واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


حاطب (رضی اللہ عنہ) بن ابی بلتعہ کا واقعہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-11-11, 03:37 AM   #1
حاطب (رضی اللہ عنہ) بن ابی بلتعہ کا واقعہ
کنعان کنعان آن لائن ہے 04-11-11, 03:37 AM

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
حدیث میں جہاد پر جانے والوں پر بدر والوں پر طعن و تبرا کیا گیا ہے !!!

تم جو چاہو کرو پس اس حکم نے انہیں جری اور دلیر بنا دیا ہے (برائی کرنے پر) ۔


اگر کوئی نا فرمان مسلمان عورتوں کو ننگا کرکے بازاروں میں گھمائے پھرائے تو ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟؟؟


41 - جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (383)

ذمی عورتوں اور نا فرمان مسلمان عورتوں کے بال دیکھنے اور ان کے ننگا کرنے کی ضرورت پر مجبور ہو جانے والے شخص کا بیان

حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب الطائفي حدثنا هشيم أخبرنا حصين عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن وکان عثمانيا فقال لابن عطية وکان علويا إني لأعلم ما الذي جرأ صاحبک علی الدمائ سمعته يقول بعثني النبي صلی الله عليه وسلم والزبير فقال ائتوا روضة کذا وتجدون بها امرأة أعطاها حاطب کتابا فأتينا الروضة فقلنا الکتاب قالت لم يعطني فقلنا لتخرجن أو لأجردنک فأخرجت من حجزتها فأرسل إلی حاطب فقال لا تعجل والله ما کفرت ولا ازددت للإسلام إلا حبا ولم يکن أحد من أصحابک إلا وله بمکة من يدفع الله به عن أهله وماله ولم يکن لي أحد فأحببت أن أتخذ عندهم يدا فصدقه النبي صلی الله عليه وسلم قال عمر دعني أضرب عنقه فإنه قد نافق فقال ما يدريک لعل الله اطلع علی أهل بدر فقال اعملوا ما شئتم فهذا الذي جرأه

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 333 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 5
محمد ہشیم حصین سعد ابوعبدالرحمن عثمانی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عطیہ علوی سے کہا میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جس چیز نے تمہارے پیر و مرشد کی خونریزی پر دلیر بنایا میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (علی) اور زبیر کو فلاں باغ میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں تم کو ایک عورت ملے گی جس کو حاطب نے ایک خط دیا ہے چنانچہ ہم اس باغ میں پہنچے اور اس عورت سے وہ خط مانگا تو اس عورت نے جواب دیا حاطب نے تو مجھے کوئی خط نہیں دیا ہے تو ہم نے اس سے کہا تو وہ خط نکال ورنہ ہم تم کو ننگا کر دیں گے تب اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا (جو ہم نے دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کیا) جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب کو طلب کیا (اور حاطب نے حاضر ہو کر عرض کیا) جلدی نہ کیجئے اللہ کی قسم! میں نے کوئی کفر نہیں کیا نیز اسلام میں کسی نئی چیز کی زیادتی بھی نہیں کی اور مجھے اسلام زیادہ محبوب ہے واقعہ یہ ہے کہ آپ کے اصحاب میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کا کوئی عزیز مکہ میں نہ ہو اور جن سے اللہ ان کے اہل و عیال اور مال و اسباب کی حفاظت نہ کرتا ہو لیکن وہاں میرا کوئی نہیں اس لیے میں نے یہ چاہا کہ میں ان پر ایک احسان کروں (تاکہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرا سکوں) جس کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصدیق فرمائی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا حضور آپ مجھے اجازت دے دیجئے میں اس کی گردن مارے دیتا ہوں اس لیے کہ یہ منافق ہے تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کا حال جانتا ہے اور اس نے فرمایا اے بدر والو! تم جو چاہو کرو پس اس حکم نے انہیں جری اور دلیر بنا دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

’’ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ سمجھو تم تو محبت کی بنیاد ڈالنے کے لئے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آ چکا ہے کفر کرتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان رکھتے ہو ، اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا مندی کی طلب میں نکلتے ہو (تو ان سے دوستیاں نہ کرو) تم ان کے پاس محبت کا پیغام پوشیدہ پوشیدہ بھیجتے ہو مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا، اور وہ بھی جو تم نے ظاہر کیا ، تم میں سے جو بھی اس کام کو کرے گا وہ یقینا راہ راست سے بہک جائے گا۔ اگر انہیں تم پر کوئی دسترس کا موقع مل جائے تو وہ تمہارے کھلے دشمن ہو جائیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور دل سے چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ۔ تمہاری قرابتیں ، رشتہ داریاں اور اولادیں تمہیں قیامت کے دن کام نہ آئیں گی، اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے ۔‘‘
(الممتحنہ 60/ 2،1)

تفسیر ابن کثیر میں یہ واقعہ تفصیلاً موجود ہے کہ صحابی رسول حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی کے بارے میں اس سورت کی شروع والی آیتیں نازل ہوئی ہیں ۔ واقعہ یہ ہوا کہ حاطب رضی اللہ تعالی مہاجرین میں سے تھے ۔ بدر کی لڑائی میں بھی آپ رضی اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش میں سے نہ تھے۔ صرف حضرت عثمان رضی اللہ تعالی کے حلیف تھے ، اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا ۔ اب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے۔ یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کرنی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیںتا کہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ پر باآسانی قبضہ ہو جائے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ ہماری تیاری کی خبریں ہمارے مکہ پہنچنے تک اہل مکہ کو نہ پہنچیں ۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا۔ حضرت حاطب رضی اللہ تعالی نے اس موقعہ پر ایک خط اہل مکہ کے نام لکھا اور ایک قریشیہ عورت کے ہاتھ اسے چلتا کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے اور مسلمانوں کی لشکر کشی کی خبر درج تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی کا ارادہ اس سے صرف یہ تھا کہ میرا کوئی احسان قریش مکہ پر رہ جائے جس کے باعث وہاں میرے بال بچے اور مال و دولت محفوظ رہیں ۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو چکی تھی لہٰذا یہ ناممکن تھا کہ قریش کو کسی ذریعہ سے بھی اس ارادے کا علم ہو جائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پوشیدہ راز سے مطلع فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے اپنے سوار بھیجے، راستے میں اسے روکا گیا اور خط اس سے حاصل کر لیا گیا۔ یہ مفصل واقعہ صحیح احادیث میں بھی پوری طرح بیان کیا گیا ہے۔

مسند احمد میں ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی نے فرمایا مجھے اور زبیر رضی اللہ تعالی کو اور حضرت مقداد رضی اللہ تعالی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا تم یہاں سے فوراً کوچ کرو روضہ خاخ میں جب تم پہنچو گے تو تمہیں ایک سانڈنی سوار عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے تم اسے قبضہ میں کرو اور یہاں لے آئو۔ ہم تینوں گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت تیز رفتاری سے روانہ ہو گئے روضہ خاخ نامی جگہ میں جب پہنچے تو فی الواقع ہمیں ایک سانڈنی سوار عورت دکھائی دی ۔ ہم نے اس سے کہا کہ جو خط تیرے پاس ہے وہ ہمارے حوالے کر ، اس نے صاف انکار کر دیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ۔ ہم نے کہا غلط کہتی ہے تیرے پاس خط یقینا ہے اگر تو راضی خوشی نہ دے گی تو ہم جامہ تلاشی کر کے جبراً وہ خط تجھ سے چھینیں گے۔ اب تو وہ عورت سٹ پٹائی اور آخرکار اس نے اپنی چٹیا کھول کر اس میں سے وہ پرچہ نکال کر ہمارے حوالے کیا۔ ہم اسی وقت وہاں سے واپس روانہ ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اسے پیش کر دیا ۔ پڑھنے پر معلوم ہوا کہ حضرت حاطب رضی اللہ تعالی نے اسے لکھا ہے اور یہاں کی خبر رسانی کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں سے کفار مکہ کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا حاطب یہ کیا حرکت ہے؟ حضرت حاطب رضی اللہ تعالی نے فرمایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی نہ کیجئے میری بھی سن لیجئے میں قریشیوں میں ملا ہوا تھا خود قریشیوں میں سے نہ تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔ اور جتنے بھی مہاجرین ہیں ان سب کے قرابت دار مکہ میں موجود ہیں جن کے بال بچے وغیرہ مکے میں رہ گئے ہیں وہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن میرا کوئی رشتہ دار وہاں نہیں جو میرے بچوں کی حفاظت کرے ، اس لئے میں نے چاہا کہ قریشیوں کے ساتھ کوئی سلوک و احسان کر دوں جس سے وہ میرے بچوں کی حفاظت کریں اور جس طرح اوروں کے نسب کی وجہ سے ان کا تعلق ہے میرے احسان کی وجہ سے میرا تعلق ہو جائے گا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے کوئی کفر نہیں کیا نہ اپنے دین سے مرتد ہوا ہوں نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوا ہوں بس اس خط کی وجہ صرف اپنے بچوں کی حفاظت کا حیلہ تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو تم سے جو واقعہ حاطب رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں وہ بالکل حرف بحرف سچا ہے کہ نفع کی خاطر ایک غلطی کر بیٹھے ہیں نہ کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا یا کفار کی مدد کرنا ان کے پیش نظر ہو ۔سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی اس موقعہ پر موجود تھے اور یہ واقعات آپ رضی اللہ تعالی کے سامنے ہوئے۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ بدری صحابی ہیں اور بدر والوں پر اللہ تعالیٰ نے جھانکا اور فرمایا جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ روایت اور بھی بہت سی حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
(تفسیر ابن کثیر)

میری انتظامیہ سے گزارش ھے کہ وقت کی کمی کے باعث جب تک یہ مکمل نہیں ہوتا تب تک کوئی بھی مراسلہ آگے لگے اسے حذف کر دیا جائے شکریہ۔

(جاری ھے)
__________________



Last edited by کنعان; 04-11-11 at 03:41 AM..

 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 228
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-11-11), فاروق سرورخان (04-11-11), نبیل خان (04-11-11), ملک اظہر (04-11-11), محمدخلیل (04-11-11), wajee (04-11-11), رضی (05-11-11), عبداللہ حیدر (05-11-11)
پرانا 04-11-11, 04:37 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدری صحابہ کی شان نرالی ہے
سبحان اللہ
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (05-11-11), حسن قادری (04-11-11)
پرانا 05-11-11, 02:35 AM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

نبیل بھائی تھوڑا غور فرما لینا چاہئے میں نے درخواست کی تھی کہ مکمل ہونے تک انتظار کریں درخواست نہ کی ہو تو کوئی بھی کسی بھی وقت اپنی معلومات/ رائے فراہم کر سکتا ھے، ایک ذہن بنا ہوتا ھے اس کے مطابق کام ہو رہا ہوتا ھے اسطرح درمیان میں اثر اندازی سے تسلسل ٹوٹ جاتا ھے۔ اب جو بھی بھائی چاہے اپنا مراسلہ لگا سکتا ھے۔ میرا طرف سے یہاں تک ہی معلومات کافی ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-11-11, 06:20 AM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

’’ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ سمجھو تم تو محبت کی بنیاد ڈالنے کے لئے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آ چکا ہے کفر کرتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان رکھتے ہو ، اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا مندی کی طلب میں نکلتے ہو (تو ان سے دوستیاں نہ کرو) تم ان کے پاس محبت کا پیغام پوشیدہ پوشیدہ بھیجتے ہو مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا، اور وہ بھی جو تم نے ظاہر کیا ، تم میں سے جو بھی اس کام کو کرے گا وہ یقینا راہ راست سے بہک جائے گا۔ اگر انہیں تم پر کوئی دسترس کا موقع مل جائے تو وہ تمہارے کھلے دشمن ہو جائیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور دل سے چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ۔ تمہاری قرابتیں ، رشتہ داریاں اور اولادیں تمہیں قیامت کے دن کام نہ آئیں گی، اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے ۔‘‘
(الممتحنہ 60/ 2،1)

تفسیر ابن کثیر میں یہ واقعہ تفصیلاً موجود ہے کہ صحابی رسول حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی کے بارے میں اس سورت کی شروع والی آیتیں نازل ہوئی ہیں ۔ واقعہ یہ ہوا کہ حاطب رضی اللہ تعالی مہاجرین میں سے تھے ۔ بدر کی لڑائی میں بھی آپ رضی اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش میں سے نہ تھے۔ صرف حضرت عثمان رضی اللہ تعالی کے حلیف تھے ، اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا ۔ اب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے۔ یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کرنی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیںتا کہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ پر باآسانی قبضہ ہو جائے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ ہماری تیاری کی خبریں ہمارے مکہ پہنچنے تک اہل مکہ کو نہ پہنچیں ۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا۔ حضرت حاطب رضی اللہ تعالی نے اس موقعہ پر ایک خط اہل مکہ کے نام لکھا اور ایک قریشیہ عورت کے ہاتھ اسے چلتا کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے اور مسلمانوں کی لشکر کشی کی خبر درج تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی کا ارادہ اس سے صرف یہ تھا کہ میرا کوئی احسان قریش مکہ پر رہ جائے جس کے باعث وہاں میرے بال بچے اور مال و دولت محفوظ رہیں ۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو چکی تھی لہٰذا یہ ناممکن تھا کہ قریش کو کسی ذریعہ سے بھی اس ارادے کا علم ہو جائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پوشیدہ راز سے مطلع فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے اپنے سوار بھیجے، راستے میں اسے روکا گیا اور خط اس سے حاصل کر لیا گیا۔ یہ مفصل واقعہ صحیح احادیث میں بھی پوری طرح بیان کیا گیا ہے۔

مسند احمد میں ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی نے فرمایا مجھے اور زبیر رضی اللہ تعالی کو اور حضرت مقداد رضی اللہ تعالی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا تم یہاں سے فوراً کوچ کرو روضہ خاخ میں جب تم پہنچو گے تو تمہیں ایک سانڈنی سوار عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے تم اسے قبضہ میں کرو اور یہاں لے آئو۔ ہم تینوں گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت تیز رفتاری سے روانہ ہو گئے روضہ خاخ نامی جگہ میں جب پہنچے تو فی الواقع ہمیں ایک سانڈنی سوار عورت دکھائی دی ۔ ہم نے اس سے کہا کہ جو خط تیرے پاس ہے وہ ہمارے حوالے کر ، اس نے صاف انکار کر دیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ۔ ہم نے کہا غلط کہتی ہے تیرے پاس خط یقینا ہے اگر تو راضی خوشی نہ دے گی تو ہم جامہ تلاشی کر کے جبراً وہ خط تجھ سے چھینیں گے۔ اب تو وہ عورت سٹ پٹائی اور آخرکار اس نے اپنی چٹیا کھول کر اس میں سے وہ پرچہ نکال کر ہمارے حوالے کیا۔ ہم اسی وقت وہاں سے واپس روانہ ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اسے پیش کر دیا ۔ پڑھنے پر معلوم ہوا کہ حضرت حاطب رضی اللہ تعالی نے اسے لکھا ہے اور یہاں کی خبر رسانی کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں سے کفار مکہ کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا حاطب یہ کیا حرکت ہے؟ حضرت حاطب رضی اللہ تعالی نے فرمایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی نہ کیجئے میری بھی سن لیجئے میں قریشیوں میں ملا ہوا تھا خود قریشیوں میں سے نہ تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔ اور جتنے بھی مہاجرین ہیں ان سب کے قرابت دار مکہ میں موجود ہیں جن کے بال بچے وغیرہ مکے میں رہ گئے ہیں وہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن میرا کوئی رشتہ دار وہاں نہیں جو میرے بچوں کی حفاظت کرے ، اس لئے میں نے چاہا کہ قریشیوں کے ساتھ کوئی سلوک و احسان کر دوں جس سے وہ میرے بچوں کی حفاظت کریں اور جس طرح اوروں کے نسب کی وجہ سے ان کا تعلق ہے میرے احسان کی وجہ سے میرا تعلق ہو جائے گا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے کوئی کفر نہیں کیا نہ اپنے دین سے مرتد ہوا ہوں نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوا ہوں بس اس خط کی وجہ صرف اپنے بچوں کی حفاظت کا حیلہ تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو تم سے جو واقعہ حاطب رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں وہ بالکل حرف بحرف سچا ہے کہ نفع کی خاطر ایک غلطی کر بیٹھے ہیں نہ کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا یا کفار کی مدد کرنا ان کے پیش نظر ہو ۔سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی اس موقعہ پر موجود تھے اور یہ واقعات آپ رضی اللہ تعالی کے سامنے ہوئے۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ بدری صحابی ہیں اور بدر والوں پر اللہ تعالیٰ نے جھانکا اور فرمایا جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ روایت اور بھی بہت سی حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
(تفسیر ابن کثیر)

میری انتظامیہ سے گزارش ھے کہ وقت کی کمی کے باعث جب تک یہ مکمل نہیں ہوتا تب تک کوئی بھی مراسلہ آگے لگے اسے حذف کر دیا جائے شکریہ۔

(جاری ھے)
مکمل کیجیئے ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-11-11), کنعان (06-11-11), قاسمی (05-11-11)
پرانا 05-11-11, 02:33 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مکمل کیجئے !
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (06-11-11), رضی (05-11-11)
پرانا 06-11-11, 09:35 PM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گرامی نامہ جریج بن متی کے نام روانہ فرمایا جس کا لقب مقوقس تھا اور جو مصر و اسکندریہ کا بادشاہ تھا ۔

اس خط کو پہنچانے کے لئے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رضی اللہ عنہ ) کا انتخاب فرمایا گیا ۔

------------------

حضرت حاطب رضی اللہ عنہ بن ابی بلتعہ نے عتبہ بن ابی وقاص کا پیچھا کیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید کیا تھا اور اسے اس زور کی تلوار ماری کہ اس کا سر چھٹک گیا۔ پھر اس کے گھوڑے اور تلوار پر قبضہ کر لیا۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خواہاں تھے کہ اپنے اس بھائی – عتبہ — کو قتل کریں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بلکہ یہ سعادت حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی قسمت میں تھی۔
( ابن ہشام 2 / زاد المعاد 2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبقت فی الاسلام، ہجرت، بدر، بیعت رضوان اور دوسرے تمام غزوات ِنبوی میں شرکت حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کے خاص فضائل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت حاطبؓ نے جس عورت کو خط دیا تھا اس کا نام سارہ تھا۔ وہ ابوعمر بن صیفی بن ہاشم کی لونڈی تھی۔ گانا بجانا اور نوحہ کرنا اس کا پیشہ تھا۔ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مالی امداد حاصل کرنے کے لیے مدینہ منورہ آئی۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ مہاجرین نے نقد رقم اور کپڑوں کی صورت میں بقدر استطاعت اُس کی امداد کی اور زادِ راہ اور سواری بھی مہیا کر دی۔ جب وہ چلنے لگی تو حضرت حاطبؓ نے علیحدگی میں یہ خط اس کو دے دیا۔

ابن اثیر کا بیان ہے کہ مکہ کا ایک مشرک شاعر ابنِ خطل سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی ہجو کہہ کر سارہ کو یاد کرا دیتا تھا جسے وہ ترنم سے گایا کرتی تھی۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واجب القتل (مباح الدم) قرار دیا تھا۔ فتح مکہ کے دن حضرت علیؓ نے اس کو قتل کر ڈالا۔

لیکن ابن ہشام اور علامہ ابو الفتح فتح الدین محمد صاحب ِ”عیون الاثر“ نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سارہ کو معاف فرما دیا اور وہ سعادت اندوزِ اسلام ہو گئی۔ اس کی وفات چند سال بعد حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی سوار کے گھوڑے کی جھپٹ میں آ گئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
صحیح بخاری (کتاب التفسیر)
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (06-11-11), wajee (06-11-11), رضی (06-11-11)
جواب

Tags
کتابوں, واقعات, نظر, مکہ, مکمل, منافق, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, انتظامیہ, اسلام, بچوں, جواب, جلد, حکم, حال, حدیث, دوست, دعا, شخص, عہد, عالم, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
تعلیمی سیمینار تعلیم Real_Light خبریں 0 21-04-08 09:20 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger