واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-11-11, 12:38 AM   #1
عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ
ملک اظہر ملک اظہر آن لائن ہے 25-11-11, 12:38 AM

شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر برّصغیر میں چشتیہ سلسلے کے عظیم صوفی بزرگ ہیں۔ آپ کے والد کمال الدین سلیمان ساتویں واسطے سے فرخ شاہ بادشاہ کابل کے فرزند اور بیسویں واسطے سے جناب عمر فاروق کی اولاد سے تھے ۔
وجہءتسمیہ:۔ ماں انسان کے لیے درس گاہ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں جتنے مشاہیر و بر گزیدہ انسان گذرے ہیں اگر ان کی زندگی کے ابتدائی حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان سب کی شخصیت کو بنانے اور ان کا مستقبل سنوارنے اور سورج کی طرح روشن کرنے میں سب سے پہلے ان کی ماووں نے ہی جدو جہد کاآغاز کیا۔ جناب فرید الدین کی والدہ محترمہ بھی انہی میں سے ایک تھیں ۔ جن کی تربیت سے ان کے بچے شہرت کے آسمان کے چاند، ستارے اور سورج بن کے چمکے۔ جناب فرید الدین کی والدہ کا یہ معمول تھا کہ روزانہ مصلےٰ کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیتیں اور فرماتیں جو بچے نماز پڑھتے ہیں ان کو مصّلے کے نیچے سے شکر کی پڑیا ملتی ہے۔ اس ترکیب کا اثر یہ ہوا کہ جناب فرید الدین بچپن ہی سے نماز کے سخت پابند ہو گئے اور کبھی نماز قضا نہ کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے آگے چل کر آپ نے گنج شکر کے نام سے شہرت پائی۔

خاندانی پس منظراورولادت:

آپ 548ھ موضع کوتوال ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ اور سن بلوغ کو پہنچنے تک یہیں رہے آپ کے والد محترم جناب مولانا کمال الدین سلیمان ساتویں واسطے سے فرخ شاہ بادشاہ کابل کے فرزند اور بیسویں واسطے سے جناب عمر فاروق کی اولاد سے تھے ۔ جناب کمال الدین کی والدہ محترمہ سلطان محمود غزنوی کے خاندان سے تھیں۔ فرید الدین گنج شکر کی والدہ محترمہ جناب مولانا وحید الدین خجندی کی صاحب زادی تھیں۔ مولانا کمال الدین شہاب الدین غوری کے زمانے میں کابل سے لاہور آئے ۔
ابتدائی تعلیم
جناب فرید الدین نے ابتدائی تعلیم کوتوال ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد ملتان آ گئے یہا ں آپ نے قرآن حکیم حفظ کیا اور عربی کے مروجہ درسی نصاب مکمل کیے۔
بابا فرید ملتان میں منہاج الدین کی مسجد میں زیر تعلیم تھے جہاں ان کی ملاقات جناب بختیار کاکی اوشی سے ہوئی اور وہ ان کی ارادت میں چلے گئے۔اپنے مرشد کے حکم پراس دوران میں آپ کو جناب شیخ شہاب الدین بانیءسلسلہ سہر وردیہ سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ شیخ سیف الدین حضری، شیخ سعید الدین حموی، شیخ اوحد الدین، شیخ بہائو الدین زکریا ملتانی اورشیخ فرید الدین عطار وغیرہ اہم بزرگوں سے بھی ملاقاتیں نصیب ہوئیں اور ان سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ غرض تکمیل علوم دین کے بعد آپ جناب خواجہ بختیار کاکی کے حضور میں دہلی پہنچے خواجہ آپ سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ اور آپ کے لیے غزنیں دروازے کے باہر ایک جگہ منتخب کی جہاں آپ ریاضت و مجاہدے میں ہر وقت مشغول رہتے۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے متواتر روزے رکھے ایک دن افطاری میں آپ کو کوئی شے میسر نہ آئی۔ ناچار بھوک و پیاس کی حالت میں آپ نے منہ میں چند سنگریزے اٹھا کر رکھ لیے۔ قدرت خدا کہ وہ شکر کے چند دانے نکلے۔ جناب خواجہ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو فرمایا فرید الدین واقعی گنج شکر ہے۔ خلق خدا آپ کے زہدوعبادت سے بے حد متاثر تھی ۔ اکثر آپ کے پاس لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور مرادیں لے کر واپس جاتے۔ جناب فرید الدین کو شہرت و نام و نمود سے سخت نفرت تھی۔ جب لوگوں کا ہجوم دن پر دن زیادہ ہونے لگا تو آپ دہلی چھوڑ کر جھانسی چلے گئے۔ حتیٰ کہ جناب خواجہ کا انتقال ہوا تو آپ دہلی تشریف لائے۔ پھر چند روز قیام کر کے یہاں سے پاک پتن روانہ ہو گئے۔ اجو دھن جسے ان دنوں پاک پتن کہتے ہیں ۔
پاکپتن اس زمانے میں تجارتی شاہراہ پر ایک اہم مقام تھا۔ دریائے ستلج کو یہیں سے پار کیا جاتا تھا۔ یہ بات حادثاتی نہیں ہے کہ پنجابی کے دوسرے کلاسیکی دانشوروں نے تجارتی مقامات پر زندگی گزاری جہاں ان کو دنیا کے بارے میں اطلاعات ملتی رہتی تھیں۔بہت سی تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ بہت سے عالم دور دراز سے گرائمر اور زبان دانی کے مسائل حل کرانے کے لیے بابا فرید کے پاس پاکپتن آتے تھے۔
شادی

حامد بن فضل جمالی کا کہنا ہے کہ بابا فرید نے پاکپتن میں ہی شادی کی حالانکہ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق وہ دلی میں بادشاہ ناصرالدین محمود کے دربار میں گئے جہاں بادشاہ نے اپنی بیٹی ہزابارہ کی شادی ان سے کر دی۔ لیکن بعد میں ہونے والے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے عوامی رنگ میں رہتے ہوئے اپنے طبقے میں ہی شادی کی تھی۔

عام لوگوں سے محبت

بابا فرید نے زندگی کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر عوام کے دکھوں کے حوالے سے دیکھا۔

میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ
اچے چڑھ کے ویکھیا گھر گھر ایہو اگ


(میں سمجھا تھا کہ دکھ صرف مجھے ہی ہے لیکن دکھ تو سارے جہان کو ہے۔ اوپر چڑھ کر دیکھا تو پتا چلا کہ گھرگھر یہی آگ سلگ رہی ہے۔)

بابا فرید کی عوام کے ساتھ ذاتی اور نظریاتی دونوں ہی اعتبار سے محبت اور پیار تھا۔

فریدا خاک نہ نندئیے خاکو جیڈ نہ کوئے
جیوندیاں پیراں تھلے، مویاں اپر ہوئے


(فریدا خاک کی ناقدری نہ کرو کیونکہ زندگی میں پاؤں اس پر کھڑے ہوتے ہیں اور مرنے پر یہ اوپر سے ڈھانپتی ہے)۔
وفات

جناب فرید الدین مسعود نے664ھ میں انتقال فرمایا آپ کا مزار پاک پتن، پاکستان میں ہے۔آپ کے اقوال سےان لوگوں کو جو زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں زندگی مل جاتی ہے۔
اقوال بابا فرید:
١۔نامرادی کا دن مردوں کی شب معراج ہے۔
٢۔سبک ساری کی خواہش کمزوری کی علامت ہے۔
٣۔جیسا تو ہے ویسا ہی لوگوں کو دکھا ،ورنہ اصلیت خود بخود کھل جائے گی۔
٤۔احمق کو زندہ خیال نہ کرو۔
٥۔وہ شے جو خریدی نہ جاتی ہو اسے فروخت نہ کرو۔
٦۔ہر کسی کی روٹی نہ کھاؤ مگر ہر شخص کو اپنی روٹی کھلاؤ۔
٧۔گناہ پر فخر نہ کرو۔ آرائش کے پیچھے نہ پڑو۔
٨۔جس چیز کی کوشش کرو اس سے ہاتھ نہ اٹھاو
٩۔جو تم سے ڈرے ۔ اس سے ہر وقت اندیشہ کرو۔
١٠۔دروغ نما راستی کو ترک کر دو۔
١١۔ قاتل نما بے وقوف سے پرہیز کرو۔
٢ ١۔وقت کا کوئی بدلہ نہیں۔
١٣ ۔ہنر ذلت سے سیکھ یعنی تحصیل علم و ہنر میں کسی ذلت کا خیال نہ کرو۔
١٤۔ دشمن کی دشمنی اس سے مشورہ کرنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔
١٥۔کوئی مصیبت خدا کی طرف سے آئے اس سے ہراساں نہ ہو۔
١٦۔ اگر ہے کچھ غم نہیں اگر نہیں ہے تو بھی غم نہیں۔
٧ ١۔درویشوں کے لیے فاقہ سے مرنا لذ ت نفس کے لیے قرض لینے سے بہتر ہے۔
١٨۔ دو آدمیوں کا مباحثہ ایک آدمی کے اکیلے سوچنے کی دو سالہ محنت سے زیادہ مفید ہے۔

ان دنوں آپ کے سات سو اناسی ویں عرس کی تقریبات پاکپتن میں جاری ہیں
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

Last edited by ملک اظہر; 25-11-11 at 01:27 AM..

ملک اظہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 188
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
ملک زوالفقار (25-11-11), wajee (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 01:10 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام ایسے عرسوں، میلے ٹھیلوں سجدہ گاہوں اور بدعات و خرافات سے یکسر پاک ہے.

اگر یہی اسلام ہے تو ہم باز آئے بھائی !!!
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-11-11, 01:34 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اسلام ایسے عرسوں، میلے ٹھیلوں سجدہ گاہوں اور بدعات و خرافات سے یکسر پاک ہے.

اگر یہی اسلام ہے تو ہم باز آئے بھائی !!!
یہ خرافات یقیناً اسلام نہیں ہیں
اللہ کرے بزرگان دین کے اعراس خرافات سے پاک ہو جائیں
ہم تک اسلام پہنچانے میں انہی لوگوں کی محنت شامل ہے اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے۔
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-11-11), کنعان (25-11-11), ملک زوالفقار (25-11-11), wajee (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
جواب

Tags
فرید, فرید الدین مسعود گنج شکر, کھلا, ویں, وقت, واقعہ, موقع, موجود, متوقع, مسعود, اللہ, بابا, بارہ, تقسیم, جائے, حضرت, دیوان, روزہ, سات, سرکٹ, شکر, شب, عرس, عظیم, صوفی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جوتوں سے سیاسی مقاصد کا حصول اویسی اپکے کالم 2 10-08-10 10:53 AM
26 دسمبر - پروین شاکر کی 15 ویں برسی زبیر پروین شاکر 12 26-12-09 06:45 PM
واڈا کے اصول قبول نہیں:بی سی سی آئی محمدعدنان کرکٹ 0 03-08-09 08:47 AM
مولانا احتشام الحق تھانوی کی 28 ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:12 AM
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ چاچا کمال سیاست 1 04-11-07 12:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger