واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


حضرت سیدنا معاویہ بن ابو سفیا ن رضی اللہ عنھما

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-08-11, 05:38 AM   #1
حضرت سیدنا معاویہ بن ابو سفیا ن رضی اللہ عنھما
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 29-08-11, 05:38 AM

خال المسلمین ،فاتحِ عرب و عجم،امام ِ تدبیر و سیاست،محسنِ اسلام
حضرت سیدنا معاویہ بن ابو سفیا ن رضی اللہ عنھما
فضائل،واقعات اور فتوحات کی روشنی میں


تحریر:ابوالحسنات قادری



آپ کی ولادت608 ء میں ہوئی۔ آپ کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی ۔آپ کے والدین نے آپ کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔مختلف علوم و فنون آپ کو سکھائے۔آپ کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔آپ کا خاندان سیادت و قیادت اور شوکت و سطوت کے لحاظ سے سارے عرب میں مشہور تھا۔

آپ دراز قد ،سفید رنگ، اور خوبصورت تھے،کبھی مسکراتے تواوپر کا ہونٹ اُلٹ جاتا ،آپ بالوں کو رنگ دیا کرتے تھے۔

لوگوں میں آپ بردبار ، باوقار،رئیس،مہربان سردار،عادل اورسریع الفہم تھے۔حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ معاویہ ہمارے پاس آئے اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور حسین تھے۔

امام یافعی کہتے ہیں کہ :وہ حلیم، کریم ،سیاست دان،عاقل،کمال سیادت کے حامل،بڑے صاحب تدبراور ذی رائے تھے۔گویاوہ پیداہی سلطنت کے لئے ہوئے۔
نگاہ بلند،سخن دلنواز،جاں پُر سوز یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کیلئے

آپ کا فرمان ہے کہ میں عمرۃ القضاء کے دن مسلمان ہوگیاتھا ،لیکن اپنے والد کی وجہ سے اسلام چھپائے رکھا اور فتح مکہ کے موقع پر اسلام ظاہر کیا۔

آپ مسلمانوں میں بہترین کاتب تھے ، آپص کا شمارکاتبین ِ وحی میں ہوتا ہے۔آپ کی ایک بہن حضرت ام حبیبہ زحضور ا کے عقد میں تھیں۔

آپ نے غزوۂ طائف،غزوۂ تبوک ،یمامہ ،حجۃ الوداع اورغزوۂ حنین میں شرکت کی۔ اورحضور نے آپ کو ایک سو اونٹ اور چالیس سنہری اوقیے مال غنیمت میں سے دیئے۔

ایک مرتبہ حضوا نے سیدنا معاویہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ’’معاویہ !میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو،جنت کے دروازے پر تم مجھ سے ان دونوں انگلیوں کی طرح گھس کر تنگی کرتے ہوئے چلو گے‘‘یہ کہہ کر آپ ا نے اپنی دونوں انگلیوں اور ان سے ملی ہوئی برابر کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔

آنحضرت اایک دن امّ حرام بنت ملحان کے ہاںآرام فرمارہے تھے،اچانک آپ بیدار ہوئے تو آپ کے لبوںپر مسکراہٹ کھیل رہی تھی،امّ حرام آپ کی مسکراہٹ کا سبب دریافت کرتی ہیںتو آپ جواب میں ارشاد فر ماتے ہیں” کہ میں نے خواب میں اپنی امت کے ایسے افراد دیکھے ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور وسط سمندر میں ایسے سوار ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں،اورجو اس پہلی بحری جنگ میں حصہ لے گا ،جنتی ہو گا،امّ حرام کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا! یا رسو ل اللہ !اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے ان میں سے کردے ،اُمّ حرام کے لئے آنحضرت انے دعاکردی اور پھر سو گئے۔دوبارہ پھر اُٹھے اور پھرمسکرا رہے تھے۔پھر ویسے ہی سوال جواب ہوا ۔حضرت اُمّ حرام نے دوبارہ دعا کی درخواست کی کہ دعا فر مائیں کہ اللہ مجھے اس دوسرے فریق میں سے بھی بنادے،آپ انے فرمایا ’’انت من الاولین‘‘تُو پہلے فریق میں سے ہے۔رسول کریم اکا یہ خواب ۲۸ھ میں عہد عثمانی میں یوں پورا ہواکہ حضرت معاویہ نے اپنی خدادادفہم و فراست سے بھانپ لیا تھا کہ یورپ و افریقہ میں عَلم ِتوحید گاڑنے کیلئے بحری مہم جوئی از حد ضروری ہے،آپ نے حضرت عمر سے اجازت مانگی ،مگرحضرت عمر کو اس پر شرح صدر نہ ہوا،پھر آپ نے حضر ت عثمان غنی سے اُن کے دورِ خلافت میں اجازت مانگی تو وہ بخوشی راضی ہوجاتے ہیں،آپ بحری بیڑا تیار کرتے ہیں ،اکابر صحابہ اس میں شریک ہوتے ہیں،حضرت اُمّ حرام بھی اپنے شوہرحضرت عبادہ بن صامت کے ساتھ حضرت معاویہ کی قیادت میں جنگ قبرص میںشریک ہوتی ہیں اورفتح کے بعد ،واپسی پر خچر پر سوار ہوتے ہوئے گِر کر شہید ہو جاتی ہیں۔
آپ کا دور خلافت انیس سال گیارہ ماہ پر مشتمل تھا ۔جس میںآپ نے چونسٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار مربع میل تک اسلامی سرحدوں کو وُسعت دی۔

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں سب سے بڑی اسلامی ریاست اور سب سے طویل حکومت آپ کے حصہ میں آئی۔

آپ نے شجاعت و جواں مردی،علم و عمل،حلم وبردباری،امانت ودیانت اور نظم وضبط کی بہترین مثال قائم کی۔آپ نے۴۵۰۰علاقے فتح کئے،جن میںسے چند مشہور علاقے یہ ہیں عسقلان،طرابلس، شام،طرطوس، شمشاط، انطاکیہ،ملطیہ، قبرص، سوڈان، قریطش، نوبہ،تیونس،الجزائر،مراکش، کابل،ترکستان اور سند کے بعض علاقے بھی آپ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔قیساریہ جیسا شہر آپ کی کمانڈ میں فتح ہوا ،جسکے۳۰۰بازار تھے اور ایک لاکھ پولیس اہلکارروزانہ گشت کرتے تھے ،بحری جہادکے ذریعے آپ کی چار ہزارفوج نے قسطنطنیہ،روڈس اوراردڈاکے جزائر فتح کئے۔

آپ نے ۲۳ھ میںجزیرۂ قبرص فتح کیا ۔آپ نے زراعت اور اس کے وسائل کی طرف خاص طور پر توجہ دی اور زرعی ترقی کے لئے نہریں کھدوائیں ،صرف مدینہ کے قرب و جوار میں نہر کظامہ،نہر ارزق اورنہرشہداوغیرہ متعدد نہریں کھدوائیں۔پہاڑوں کی گھاٹیوں کے گرد بند بندھواکر بڑے بڑے تالاب(ڈیم) بنوائے گئے۔پانی کی اس فراوانی سے عرب کی زرعی حالت اتنی مستحکم ہوئی کہ صرف مدینہ کے آس پاس کے علاقوںمیں نہروں کے پانی کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ وسق کھجوریں اور ایک لاکھ وسق گندم پیدا ہوئی،

آپ روازانہ ابو الجیش نامی شخص کو بھیجتے ،وہ مجلسوں میں گھومتا پھرتااور لوگوں سے پوچھتا کہ کس کے گھر بچہ پیدا ہواہے ،تاکہ اس کو مدد پہنچائی جائے۔آپ نے مساجد کی تعمیر میں دلچسپی لی اور بکثرت نئی مساجد تعمیر کروائیں۔آپ نے دمشق میں سبز گنبد تعمیر کروایا ۔ ،آپ کی انگوٹھی کا نقش’’لِکُلِّ عَمَلٍ ثَوَابٌ‘‘ تھااور بعض کہتے ہیں کہ ’’لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِا للّٰہِ‘‘تھا۔ڈاک کا محکمہ آپ نے شروع کیا،امورِ سلطنت میں نوجوانوں کو آپ نے فوقیت دی۔

جس زمانے میںحضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنھماکے درمیان ایک’’ اجتہادی اختلاف ‘‘چل رہاتھا اور سبائی سازشوں نے اسے ’’فسادی اختلاف‘‘ بنادیا تھا،اسے دیکھ کر قیصر روم کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس نے اس سے فائدہ اٹھاکر شام کے سرحدی علاقوں پر لشکر کشی کا ارادہ کرلیا،حضرت معاویہ کو اس کی اطلاع مل گئی آپ نے اسے ایک خط بجھوایا اوراس میں لکھا:’’مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ تم سرحدپر لشکر کشی کرنا چاہتے ہو،یاد رکھو !اگر تم نے ایسا کیا تو میں اپنے ساتھی (حضرت علی ص)سے صلح کر لوں گا اور ان کا جو لشکر تم سے لڑنے کے لئے روانہ ہوگا اس کے ہر اول دستے میں شامل ہو کر قسطنطنیہ کو جلا ہوا کوئلہ بنا کر رکھ دوںگا،اور تمہاری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اُکھاڑ پھینکوں گا۔‘‘جب یہ خط قیصر روم کے پاس پہنچا تو وہ اپنے ارادے سے بازآگیا اور لشکر کشی سے رک گیا۔

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

آپ کے پاس جب حضرت علی کی شہادت کی خبر پہنچی توآپ رونے لگے ،بیوی نے کہا کہ آپ اس شخص پر روتے ہیں،حالانکہ آپ نے ان سے جنگ کی ہے؟حضرت معاویہ نے جواب دیا تیرا ناس ہو تجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے کس قدر فضل،فقہ اور علم کو کھودیاہے۔

کس ادا پہ جان دوں،تو ہی بتا اے چشم ِ فلک
جس ادا کو دیکھتا ہوں، حسن کی تصویر ہے

آپ کے سامنے حضرت علی کا تذکرہ آیا،تو فرمایا:’’اللہ کی قسم!علی شیر کی مانند تھے جب پکارتے تھے،بدرِ کامل کی مانند تھے جب ظاہر ہوتے تھے،بارانِ رحمت کی مانند تھے جب بخشش کرتے تھے‘‘۔حاضرین میں سے کسی نے کہا:آپ افضل ہیں یا حضرت علی؟توفرمایا:علی کے چند خطوط بھی ابو سفیان کی آل سے افضل ہیں۔عرض کیا گیاآپ نے اُن سے جنگ کیوں کی۔۔۔؟فرمایا:وہ قصاص عثمان کا معاملہ تھا ۔
پھر فرمایاکہ:جو شخص حضرت علی کی مدح میںاُن کی شان کے مطابق اشعارکہے، میں اُسے ہر شعر پرہزاردینارانعام دونگا۔حاضرین اشعار کہنے لگے،ہرشعر کو سُن کر حضرت معاویہ فرماتے جاتے کہ علی اس سے افضل ہیں

ابن خلدون نے نقل کیا ہے کہ حضرت امیرمعاویہ نے جب حضرت حسن سے صلح کرنے کا ارادہ کیاتو ایک سفید کاغذ منگوایا اور اس کے آخر میں اپنی مہر لگائی اور وہ کا غذآپ نے حضرت حسن کی طرف روانہ فرماکر کہلا بھیجا کہ اس سفید کاغذ پر میں نے اپنی مہر لگا دی ہے ،آپ جوشرائط چاہیں تحریر فرمادیں، مجھے منظور ہے۔چنانچہ حضرت حسن نے کچھ شرائط لکھدیں اور اس طرح ۴۱ ھ میں آپ اور حضرت حسن صکے درمیان صلح ہو گئی اور تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]اما م احمد بن حنبل نے حضرت معاویہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ :رسول اللہ حضرت حسن کی زبان اور ہونٹوں کو چوستے تھے اوراللہ اس زبان اور ان لبوں کو کبھی عذاب نہیں دے گاجن کو آنحضرت انے چوساہو۔
حضرت ثابت جو ابو سفیان کے آزاد کردہ غلام تھے ،بیان کرتے ہیں کہ میں روم کے ایک جنگ میں حضرت معاویہ کے ساتھ شریک تھا،جنگ کے دوران ایک عام سپاہی اپنی سواری سے گر پڑا اور اٹھ نہ سکا تو اس نے لوگو ں کو مدد کیلئے پکا را ،سب سے پہلے جو شخص اپنی سواری سے اتر کر اس کی مدد کو دوڑا وہ حضرت معا ویہ تھے۔[/COLOR]

امام اوزاعی کے استاد کا بیان ہے:میں نے معاویہ کو دمشق کے بازار میں سوار دیکھا ،آپ کے پیچھے آپ کا غلام تھا۔آپ کی قمیض کا گریبان چاک ہوا تھا۔اسی حالت میں آپ بازار میں پھر رہے تھے۔حالانکہ آپ وہاں کے حکمران تھے۔

ا یک مرتبہ آپ کو پتہ چلا کہ بصرہ میں ایک شخص ہے جو حضورکے ساتھ مشابہت رکھتا ہے،آپ نے وہاں کے گورنر کو خط لکھا کہ تم فوراًاُسے عزت و احترام کے ساتھ میری طرف روانہ کردو!چنانچہ اسے عزت و احترام کے ساتھ لایا گیا،آپ نے آگے بڑھ کر استقبال کیا،اس کی پیشانی پر بوسہ دیااور اس کو انعامات سے نوازا۔

ایک شخص نے حضرت امیر معاویہ سے کسی مسئلہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ تم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مسئلہ دریافت کرو۔
[COLOR="rgb(153, 50, 204)"]سائل نے عرض کیا کہ میں آپ کا جواب چاہتا ہوں اور پسند کرتا ہوںآپ نے فرمایا کہ تیرا برا ہو،تو ایسے شخص کو ناپسند کرتا ہے جس کی عزت حضور اس کے علم کی وجہ سے کرتے تھے اوربڑے بڑے صحابہ ان کی اس خوبی کا اعتراف کرتے تھے۔
[/COLOR]
ایک مرتبہ آپ اپنے گھر میں آرام فرمارہے تھے،اچانک کہیں سے ایک شخص نے آکر آپ کو بیدار کیا کہ حضرت !نماز کا وقت ہو گیا ہے ،نماز پڑھ لیجئے،حضرت امیر معاویہ نے آنکھیں کھول کر جب اجنبی شخص کو اپنے سامنے دیکھاتوحیران ہوئے کہ میری خواب گاہ میںیہ کیسے آگیا؟اُس سے پوچھا کہ پہلے بتائو تم کون ہو؟کہ میری خواب گاہ میں اس طرح گھس آئے۔اُس نے پہلے تو جواب دینے میں پس و پیش کیا،لیکن جب دیکھا کہ اس کے بغیر جان نہیں چھوٹے گی تو اُس نے بتایا کہ میرا نام ’’ابلیس ‘‘ہے،آپ نے اُس سے پوچھا کہ تو مجھے کیوں بیدارکر رہا تھا؟اُس نے جواب دیا کہ گذشتہ کل آپ کی نماز رہ گئی تھی ،اُس پر آپ نے خوب آہ و زاری کی تھی جواللہ کوبہت پسندآئی اور آپ کے درجات بلند ہوئے،اس لئے آج میںنہیں چاہتا تھا کہ آپ کی نماز رہ جائے اورآپ اُسی طرح آہ و زاری کر کے دوبارہ بلند درجات حاصل کر لیں،اس لئے میں نے آپ کو جگا دیا۔

امام بخاری حضرت معاویہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :تم ایک نماز پڑھتے ہو،یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں ،ہم نے آنحضرت کی صحبت اٹھائی ہے ،ہم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا ،آپ انے اس سے منع فرمایا۔

امام مسلم حضرت معاویہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے
فرمایااحادیث روایت کرنے سے احتراز کرو،سوائے ایسی احادیث کے جو حضرت عمر کے زمانہ میں روایت کی جاتی تھیں،اس لئے کہ حضرت عمر لوگوں کو اللہ سے خوف دلایا کرتے تھے۔زہری نے نقل کیا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بہادری چار چیزوں میں ہے
[COLOR="rgb(255, 0, 255)"] (۱)اسلام میں عفیف و پاکدامن رہنا
(۲)مال کو ٹھیک ٹھیک رکھنا
(۳)بھائیوں کا تحفظ کرنا(۴)پڑوسیوں کا تحفظ اور اچھا سلوک کرنا۔[/COLOR]


آپ کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل وہ شخص ہے جسے جب کچھ دیا جائے تو شکر کرے ۔ جب مصیبت میں مبتلأ ہوتو صبر کرے۔ جب غصہ آئے توپی لے۔جو وعدہ کرے پورا کرے۔ جب کوئی برائی کرے تواستغفار کرے۔

ابو عمرو بن العلأ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے فرمایا:مجھے سُرخ اونٹوں کی سخاوت میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔نیز فرمایا:فتح کے مقابلہ میں حلم اختیار کرنے سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔

اور فرمایا:جب تک کسی شخص کا حلم اُس کے جہل پراور اُس کا صبر اُس کی شہوت پرغالب نہ آجائے وہ مشورہ کے مقام تک نہیں پہنچتااور اُس تک آدمی حلم کی قوت سے ہی پہنچ سکتا ہے۔

ایک شخص نے حضرت معاویہ سے کہالوگوں کا بڑا سردارکون ہے؟

آپ نے فرمایاجب اُ س سے سوال کیا جائے تو وہ دل کے لحاظ سے اُن سب سے بڑا سخی ہو اور مجالس میں اُن سے بڑا با اخلاق ہواور جب اُسے جاہل شمار کیا جائے تو وہ اُ ن سے بڑھ کر حلیم ہو۔

سلیم بن عامرسے مروی ہے کہ حضرت معاویہ اوررومیوں کے درمیان معاہدہ تھا،حضرت معاویہ اُن کے علاقہ کی طرف سفر کر رہے تھے،تاکہ جب معاہدے کی مدت ختم ہو جائے تو اُن پر حملہ کردیں،اتنے میں ایک شخص آیاجو گھڑے یا خچر پر سوار تھا،وہ کہہ رہا تھا:اللہ اکبر!اللہ اکبر!وفائے عہد لازم ہے،معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں ،لوگوں نے دیکھا تو یہ صاحب حضرت عمرو بن عبسہ تھے۔حضرت معاویہ نے اُن سے پوچھا:کیا بات ہوئی؟انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ اسے سنا ہے کہ جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہوتوجب تک معاہدہ کی مدت نہ گذر جائے،نہ اپنے عہد کو کھولے،نہ باندھے،یا ان کا معاہدہ اُن کی طرف پھینک دے کہ معاہدہ نہ ہونے کے علم میں طرفین برابر ہوجائیں۔(گویا معاہدہ کی مدت میں جنگ کی نیت سے دشمن کی طرف سفر کرنا بھی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے)یہ سُن کر حضرت معاویہ لوگوں کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔
فدا ہو آپ کی کس کس ادا پر
ادائیں لاکھ اور بیتاب دل ایک


حضرت علی نے جنگ صفین سے واپسی کے بعد فرمایا کہ ’’لوگو!حضرت معاویہ کی امارت کو برا نہ سمجھو،اس لئے کہ اگر تم نے ان کی امارت کھودی تو تم سروں کو جسموں سے اس طرح کٹتا ہوا دیکھو گے جس طرح حنظل کاٹا جاتا ہے۔
‘‘زہری کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے صحابہ کرام کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو شخص حضرت ابوبکر،حضرت عمر ،حضرت عثمان اور حضرت علی کا محب ہونے کی حالت میں وفات پائے گا اور عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کی گواہی دے گااور حضرت معاویہ کے لئے ’’رَحِمَہُ اللہُ‘‘کہے گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کا حساب سختی سے نہیں لے گا۔

عبد اللہ بن مبارک سے ایک شخص نے سوال کیا حضرت امیر معاویہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز میں سے کس کا مقام زیادہ ہے؟تو آپنے جواب میںفرمایا کہ خدا کی قسم !حضورص کی رفاقت میں جہاد کرنے کی وجہ سے امیر معاویہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار اور مٹی داخل ہو گئی تھی وہ ہزارعمر بن عبد العزیز سے افضل ہے

۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی سے منقول ہے کہ اگر میں حضرت معاویہ کے راستے میں بیٹھ جاؤں اور حضرت امیر معاویہ کے گھوڑے کے سُم کا غبار مجھ پرپڑ جائے تو میں اسے اپنی نجات کا وسیلہ سمجھتا ہوں۔

عوف بن مالک کہتے ہیں کہ وہ ایک مسجد نماکلیسا میں تھے،اور اُن دنوں وہ کلیسا مسجد تھا(اُسمیں نمازیں پڑھی جاتی تھیں )اچانک میں نے اپنی نیند سے بیدار ہو کر دیکھا کہ میرے آگے ایک شیر چل رہا ہے۔میں فوراً اپنے ہتھیارکی طرف لپکا تو شیر نے کہا ٹھہر جا !مجھے تمہاری طرف ایک پیغام دیکر بھیجا گیا ہے کہ میں وہ پیغام آپ کی طرف پہنچا دوں۔میں نے پوچھا تجھے کس نے بھیجا ہے؟اس شیر نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے کہ تم حضرت امیر معاویہ تک سلام پہنچا دو اور انہیں یہ بتادو کہ وہ اہل ِ جنت میں سے ہیں ۔عوف بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اس شیر کو کہا معاویہ کون ہیں ؟اس شیر نے کہا معاویہ بن ابو سفیان ۔ رضی اللہ عنھما

مؤرخ ابن طبائی حضرت معاویہ کے بارے میں اپنے تاثرات میں لکھتا ہے:باوجود ایک مقتدر اور عظیم المرتبت فرمانروا ہونے کے معاویہ نے مزاج سادہ پایا تھا۔ وہ ہرموقع پر اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔ہر شخص سے نہایت مہربانی اور لطف و کرم سے پیش آتے تھے۔خواہ وہ کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا آدمی ہو۔ان کی یہ ہمدردی ایسے شخص کے ساتھ اس وقت اور بھی بڑھ جاتی تھی جب کوئی بے حیثیت آدمی ان کے سامنے کوئی شکایت لے کر پیش ہوتا۔وہ مساوات بین المسلمین کے نہایت سختی سے قائل تھے۔

رضی اللہ عنہ
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 235
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-08-11), قاسمی (15-10-11), محمدعدنان (29-08-11), حیدر (29-08-11), شمشاد احمد (29-08-11)
پرانا 29-08-11, 08:46 AM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یا علی علیہ السلام مدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
اویسی (29-08-11), حیدر (29-08-11)
پرانا 30-08-11, 05:46 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
یا علی علیہ السلام مدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-08-11)
پرانا 30-08-11, 10:26 AM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے بھی بہت خوشی ہو رہی ہے۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-08-11)
پرانا 30-08-11, 10:27 PM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خدا آپ کی خوشیوں کو دوبالا کردے اٰمین
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, پسند, نیند, نماز, مکہ, مقابلہ, مسجد, معلوم, آج, آدمی, اکبر, اللہ, اجنبی, اسلام, اسلامی, استاد, جاہل, دیکھو, دریافت, دعا, سوال جواب, عقد, علی, عبد القادر جیلانی, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
منقبتِ امیر المؤمنین خلیفۂ راشد و برحق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیفی خان متفرقات 0 14-07-11 04:11 PM
سیاچن گلیشئر اور انڈین برفانی لباس ALI-OAD خبریں 5 26-06-11 12:20 AM
نیلسن منڈیلاکے بعد سب سے زیادہ لمبی سیاسی قید کاٹنے والی عالمی رہنما آنگ سان سوچی 21سال بعد رہا جاویداسد خبریں 2 14-11-10 07:24 AM
بعد از ظلم واویلا ( سیالکوٹ ) ایس اے نقوی پاکستان میں دہشت گردی 1 26-08-10 04:18 PM
کاتب وحی امیر المؤمنین حضرت سید نا معاویہ رضی اللّ طارق راحیل تاریخ و عبر 7 24-05-09 07:07 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger