[COLOR="RoyalBlue"]
حضرت وائل بن حجرحضری رضی اللہ عنہ ۔ان کا لقب ابو ہنیدہ تھا ۔ آپ حضرموت کے رئیسوں میں سے ایک تھے اور آپ کے والد وہاں کے بادشاہوں میں سے تھے ۔ حضرت وائل فرماتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے آنے سے پہلے ہی اپنے صحابہ کو میری آمد کی خبر دیدی تھی اور فرمایا تھا :
تمہارے پاس وائل ابن حجرحضر موت کی دور دراز کی سرزمین سے آرہا ہے ۔ اسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت لے کر آ رہی ہے اور وہ وہاں کے بادشاہوں کی نشانی ہے ۔
آپ فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرحبا کہہ کر میرا استقبال کیا اور مجھے اپنے قریب بلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قریب بٹھایا اور میرے لئے اپنی چادربچھا کر مجھے اس پر بٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا دی ۔ ۔ ۔
اے اللہ ! وائل بن حجر اور اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔ ٕ
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور مجھے اپنے ساتھ کھڑا کیا ۔ پھر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا نے فرمایا ۔
لوگو ! یہ وائل ابن حجر ہیں جو حضر موت جیسی دور دراز زمین سے اسلام کی محبت کی خاطر آئے ہیں ۔ ۔ ۔
میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ کے ظہور کی خبر ملی تو اس وقت میں ایک بڑی حکومت کا مالک تھا مگر پھر یہ اللہ کا فضل و کرم اور رحمت تھی کہ میں یہ سب عیش و عشرت اور آرام کو ٹھکر دیا اور اللہ کے دین کو پسند کر لیا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
تو نے تھیک کہا ۔ اے اللہ ! وائل ابن حجر ، اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔
حضرت وائل ابن حجر اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ۔ ۔
میرے پاس ایک بت تھا جو یاقوت کا بنا ہوا تھا ۔ ایک روز جبکہ میں سو رہا تھا مجھے چانک ایک آواز آئی جو اس کمرہ سے آرہی تھی جہاں وہ بت رکھا ہوا تھا ۔ میں فورا گھبرا کر بت کے پاس آیا اور اسے سجدہ کیا ۔ اسی وقت کسی کہنے والے کی آواز آئی جو کہہ رہا تھا ۔
واعجبا لوائل ابن حجر ، نحال یدری وھو لیس یدری
تعجب ہے وائل ابن حجر پر جو اپنے بارے میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے حالانکہ وہ بے خبر ہے ۔
ماذا یرجی من نحیت صحر ، لیس بذی نفع ولا ضر
یہ کیا توقع رکھتا ہے ان پتھر کے تراشے ہوئے بتوں سے جن سے نہ کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نقصان ۔
لو کان ذاحجر اطاع امری
کاش یہ بت پرست میری بات مانتا ۔ ۔۔
یہ سن کر میں نے کہا ۔ ۔ ۔
نصیحت کرنے والے میں نے تمہاری آواز سن لی ہے ۔ اب مجھے تم کیا حکم دیتے ہو۔ اس نے کہا ۔
ارجل الی یثرب ذات النخل ۔ تدین دین الصائم المصلی
تو یثرب کے نخلستانوں کی طرف جا اوراس نئے نبی کا دین اختیار کر جو روزے رکھنے والے اور نمازیں پڑھنے والے ہیں ۔
محمدالنبی خیرالرسل
یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو سب پیغمبروں میں بہترین اور افضل ہیں ۔
اس کے ساتھ ہی وہ بت منہ کے بل زمین پر گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی ۔ پھر خود میں نے آگئے بڑھ کر اس کو تکڑے تکڑے کردیا ۔ اس کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ میں وہاں سے روانہ ہوا اور مدینہ منوّرہ پہنچا اور مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو مشرف با اسلام ہوا ۔ ۔ ۔
[رضی اللہ تعالٰی عنہم ورضو عنہ/[/COLOR