واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-11, 07:22 PM   #1
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا
زارا زارا آف لائن ہے 09-02-11, 07:22 PM

نام ونسب
خدیجہ نام ام ہند کنیت طاہرہ لقب سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے
خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ،قصی پر پہنچ کر آپ کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سےمل جاتاہے۔
والدہ کانام فاطمہ بنت زائدہ تھااورلوی بن بن غالب کے دوسرےبیٹے عامر کی اولاد تھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والداپنے قبیلے میں نہایت معززشخص تھےمکہ آکر اقامت کی عبدالدارابن قصی کے جو ان کے چچا کے بیٹے تھےحلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی جن کے بطن سے عام الفیل سے ۱۵ سال قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پیداہوئی(بحوالہ طبقات ابن سعدج۸ ص ۸،۱۰)
سن شعور کو پہنچیں تواپنے پاکیزہ اخلاق کی بناپرطاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں(بحوالہ۔اصابہ ج ۸ ص ۶۰)
نکاح
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادرزادہاور تورات وانجیل کےبہت بڑے عالم تھے منتخب کیا ۔لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہیں ہوسکیاور ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہوگیا
(بحوالہ۔استیعاب ج ۲ ص ۳۷۵)
ابو ہالہ کے بعدعتیق بن عابدمخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔
اسی زمانہ میں حرب الفجار(جنگ)چھڑی جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد لڑائی کے لیے نکلےاور مارے گئے
(بحوالہ۔طبقات ج۸ ص ۹)یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے
۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آنحضرت ﷺ کے عقد نکاح میں
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی دولت وثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنالیا تھااور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھالیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اورپر پڑ چکی تھی۔آنحضرت ﷺ مال تجارت لیکر ملک شام سے واپس آئے توحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہانےشادی کا پیغام بھیجا۔نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ )اس خدمت پر مامور ہوئی۔آپﷺ نے منظور فرمایا(بحوالہ۔طبقات ج ۱۔ص ۸۴)
اور شادی کی تاریخ مقررہوگئی ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد محترماگرچہ وفات پاچکے تھے تاہم ان کے چچاعمروبن اسد زندہ تھےعرب میں عورتوں کویہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگوکرسکتی تھیں۔اسی بناپر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے چچا کے ہوتے ہوئےبراہ راست تمام مراتب ومراسم طے کیے۔
معین تاریخ پر حضرت خواجہ ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندانجن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لیکر آئےحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوعں کو جمع کیا تھاحضرت خواجہ ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھاعمروبن اسد کے مشورے سے۵۰۰ سوطلائی درہم مہرقرار پایااور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حرم نبوت ہوکرام المؤمنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں۔
اس وقت آنحضرت ﷺ ۲۵ سال کے تھےاورحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر۴۰ سال تھی یہ بعثت سے ۱۵ سال پہلے کا واقعہ ہے
(بحوالہ۔صحیح بخاری ج ۱ص ۲،۳)
۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام قبول کرنا
۱۵ برس کے بعد جب آنحضرت ﷺ پیغمبر ہوئےاور فرائض نبوتکواداکرناچاہاتوسب سے پہلے حضرت حدیجہ رضی اللہ عنہاکو یہ پیغام سنایاوہ سننے سے پہلے مؤمن تھیں،،سبحان اللہ۔۔کیونکہ ان سے زیادہ آپﷺ صدق دعوی کاکوئی شخص فیصلہ نہیں کرسکتاتھا۔(بحوالہ۔صحیح بخاری ج۱ باب بدء الوحی)
اولاد
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہت سی اولاد ہوئی ابوہالہ سے جوان کے پہلے شوہر تھےدوبچے پیداہوئےجن کے نام ہالہ اور ہندتھے ۔دوسرے شوہریعنی عتیق سے ایک لڑکی پیداہوئی آنحضرت ﷺسے چھ اولادیں ہوئیںدوصاحبزادےجو بچپن میں انتقال کرگئےاور چار صاحبزادیاں سب کے نام درج ذیل ہیں
(۱)حضرت قاسم رض ۔یہ آنحضرت ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے تھےان ہی کے نام پرآپ ﷺکی کنیت ابو القاسم ہے
وہ صغر سنی میں ہی انتقال کرگئے جب بمشکل چلنا شروع ہوئے تھے
(۲)حضرت زینب رضی اللہ عنہا یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں
(۳)حضرت عبداللہ رض انھوں نے نہایت کم عمر پائی ۔یہ چونکہ زمانہ نبوت میں پیداہوئے تھےاس لیے طیب اورطاہرکے لقب سے مشہورہوئے
(۴)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
(۵)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
(۶)حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا
(بحوالہ۔طبقات ابن سعد ج۸ص۱۱)
۔
وفات
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد۲۵ برس تک زندہ رہیں
اور۱۱ رمضان ۱۰ نبوی اور ہجرت سے تین سال قبل۶۴ سال ۶ ماہ کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوکرعقبی کی طرف رخت سفر باندھ کر مالک حقیقی سے جاملیں
(بحوالہ۔بخاری ج۱ص۵۵۱)
چونکہ نماز جنازہاس وقت تک تک مشروع نہیں ہوئی تھی اس لیےان کی لاش اسی طرح دفن کردی گئی۔
آنحضرت ﷺ خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کوداعی اجل کے سپرد کردیا
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبرجحون میں ہے اور مرجع خلائق ہے
(بحوالہ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۱

والسلام
زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 115
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
saraah (09-02-11), ابن جمال (09-02-11)
جواب

Tags
color, کلثوم, لڑکی, نماز, نبوی, منظور, آزادی, اللہ, اسلام, بچپن, دنیا, رمضان, زمانہ, سفر, سال, شوہر, شام, شادی, عورتوں, عقد, عالم, عامر, عبداللہ, غالب, صفات


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب ابن یعقوب اقسام حدیث 16 24-05-10 10:03 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 0 28-10-09 09:28 PM
حمد باری تعالی wajee شعر و شاعری 3 12-10-09 01:53 AM
سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 02:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger