واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


عشق -- عشقِ الٰہی / عشقِ رسول یا محبت الٰہی/ٕمحبت رسول

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-05-09, 03:06 AM   #1
عشق -- عشقِ الٰہی / عشقِ رسول یا محبت الٰہی/ٕمحبت رسول
باذوق باذوق آف لائن ہے 07-05-09, 03:06 AM

تمہید

عشق ۔۔۔
محبت کے تمام ناموں میں یہ نام سب سے زیادہ کڑوا ، کسیلا اور گھٹیا ہے ۔
اس لفظ کا استعمال قدیم عربی کلام میں بہت کم اور قرآن اور صحیح احادیث میں بالکل نہیں ہوا ہے ۔
البتہ شعراء و صوفیاء حضرات نے اپنے کلام میں اس لفظ کا کثرت سے استعمال کیا ہے اور جس کے معنی فرطِ محبت ہے ۔
لغت کے مطابق ۔۔۔ عشق ، دراصل ایک لیس دار پودے کا نام ہے جو کسی چیز سے چمٹ جائے تو اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا ۔
یہی حال عشق کا ہے کہ جس کو اس نام کی بیماری لگ گئی وہ اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے ۔
عشق کا لفظ ضرر رساں پہلو کا حامل ہے ۔
عشق کا جذبہ بے راہ روی کی نفسانی خواہشات سے لبریز ہوتا ہے ۔
اسی لیے قرآن و حدیث میں اس لفظ کا کہیں بھی استعمال نہیں ہوا ہے ۔

ایک شخص زید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا ہے ۔
اگر آپ زید کی اس محبت کی انتہا کو عشق کا نام دیں اور کہیں کہ
زید ، اپنی ماں سے عشق کرتا ہے
تو ذرا بتائیے ۔۔۔ معاشرے میں یا نیٹ کی اردو کمیونیٹی میں لوگ آپ کے تعلق سے کس قسم کا خیال ظاہر فرمائیں گے ؟

جب آپ مانتے ہیں کہ ۔۔۔
ماں سے عشق نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔
صحابہ (رضوان اللہ عنہم) جو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہم سے زیادہ انتہائی درجے کی محبت کرنے والے تھے ۔۔۔ انہوں نے بھی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق کا دعویٰ نہیں کیا ۔۔۔
تو آپ ، رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق کا دعویٰ کرنے میں کس طرح حق بجانب ثابت ہوں گے ؟؟؟

باذوق
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1169
Reply With Quote
پرانا 07-05-09, 03:09 AM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عشق کا جذبہ بے راہ روی کی نفسانی خواہشات سے لبریز ہوتا ہے ۔
اسی لیے قرآن و حدیث میں اس لفظ کا کہیں بھی استعمال نہیں ہوا ہے ۔
یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کا سرا جنون سے ملتا ہے ۔
چنانچہ اہلِ قاموس لکھتے ہیں :
الجنون فنون و العشق من فنہ
جنون کی کئی قسمیں ہیں اور عشق اس کی ایک قسم ہے ۔

عشق کی اس معنوی حقیقت کی طرف مرزا غالب نے بھی اشارہ کیا ہے :
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

مطلقاََ اس لفظ کے استعمال سے روکنا مناسب امر نہیں کہلایا جا سکتا ۔
کیونکہ ۔۔۔ ایک شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ’میری جان ، مجھے تم سے عشق ہے‘ ۔

جو عشق کرتا ہے ، اس کو عاشق کہا جاتا ہے ۔ اور جس سے عشق ہو ، وہ معشوق کہلاتا ہے ۔
آج تک کی اسلامی تاریخ میں کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ’معشوق‘ کے لفظ سے یاد نہیں کیا ۔
لہذا اگر کوئی خاتم النبیین امامِ اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لفظ عشق استعمال کرتے ہوئے عشقِ رسول کا دعویٰ کرے تو گویا دوسرے معنوں میں وہ رسول اللہ کو معشوق کہتا ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے طور پر بیشمار الفاظ بیان ہوئے ہیں ۔۔۔ ہادی ، شفیع ، مکرم ، اکرم ، کریم ، رحمت ، مبشر ، نذیر ، محسن ، مجتبیٰ ۔۔۔ وغیرہ ۔
اب اگر کوئی ان صفات میں ایک اور لفظ کا معشوق کا اضافہ فرمائے تو بجا طور پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ رسول کی صفات اللہ بیان کرے گا یا ہم امتی ؟
معشوق جیسا تیسرے درجے کا لفظ ۔۔۔ اُس پیغمبر آخر الزماں رحمۃ للعالمین کے لیے مناسب کہلایا جا سکتا ہے ؟
بالکل نہیں ، ہرگز نہیں ۔

امتِ مسلمہ کا یہ مشترکہ عقیدہ ہے کہ ۔۔۔
رسول کے سب سے زیادہ جاں نثار ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سب سے زیادہ فرمانبردار اور آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو سب سے زیادہ چاہنے والے ۔۔۔
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ (رضی اللہ عنہم اجمعین) تھے ۔
اسلام کی تاریخ میں ایک چھوٹی سے چھوٹی سطر بھی ایسی نہیں ملتی جس میں کسی صحابی نے اپنے آپ کو یا کسی دوسرے صحابی کو عاشقِ رسول کا لقب یا خطاب دیا ہو ۔
ثابت یہی ہوا کہ ۔۔۔ رسول سے محبت تو کی جا سکتی ہے لیکن رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق ، قطعاََ نہیں کیا جا سکتا ۔

*****
کوئی بھی اپنی سگی بہن سے ایسا نہیں کہتا کہ
" مجھے اپنی بہن سے عشق ہے "
بلکہ ۔۔۔ اگر یوں کہے کہ " مجھے اپنی بہن سے محبت ہے " تو یہ فطری بات سمجھی جاتی ہے۔
جب سب مانتے ہیں کہ ایک لفظ محبت اگر کوئی بھائی اپنی بہن سے کہے تو یہی لفظ کسی غیر لڑکی کو کہنے سے اُس بھائی کو روکا جائے گا۔
بالکل اسی طرح جب کوئی عاشق اپنی معشوقہ کے لیے لفظ عشق استعمال کرے اور یہی لفظ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے استعمال کرنے سے کوئی اُس عاشقِ نامراد کو روکے یا ٹوکے ۔۔۔ تو روکنے ٹوکنے والے پر اعتراض بھی نہ کیا جانا چاہئے ۔

ضروری نہیں کہ ہر جذبے کے دو رُخ ہوں ۔ اگر ہوں بھی تو پھر کسی جذبے کا رُخ بدلتے ہی اس جذبے کا نام بھی تبدیل ہو جائے گا ۔
مثلاََ ۔۔۔ محبت ایک جذبہ ہے ۔۔۔ اس کا نام لیتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں نرمی ، گداز ، لگاؤ کی طرف دھیان جاتا ہے ۔
لیکن یہی جذبہ اگر منفی رُخ اختیار کرے تو لوگ اس منفی رُخ کو محبت کا نام تو ہرگز نہیں دیں گے بلکہ نفرت ، جنون ، عشق یا پاگل پن کے الفاظ استعمال میں لائیں گے ۔
اسی طرح غصہ بھی ایک جذبہ ہے ۔۔۔ اور یہ ایک منفی جذبہ ہے ، اس سے بچنا چاہئے ۔ اب اگر اس جذبے کا رُخ تبدیل کیا جائے تو اس کا نام بھی پھر غصہ نہیں رہے گا ۔۔۔ حمیت یا غیرت ہو جائے گا ۔

عمومی مشاہدہ تو یہی رہا ہے کہ نفرت کی طرح عشق بھی ایک خودغرض اور سفلی جذبہ ہے ۔
عشق کا مثبت پہلو آج تک دیکھا نہیں گیا ۔ اگر بالفرض ہو بھی تو وہ لغوی معنوں میں عشق نہیں بلکہ محبت کہلائے گا ۔
لہذا ایسا کہنا بیجا نہیں کہ ۔۔۔ نفرت کی طرح ، عشق ایک گھٹیا جذبہ ہے ۔

قرآن میں جھوٹ بولنے سے منع کیا گیا ہے اور جھوٹوں پر خود اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔
اب کوئی آپ سے سوال کر دے کہ : بتائیے قرآن میں لفظ جھوٹ کہاں لکھا ہے ؟
تو آپ کا کیا جواب ہوگا ؟
کیونکہ جھوٹ تو اُردو زبان کا ایک لفظ ہے ۔ جبکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے ۔
اور اُردو لفظ ’جھوٹ‘ کا صحیح عربی مترادف لفظ ’ کذب‘ ہے ۔ اور یہی عربی لفظ کذب قرآن میں استعمال ہوا ہے ۔
لہذا اس بات کا میری اور آپ کی طرح کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ قرآن میں جھوٹ کا لفظ لکھا ہوا نہیں ہے ۔

بالکل یہی معاملہ ۔۔۔ لفظ محبت کا ہے ۔
عربی میں اس کا عین مترادف لفظ ‘ حُب ‘ ہے ۔ آپ کوئی سی بھی عربی۔اُردو لغت چیک کر لیں ۔
حُب ۔۔۔ قرآن میں درج ذیل جگہوں پر ہے :
1) سورہ البقرہ ، آیات : 190 ، 195 اور 222 ۔
2) اٰل عمرٰن ، آیت : 46 ۔
3) النساء ، آیت : 148 ۔
4) المائدہ ، آیت : 42 ۔
5) الانفال ، آیت : 58 ۔


*****
عشق کسی بھی جذبے کی انتہا ہو ۔۔۔ اسلام کی سیدھی سادی تعلیمات تو یہی ہیں کہ ہر بات میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کیا جائے ۔۔۔ انتہا کی طرف جانے کا خود رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کوئی مشورہ نہیں دیا ہے اور نہ ہی عشق ایسا گندا اور گھٹیا عمل صحابہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ثابت ہے ۔

اللہ صرف جذبوں کو نہیں دیکھتا بلکہ ہمارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے ۔ اور یہ صحیح مسلم کی مشہور حدیث ہے ۔
اللہ تعالیٰ ۔۔۔ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے ۔
صحیح مسلم ، كتاب البر والصلة والآداب ، باب : تحريم ظلم المسلم وخذله واحتقاره ودمه وعرضه وماله ، حدیث : 6708

اور ہمارا یہ عمل ، جو ہم زبانی کلامی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عشق کا لفظ جوڑ کر خود کو عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کہلاتے ہیں ۔۔۔ اللہ کے ہاں مقبول نہیں ۔۔۔ اس لیے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ مبارکہ ، عشق جیسے گھٹیا جذبے سے متوصف نہیں ہے ۔

بہت سی کتب میں یوں بھی لکھا ہوتا ہے :
رب نے اپنے محبوب سے عشق کیا ۔۔۔
حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) سچے عاشق رسول تھے ۔۔۔
لیکن ایسی باتیں دلیل نہیں بن سکتیں۔
اگر ایسی ہی بے سند باتوں کو بنیاد بنایا جائے تو ہر کوئی اٹھ کھڑا ہوگا اور اپنے اپنے دعوے یوں ٹھونک دے گا :
مرزا غلام احمد اللہ کے ایک سچے نبی تھے ۔
گوہر شاہی کا کہنا ہے کہ فریضہ ء حج اب مسلمانوں پر سے ساقط ہو چکا ہے ۔
اللہ تعالیٰ حضرت علی (رض) کو خاتم النبیین بنانا چاہتا تھا لیکن حضرت جبریل (ع) نے غلطی سے وحی حضرت محمد (ص) پر نازل کر دی ۔
(نعوذ باللہ ، ثم نعوذباللہ)

جب درج بالا تین باتوں کے ثبوت میں قرآن و حدیث سے دلیل طلب کی جائے گی تو ’عشقِ رسول‘ کے اثبات کے لیے کیوں دلیل طلب نہیں کی جا سکتی ؟ کیا ’عشقِ رسول‘ یا ’عاشقِ رسول‘ قول کی سچائی کی دلیل میں قرآن و حدیث سے ثبوت مانگنا بےکار محض بات ہے ؟؟

رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت ، معروف بات ہے اور قرآن و احادیث بھی اس کی گواہ ہیں ۔
لیکن عشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر معروف بات ہو بھی تو یہ ایک متنازعہ معاملہ ہے ۔ کیونکہ عشق کے جو معنی عمومی طور پر لیے جاتے ہیں وہ سب کو معلوم ہیں ۔
اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متعلق ہر وہ بات جس پر مسلمانوں میں تنازع اٹھ کھڑا ہو ۔۔۔ اس کو حل کرنے کے لیے قرآن میں ایک بہت آسان قاعدہ بیان ہوا ہے ۔۔۔ شائد آپ کو بھی معلوم ہو :
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ ۔۔۔
اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو ۔۔۔
(سورہ النساء ، آیت : 59 )

اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف لوٹانے کا مطلب ۔۔۔ قرآن اور حدیث سے دلیل طلب کرنا ہے ۔۔۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے ۔
لہذا اگر اب بھی کسی کو عشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دعویٰ ہے تو اس فرد کو صرف اور صرف قرآن یا صحیح احادیث سے اپنی بات کی تائید میں دلیل دینا چاہئے ۔۔۔ ورنہ بحث برائے بحث یا خواہ مخواہ کی ضد یا ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں ہے ۔
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-05-09, 03:11 AM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عشقِ حقیقی یا عشقِ مجازی کی کوئی ترکیب نہ صحیح العقیدہ مسلمان کے ہاں قابلِ قبول ہے اور نہ اُن علماء و ائمہ کے ہاں جو دین و دنیا کے کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے راست قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔
عشقِ حقیقی یا عشقِ مجازی کی ادب میں کوئی حیثیت ہو سکتی ہے ( اور جس کا انکار کوئی نہیں کرتا ) لیکن اسلام میں اس طرح کے خودساختہ عقیدوں کی قطعاََ گنجائش نہیں ۔ اگر ذرہ برابر بھی گنجائش ہوتی تو خیرالقرون سے اس کا ثبوت ضرور ملتا ۔ جب کہ وہ تین بہتر زمانے وہ زمانے تھے جن کے بہترین ہونے کی گواہی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ۔

بہت سے لوگ معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ :
اگر عشق ، واقعی ایک گھٹیا جذبہ ہے تو اسلام نے ہمیں کیوں نہیں بتایا ، جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے دل و جان سے محبت کرو وہاں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ عشق نہ کرو ؟؟

تو اس کا جواب ذیل کی حدیث ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مجھے حد سے مت بڑھانا جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حد سے بڑھا دیا ۔
میں تو محض اس کا بندہ ہی ہوں ، تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو ۔
( صحيح بخاري ، كتاب احاديث الانبياء ، باب : {‏واذكر في الكتاب مريم اذ انتبذت من اهلها‏} ، حدیث : 3484 )

لہذا ۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف رسول کہیے اور وہی تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منسوب کیجئے جن کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے ۔۔۔ مثلاََ رحمۃ للعالمین ، نذیر ، بشیر ، شافع ، ہادی ، اکرم ، مکرم ۔۔۔ وغیرہ ۔
لیکن اگر آپ خود کو عاشقِ رسول کہیں گے تو سامنے والا لازمی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو معشوق سمجھے گا ۔۔۔ اور یہ معشوق جیسا تیسرے درجے کا لفظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ لگنا یا لگانا کسی بھی مسلمان کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے ۔

آخری بات یہ کہ
اکثریت اس حقیقت کو مانتی ہے کہ :
عشق وہ جذبہ ہے جو عقل و ہوش سے بےگانہ کر دیتا ہے ۔

اب اسی حقیقت پر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ
اللہ سے محبت اگر ہوش و حواس اور عقل سے بےگانہ ہو کر کی جائے تو پھر
اللہ کی عبادت کیسے کی جائے گی ؟ اللہ کے احکام پر عمل آوری کس طرح ہوگی ؟
رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کیسے کی جائے گی ؟ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنتوں پر کیسے عمل ہوگا؟
کیونکہ ۔۔۔ عبادت کرنے کے لیے ، احکامِ الٰہی پر عمل کرنے کے لیے ، سنتوں کو اپنانے کے لیے ۔۔۔ عقل اور ہوش و حواس کا ہونا بہت بہت ضروری ہے !!
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
باذوق کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن آدم (25-05-09)
پرانا 07-05-09, 03:25 AM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سر ورق کے لیے تجویز کرتا ہوں۔ بہت فکر انگیز تحریر ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-05-09, 06:52 AM   #5
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے آپ دونوں‌اشخاص کی بات سے اتفاق ہے۔
اس تحریر پر میری جانب سے شکریہ قبول فرمائیں۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن آدم (25-05-09)
پرانا 07-05-09, 02:08 PM   #6
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے آج پتا چلا ہے کہ بہت زیادہ لکھنے والے جاہل بھی ہوتے ہیں جنہیں عشق کا ہی نہیں پتا۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-05-09, 12:44 PM   #7
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 6,023
شکریہ: 762
208 مراسلہ میں 554 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔عشقِ حقیقی یا عشقِ مجازی کی ادب میں کوئی حیثیت ہو سکتی ہے ( اور جس کا انکار کوئی نہیں کرتا ) لیکن اسلام میں اس طرح کے خودساختہ عقیدوں کی قطعاََ گنجائش نہیں ۔ اگر ذرہ برابر بھی گنجائش ہوتی تو خیرالقرون سے اس کا ثبوت ضرور ملتا ۔ جب کہ وہ تین بہتر زمانے وہ زمانے تھے جن کے بہترین ہونے کی گواہی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ۔


آخری بات یہ کہ
اکثریت اس حقیقت کو مانتی ہے کہ :
عشق وہ جذبہ ہے جو عقل و ہوش سے بےگانہ کر دیتا ہے ۔

اب اسی حقیقت پر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ
اللہ سے محبت اگر ہوش و حواس اور عقل سے بےگانہ ہو کر کی جائے تو پھر
اللہ کی عبادت کیسے کی جائے گی ؟ اللہ کے احکام پر عمل آوری کس طرح ہوگی ؟

میرے بھائی آگہی حاصل کیجیے!
اپنا نے جو موضوع چنا ہے اس سے متعلق آپکی معلومات بہت کم ہے اگر آپکی معلومات اچھی ہوتی تو آپ یہ تھریڈ نہ بھیجتے۔
والسلام مباح
مباح آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-05-09, 01:59 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
میرے بھائی آگہی حاصل کیجیے!
اپنا نے جو موضوع چنا ہے اس سے متعلق آپکی معلومات بہت کم ہے اگر آپکی معلومات اچھی ہوتی تو آپ یہ تھریڈ نہ بھیجتے۔
والسلام مباح
السلام علیکم
محترم بھائی۔ ذرا دل بڑا کر کے میری کم علمی کو معاف کیجئے۔
اور اس موضوع سے متعلق جو آگہی آپ کو حاصل ہے ، وہ اگر آپ یہاں شئر کر دیں تو ہم سب طلباء کے علم میں اضافہ ہو جائے گا۔
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-06-09), فیصل ناصر (25-05-09), ابن آدم (25-05-09), عبداللہ حیدر (24-05-09)
پرانا 25-05-09, 10:31 AM   #9
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 6,023
شکریہ: 762
208 مراسلہ میں 554 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت
تمام جہانوں میں اور عالم کبیر کے ھر ذرے میں اللہ تعالی کی نورانیت ظاھر ھوتی ھے۔ ان تمام انوار کو اکٹھا کرکے باری تعالی نے عالم صغیر یعنی آدمی میں رکھ دیا۔ اسلئےتمام مخلوق سے آدمی افضل ھے۔ اس میں عالم کبیر کے صفات ظاھر ہیں۔ گویا کہ باری تعالی نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ اب تمام انسانوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک ولی میں رکھ دیا۔ تمام ولیوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک غوث میں رکھ دیا اور تمام غوثوں کی نورانیت کو ایک مجدد میں رکھ دیا۔ تمام مجددوں کے نور کو اکٹھا کرکے ایک صحابی میں رکھ دیا۔ تمام صحابہ کے نور کو اکٹھا کرکے ایک چھوٹے نبی علیہ السلام میں رکھ دیا۔ تمام نبیوں کی نورانیت کو ایک رسول علیہ السلام میں رکھ دیا اور تمام رسولوں کے نور کو اکٹھا کرکے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھ دیا۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام نورانیت کا مجموعہ اور جڑ ہیں۔
جیسا کہ ایک درخت کی جڑ تمام شاخوں اور پتوں کو غذا دیتی ھے اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام افراد امت کو ایمانی تقویت بخشتے ہیں۔ جس طرح کہ اگر ایک پتّہ یہ دعوی کرے کہ میں جڑ سے تعلق رکھے بغیر سر سبز رہ سکتا ھوں تو یہ دعوی باطل ھوگا اور وہ جڑ سے تعلق منقطع کرکے سر سبز نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح کوئ بھی انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق توڑ کر مسلمان یا مومن نہیں بن سکتا۔ جتنا تعلق اور محبت زیادہ ھوگی اتنا ھی ایمان قوی ھوگا۔
جب آدمی کلمۂ طیبہ پڑھ لیتا ھے تو دائرہ اسلام میں داخل ھو جاتا ھے، مسلمان بن جاتا ھے۔ جب اسلامی ارکان پورے کرکے اسلام میں مکمل ھو جاتا ھے تو مومن بن جاتا ھے۔ جب اس کا ایمان قوی ھوجاتا ھے تو موقن بن جاتا ھے۔ جب اس کا یقین کامل ھوتا ھے تو محب بن جاتا ھے۔ جب محبت اور عشق میں کامل ھوجاتا ھے تو باری تعالی اسے اپنا محب اور مقرب بنالیتے ھیں۔
اسلامی ارکان کامل کرکے ایمان میں قوی ھونا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر منحصر ھے۔ جتنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اتنا ھی قوی ایمان۔ جتنی کم محبت اتنا ھی ایمان کمزور جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث شریف میں ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ) یعنی “اے صحابہ! تم میں سے کوئ بھی ایماندار نہیں ھوسکتا یہاں تک کہ اس کی محبت میرے ساتھ ھو۔ محبت اولاد سے، والدین سے، مال سے، تمام دنیا سے، تمام کائنات سے زیادہ ھو۔” تو معلوم ھوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کامل ھونا ھیایمان کی تکمیل ھے۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھ جاتی ھے تو باری تعالی اس کا ھاتھ پکڑلیتے ہیں۔ وہ کامل ولی، غوث اور مجدد ھوجاتا ھے۔ باری تعالی ارشاد فرماتے ہیں ” قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّون اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ” (سورة آل عمران-31)۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ھوجاتی ھے تو اتباع کرنا آسان ھوجاتا ھے۔ پجب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع میسر آجائے تو باری تعالی کی محبت میں کامل ھوجاتا ھے۔اور اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کرکے گویا اس نے خدا کی محبت، گناھوں سے بخشش اور خدا کو راضی کرنا سب کچھ حاصل کرلیا۔ گویا تمام اسلام کا انحصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ھے۔ اسی سے روح کو تقویت حاصل ھوتی ھے۔ جب روحانیت غالب آتی ھے اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹتی ھے اللہ تعالی اس پر راضی ھوجاتا ھے۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنھم وَ رََضُوا عنہُُ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہو جاتے ہیں۔
مباح آف لائن ہے   Reply With Quote
مباح کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل (01-06-09)
پرانا 25-05-09, 01:42 PM   #10
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 6,023
شکریہ: 762
208 مراسلہ میں 554 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔ صحابہ کرام کی نماز اور زیارتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین منظر


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایامِ وصال میں جب نماز کی امامت کے فرائض سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سپرد تھے، پیر کے روز تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں حسب معمول باجماعت نماز ادا کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدرے افاقہ محسوس کیا۔ آگے روایت کے الفاظ ہیں :

فکشف النبی صلي الله عليه وآله وسلم ستر الحجرة، ينظرإلينا و هو قائمٌ، کأن وجهه ورقة مصحف، ثم تبسم.

بخاری، الصحيح، 1 : 240، کتاب الجماعة والامامة، رقم : 2648
مسلم، الصحيح، 1 : 315، کتاب الصلوة، رقم : 3419
ابن ماجه، السنن، 1 : 519، کتاب الجنائز، رقم : 41664
احمد بن حنبل، 3 : 5163
بيهقی، السنن الکبریٰ، 3 : 75، رقم : 64825
ابن حبان، الصحيح، 15 : 296، رقم : 76875
ابوعوانه، المسند، 1 : 446، رقم : 81650
نسائی، السنن الکبریٰ، 4 : 2261 رقم : 97107
عبدالرزاق، المصنف، 5 : 433، رقم
حميدی، المسند، 2 : 501، رقم : 111188
عبد بن حمید، المسند، 1 : 352، رقم : 121163
ابويعلی، المسند، 6 : 250، رقم : 3548

’’آپ نے اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ اٹھا کر کھڑے کھڑے ہمیں دیکھنا شروع فرمایا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور قرآن کا ورق ہو، پھر مسکرائے۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

فهممنا أن نفتتن من الفرح برؤية النبی صلي الله عليه وآله وسلم، فنکص أبوبکر علی عقبيه ليصل الصف، وظن أن النبی صلي الله عليه وآله وسلم خارج إلی الصلوٰة.

بخاری، الصحيح، 1 : 240، کتاب الجماعة والامامة، رقم : 2468
بيهقی، السنن الکبریٰ، 3 : 75، رقم : 34825
عبدالرزاق، المصنف، 5 : 4433
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 5194
عبد بن حمید، المسند، 1 : 302، رقم : 1163

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی خوشی میں قریب تھا کہ ہم لوگ نماز چھوڑ بیٹھتے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں پر پیچھے پلٹے تاکہ صف میں شامل ہوجائیں اور انہوں نے یہ سمجھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لانے والے ہیں۔‘‘

ان پر کیف لمحات کی منظر کشی روایت میں یوں کی گئی ہے :

فلما وضح وجه النبی صلي الله عليه وآله وسلم ما نظرنا منظرا کان أعجب إلينا من وجه النبی صلي الله عليه وآله وسلم حين وضح لنا.

بخاری، الصحيح، 1 : 241، کتاب الجماعة والامامة، رقم : 2649
مسلم، الصحيح، 1 : 315، کتاب الصلاة، رقم : 3419
ابن خزيمه، الصحيح، 2 : 372، رقم : 41488
ابوعوانه، المسند، 1 : 446، رقم : 51652
بيهقی، سنن الکبریٰ، 3 : 74، رقم : 64824
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 7211
ابو يعلی، المسند، 7 : 25، رقم : 2439

’’جب (پردہ ہٹا اور) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور سامنے آیا تو یہ اتنا حسین اور دلکش منظر تھا کہ ہم نے پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔‘‘

مسلم شریف میں فھممنا ان نفتتن کی جگہ یہ الفاظ منقول ہیں :

فبهتنا و نحن فی الصلوة، من فرح بخروج النبی صلي الله عليه وآله وسلم.

مسلم، الصحيح، 1 : 315، کتاب الصلوة، رقم : 419

’’ہم دورانِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باہر تشریف لانے کی خوشی میں حیرت زدہ ہو گئے (یعنی نماز کی طرف توجہ نہ رہی)۔‘‘

علامہ اقبال نے حالتِ نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشقِ زار حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے دیدارِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منظر کی کیا خوبصورت لفظی تصویر کشی کی ہے :

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

کم و بیش یہی حالت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی تھی۔ شارحینِ حدیث نے فھممنا ان نفتتن من الفرح برؤیۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معنی اپنے اپنے ذوق کے مطابق کیا ہے۔

1۔ امام قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

فهممنا أی قصدنا أن نفتتن بأن نخرج من الصلوة.

قسطلانی، ارشاد الساری، 2 : 44

’’پس قریب تھا یعنی ہم نے ارادہ کر لیا کہ (دیدار کی خاطر) نماز چھوڑ دیں۔‘‘

2۔ لامع الدراری میں ہے :

و کانوا مترصدين إلی حجرته، فلما أحسوا برفع الستر التفتوا إليه بوجوههم.

گنگوهي، لامع الدراری علی الجامع البخاری، 3 : 150

’’تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی توجہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کی طرف مرکوز تھی، جب انہوں نے پردے کا سرکنا محسوس کیا تو تمام نے اپنے چہرے حجرۂ انور کی طرف کر لئے۔‘‘

3۔ مولانا وحید الزماں حیدر آبادی ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

فهممنا أن نفتتن من الفرح برؤية النبی صلي الله عليه وآله وسلم.

وحيد الزمان، ترجمة البخاری، 1 : 349

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے ہم کو اتنی خوشی ہوئی کہ ہم خوشی کے مارے نماز توڑنے ہی کو تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ نیچے ڈال دیا۔‘‘

امام ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں :

فکاد الناس ان يضطربوا فأشار الناس ان اثبتوا.

ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 327، رقم : 386

’’قریب تھا کہ لوگوں میں اضطراب پیدا ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو۔‘‘

شیخ ابراہیم بیجوری رحمۃ اﷲ علیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اضطراب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

فقرب الناس أن يتحرکوا من کمال فرحهم لظنهم شفاءه صلی الله عليه وآله وسلم حتی أرادوا أن يقطعوا الصلوة لإعتقادهم خروجه صلی الله عليه وآله وسلم ليصلی بهم، و أرادوا أن يخلوا له الطريق إلی المحراب و هاج بعضهم فی بعض من شدة الفرح.

بيجوری، المواهب اللدنيه علی الشمائل المحمديه : 194

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شفایاب ہونے کی خوشی کے خیال سے متحرک ہونے کے قریب تھے حتیٰ کہ انہوں نے نماز توڑنے کا ارادہ کر لیا اور سمجھے کہ شاید ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں، لہٰذا انہوں نے محراب تک کا راستہ خالی کرنے کا ارادہ کیا جبکہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم خوشی کی وجہ سے کودنے لگے۔

امام بخاری نے باب الالتفات فی الصلوۃ کے تحت اور دیگر محدثین کرام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی یہ والہانہ کیفیت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں بیان کی ہے :

و هَمَّ المسلمون أن يفتتنوا فی صلوٰتهم، فأشار إليهم : أتموا صلاتکم.

بخاری، الصحيح، 1 : 262، کتاب صفة الصلاة، رقم : 2721
ابن حبان، الصحيح، 14 : 587، رقم : 36620
ابن خزيمه، الصحيح، 3 : 75، رقم : 41650
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 5217
طبری، التاريخ، 2 : 231

’’مسلمانوں نے نماز ترک کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز کو پورا کرنے کا حکم دیا۔‘‘

2۔ دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھوک کا مداوا
اربابِ تاریخ و سیر لکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں قحط سالی کے دور میں حکومت کے جمع شدہ ذخیرے سے قحط زدہ عوام میں غلے کی تقسیم کا نظام قائم فرمایا۔ ابھی آئندہ فصل کے آنے میں تین ماہ باقی تھے کہ غلے کا سٹاک ختم ہو گیا۔ اس پر حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ فکر لاحق ہو گئی کہ افلاس زدہ لوگوں کو غلے کی فراہمی کیسے ہو گی۔ وہ اس فکر میں غلطاں تھے کہ اللہ رب العزت نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بذریعہ جبرئیل علیہ السلام یہ پیغام دیا کہ اپنے چہرے کو بے نقاب کر دیجئے، اس طرح بھوکے لوگوں کی بھوک کا مداوا ہو جائے گا۔ روایات میں ہے کہ جو بھوکا شخص حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار کر لیتا اس کی بھوک مٹ جاتی۔

شمائل الترمذی : 27، حاشيه : 3

قرآنِ حکیم نے زنانِ مصر کا ذکر کیا ہے کہ وہ کس طرح حسنِ یوسف علیہ السلام کی دید میں اتنا محو اور بے خود ہو گئیں کہ انہیں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کٹ جانے کا احساس بھی نہ رہا ۔

یہ تو حسنِ یوسفی کی بات ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تمام انبیاء علیہم السلام کی صفات و کمالات کے جامع ہیں۔ اس لئے حسن و جمال کی بے خود کر دینے والی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس میں اس درجہ موجود تھی کہ اسے حیطۂ بیان میں نہیں لایا جاسکتا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت بھوکوں کی بھوک رفع کرنے کا ذریعہ بنتی تھی، چہرۂ اقدس کے دیدار کے بعد بھوک اور پیاس کا احساس کہاں رہتا؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت کا شانۂ نبوت سے باہر تشریف لائے کہ :

لا يخرج فيها و لا يلقاه فيها أحد.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے کبھی اس وقت باہر تشریف نہ لاتے تھے اور نہ ہی کوئی آپ سے ملاقات کرتا۔‘‘

پھر یوں ہوا کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بھوک سے مغلوب باہر تشریف لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رفیقِ غار سے پوچھا :

ما جاء بک يا أبا بکر؟

اے ابوبکر! تم اس وقت کیسے آئے ہو؟

اس وفا شعار عجزو نیاز کے پیکر نے ازراہِ مروّت عرض کیا :

خرجت ألقی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وأنظر فی وجهه و التسليم عليه.

’’یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف آپ کی ملاقات، چہرہ انور کی زیارت اور سلام عرض کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔‘‘

تھوڑی دیر بعد ہی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوگئے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا :

ما جاء بک يا عمر؟

’’اے عمر! تمہیں کون سی ضرورت اس وقت یہاں لائی؟‘‘

شمعِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانے نے عرض کی :

الجوع، یا رسول اﷲ!

’’یا رسول اللہ! بھوک کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں۔‘‘

والی کون و مکان رحمتِ کل جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

و أنا قد وجدت بعض ذلک.

ترمذی، الجامع الصحيح، 4 : 583، ابواب الزهد، رقم : 22369
ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 312، رقم : 3373
حاکم، المستدرک، 4 : 145، 47178
طبری، الرياض النضره، 1 : 340

’’اور مجھے بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔‘‘

تو ہادیء برحق نبی مکرم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں جاں نثاروں کے ہمراہ اپنے ایک صحابی حضرت ابو الہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ کا شمار متمول انصار میں ہوتا تھا۔ آپ کھجوروں کے ایک باغ کے مالک تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے وقت صاحبِ خانہ گھر پر موجود نہ تھے، اُن کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ جب دیکھا کہ آج سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے غریب خانے کو اعزاز بخشا ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دو صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ اپنے گھر میں دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کریں، کیسے بارگاہِ خداوندی میں سجدۂ شکر بجا لائیں؟ ایک عجیب سی کیف و سرور اور انبساط کی لہر نے اہلِ خانہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور گھر کے در و دیوار بھی خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔ حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ پر جو کیفیت طاری ہوئی اس کے بارے میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

يلتزم النبی صلی الله عليه وآله وسلم و يفديه بأبيه و أمه.

ترمذی، الجامع الصحيح، 4 : 583، ابواب الزهد، رقم : 22369
ترمذی، الشمائل المحمديه، 1 : 312، رقم : 3373
حاکم، المستدرک، 4 : 145، رقم : 47178
طبری، الرياض النضره، 1 : 340

’’(حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ آتے ہی) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہتے جاتے میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ عليک وسلم پر قرباں ہوں۔‘‘

بعد ازاں حضرت ابو الہیشم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ان دو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو اپنے باغ میں لے گئے، تازہ کھجوریں پیش کیں اور کھانا کھلایا۔

شمائلِ ترمذی کے حاشیہ پر مذکورہ حدیث کے حوالے سے یہ عبارت درج ہے :

لعل عمر رضی الله عنه جاء ليتسلي بالنظر في وجه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کما کان يصنع أهل مصر في زمن يوسف عليه السلام، و لعل هذا المعني کان مقصود أبي بکر رضی الله عنه و قد أدي بالطف وجه کأنه خرج رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لما ظهر عليه بنور النبوة أن أبابکر طالب ملاقاته، و خرج أبوبکر لما ظهر عليه بنور الولاية أنه صلي الله عليه وآله وسلم خرج في هذا الوقت لانجاح مطلوبه.

شمائل الترمذي : 27، حاشيه : 3

’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس لئے تشریف لائے تھے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی زیارت سے اپنی بھوک مٹانا چاہتے تھے، جس طرح مصر والے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن سے اپنی بھوک کو مٹا لیا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عمل میں بھی یہی راز مضمر تھا۔ مگر رفیقِ سفر نے اپنا مدعا نہایت ہی لطیف انداز میں بیان کیا اور یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پُر نورِ نبوت کی وجہ سے آشکار ہو چکا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ طالبِ ملاقات ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر نورِ ولایت کی وجہ سے واضح ہو چکا تھا کہ اس گھڑی آقائے مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار انہیں ضرور نصیب ہو گا۔‘‘

ایک صحابی کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا

کائنات کا سارا حسن و جمال نبی آخر الزماں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور میں سمٹ آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی زیارت سے مشرف ہونے والا ہر شخص جمالِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس طرح کھو جاتا کہ کسی کو آنکھ جھپکنے کا یارا بھی نہ ہوتا اور نگاہیں اٹھی کی اٹھی رہ جاتیں۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت کرتی ہیں :

کان رجل عند النبی صلي الله عليه وآله وسلم ينظر إليه لا يطرف.

حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے چہرۂ انور) کو (اِس طرح ٹکٹکی باندھ کر) دیکھتا رہتا کہ (وہ اپنی آنکھ تک نہ جھپکتا)۔‘‘

حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس جاں نثار صحابی کی یہ حالت دیکھ کر فرمایا :

ما بالک؟

’’اِس( طرح دیکھنے) کا سبب کیا ہے؟‘‘

اس عاشقِ رسول صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :

بأبی و أمی! أتمتع من النظر إليک.

قاضی عياض، الشفاء، 2 : 2566
قسطلانی، المواهب اللدنيه، 2 : 94

’’میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کے چہرۂ انور کی زیارت سے لطف اندوز ہو تا ہوں۔‘‘

اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ جاں نثاران مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خودسپردگی کی ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال میں اس طرح کھو جاتے کہ دنیا کی ہر شے سے بھی بے نیاز ہو جاتے۔

3۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا شوقِ دیدار
مکہ معظمہ میں اسلام کا پہلا تعلیمی اور تبلیغی مرکز کوہِ صفا کے دامن میں واقع دارِارقم تھا، اسی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس فرماتے۔ ابھی مسلمانوں کی تعداد 39 تک پہنچی تھی کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ کفار کے سامنے دعوتِ اسلام اعلانیہ پیش کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منع فرمانے کے باوجود انہوں نے اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت مرحمت فرما دی۔

و قام أبو بکر فی الناس خطيباً و رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم جالس، فکان أول خطيب دعا إلی اﷲ عزوجل وإلی رسوله صلی الله عليه وآله وسلم.

ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 3 : 230
حلبی، السيرة الحلبيه، 1 : 3475
ديار بکری، تاريخ الخميس، 1 : 4294
طبری، الرياض النضره، 1 : 397

’’سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ پس آپ ہی وہ پہلے خطیب (داعی) تھے جنہوں نے (سب سے پہلے) اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوگوں کو بلایا۔‘‘

اسی بنا پر آپ کو اسلام کا ’’خطیب اوّل‘‘ کہا جاتا ہے۔ نتیجتاً کفار نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور آپ کو اس قدر زد و کوب کیا کہ آپ خون میں لت پت ہو گئے، انہوں نے اپنی طرف سے آپ کو جان سے مار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاید آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی ہے تو اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ کے خاندان کے لوگوں کو پتہ چلا تو وہ آپ کو اٹھا کر گھر لے گئے اور آپس میں مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم اس ظلم و تعدی کا ضرور بدلہ لیں گے لیکن ابھی آپ کے سانس اور جسم کا رشتہ برقرار تھا۔

آپ کے والدِ گرامی ابو قحافہ، والدہ اور آپ کا خاندان آپ کے ہوش میں آنے کے انتظار میں تھا، مگر جب ہوش آیا اور آنکھ کھولی تو آپ رضی اللہ عنہ کی زبانِ اقدس پر جاری ہونے والا پہلا جملہ یہ تھا :

ما فعل برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم؟

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟‘‘

تمام خاندان اس بات پر ناراض ہو کر چلا گیا کہ ہم تو اس کی فکر میں ہیں اور اسے کسی اور کی فکر لگی ہوئی ہے۔ آپ کی والدہ آپ کو کوئی شے کھانے یا پینے کے لئے اصرار سے کہتیں، لیکن اس عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر مرتبہ یہی جواب ہوتا، کہ اس وقت تک کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا جب تک مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر نہیں مل جاتی کہ وہ کس حال میں ہیں۔ لختِ جگر کی یہ حالتِ زار دیکھ کر آپ کی والدہ کہنے لگیں :

واﷲ! ما لی علم بصاحبک.

’’خدا کی قسم! مجھے آپ کے دوست کی خبر نہیں کہ وہ کیسے ہیں؟‘‘

آپ رضی اللہ عنہ نے والدہ سے کہا کہ حضرت اُمِ جمیل رضی اللہ عنہا بنت خطاب سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے پوچھ کر آؤ۔ آپ کی والدہ امِ جمیل رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ماجرا بیان کیا۔ چونکہ انہیں ابھی اپنا اسلام خفیہ رکھنے کا حکم تھا اس لئے انہوں نے کہا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوست محمد بن عبداللہ کو نہیں جانتی۔ ہاں اگر تو چاہتی ہے تو میں تیرے ساتھ تیرے بیٹے کے پاس چلتی ہوں۔ حضرت اُمِ جمیل رضی اللہ عنہا آپ کی والدہ کے ہمراہ جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو ان کی حالت دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور کہنے لگیں :

إنی لأرجو أن ينتقم اﷲ لک.

’’مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور اُن سے تمہارا بدلہ لے گا۔‘‘

آپ نے فرمایا! ان باتوں کو چھوڑو مجھے صرف یہ بتاؤ :

ما فعل برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم؟

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟‘‘

انہوں نے اشارہ کیا کہ آپ کی والدہ سن رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا : فکر نہ کرو بلکہ بیان کرو۔ انہوں نے عرض کیا :

سالم صالح.

’’(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محفوظ اور خیریت سے ہیں۔‘‘

پوچھا :

فأين هو؟

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس وقت) کہاں ہیں؟‘‘

انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دارِ ارقم میں ہی تشریف فرما ہیں۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا :

ان لا أذوق طعاما أو شرابا أو آتی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم.

ابن کثير، البدايه والنهايه، (السيرة)، 3 : 230
حلبی، السيرة الحلبيه، 1 : 3476
طبری، الرياض النضره، 1 : 4398
ديار بکری، تاريخ الخميس، 1 : 294

’’میں اس وقت تک کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا جب تک کہ میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان آنکھوں سے بخیریت نہ دیکھ لوں۔‘‘

شمعِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس پروانے کو سہارا دے کر دارِ ارقم لایا گیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عاشقِ زار کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھ کر تھام لیا اور اپنے عاشقِ زار پر جھک کر اس کے بوسے لینا شروع کر دیئے۔ تمام مسلمان بھی آپ کی طرف لپکے۔ اپنے یارِ غمگسار کو زخمی حالت میں دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عجیب رقت طاری ہو گئی۔

اُنہوں نے عرض کیا کہ میری والدہ حاضر خدمت ہیں، ان کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دولتِ ایمان سے نوازے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اور وہ دولتِ ایمان سے شرف یاب ہوگئیں۔

4۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت و وارفتگی
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کس طرح چہرہ نبوت کے دیدارِ فرحت آثار سے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کیا کرتے تھے اور ان کے نزدیک پسند و دلبستگی کا کیا معیار تھا، اس کا اندازہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یارِ غار سے متعلق درج ذیل روایت سے بخوبی ہو جائے گا :

ایک مرتبہ حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے تمہاری دنیا میں تین چیزیں پسند ہیں : خوشبو، نیک خاتون اور نماز جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔

سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے سنتے ہی عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے بھی تین ہی چیزیں پسند ہیں :

النظر إلی وجه رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، و إنفاق مالی علی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، وأن يکون ابنتی تحت رسول اﷲ.

ابن حجر، منبهات : 21، 22

’’آپ صلی اﷲ عليک وسلم کے چہرۂ اقدس کو تکتے رہنا، اللہ کا عطا کردہ مال آپ صلی اﷲ عليک وسلم کے قدموں پر نچھاور کرنا اور میری بیٹی کا آپ صلی اﷲ عليک وسلم کے عقد میں آنا۔‘‘

جب انسان خلوصِ نیت سے اللہ تعالیٰ سے نیک خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ ذات اپنی شانِ کریمانہ کے مطابق اُسے ضرور نوازتی ہے۔ اس اصول کے تحت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی تینوں خواہشیں اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دیں۔

آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نکاح میں قبول فرما لیا۔ آپ کو سفر و حضر میں رفاقتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصیب رہی یہاں تک کہ غارِ ثور کی تنہائی میں آپ کے سوا کوئی اور زیارت سے مشرف ہونے والا نہ تھا، اور مزار میں بھی أوصلوا الحبيب إلی الحبيب کے ذریعے اپنی دائمی رفاقت عطا فرما دی۔ اسی طرح مالی قربانی اس طرح فراوانی کے ساتھ نصیب ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

ما نفعنی مال أحد قط ما نفعنی مال أبی بکر.

ترمذی، الجامع الصحيح، 5 : 609، ابواب المناقب، رقم : 23661
ابن ماجه، السنن، 1 : 36، مقدمه، باب فضائل الصحابه، رقم : 394
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 4253
ابن حبان، الصحيح، 15 : 273، رقم : 56858
ابن ابی شيبه، المصنف، 6 : 348، رقم : 631927
طحاوی، شرح معانی الآثار، 4 : 7158
هيثمی، موارد الظمان، 1 : 532، رقم : 86621
قرطبی، تفسيرالجامع لاحکام القرآن، 3 : 9418
خطيب بغدادی، تاریخ بغداد، 10 : 363، رقم : 105525
طبری، الرياض النضره، 2 : 16، رقم : 11116412
احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 65، رقم : 1225
سيوطی، تاريخ الخلفاء : 30

’’مجھے جس قدر نفع ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے دیا ہے اتنا کسی اور کے مال نے نہیں دیا۔‘‘

دوسرے مقام پر مال کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحبت کا ذکر بھی فرمایا :

إن (مِن) أَمَّن الناس علیّ فی صحبته و ماله أبو بکر.

بخاری، الصحيح، 1 : 177، کتاب المساجد، رقم : 2454
ترمذی، الجامع الصحيح، 5 : 608، ابواب المناقب، رقم : 33660
نسائی، السنن الکبریٰ، 5 : 35، رقم : 48102
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 518
ابن حبان، الصحيح، 14 : 558، رقم : 66594
ابن ابی شيبه، المصنف، 6 : 348، رقم : 731926
نسائی، فضائل الصحابه، 1 : 3، رقم : 82
احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 61، رقم : 921
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 10227
طبری، الرياض النضره، 2 : 12، رقم : 109405

’’لوگوں میں سے مجھے اپنی رفاقت دینے اور اپنا مال خرچ کرنے کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی والہانہ محبت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے والد گرامی سارا دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہتے، جب عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر گھر آتے تو جدائی کے یہ چند لمحے کاٹنا بھی اُن کے لئے دشوار ہو جاتا۔ وہ ساری ساری رات ماہی بے آب کی طرح بیتاب رہتے، ہجر و فراق کی وجہ سے ان کے جگرِ سوختہ سے اس طرح آہ نکلتی جیسے کوئی چیز جل رہی ہو اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی جب تک وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کو دیکھ نہ لیتے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وصال کا سبب بھی ہجر و فراقِ رسول ہی بنا۔ آپ کا جسم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے صدمے سے نہایت ہی لاغر ہو گیا تھا، حتی کہ اسی صدمے سے آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔

علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوبیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہجر کے سوز و گداز کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

قوتِ قلب و جگر گردد نبی
از خدا محبوب تر گردد نبی

ذرۂ عشقِ نبی اَز حق طلب
سوزِ صدیق و علی اَز حق طلب

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی دل و جگر کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور شدت اختیار کرکے خدا سے بھی زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔ تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کا ذرہ حق تعالیٰ سے طلب کر اور وہ تڑپ مانگ جو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ میں تھی۔)

5۔ ہجرِ رسول اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی گریہ و زاری
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے : ایک رات آپ عوام کی خدمت کے لیے رات کو نکلے تو آپ نے ایک گھر میں دیکھا کہ چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اُون کاتتے ہوئے ہجر و فراق میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے :

علی محمد صلاة الأبرار
صلی عليه الطيبون الأخيار
قد کنتَ قواماً بکا بالأسحار
يا ليت شعری والمنايا أطوار
هل تجمعنی و حبيبی الدار

قاضی عياض، الشفاء، 2 : 2569
ابن مبارک، الزهد، 1 : 363

’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کے تمام ماننے والوں کی طرف سے سلام ہو اور تمام متقین کی طرف سے بھی۔ آپ راتوں کو اللہ کی یاد میں کثیر قیام کرنے والے اور سحری کے وقت آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس! اسبابِ موت متعدد ہیں، کاش مجھے یقین ہوجائے کہ روزِ قیامت مجھے آقاں کا قرب نصیب ہوسکے گا۔‘‘

یہ اشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بے اختیار اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد آ گئی اور وہ زار و قطار رو پڑے۔ اہل سیر آگے لکھتے ہیں :

طرق عليها الباب، فقالت : من هذا؟ فقال : عمر بن الخطاب، فقالت : ما لي ولعمر في هذه الساعة؟ فقال : افتحي، يرحمک اﷲ فلا بأس عليک، ففتحت له، فدخل عليها، وقال : ردي الکلمات التي قلتيها آنفا، فردتها، فقال : ادخليني معکما و قولي و عمر فاغفرله يا غفار.

خفاجي، نسيم الرياض، 3 : 355

’’انہوں نے دروازے پر دستک دی۔ خاتون نے پوچھا : کون؟ آپ نے کہا : عمر بن الخطاب۔ خاتون نے کہا : رات کے ان اوقات میں عمر کو یہاں کیا کام؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے، تو دروازہ کھول تجھے کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ اس نے دروازہ کھولا : آپ اندر داخل ہوگئے اور کہا کہ جو اشعار تو ابھی پڑھ رہی تھی انہیں دوبارہ پڑھ۔ اس نے جب دوبارہ اشعار پڑھے تو آپ کہنے لگے کہ اس مسعود و مبارک اجتماع میں مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کرلے اور یہ کہہ کہ ہم دونوں کو آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نصیب ہو اور اے معاف کرنے والے عمر کو معاف کر دے۔‘‘

بقول قاضی سلیمان منصور پوری رحمۃ اﷲ علیہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے بعد چند دن تک صاحبِ فراش رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی عیادت کے لئے آتے رہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نزدیک یہی ایمان تھا اور یہی دین کہ وہ کسی بھی شئے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کے بغیر اپنا تعلق قائم نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر آئے، طواف کیا اور حجرِاسود کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ اس سے فرمانے لگے :

إنی أعلم أنک حجر لا تضر و لا تنفع، ولو لا أنی رأيت النبی صلي الله عليه وآله وسلم يقبلک ما قبلتک.

بخاری، الصحيح، 2 : 579، کتاب الحج، رقم : 21520
مسلم، الصحيح، 2 : 925، کتاب الحج، رقم : 31270
ابن ماجه، السنن، 2 : 981، کتاب المناسک، رقم : 43943
نسائی، السنن الکبریٰ، 2 : 400، رقم : 53918
احمد بن حنبل، المسند، 1 : 646
بيهقی، السنن الکبریٰ، 5 : 82، رقم : 79059
ابن ابی شيبه، المصنف، 3 : 342، رقم : 814753
عبدالرزاق، المصنف، 5 : 72، رقم : 99035
طبرانی، المعجم الاوسط، 3 : 243، رقم : 103042
بزار، المسند، 1 : 478، رقم : 11341
حميدی، المسند، 1 : 7، رقم : 129
طبرانی، مسند الشامیین، 2 : 395، رقم : 131567
ابويعلی، المسند، 1 : 169، رقم : 14189
بيهقی، شعب الايمان، 3 : 450، رقم : 154038
ابن عبد البر، التمهيد، 22 : 16256
قاضی عیاض، الشفاء، 2 : 17558
زرقانی، شرح علی الموطا، 2 : 408

’’میں جانتا ہوں بیشک تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔‘‘

یہ کلمات ادا کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔

حاکم، المستدرک، 1 : 628، رقم : 1682

سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروقِ اعظم رضی اﷲ عنھم کا دیدارِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منفرد اعزاز
صدیقِ باوفا رضی اللہ عنہ کو سفرِ ہجرت میں رفاقتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعزاز حاصل ہوا، جبکہ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ مرادِ رسول ہونے کے شرفِ لازوال سے مشرف ہوئے۔ ان جلیل القدر صحابہ کو صحابہ رضی اللہ عنھم کی عظیم جماعت میں کئی دیگر حوالوں سے بھی خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم کان يخرج علي أصحابه من المهاجرين و الأنصار، و هم جلوس و فيهم أبوبکر و عمر، فلا يرفع إليه أحد منهم بصره إلا أبوبکر و عمر، فإنهما کانا ينظران إليه و ينظر إليهما و يتبسمان إليه و يتبسم إليهما.

ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 612، ابواب المناقب، رقم : 23668
احمد بن حنبل، المسند، 3 : 3150
طيالسي، المسند، 1 : 275، رقم : 42064
عبد بن حميد، المسند، 1 : 388، رقم : 51298
ابو يعلي، المسند، 1 : 116، رقم : 63378
احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 212، رقم : 7339
طبري، الرياض النضره، 1 : 338، رقم : 209

’’حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مہاجر اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے جھرمٹ میں تشریف فرما ہوتے اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما بھی ان میں ہوتے تو کوئی صحابی بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتا، البتہ ابوبکر صدیق اور فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنھما حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کو مسلسل دیکھتے رہتے اور سرکار ان کو دیکھتے، یہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنھما رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر مسکراتے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر تبسم فرماتے۔‘‘

6۔ حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ ۔ ۔ ۔ اسیرِحسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عشاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو منفرد اعزاز عطا ہوا اس کا مظاہرہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنا سفیر بنا کر مکہ معظمہ بھیجا کہ کفار و مشرکین سے مذاکرات کریں۔ کفار نے پابندی لگا دی تھی کہ اس سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سفیرِ رسول بن کر مذاکرات کے لئے حرمِ کعبہ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ اس سال آپ لوگ حج نہیں کر سکتے، تاہم کفارِ مکہ نے بزعم خویش رواداری برتتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ چونکہ تم آگئے ہو، اس لئے حاضری کے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اگر چاہو تو ہم تمہیں طواف کی اجازت دیتے ہیں لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کفار کی اس پیشکش کو بڑی شان بے نیازی سے ٹھکرا دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر طواف کرنا انہیں گوارا نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا :

ما کنتُ لأطوف به حتی يطوف به رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.

بيهقي، السنن الکبري، 9 : 2221
ابن هشام، السيرة النبويه، 4 : 3282
طبري، التاريخ، 2 : 4121
قاضي عياض، الشفاء، 2 : 5594
ابن کثير، البدايه والنهايه (السيرة)، 4 : 6167
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 7701
ابن حبان، الثقات، 1 : 8299
طبري، تفسير، 26 : 986
ابن کثير، تفسير، 4 : 187

’’میں اس وقت تک طوافِ کعبہ نہیں کروں گا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف نہ کرلیں۔‘‘

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اس عمل سے دشمنانِ اسلام کو جتلا دیا کہ ہم کعبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر کعبہ مانتے ہیں اور اس کا طواف بھی اس لئے کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا طواف کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کعبے سے اپنی جذباتی وابستگی اور عقیدت کو اہمیت نہ دی حالانکہ اس کے دیدار کے لئے وہ مدت سے ترس رہے تھے اور ہجرت کے چھ سات سال بعد انہیں یہ پہلا موقع مل رہا تھا۔ اگر وہ طواف کر بھی لیتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے منع نہیں کیا تھا لیکن ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی جس کے بغیر وہ کسی عمل کو کوئی وقعت دینے کے لئے تیار نہ تھے اور حپر بیٹھ کر گوشت کا لقمہ تناول کرنے لگے۔ لوگوں نے پوچھا : حضرت! یہ دروازہ گزرگاہِ عام ہے، یہاں بیٹھ کر کھانا چہ معنی دارد؟ دیکھنے والے کیا سمجھیں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جواب میں فرمانے لگے : مجھے اور تو کچھ خبر نہیں، بس اتنا پتہ ہے کہ ایک بار میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا تھا، میں تو اس سنت پر عمل کر رہا ہوں اور اس وقت حضورِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی ادا میرے پیشِ نظر ہے۔

ایک دفعہ وضو کے بعد بغیر کسی وجہ کے مسکرانے لگے۔ کسی نے پوچھا : آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں جبکہ کسی سے گفتگو اور مکالمہ بھی نہیں۔ فرمانے لگے : مجھے کسی سے کیا غرض! میں نے تو ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرنے کے بعد مسکراتے دیکھا تھا، میں تو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی ادا کو دہرا رہا ہوں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :

مجھے کیا خبر تھی رکوع کی، مجھے ہوش کب تھا سجود کا
ترے نقشِ پاکی تلاش تھی کہ میں جھک رہا تھا نماز میں

اس تعلقِ عشقی کا اظہار تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زندگیوں میں جھلکتا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہی نسبت ان کے ایمان کی بنیاد تھی۔

آخر میں علامہ اقبال کے چند شعر عرض کروں گا کہ!

’عشقِ سرکار کی اک شمع جلا لو دل میں
بعد مرنے کے لحد میں اُجالا ہو گا‘

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی دین حق کی شرطِ اوّل ہے
اسی میں ہو گر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
حوالہ کتاب اسیرانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم
مصنف معروف عالم دین ڈاکٹر طاہر القادری

Last edited by مباح; 25-05-09 at 04:49 PM.
مباح آف لائن ہے   Reply With Quote
مباح کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (08-06-09)
پرانا 25-05-09, 05:02 PM   #11
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
انتظامیہ سے میری ادباَ گذارش ہے کہ اِس تھریڈ سے مراسلہ نمبر :10 کو کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے۔ اس طویل مراسلے کا تھریڈ کے اصل موضوع سے قطعاَ کوئی تعلق نہیں بنتا ہے !
شکریہ۔
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-09, 05:03 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈپلیکیٹ !!

Last edited by باذوق; 25-05-09 at 05:09 PM.
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-05-09, 10:59 AM   #13
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 6,023
شکریہ: 762
208 مراسلہ میں 554 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے بھائی آگہی حاصل کیجیے!
اپنا نے جو موضوع چنا ہے اس سے متعلق آپکی معلومات بہت کم ہے اگر آپکی معلومات اچھی ہوتی تو آپ یہ تھریڈ نہ بھیجتے۔
والسلام مباح

السلام علیکم
محترم بھائی۔ ذرا دل بڑا کر کے میری کم علمی کو معاف کیجئے۔
اور اس موضوع سے متعلق جو آگہی آپ کو حاصل ہے ، وہ اگر آپ یہاں شئر کر دیں تو ہم سب طلباء کے علم میں اضافہ ہو جائے گا۔


QUO=باذوق;171240]السلام علیکم

انتظامیہ سے میری ادباَ گذارش ہے کہ اِس تھریڈ سے مراسلہ نمبر :10 کو کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے۔ اس طویل مراسلے کا تھریڈ کے اصل موضوع سے قطعاَ کوئی تعلق نہیں بنتا ہے !
شکریہ۔[/QUOTE]
برادر باذوق آپ کو آگہی حاصل کرنے کی چاہ تھی تو میں نے آگہی دینے کی ایک ناکام کوشش کی شاید مجھے ایسا لگتا ہے باقی آپ کے دل میں کیا ہے یہ اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے لیکن میں صرف اتنا کہوں گا کہ اس طویل مراسلے کا آپکے تھریڈ کے ساتھ گہرا تعلق ہے آپ کے نزدیک عشق ایک بےہودہ جذبہ ہے جو سوائے بربادی کے کچھ نہیں دیتی لیکن ایسا نہیں ہے اگر آپ نے مراسلہ نمبر 9 : اور 10: پڑھا ہے تو آپکو یہ معلوم ہو گیا ہو گا کہ صحابہ کرام (رض) کتنے سچے مسلمان اور عاشقِ رسول تھے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محبت ماں باپ بہن بھائی اولاد رشتہ دار بیوی یا جو ہمارے زندگی کے دوسرے رشتے ہیں ان سب سے بہت اوپر ہے اسی کی مثال ہمیں صحابہ کرام کی زندگی سے ملتا
ہے۔

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
(علامہ اقبال)
والسلام مباح
مباح آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (01-06-09), ام غزل (08-06-09), باذوق (26-05-09)
پرانا 26-05-09, 11:09 AM   #14
Senior Member
 
ابن آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,963
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر عشق اچھا جزبے کانام اور محبت کی انتہا ہے تو ہم میں سے کون کون یہ کہنا پسند کرے گا کہ مجھے اپنی بہن سے عشق ہے ؟
مجھے اپنی ماں سے عشق ہے؟
مجھے اپنی بیٹی سے عشق ہے؟
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com
اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز
ابن آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-05-09, 11:46 AM   #15
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

علامہ اقبال کو ہم مفکر اسلام، شاعر اسلام مانتے ہیں کیا ان کی باریک بین نظر سے "عشق" کے مضمرات چھپے ہوئے تھے؟ یا پھر یہ ایک مخصوص علاقے اور فرقے میں رواج نہ پانے سے "بدعتی" قرار پایا ہے؟
ویسے تو محبت کے لفظ پر بھی قتل ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم کسی کو کہ سکتے ہیں کہ ہم اس کی بہن سے محبت کرتے ہیں جب کہ وہ نکاح میں نہ ہو؟ بھائی بات لفظ کی نہیں بات لفظ کے استعمال کی جگہ پر منحصر کرتی ہے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
مباح (01-06-09), ام غزل (08-06-09)
جواب

Tags
قرآن, لوگ, نظر, ماں, محبت, معلوم, اللہ, اردو, بھائی, تحریر, جواب, حل, حال, حدیث, حضرات, دریافت, زندگی, شخص, عقل, عشق, صاف, صحیح, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں حیدر گپ شپ 29 30-10-11 06:19 PM
ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے عبدالہادی احمد اپکے کالم 13 02-02-11 08:32 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گوندل اخلاق و آداب 0 25-10-09 11:21 PM
اسوہ رسول (ص) کی عظمت و اہمیت Real_Light پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 15-07-08 01:54 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger