہل کی جیسے خلفائے اربعہ۔

(۲) وہ اصحاب جنھوں نے دار الندوہ میں کفار کے اجلاس سے پہلے اسلام قبول کیا۔

(۳) حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے۔

(۴) اصحاب بیعت عقبہ اولی۔

(۵) اصحاب بیت عقبہ ثانیہ۔

(۶) اولین مہاجرین جو قباء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدینہ منورہ میں داخلہ سے پہلے ملے۔

(۷) اہل بدر

(۸) غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ کے درمیان ہجرت کرنے والے۔

(۹) بیعت رضوان کے شرکاء

(۱۰) صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ہجرت کرنے والے۔

(۱۱) فتح مکہ میں اسلام قبول کرنے والے۔

(۱۲) وہ بچے جنھوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی۔(مقدمہ الاستیعاب جلد اول ،ص:۹۳)

مہاجرین:


یہ صحابہ کرام کے اس گروہ کا لقب ہے جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنا وطن اور قبیلہ چھوڑ مدینہ کی جانب ہجرت کی، اور مدینہ میں جنھوں نے ان کی مدد کی انھیں انصار کا لقب دیا گیا۔ جس کی تفصیل آئندہ سطروں میں آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین اور ان کے پیروکاروں کے لیے اپنی رضا، جنت اور فوز عظیم کی خوشخبری سنائی۔

وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّ لُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا اَبداً ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔(توبہ:۱۰۰)

مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جنھوں نے اچھائی کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے جنتیں تیار کیں جن کے نیچے دریا جاری ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ عظیم کامیابی ہے۔

علامہ غلام رسول سعید ی نے لکھا ہے کہ مہاجرین اولین کا مرتبہ انصار مدینہ سے کئی وجہ سے افضل ہے۔

(۱) مہاجرین سابقین انصار اور باقی مسلمانوں سے اس لیے افضل ہیں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لائے اور ان کا ایمان لانا ہی تمام فضیلتوں کا مبدأ اور منبع ہے۔

(۲) مہاجرین اولین مسلسل تیرہ سال کفار قریش کی زیادتیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوتے رہے اور تمام سختیوں پر صبر کرتے رہے۔

(۳) انھوں نے اسلام اور رسول اللہ کی خاطر اپنا وطن، عزیز و اقارب، گھر بار، تجارت اور باغات غرض سب کچھ چھوڑا اور اسلام ہی کی خاطر تمام طرح کے مصائب برداشت کیے۔

(۴) رسول اللہ کے پیغام اور شریعت کو قبول کرنے کا دروازہ مہاجرین اولین نے کھولا۔انصار نے ان کی اقتدا کی اور ان کی مشابہت اختیار کی اور مقتدیٰ مقتدی سے افضل ہوتا ہے۔

(تبیان القرآن، فرید بک اسٹال لاہور، ۲۰۰۰ء جلد۴، ص:۷۰۸۔ ۷۰۹)

اس سلسلہ میں علامہ طیبی کی عبارت درج ذیل ہیں:

ولکن لا یبلغون رتبۃ المہاجرین السابقین الذین اخرجوا من دیارہم، و قطعوا عن احبابہم و اقاربہم وحرموا اوطانہم و اموالہم وہم رضوان اللہ علیہم ما بالوا بذلک بآلۃ لاجل رضی اللہ ورضی رسولہ، واعلاءً لدین اللہ وسنۃ رسولہ۔(الکاشف عن حقائن السنن، جلد۱۱، ص:۳۳۲ )

انصار:


صحابہ میں وہ خوش بخت انفاس جنھوں نے مدینہ منورہ میں خاتم المرسلین اور مہاجرین کی مہمان نوازی کا شرف حاصل کیا انھیں انصار کا لقب عطا ہوا۔

قرآن کریم نے درج ذیل الفاظ میں ان کی نصرت و اعانت کا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ ایسے مدد گاروں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رزق ملتا ہے:

وَالَّذِیْنَ اٰوَوْاوَ نَصَرُوْا اُوْلٰءِکَ ہُمُ الْمُؤْ مِنُوْنَ حَقًا لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ۔(الانفال:۷۲)

ترجمہ: اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ حقیقت میں مومن ہیں ان کے لیے بخشش اور عزت والی روزی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار نام خود اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب۔)

انصار کے فضائل و مناقب آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بیان فرمائیے۔ انصار سے اظہار محبت ان الفاظ میں فرمایا:

انتم من أحب الناس الیّ۔( صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ باب فضائل الانصار)

ترجمہ: مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم محبوب ہو۔

لطف و کرم اور محبت کا یہ انداز بھی ملاحظہ ہو،’’ اگر انصار کسی میدان یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی ان کے ساتھ میدان اور گھاٹی میں چلوں۔‘‘و لولا الہجرۃ لکنت امراأ من الانصار(صحیح بخاری، کتاب المناقب ، باب مناقب الانصار) ترجمہ: ’’اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا فرد ہوتا۔‘‘

علامہ طیبی کے بقول یہ انصار کی عزت افزائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اکرام و احترام کی رغبت دلائی ہے۔ ( الکاشف عن حقائق السنن ، کراچی ،۱۴۱۳ھ،جلد ۱۱،ص:۳۳۲) ان کے لیے دعائے مغفرت کی تو سحاب جود و کرم ہی برسا دیا:

اللہم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار وأبنآء أبنآء الأنصار۔(نفس مصدر)

ترجمہ: اے اللہ! انصار، ان کے بیٹوں اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما۔

ایک روایت میں ولموالی الانصار یعنی انصار کے غلاموں کی بھی مغفرت فرما۔(نفس مصدر)

آپ نے انصار کو اپنا معتمد خاص قرار دیا اور ان کے جذبہ ایثار و قربانی کی قدر کرتے ہوئے امت کو یہ نصیحت کی:

’’ مسلمان بڑھتے رہیں گے اور انصار کم ہوتے رہیں گے۔ تم ان کی نیکیوں کو قبول کرنا اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرنا۔‘‘(نفس مصدر)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’’انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔ ‘‘وفی کل دور الانصار خیر۔(نفس مصدر)

مگر اس کے باوجود ان کی فضیلت کی ترتیب یہ ارشاد فرمائی۔ خیر دور الانصار بنو النجار۔سب سے بہتر گھر بنو نجار کا ہے پھر بنو عبد الاشھل ، پھر بنو الحارث بن خزرج اور بنو ساعدہ۔

چونکہ’’ انصار کی محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب ان حب الانصار وعلی رضی اللہ عنہم من الایمان)اس لیے صحابہ انصار کا حد درجہ احترام کرتے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ خادم رسول حضرت انس بن مالک اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہما اکٹھے سفر کر رہے تھے اور جریر، حضرت انس کی خدمت کر رہے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انھیں یہ کہہ کر خدمت گزاری سے منع کیا کہ میں جب سے انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے تو میں نے قسم کھائی کہ جب بھی کسی انصاری کے ساتھ جاؤں گا اس کی خدمت کروں گا۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ)

عشرہ مبشرہ:


یہ وہ دس خوش نصیب صحابہ ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی مجلس میں جنت کی نوید سنائی۔ سعید بن زید سے روایت ہے:

کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم عاشر عشرۃ فقال:ابوبکر فی الجنۃ، وعمر فی الجنۃ، وعثمان فی الجنۃ، وعلی فی الجنۃ، وطلحۃ فی الجنۃ، والزبیر فی الجنۃ وعبد الرحمن فی الجنۃ فقیل لہ من التاسع قال انا۔(سنن ابن ماجہ، دار احیاء الکتب العربیۃ ، ۱۹۵۲جلد اول، ص:۴۸،رقم الحدیث ۱۳۳۰)

حضرت شیخ عبد الحق لکھتے ہیں:

’’ابوبکر و عمر و عثمان وعلی و طلحہ وزبیر و سعد ابن وقاص و عبد الرحمن ابن عوف و ابی عبیدۃ بن الجراح و سعید بن زید ایں دہ تن از صحابہ مشہور ند بہ عشرۂ مبشرہ از جہت بشارت دادن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایشاں رابجنت۔‘‘

(اشعۃ اللمعات، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، جلد۴، ص:۶۷۱ )

اہل البیت:


اہلِ بیت تین طرح کے ہیں

(۱) اہل بیت ولادت: یعنی بنات طاہرات اور ان کی آل

(۲) اہل بیت سکنیٰ :ازواج مطہرات

(۳) اہل بیت نبنو ہاشم

اصحاب بدر:


حق و باطل کے پہلے معرکہ (۲ ہجری) میں جن ۳۱۳(تعداد کے بارہ میں مختلف روایات کے لیے ملاحظہ فرمائیے: فتح الباری، دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱۹۸۱ء جلد۷ ص:۲۹۱۔ ۲۹۲) اصحاب رسول نے حق کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دن کو یوم الفرقان بنایا، ان کی جاں نثاری کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صلہ دیا:

اعملوا ما شئتم وجبت لکم الجنۃ او فقد غُفِرَت لکم۔(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب فضل من شہد بدراً)

ترجمہ: اے اہل بدر! اب تم جو بھی کرو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت واجب کر دی ہے یا تمھیں معاف کر دیا ہے۔

حافظ ابن حجر’’اعملو‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:للتشریف والتکریم والمراد عدم اخذۃ بما یصدر عنہم بعد ذلک۔ (فتح الباری جلد۷، ص:۴۴۰ دیکھیے)

اس غایت درجہ تعظیم و تکریم کی بنا پر خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان ۳۱۳ نفوس قدسیہ کو اصحاب بدر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب بدر کو افضل المسلمینبھی قرار دیا ہے۔(نفس مصدر، ص:۳۱۲)

جاری ہے
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

Last edited by سیفی خان; 14-07-11 at 10:13 AM..

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 209
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (14-07-11), نبیل خان (15-07-11), محمدعدنان (14-07-11), حیدر (14-07-11), راجہ اکرام (15-07-11)
پرانا 15-07-11, 12:13 AM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default القاب صحابہ کی معنویت 2

اصحاب الشجرۃ:


اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے چودہ سو سے زائد (تعداد کے بارہ میں مختلف اقوال اور ان میں تطبیق کے لیے فتح الباری جلد۷، ص:۴۴۰ دیکھیے) جاں نثاروں نے حدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے بیعت کر کے عزم و استقامت کی داستان رقم کی۔ قرآن کریم نے اس گروہ کو اللہ کی رضا کی بشارت ان الفاظ میں دی۔

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔(سورۃ الفتح:۱۸)

ترجمہ: بے شک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔

ان نفوس مطہرہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب الشجرہ کے لقب سے یاد کیا اور رضی اللّٰہ عن المؤمنین کی وضاحت اس حدیث میں فرمائی:لَا یَدْ خُلُ النَّارَ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ مِنَ اَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ ۔ان شاء اللہ اصحاب شجرہ میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل اصحاب الشجرۃ۔۔۔)

اہل الصفۃأضیاف الاسلام:


اہل صفہ سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جو فقر و فاقہ کی زندگی بسر کرتے تھے اور ان کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہ تھی یہسب لوگ مسجد نبوی کے پچھلے حصے میں شمال کی طرف ایک سایہ دار جگہ میں سکونت رکھتے۔ ان کی تعداد دس سے کم ہوتی اور بعض اوقات ۴۰۰ تک جا پہنچتی۔( تفصیلات مع حوالہ جات کے لیے راقم کی کتاب ’’سماجی بہبود تعلیمات نبوی کی روشنی میں‘‘ ناشر مکتبہ جمال کرم لاہور ۲۰۰۵ء ص:۳۲ ملاحظہ فرمائیں)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اہل صفہ کو بلاؤ تا کہ دودھ کے ایک پیالہ سے وہ بھی سیراب ہو جائیں۔ اس روایت میں ان نفوس قدسیہ کے لیے اہل صفہ اور أضیاف الاسلام دونوں القاب آئے ہیں۔

الحق اہل الصفۃ فادعہم فہم اضیاف الاسلام۔

(مستدرک حاکم، دار الکتب العلمیۃ ۱۴۱۱ھ، جلد ۳، ص:۱۷ راقم الحدیث ۴۲۹۱)

(ب)
وہ القاب جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منفرداً کسی صحابی کو عطا کیے:


صدیق:


حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا معروف ترین اور زبان زد عام لقب ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس لقب کے حوالہ سے قاضی سلمان منصور پوری کی تحقیق ہدیہ قارئین ہے۔ اس میں ضمناً آپ کے دو دیگر القاب(ثانی اثنین اور خلیفۂ رسول) کا بھی تذکرہ ہے۔ فرماتے ہیں:

صدیق معرفت صدق کا عارف ہوتا ہے۔ اس کے احوال و اقوال، عزم و ارادہ مستقیم، احسن، قوی اور راسخ ہوتے ہیں۔ اس کا واحد مقصود’’رضائے حق‘‘ ہوتا ہے یہ وہ کمال ہے جو کمال نبوت سے ملا ہوا ہے۔ یہ وہ سراج ہے جو چراغ نبوت سے روشن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]اُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ۔[/COLOR](النسآء ۶۹)

ترجمہ: خدا اور رسول کی اطاعت کرنے والوں کو اللہ کے انعام یافتہ بندوں یعنی انبیاء اور صدیقوں کی معیت دی جائے گی۔

شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں صدیقیت و محدَّثیت پر بحث لطیف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صدیق اصل فطرت میں ذات پاک نبی سے قریب تر ہوتا ہے وہ جو تعلیم نبی اللہ سے حاصل کرتا ہے اس کے دل میں ایسی راسخ ہو جاتی ہے گویا وہ علوم اسی کے دل سے نکلے تھے۔

صدیق پر انوار وحی نبوت کا انعکاس ہوتا ہے اور تعاقب درود انوار سے۔ تاثیر و تاثر، فعل و انفعال کا ایسا تسلسل قائم ہو جاتا ہے کہ صدیق فنا وفدا کے منصب پر ممتاز ہو جاتا ہے۔ اور اس وقت یہ کیفیت ہوتی ہے کہ نبی کی روحانیت صدیق کی زبان پر تکلم کیا کرتی ہے۔

صدّیقیت کے انھی احوال پر اُن احادیث میں اشارہ ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہیں۔ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مصاحبت اور زر و مال کی فدیہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا احسان و منت محمد ؐ پر سب سے بڑھ کر ہے۔ دوسری حدیث میں لو کنت اتّخذتُ خَلِیلًالَاتّخذتُ ابا بکرٍ خلیلاً ولکنَّ اللّٰہ اتّخَذَنی خلیلاً۔یعنی اگر میں مخلوق میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ مگر مجھے تو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا۔

صدیقِ امت بالاتفاق ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ آپ کے سوا اور کوئی اس لقب سے ملقب نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں ان ہی کو ثانی اثنین فرمایا گیا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام میں کسی دوسرے کو ثانی رسول نہیں بتایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی سب سے پہلے حج اسلام کا سردار’’امیر الحج‘‘بنایا۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سب سے آخری غزوہ تبوک میں سب سے بڑی فوج کا سپہ سالار بنایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنایا اور صحابہ میں صرف وہی ہیں جو خلیفہ رسول اللہ کے خطاب سے مخاطب ہوئے۔ دیگر خلفائے راشدین’’امیر المؤمنین‘‘ کے لقب سے مخاطب کیے جاتے تھے۔ ان سب واقعات کی وجہ یہی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ’’صدیق‘‘ تھے اور صدیق ہی نبی اللہ سے قریب تر ہوتا ہے۔

(سلمان منصور پوری، قاضی محمد سلیمان، الجمال والکمال، مکتب الدعوۃ الاسلامیہ پاکستان ۱۹۶۲ء ص:۱۵۰۔ ۱۵۱)

آپ کو یہ لقب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق میں سبقت پر ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو حلفاً فرماتے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام ’’صدیق‘‘ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نازل کیا ہے۔( فتح الباری جلد۷، ص:۹ (۹۳۶ العینی، ابو محمد محمود (۸۵۵ھ)، عمدۃ القاری، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۱۴۰۶، جلد۱۶، ص:۱۷۲)یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نام معراج کی تصدیق پر عطا ہوا۔(عمدۃ القاری، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۱۴۰۶، جلد۱۶، ص:۱۷۲)

عتیق:


حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حسن و جمال یا نیکی و خیرات میں سبقت کی بنا پر کہا جاتا ہے ۔( نفس مصدر )

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]امیر الشاکرین:[/COLOR]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس لقب کا ذکر علامہ عینی نے کیا ہے اور لکھا ہے کے عزیمت اور قربانیوں کی ایک داستان رقم کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عملاً جس شکر و امتنان کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی بنا پر آپ کی امیر الشاکرین آپ کو امیر الشاکرین کہا جاتا ہے۔ ( نفس مصدر )محمد الصلابی نے ’’الصاحب‘‘ ، ’’الاتقی‘‘، اور’’ الاواہ‘‘ بھی آپ کے لقب ذکر کیے ہیں۔(ابوبکرا لصدیق، شخصیتہٗ وعصرہٗ دار ابن کثیر ۲۰۰۳، ص:۱۷۔۱۹)

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]فاروق:[/COLOR]


حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مزاج میں شدّت و جلال تھا جس کی وجہ سے شروع اسلام میں آپ نے مسلمانوں کی شدید مخالفت کی۔ آپ کے قبول اسلام سے حق و باطل میں فرق واضح ہو گیا۔ لانہ فرق باسلامہ من الحق والباطل۔(السنوسی، دار الکتب العلمیۃ بیروت، جلد۶، ص:۱۹۹ )

مسلمان مشکل اور پریشان کن حالات سے نکل آئے وکان اسلامہ فتحاً علی المسلمین وفرجا لہم من الضیق۔( الاصابۃ جلد۲، ص:۵۱۸) اس وجہ سے آپ کو فاروق کہا جاتا ہے لیکن یہ لقب آپ کو کس نے کب عطا کیا اس بارے میں کوئی واضح روایت نہیں مل سکی۔ وأما لقبہ فہو الفاروق باتفاق، فقیل اول من لقبہ بہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔۔۔وقیل اہل الکتاب۔۔۔وقیل جبرئیل۔( فتح الباری جلد۷، ص:۴۴، عمدۃ القاری جلد۱۶ ص:۱۹۲)

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]محدّث:[/COLOR]


حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لقد کان فیما قبلکم من الامم محدثون فان یک فی امتی احد فانہ عمر۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔ )کہ سابقہ امتوں میں محدث ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی اس مقام پر فائز ہو تو وہ عمر ہیں۔ لفظ محدث کی وضاحت شارحین نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق کی ہے۔(فتح الباری جلد۷، ص:۵۰، الکاشف عن الحقائق السنن جلد۲۲، ص:۲۲۹، تحفۃ الاحوذی، نشر السنۃ ملتان، جلد۴، ص:۳۱۷)

علامہ ابن المالکی کی رائے میں محدث وہ ہے جس کے دل میں ملاء اعلیٰ سے القاء ہو والمحدث فی الحقیقۃ انما ہو من اُلقِی فی قلبہٖ شئٌ من الملاِ الاعلی۔گویا محدث کا دل اخبار غیب کا محل ہوتا ہے اور یہ درحقیقت صافی قلب کے حامل لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکریم ہے۔ ان کی اسی فراست کا تذکرہ حدیث میں ہے:

اِتَّقُوا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ یَنْظُرُ بِنُورِ اللّٰہِ۔

ابن العربی کے بقول ایسے دلوں کے مقابل لوح محفوظ آجاتی ہے پھر اس مقام کے حامل لوگ ایسی آوازیں سنتے ہیں جن کو دوسرے نہیں سن سکتے اور ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جن سے دوسرے آگاہ نہیں ہوتے۔ حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ عراق میں تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں لیکن حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ نے طویل فاصلہ کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ کی آواز کو سنا۔( علامہ ابی، اکمال اکمال المعلم، دار الکتب العلمیۃ بیروت، جلد۶، ص:۲۰۴ ملخص)

امیر المؤمنین:


تاریخ اسلام میں سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کو کہا گیا۔
شفاء بنت عبد اللہ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم مدینہ منورہ آئے ان کی ملاقات حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انھوں نے حضرت عمر و رضی اللہ عنہ سے کہا امیر المؤمنین سے ہماری ملاقات کی اجازت لے دیں۔ عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کہا السلام علیک یا امیر المؤمنین،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ کیا،تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:انت الامیر ونحن المؤمنونکہ آپ امیر ہیں اور ہم مؤمن ۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین کے لقب کا استعمال شروع ہوا۔( مجمع الزوائد، مؤسسۃ المعارف بیروت ۱۹۸۶ء جلد۹، ص:۶۴)

ذوالنورین:


حضرت عثمان بن عفان اس لقب سے مشہور ہوئے۔(فتح الباری جلد۷، ص:۵۴)آپ کو ذوالنورین کہنے کی وجہ علماء نے یہ لکھی ہے کہ آپ کے عقد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں ، رقیہ اور ام کلثوم آئیں۔

(اکمال اکمال المعلم جلد۶، ص:۲۰۶، الاصابہ جلد۲، ص:۴۶۲)

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ابوتراب:[/COLOR]


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عم زاد بھائی اور داماد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل سب سے زیادہ بیان ہوئے۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کے لیے فرمایا گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ابو تراب کے نام سے پکارا اور یہ نام آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔

صحیح مسلم میں اس لقب کا پس منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور علی رضی اللہ عنہ کو موجود نہ پایا تو پوچھا این ابن عمک کہ تمھارا عم زاد کہا ہے۔ حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی میرے اور ان کے درمیان کوئی شکر رنجی ہو گئی جس سے ناراض ہو کر وہ گھر سے چلے گئے اور میرے پاس قیلولہ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص سے کہا جاؤ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ اس شخص نے آ کر اطلاع دی کہ وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ لیٹے ہوئے تھے اور ایک جانب سے ان کی چادر ڈھلکی ہوئی تھی اور ان پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ رسول اللہ اپنے ہاتھوں سے وہ مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے قم ابا التراب قم ابا التراب۔(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ)ابن اسحاق کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے:

ابن اسحاق:حدثنی بعض اہل العلم ان علیا کان اذا غضب علی فاطمۃ فی شئی لم یکلمہا بل کان یأ خذ ترابا فیضعہ علی رأسہ، وکان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا رأی ذلک عرف فیقول مالک یا ابا تراب۔(فتح الباری۱۰؍۵۸۸)

سیرت حلبیہ میں ہے کہ غزوہ ذو عشیرہ میں آپ کو خاک میں اٹے ہوئے دیکھ کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’یا ابا تراب‘‘ارشاد فرمایا۔( سیرت حلبیہ جلد۲، ص:۱۴۲)

جاری
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (15-07-11), راجہ اکرام (15-07-11), شمشاد احمد (15-07-11)
پرانا 15-07-11, 12:54 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائ
دیا خون صحابہ نے تو اس میں بہار آی
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-07-11), راجہ اکرام (15-07-11), سیفی خان (15-07-11), شمشاد احمد (15-07-11)
جواب

Tags
کمال, کراچی, پہچان, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, موت, محبت, معلوم, معاشرہ, آئینہ, آبادی, آدمی, اہل بیت, ایمان, اللہ, تلاش, جلد, جرم, حواری, خبر, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کویت نیوی کے بعض افسران نے بحرین جانے سے انکار کر دیا عارف اقبال خبریں 0 15-04-11 01:04 PM
رویت ہلال کمیٹی کل چاند دیکھے گی جاویداسد خبریں 0 06-11-10 09:25 PM
اختلاف رویت ہلال فرحان دانش عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 0 09-09-10 11:33 PM
نجی رویت ہلال کمیٹیاں فرحان دانش اپکے کالم 70 20-08-10 01:15 AM
رویت ِ ہلال ا ور بصیرت کی آنکھ Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 16-09-09 01:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger