واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


عذاب قبر :: قرآنی آیات سے ثبوت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-10-09, 01:46 PM   #1
عذاب قبر :: قرآنی آیات سے ثبوت
باذوق باذوق آف لائن ہے 13-10-09, 01:46 PM

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن کریم کی درج ذیل آیات سے امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے ثابت کیا ہے کہ قرآن میں عذابِ قبر کا واضح ذکر ہے۔
1: ( الانعام:6 - آيت:93 )
2: ( التوبة:9 - آيت:101 )
3: ( غافر:40 - آيت:45-46 )
4: (ابراهيم:14 - آيت:27)


امام بخاری رحمة اللہ علیہ صحیح بخاری کی کتاب الجنائز کے باب "ما جاء في عذاب القبر (عذاب قبر کا بیان)" کے تحت لکھتے ہیں :

1 :
وقوله تعالى ‏{‏اذ الظالمون في غمرات الموت والملائكة باسطو ايديهم اخرجوا انفسكم اليوم تجزون عذاب الهون‏}‏ هو الهوان، والهون الرفق
اللہ تعالیٰ نے سورۂ الانعام میں فرمایا :
وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ
کاش تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں ، آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔
( الانعام:6 - آيت:93 )
یہ آیت درج کرنے کے بعد امام بخاری لکھتے ہیں :
هُونِ کے معنی ھوان یعنی ذلت و رسوائی ہے اور هَون کے معنی نرمی اور ملائمت ہے۔
صحيح بخاري , كتاب الجنائز , باب : باب ما جاء في عذاب القبر

مولانا عبدالرحمٰن کیلانی (علیہ الرحمة) مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
امام بخاری نے اس آیت کی جو شرح کی ہے ، اس سے دو باتوں کا پتا چلتا ہے۔
الف : عذاب ( و ثوابِ) قبر مرنے کے وقت سے ہی شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ آیت میں لفظ "الْيَوْمَ" سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
ب : (قبر کا) یہ عذاب بھی گو ذلت و رسوائی کا ہوگا تاہم اشدّ العذاب یا عذابِ عظیم (عذابِ قیامت) کی نسبت بہت ہلکا اور کمزور ہوگا۔
(بحوالہ : روح ، عذابِ قبر اور سماع موتیٰ ، ص:37)

2 :
وقوله جل ذكره ‏{‏سنعذبهم مرتين ثم يردون الى عذاب عظيم‏}
اللہ تعالیٰ نے سورۂ التوبہ میں فرمایا :
سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيم
ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے (یعنی دنیا میں اور قبر میں) پھر بڑے عذاب میں لوٹائے جائیں گے۔
( التوبة:9 - آيت:101 )
صحيح بخاري , كتاب الجنائز , باب : باب ما جاء في عذاب القبر

تفسیر ابن کثیر میں امام ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے دو بار کے عذاب سے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ ، قتادہ رضی اللہ اور ابن جریج رحمة اللہ اور محمد بن اسحٰق رحمة اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ پہلا عذاب دنیا کا عذاب اور دوسرا قبر کا عذاب ہوگا۔
(بحوالہ : تفسیر ابن کثیر ، آیت : التوبة-101)

3 :
اور سورۂ مومن (غافر) میں فرمایا :
وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَاب
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب

فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لئے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔
( غافر:40 - آيت:45-46 )
صحيح بخاري , كتاب الجنائز , باب : باب ما جاء في عذاب القبر

تفسیر ابن کثیر میں امام ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کی تشریح کے ذیل میں "عذابِ قبر" سے متعلق کئی مستند احادیث کا ذکر کرنے سے قبل لکھا ہے :
وهذه الآية أصل كبير في استدلال أهل السنة على عذاب البرزخ في القبور
یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی بہت بڑی دلیل ہے کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔
(بحوالہ : تفسیر ابن کثیر ، آیت : غافر-46)

4 :
عن البراء بن عازب ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ اذا اقعد المؤمن في قبره اتي، ثم شهد ان لا اله الا الله، وان محمدا رسول الله، فذلك قوله ‏{‏يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت‏}‏ ‏"‏‏.‏ حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبة بهذا وزاد ‏{‏يثبت الله الذين امنوا‏}‏ نزلت في عذاب القبر‏.
براء بن عازب نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۂ ابراھیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔
شعبہ نے یہی حدیث بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ آیت
يُثَبِّتُ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ (اللہ مومنوں کو ثابت قدمی بخشتا ہے) [ابراهيم:14 - آيت:27]
عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
صحيح بخاري , كتاب الجنائز , باب : باب ما جاء في عذاب القبر , حدیث : 1384

باذوق
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 667
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-03-11), فیصل ناصر (14-09-10), کنعان (06-03-11), محمد عاصم (16-09-10), محمدمبشرعلی (17-09-10), مرزا عامر (13-09-10), ابوسعد (06-03-11), ارشد کمبوہ (06-03-11)
پرانا 16-10-09, 09:49 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

6:93 وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوْحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنَزلَ اللّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا (نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو اور (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) جو (خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میں (بھی) عنقریب ایسی ہی (کتاب) نازل کرتا ہوں جیسی اللہ نے نازل کی ہے۔ اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہوں گے تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اﷲ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے

9:101 وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ
اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے، اور وہ بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے

40:45 فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا

40:46 النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو

14:27 يُثَبِّتُ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللّهُ مَا يَشَاءُ
ثبات عطا فرماتا ہے اللہ اہلِ ایمان کو قولِ حق (کی برکت) سے دُنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور گمراہ کردیتا ہے اللہ ظالموں کو اور کرتا ہے اللہ جو چاہے۔

--------------------------------------------------------------------

برادر من باذوق، السلام علیکم

آپ کی فراہم کردہ آیات میں نے اوپر نقل کردی ہیں۔ عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ۔

سچ سچ بتائیے کہ آپ نے کبھی ان آیات کو ترجمے کے ساتھ خود بھی کبھی پڑھا ہے؟ اس متن یا ترجمہ میں کہیں لفظ عذاب قبر کہاں پر ہے
کچھ ایسی ہی سنی سنائی باتیں ہم سب کو بھائی عادل سہیل نے پہنچائی تھی۔ خیالات ان کے نہیں تھے بلکہ کسی پیش رو کے تھے۔

صاحب ان میں‌سے ایک بھی آیت سے واضح نہیں‌کہ عذاب قبر بھی کچھ ہوتا ہے۔

6:93 میں‌صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے جعلی وحی کا دعوی کیا ہوتا ہے انکی موت کے وقت فرشتے جان تکلیف و عذاب دے کر نکالتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جان نکل جانے سے قبر تک جانے میں کچھ نہ کچھ وقت ہوتا ہے۔ یہ عذاب ان کو اس وقت دیا جارہا ہے جب کہ جان ان کے جسم کے اندر ہے اور جب نکالی جارہی ہے تو تکلیف ہورہی ہے۔ جان نکل جانے کے بعد ، دفنانے کے بعد کسی عذاب کا تذکرہ اس آیت میں‌نہیں‌ہے۔ لہذا یہ آیت کسی طور بھی عذاب قبر کی دلیل نہیں‌ بنتی۔

9:101 میں‌بھی عذاب قبر کا نام بھی نہیں‌لیا گیا ہے۔ دوبار عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا جو منافق ہیں۔ ایک بار اس دنیا میں اور ایک بار آخرت میں

40:45 میں‌ زندہ لوگوں‌ کا تذکرہ کیا جارہا ہے کہ اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا اور عذاب نے ان کو گھیر لیا۔ یہاں بھی عذاب قبر یا موت کے بعد قیامت تک عذاب میں مبتلا رہنے کے بارے میں‌کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔

40:46 میں یہ بتایا جارہا ہے کہ ان کو روز آتش دوزخ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے لیکن ڈالا نہیں جاتا، بروز قیامت حکم ہوگا کہ ان کو اس آگ میں ڈال دو یعنی عذاب شروع قیامت کے بعد ہوگا جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

14:27 اس آیت میں تو عذاب کا کوئی تذکرہ ہی نہیں ۔ جو کوئی بھی اس سے عذاب قبر کا نظریہ لایا ہے اس کی بات سمجھ میں‌ نہیں آتی۔ اس تعلق کو آپ واضح کیجئے۔

بھائی ۔ موت کے بعد ، کسی کو کچھ احساس نہیں ہوگا۔ اس لئے وقت کا احساس بھی نہ ہوگا۔ لہذا قیامت تک ایسا لگے گا کہ کوئی وقت ہی نہیں گذرا۔ گویا ایسا لگے گا کہ ادھر مرے اور ادھر اٹھے ، قیامت واقع ہوچکی ہوگی تو سب کو اٹھایا جائےگا، یہ سار وقت گویا فوراً گذر جائے گا۔ پھر حساب اور پھر سزا و جزا ، یہی ایمان ہے مسلم کا۔ یہی فرمان ہے اللہ تعالی کا۔ میری آپ سے استدعا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو دین کی محبت میں مبتلا کیا ہے آپ تھوڑا تھوڑا کرکے پورا قرآن حکیم ایک بار پڑھئے، غور و خوض کے ساتھ۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-03-11), مرزا عامر (13-09-10), ارشد کمبوہ (27-12-10)
پرانا 22-10-09, 09:32 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سچ سچ بتائیے کہ آپ نے کبھی ان آیات کو ترجمے کے ساتھ خود بھی کبھی پڑھا ہے؟ اس متن یا ترجمہ میں کہیں لفظ عذاب قبر کہاں پر ہے
کچھ ایسی ہی سنی سنائی باتیں ہم سب کو بھائی عادل سہیل نے پہنچائی تھی۔ خیالات ان کے نہیں تھے بلکہ کسی پیش رو کے تھے۔

صاحب ان میں‌سے ایک بھی آیت سے واضح نہیں‌کہ عذاب قبر بھی کچھ ہوتا ہے۔

میری آپ سے استدعا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو دین کی محبت میں مبتلا کیا ہے آپ تھوڑا تھوڑا کرکے پورا قرآن حکیم ایک بار پڑھئے، غور و خوض کے ساتھ۔
محترم فاروق بھائی ! آپ نے درج بالا چند باتیں مجھ سے عرض فرمائی ہیں۔ جس کے لئے میں آپ کا شکرگزار ہوں۔
سب سے پہلے تو آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ :
آپ نے کبھی ان آیات کو ترجمے کے ساتھ خود بھی کبھی پڑھا ہے؟

فاروق بھائی ! میرا خیال ہے کہ یہ سوال ازحد غیرضروری ہے۔ فرض کیجئے کہ اگر کوئی راست عربی سے سمجھ سکتا ہو تو اس کو کسی ترجمے کی کیا ضرورت؟؟

دوم ، آپ نے پوچھا :
اس متن یا ترجمہ میں لفظ عذاب قبر کہاں پر ہے؟
بھائی ! قرآن میں تو بہت کچھ الفاظ نہیں ہیں ، لیکن حدیث میں تو ہیں۔ اور صحیح حدیث کو ماننے سے انکار تو آپ نے کیا نہیں کبھی۔
مثلاَ قرآن میں نمازِ جنازہ کا ذکر نہیں مگر گمان اغلب ہے کہ آپ نے کبھی نہ کبھی یا اکثر وبیشتر فوت شدہ مسلمان کی نمازِ جنازہ ضرور ادا کی ہوگی۔
اگر میں بھی آپ کی طرح پوچھ بیٹھوں کہ :
قرآن کے متن یا ترجمہ میں لفظ نماز جنازہ کہاں پر ہے؟
تو ظاہر ہے کہ آپ کا جواب ہوگا کہ حدیث میں اس کا ذکر ہے۔

تو بالکل اسی طرح جب صحیح احادیث میں عذابِ قبر کا ذکر ہے تو پھر اسے ماننے سے انکار کیوں ؟؟

اور آپ نے لکھا ۔۔۔۔
ان میں‌سے ایک بھی آیت سے واضح نہیں‌کہ عذاب قبر بھی کچھ ہوتا ہے۔
بڑے بھائی !! قرآن کی کسی ایک بھی آیت سے واضح نہیں کہ نماز جنازہ کیا ہے ؟ کب ادا ہوگی اور کس طرح ادا ہوگی ؟؟
حالانکہ ساری امت مسلمہ 1400 سال سے یہ نماز ادا کرتی آئی ہے اور ان شاءاللہ تاقیامت ادا کرتی رہے گی۔
اب کوئی اٹھ کر کہہ دے کہ چونکہ قرآن میں نماز جنازہ کا ذکر نہیں لہذا میں اسے نہیں مانتا !!
تو بتائیے کہ کس کی بات قبول کی جائے گی اور کس کا رد کیا جائے گا؟

