واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


امام علی علیہ سلام کی علمی حیثیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-11-11, 05:04 PM   #1
امام علی علیہ سلام کی علمی حیثیت
حیدر Rehan حیدر Rehan آف لائن ہے 16-11-11, 05:04 PM

حضر ت علی کا نفس اللہ ہونا مسلمات سے ہے اور اللہ اس واجب الوجود ذات کو کہتے ہیں جو علم و قدرت سے عبار ت ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ جو نفس اللہ ہو گا اسے فطرتاََ تمام علوم سے بہرہ ور ہونا چاہیے۔ حضرت علیؑ کے لیے یہ مانی ہوئی چیز ہے کہ آپ دنیا کے تمام علوم سے صرف واقف ہی نہیں بلکہ ان میں مہارت تامہ رکھتے تھے اور علم لدنی سے بھی مالا مال تھے۔ آپ کے علوم کا احصانا ممکن ہے

امام شبلنجی لکھتے ہیں۔ ”وَمَکَانتہ فِی العِلم وَالفَھمِ۔۔۔۔تَحمِلُ مُجلداتِ“ آپ کے علم و فہم وغیرہ کے لیے بہت سی جلدیں درکار ہیں۔
امام محمد ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام المفسرین جناب ابن عباس کا کہنا ہے کہ علم و حکمت کے دس درجوں میں سے ۹ حضرت علیؑ کو ملے ہیں اور دسویں میں تمام دنیا کے علماء شامل ہیں اور اس دسویں درجہ میں بھی علیؑ کو اول نمبر حاصل ہے۔
ابو الفداء کہتے ہیں کہ حضرت اعلم الناس بالقرآن والسنن تھے۔ یعنی تمام لوگوں سے زیادہ انہیں قرآن و حدیث کا علم تھا۔
خود سر ور کائنات ص نے آپ کے علمی مدارج پر بار بار روشنی ڈالی۔
اَناَ مَدینَتُہ اَلعَلمِ وَعَلی بابُھاَ فرمایا
کہیں اَناَ دَارُالحِکمتِ وَعَلی باَبُھا۔ ارشاد فرمایا
کسی مقام پر ”اَعلمُ اُمتیِ علیَ ابن ابی طَالب “۔ کہا
حضرت علی ؑ نے خود بھی اس کا اظہا ر کیا ہے اور بتایا ہے کہ علمی نقطہ نظر سے میرا درجہ کیا ہے ۔ ایک مقام پر فرمایا کہ
رسول اللہ نے مجھے علم کے ہزار باب تعلیم فرمائے ہیں اورمیں نے ہر باب سے ہزار باب پیدا کر لیے ہیںَ
ایک مقام پر ارشاد فرمایا۔ ”زَقَنیِ رُسول اللہ زقَاََ زَقاََ مجھے رسول اللہ نے اس طرح علم بھرایا ہے جس طرح کبوتر اپنے بچے کو دانا بھراتا ہے، ایک منزل پر کہا کہ سَلونیِ قَبلَ اَن تَفقِدُونی “پوچھ لو اسے سے پہلے کہ مجھے نہ پاسکو۔ ورنہ پھر تمہیں علمی معلومات سے کوئی بہرہ ور کرنے والا نہ ملے گا۔
ایک مقام پر فرمایا کہ آسمان کے بارے میں مجھ سے جو چاہے پوچھو۔ مجھے زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں کا علم ہے۔
ایک دن فرمایا کہ اگر میرے لیے مسند قضا بچھادی جائے تو میں توریت والوں کو توریت سے انجیل والوں سے ، زبور والوں کو زبور سے اور قرآن والوں کو قرآن سے اس طرح جواب دے سکتا ہوں کہ ان کے علماء حیران رہ جائیں۔
ایک موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے علم ہے کہ قرآن کی کونسی آیت کہاں نازل ہوئی۔ کون سی دن میں کون سی رات میں نازل ہوئی ہے۔
علماء نے لکھا ہے کہ ایک شب ابن عباس نے علیؑ سے خواہش کی کہ بسم اللہ کی تفسیر بیان فرمائیں۔ آپ نے ساری رات بیان فرمایا اور جب صبح ہو گئی تو فرمایا اے ابن عباس میں اس کی تفسیر اتنی بیان کر سکتا ہوں کہ ۷۰ اونٹوں کا بار ہو جائے بس مختصر یہ سمجھ لو کہ جو کچھ قرآن میں ہے وہ سورة حمد میں ہے اور جو سورة حمد میں ہے وہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں ہے اور جو بسم اللہ میں ہے وہ بائے بسم اللہ میں ہے اور جو بائے بسم اللہ میں ہے وہ نقطہ بائے بسم اللہ میں ہے ”واَناَ النقطةُ اللتیِ تَحتَ الباء “اے ابن عباس میں وہی نقطہ ہوں جو بسم اللہ کی (ب) کے نیچے دیا جاتا ہے ۔
شیخ سلیمان قندوزی لکھتے ہیں کہ تفسیر بسم اللہ سن کر ابن عباس نے کہا کہ خدا کی قسم میرے اور تمام صحابہ کا علم علی ؑ کے علم کے مقابلے میں ایسا ہے ۔جیسے سات سمندروں کے مقابلہ میں پانی کا ایک قطرہ
کمیل ابن زیاد سے حضرت علیؑ نے فرمایاکہ اے کمیل میرے سینے میں علم کے خزانے ہیں۔ کاش کوئی اہل ملتا کہ میں اسے تعلیم کر دیتا۔
محب طبری تحریر فرماتے ہیں کہ سرور عالم کا ارشاد ہے کہ جو شخص علم آدم فہم ، نوح حلمِ ابراہیم زید یحیٰ ، صولت موسیٰ کو ان حضرات سمیت دیکھنا چاہے۔ ”فلینظر اِلیَ عَلی اَبنِ اَبی طالب “اسے چاہیے کہ وہ علی ابن ابی طالب کے چہرہ انور کو دیکھے ملا حظہ ہو(نور الابصار شرح مواقف ، مطالب السول صواعق محرقہ شواہد النبوت ابو الفداء ، کشف الغمہ ، ینابیع المودت، مناقب ابن شہر آشوب، ریاض النضرہ، ارحج المطالب ، انوار الغتہ )علماء اسلام کے علاوہ مشتشرقین فرنگ نے بھی آپ کے کمال علمی کا اعتراف کیا ہے ۔
مصنف انسائیکلو پیڈیا بڑ ٹانیکا لکھتے ہیں علیؑ علم اور عقل میں مشہور تھے اور اب تک کچھ مجموعے ضرب الامثال اور اشعار کے ان سے منسوب ہیں۔خصوصاََ مقالات علیؑ جس کا انگریزی ترجمہ ولیم پول نے ۱۸۳۲ء ء میں بمقام ٹونبرا شائع کرا یا ہے۔
مسٹر ایرونگ لکھتے ہیں ۔ آپ ہی وہ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے علوم و فنون کی بڑی حمایت فرمائی۔ آپ کو خود بھی شعر گوئی کا پورا ذو ق تھا اور آپ کے بہت سے حکیمانہ مقولے اور ضرب الامثال اس وقت تک لوگوں کے زبان زد ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کا ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔
مسٹر اوکلی لکھتے ہیں۔۔کتاب خلفاء رسول صفحہ۱۷۸ پر لکھتے ہیں کہ تمام مسلمانوں میں باتفاق علیؑ کی عقل و دانائی کی شہرت ہے جس کو سب تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کے صد کلمات ابھی تک محفوظ ہیں جن کا عربی سے ترکی میں ترجمہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے اشعار کا دیوان بھی ہے۔ جس کا نام انوار الاقوال ہے۔
نیزورڈ لین لائبریری میں آپ کے اقوال کی ایک بڑی کتاب (نہج البلاغہ )موجود ہے۔ آپ کی مشہور ترین تصنیف ”جعفر و جامعہ “ہے۔ جو ایک بیدالفہم خط میں اعداد و ہندسہ پر مشتمل بتلاتے ہیں۔یہ ہندسے ان تمام عظیم الشان واقعات کو جو ابتداء اسلام رہتی دنیا تک قائم ہونے والے واقعات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ آپ کے خاندان میں ہے اور پڑھی نہیں جا سکتی البتہ امام جعفر صادقؑ اس کے کچھ حصے کی تشریح و تفسیر میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اس کو مکمل بارہویں امام کریں گے ’’تاریخ عرب اوکلی صفحہ۳۳۲
مورخ گلمن لکھتے ہیں ، آپ وہ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے علم و فن اور کتابت کی پرورش کی اور حکمت سے مملو اقوال کا ایک بڑا مجموعہ آپ کے نام سے منسوسب ہے۔۔۔۔آپ کا قلب و دماغ ہر شخص سے خراج تحسین حاصل کر تا رہے گا۔۔۔آپ کا قلب و دماغ مجسم نور تھا۔۔۔آپ کی دانائی اور پر مغز نکتہ سنجی اور ضر ب الامثال کے ایجا د میں آپ کی فراست بہت ہی اعلیٰ پایہ کی تھی۔’’تاریخ عرب صفحہ۲۸۶
بمبئی ہائی کورٹ کے جج مسٹر ار نولڈ ایڈ ووکیٹ جنرل ایک فیصلہ میں لکھتے ہیں۔شجاعت حکمت، ہمت ، عدالت، سخاوت، زہد اور تقویٰ میں علیؑ کا عدیل و نظیر تاریخ عالم میں کمتر نظر آتا ہے۔’’لا پورٹ جلد ۱۲ ،اعجاز التنزیل صفحہ۱۶۶

