حدیث نمبر 2030108
سلم ایک بیع کا نام ہے جس میں مبیع مؤجل اور ثمن معجل ہوتا ہے یعنی خریدی جانیوالی چیز بعد میں لی جاتی ہے اور اس کی قیمت پہلے ہی دی جاتی ہے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ زید نے بکر سے مثلا ایک سو 100 روپے کے عوض دو من گیہوں کی خریداری کا معاملہ کیا بایں طور کہ زید نے بکر کو ایک سو روپے دیدئیے اور اسے طے کر دیا کہ میں اتنی مدت کے بعد اس کے عوض فلاں قسم کے دو من گیہوں تم سے لے لوں گا اس بیع و معاملہ کو عربی میں سلم کہتے ہیں بعض مواقع پر سلف بھی کہا جاتا ہے اپنی زبان میں اسے بدھنی سے موسوم کیا جاتا ہے اس بیع کے مشتری یعنی خریدار کو عربی مسں رب سلم ثمن یعنی قیمت کو رأس المال بیع یعنی بیچنے والے کو مسلم الیہ اور مبیع یعنی خریدی جانیوالی چیز کو مسلم فیہ کہتے ہیں ۔ یہ بیع شرعی طور پر جائز و درست ہے بشرطیکہ اس کی تمام شرائط پائی جائیں اور تمام شرائط کی تعداد سولہ ہے۔
اس طرح کہ چھ شرطوں کا تعلق تو رأس المال یعنی قیمت سے ہے اور
دس شرطوں کا تعلق مسلم فیہ یعنی مبیع سے ہے۔
رأس المال سے متعلق چھ شرطیں یہ ہیں
1) جنس کو بیان کرنا یعنی یہ واضح کر دینا کہ یہ درہم ہیں یا دینار ہیں یا اشرفیاں ہیں اور یا روپے ہیں۔
2) نوع کو بیان کر دینا یعنی یہ واضح کر دینا کہ یہ روپے چاندی کے ہیں یا گلٹ کے ہیں یا نوٹ ہیں-
3) صفت کو بیان کرنا یعنی یہ واضح کر دینا کہ روپے کھرے ہیں یا کھوٹے ہیں -
4) مقدار کو بیان کر دینا یعنی یہ واضح کر دینا کہ یہ روپے سو ہیں یا دو سو ہیں -
5) روپے نقد دینا وعدہ پر نہ رکھنا -
6) اور جس مجلس میں معاملہ طے ہو اس مجلس میں بیچنے والے کا رأس المال پر قبضہ کر لیناـ
مسلم فیہ سے متعلق دس شرطیں یہ ہیں
1) جنس کو بیان کرنا مثلا یہ واضح کر دینا کہ مسلم فیہ گیہوں ہے یا جو ہے اور یا چنا ہے۔
2) نوع کو بیان کر دینا یعنی یہ واضح کر دینا کہ گیہوں فلاں قسم یا فلاں جگہ کے ہیں۔
3) صفت کو بیان کرنا یعنی یہ واضح کر دینا کہ مثلا گیہوں اچھے ہیں یا خراب۔
4) مسلم کی مقدارکو بیان کر دینا کہ مثلا ایک من ہیں یا دو من ہیں۔
5) مسلم فیہ کا وزنی یا کیلی یا ذرعی یا عددی ہونا تاکہ امن کا تعین واندازہ کیا جا سکے-
6) مدت کو بیان کرنا یعنی یہ واضح کر دینا کہ یہ چیز اتنی مدت کے بعد مثلا ایک مہینہ یا دو مہینہ میں یا چار مہینے میں لیں گے لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ کم سے کم مدت ایک مہینہ ہونی چاہئیے۔
7) مسلم فیہ کا موقوف و معدوم نہ ہونا یعنی یہ ضروری ہے کہ مسلم فیہ عقد کے وقت سے ادائیگی کے وقت تک بازار میں برابر مل سکے تاکہ معدوم کی بیع لازم نہ آئے۔
8 ) بیع سلم کا معاملہ بغیر شرط خیار کے طے ہونا یعنی اس بیع میں خیار بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کر دینے کے اختیار کی شرط نہیں ہونی چاہئے -
9) اگر مسلم فیہ ایسی وزن دار چیز ہے جس کی بار برداری دینا پڑے تو اس کے دینے کی جگہ کو متعین کرنا یعنی یہ واضح کر دینا کہ میں یہ چیز فلاں جگہ یا فلاں مقام پر دوں گا۔
10) مسلم فیہ کا ایسی چیز ہونا جو جنس نوع اور صفت بیان کرنے سے متعین و معلوم ہو جاتی ہو جو چیز ایسی ہو کہ جنس نوع اور صفت بیان کرنے سے معلوم و متعین نہ ہوتی ہو جیسے حیوان یا بعض قسم کے کپڑے تو اس میں بیع سلم جائز نہیں۔
حوالہ حدیث