1400 سال سے امت مسلمہ کا جس بھی موضوع پر اتفاق ہو کیا وہ درست ہے یا کسی ایک فرد کا وہ خیال جو صرف قرآن کے ترجمہ یا تراجم پر منحصر ہوتا ہو؟؟

فاروق بھائی !!
اگر آپ کہتے ہیں کہ "عذاب قبر" محض ہمارے پیش روؤں کا "خیال" ہے کیونکہ قرآن میں تو اس کا ذکر نہیں۔
تو فاروق بھائی ۔۔۔ عرض ہے کہ ہمارے پیش روؤں نے بھی تو قرآن کو اسی مخلصانہ نیت سے سمجھا ہوگا جس طرح آپ سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کسی ایک بھی "پیش رو" نے عذاب قبر کا انکار نہیں کیا۔

فاروق بھائی !
یا تو آپ کو یہ دعویٰ کرنا چاہئے کہ قرآن کو بس میں نے ہی درست سمجھا ہے
یا پھر کھلے دل سے مان لینا چاہئے کہ امت کا اجماع جس بات پر ہے وہ حق الیقین ہے !!
دو میں سے ایک بات آپ کو کھل کر واضح کر دینا چاہئے !!

آخر میں میری بھی آپ سے استدعا ہے کہ ۔۔۔
اللہ تعالی نے آپ کو دین کی محبت میں مبتلا کیا ہے آپ تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن حکیم کو خود سے سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی غور و خوض کیجئے کہ امت کے جو جو پیش رو مثلاَ صحابہ کرام ائمہ محدثین علماء عظام گزرے ہیں ، انہوں نے قرآن کو کیسے سمجھا تھا ؟؟
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-12-10), rabab (06-03-11), فیصل ناصر (14-09-10), کنعان (06-03-11), محمد عاصم (16-09-10), محمدمبشرعلی (17-09-10), مرزا عامر (13-09-10), مسٹر شیف (15-09-10), ابوسعد (06-03-11), احمد بلال (21-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11), راجہ اکرام (14-09-10)
پرانا 23-10-09, 10:19 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی باذوق،

آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ پھر آپ ایسا کیوں‌کہتے ہیں کہ یہ تمام امت کا خیال ہے؟

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (14-09-10), نورالدین (14-09-10), مرزا عامر (13-09-10), احمد بلال (21-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11)
پرانا 23-10-09, 10:24 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی باذوق،

صحیح حدیث ، قرآن کی روشنی میں ثابت ہوتی ہے۔ اس کا کوئی نہ کوئی ثبوٹ قرآن حکیم سے ملتا ہے۔ اور اس کے مخالف آیات کبھی قرآن حکیم سے نہیں‌ملتی ہین۔ قرآن حکیم فرمان الہی اور رسول اکرم کی زبان مباراک سے ادا ہوا۔ قرآن بہت صاف صاف اس بات کا تعین کرتا ہے کہ موت کے بعد قیامت تک کوئی احساس نہیں ہے ۔ اس کی واقعاتی شہادت حضرت عزیز کی قرآنی روایت سے ثابت ہے کہ بعد از موت کوئی احساس نہیں رہتا۔ اب اس نظریہ کے مخالف روایات پر کس طور یقین کیا جاسکتا ہے؟

تمام تر خلوص سے عرض کررہا ہوں کہ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ عربی میں‌ہی قرآن حکیم سمجھ لیتے ہیں۔ انشاء اللہ ضرورت ہوئی تو آپ سے مدد حاصل کروں گا۔


والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (14-09-10), مرزا عامر (13-09-10), احمد بلال (21-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11)
پرانا 26-10-09, 01:54 AM   #6
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی باذوق،

آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ پھر آپ ایسا کیوں‌کہتے ہیں کہ یہ تمام امت کا خیال ہے؟

والسلام
محترم فاروق بھائی !
یہ تو میں صرف آپ سے سن رہا ہوں کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔
ورنہ بچپن سے اب تک تو میں عذاب قبر کے معاملے کو امت کا اجماعی مسئلہ سنتا اور پڑھتا آیا ہوں۔

خیر اگر آپ کہتے ہیں تو چلئے مان لیتا ہوں کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ مگر بھائی ! کیا صرف یونہی کہنے سے مان لوں ؟ آخر اتنے اہم معاملے پر صحابہ کرام یا تابعین عظام یا ائمہ محترمین کے ارشادات تو موجود ہوں گے ہی۔
کیا آپ ان میں سے کسی کے ایسے حوالے دے سکتے ہیں جن میں انہوں نے عذاب قبر کا قرآنی آیات کے سہارے انکار کیا ہو؟

دیکھئے فاروق بھائی۔ آپ کے قرآنی فہم کا میں انکار نہیں کر رہا۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ جس طرح آپ قرآن کریم کے ساتھ مخلص ہیں بالکل اسی طرح بلکہ اس سے کئی گنا بڑھ کر قرآن سے مخلص صحابہ / تابعین / ائمہ رہے ہیں۔ یہ بات تو یقیناَ آپ بھی مانتے ہوں گے۔
تو ذرا آپ اپنی تحقیق سے وہ حوالہ جات فراہم کریں جن میں صحابہ / تابعین / ائمہ نے بالکل آپ کی طرح قرآنی آیات کی مدد سے "عذاب قبر" کا انکار کیا ہو۔
امید ہے کہ دیگر قارئین کے نزدیک اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لئے آپ ضرور حوالے لے آئیں گے۔ میں منتظر ہوں۔
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
کنعان (06-03-11), محمد عاصم (16-09-10), مرزا عامر (13-09-10), مسٹر شیف (15-09-10), اویسی (15-09-10), ابوسعد (06-03-11), احمد بلال (21-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11), راجہ اکرام (14-09-10)
پرانا 26-10-09, 02:06 AM   #7
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی باذوق،

صحیح حدیث ، قرآن کی روشنی میں ثابت ہوتی ہے۔ اس کا کوئی نہ کوئی ثبوٹ قرآن حکیم سے ملتا ہے۔ اور اس کے مخالف آیات کبھی قرآن حکیم سے نہیں‌ملتی ہین۔ قرآن حکیم فرمان الہی اور رسول اکرم کی زبان مباراک سے ادا ہوا۔ قرآن بہت صاف صاف اس بات کا تعین کرتا ہے کہ موت کے بعد قیامت تک کوئی احساس نہیں ہے ۔ اس کی واقعاتی شہادت حضرت عزیز کی قرآنی روایت سے ثابت ہے کہ بعد از موت کوئی احساس نہیں رہتا۔ اب اس نظریہ کے مخالف روایات پر کس طور یقین کیا جاسکتا ہے؟

تمام تر خلوص سے عرض کررہا ہوں کہ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ عربی میں‌ہی قرآن حکیم سمجھ لیتے ہیں۔ انشاء اللہ ضرورت ہوئی تو آپ سے مدد حاصل کروں گا۔


والسلام
فاروق بھائی ! آپ نے لکھا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعد از موت کوئی احساس نہیں رہتا۔ اب اس نظریہ کے مخالف روایات پر کس طور یقین کیا جاسکتا ہے؟

ٹھیک ہے فاروق بھائی۔ آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ اس نظریہ کی مخالف روایات پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ مگر بھائی۔ کم سے کم آپ اپنی بات کی دلیل کے طور پر وہ روایات تو لے آئیں جو آپ کے نظریے سے اتفاق کرتی ہوں۔
اب آپ یہ مت کہئے کہ : صرف قرآن کی گواہی کافی ہے۔
بھائی۔ اگر صرف قرآن کی گواہی کافی ہوتی تو پھر آپ کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی کہ :
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ پھر آپ ایسا کیوں‌کہتے ہیں کہ یہ تمام امت کا خیال ہے؟
چاہئے تو تھا کہ ساری امت قرآن کی گواہی پر اتفاق کر لیتی۔ مگر آپ ہی کے بقول اس معاملے پر امت میں اختلاف ہے۔
تو بھائی۔ جب اختلاف ہے تو ایسی صورت میں آپ کو وہ قرآنی آیت تو یاد ہوگی جہاں اختلاف کے موقع پر بات کو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پلٹانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
تو آپ کا فرض ہے کہ کوئی ایسا صحیح فرمانِ نبوی لے آئیں جس میں عذابِ قبر کا واضح طور سے انکار کیا گیا ہو۔
بصورت دیگر آپ ہمیں بتائیے کہ پھر ہم حق تک کیسے پہنچیں ؟؟
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-12-10), فیصل ناصر (14-09-10), کنعان (06-03-11), محمد عاصم (16-09-10), مرزا عامر (13-09-10), مسٹر شیف (15-09-10), اویسی (15-09-10), ابوسعد (06-03-11), احمد بلال (21-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11), راجہ اکرام (14-09-10)
پرانا 15-09-10, 01:35 AM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَاذَا ھُم مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلَى رَبِّھمْ يَنسِلُونَOقَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَاھَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَO
اور صُور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گےo کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھا دیا، وہی تو ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھاo (سورۃ یس آیات 51 ، 52 )

مندر جہ بالا آیات کے ترجمے سے پہلی بات تو یہ واضح ہو رہی ہے کہ یہ آیات مومنوں کے لئیے نہیں بلکہ مجرمین کے لئیے ہیں ۔
دوسری یہ کہ اگر ان کو قبر میں عذاب ہو رہا ہوتا تو وہ خواب سے جاگنے کی بات کرتے ؟؟؟؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-09-10), فاروق سرورخان (15-09-10), آصف وسیم (17-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11)
پرانا 17-09-10, 07:19 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَاذَا ھُم مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلَى رَبِّھمْ يَنسِلُونَOقَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَاھَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَO
اور صُور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گےo کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھا دیا، وہی تو ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھاo (سورۃ یس آیات 51 ، 52 )

مندر جہ بالا آیات کے ترجمے سے پہلی بات تو یہ واضح ہو رہی ہے کہ یہ آیات مومنوں کے لئیے نہیں بلکہ مجرمین کے لئیے ہیں ۔
دوسری یہ کہ اگر ان کو قبر میں عذاب ہو رہا ہوتا تو وہ خواب سے جاگنے کی بات کرتے ؟؟؟؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی مرزا عامر صاحب ،
آپ نے یہ سوال میرے ایک تھریڈ میں بھی ارسال فرمایا ہے ، اس کا جواب وہاں پیش کیا جا چکا ہے ، دیکھ لیجیے ، باقی گفتگو ان شاء اللہ وہیں جاری رکھی جا سکتی ہے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-12-10), محمد عاصم (23-09-10), مرزا عامر (17-09-10), ابوسعد (06-03-11), احمد بلال (21-09-10), ارشد کمبوہ (06-03-11)
پرانا 06-03-11, 12:47 AM   #10
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,804
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمتہ اللہ
جزاک اللہ خیرا
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-03-11, 09:44 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
6:93 وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوْحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنَزلَ اللّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا (نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو اور (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) جو (خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میں (بھی) عنقریب ایسی ہی (کتاب) نازل کرتا ہوں جیسی اللہ نے نازل کی ہے۔ اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہوں گے تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اﷲ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے

9:101 وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ
اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے، اور وہ بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے

40:45 فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا

40:46 النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو

14:27 يُثَبِّتُ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللّهُ مَا يَشَاءُ
ثبات عطا فرماتا ہے اللہ اہلِ ایمان کو قولِ حق (کی برکت) سے دُنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور گمراہ کردیتا ہے اللہ ظالموں کو اور کرتا ہے اللہ جو چاہے۔

--------------------------------------------------------------------

برادر من باذوق، السلام علیکم

آپ کی فراہم کردہ آیات میں نے اوپر نقل کردی ہیں۔ عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ۔

سچ سچ بتائیے کہ آپ نے کبھی ان آیات کو ترجمے کے ساتھ خود بھی کبھی پڑھا ہے؟ اس متن یا ترجمہ میں کہیں لفظ عذاب قبر کہاں پر ہے
کچھ ایسی ہی سنی سنائی باتیں ہم سب کو بھائی عادل سہیل نے پہنچائی تھی۔ خیالات ان کے نہیں تھے بلکہ کسی پیش رو کے تھے۔

صاحب ان میں‌سے ایک بھی آیت سے واضح نہیں‌کہ عذاب قبر بھی کچھ ہوتا ہے۔

6:93 میں‌صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے جعلی وحی کا دعوی کیا ہوتا ہے انکی موت کے وقت فرشتے جان تکلیف و عذاب دے کر نکالتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جان نکل جانے سے قبر تک جانے میں کچھ نہ کچھ وقت ہوتا ہے۔ یہ عذاب ان کو اس وقت دیا جارہا ہے جب کہ جان ان کے جسم کے اندر ہے اور جب نکالی جارہی ہے تو تکلیف ہورہی ہے۔ جان نکل جانے کے بعد ، دفنانے کے بعد کسی عذاب کا تذکرہ اس آیت میں‌نہیں‌ہے۔ لہذا یہ آیت کسی طور بھی عذاب قبر کی دلیل نہیں‌ بنتی۔

9:101 میں‌بھی عذاب قبر کا نام بھی نہیں‌لیا گیا ہے۔ دوبار عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا جو منافق ہیں۔ ایک بار اس دنیا میں اور ایک بار آخرت میں

40:45 میں‌ زندہ لوگوں‌ کا تذکرہ کیا جارہا ہے کہ اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا اور عذاب نے ان کو گھیر لیا۔ یہاں بھی عذاب قبر یا موت کے بعد قیامت تک عذاب میں مبتلا رہنے کے بارے میں‌کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔

40:46 میں یہ بتایا جارہا ہے کہ ان کو روز آتش دوزخ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے لیکن ڈالا نہیں جاتا، بروز قیامت حکم ہوگا کہ ان کو اس آگ میں ڈال دو یعنی عذاب شروع قیامت کے بعد ہوگا جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

14:27 اس آیت میں تو عذاب کا کوئی تذکرہ ہی نہیں ۔ جو کوئی بھی اس سے عذاب قبر کا نظریہ لایا ہے اس کی بات سمجھ میں‌ نہیں آتی۔ اس تعلق کو آپ واضح کیجئے۔

بھائی ۔ موت کے بعد ، کسی کو کچھ احساس نہیں ہوگا۔ اس لئے وقت کا احساس بھی نہ ہوگا۔ لہذا قیامت تک ایسا لگے گا کہ کوئی وقت ہی نہیں گذرا۔ گویا ایسا لگے گا کہ ادھر مرے اور ادھر اٹھے ، قیامت واقع ہوچکی ہوگی تو سب کو اٹھایا جائےگا، یہ سار وقت گویا فوراً گذر جائے گا۔ پھر حساب اور پھر سزا و جزا ، یہی ایمان ہے مسلم کا۔ یہی فرمان ہے اللہ تعالی کا۔ میری آپ سے استدعا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو دین کی محبت میں مبتلا کیا ہے آپ تھوڑا تھوڑا کرکے پورا قرآن حکیم ایک بار پڑھئے، غور و خوض کے ساتھ۔

والسلام
جی ہاں ۔ چودہ سو سال سے کوئی بھی قرآن کی تشریح نہیں سمجھ سکا۔ آج چودہ سو سال بعد پاکستان کو اللہ نے غامدی اور غلام سرور جیسے قرآن فہم عطا کئے ہیں۔ حدیث کی تو بات ہی نہ کریں
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد (06-03-11)
جواب

Tags
color, com, eman, hadeeth, magenta, گمان, قرآن, قرآنی, آج, ایمان, اللہ, توحید, حدیث, دیکھو, زندگی, شام, عالم, عباس, عبدالرحمٰن, عذاب, عذاب قبر, عذابِ, عظیم, صبح, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) ایکسٹو متفرقات 2 09-03-11 01:54 PM
امام کی تلاوت اور جدید سائنس wajee اسلام اور معاشرہ 5 09-03-11 06:55 AM
نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 12 31-12-10 02:09 PM
ماہ مقدس رمضان اور تلاوت قرآن Real_Light ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 21-08-09 05:39 PM
موت ایک اٹل حقیقت !!!!!ایک منتخب تحریر وجدان آخرت 7 17-08-09 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger