واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


بین الاقوامی صیہونیت اور فری میسن تنظیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-02-12, 03:14 PM   #1
بین الاقوامی صیہونیت اور فری میسن تنظیم
پاکستانی پاکستانی آف لائن ہے 05-02-12, 03:14 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فری میسن ایک بین الاقوامی یہودی تنظیم ہے۔ ہر ملک میںا س کے مراکز ہیں۔ جو لاج کہلاتے ہیں۔ اس کی رکنیت کے کئی مدارج ہیں جو ڈگری کہلاتے ہیں۔ ہر ڈگری کی رکنیت کے لئے کچھ شرائط ہیں اور ہر ڈگری کا رکن صرف اپنے برابر کی ڈگری والوں سے ربط ضبط رکھ سکتا ہے۔ اس درجہ بندی پر اس قدر سختی سے عمل کیا جاتا ہے کہ ایک ڈگری کا رکن دوسری ڈگری کے رکن کے رکن کے مقاصد اور خفیہ منصوبوں سے کسی طرح آگاہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اونچے درجے کے اراکین کے مقاصد دوسرے اراکین سے، خواہ ان کی پوری زندگی فری میسن تنظیم کے رکن کی حیثیت میں گزری ہو انتہائی خفیہ اور رازداری میں رکھے جاتے ہیں۔

اس تنظیم کا طریقہ کار اتنا خفیہ ہے کہ اس کے بارے میں معلوم کر لینا تقریباً ناممکن ہے۔ لاجوں کی روئدادیں غیر معمولی طور پر خفیہ اور انتہائی رازداری میں رکھی جاتی ہیں اور ان کے ارکین کے علاوہ کسی اور کو اس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔

بہت چھان بین کرنے کے بعد مختلف ذرائع سے جو معلومات حاصل کر کے یکجا کی جا سکی ہیں ان کے مطابق لاج کے اراکین ایک دوسرے سے خفیہ کوڈمیں بات چیت کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو اپنے خفیہ اشاروں اور الفاظ کے ذریعہ پہچانتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اپنی برادری کے اراکین کے دروازوں پر دقل باب کرنے کا بھی ان کاایک مخصوص انداز ہے اور یہ دنیا کے کسی حصے میں بھی چلے جائیں ایک دوسرے کو بہ آسانی شناخت کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی فری میسن بیرون ملک سفر کرے تو اسے اپنے آدمی پہچاننے کے لئے کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سوشل اجتماعات جلسوں یا تقریبات میں، مختلف ملکوں میں بھی یہ لوگ ایک دوسرے کو بغیر کسی دشواری اور بغیر کوئی لفظ منہ سے نکالے صرف اپنے ہاتھ یا جسم کے خفیہ اشاروں کی زبان سے پہچان جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا ایک عام اشارہ مثلث کا نشان ہے جسے آنکھ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی اجنبی ماحول میں، کوئی فری میسن یہ معلوم کرنا چاہے کہ وہاں اس کی برادری کے اور کتنے افراد وہاں موج ہیں تو وہ صرف اپنے کوٹ یا واسکٹ کے بٹنوں کے درمیان رکھ کر ایک طرف اپنی انگلیوں سے مثلث بنائے اور دوسری طرف اپنے کوٹ کے دامن پر ایسا ہی مثلث بنائے تو برادری کے تمام اراکین جو اس جگہ موجود ہوں گے اسے فورًا شناخت کر لیں گے اور انہیں کوئی لفظ منہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

فری میسن عام طور پر ملک کے افسران کو اپنا رکن بناتے ہیں یا غیر ملکی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان او رعہدیداروں کو۔ رکن بننے ک ےلئے کسی خاص رنگ، مذہب، نسل یا قومیت کی قید نہیں ہے بلکہ اس ملک کے شہریوں کو رکن بنانے کی ہمت افزائی کی جاتی ہے اور اس کے بعد منصوبے کے مطابق انہیں اپنے ڈھب پر لایا جاتا ہے۔

ان لوگوں کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ انہیں یہ پتا بھی نہیں چلتا کہ انہیں کس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ برادری کے اراکین کی درمیان زبردست جذبہ محبت اور ہمدردی پیدا کر دیاجاتا ہے۔ محض لاج کی رکنیت کسی سرکاری افسر کے لئے اس کا حقدار بنادیتی ہے کہ اسے دوسرے افسران کی مقابلے میں جلدی ترقی ملے۔

یہ عین ممکن ہے کہ لاج کے اراکین میں صرف ایک آدھ یہودی ہو یا ممکن ہے کہ اس میں ایک بھی یہودی نہ ہو لیکن اس کی تنظیم اس طرز پر کی گئی ہے کہ یہ بالآخر عالمی صیہونیت کے مقاصد کی خدمت کرتی ہے

یہ تنظیم سب سے پہلے ۷۱۷۱ءمیں انگلستان میں قائم کی گئی تھی۔ بعد میں اس تنظیم کی چار انجمنوں (لاجوں) کا ایک گرینڈ لاج میں اتضمام کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی خفیہ اشاروں کا نیا نظام شروع کیا گیا۔ لندن کی گرینڈ لاج برطانیہ کی دوسری شاخوں کی سربراہ مقرر کی گئی۔

آئندہ صفحات میں صیہونیت کے دانا بزرگوں کی دستاویزات کے مطالعہ سے معلوم ہو گا کہ جہاں تک فری میسن کے ایک کام کی نوعیت کا تعلق ہے اس تنظیم کی قیادت صرف اور صرف یہودی ہاتھوں میں ہے۔

یہ دستاویزات بہت سے حقائق پر سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس خطرناک تنظیم کی جڑیں سرطان کی طرح ملکوں کی انتظامیہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ جس کا اندازہ لگایا ہی نہیں جا سکتا۔

عام طور پر لوگ اسے ایک عام سا کلب سمجھ کر اس کے رکن بن جاتے ہیں ۔ شروع شروع میں اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اس کا شبہ بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کن مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا ان کی نیک نیتی ی وفاداری پر کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر حبیب الرحمن (الٰہی) علوی اپنی کتاب ”جادو کی حقیقت“ میں فری میسن تنظیم پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

”اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کچھ شیاطین بھی کئے تھے۔ یہودیوں نے تورات میں جہاں بیشمار معنوی اور لفظی تحریفیں کی ہیں وہاں ان بدبختوں نے حضرت سلیمان کو جادوگر لکھ کر شیطان کو تابع بنانے کا جواز بھی پیدا کر لیا ہے اور اس عقیدے کی بنا پر دنیا بھر میں فری میسن کا جال پھیلا رکھا ہے۔ فری میسن لاج کو اسی بنا پر ”جادوگر“ بھی کہتے ہیں۔

یہودیوں کی اس تنظیم کا اصل مقصد مختلف ممالک میں سازش اور جاسوسی کرانا ہے۔ اور مشہور یہ کیا جاتا ہے کہ یہ سماجی اور تفریحی کلب ہےں اور اس کے ممبر آپس میں ایک دوسرے کی بے انتہاءمدد اور خیال کرتے ہیں۔ اور یہ بات کسی کے اس تنظیم کا ممبر بننے کے لئے اپنے اندر بہت بڑی کشش رکھتی ہے۔ خصوصًا جب کہ بادشاہ، نواب، راجے مہاراجے، اعلیٰ فوجی اور شہری حکام کے پائے کے لوگ بھی اس کے رکن ہوں۔ معاشرے کے یہی لوگ اپنے اپنے ملکوں کے اہم رازوں سے واقف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کے جارج پنجم (SUPREEM & GRAND WORSHIPFUL MASTER) تھے۔ افغانستان کے امیر حبیب اللہ خاں GRAND WORSHIPFUL MASTER)) تھے۔ مہاراجہ پٹیالہ اور نواب رام پور سر رضا علی خاں وغیرہ بھی اپنے اپنے لاجوں کے گرینڈ ورشپ فل ماسٹر رہے۔ لاج کی ممبروں کو شراب کے استعمال کی طرف خاص طور سے مائل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ نشہ کی حالت میں بے تکلفی پیدا کر کے ہی راز اگلوائے جا سکتے ہیں۔

اس تنظیم کے عہدے دار اور ا علیٰ درجے کے ارکان کو (WORSHIPFUL MASTER) پرستش کے قابل آقا اور GRAND WORSHIPFUL MASTER)) عظیم پرستش کے قابل آقا وغیرہ عام اور زبان زد الفاظ کی وجہ سے نئے رکن کو جادو سیکھتے وقت شیطان کی پوجا کرنے میں کراہیت محسوس نہیں ہوتی۔ مختلف (TESTS) آزمائشوں سے گزرنے کے بعد جب کسی شخص کو لاج کا مستقل ممبر بناتے ہیں تو کسی شیطان ہمزاد کو اس کا تابع کیا جاتا ہے۔ (اس طریقہ کار کا جادو سیکھنے کے باب میں بیان ہوا ہے)۔ ہمزاد کو تابع کرتے وقت صرف یہی ایک کام اس کے سپرد کیا جاتا ہے کہ وہ اس رکن کی نگرانی کرنے کے لئے ہم وقت مسلط رہے گا کہ وہ لاج کا کوئی راز افشا نہ کرنے پائے۔ فری میسن تاحیات اس شیطان سے نجات نہیں پا سکتا چاہے وہ کتنا ہی کہے کہ اب وہ فری میسن نہیں رہا“۔ (جادو کی حقیقت صفحہ ۹۸ تا ۱۹)۔

پاکستان میں فری میسنری پر قانونی پابندی لگا کر اس کی لاجیں بند کر دی گئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے اراکین کہاں گئے؟ وہ اب بھی بالکل اسی طرح نہ صرف تاحیات اس کے رکن رہنے پر مجبور ہیں بلکہ نئی رکن سازی کا عمل بھی اسی طرح جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فرمیسن لاجیں بند کر دی گئی ہیں اور اب یہ کام زیر زمین ہو رہاہی۔ دستاویزات میں ان کے طریقہ کار پر بھی تھوڑی سی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بین الاقوامی صیہونیت اور اقوام متحدہ

صہونیوں کے دانا بزرگوں کی دستاویزات میں جگہ جگہ ایک سپر گورنمنٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً چھٹی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ”ہمیں ہر ممکنہ ذریعہ سے ایک ایسی سپر گورنمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے جو رضاکارانہ طور پر اطاعت قبول کرنے والوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت دے سکے“۔

وکٹر ۔ ای۔ مارسڈن (جس نے ان دستاویزات کا ترجمہ روسی زبان سے انگریزی میں کیا) نے ا ن دستاویزات کے تعارف میں اقوامِ متحدہ کو اسی سپر گورنمنٹ کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے۔

اس منصوبے کو بروئے کار لاتے ہوئے اول لیگ آف نیشنز قائم کی گئی اور بعد میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس پس منظر میں اقوام متحدہ پر یہودیوں کے تسلط کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے دس انتہائی اہم اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر ۳۷ یہودی فائز ہیں۔ اقوام متحدہ کے صرف نیویارک کے دفترمیں بائیس شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں اور یہ سب کے سب انتہائی حساس شعبے ہیں جو اس بین الاقوامی تنظیم کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یونیسکو (UNESCO) میں نو شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں۔ آئی ۔ ایل ۔ او (I.L.O) کی تین شاخیں یہودی افسران کی تحویل میں ہیں۔ ایف ۔ اے ۔ او (F.A.O) کے گیارہ شعبوں کی سربراہی یہودیوں کے پاس ہے۔ عالمی بینک (WORLD BANK) میں چھ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (I.M.F) میں نو شعبوں کے سربراہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق یہودیوں کی عالمی تنظیم سے ہے۔ یہ تمام عہدے جویہودیوں کے پاس ہیں انتہائی اہم اور حساس ہیں اور یہ لوگ ان کے ذریعہ تمام بین الاقوامی امور پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار یہودی اور ان کے گماشتے ہر ہر شعبے میں موجود ہیں۔ ذرا اندازہ لگائےے کہ اگر یہ افراد کسی مرکزی تنظیم کے زیر اثر کام کر رہے ہوں تو وہ عالمی سیاسیات، معاشیات اور مالیات کا رخ جس سمت چاہیں موڑ سکتے ہیں اور بعینہ یہی وہ کام ہے جو وہ سر ا نجام دے رہے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو یہ معلوم ہو کر حیرت ہو کی کہ دنیا کے تمام ممالک میں یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ بہت سے ملکوں میںانہیں اپنی علیحدہ کوئی تنظیم قائم کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی چونکہ ان کے اپنے آدمی خفیہ طور پر ان ملکوں میں اہم مناسب پر تعینات کروائے جا چکے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ ہر کام کروا سکتے ہیں جس کی انہیں ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر بدنام زمانہ سی۔ آئی۔ اے (C.I.A) ان کے انگوٹھے کے نیچے ہے جسے براہِ راست اسرائیل سے ہدایات ملتی ہیں۔

صیہونی دانا بزرگوں کی دستاویزات

تعارف

(۴۸ویں انگریزی اشاعت (سنہ ۸۶۹۱ئ) سے ماخوذ)

صیہونی دانا بزرگوں کی دستاویزات کو مختصراً ساری دنیا پر ایک خفیہ برادری کے تسلط کا خاکہ کہا جا سکتا ہے۔ ان کی تالیف کی حقیقت خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، ان کے شائع ہونے کے بعد ان دستاویزات پر شدید بحثوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اس میں بہرحال کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عالمی معاشرہ جس کا قیام ان دستاویزات کا نصب العین ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ساری دنیا کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا جائے۔

وہ کتاب جس کے ذریعہ یہ دستاویزات سب سے پہلے منظر عام پر آئیں۔ پروفیسر سرجی نائلس (SERGEI A. NILUS) نے ۵۰۹۱ءمیں روس میں شائع کی تھی۔ اس کتاب کا ایک نسخہ ۰۱ اگست سنہ ۶۰۹۱ءکو برٹش میوزم میں موصول ہوا۔ پروفیسر نائلس کا اس کتاب کو چھاپنے کامقصد یہ تھا کہ اس بھیانک سازش کو بے نقاب کیا جائے جو نصرانی کا اس کتاب کو چھاپنے کا مقصد یہ تھا کہ اس بھیانک سازش کو بے نقاب کیا جائے جو نصرانی تہذیب کوتباہ کرنے کے لئے تیار کی گئی تھی۔

اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اگست اور ستمبر ۳۰۹۱ءمیں روسی اخبار سنامیا (SNAMIA) یہ دستاویزات شائع کر چکا تھا اور غالباً ۲۰۹۱ءاور ۳۰۹۱ءکی خزاں میں بھی یہ دستاویزات ایک اور روسی اخبار (MOSKOWSKIJA WINDOMODTI) میں شائع ہوئی تھیں۔ روس کے باہر کی دنیا کو ان کا علم اس وقت ہوا جب بالشویک انقلاب کے بعد روسی تارکین وطن نائلس کی کتاب اپنے ساتھ شمالی امریکہ اور جرمنی لائے۔

کتاب کی اشاعت کے وقت تو اس کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی تھی لیکن جب بالشویک دور میں واقعات اسی طرح پیش آتے گئے جیسے کہ اس کتاب میں پیش گوئی کی گئی تھی تو یہ دستاویزات جو اب تک بالکل غیر اہم اور معمولی سمجھی جا رہی تھیں یکایک ساری دنیا میں اہمیت اختیار کر گئیں۔ بالشویک روس میں کسی کے پاس ان دستاویزات کی محض موجودگی کی سزا موت مقرر کی گئی اور یہ قانون نہ صرف روس بلکہ روس کے حواری ملکوں میں آج تک موجود ہے۔ آہنی پردے کے باہر جنوبی افریقہ میں بھی ان دستاویزات کا ا پنے پاس رکھنا (گو اس کی سزا اتنی سخت نہیں ہے) قابل سزا جرم ہے۔

ان دستاویزات کی بڑھتی ہوئی شہرت کی وجہ سے انہیں جعلی ثابت کرنے کی بےشمار کوششیں کی گئیں لیکن ۳۳۹۱ءمیں جب تک یہودیوں نے قانونی چارہ جوئی نہیں کی یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ ۶۲ جون ۳۲۹۱ءکو سوئٹزر لینڈ کی یہودی انجمنوں نے وفاق اور برن کی یہودی آبادی نے سوئس نیشنل فرنٹ کے پانچ اراکین پر مقدمہ دائر کر دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ ان دستاویزات کو جعلی قرار دے کر ان کی اشاعت پرپابندی لگائی جائے۔ عدالت کی روداد غیر معمولی طور پر حیران کن ثابت ہوئی۔ اس میں سوئٹزر لینڈ کے دیوانی قوانین کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر دیا گیا۔ مدعیوں کے بلائے ہوئے چالیس گواہوں میں سے صرف ایک کو پیش ہونے کی اجازت مل سکی۔ جج نے بجائے اس کے کہ قانون کے مطابق عدالت کے مختصر نویس یہ کام کرتے، مدعیوں کواس بات کی اجازت دی کہ وہ نجی طور پر اپنے دو مختصر نویس عدالت میں لا کر ان کے اپنے گواہوں کی شہادت کی دوران عدالت کی کاروائی قلم بند کر سکتے ہیں۔

اس طرح کی اورا س کے علاوہ اور دوسری بدعنوانیوں کے پیش نظر یہ بات تعجب خیز نہیں کہ دو سال تک مقدمہ چلنے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ یہ صادر کیا کہ یہ دستاویزات جعلی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ یہ فیصلہ ۴۱ مئی ۴۳۹۱ءکو سنایا کیا لیکن فیصلہ صادر ہونے سے قبل ہی یہودی پریس اسے باقائدہ شائع کر چکا تھا۔

یکم نومبر ۷۳۹۱ءکو سوئس فوجداری عدالت نے مدعیوں کی اپیل پر اس فیصلے کو یکسر پلٹ دیا لیکن یودی آج تک اسی فیصلے کا ڈھنڈورا پیٹے جا رہے ہیں کہ عدالت نے ان دستاویزات کو جعلی قرار دیا تھا۔ ان دستاویزات کی تشہیر کی وجہ سے چونکہ یہودیوں کے دوسرے منصوبے بھی عوامی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے تھے اس لئے قدرتی طور پر ان کی یہی کوشش رہی کہ ان دستاویزات کو جعلی ہی سمجھا جاتا رہے۔

ڈسرائیلی (وزیر اعظم برطانیہ) کی کتاب ”دی لائف آف جارج بئنک“ میں جو ۲۵۸۱ءمیں لکھی گئی تھی، مندرجہ ذیل حوالہ محل نظر ہے۔

”یورپ کو ت باہ کرنے کی پچھلی سازش میں یہودی ہاتھ واضح طور پر کارفرما نظر آتا ہے۔ یہ بغاوت، روایت، اشرافیت، مذہب اور حق ملکیت کی خلاف تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سامی تہذیب کے تمام نقوش کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے خواہ وہ موسوی شریعت کی شکل میں ہوں یا عیسیٰ کی۔ خفیہ تنظیمیں، مساوات کے نام پر انفرادی حق ملکیت کے خلاف اعلانِ جنگ کر رہی ہیں۔ ان تمام خ فیہ تنظیموں کے اوپر ایک یہودی النسل سربراہ بیٹھا ہوا ہے۔ خدا کو ماننے والے بے دینوں سے تعاون کر رہے ہیں۔ جن لوگوں نے انتہائی عیاری سے دولیت سمیٹی ہے اور جائیدادیں بنائی ہیں وہ اشتمالیوں (کمیونسٹوں) کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ قوم جو اپنے آپ کو خدا کی افضل ترین امت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے یوروپ کی پست ترین اقوام کے ساتھ شیر و شکر ہو رہی ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ وہ اس احسان فراموش نصرانی دنیا کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جس کا نام تک انہی کا دیا ہوا ہے اور جن کے مظالم وہ اب مزید برداشت نہیں کر سکتے“۔

میکس نوردو (MAX NORDAU) نامی ایک یہودی نے اگست ۳۰۹۱ءمیں باسل (BASLE) میں صیہونی کانگریس میں تقریر کرتے ہوئے یہ حیرت انگیز پیش گوئی کی تھی:

”مجھے یہ الفاظ کہنے کی اجازت دیجئے کہ میں آپ کو وہ زینہ دکھ١وں جس کی سیڑھیاں صرف اوپر کی طرف اٹھتی چلی جا رہی ہیں۔ ہرٹزل صیہونی کانگریس منعقد ہو چکی ہے۔ اب برطانوی یوگنڈا کی تجویز پیش کی جائے گی، پھر جنگ عظیم ہو گی۔ اس کے بعد امن کانفرنس ہو کی جس میں انگلستان کی مدد سے فلسطین میں ایک آزاد یہودی ریاست وجود میں آئے گی“۔

والٹر ریتھنو (WALTER RETHENAU) یہودی بینکار جو قیصر جرمنی کا پشت پناہ تھا اس کا ایک جرمن اخبار (WEINER FREI PRDSSE) میں ۴۲ دسمبر ۲۱۹۱ءمیں یہ بیان شائع ہوا۔

”صرف تین سو افراد جن میں سے ہر ایک باقی دوسروں سے بخوبی واقف ہے، یوروپ کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ اپنے جانشینوں کا انتخاب اپنے ساتھیوں میں سے کرتے ہیں“۔

ریتھنو کے اس قول کی تصدیق بیس سال بعد ۱۳۹۱ءمیں اس وقت ہوئی جب ژاں ازولے (JEAN IZOULET) نے جو عالمی اسرائیلی اتحاد (ISRAELITE UNINERSELLE ALLIANCE) کا ایک سر گرم رکن تھا۔ اپنی کتاب ”پیرس، مذاہب کا پایہ تخت“ (PARISLA CAPITAL DES RELIGIONS) میں یہ لکھا

”پچھلی صدی کی تاریخ کا ماحصل یہ ہے کہ تین سو یہودی سرمایہ کار جو فرامشن (FREE MASON) لاجوں کے ماسٹر ہیں، ساری دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں“۔

لندن کے ایک یہودی اخبار جیوش کرانیکل (JEWISH CHRONICAL) نے اپنی ۴ اپریل ۹۱۹۱ءکی اشاعت میں لکھا کہ :

بالشویک تحریک حقیقت میں کچھ اور ہے ورنہ اتنے یہودی اس تحریک سے کیوں منسلک ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ بالشویک تحریک کے مقاصد وہی ہیں جو صیہونیت کے ہیں“۔

۵۱ مارچ ۳۲۹۱ءکے شمارے میں جیوش ورلڈ نے لکھا کہ:

”بنیادی طور پر صیہونیت نصاریٰ دشمنی کا نام ہے یہ اور اس قسم کے دوسرے انکشافات جو یہودی حوالوں سے منظر عام پر آئے، یہودی نقطئہ نظر سے کافی ضرر رساں ثابت ہوئے۔ اگر ان تجریروں کو صیہونی دستاویزات کی روشنی میں، جن سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ واقف ہوتے جا رہے ہیں، دیکھا جائے تو ایک بڑی بھیانک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے“۔

ان لوگوں کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے جنہیں نصرانی تہذیب پر بڑھتے ہوئے حملوں سے تشویش ہو رہی تھی، ہنری فورڈ سینئر (فورڈ موٹر کمپنی کے بانی) نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اختصار سے بیان کیا ہے۔

۷۱ فروری ۱۲۹۱ءکو انہوں نے نیویارک کے اخبار ”ورلڈ“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا :

”ان دستاویزات کے بارے میں، میں صرف ایک بیان دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ واقعات بجنسہ اسی طرح رونما ہو رہے یہں جیسی کہ ان دستاویزات میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ یہ دستاویزات سولہ سال پرانی ہیں اور اب تک واقعات من وعن اسی طرح رونما ہوئے ہیں جیسی ان دستاویزات میںمنصوبہ بندی کی گئی تھی۔ آج کے حالات بھی ان کے عین مطابق ہیں“۔

دوسرے لوگ جنہیں ہنری فورڈ کی طرح اس امر کا ادراک ہوا کہ نائلس کی کتاب کے شائع ہونے کے بعد سولہ سال کے اندر ہی رونما ہونے والے واقعات نے، ان دستاویزات کی اہمیت کی تصدیق کر دی، انہوں نے بھی اس زمانے میں بالشویک تحریک کے اثرات کا جائزہ لیا تھا لیکن ان میں سے صرف چند افراد ہی اس خطرے کی بو سونگھ سکے ہوں گے کہ یہ تحریک بین الاقوامی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ اب جب کہ نائلس کی کتاب میں ان ستاویزات کی اشاعت کو نصف صدی گزر چکی ہے، ان حضرات پر جو عالمی کوائف کا معروضی معاہدہ کرتے رہے ہیں، یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہو گی کہ یہ خطرہ کتنا حقیقی تھا۔

ان دستاویزات میں جگہ جگہ ایک ”سپر گورنمنٹ“کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر چھٹی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ:

”ہمیں ہر ممکنہ ذریعہ سے ایک ایسی ”سپر گورنمنٹ“ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے جو رضا کارانہ طور پر اطاعت قبول کرنے والوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت دے سکے“۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا قیام بعینہ اسی رضاکارنہ اطاعت کے اصول کے تحت عمل میں لایا گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے ذیلی ا دارے مثلاً یونیسکو، آئی۔ ایل۔ او، ڈبلیو۔ ایچ۔ او، ایف۔ اے۔ او، اور انسانی حقوق کا کمیشن وغیرہ قائم کئے گئے۔

پچھلے چند سالوں میں ایک اور بین الاقوامی تنظیم جو خود کو پارلیمانی تنظیم برائے عالمی حکومت کہلواتی ہے، قائم کی گئی ہے۔ اس تنظیم کے بھی وہی اغراض و مقاصد ہیں جو اس جیسی دوسری عالمی تنظیموں کے ہیں۔ یہ ادارہ برملا اعلان کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور میں معمولی رد وبدل کے بعد اسے فوری طور پر ایک عالمی حکومت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

کافی عرصے سے ایک عالمی پولیس فورس قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر یہ قائم ہو گئی تو اقوام متحدہ کی سپر گورنمنٹ انتہائی طاقتور پولیس فورس کے ذریعہ ساری دنیا پر اقتدار قائم کر سکے گی۔

۰۵۹۱ءکے عشرے کے آخری سالوں میں یہ پولیس فورس تقریباً قائم ہوتے ہوتے رہ گئی۔ ۶۵۹۱ءکے نہر سوئز کے بحران کے بعد اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس کا قیام دراصل ایک تجرباتی منصوبہ تھا۔

اگر اقوام متحدہ کے منشور میں معمولی رد وبدل کے بعد اسے ایک سپر گورنمنٹ بنا دیا جائے تو اس کے ذیلی ادارے خودبخود وزارتِ تعلیم، وزارتِ محنت، وزارتِ صحت، وزارتِ انصاف اور وزارتِ خوراک بن جائیں گے۔

کیا یہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے کہ ان تمام امور کی ان صیہونی دستاویزات میں منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس وقت صرف ایک مکمل عالمی سپر گورنمنٹ کا ہی خطرہ یا فوری خطرہ نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مشرقی یوروپ کے ممالک کو روس کے تسلط میں لایا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی مغربی یوروپ کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں۔ کیسا جیسا کہ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے، انہیں آزاد ممالک کی صف میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ اصل میں اس کا حقیقت سے دُور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ مغربی ممالک بھی، مشرقی یوروپ کے ملکوں کی طرح کمیونزم کے باڑے میں ہانکے جا رہے ہیں او رعام طور پر یہ سب کچھ ان ملکوں کو کمیونزم سے بچانے کے نام پر کیا جا رہا ہے کہ ان ممالک کو کمیونزم سے بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ ۷۵۹۱ءکے اواخر میں یہ عمل کافی کامیابی کے ساتھ چلایا گیااور اس کا نام انحصار باہمی (INTERDEPENDENCE) کی پالیسی رکھا گیا۔

مغربی ممالک کو سیاسی، عسکری اور معاشی سطح پر بین الاقوامی تسلط میں لایا جا رہا ہے اور اسی طرح سماجی معاملات میں بھی انہیں تیزی کے ساتھ بین الاقوامیت کے زیراثر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ اپنی قومی خود مختاری قربان کر کے ہی وہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ قومی اسمبلیوں کی جگہ یوروپین اسمبلی کو یا اطلانتک کونسل کو لے لینی چاہئے۔ ملکوں کی عسکری قوت کو ناٹو، بغداد پیکٹ یا سیٹو جیسے اداروں میں ضم ہو جانا چاہئےے۔ یہ اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ کسی ملک کا بھی اپنی دفاعی قوت پر اقتدار باقی نہ رہ سکے۔ اسی طرح قومی معیشتیں بھی آرگنائزیشن آف یوروپین کمیونٹی (OEEC) یوروپین پی منٹس یونین (EPU) اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی دست نگر کر دی جائیں تاکہ کوئی ملک بھی معاشی طور پر خود مختار نہ رہ سکی۔ ثقافتی سطح پر بھی قوموں کی تہذیبی انفرادیت کا خاتمہ ضروری سمجھا گیا۔ مثال کے طور پر کامن مارکٹ کے تحت وہ معاہدہ جو یوروپ کے چھ ملکوں کو معاشی طور پر منسلک کرتا ہے، اس میں ایک شق یہ بھی ہے کہ یہ ممالک ثقافتی ہم آہنگی کی پالیسی پر عمل کرےں گے۔ یوروپ کے دوسرے ممالک کو بھی بشمول برطانیہ، فری ٹریڈ ایریا میں شامل کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔

۴۳۹۱ءمیں برطانیہ کی لیبر پارٹی کے لیڈر (کلیمنٹ ایٹلی) نے جب پارٹی کی سالانہ کانفرنس کو بتایا تھا کہ ”ہم دانستہ طور پر اپنی وفاداری اپنے ملک کی بجائے ایک عالمی تنظیم کو منتقل کر رہے ہیں تو بیشتر لوگوں نے بڑے بُرے بُرے منہ بنائے تھے۔

تئیس سال کا مستقل پروپیگنڈا بہرحال اپنا رنگ لائے بغیر نہ رہ سکا اور جب 1957ءمیں برطانیہ کے ایک قدامت پسند (CONSERVATIVE) وزیر اعظم نے برطانوی عوام کو بتایا کہ انہیں اپنی خودمختاری کی تھوڑی سی قربانی ایک نامعلوم بین الاقوامی ٹولے کو دینی پڑے گی تو اس وقت احتجاج کی ایک آواز بھی نہ اٹھ سکی۔ ۷۵۹۱ءکے اختتام پر برطانوی حکومت نے ایک ایسے منصوبے کا سرکاری اعلان کیا جس کی پیش گوئی ساٹھ سال قبل صیہونی دستاویزات میں کی گئی تھی۔ ارل آف گاسفورڈ، جوائنٹ پارلیمنٹری انڈر سکریٹری آف اسٹیٹ برائے امور خارجہ نے ۷ نومبر 1958ءکو برطانیہ کے دارالامرا میں اعلان کیا:

”مکہ معظمہ کی حکومت عالمی حکومت کے قیام کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ہم اسے اپنی منزلِ مقصود تصور کرتے ہیں اور اس منزل پر پہنچنے کے لئے، ہر امکانی کوشش جو ہمارے بس میں ہے، کریں گے“۔

ساری دنیا۔ فیڈریشن، اتحاد، علاقائیت اور باہمی انحصار کی طرف جا رہی ہے۔ ان تمام منصوبوں کے بارے میں صیہونی دستاویزات میں جو ،سرجی نائلس نے نصف صدی پہلے اپنی کتاب میںشائع کی تھیں، پیش گوئی موجود ہے۔

آج ان کے متعلق ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ جعلی ہیں۔ کیا یہ سب اتفاقی حادثات ہو سکتے ہیں؟ کیا کسی جعلساز کے لئے اتنی بیش بینی ممکن تھی؟ یا ایسا ہے کہ یہ دستاویزات اس سازش کا خاکہ ہیں جس کی متعلق نائلس اور دوسرے لوگوں کو یقین تھا کہ یہ نصرانی تہذیب کو تباہ و برباد کر کے ساری دنیا پر ایک چھوٹے سے مخصوص ٹولے کی حکمرانی اور تسلط قائم کرنے کے لئے تیار کی گئی ہیں۔

وضاحتیں

۱۔ ایجنٹر (AGENTUR)اور پولیٹیکل۔

انگریزی ترجمے میں دو ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن کے معنی غیر معروف ہیں۔ ایجنتر اور پولیٹیکل کے الفاظ دراصل اسم ذات کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ ایجنٹر غالباً اصل مسودہ سے لیا گیا ہے اور اس سے مراد گماشتوں کی وہ پوری تنظیم ہے جو صیہونی دانا بزرگوں کے لئے کام کرتی ہے خواہ وہ اس گروہ کی رکن ہوں یا اس کے سربراہ ہوں۔ پولیٹیکل کے معنی مسٹر مارسڈن (انگریزی مترجم) کے خیال میں سیاسی ادارہ نہیں بلکہ سیاست کی پوری مشینری ہے۔

۲۔ سانپ۔ صیہونیت کا علامتی نشان۔

تیسری دستاویز صیہونیت کے علامتی نشان کے حوالے سے شروع ہوتی ہے۔ نائلس نے ان دستاویزات کی ۵۰۹۱ءکی اشاعت کی آخری صفحات میں اس علامتی نشان کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:

”صیہونیت کے خفیہ تاریخی شواہد کے مطابق حضرت سلیمان اور دوسرے یہودی بزرگوں نے ۹۲۹ قبل مسیح میں ہی تسخیر عالم کا ایک تصوراتی خاکہ مرتب کر لیاتھا۔ جوں جوں تاریخ کے اوراق پلٹتے گئے، اس منصوبے کی جزئیات واضح ہوتی گئیں اور آئندہ آنے والی نسلوں میں سے ان لوگوں نے جنہیں، ان رازوں میں شریک کیا گیا تھا اس منصوبے کے خدوخال واضح کر کے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ان دان١وں نے سانپ کی روایتی عیاری اور مکاری کے ساتھ پرامن ذرائع استعمال کرتے ہوئے ساری دنیا پر صیہونی تسلط کا منصوبہ بنایا۔ اس روایتی سانپ کا سر وہ افراد ہیں جوصیہونی تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں اوراس کا جسم پوری یہودی قوم ہے۔ اس تنظیم کوہمیشہ سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہاں تک کہ عام یہودیوں کو بھی اس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ جب یہ سانپ کسی قوم کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس ملک کی تمام غیر یہودی قوتوں کو اپنی گرفت میں لے کر نگل جاتا ہے۔ پیش گوئی یہ ہے کہ سانپ اس منصوبے کی جزئیات کے عین مطابق اپنا کام اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اس کا سر اس کی دم سے نہ مل جائے“۔

اس طرح تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے، سانپ پورے یوروپ کے گرد اپنا حلقہ مکمل کرے گا اور اس طرح پورے یوروپ کو پا بہ زنجیر کرنے کے بعد یوروپ کے توسط سے ساری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرے گا۔ ساری دنیا پر معاشی تسلط قائم کرنے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

سانپ کے سر کی صیہونیوں کو واپسی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ معاشی بحران پیدا کئے جائیں، بڑے پیمانے پر تباہ کاری کی جائے اور اس کے لئے مذہب بیزاری اور اخلافی بدکرداری کی فضا قائم کی جائے۔

اس کام کے لئے خصوصیت سے یہودی عورتیں استعمال کی جائیں گی جو فرانسیسی اور اطالوی لڑکیوں کے روپ میں یہ کام کریں گی۔ یہ لڑکیاں ان ممالک کے اعلیٰ طبقوں میں بے لگام شہوت پرستی کی ہمت افزائی کر کے قابل تقلید مثالیں قائم کریں گی۔

اس سانپ کے راستے کا نقشہ حسب ذیل ہے۔

پہلا مرحلہ: یوروپ میں ۲۹۴ قبل مسیح کا یونان جہاں پریکلس کے زمانے میں سانپ نے سا ملک کی طاقت کو ہڑپ کرنا شروع کیا۔

دوسرا مرحلہ: آگٹس کے زمانے میں رومی سلطنت ۹۶ قبل مسیح۔

تیسرا مرحلہ : چارلس پنجم ے زمانے کا میڈرڈ 1552ء۔

چوتھا مرحلہ: پیرس 1790ءلوئی شش دہم کا زمانہ۔

پانچواں مرحلہ: لندن ۱۸۴۱ءکے بعدکا زمانہ ۔ (نپولین کی شکست کے بعد)۔

چھٹا مرحلہ: برلن ۱۷۸۱ءفرانس اور پریشیا سے جنگ کے بعد کا زمانہ۔

ساتواں مرحلہ: سینٹ پیٹرز برگ جس کے اوپر سانپ کا منہ بناہوا ہے اور اس پر ۱۸۸۱ءکی تاریخ درج ہے۔

یہ تمام ممالک جن سے یہ سانپ گزرا ان ممالک کے دساتیر کی بنیادیں ہلاتا چلا گیا۔ جرمنی بھی باوجود اپنی عظیم الشان طاقت کے اس سے مستثنیٰ نہیں رہ سکا۔ حالانکہ انگلستان اور جرمنی بدحالی کا شکار نہیں ہوئے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سانپ کا روس پر تسلط ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے جس پر اس کی اس وقت ۵۰۹۱ءتمام توانائیاں مرکوز ہیں۔

سانپ کا اگلا راستہ نہیں دکھایاگیا ہے لیکن تیر کے نشانوں سے اس کا رخ ماسکو،کیف اور اوڈیسہ کی طرف معلوم ہوتا ہے یہ بت سب کو معلوم ہے کہ مذکورہ شہر بنیاد پرست یہودیوں کے گڑھ ہیں۔

سانپ یروشلم پہنچنے سے پہلے قسطنطنیہ سے گزرتا ہوا دکھایا گیا ہے (یہ نقشہ ینگ ٹرک یعنی ترکی کے یہودی انقلاب سے بہت پہلے کا تیار کیاہوا ہے)۔

۳۔ گویم (GOYIM) کی اصطلاح

گویم کی اصطلاح جس کی معنی غیر یہودی کے ہیں دستاویزوں میں عام طور پر استعمال کی گئی ہے اور مسٹر مارسڈن نے اپنے ترجمے میں اسے جوں کا توں استعمال کیا ہے۔

اردو ترجمے میںگویم کے لئے غیر یہودی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر

 
پاکستانی's Avatar
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,319
3,108 مراسلہ میں 7,466 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 260
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (07-02-12), shafresha (05-02-12), فیصل ناصر (05-02-12), ہادی (05-02-12), کنعان (05-02-12), ھارون اعظم (05-02-12), نورالدین (06-02-12), نبیل خان (07-02-12), احمد نذیر (05-02-12), حیدر (06-02-12), زارا (06-02-12), عبدالقدوس (06-02-12), عبداللہ آدم (06-02-12)
پرانا 05-02-12, 03:44 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کا شکریہ پاکستانی بھائی
بہت بہترین معلومات شئر کی ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-02-12), فاروق سرورخان (06-02-12), پاکستانی (05-02-12), نبیل خان (07-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 05-02-12, 11:41 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے ایک بات سمجھ میں‌ نہیں‌ آئی ۔ وہ یہ کہ مسلمان دنیا میں صیہونیت کے خلاف تقریباً سو برس سے لکھا جارہا ہے ۔ کہا جاتا رہا ہے کہ مسطفی کمال اتا ترک اور سر آغا خان بھی فری یسن تھے۔ کچھ لوگ قائد اعظم اور جنرل مشرف کو بھی فری میسن قرار دیتے تھے۔ کچھ لوگ بھٹو کو بھی فری میسن کہتے تھے۔

کیا وجہ ہے کہ کسی ایک مسلمان کو بھی توفیق نہیں‌ہوئی کہ وہ اللہ کے فرمان قرآن کو بنیاد بنا کر اس کتاب کے عالمی و آفاقی سنہرے اصولوں‌ کی ترویج کے لئے ایک ایسی ہی تنظیم کو منظم کرے جو دنیا بھر میں دل و انصاف، امن و سلامتی کو فروٍغ دے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ کیا مسلمانوں‌میں انتظامی صلاحتیوں‌ کی کمی ہے ؟؟؟؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), فیصل ناصر (05-02-12), ہادی (06-02-12), پاکستانی (06-02-12), نورالدین (06-02-12), حیدر (06-02-12), طاھر (05-02-12), عبیدرضا (08-02-12)
پرانا 06-02-12, 03:14 AM   #4
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا وجہ ہے کہ کسی ایک مسلمان کو بھی توفیق نہیں ‌ہوئی کہ وہ اللہ کے فرمان قرآن کو بنیاد بنا کر اس کتاب کے عالمی و آفاقی سنہرے اصولوں‌ کی ترویج کے لئے ایک ایسی ہی تنظیم کو منظم کرے جو دنیا بھر میں دل و انصاف، امن و سلامتی کو فروٍغ دے ۔۔۔
مثلاً! کس طرح؟

---------
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), فاروق سرورخان (06-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 08:08 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مثال کے لئے اصل مضمون دیکھئے۔۔۔ میرا سوال یہی ہے ۔۔۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 10:34 AM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مثال کے لئے اصل مضمون دیکھئے۔۔۔ میرا سوال یہی ہے ۔۔۔
آپ کی رائے پر بات ہو رہی ھے مثلاً کیسے ایسا ہو سکتا ھے؟
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), فاروق سرورخان (06-02-12), پاکستانی (06-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 11:59 AM   #7
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے کنعان بھائی تجویز تو مناسب ہے
جب یہودی فری میسن جیسی تنظیم بناسکتے یں تو مسلمان اس کے توڑ کے لئے کوئی ایسی تنظیم کیوں نہیں بناسکتے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), فاروق سرورخان (06-02-12), نورالدین (06-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 12:09 PM   #8
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ویسے کنعان بھائی تجویز تو مناسب ہے
جب یہودی فری میسن جیسی تنظیم بناسکتے یں تو مسلمان اس کے توڑ کے لئے کوئی ایسی تنظیم کیوں نہیں بناسکتے
فیصل بھائی مسلمان بنانے کو تنظیم تو کیا بہت کچھ بنا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ بنانے میں willingہوں۔ سادہ سی مثال ہے ہم چاہیں تو اپنے ملک بہت زیادہ ترقی یافتہ نہ صحیح لیکن اُس کی فہرست میں لا کر کھڑا کر سکتے ہیں لیکن بات وہی آجاتی ہے برین ڈرین۔۔۔ اپنا ہنر، اپنی تعلیم کو باہر جاکراستعمال میں لاتے ہیں۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), فاروق سرورخان (06-02-12), نورالدین (06-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 09:30 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعان، سلام

پاکستانی کے مراسلے میں‌سب کچھ دیا گیا ہے کہ فری میسن کیا کچھ کرتے ہیں۔ کس طرح اپنی تنظیم کرتے ہیں۔ کس طرح‌ دنیا پر قبضہ کرتے ہیں، کس طرح‌ حکومتیں‌ان کے کنٹرول میں‌ہیں۔ انمیں سے کونسا مقصد ہے جو واضح نہیں ہے اور کون سا طریقہ کار ہے جو واضح نہیں ہے ؟؟؟ اگر کوئی فرق ہے تو یہ کہ ایک گروپ (فری میسن) منظم ہے اور دوسرا گروہ غیرمنظم۔۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں‌میں منظم کرنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی یا پھر پائی جاتی ہے تو کیا مسلمان اپنی فرقے بازی کا شکار ہے کہ منظم ہونا ہی نہیں چاہتا ؟؟؟ یا پھر صرف تخریب کاری کے لئے منظم ہونا چاہتا ہے ؟ امن و امان کے لئے منظم نہیں‌ ہونا چاہتا۔۔

آپ اگر مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں‌کہ وہ کیا طریقہ ہو گا کہ مسلمان ، فری میسنز کی طرح‌ منظم ہو جائیں تو بھائی ۔ میرے پاس ایسی کوئی بھی جادو کی ترکیب نہیں‌ہے ۔ اس معاملے میں‌ ، میں‌ ذاتی طور پر بالکل کورا ہوں۔ لہذا میری بات کا کچھ وزن نہیں کہ ایسا کس طرح‌ہو سکتا ہے۔


زارا سلام،
انتطامی صلاحیت اور منظم کرنے کی صلاحیت ، تو ایم کیو ایم سے لے کر تحریک انصاف تک اور جماعت اسلامی سے لے کر مسلم لیگ تک سب میں‌پائی جاتی ہے ۔۔ آخر یہ لوگ کسی نا کسی قسم کی تنظیم بناتے ہی ہیں۔ تو ایسا کہنا کہ کچھ انجینئرز یا تھوڑے سے ڈاکٹرز بیرون ملک چلے جاتے ہیں‌ تو اس سے کوئی فرق نہیں‌پڑتا۔ میں نے کبھی کسی ڈاکٹر یا انجینئر کو لیڈر یا منظم کرنے والا نہیں دیکھا ۔۔ اس کے لئے جو لوگ چائیے ہوتے ہیں‌وہ لیڈر شپ کی صلاحیت سے بھرپور ہوتے ہیں ۔ لہذا یہ گلہ بے کار ہے کہ مسلمان منظم اس لئے نہیں‌ہوتے کہ چند ڈاکٹرز یا کچھ انجینئرز سرحد پار کرکے کسی دوسرے نیچرل جغرافیائی ایکسٹینشن میں برآمد ہوجاتے ہیں ۔

ایک ڈاکٹر جو جیزان میں کام کرتا ہے اور پختون خواہ میں‌رہتا ہے ، مجھے کراچی جاتے ہوئے ملا ، یہ کسی کراچی کے کسی مدرسہ اسکول میں ہفتے بھر کا کورس اٹینڈ کرنے جارہا تھا۔

اگردوسرے ممالک میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو کراچی کورس کے لئے بلایا جاسکتا ہے تو بہن، ان کو کسی "نیک مقصد" کے لئے کیوں‌نہیں منظم کیا جاسکتا ؟؟؟ پھر فری میسن کسی ایک قو م ، ملک یا ملت تک محدود نہیں‌۔ تو کیا وجہ ہے کہ۔۔۔ ایسی کسی تنظیم کے لئے جو عدل و انصاف، مساوات ، برابری اور بہتری کے عالمگیر اور آفاقی اصولوں کا نفاذ‌چاہتی ہو، ۔۔۔ کسی ملک و قوم کی قید لگائی جائے؟؟؟

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-02-12), فیصل ناصر (06-02-12), پاکستانی (06-02-12), حیدر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 09:55 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فری میسن جیسی کسی تنظیم کے مسلمانوں میں قائم ہونے کے پیچھے فرقہ واریت، علاقائیت ، قبائلیت جیسے عناصر ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کسی حد تک اسی نہج پر کوششیں ہوئی ہیں لیکن وہ سب ہائی جیک ہو گئیں یا راہ راست سے ہٹ گئیں۔ مثلاً القائدہ کی مثال لیں۔ تنظیم، منصوبہ بندی اور عملی صلاحیت کے اعتبار سے یہ تنظیم ایک شاندار مجموعہ تھی۔ اور مزے کی بات یہ کہ اس تنظیم میں علاقائیت بالکل بھی نہ تھی۔ لیکن ہائی جیک ہو گئی۔

فری میسنری محض اس لیے کامیاب ہیں کہ ان کے مخالف غیر منظم اور اختلافات کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کمزور منصوبہ بندیاں بھی کامیاب ہو جاتی ہیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ہادی (07-02-12), پاکستانی (06-02-12)
پرانا 07-02-12, 07:21 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مجھے ایک بات سمجھ میں‌ نہیں‌ آئی ۔ وہ یہ کہ مسلمان دنیا میں صیہونیت کے خلاف تقریباً سو برس سے لکھا جارہا ہے ۔ کہا جاتا رہا ہے کہ مسطفی کمال اتا ترک اور سر آغا خان بھی فری یسن تھے۔ کچھ لوگ قائد اعظم اور جنرل مشرف کو بھی فری میسن قرار دیتے تھے۔ کچھ لوگ بھٹو کو بھی فری میسن کہتے تھے۔

کیا وجہ ہے کہ کسی ایک مسلمان کو بھی توفیق نہیں‌ہوئی کہ وہ اللہ کے فرمان قرآن کو بنیاد بنا کر اس کتاب کے عالمی و آفاقی سنہرے اصولوں‌ کی ترویج کے لئے ایک ایسی ہی تنظیم کو منظم کرے جو دنیا بھر میں دل و انصاف، امن و سلامتی کو فروٍغ دے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ کیا مسلمانوں‌ میں انتظامی صلاحتیوں‌ کی کمی ہے ؟؟؟؟
سادہ الفاظ میں فری میسن کے وجود کی تردید یا تصدیق کریں۔ آپ کے مراسلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ان کی وکالت کر رہے ہیں اور اس معلوماتی موضوع کا رخ اپنی بیکار باتوں میں تبدیل کر رہے ہیں

Moderated Message:
سر جی، شکریہ کے ساتھ امید ھے آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com

Last edited by کنعان; 08-02-12 at 02:37 AM. وجہ: Request for cooperate
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-02-12, 08:23 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انہوں نے ایک تجویز دی ہے جو لازمی طور پر مضمون پڑھنے کے بعد ہر سوچنے سمجھنے والے کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے کہ ایسی ہی کوئی تنظیم مسلمانوں میں کیوں نہیں ہے۔ اس میں بلاوجہ موضوع تبدیل کرنے کی کیا بات ہوئی بھلا؟؟؟؟

اور ویسے بھی تصدیق یا تردید کے لیے تو نہیں آرا کے لیے ہی مضمون پیش کیا جاتا ہے۔ اور ہر انسان کی اپنی ہی رائے ہوتی ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (07-02-12), عبیدرضا (08-02-12)
پرانا 08-02-12, 12:11 AM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سیاسی تھریڈ ھے اور اس پر سیاست پر علم ہونا ضروری ھے اور ساتھ میں ارد گرد کیا ہو رہا ھے اس پر بھی، ورنہ جنہوں نے سوال لکھا ھے وہ اس پر اسے مکمل بھی کریں کہ یہ کیسے ہونی چاہئے سوال لکھنا ہی کافی نہیں اسے مکمل بھی کرنا چاہئے۔
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (08-02-12), پاکستانی (08-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فلسطین کو رکنیت دینے پر امریکہ نے یونیسکو کی امداد بند کر دی dxbgraphics خبریں 7 02-11-11 03:52 PM
ماں بچوں کی تربیت کیسے کرے عصمت طہارت و نجاست 1 28-10-11 03:37 PM
آپ کیسے اپنی ذہنی صلاحیت کو موثر بنا سکتے ہیں راجہ صاحب گپ شپ 12 12-11-10 12:06 PM
جہاد کے متعلق ایک آیت اور اس کی تفصیل پیاسا جہاد 0 30-06-08 02:54 PM
نقصانات کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے شہریوں کو ضلع ناظم کی ہدایت خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:54 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger