08-12-11, 03:20 PM
|
#2
|
|
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ملک اظہر
[SIZE="6"][COLOR="Red"]
آں امام عاشقان پور بتول سرد آزادے زبستان رسول
اللہ اللہ بائے بسمہ اللہ پدر معنی ذبح عظیم آمد پسر
عاشقوں کے امام حضرت فاطمہ کی اولاد اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گلستان کے پھول ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے والد بزرگوار ہیں اس میں’’اللہ اللہ‘‘وہ کلمہ تحسین ہے جومرحبا اورشاباش کے معنوں میں آتا ہے اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو‘‘بائے بسمہ اللہ‘‘ سے یادکیاگیا ہے یہ خود علامہ اقبال کی اہل بیت رضی اللہ عنہم شناسی پرایک دلیل ہے امام حسین کو’’ذبح عظیم‘‘ کامصداق قرار دیا ہے علامہ اقبال قربانی امام حسین کوقربانی اسماعیل کاتسلسل قرار دیتے ہیں۔
بہرآں شہزادہ خیرالملل دوش ختم المرسلین نعم الجمل
روایت میں ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں کوکندھوں پرسوار کرکے کھیلا رہے تھے آپ نے اس وقت فرمایا کہ تمہارا اونٹ کیسا اچھا ہے اوراس کی سواریاں کیسی خوب ہیں ’’نعم الجمل‘‘ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
سرخ رو عشق غیور از خون او شوخی ایں مصرع از مضمون او
امام حسین کے خون کی رنگینی سے عشق غیور سرخ رو ہے کربلا کے واقعہ سے اس موضوع میں حسن اوررعنائی پیدا ہوگئی ہے۔
درمیاں امت آں کیواں جناب ہمچو حرف قل ھواللہ درکتاب
امت محمدیہ میں آپ کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے قرآن مجید میں سورۂ اخلاص کی ہے سورۂ اخلاص میں توحید پیش کی گئی جوکہ قرآنی تعلیمات کامرکزی نکتہ ہے اسی طرح امام حسین کوبھی امت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
موسیٰ وفرعون وشبیر ویزید ایں دوقوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوت شبیری است باطل آخر داغ حسرت میری است
دنیا میں حق وباطل کی کشمکش شروع سے چلی آرہی ہے اس کشمکش میں مجاہدین کی قوت بازو سے حق کاغلبہ ہوتا ہے اورباطل شکست ونامرادی سے دوچار ۔۔۔
چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت حریت رازہراندرکام ریخت
خاست آں سرجلوہ خیرالامم چوں سحاب قبلہ باراں درقدم
برزمین کربلا بارید ورفت لالہ درویرانہ کارید رقت
جب خلافت کاتعلق قرآن سے منقطع ہوگیااور مسلمانوں کے نظام میں حریت فکرونظر باقی نہ رہی تواس وقت امام حسین اس طرح اٹھے جیسے جانب قبلہ سے گھنگھور گھٹااٹھتی ہے یہ بادل وہاں سے اٹھا کربلا کی زمین پربرسا اوراسے لالہ زار بنادیا۔
تاقیامت قطع استبداد کرد موج خون او چمن ایجاد کرد
آپ نے اس طرح قیامت تک ظلم واستبداد کے راستے بندکردیئے اوراپنے خون کی سیرابی سے ریگزاروں کوچمنستان بنادیا۔
بہرحق درخاک وخوں غلطیدہ است پس بنائے لاالٰہ گرویدہ است
آپ نے حق کے غلبہ کے لئے جان دے دی اوراس طرح توحید کی عمارت کی بنیاد بن گئے بنائے ’’لاالٰہ‘‘میں تلمیح ہے خواجہ معین الدین چشتی ڑحمۃاللہ علیہ کے اس مصرع کی طرف:’’حقا کہ بنائے لاالٰہ است حسین ‘‘
(اے صبا!توہماری نم آلود آنکھوں کا سلام مرقد امام حسین تک پہنچادے۔)
|
بہت بہت شکریہ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|