حضرت علیؑ کی تصنیفات
علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے مصنف حضرت علیؑ ہیں۔ علامہ رشید الدین ابن شہر آشوب کتاب معالم العلماء میں اور علامہ سید محسن صدر نے کتاب الشیعہ و فنون الاسلام میں تحریر فرمایا ہے۔ کہ اَوَلُ مَن صَنَفَ الاسلَامِ اَمِیر المومنین اسلام میں سب سے پہلے حضرت علیؑ نے تصنیف کی ہے۔ آپ کی کتاب کا نام ”کتاب علیؑ “اور جامعہ تھا۔ اصول کافی کتاب الحجة میں ہے کہ اس کتا ب میں دنیا کے ہونے والے وقعات و حالات مندرج تھے، یہ بھی مسلم ہے کہ سب سے پہلے جامع قرآن مجید بھی حضرت علیؑ ہی ہیں۔ ’’نور الابصار امام شبلنجی صفحہ۷۳طبع مصر

کتاب اعیان الشیعہ میں ابو الائمہ کی تالیفات و تصنیفات کی فہرست اس طرح مرقوم ہے۔
(۱) قرآن مجید کو تنزیل کے مطابق حضرت علیؑ نے جمع کیا۔ اس میں اسباب و مقامات نزول آیات و سور کا بھی ذکر تھا۔
(۲)کتاب علیؑ جس میں قرآن مجید کے ساٹھ قسم کے علوم کا ذکر تھا۔
(۳)کتاب جامعہ (۴) کتاب الجفر(۵)صحیفہ الفرائض (۶)کتاب فی زکوةٰ النعم
(۷)کتاب فی ابواب الفقہ (۸)کتاب فی الفقہ (۹)مالک اشتر کے نام تحریری ہدایات (۱۰)محمد بن حنفیہ کے نام وصیت
(۱۱) مسند علیؑ لابی عبد الرحمٰن احمد بن شعیب نسائی ان کتابوں کے علاوہ آپ کا مجموعہ اوراد ”صحیفہ علویہ “اورآپ کے اشعار کا مجموعہ ”دیوان علیؑ “کے نام سے حضرت علی بن ابی طالبؑ کی طرف منسوب ہے۔ یہ کتاب نواب علامہ علاء الدین احمد خان بہادر، فرمانروائے لو ہارو کے حکم سے ۱۸۷۶ء ء میں فخر المطابع، لوہارو میں چھپی تھی اور اب مختلف ملکوں میں چھپ چکی ہے اور اس کی شرحیں بھی ہو چکی ہیں۔


ان کتابوں کے علاوہ جناب امیر المومنینؑ کا کلام مندرجہ ذیل کتب میں جمع کیا گیا ہے۔
نہج البلاغہ اسے علامہ سید رضی علیہ الرحمتہ نے جمع فرمایا ہے۔ وہ ۳۵۹ء ھج مطابق ۹۲۹ء ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی وفات محرم ۴۰۴ ء ھج مطابق جولائی ۱۰۱۳ءء میں ہوئی ہے۔
کتاب نہج البلاغہ کی بہت سی شرحیں لکھی گئی ہیں لکھنے والوں میں سے چند نام یہ ہیں۔
(۱) امام اہل سنت عزیز بن ابو حامد عبد الحمید بن ہبة اللہ بن محمد بن حسنین ابن ابی الحدید مدائنی المتولد یکم ذی الحجہ ۵۸۶ءء مطابق ۳۰دسمبر۱۱۹۰ءء بمقام مدائن، المتوفی ۶۵۵ء ھج مطابق ۱۲۵۷ء ء بمقام بغداد
(۲) قوام الدین یوسف بن حسن المتوفی ۹۲۲ئھ ء مطابق ۱۵۱۶ءء
(۳) مفتی محمد عبدہ مصر
(۴) علامہ محمد حسن نائل المرصفی جن کا حاشیہ ہے اصل کتاب نہج البلاغہ کے مشہور مطبع دار الکتب العربیہ میں چھپ گئی ہے یہ چاروں شارح اہل سنت و الجماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
(۵) سید علی بن ناصر یہ سید رضی کے معاصر تھے۔ سب سے پہلے نہج البلاغہ کی شرح انہوں نے ہی لکھی ہے ۔ ان کی شرح کا نام ”اعلام نہج البلاغہ “ہے۔
(۶) علامہ قطب الدین رواندی ان کی شرح کا نام منہاج البراعتہ ہے۔
(ّ۷) سید ابن طاؤس ، ابو القاسم علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن طاؤس المتو لد محرم ۵۱۹ء ھج المتوفی ۵ ذی قعدہ ۶۶۴ئھ
(۸) کمال الدین مثیم بن علی بن میثم بحرانی
(۹) قطب الدین محمد بن الحسین سکندری
(۱۰) شیخ حسین بن شہاب الدین حیدر علی عاملی متوفی صفر ۱۰۷۶ء ء مطابق اگست ۱۶۶۵ء بمقام حیدر آبا دکن
(۱۱) شیخ نظام الدین علی بن الحسین ان کی شرح کا نام انوار الفصاحت ہے ۔
(۱۲) علامہ مرزا علاء الدین محمد بن ابی تراب الحسین ان کی شرح نہایت مسبوط ہے۔ اس کا نام ”حدائق الحقائق“ہے یہ ۲۰ جلدوں میں ہے۔
(۱۳) آقا شیخ محمد رضا مسمی بہ ”در نجفیہ “
(۱۴) ملا فتح اللہ کاشافی المتوفی ۹۹۷ءء یہ فارسی میں ہے اور اس کا نام تنبیہ الغافلین ہے۔
(۱۵) محقق حبیب اللہ ہاشمی الخوئی ، ان کی شرح کا نام بھی ”منہاج البراعة “فی شرح نہج البلاغہ ہے۔ یہ ۲۵ جلدوں میں ہے ۔ قم خیابان ارم میں ملتی ہے۔ اب یہ کتاب ایران کے تمام شہروں سے ملتی ہے اور پاکستان میں اس کا اردو ترجمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کے چند مستدر کات ہیں جو طبع ہو چکی ہیں۔


کلام علی کے متفرق مجموعات
(۱)مائہ کلمہ جس کو جاحظ نے جمع کیا تھا۔
(۲) ”غُررَ الحِکمِ وَدرَ رُ الکلم “جس کو عبد اللہ ابو واحد بن عبد الواحد نے جمع کیا تھا۔
(۳) دستور معالم الحکم جس کو قاضی عبداللہ محمدبن سلامہ متوفی ۴۵۴ء نے جمع کیا تھا۔
(۴) نثر اللّالی جس کو ابو الفضل علی بن الحسن الطبرسی صاحب مجمع البیان نے جمع کیا۔
(۵) ”کتاب مطلوب کل طالب من کلام علی بن ابی طالب “جس کو ابو اسحاق الوطواط الانصاری نے جمع کیاہے۔ اس کا فارسی اور جرمن زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
(۶) ”قلائد الحکم و فرائد الکلم “ جس کو قاضی ابویوسف بن سلیمان الاسفر ائنی نے جمع کیا ہے۔
(۷) کتاب”معمیات علی “
(۸) امثال الامام علی بن ابی طالب
(۹) شیخ مفید علیہ الرحمہ نے کتاب الارشاد میں کچھ کلام جمع کیا ہے۔
(۱۰) نصر بن مزاحم کی کتاب ”صفین“ میں آپ کا کلام علی جمع ہے۔
(۱۱) جواہر المطالب۔


آپؑ کی علمی مرکزیت

علامہ ابن ابی الحدید، علامہ ابن شہر آشوب۔ علامہ ابن طلحہ شافعی اور علامہ اربلی تحریر فرماتے ہیں کہ
”اشرف العلوم “علم الھٰیات ہے اور یہ حضرت علی ہی کے کلام سے اقتباس کیا گیا ہے اور آپ ہی اس کی ابتداء اورانتہا ہیں۔ عقائد کے اعتبار سے اسلام میں جو مختلف فرقے ہیں۔ ان میں معتزلہ بھی ہے ۔اس فرقہ کا بانی واصل بن عطا ہے جو ابو ہاشم کا شاگرد تھا۔ اور وہ اپنے باپ محمد بن حنیفہ کا شاگر د تھا اور محمد حضرت علی کے شاگر دتھے۔دوسرا فرقہ اشعریہ ہے جو ابو الحسن اشعری کی طرف منسوب ہے اور وہ شاگرد تھا ابو علی جبائی کا جو مشائخ معتزلہ سے تھا۔ اس کی انتہا بھی حضرت علی تک قرار پاتی ہے ۔ تیسرا امامیہ و زید یہ ہے اس کا حضرت کی طرف منصوص ہونا بالکل واضح ہے۔

اسلامی علوم میں علم فقہ بھی ہے
اور اسلام کا ہر فرقہ کا مجتہد حضرت ہی کا شاگر دہے ۔چنانچہ اہل سنت میں چار فرقے ہیںَ مالکی ، حنفی، شافعی اور جنبلی۔

مالکی فرقہ کے بانی امام مالک شاگر دتھے ربیعتہ الرائی کے او ر وہ شاگرد تھے ۔ عکرمہ کے اور وہ شاگرد تھے ابن عباس کے او ر وہ شاگرد تھے حضرت علیؑ کے

دوسرے فرقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ تھے یہ شاگرد تھے امام جعفر صادق اورامام محمد باقرکے اور یہ شاگرد تھے امام زین العابدینؑ کے اور امام عابد شاگرد تھے اور امام حسینؑ کے اور وہ شاگرد تھے حضرت علیؑ کے

تیسرے، فرقہ کے بانی امام شافعی شاگرد تھے۔ امام محمد کے او ر وہ شاگرد تھے امام ابو حنیفہ کے ۔

چوتھے فرقہ کے بانی، امام احمد ابن جنبل شاگرد تھے۔ امام شافعی کے اس طرح ان کا فرقہ بھی حضرت علی کا شاگرد ہوا۔

اسکے علاوہ صحابہ کے فقہا و حضرت عمر و عبد اللہ ابن عباس تھے اور دونوں نے علم فقہہ حضرت علی ؑ ہی سے سیکھا ۔ ابن عبا س کا شاگرد حضرت علی ؑ ہونا تو واضح اور مشہور ہے۔ رہے حضرت عمر تو ان کے بارے میں بھی سب کو علم ہے کہ بکثرت مسائل میں جب ان کی عقل و فہم اور راہ چارہ و تدبر بند ہو جایا کرتی تھی تو وہ حضرت علیؑ کی طرف رجوع کرتے اور حضرت علی سے ہی مشکل کشائی کی درخواست کیا کرتے تھے ۔ اور اکثر ایسا بھی ہوا کہ اپنے علاوہ دیگر صحابہ کی بھی مشکل کشائی علیؑ سے کرایا کرتے تھے ، ان کا باربار ”لَو لاَ عَلیَ لَھَلَکَ عُمَرہُ “اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا ،کہنا اور یہ فرمانا کہ ”خدا وہ وقت نہ لائے کہ میں کسی علمی مشکل میں مبتلا ہو جاؤں ور علیؑ موجود نہ ہوں اس کے علاوہ یہ کہنا کہ جب علیؑ مسجد میں موجود ہوں تو کوئی فتویٰ دینے کی جرائت نہ کرے، یہ ثابت کرتا ہے کہ حضرت عمر کی فقہی حد حضرت علیؑ تک منتہی ہوتی ہے۔ حضرت علیؑ ہی وہ ہیں جنہوں نے اس عورت کے مقدمہ میں منصفانہ فتویٰ دیا جس نے چھ مہینہ میں بچہ جنا تھا اور زنا کار حاملہ عورت کے معاملہ کو طے فرمایا تھا ۔ جس کے رجم کا فتویٰ حضرت عمر دے چکے تھے۔

اسلامی علوم میں تفسیر کا علم بھی ہےیہ علم بھی حضرت علیؑ ہی سے حاصل کیا گیا ہے ، جو شخص تفسیر کی کتابیں دیکھے اسے آسانی سے اس دعویٰ کی صحت معلوم ہو جائے گی ۔ کیونکہ تفسیر کے مطالب زیادہ تر حضر ت علیؑ اور عبد اللہ ابن عباس ہی سے منقول ہیں اور عبد اللہ ابن عباس کا شاگرد حضرت علی ؑ ہونا مشہورو معروف ہے۔ لوگوں نے عبد اللہ ابن عباس سے ایک دفعہ پوچھا کہ حضرت علیؑ کے علم کے مقابلہ میں آپ کا علم کتنا ہے فرمایا جتنا ایک بحر زخار کے مقابلہ میں ایک چھوٹا قطرہ ہو سکتا ہے۔

اسلامی علوم میں علم طریقت و حقیقت اور اصول تصوف بھی ہے اور تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس فن کے جملہ علماء و ماہرین اپنے کو حضرت کی طرف ہی منسوب کرتے ہیں اور حضرت ہی تک اپنے سلسلہ کو منتہی قرار دیتے ہیں۔ اس کی صراحت ان لوگوں نے بھی کی ہے۔ جو فرقہ صُوفیہ کے امام اور پیشوا مانے گئے ہیں جیسے شبلی۔ جنید۔سری ۔ ابو یزید بسطامی۔ معروف کرخی۔ صوفی خرقہ صوفی کو علی ہی کا شعار قرار دیتے ہیں۔

علوم عربیہ میں علم نحو بھی ہے دنیا کے ماہرین کو علم ہے کہ اس علم کے بانی حضرت علیؑ ہیں ۔ آپ ہی نے اس کی ایجاد کی ہے۔۔۔آپ ہی نے اس کے قواعد و ضوابط مدو ن فرمائے ہیں۔آپ نے فرمایا اس علم کے اصول و جوامع کی تعلیم ابو الاسود ودویلی کو دی اور اس کے قوانین ترتیب دینے کا طریقہ سکھایا حضرت نے جو مختصر اور جامع اصول بتائے ان میں کلام، کلمہ اور اعراب تھے۔ آپ نے کہا کہ کلام ، اسم فعل، حرف کو کہتے ہیں اور کلمہ معرفہ اور نکرہ ہوتا ہے اور اعراب ”رفع نصب جر اور جزم میں منقسم ہوتا ہے۔ حضرت ان مختصر اصول و ضوابط کو آپ کے معجزات میں شمار کرنا چاہیے ۔ ۴۴

اس کے علاوہ علم القرآت ، علم الفرائض ، علم الکلام، علم الخطابت، علم الفصاحت و بلاغت ۔ علم الشعرا علم العروض و القوافی ۔ علم الادب۔ علم الکتابت۔ علم تعبیر خواب ۔ علم الفلسفتہ ۔ علم الہندسہ ۔ علم النجوم ۔ علم الحساب۔ علم الطب۔ علم منطق الطیر وغیرہ۔ میں آپ کو انتہائی کمال حاصل تھا ۴۵ علم لدنی علم الغیب میں بھی آپ کو ید طونی حاصل تھا ۔ (نورالابصارص۶۷وارجح المطالب)ابن شہر آشوب نے مناقب میں حضرت علیؑ کے صوتِ ناقوس کی تفسیر بیان فرمانے کی تفصیل لکھی ہے۔ اور علامہ محمدباقر نے دمعہ ساکبہ کے صفحہ ۱۴۱ پر ابن ابی الحدید کے حوالہ سے ۳۳بڑی سطروں پر مشتمل حضرت کا ایک نہایت فصیح و بلیغ ایسا خطبہ نقل کیا ہے جس میں ”الف “نہیں ہے۔

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 264
Reply With Quote
پرانا 16-11-11, 05:32 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں نے ان کے بارے میں بنا پڑھے ہی یقین کر لیتا ہوں۔
جزاک اللہ
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-11-11, 06:14 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس مضمون سے بہت سارے اختلاف ہیں
حضرت علی کا درجہ بہت بڑا ہے صحابی رسول ، داماد رسول ،رسول اللہ کے معتمد ، خلفہ راشدین میں ان کا شمار ، اور بہت سے درجات جنکا احاطہ کیا جانا مشکل کام ہے
لیکن اس مضمون میں بہت زیادہ غلو سے کام لیا گیا ہے

اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (16-11-11), نبیل خان (17-11-11), حیدر (16-11-11), عبداللہ حیدر (16-11-11)
پرانا 16-11-11, 08:30 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,882
شکریہ: 821
158 مراسلہ میں 527 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اس مضمون سے بہت سارے اختلاف ہیں
حضرت علی کا درجہ بہت بڑا ہے صحابی رسول ، داماد رسول ،رسول اللہ کے معتمد ، خلفہ راشدین میں ان کا شمار ، اور بہت سے درجات جنکا احاطہ کیا جانا مشکل کام ہے
لیکن اس مضمون میں بہت زیادہ غلو سے کام لیا گیا ہے

اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے
میں‌آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔
بلال الراعی آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (16-11-11), فیصل ناصر (16-11-11), نبیل خان (17-11-11)
پرانا 17-11-11, 04:30 PM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

DUPLICATE .........................

Last edited by حیدر Rehan; 17-11-11 at 04:39 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-11-11, 04:31 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عجیب بات یہ ہے کہ

”اشرف العلوم “علم الھٰیات ہے
اسلامی علوم میں علم فقہ بھی ہے
اسلامی علوم میں تفسیر کا علم بھی ہے
اسلامی علوم میں علم طریقت و حقیقت اور اصول تصوف بھی ہے
علوم عربیہ میں علم نحو بھی ہے
اس کے علاوہ علم القرآت ،
علم الفرائض ،
علم الکلام،
علم الخطابت،
علم الفصاحت و بلاغت
علم الشعرا علم العروض و القوافی
علم الادب
علم الکتابت
علم تعبیر خواب
علم الفلسفتہ
علم الہندسہ
علم النجوم
علم الحساب
علم الطب
علم منطق الطیر
اس کے علاوہ علم لدنی علم الغیب بھی ہے۔


ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کردوں کہ مولا علی علیہ سلام کا فرمان ہے کہ میرے تمام علوم الہی کا زریعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں کیونکہ میں نے دہن رسالت سے یہ سب رزق حاصل کیا۔

مولا علی علیہ سلام کا ان تمام علوم میں ماہر ہونا یا ان علوم کی ابتدا و انتہا کے متعلق بیان چاہے وہ اللہ کا رسول ص ہوں یا اصحاب رسول ص ، چاہے تابعین ہوں یا تبع تابعین دوست ہوں یا دشمن ، اپنے ہوں یا پرائے ، مسلم ہوں یا غیر مسلم ، دوست ہوں یا شاگرد ہر ایک نے کم یا زیادہ ضرور بیان کی ہے۔

اتنے علوم الہی کے ہوتے ہوئے۔

مجھے یہ بات سمجھ نہی آتی کہ
آج عالم اسلام میں مسلمانوں کا صرف اور صرف ’علم فقہ‘ کا اتنا شور و غوں غاں کیوں سنائی دیتا ہے؟

مسلمانوں نے ’علم فقہ‘ پر سر توڑ کوشش کی ہیں اور بہت محنت کی ہے یہاں تک ہر نئے مجتہد نے اس ’علم فقہ‘ کے زریعے مسلمانوں کو ایک نیا فقہ دیا اور اسلام میں ایک نیا مسلک یا نیا فرقہ بن گیا یہاں تک کہ اسلام میں اجتہاد کا دروازہ ہی بند کرنا پڑگیا۔

جب مسلمانوں کو صرف ایک ’علم فقہ‘ سمجھ نہی آیا تو پھر باقی علوم میں تو معلومات نہ ہونے کے برابر ہونگی جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے اور اہل تشیع کے ساتھ ساتھ اہلسنت حضرات بھی جانتے ہیں۔ کہ
علم کے دس حصے ہیں جس میں سے نو حصے مولا علی ع کے پاس ہیں اور دسویں حصے میں بھی مولا علی ع کا حصہ دنیا کے لوگوں کے حصے سے زیادہ ہے۔



بے شک یہ تمام علم اور بھی بہت کچھ ہے جو خدا اپنے بندوں ہی کے زریعے دنیا میں ظاہر کرتا ہے۔ اور وہ بندے وہ ہیں جنھیں شیطان گمراہ نہی کرسکتا۔
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-11-11, 04:54 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شیطان کی چالوں میں سے ایک چال یہ بھی ہے کہ وہ انسان کے ذہن میں یہ سوچ ڈال دیتا ہے کہ "اب شیطان گمراہ نہیں کر سکتا"۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-11-11), بلال الراعی (17-11-11), شمشاد احمد (18-11-11)
پرانا 17-11-11, 05:03 PM   #8
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس کا مطلب یہ کہ پھر وہ بات غلط ہے جس میں شیطان حضرت عمر رض سے بھی ڈرتا تھا
اور یہ بات سنی علماء کی ہر کتاب میں درج ہے۔
---------------
کتب ِاہلسنت میں یہ روایت آئی ہے جس میں سے ایک سنن ترمذی ہے ترمذی لکھتے ہیں:
جناب رسول اکرم [ص] کسی غزوہ کے لئے تشریف لیجانے کے بعد لوٹتے ہیں تو ایک سیاہ عورت رسول اکرم [ص]سے کہتی ہے میں نے نذر کی تھی کہ آپ اگر فاتح [بعض روایت میں سالم ہے یعنی صحیح و سالم ] لوٹ آئے تو میں آپ کے سامنے دف بجاونگی اور گانا گاونگی { غناء کرونگی}
آپ نےکہا اگر نذر کی ہے تو انجام دو ورنہ چھوڑ دو ۔ پس وہ عورت نے دف بجانا شروع کیا اتنے میں ابوبکر آتے ہیں [اور محفل میں شامل ہوجاتے ہیں] اور وہ خاتون اپنا کام جاری رکھتی ہے ] علی[ع] آتے ہیں اور وہ عورت اپنا کام جاری رکھتی ہے ۔
عثمان آتے ہیں اور وہ خاتون اپنا کام جاری رکھتی ہے ۔ لیکن جب عمر داخل ہوتے ہیں تو وہ عورت دف کو اپنے رانوں کے نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ جاتی ہے تب رسول اکرم [ص]فرماتے ہیں {معاذاللہ مترجم }اے عمر تم سے شیطان ڈرتا ہے
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (19-11-11), حیدر (18-11-11)
پرانا 17-11-11, 05:08 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
شیطان کی چالوں میں سے ایک چال یہ بھی ہے کہ وہ انسان کے ذہن میں یہ سوچ ڈال دیتا ہے کہ "اب شیطان گمراہ نہیں کر سکتا"۔
کیا تم نے قران میں وہ ایت نہی پڑھی ؟
جس میں شیطان نے خود کہا کہ تیرے مخلص بندوں کے سوا ہر ایک کو بہکادونگا ۔
شیطان تو خود اقرار کررہا ہے کہ وہ کچھ ہستیوں کے مقابلے پر کبھی بھی نہی آسکتا اور انھیں بہکا نہی سکتا ۔بےشک شیطان جانتا تھا کہ کچھ مقدس ہستیاں ایسی ہیں۔



اور کیا قران میں وہ ایت بھی نہی پڑھی جس میں اللہ نے شیطان سے کہا
کیا تم عالین میں سے ہو ؟ ’’ کیوں ادم کو سجدہ نہی کیا‘‘


عالین کون ہیں ؟
کیا تم جانتے ہو ؟
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (17-11-11), حیدر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 09:29 AM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
اس کا مطلب یہ کہ پھر وہ بات غلط ہے جس میں شیطان حضرت عمر رض سے بھی ڈرتا تھا
اور یہ بات سنی علماء کی ہر کتاب میں درج ہے۔
---------------
ایک بہت مشہور محاورہ ہے ’’مرے پہ سو درُے‘‘
یہ محاورہ مثبت پہلو لیے ہوئے نہی ہے اور بعض اوقات طنز کے طور پر بھی کہا جاتا ہے
اس کے پیچھے ایک حقیقی واقعہ بھی ہے۔ اگر کسی چاہنے والے سے سنو گئے تو بہت اچھی کہانی سنائے گا اور تم اس کو مان بھی لو گئے ۔ ۔ مگر پھر بھی جب کبھی بھی کوئی ایسی بات ہوگئی کہ کوئی محاورہ بولنا پڑے تو یہی محاورہ بولو گئے اور لکھو گئے
یعنی
’’مرے پہ سو درُے‘‘
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-11-11, 01:15 PM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عجیب بات یہ ہے کہ

”اشرف العلوم “علم الھٰیات ہے
اسلامی علوم میں علم فقہ بھی ہے
اسلامی علوم میں تفسیر کا علم بھی ہے
اسلامی علوم میں علم طریقت و حقیقت اور اصول تصوف بھی ہے
علوم عربیہ میں علم نحو بھی ہے
اس کے علاوہ علم القرآت ،علم الفرائض ،
علم الکلام،
علم الخطابت،
علم الفصاحت و بلاغت
علم الشعرا علم العروض و القوافی
علم الادب
علم الکتابت
علم تعبیر خواب
علم الفلسفتہ
علم الہندسہ
علم النجوم
علم الحساب
علم الطب
علم منطق الطیر اس کے علاوہ علم لدنی علم الغیب بھی ہے۔
يہ علم القرآت اور علم منطق الطيركون سا علم ہوتا ہے؟
اس ميں كيا پڑھا اور پڑھايا جاتاہے؟
اور كس طرح سيكھا يا سيكھايا جا سكتا ہے؟
نيز كيا آج كل ان علوم كي درس و تدريس كہيں دنيا ميں ہو رہي ہے يا نہيں؟
كچھ اس كي وضاحت اگر ممكن ہو سكے تو بات سمجھنےميں آساني ہو گي۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 02:48 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
کیا تم نے قران میں وہ ایت نہی پڑھی ؟
جس میں شیطان نے خود کہا کہ تیرے مخلص بندوں کے سوا ہر ایک کو بہکادونگا ۔
شیطان تو خود اقرار کررہا ہے کہ وہ کچھ ہستیوں کے مقابلے پر کبھی بھی نہی آسکتا اور انھیں بہکا نہی سکتا ۔بےشک شیطان جانتا تھا کہ کچھ مقدس ہستیاں ایسی ہیں۔



اور کیا قران میں وہ ایت بھی نہی پڑھی جس میں اللہ نے شیطان سے کہا
کیا تم عالین میں سے ہو ؟ ’’ کیوں ادم کو سجدہ نہی کیا‘‘


عالین کون ہیں ؟
کیا تم جانتے ہو ؟
قرآن ہی بتاتا ہے کہ شیطان کن کو نہیں بہکا سکتا۔ وہ جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ بار بار "اتقو" کہا گیا۔ چناچہ جو لوگ قرآنی احکامات پر عمل کرتے ہیں ، ہر وقت اللہ کے خوف سے لرزتے ہیں انکو شیطان نہیں بہکا سکتا۔ لیکن اگر کوئی اس شبہے میں پڑ گیا کہ "شیطان مجھے نہیں بہکا سکتا" ، تو درحقیقت وہ بہک گیا۔ ایسی باتیں ان کے سامنے کیا کریں جو قرآن نہیں پڑھے ہوئے، محض چند آیتیں رٹ چکے ہیں۔
اللہ مجھے اور سب کو اپنی راہ ہدایت کو سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق دے ۔آمین۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (19-11-11), فیصل ناصر (18-11-11), wajee (18-11-11), بلال الراعی (18-11-11)
پرانا 19-11-11, 03:00 PM   #13
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اگر کوئی اس شبہے میں پڑ گیا کہ "شیطان مجھے نہیں بہکا سکتا" ، تو درحقیقت وہ بہک گیا۔
تمھاری نظر کہاں رک گئی اور کون شبہے میں پڑگیا ہے ؟
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کمال, کتابوں, پاکستان, واقعات, قواعد, نظر, مکمل, مقابلہ, ممکن, مجید, مسائل, مسجد, ایران, اردو, اسلام, اشعار, تعلیم, حدیث, خدا, عورت, عقل, علی, صحابہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فتنہ قادیانیت و مرزائیت کے خلاف حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کی تصنیف سیف چشتیائی ملک اظہر کتاب گھر 10 25-01-12 09:03 PM
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger