|
حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ اسیرِحسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

07-07-11, 11:00 AM
عشاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو منفرد اعزاز عطا ہوا اس کا مظاہرہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنا سفیر بنا کر مکہ معظمہ بھیجا کہ کفار و مشرکین سے مذاکرات کریں۔ کفار نے پابندی لگا دی تھی کہ اس سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سفیرِ رسول بن کر مذاکرات کے لئے حرمِ کعبہ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ اس سال آپ لوگ حج نہیں کر سکتے، تاہم کفارِ مکہ نے بزعم خویش رواداری برتتے ہوئے
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ عثمان ! چونکہ تم آگئے ہو، اس لئے حاضری کے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اگر چاہو تو ہماری طرف سے تمہیں طواف کی اجازت ہے
لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کفار کی اس پیشکش کو بڑی شان بے نیازی سے ٹھکرا دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر طواف کرنا انہیں گوارا نہ ہوا۔
آپ رضی اللہ عنہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا :
ما کنتُ لأطوف به حتی يطوف به رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.
’’میں اس وقت تک طوافِ کعبہ نہیں کروں گا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف نہ کرلیں۔‘‘
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اس عمل سے دشمنانِ اسلام کو جتلا دیا کہ ہم کعبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر کعبہ مانتے ہیں اور اس کا طواف بھی اس لئے کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا طواف کرتے ہیں۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کعبے سے اپنی جذباتی وابستگی اور عقیدت کو اہمیت نہ دی حالانکہ اس کے دیدار کے لئے وہ مدت سے ترس رہے تھے اور ہجرت کے چھ سات سال بعد انہیں یہ پہلا موقع مل رہا تھا۔ اگر وہ طواف کر بھی لیتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے منع نہیں کیا تھا لیکن ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی جس کے بغیر وہ کسی عمل کو کوئی وقعت دینے کے لئے تیار نہ تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہی نسبت ان کے ایمان کی بنیاد تھی۔
آج ملت اسلامیہ کے اندر ایسے گروہ بھی پیدا ہوچکے ہیں جو بڑی شد ومد سے صرف ظاہری عمل ہی کی تبلیغ کیے جاتے ہیں اور اسی کو کل ایمان جانتے ہیں حتی کہ محبت رسول کے قلبی و روحانی جذبات کو بھی ظاہری عمل پر ہی منحصر کردیتے ہیں۔ اگر یہی فلسفہ درست ہوتا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی حضور اکرم کے بغیر ہی طواف کعبہ کرکے ثواب کمالیتے لیکن ان سچے عشاقان رضی اللہ عنھم کے ہاں سرکار دوجہاں کی ذات گرامی سے محبت و عشق اولیں جذبہ اور بنیادِ ایمان ہے جبکہ اعمال و افعال اس جذبہء لازوال کے تحت آتے ہیں ۔
بيهقي، السنن الکبري، 9 : 2221
ابن هشام، السيرة النبويه، 4 : 3282
طبري، التاريخ، 2 : 4121
قاضي عياض، الشفاء، 2 : 5594
ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 4 : 6167
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 7701
ابن حبان، الثقات، 1 : 8299
طبري، تفسير، 26 : 986
ابن کثير، تفسير، 4 : 187
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
|
محمدخلیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|