|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 318
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
کمائي: 1,964
شکریہ: 111
26 مراسلہ میں 88 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آیات بینات
( 1 ) ۔۔۔۔۔ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا۔ ( 42 ۔ 51 ) وحی کو ارسال رسول کے مقابلے میں ذکر کرانا دال ہے کہ بغیر ارسال کے بھی وحی ہوتی ہے۔ یہی حدیث ہے۔ ( 2 ) ۔۔۔۔۔ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا ( 2 ۔ 143 ) سے معلوم ہوا کہ بیت المقدس کی طرف استقبال حکم الہی تھا ۔ حالانکہ قرآن مجید میں یہ حکم مذکور نہیں ۔ ( 3 ) ۔۔۔۔۔۔ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ ( 2 ۔ 187) سے معلوم ہوا کہ پہلے رمضان کی رات میں بھی جماع کرنا حرام تھا ۔ یہ حرمت حدیث ہی سے تھی ۔ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ۔ ( 4 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ( 3 ۔ 123 ) احد کے موقع پر نازل ہوئی جس میں مذکور ہے کہ بدر میں اللہ تعالی نے انزال ملائکہ کا وعدہ فرمایا تھا ۔ حالانکہ قرآن میں موقع بدر پر اس قسم کا کوئی وعدہ مذکور نہیں ۔معلوم ہوا کہ انزال ملائکہ کا وعدہ وحی غیر متلو سے تھا جو حدیث ہے ۔ ( 5 ) ۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم میں انبیاء سابقین علیہم السلام کی احادیث مذکور ہیں جو حجیت حدیث پر واضح دلیل ہے ۔ جب انبیاء سابقین کی احادیث کا ان کی امتوں پر واجب الاتباع ہونا قرآن سے ثابت ہے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہم پر کیوں واجب العمل نہیں ؟ ( 6 ) ۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خواب کا واقعہ مذکور ہے جس میں صریح دلیل ہے کہ نبی کا خواب حجت اور واجب العمل ہے حالانکہ خواب وحی متلو نہیں حضرت ابراھیم علیہ السلام کو ہزار تمناوں کے بعد آخر عمر میں اللہ تعالی نے فرزند عزیز عطا فرمایا ۔ پھر حالت رضاع ہی سے برسوں تک اکلوتے بیٹے کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر فراق کے صدمے برداشت کئے ۔ مگر خلیل علیہ السلام کے مقام تسلیم و رضا و خلت کے امتحان کی ایک شدید ترین گھاٹی تا حال باقی تھی حضرت ابراھیم علیہ السلام خواب کو حکم الہی یقین کرتے ہوئے بغیر کسی قسم کے تردد کے تعمیل حکم کے لیے نہ صرف آمادہ ہو جاتے ہیں بلکہ لخت جگر کو قربان کرنے کا عمل بھی نہایت مستعدی کے ساتھ شروع کر دیتے ہیں ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام کا عزیز ترین اکلوتے بیٹے کا ذبح کا اقدام کرنا اور اسمعیل علیہ السلام کا ا فعل ما تری کی بجائے ما تو مر کہنا اور اللہ تعالی کا قد صدقت الرویا ، و فدینہ بذبح عظیم ارشاد فرمانا اور اس امتحان کو " بلاء مبین " سے تعبیر کرنا ، یہ جملہ امور واضح دلیل ہیں کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کو خواب میں ذبح ولد کا حکم ہوا تھا اور وہ حکم واجب العمل بھی تھا۔ ( 7 ) ۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم میں جا بجا اطیعو اللہ و اطیعو الرسول ارشاد ہے اگر نبی کا قول اور فعل قابل اعتبار نہیں تو اطیعو اللہ کے ساتھ اطیعو الرسول کا لفظ بار بار کیوں ذکر کیا گیا قرآن میں کئی جگہ بار بار اطاعت رسول کی تاکید کی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی پر و عید سنائی گئی ہے ۔ ( 8 ) ۔۔۔۔۔۔۔ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللہِ وَالرَّسُولِ ( 4 : 59 ) اگر تم کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اس کو اللہ اور رسول کے حوالے کر دیا کرو ۔ ( 9 ) ۔۔۔۔۔۔۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ ( 3 ۔ 164 ) تحقیق اللہ تعالی نے مسلمانوں پر احسان کیا جب کہ ان میں ان ہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالی کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتےہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتا تے ہیں ۔ ( 10 ) ۔۔۔۔۔۔۔ كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولا مِنْكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ( 2 ۔ 151 ) جیسا کہ ہم نے تمھاری جنس سے تم میں ایسے رسول کو بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور تمھاری صفائی کرتے ہیں اور تمھیں کتاب اور فہم اور ایسے علوم کی تعلیم دیتے ہیں جن سے تم ناواقف تھے ۔ ( 11 ) ۔۔۔۔۔۔۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ( 2 ۔ 129 ) اے ہمارے رب ان میں ان کی جنس سے ایسے رسول کو بھیجئے جو ان کو آپ کی آیات پڑھ پڑھ کر سنائیں اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں اور انہیں پاک کریں ۔ ( 12 ) ۔۔۔۔۔۔۔ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ( 62 ۔ 2 ) اللہ تعالی نے ناخواندہ لوگوں میں ان کی جنس سے ایسے رسول کو بھیجا جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو کتاب آسمانی اور فہیم کی تعلیم دیتے ہیں ۔ یہ آیات معنی اور مفہوم کے لحاظ سے قطعی طور پر محکم ہیں ۔ ان میں صاف دلالت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ڈاک کے ہر کارے کی طرح محض بلاغ ہی نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اور حکمت کے معلم اور مسلمانوں کے لیے مزکی بھی تھے تعلیم الکتاب کا فرض جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ لگایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس فرض کو کس طرح ادا کرتے تھے ؟ کیا قرآن کے طلبہ ( صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم ) آپ سے کسی آیت کے بارے میں کچھ دریافت ہی نہیں کرتے تھے ؟ اور اگر کچھ دریافت کرتے تھے تو کیا آپ ان کے جواب میں قرآن ہی کی کوئی آیت پیش کر دیتے تھے ؟ کیا یہ طریقہ تعلیم قرین قیاس ہو سکتا ہے کہ ایک معلم کسی کتاب کی تعلیم دے تو طلبہ تلاوت متن اور سماع کے سوا کوئی بات دریافت ہی نہ کریں ۔ اور اگر کچھ دریافت کریں تو استاد اس کے جواب میں کتاب ہی کا متن پڑھ دے ۔ اپنی زبان سے کچھ تشریح نہ کرے معلم کا فرض ہے کہ کتاب کے مجملات کے تفسیر اور تشریح کرے اور طلبہ کے اعتراضات و خدشات کو حل کرے ۔ کتاب کے مفہوم اور معنی کو واضح طور پر سمجھائے ۔ پرویز کہتا ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت نہیں ہر شخص اپنے دماغ سے قرآن سمجھ سکتا ہے ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن میں صلوۃ و صوم ، حج اور زکواۃ وغیرہ کی تفاصیل کا کہاں ذکر ہے اور اگر قرآن کی تفسیر کرنے کا کسی کو حق نہیں تو آپ نے" معارف القرآن " لکھ کر حماقت کا ثبوت کیوں دیا ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر تو قابل قبول نہیں اور اس گستاخ بد ہنش کی تفسیر قابل اعتبار ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً اپنے قول و فعل سے قرآن کی تشریح فرماتے تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا تزکیہ کرتے تھے ۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل قابل اعتبار نہیں تو معلم الکتاب اور مزکی کیسے ہوئے ؟ اور پھر ولحکمۃ کا عطف مغایرت کا مقتضی ہے ۔ اس لیے مفسرین نے حکمت کی تفسیر حدیث سے کی ہے۔ نیز و یعلمکم ما لم تکونوا تعلمون میں تکریر عامل اس پر دال ہے کہ یہ علوم قرآن کے سوا کسی دوسری جنس کے ہیں یہی حدیث ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو قرآن کی تشریح و تفسیر فرماتے تھے وہ اپنی ذات کی طرف سے نہ تھی بلکہ وہ بھی در پردہ وحی و الہام ہوا کرتی تھی جیسا کہ آئندہ آیت سے ظاہر ہے ۔ (13 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى ( 53: 3،4 ) آپ اپنی نفسانی خواہشات سے باتیں نہیں بتاتے ۔ آپ کا ارشاد خالص وحی ہے ۔ ( 14 ) ۔۔۔۔۔۔۔ فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى ( 53 ۔ 10 ) اللہ تعالی نے اپنے بندے پر کچھ وحی نازل فرمائی ۔ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ حدیث وحی ہے ۔ ( 15 ) ۔۔۔۔۔۔۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( 4 : 65 ) قسم ہے تیرے رب کی یہ لوگ اس وقت تک ہر گز مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے اختلاف میں آپ کو فیصل نہ مان لیں ۔ پھر آپ کے فیصلہ سے تنگدل نہ ہوں اور خوشی سے تسلیم کرلیں۔ ( 16 ) ۔۔۔۔۔۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( 33 ۔ 21 ) تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے احکام لفظوں میں بھیجے ۔ اس نے خود نماز پڑھ کر زکوۃ دے کر ، حج کر کے اور روزہ رکھ کر نہیں دکھایا ۔ اس فریضہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا ۔ اس لیے فرمایا صلو کما رایتمونی ا صلی اللہ تعالی کی ذات بیوی ، بال بچوں اور شریک سے منزہ ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک ، بچوں کی تربیت ، دوستوں اور دوشمنوں کے ساتھ برتاؤ کر کے دکھایا ۔ اللہ تعالی کے نازل کر دہ احکام کو برت کر ایک نمونہ قائم کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عرض یہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی قول و فعل اور زبان و عمل سے قرآن کی مفسر اور معلم تھی ۔ گویا کہ آپ بولتا ہوا قرآن تھے ۔ ، قاری نظر آتے تھے حقیقت میں تھے قرآن ۔ ( 17 ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ قُلۡ ھٰذِہ سَبِیۡلی اَدۡعُو اِلی اللہِ علی بَصِیرۃ انا و مَنِ اتبعنی ۔ آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اس طور پر کہ میں اور میرے متبعین دلیل پر قائم ہیں ۔ ( 18 ) ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ( 3 ۔ 31 ) آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو ۔ ( 19 ) ۔۔۔۔۔۔۔. وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّه ( 4 ۔ 41 ) ہم نے ہر رسول اس لیے بھیجا تاکہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ ( 20 ) ۔۔۔۔۔۔۔. فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ( 3 ۔ 50 ) اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔ ( 21 ) ۔۔۔۔۔۔۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ . ( 4 ۔ 80 ) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ ( 22 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ( 24 ۔ 54 ) اگر رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔ ( 23 ) ۔۔۔۔۔۔۔ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي ( 20 ۔ 90 ) میرا اتباع کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو ۔ ( 24 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ( 33 ۔ 33 ) اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ۔ ( 25 ) ۔۔۔۔۔۔۔ و ان تطیعو اللہ و رسولہ لا یلتکم من اعمالکم شیئا : اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالی تمھارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کریں گے ۔ ( 26 ) ۔۔۔۔۔۔۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ ( 8 ۔ 24 ) اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ۔ ( 27 ) ۔۔۔۔۔۔۔ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ( 3 ۔ 53 ) اے ہمارے رب ہم تیرے نازل کئے ہوئے احکام پر ایمان لائے اور ہم نے رسول کا اتباع کیا۔ ( 28 ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ( 7 ۔ 157 ) آپ فرما دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔ ( 29 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ( 21 ۔ 107 ) ہم نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ۔ ( 30 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ ( 34 ۔ 28 ) ہم نے آپ کو ساری دنیا کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ۔ ( 31 ) ۔۔۔۔۔۔۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ( 33 ۔ 40 ) آپ رسول اللہ اور خاتم النبیین ہیں ۔ ان چاروں آیتوں میں واضح دلیل ہے کہ قیامت تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل حجت ہے ۔ رحمت اور بشیر و نذیر تب ہی ہو سکتے ہیں کہ آپ مزکی ہوں اور آپ کا قول و فعل حجت ہو۔ ( 32 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الأمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ ( 26 ۔ 192 ، 195 ) قرآن آپ پر اس لیے نازل کیا گیا تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ۔ ( 33 ) ۔۔۔۔۔۔۔ رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ( 4 ۔ 165 ) رسولوں کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ۔ ( 34 ) ۔۔۔۔۔۔۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا ( 33 ۔ 45 ، 46 ) ہم نے آپ کو شاہد ، بشیر ، اور نذیر ، اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ۔ ( 35 ) ۔۔۔۔۔۔۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا ( 4 ۔ 174 ) اے لوگو! تمھارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل اور ظاہر نور آچکا ہے ۔ ( 36 ) ۔۔۔۔۔۔۔ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ ( 5 ۔ 15 ) تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور ظاہر کتاب آچکی ہے ۔ ( 37 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا ( 33 ۔ 36 ) مومن مرد یا عورت کو یہ اختیار نہیں کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کو رد کرسکیں جس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی وہ ظاہر گمراہی میں ہے ۔ ( 38 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَاَنزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ (سورہ النحل 44) ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس کی تشریح فرمائیں اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب تبییں اور تشریح ہے ذکر سے مراد قرآن ۔ بیان سے حدیث اور تفکر سے مراد اجتہاد و استنباط ہے ۔ ( 39 ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَاۤ آخرنَاۤ اِلٰيۤ اَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ( سورہ ابراھیم 44) قیامت کے دن کفار کہیں گے کہ اے رب ہمیں کچھ مہلت ملے تو ہم آپ کی اور رسولوں کی اطاعت کریں ۔ ( 40 ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ( 24 ۔ 63 ) رسولوں کے نافرمانوں کو دنیوی اور آخروی عذاب سے ڈرنا چاہیے ( 41 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلا ( 25 ۔ 27 ) جس روز ظالم حسرت سے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کہ کاش میں رسول کا اتباع کر لیتا ۔ ( 42 ) ۔۔۔۔۔۔۔ يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الأرْضُ ( 4 ۔ 42 ) قیامت کے دن رسول کے نافرمان تمنا کریں گے کہ کاش مٹی ہو جائیں ۔ ( 43 ) ۔۔۔۔۔۔۔ يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولا ( 33 ۔ 66 ) دوزخی کہیں گے کہ کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کر لیتے۔ ہم پرویز کو بطور خیر خواہی کے مشورہ دیتے ہیں کہ اس عذاب اور رسوائی سے پہلے رسول دشمنی سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے ۔ ( 44 ) ۔۔۔۔۔۔۔ قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخر وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ( 9 ۔ 29 ) ایسے لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں سمجھتے۔ اس آیت کے حکم کے بموجب حکومت اسلامیہ پر فرض ہے کہ بذریعہ قتال پرویز کی بیخ کنی کرے ۔ ( 45 ) ۔۔۔۔۔۔ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ ( 7 ۔ 157 ) رسول پاکیزہ چیزوں کو حلال اور خبیث چیزوں کو حرام کرتا ہے ۔ ( 46 ) ۔۔۔۔۔۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ( 9 ۔ 59 ) اگر یہ لوگ اللہ اور رسول کے دے ہوئے پر راضی ہوتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا ۔ ( 47 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ ( 4 ۔ 150 ) کفار اللہ اور رسول کی اطاعت میں فرق کرنا چاہتے ہیں ( 48 ) ۔۔۔۔۔۔۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ ( 49 ۔ 2 ) اگر تم رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کرو گے تو تمھارے اعمال ضائع جائیں گے ۔ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنا جب اعمال کی بربادی کا باعث ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مقابلہ میں اپنی رائے کو مقدم رکھنا اعمال کی تباہی کا سبب کیوں نہ ہو گا ؟ ( 49 ) ۔۔۔۔۔۔۔ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ( 33 ۔ 4 ) نبی مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہے ۔ ( 50 ) ۔۔۔۔۔۔۔ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ( 4 ۔ 105 ) ہم نے آپ کی طرف قرآن اس لیے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں میں حکم الہی سے فیصلہ کر یں ۔ ( 51 ) ۔۔۔۔۔۔۔ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ( 59 ۔ 7 ) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت کرو اور جس چیز سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم روکیں اس سے باز رہو۔ اسلم جیراجپوری کہتا ہے " وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا" الخ مال غنیمت کے ساتھ خاص ہے ۔ رسول اللہ کی احادیث اور ہدایات اس میں شامل نہیں اور دلیل میں ایک مضحکہ انگیز بات کہتا ہے ۔ کہ حدیثیں چونکہ اقوال ہیں اس لیے ان پر ایتاء کا لفظ اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ یہ نتیجہ ہے رسول دشمنی کا کہ خود قرآن میں تحریف کرنے لگے ۔ قرآن مجید میں کتاب ، حکمت ، علم ، فضل ، رحمت عذاب وغیرہ پر ایتاء کا اطلاق کیا گیا ہے ۔ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا۔ وَ اٰ تٰنِیۡ رَحۡمَۃً من عِنۡدِہِ ۔ فلما اٰتَوۡہُ مُوۡ ثِقَھُمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا من النار ۔ و اٰ تَیۡنٰہُ الحکم صبیًا ۔ اتینا لقمان الحکمۃَ ۔ وَ اتَینَا ہُ مِنۡ لَدُنا علمًا ۔ رسول دشمنی کے جرم میں عقل اور فہم تو مسخ ہو چکی تھی ۔ اب حافظہ کا بھی دیوالہ نکل گیا ۔ بلکہ آنکھیں بھی چندھیا گئیں ۔ قرآن میں کوئی دس یا بیس مرتبہ نہیں بلکہ بار بار کئی جگہ کتاب ، علم اور حکمت کے متعلق ایتاء کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ مگر مہارت قرآن کے مدعیوں کی بصیرت کے ساتھ ساتھ بصارت بھی مسخ ہو چکی ہے ۔ اور وہ دن بھی دور نہیں جب دشمنان رسول کی زبان پر رَبِ لِمَ حَشَر تنی اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنتُ بَصِیرا ( اے اللہ مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں اندھا نہ تھا ) کا ورد ہو گا ۔ بفرض محال اگر مَا اٰتَکم الرسُوۡلُ کا مال غنیمت کے ساتھ مخصوص ہونا تسلیم بھی کر لیا جائے تو ہم پوچھتے ہیں کہ جب مال غنیمت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اور فعل تم بھی حجت مانتے ہو تو دیگر امور میں آپ کا اسوہ حسنہ کیوں قابل اعتبار نہیں ؟ بابہ الفرق کیا چیز ہے ۔ Last edited by کنعان; 26-05-12 at 03:58 AM. وجہ: Re.Organized |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
کمائي: 1,964
شکریہ: 111
26 مراسلہ میں 88 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم
حجیت حدیث کا اثبات خود حدیث سے نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مندرجہ ذیل احادیث موئدات کے باب میں سے ہیں ۔ منکرین حدیث تاریخ سے استدلال کرتے ہیں اورحدیث تو بوجہ تنقید و تنفیج اسناد وغیرہ کے تاریخ سے بدرجہا قوی ہے ۔ اثبات حجیت کے لئے تین قسم کے دلائل قطعی ہیں ۔ جن میں سے آ یاتِ قرآنیہ اوپر گذر چکیں اور اجماع وعقل سلیم کا بیان احادیث کے بعد آے گا ۔ 1 ۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (رواہ الشیخان) ترجمہ: حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو میر ے ساتھ اپنی اولاد اور اپنے والد اور سب لوگوں سے زیادہ محبت نہ ہو جائے ۔ محبت مستلزم ہےمحبوب کی اطاعت کو تعصي الر سول وانت تظہر حبہ ھذا العمری فی الفعال بدیع لو کان حبک صا دقاً لا طعتہ ان المحب لمن یحب مطیع 2 ۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا فَقَامَ رَجُلٌ طَوِيلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَمَا الَّذِي نَفْعَلُ فَقَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَحُجُّوا بَيْتَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاتَكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ (مسند امام احمد) ترجمہ: حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ، تم اپنے رب کی عبادت کرو اور پانچ وقت کی نمازیں ، رمضان کا روزہ اور کشادہ دل سے زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور مسلمان حکام کی اطاعت کرتے رہو تو تمہارے لئے جنت ہے ۔ 3 ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَى قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى ( راوہ البخاری) ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی مگر جو انکار کرے گا ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ انکار کون کرے گاتو آپ نے فرمایا کہ جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔ 4 ۔ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ثُمَّ قَالَ لِي يَا بُنَيَّ وَذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ (رواہ الترمذی) ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ حتیٰ الامکان کسی کے ساتھ بغض نہ رکھو پھرفرمایا کہ یہ میری سنت ہے جس نےمیری سنت کومحبوب رکھااس نے مجھے محبوب رکھااور جس نے مجھ سےمحبت رکھی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ 5 ۔ عن عبد الله بن عمرو ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به (شرح السنہ) ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات میرے بتلائے ہوئے احکام کے تابع نہ ہوجائیں ۔ 6 ۔ عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ (ابو داؤ د ) ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ تم میرے اور خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑو ۔ 7 ۔ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ (مسند احمد بن حنبل و درامی) ترجمہ: اگر نبی کا راستہ چھوڑوگے تو گمراہ ہو جاؤ گے ۔ 8 ۔ وجوب اتباع النبی صلی اللہ علیہ و سلم فیما لم یوح الیہ من القرآن (مسنداحمد بحوالہ مفتاح ) ترجمہ : جو حکم قرآن میں مذکور نہ ہو اس میں رسول اللہ علیہ وسلم کا اتباع فرض ہے ۔ 9 ۔ ملازمۃ الرّجل الکتاب والسنۃ ( موطا امام مالک بحوالا مفتاح) ترجمہ: قرآن وحدیث پر عمل کر نا ضروری ہے ۔ 10 ۔ اثم الحائد عن السنۃ ( درامی بحوالہ مفتاح) ترجمہ: حدیث سے اعراض کرنے والا سخت کنہگار ہے ۔ 11 ۔ کان جبرائیل ینزل علی النبی صلی اللہ علیہ و سلم بالسنۃ کما ینزل علیہ با لقرآن( درامی بحوالہ مفتاح ۔ ترجمہ : حضور پر جس طرح جبرئیل قرآن نازل کیا کرتے تھے اسی طرح حدیث بھی اللہ کی طرف سے نازل کیاکرتے تھے ۔ 12 ۔ السُّنَّةُ قَاضِيَةٌ عَلَى الْقُرْآنِ (درامی بحوالا مفتاح) ترجمہ: حدیث قرآن کی تفسیر اور تشریخ ہے 13 ۔ ملعون التارک لسنۃ رسول اللہ علیہ وسلم ( ترمذی بحوالہ مفتاح ) ترجمہ: حدیث کو چھوڑنے والا ملعون ہے ۔ 14 ۔ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ علیہ وسلم من تمسک بسنتی عندفسادامتی فلہ اجرمائۃ شھید( بیہقی) ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نےفتنہ کے زمانے میں میری سنت کو مضبوط پکڑا اس کے لیے سو شھیدوں کا ثواب ہے ۔ 15 ۔ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ طَيِّبًا وَعَمِلَ فِي سُنَّةٍ وَأَمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال کھانے والا اور حدیث پر عمل کرنے والا جنت میں جائے گا ۔ 16 ۔ عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَغَيْرِهِ رَفَعَهُ قَالَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ أَمْرٌ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ (ابوداود ترمذی) ترجمہ : حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی پیدا ہونگے جو مال و دولت کے نشہ میں مغرور ہونگے ان کے سامنے اگر کوئی حدیث بیان کی جائے گی تو حدیث کا انکار کرینگےاور کہیں گےکہ ہم تو صرف قرآن کےماننے والے ہیں ۔ 17 ۔ أَلاَ وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ فَهُوَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ ( درامی بحوالہ مفتاح کنوزالسنۃ) ترجمہ : جن چیزوں کو حدیث میں حرام کیا گیا ہے ویسے ہی حرام ہیں جیسے وہ چیزیں جن کی حرمت قرآن سے ثابت ہے ۔ 18 ۔ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقرآن فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ (رواہ ابوداود الدارمی و ابن ماجۃ) ترجمہ : حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر قرآن کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام نازل کئے گئے ہیں ۔ بعض لوگ مال ودولت کےغرور میں ہونگےاور کہیں گے کہ ہم قرآن کے سوا حدیث کو تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ رسول نے جن چیزوں کی حرمت کو حدیث میں بیان فرمایا ہے، ویسی ہی حرام ہیں جس طرح وہ چیزیں جن کی حرمت قرآن میں مذکور ہیں گدھا اور ہر درندہ حرام ہے۔( حالانکہ ان کی حرمت کا قرآن میں ذکر نہیں) 19 ۔ عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ نَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَمَعَهُ مَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَكَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْكَرًا فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَلَكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا حُمُرَنَا وَتَأْكُلُوا ثَمَرَنَا وَتَضْرِبُوا نِسَاءَنَا فَغَضِبَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا ابْنَ عَوْفٍ ارْكَبْ فَرَسَكَ ثُمَّ نَادِ أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ وَأَنْ اجْتَمِعُوا لِلصَّلَاةِ قَالَ فَاجْتَمَعُوا ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ قَدْ يَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هَذَا الْقرآن أَلَا وَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ وَعَظْتُ وَأَمَرْتُ وَنَهَيْتُ عَنْ أَشْيَاءَ إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقرآن أَوْ أَكْثَرُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمْ الَّذِي عَلَيْهِمْ (رواہ ابوداؤد) ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض لوگ مال ودولت سے مغرور ہوکر کہیں گے کہ حرام صرف وہی چیزیں ہیں جن کی حرمت قرآن میں بیان کی گئی ہے آپ فرمایا ، خبردار خد ا کی قسم بلاشبہ میں بہت سے ایسے اوامر ونواہی کی تبلیغ کی ہے جو قرآن جتنے بلکہ اس بھی سےزیادہ ہیں ۔ یہ آخری دو حدیثیں چونکہ انکار حدیث کے شجرِ خبیث کی جڑیں کاٹ رہی تھیں ۔ اس لئے دُشمنانِ رسول اللہ علیہ وسلم نے ان پر اعتراض کیا کہ یہ حدیثیں موضوع ہیں اور دلیل یہ بیان کی کہ قرآن تو معجزہے اوراس کی مثال لانے سےجن وانس وغیرہ عاجز ہیں تو احادیث ِ قرآن کےمثل یعنی ہم پایہ کیسےہوسکتےہیں ۔ قرآن کےخلاف عجمی سازش کے ماتحت احادیث کو وضع کرکے قرآن کی مثل ٹھرایا گیاہے ۔ جواب: ( 1 ) حدیث میں مثل سے فضل ، فصاحت وبلاغت اور اعجاز میں مماثلت مراد نہیں بلکہ واجب الا تباع ہونے میں مثل فرمایا گیاہے ۔ یعنی کتاب وسنت دونوں کا ماننا ضروری ہے ۔ اور ان پر عمل کرنا واجب ہے ۔ 2 : مثل سے مراد مثل فی الکّمیت ہے ۔ چنانچہ دوسری حدیث میں اواکثر کا لفظ اس پر واضح دلیل ہے ۔ لغت میں شدت و ضعف کا لفظ کیفیت کے لئے اور کثرت وقلت کمیت کے لئے موضوع ہے ۔ عرف اور اصطلاح میں بھی یونہی استعمال ہے ۔ قرآن مجید میں ہے ۔ اولم یعلم ان اللہ قد اھلک من قبلہ من القرون من ھو اشد منہ قوۃ واکثر جمعا (28 ۔ 78 ) قوت کےساتھ اشد اور جمعا کےساتھ اکثر کالفظ ہے۔ عرضیکہ لغت ، عرف واصطلاح شریعت میں ہر لحاظ سے کثرت کا لفظ کیفیت میں نہیں کمیت میں استعمال ہوتا ہے ۔ مگر رسول دشمنی کی وجہ سے عقل وخرد کا دیوالہ نکل چکا ہےکہ ایک ظاہر اور بالکل واضح حقیقت کے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ اسی طرح غلام جیلانی برق لکھتاہے کہ حضور صلی اللہ وسلم کی ایک بیوی حیض کی حالت میں نماز پڑھا کرتی تھی اور خون نیچے گرتا تھا ۔ برق یہ حدیث بیان کرکے اس پر اعتراض کرتا ہے کہ حائضہ کیسے نماز ادا کر سکتی ہے یہ برق کی جہالت اور نادانی پر واضح دلیل ہے ۔ حضور صلی اللہ وسلم کی یہ بیوی جسے برق نے حائضہ لکھا ہے یہ حائضہ نہ تھیں بلکہ استحاضہ کا خون گرتا تھااور استحاضہ کی حالت میں نماز معاف نہیں۔ یہ تو بطور مثال کے ہم نے بیان کردیا۔ ورنہ دشمنان رسول واسلام کے جتنے بھی اعتراض حدیثوں پر ہیں سب کے سب اسی طرح جہالت اور کج فہمی پر مبنی ہیں۔ اجماع امت حضور اکرم صلی اللہ وسلم کے زمانے سے لیکر آج تک امت مسلمہ ہر معاملہ میں حدیث کو حجت سمجھتی رہی ہے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ، خلفائے اربعہ، تابعین ، فقہاء ، ائمہ ، محدثین ، صوفیاء اور علماء حضور صلی اللہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو مشعل راہ سمجھتے آئے اور حضور صلی اللہ وسلم کے قول و فعل سے استدلال لیتے رہے اس کی تفصیل ہم " تدوین حدیث " کے ضمن میں لکھیں گے ۔ عقل سلیم 1. اگر احادیث کے راوی قرآن کے خلاف عجمی سازش کرنے والے تھے ۔ اس لئے حدیث قابل قبول نہیں تو قرآن بھی ان ہی وسائط سے ہم تک پہنچا ہے ۔ پس قرآن کیسے قابل اعتبارہوسکتاہے؟ ا گر کہا جائے کہ قرآن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انا نخن نزلنا الذ کر و انا لہ لحفظون O (بشک ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ) تو ہم کہتے ہیں کہ خود اس آیت کی صداقت پر اعتماد کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ کیوں کہ یہ بھی تو انہی لوگوں کی وسا طت سے ہم تک پہنچی جو کہ حدیث میں وسائط ہیں۔ 2. صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تابعین ومن بعدہم جمیع امت مسلمہ جو حدیث کو حجت تسلیم کرتی رہی ہے کیا اس میں ان سے اجتہادی غلطی ہوئی ہے یا کہ جان بوجھ کر ایسا کرتے رہے ؟ اگر اجتہادی غلطی ہوئی ہے یعنی حقیقیت میں حدیث قابل اعتبار نہ تھی مگر اسلاف سے غلطی ہوگئی کہ وہ اسے قابل عمل سمجھتے رہے تو غور کرنے کا مقام ہے کہ ساری امت کے متقدمین اور متآخرین علماء اور صلحاء تمام تر اسلاف اسی اجتہادی غلطی میں صدیوں تک مبتلا رہے ؟ کسی ایک فرد نے بھی غلطی کو محسوس نہ کیا ؟ اور اگر اسلاف حدیث کو نا قابل اعتبار سمجھتے تھے اس کے باوجود جان بوجھ کر حدیثیں بیان کرکے قرآن کے خلاف سازشیں کرتے آ ئے ہیں تو اس امت میں سے مومن کون باقی رہا ؟ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم ، تابعین، تبع تابعین ، ائمہ ، محدثین اور جمیع سلف صا لحین رحمہم اللہ تو نعوذ باللہ خاک بدہن گستاخ قرآن کے مخالف تھے ، کیا مذہب اسلام کی چودہ صد سالہ زندگی میں پہلا مومن صرف پرویز (علیہ ما علیہ ) ہی ہے ؟ جو دین چودہ سو سال تک صرف مخالفین اور دشمنوں کے قبضہ میں رہا ہو اتنی طویل مدت تک اس کا کوئی محا فظ اور اسے قبول کرنے والا پید ہی نہ ہوا ہو تو ایسے دین پر کیسے اعتماد کیا جاسکتاہے؟ 3. یہ امر دریافت طلب کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید اور سابقہ اسمانی کتابوں کو رسول کے واسطے سے کیوں اتارا؟ اگر اللہ تعالی ہر فرد بشر کے پاس لکھی لکھائی کتاب بلاواسطہ رسول کے بھیج دیتے تو یہ صریح معجزہ ہونے کی وجہ سے زیادہ موئثر ہوتا ۔ کفار خود اس کے طالب تھےکہ لکھی لکھائی کتاب اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہو۔ سو اگر یہ طریقہ اختیار کیا جاتا تو منہ مانگا معجزہ ہونے کے باعث زیادہ سبب ِ ہدایت ہوتا ۔ مگر پھر بھی یہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ رسولوں کی معرفت کتابیں نازل فرمائیں ۔ اور رسول بھی صرف انسانوں سے منتحب فرمائیں کفار کہتے تھے کہ پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالی نے فرشتے کیوں نہیں بھیجے ، تاکہ ہمیں ان احکام کے منزل من اللہ ہونے کا یقین ہوجائے ۔ اللہ تعالی اس کے جواب میں فرماتے ہیں وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلا " ( ترجمہ : اگر ہم فرشتے کو رسول بناکر بھیجتے تو انسانی صورت ہی میں بھیجتے ) لَوْ كَانَ فِي الأرْضِ مَلائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولا ترجمہ : اگر زمین پر فرشتے بستےہوتے تو ہم رسول بھی فرشتے ہی بھیجتے ۔ عرضیکہ سوال یہ ہے کہ تنزیل کتب کے لئے رسولوں کو واسطہ بنانے اور رسالت کے لئے بالخصوص انسانوں ہی کو منتخب کرنے پر اس قدر اصرار کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب خود کلام اللہ میں موجود ہے ۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ( 4 ۔ 64) یعنی خدا نے جتنے رسول نے بھی بھیجے ان کی بعثت کا مقصد صرف یہ رہا کہ وہ فرامین خداوندی کے حکم دیں اور قوانین الہی کے مطابق زندگی بسر کریں اور نازل شدہ احکام کو برت کر امت کے لئے ایک نمونہ قائم کردیں تاکہ امت ان کا اتباع کرے۔ اگر بلاواسطہ رسول احکام نازل کردیئے جاتے اور ان کی تفصیل وتشریخ کرنے والا اور عملی جامہ پہنانے والا کوئی نہ آتا تو آیات کے مفہوم اور معنی میں اختلاف کرتے اور منشائے الہی سمجھنے میں غلطی کرتے ۔ ان کو سمجھانے والا کوئی نہ ہوتا ۔ اس ضرورت کوتو کسی حد تک فرشتے بھی پورا کر سکتے تھے۔ مگر لوگ ان کے متعلق یہ خیال کرتےکہ فرشتے تو قوت شہوانیہ غضبیہ سےمنزہ ہیں اور انسانی حوائج وضروریات سے مستعنی ہیں۔ اس لئےتقوی اور طہارت و پاکیزگی میں انسان فرشتےکی تقلید نہیں کرسکتا ۔ انسان پیٹ رکھتا ہے، کھانے پینے ، پیشاب ،پاخانہ کا مختاج ہے ۔ شہوت و عضب کی قوت رکھتا ہے ۔ جذبات وداعیات اور امراض و عوارض کا شکار رہتاہے ۔ بیوی ، بچوں کے جنجال میں جکڑا رہتا ہے ۔ اسلئے فرشتے کا اتباع انسان کےبس کا کام نہیں ۔ لوگ کہہ سکتے تھے کہ ہم انسانی کمزوریاں رکھتے ہوئے فرشتے کی متقیانہ زندگی کی تقلید کیسےکریں ؟ اس لئے ضروری تھا کہ ایک انسان ان ہی جذبات و عوارض انسانیہ کےساتھ زمین پر اتا ، اسےبھی وہ تمام معامالات پیش اتےجو ایک عام انسان کو پیش اتے ہیں تاکہ وہ قوانین الہیہ کے مطابق زندگی بسر کرکے دکھاتا کہ کس طرح انسان خدا کے نازل کردہ قوانین پر عمل کرے ۔ قدم قدم پر لوگوں کو اپنے قول و عمل سے ہدایات دیتا اور انھیں سمجھاتا کہ انسان زندگی کی پیچیدہ راہوں سےکس طرح بچ کر راہ مستقیم پر چل سکتا ہے ۔ غرضیکہ لفظوں میں نازل شدہ احکام کو عملی جامہ پہناکر امت کے لئے اسوہ حیات قائم کردیتا ۔ بس یہی وجہ کہ خود اللہ تعالی نے ہمارے لئے کتاب کو کافی نہ سمجھا اور رسول اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کو اس کے ساتھ ہم پر لازم قرار دیا ۔ اس کے بعد ہم دشمنان رسول اللہ علیہ وسلم کی خرافات کے جواب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ پہلا اعتراض : دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتےہیں کہ حدیث بالاتفاق ظنی ہے اور ظن کی پیروی قرآن کی رو سے منع ہے۔ وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلا ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ( 10 ۔ 36) قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلا الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلا تَخْرُصُونَ ( 6۔ 148 ) وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلا يَخْرُصُونَ ( 6 ۔ 116 ) وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولا ( 17 ۔ 36 ) نتیجہ یہ نکلا کہ حدیث کی پیروی قرآن کی رو سے منع ہے ۔ جواب : لفظ ظن تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ 1. اٹکل یعنی بلا دلیل محض گمان اور تخمین 2. شواہد وقرائن سے ظن غالب 3. ظن بمعنی نظری و استدلالی علم جو دلیل و برہان قطعی سے حاصل ہوا ہو ۔ مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ میں لفظ ظن اسی علم یقینی کے معنی میں ہے ۔ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( 2 ۔ 46 ) قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو اللَّهِ ( 2 ۔ 249 ) مْ وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ( 38 ۔24 ) كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ( 75 ۔ 26،27، 28 ) أَلا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ ( 83۔ 4، 5 ) قرآن نے ظن بمعنی محض اٹکل و تخمین کی پیروی سے منع کیا ہے ۔ احادیث کا سلسلہ نعوذ باللہ محض اٹکل اور تخمین نہیں ہے ۔ پس احادیث کو ظن کے معنی ثانی ( ظن غالب ) اور معنی ثالث ( علم یقینی استدلالی ) کے لحاظ سے ظنی کہا جاتا ہے ۔ بہت سی احادیث علم یقینی استدلالی کا فائدہ بھی دیتی ہیں ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ متوفی 854 شرح نخبۃ الفکر میں فرماتے ہیں ۔ وقد یقع ای فی اخبار الا حاد المنقسمۃ الی مشھور و عزیز و غریب ما یفید العلم النظری بالقرائن علی المختار (شرح نخبۃ الفکر ) علم یقینی استدلالی تو ظاہر ہے کہ واجب الاتباع ہے ۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو ظن غالب کا فائدہ دیتی ہیں ۔ سو شریعت مطہرہ نےظن غالب کویقین کا حکم دےکر واجب الاتباع قرار دیا ہے ۔ شرعی یقین کے لئے ثقہ عادل کی شہادت ( کہیں ایک کی ، کہیں دو کی اور کہیں زیادہ کی ) کافی ہے ۔ سو وہ احادیث میں موجود ہے ۔ اس لحاظ سے احادیث سب یقینی ہیں ۔ ظنی اس لئے کہا جاتا ہےکہ مفید علم یقینی استدلالی ہے یا اس لئے کہ اکثر احادیث میں عقلاً احتمالِ خطا موجود ہےشرعاً نہیں ۔ عرض یہ کہ احادیث کو ظنی اس لئے کہا جاتا ہے کہ بعض احادیث مفید علم یقینی عقلی استدلالی ہیں ۔ اور اکثر احادیث مفید ظن غالب ہیں اور دنیا میں غالب پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہم رات دن اپنے جمیع معاملات میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں ۔ دوا پیتےوقت شفا کا یقین نہیں ہوتا بلکہ زیادہ مضرت کا احتمال موجودہے ۔ موٹر ، ریل ،طیارہ ، اور بحری جہاز وغیرہ پر سوار ہوتے وقت ہمیں ان کی مشنری کا کوئی علم نہیں ہوتا ۔ مشنری کےپرزہ جات کی درستی کا کوئی یقین نہیں ہوتا ۔ راستہ کے حوادث سے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ، طیارہ کے گرنے ، ریل کے پٹری سے اتر جانے، بحری جہاز کے غرق ہوجانے کا احتمال موجود ہے ۔ معہذا ہم دن رات ان ذریعوں سے سفر کرتے ہیں ۔ بازار سے گوشت خریدتے وقت اس کی حلت کا ، دودھ ، گھی ، اناج، شکر وغیرہ کی پاکیزگی کا اور پانی پیتے اور غسل کرتے وقت اس کی طہارت کا ہر گز ہر گز کامل یقین نہیں ہوتا ۔ اور نہ ہی ہوسکتا ہے ۔ عمر بھر ہر معاملہ ظن غالب کی پیروی پر مجبور ہیں ۔ ظن غالب کی پیروی کو چھوڑ دیا جائے تو انسان دنیا میں زندہ ہی نہیں رہ سکتا ۔ سانپ کے پاس جانے سے ہمیں اس کے کاٹنے کا یقین نہیں اور کاٹنے کے بعد مرنے کا یقین نہیں اسی طرح زہر پینے سے موت یقینی نہیں ۔ معہذا ہم زہر پینے سے بچتے ہیں اور سانپ سے پرہیز کرتے ہیں ۔ جب ہم شب وروز ہر معاملہ میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حدیث کو ظنی ہونے کی وجہ سے ترک کردیا جائے ۔ قرآن یقینی ہےاور حدیث ظنی ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ حدیث کو محض اٹکل اور تخمین سمجھ کر بالکل نا قابل عمل قرار دیا جائے ۔ قرآن کے یقینی اور حدیث کے ظنی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ہر لفظ تواتر سے ثابت ہونے کی وجہ سے یقینی بدیہی عقلی ہے ۔ حدیث چونکہ روایت بالمعنی جائز ہے اس لئے اس کے ہر لفظ کے متعلق قرآن جیسا یقین نہیں ہوسکتا لہذا حدیث یقینی استدلالی یا یقینی شرعی ہے جیسا کہ ماں کا علم یقینی ہے اور باپ کا ظنی ۔ کیونکہ ماں کے متعلق قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص کی ماں ہے، مگر باپ کے بارےمیں اس یقین کے ساتھ حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔ معہذا باپ کا علم یقینی شرعی ہے ۔ دوسرا عتراض: حضور صلی اللہ وسلم نے کتاب حدیث سے منع فرمایا تھا ۔ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ ( مسلم ) کتابت سے منع کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ حدیث حجت نہیں ۔ اس کے بعد تیسری صدی کے آخر میں محدثین نے حدیثیں جمع کیں ان محدیثین اور حضور صلی اللہ وسلم کےدرمیان عموماً پانج اور کبھی اس سے زیادہ وسائط ہیں ۔ یہ محدثین روایت در روایت ، در روایت ، در روایت ، در روایت کرتے ہیں ۔ جو چیز اتنے وسائط سے ہم تک پہنچی اس پر کیسے اعتماد ہو سکتا ہے ؟ اس کے عام لوگوں میں اباً عن جدٍ حدیثیں بیان کرنے اوران پر عمل کرنے کی رسم پید ہوگئی ۔ جن کی تردید قرآن نے بار بار بایں الفاظ کی ہے " وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ( 31 ۔ 21 ) " جب ان کو قرآن کی پیروی کے متعلق کہاجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کی پیروی کریں گے " جواب: اس اعتراض کے جواب کےلئے تاریخ تدوینِ کے بیان کی ضرورت ہے ۔ لہذا ہم مختصراً بقدر ضرورت اس مضمون پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
کمائي: 1,964
شکریہ: 111
26 مراسلہ میں 88 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تدوین حدیث
شروع میں حضور صلی اللہ وسلم نے کتابت حدیث سے اس لئے منع فرمایا تھا کہ قرآن سے التباس نہ ہوجائے کیونکہ اس وقت میں کتابت قرآن کا عام دستور تھا اور عوام قرآنی اسالیب اور اس کے معجزانہ انداز سے ابھی پورے مانوس نہ تھے ۔ کتابت حدیث سے منع کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ حدیث قابل اعتبار نہیں ۔ اگر یہ مقصد ہوتا تو اپ حدیث کے بیان کرنے سے بھی روک دیتے ۔ حالانکہ مسلم شریف کی جس روایت میں کتابت سے نہی ہے اسی روایت کے آخر میں یہ جملہ بھی ہے " وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ " منکرین حدیث کی بددیانتی کا یہ عا لم ہے کہ جس حدیث سے استدلال لیتے ہیں اسی کےآخر کا وہ جملہ جو ان کے اہوائے باطلہ کے خلاف ہے ، اسے بالکل حذف کردیتے ہیں اور پھر تعجب یہ کہ انکار حدیث کے لئے خود حدیث سے استدلال کررہے ہیں جب حدیث قابل اعتماد نہیں تو لاتکتبوا الخ پر کیسےاعتماد کیا گیا ؟ حدیث کی اشاعت کے لئے حضور صلی اللہ وسلم نےفرمایا فَلْيُبْلِغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ حاضر غائب کو پہنچا دے ۔ خود حضور صلی اللہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کے بعد زمانہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں حدیثیں بیان کرنے کا عام رواج تھا ۔ حضور صلی اللہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک خدمت پر بھیجتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم کس طرح فیصلہ کروگے ؟ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ پہلے قرآن پر نظر کروں گا ۔ پھر آپ کے قول و عمل سے استدلال کروں گا ۔ پھر اجتہاد سے کام لوں گا ۔ حضور صلی اللہ وسلم نے اس پر مسرت کا اظہار فرماکر حجیت حدیث کی تصدیق فرمادی ۔ حضور صلی اللہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ ( ابوداودکی کتاب العلم) منکرین حدیث کا یہ کہنا کہ تیسری صدی کے آخر میں حدیث کی تدوین ہوئی ہے سراسر غلط ہے ۔ تدوین کا کام حضور صلی اللہ وسلم کے زمانہ ہی سے شروع ہو چکا تھا اگرچہ عوام کو اختلاط بالقر ان کے خوف سے کتابت حدیث کی اجازت نہ تھی تاہم خاص خاص لوگوں کو کتابت کی اجازت تھی ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سب سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں مگر عبداللہ بن عمروبن العاص لکھا کرتے تھے میں نہ لکھتا تھا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلَا أَكْتُبُ ( بخاری) مستدرک حاکم سے معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھی احادیث کا لکھا ہوا ذخیرہ موجود تھا چنانچہ حسن بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک حدیث سنائی تو اپ نےاس کا انکار کیا اور فرمایا کہ اگر تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو میری کتابوں میں موجود ہوگی ۔ چنانچہ آپ نے اپنی کتابوں میں تلاش کی تو حدیث مل گئی ۔ اس مقام پر منکرین حدیث نے دو اعتراض کئے ہیں ۔ ( 1 ) بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہےکہ ابو ہریرہ سے عبداللہ بن عمرو کو علم حدیث زیادہ تھا ۔ حالانکہ روایات کا ذخیر ہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ منقول ہے ۔ اس کا جواب یہ کہ بخاری کی روایت میں استثناء منقطع ہے اس لئے اس کا سابق جملہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ نیز کثرت علم کثرت روایت کو مستلزم نہیں ۔ حضور صلی اللہ وسلم کے وصال کے بعد عبداللہ بن عمرو زیادہ تر شام میں رہے ہیں اور ابوہریرہ کا قیام مدینہ ہی میں رہا ہے ۔ چونکہ دور اول میں علم کا مرکز مدینہ ہی تھا ۔ لوگ تحقیق مسائل میں مدینہ ہی کے علماء کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ اس لئے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو روایات بیان کرنے کا زیادہ موقع ملا ۔ (2) مستدرک حاکم میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھی لکھی ہوئی حدیثیں موجود تھیں اور بخاری میں ہے " لا اکتب" اس کا جواب یہ ہے کہ ابوہریرہ خود لکھنا نہ جانتے تھے ان کے پاس جو ذخیرہ تھا وہ دوسروں سے لکھوایا گیاتھا ( فتح الباری ص 184ج 1) طبقات ابن سعد میں عبداللہ بن عمرو بن العاص کا واقعہ لکھا ہے کہ انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ جو حدیثیں میں نے آپ سے بالمشافہہ سنی ہیں ان کے لکھنے کی اجازت فرمائیں ۔ حضور صلی اللہ وسلم نے اجازت دے دی پھر عبداللہ نے در یافت کیا کہ صرف حالت نشاط کی حدیثیں لکھوں یا حالت غضب کی بھی ۔ آپ نے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا کہ اس منہ سے سوائے حق کے کچھ نہیں نکلتا ۔ چنانچہ انہوں نے احادیث کوجمع کیا اور اس کانام " الصادقہ" رکھا ۔ یہی واقعہ ابوداود کی کتاب العلم میں بھی ہے ۔ جب لوگ قرآن کے معجزانہ اسلوب سے بخوبی واقف ہوگئے تو حضور صلی اللہ وسلم نے نہ صرف کتابت حدیث کی اجازت دی بلکہ لکھنے کا حکم دیا اور کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دینی مسائل اور پیغمبرانہ ہدایات خود لکھوائیں ۔ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَجْلِسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْمَعُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ فَيُعْجِبُهُ وَلَا يَحْفَظُهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ الْحَدِيثَ فَيُعْجِبُنِي وَلَا أَحْفَظُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ لِلْخَطِّ (رواہ الترمذی) فتح مکہ کے موقع پر آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور ابو شاہ یمنی کی درخواست پر وہ خطبہ لکھوا کر ان کو دیا اکتبو الابی شاہ [أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُفْدَى وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] ( مفتاح السنۃ مصر ی ص 17 بخاری) عمرو بن حزم کو یمن بھیجتے وقت حضور صلی اللہ وسلم نے ایک مفصل تحریری ہدایت نامہ دیا جس میں صدقات ، دیات ، فرائض وغیرہ کے احکام تھے(مفتاح السنۃ ص 18 ) مسلم بن الحارث کے والد کو حضور صلی اللہ وسلم نے دوسرے شخص سے بشارت لکھواکر دی ( ابوداود) طائف کے ایک شخص نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو ان کی ایک کتاب سنائی تھی ( ترمذی کتاب العال) خطیب کی روایت کے مطابق حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھی احادیث کا مجموعہ تھا ۔ حضرت انس اپنی اولاد کو کتابت حدیث کا حکم دیا کرتے تھے ۔ ( درامی ص 68 ) ابن عبدالبر نے جامع میں عبد الرحمان بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک کتاب دکھا کر قسم کھائی اور کہا کہ یہ عبداللہ بن مسعود کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ۔ عبداللہ بن مسعود اور علی رضی اللہ تعالی عنہما نے بعض احادیث کو لکھ کر صحیفہ کی صورت میں اپنے پاس رکھا (بخاری) بعض کثیر الروایات صحابہ مثلاً ابوہریرہ ،عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر، جابر بن عبداللہ، براء بن عازب اور انس بن مالک وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم کی مرویات کو ان کے شاگرد ، ان کے روبرو بیٹھ کر لکھا کرتے تھے ۔ ( دارمی68 ، 69 ۔ تہدیب التہذیب جلد 4 ص 198 ۔ کتاب العلل للترمذی ) حضرت عمر نے عمال حکومت کے لئے صدقتہ الماشیہ کے احکام لکھ رکھے تھے ۔ ( موطا مصری صفحہ 135 ، 136 ، 151 ، 152 پراس قسم کی مثالیں ملا حظہ ہوں) مگر اس زمانہ حفظ صدور پر زیادہ زور تھا ۔ عرب کے لوگ حافظہ میں مشہور تھے ۔ طویل وعریض قصیدے ، مختلف مضامین کے انہیں یاد ہوتے تھے اور اونٹوں گھوڑوں کے نسب نامے حفط تھے ۔ حضور صلی اللہ وسلم کی احادیث کو ان لوگوں نے خصوصیت سے وحی الہی سمجھ کر حفظ کیا اور حضور صلی اللہ وسلم کے قول و فعل کو واجب الاتباع جان کر اس کی حفاظت کی ۔ حضور صلی اللہ وسلم کی وفات کے بعد جن لوگوں نے حضور صلی اللہ وسلم کو نہ دیکھا تھا وہ دور دراز سے سفر کرکے صحابہ سے حضور صلی اللہ وسلم کے حالات دریافت کرتے تھے اور انہیں محفوظ رکھتے تھے ۔ خود صحابہ نے دوسرے ممالک پہنچ کر حدیث کی تبلیغ کی ۔ دارمی نے میعون بن مہران سے روایت کیا ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو ابو بکر پہلے قرآن میں تلاش کرتے اگر قرآن سے فیصلہ نہ ملتا تو اپنی معلومات احادیث میں غور کرتے ۔ اگر اس میں قاصر رہتے تو صحابہ میں عام طور پر اعلان کرواتے کہ ہمارے یہاں اس قسم کا مسئلہ پیش آیا ہے کیا اپ صاحبوں میں سے کسی کو اس سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ معلوم ہے ؟ بعض دفعہ ایسا بھی ہواہے لوگ اکر آپ سے علم نبوی بیان کرتے اور اسے سن کر آپ اللہ کا شکر کرتے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو یاد رکھنےوالے موجود ہیں اور اگر اس پر بھی فیصلہ نہ ہوتا تو صحابہ سے مشورہ لےکر اتفاق سے رائے سے فیصلہ کردیتے ۔ اگر کوئی شخص ایسی بات کہتا جو صحابہ کرام میں مشہور و معروف نہ ہوتی تو اس سے اس کے متعلق شہادت طلب کی جاتی خواہ وہ کیسا ہی معتبر کیوں نہ ہوتا ۔ مغیرہ بن شعبہ نے ابوبکر صدیق کے دریافت کرنے پر جب بتایا کہ جدہ کو حضور صلی اللہ وسلم سدس دیاکرتے تھے تو اپ نے پوچھا ھل معک احد؟ کیا تیر ا کوئی گواہ ہے اس پر محمد بن مسلمہ نے یہی گواہی دی تب صدیق نے جدہ کو سدس دیا ( بخاری و مسلم ) حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا دور آیا اور اس میں تکبیر جنازہ ، جزیہ مجوس ، طاعون ۔ خبر الضحاک بن سفیان فی توریت المرأۃ من دیۃ زوجھا ۔ اور خبر سعد بن ابی وقاص فی المسح علی الخفین وغیرہ کا فیصلہ احادیث ہی کو ۔ ۔ ۔ حجت بناکر کیا گیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے اس حدیث کے بیان کرنے پر شہادت طلب کی کہ جب کوئی مسلمان(باہر سے ) تین مرتبہ سلام کہنے پر (اندر سے ) جواب نہ پائے ( اسے اندر انے کی اجازت نہ ملے ) تو واپس چلا جائے ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی تصدیق و شہادت پر ابو مو سی رضی اللہ تعالی عنہ کی پریشانی رفع ہوئی ( مفتاح السننۃ ص19 ، 20 ، حاکم ، بخاری، مسلم ) ان واقعات سے ثابت ہوا کہ محدیثین نےروایات حدیث کی پوری چھان بین کی ہے اسی وجہ سے اسماء الرجال اور اصول جرح و تعدیل کو مستقل فنون کی صورت میں مدون فرمایا ۔ اور صرف انہی احادیث کو ( ٹھوس علمی شہادت کی بنا پر ) صحیح قرار دیا جو اصول روایت در روایت کے بلند معیار پر پوری اتریں اور تعارض کی حالت میں ان میں کوئی معقول صورت تطبیق کی دریافت ہوسکی اور قرآن کے خلاف کسی حدیث کو بھی قبول نہ کیا ۔ ازالۃ الخفاء میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ۔ " فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بسیارازامہات فن حدیث و روایت کردہ است ودر دست مردم تاہنوزباقی است بعد ازان فاروق علماء صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم راباقلیم دارالاسلام روان ساخت و امر کرد باقامت شہر ہا و بر وایت حدیث درآنجا " حضرت ابو ذر عفاری رضی اللہ تعالی عنہ کوروایت حدیث کا اس قدر شعف تھا اور حدیث کی تبلیغ و اشاعت اس قدر ضروری سمجھتےتھےکہ فرماتے ہیں : ۔ " اگر تم میر ے قتل کے لئے میرے گردن پر تلوار رکھ دو اور مجھے یہ امید ہو کہ مرنے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کلمہ بھی جو میں نےسنا ہے پہنچا سکوں تو میں ضرور کہہ دوں گا ۔ ( بخاری) ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ جب احادیث بیان کرتے تو سننے والوں کے ذوق و شوق کی یہ حالت ہوتی تھی کہ آدمیوں کی دیوار آپ کے سامنے کھڑی ہوجاتی ۔ بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کی کثرت اور ہجوم کے سبب مکانوں کی چھت پر چڑھ کر روایت بیان کرتے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ زمانہ نبوی میں کم سن تھے ، آپ زیادہ عمر کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دروازوں پر صبح کے وقت سے لیکر دوپہر تک صرف اس لئے بیٹھےرہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات وہ بیان کریں تو اسے لکھ لیں ۔ رسول اللہ علیہ کے عہد مبارک میں اور آپ کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانہ میں بہت سے اجلئہ صحابہ مثلاً معاذ ابن جبل ، عمرو بن حزم ، عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمرو بن العاص ، زید بن ثابت ، ابو الدردا ، ابوذر ، ابوموسی اشعری وغیرہ ہم رضی اللہ تعالی عنہم مکہ ، مدینہ ، کوفہ ،بصرہ ، شام، مصراور یمن وغیرہ بلادمملکت اسلامیہ میں پھیل گئے اور ہرجگہ انہوں نے کتاب و سنت کی تعلیم دی ۔ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ آیا ۔ انہوں نے دنیا ئے اسلام کے بعید سے بعید گوشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو کمال حفاظت کے ساتھ پہنچایا ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں اگرچہ ذاتی یادداشتیں لکھی ہوئی تھی ۔ مگر حدیث کی کو ئی کتاب مرتب نہ تھی ۔ پہلی صدی کے آخر میں عمر بن عبدالعزیز (متوفی سن 101 ھجری) نے مدینہ منورہ کے والی ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو لکھا : ۔ انظر ما کان من حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاکتبہ خفت دروس العلم وذھاب العلمائ ( مفتاح السنۃ ص 21 ) حضور صلی اللہ وسلم کی حدیثیں لکھ لو مجھے حدیث کے مٹ جانے کا خوف ہے اور اسے یہ بھی لکھا کہ عمرہ بنت عبدالرحمان انصاریہ رضی اللہ تعالی عنہا ( متوفاۃ سن 98 ھجری ) اور القاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق ( متوفی 120 ھجری )کی احادیث کے جو مجموعے ہیں وہ لکھ کر ان کے پاس بھیجے ۔ اسی طرح دوسرے بڑے شہروں مکہ ، کوفہ ، بصرہ ، شام اور یمن وغیرہ میں اپنے عمال کو تدوین حدیث کےلئے لکھا ۔ امام محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن الشہاب الزہری المدنی ( المتوفی سن 124 ھجری) بھی انہی لوگوں میں سے تھے جن کو تدوین حدیث کے متعلق لکھا گیاتھا ( مفتاح السنۃ ) خلیفہ عادل کی اس ہدایت نے محدثین کی حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے اپنی کو ششوں کو تیز تر کردیا اور احادیث کی تدوین کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا ۔ اس مقدس گروہ میں سب سے ممتاز شخصیت محمد بن مسلم زہری کی ہے ۔ ان کی پیدائش سن 50 ھجری میں ہوئی ۔ سنن و آثار نبوی کے قصر کے یہ چھ ستون فن حدیث میں بڑا درجہ رکھتے ہیں ۔ امام زہری ( مدینہ میں) عمرو بن دینار(مکہ میں ) قتادۃ و یحیٰ بن کثیر ( بصرہ میں) ابو اسحاق و سلیمان اعمش ( کوفہ میں) ۔ امام زہری تابعین کے طبقہ اولی کے محدثین میں سے ہیں جنہوں نے احادیث کو قلمبند کیا ۔ بعد میں اسی دوسری صدی میں طبقہ ثانیہ آیا اس میں تدوین عام اور شائع ہوگیا ۔ چنانچہ ابن جریح ( متوفی سن 150 ھجری) نے سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں احادیث کو بصورت کتابت جمع کیا ۔ ( مدینہ منورہ میں) ابن اسحاق متوفی سن 151ھجری اور امام مالک متوفی 179 ھجری (بصرہ میں) ربیع بن صبیح متوفی 160 ھجری (کوفہ میں) سفیان ثوری متوفی سن 191 ھجری (شام میں) اوزاعی متوفی 156 ھجری (یمن میں) معمر متوفی سن153ھجری اور خراسان میں ابن المبارک متوفی سن 181ھجری وغیرہ نے احادیث کو لکھ کر مدون کیا ۔ جس میں اقوال صحابہ اور تابعین کے فتاوی بھی مختلط تھے ۔ اسی دور ہی میں سفیان بن عینیہ مکہ میں ۔ حمادبن سلمہ وسعید بن ابی عروبہ بصرہ میں ۔ ہشیم بن بشیر واسط میں ۔ وکیع بن الجراح شام میں ۔ عبد الزاق یمن میں ۔ جریرہ بن عبداللہ وغیرہم ایسے جلیل القدر محدیثین گزرے ہیں جن کے کارنامے حیات ابدی پاچکے ہیں ۔ دوسری صدی کی چند مستند کتابیں یہ ہیں: ۔ 1 ۔ مصنف اللیث بن سعد ( متوفی سن 175ھ) 2 ۔ موطا امام مالک بن انس ( متوفی سن 179ھ) 3 ۔ مصنف سفیان بن عینیہ ( متوفی 198ھ) 4 ۔ مسند الامام الشافعی ( متوفی سن204ھ) اس کے بعد تیسری صدی ہجری خدمت سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جلیل القدر زمانہ ہے ۔ اس میں صحاح ستہ وغیرھا مستند کتب کی تدوین ہوئی اور آج تک علوم نبوت کے یہ نورانی منابع بکمالہا ضوئ افگن ہیں صحاح ستہ یہ ہیں: ۔ (1) صحیح البخاری ( متوفی 256 ھ) (2) صحیح مسلم ( متوفی 261 ھ) ( 3) سنن ابی داود ( متوفی 275ھ) ( 4) سنن الترمذی ( متوفی 279ھ) (5) سنن النسائی (متوفی 303ھ) (6) سنن ابن ماجہ ( متوفی 273ھ) ان کے علاوہ مندرجہ ذیل کتب بھی اسی تیسری صدی میں مدون ہوئیں ۔ ( 7 ) مسند امام احمد بن حنبل ( متوفی 241ھ) ( 8 ) مسند اسحاق بن راہویہ ( متوفی 237ھ) ( 9 ) مسند عبد بن حمید ( متوفی 249ھ) ( 10 ) مسند الدارمی( متوفی 255ھ) ( 11 ) المسند لکبیر للقرطبی ( متوفی 276ھ) ( 12 ) مسند ابی یعلی الموصلی (متوفی 307ھ) ( 13 ) تہذیب الاثار للامام محمد بن جریر الطبری ( متوفی 310ھ) وغیرہا ۔ محدیثین کے علاوہ ائمہ فقہ نے بھی حدیث کی روایت کی اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر ان کے احکام اور فتاوی کی بنیاد ہوتی تھی ۔ امام ابو حنیفہ ولادت 80ھ ، وفات 150ھ ۔ امام مالک ولادت 93ھ وفات 179ھ ۔ امام شافعی ولادت 150ھ وفات 204 ھ ۔ امام احمد ولادت 164ھ وفات 241 ھ ۔ امام ابو یو سف ولادت 113ھ وفات 182 ھ ۔ امام محمد بن حسن ولادت 135 ھ وفات 189ھ ۔ عرضیکہ جب حضور صلی اللہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی حضور صلی اللہ وسلم سے لیکر آج تک تبلیغ اور حفاظت اکمل طریقہ سے چلی آئی ہے اور جمیع امت اس سے استدلال کرتی ائی تو اج اسےنا قابل اعتبار قرار دینا صریح ضلات اور گمراہی ہے ۔ آیات قرآنیہ سے ثابت ہوچکاہے کہ حضور صلی اللہ وسلم کا اسوہ حسنہ امت پر واجب الاتباع ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ حکم قیامت تک کے مسلمانوں کےلئے ہے ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں ۔ پس اگر احادیث کے ہم تک پہنچنےکا کوئی ذریعہ قابل وثوق ہی نہیں تو نعوذ بااللہ ، اللہ تعالی نے ایسا لغو اور فضول حکم کیوں دیا جس پر عمل کرنا ہمارے لئے ممکن ہی نہ ہو ۔ محدثین نے حفا ظت حدیث کا ہر ممکن طریقہ اختیار فرمایا ۔ علم حدیث حاصل کرنے کے لئے دور دراز ممالک کے پا پیاہ سفر کئے ، بے پناہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھائیں ۔ پھر حاصل کرنے کے بعد تبلیغ میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا چنانچہ امام بخاری نے علم حدیث کی خاطر مکہ ،مدینہ ، شام ، بخارہ ، مرو ،ہرات ، مصر ، بعداد ،کوفہ ،بصرہ ، بلخ نیشا پور اور دیگر بہت سے جزائر کا ایسے زمانہ میں سفر کیا جب کہ ریل ، موٹر وغیرہ سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا جہاں حدیث کا پتہ چلتا پا پیادہ وہاں پہنچ جاتے ۔ ایک ہزار اسی شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا اور امام بخاری سے روبرو بلا واسطہ علم حدیث حاصل کرنے والے شاگردوں کی تعداد نوے ہزار ہے ۔ یہ تو تحصیل حدیث اور تبلیغ کی حالت تھی ۔ پھر صحیح اور موضوع حدیث کو پرکھنےکے لئے محدثین نے اسماء الرجال کا فن لکھا ۔ اسناد کی پوری تنقیح اور تنقید کی ، حدیث کی صحت اور سقم کو پرکھنے کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا ۔ جس حدیث میں ذرا بھی ضعف معلوم ہوا یا شک پیدا ہوا اس حدیث کو کتاب میں درج ہی نہیں کیا اگر کسی محدث نے کیا بھی تو اس ضعف کو واضح کردیا ۔ ان محدثین کے تقوی اور پرہیز گاری کی حالت اگر بیان کر دی جائے تو اس کے لئے دفاتر بھی کافی نہیں ہو سکتے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ ہر حدیث لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کا التزام فرماتے تھے ۔ پھر اسناد میں یہاں تک اختیاط کی کہ روای اور مروی عنہ اگر ایک ہی زمانہ میں گزرے ہوں ۔ ان کا اپس میں لقا بھی ممکن ہو ۔ مگر جب تک ان کا لقا ثابت نہ ہوجائے امام بخاری اس کی روایت کو قبول نہیں کرتے ۔ اگر چہ یہ راوی کتنا ہی عادل اور ثقہ کیوں نہ ہو ۔ دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع حدیث کو بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ( 2 ۔ 170 ) میں داخل کرنا انتہائی بدنیتی اور کج روی ہے ۔ اتباع آبا ضلالت اور گمراہی میں ممنوع ہے نہ کہ رُشد و ہدایت میں ۔ قرآن مجید میں بنو یعقوب علیہ السلام کا قول منقول ہے: ۔ قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ۔ ( 2 ۔ 133 ) ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراھیم ، اسماعیل ، اسحاق کے واحد معبود کی عبادت کرتے رہیں گے ۔ دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود رسول دشمنی میں تاریخ سے استدلال کرتے ہیں ۔ حالانکہ تاریخ کی صحت کے لئے کوئی سند نہیں تاریخ میں سکندر اور دارا وغیرہ کے مفصل قصے مذکور ہیں مگر کوئی شخص اگر سکندر یا دارا کے وجود ہی کا انکار کردے یا کسی واقعہ کو تسلیم نہ کرے تو اس کے اثبات کے لئے کیا دلیل اورسند ہو سکتی ہے ؟ بخلاف حدیث کے کہ اسکی ہر جزئی سند اور دلیل سے ثابت ہے ۔ پھر سند کی بھی پوری تنقیح اور تنقید اور ہر ممکن ذریعہ سے جانچ پڑتال کی گئی ہے اور ٹھوس علمی شہادت کے بعد قبول کی گئی ہے ۔ تیسر ا اعتراض : بہت سی حدیثیں بالاتفاق موضوع ہیں اور بہت سے راوی خود حدیثیں بنایا کرتے تھے ۔ لہذا اب کیسے معلوم ہوسکے کہ صحیح حدیث کون سی ہے اور موضوع کونسی ؟ جواب اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے دشمنان دین خود حدیثیں بنا کر اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ۔ مگر چونکہ اللہ تعالی کو اپنےحبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی حفاظت تا قیامت منظور ہے ۔ کیونکہ اس پر عمل کرنےکا حکم جمیع امت کو دے چکے ہیں ۔ اس لئے محدثین نے صحیح اور موضو ع حدیث پرکھنے کے لئے ایسے اصول اور معیار قائم کردئے اور ان اصولوں کی وضاحت کے لئے مستقل فنون مدون کئے جن سے کھوٹی اور کھر ی میں امتیاز قائم ہوجائے ۔ کسی حدیث کے متعلق موضوع ہونے کا علم ہوجا نا یہ خود حجیت حدیث پر دلیل ہے ۔ کیوں کہ اس سے ثابت ہوتاہے کہ محدثین نے موضوع حدیثوں کو چن چن کر ذخیرہ حدیث سے باہر کردیا ہے ۔ چوتھا اعتراض: دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ قرآنی اصول قیامت تک کے لئے موبد ہیں اور حضور صلی اللہ وسلم نے جو ضروری مسائل بیان فرمائیں وہ قیامت تک کے لئے نہیں اس زمانہ کے لحاظ سے اسی وقت کے ساتھ خاص تھےاور ہر زمانہ کے مطابق ان جزئیات میں تغیر وتبدل کیا جاسکتاہے اگر یہ جزئیات بھی موبد ہیں تو اللہ تعالی نے اصول کی طرح ان کو بھی قرآن میں کیوں بیان نہیں کیا ؟ جواب : حضور صلی اللہ وسلم کی بیان کردہ جزئیات بھی قیامت تک موبد ہیں ۔ ان میں تغیروتبدل نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک کےلئے جمیع امت کو اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دیا ہے ۔ جیسا کہ ہم ایات قرآنیہ سے ثابت کرچکے ہیں ۔ باقی یہ سوال رہا کہ ان جزئیات کو قرآن میں کیوں نہیں بیان کیا گیا؟ سو ہم کہتے کہ جزئیات کو قرآن نے اگرچہ تفصیلاً بیان نہیں کیا مگر اطیعو الر سول کی کلی کے ضمن میں سب جزئیات کا حکم قرآن سے ثابت ہوجاتا ہے ۔ نیز وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى ( 53 ۔ 3 ، 4 ) سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ وسلم کی بیان کردہ جزئیات بھی وحی الہی ہیں ۔ یہی سبب ہےکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار ممبر پر چڑھ کر مسلمانوں کو مخاطب کیا ایھا الناس ان الرائی انما کان من رسول صلی اللہ علیہ وسلم مصیبا ان اللہ کان یریہ وانما الظن والتکلف حضور صلی اللہ وسلم کی رائےبھی چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوا کرتی تھی اس لئے یقیناً صحیح ہوتی تھی اور ہماری رائے ظنی ہوتی ہے ۔ منکرین حدیث کا تذبذب منکرین حدیث تا حال اپنا دعوی متعین نہیں کرسکے ۔ (1) کبھی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ وسلم کا قول اور فعل مطلقاً حجت نہیں ۔ حضور صلی اللہ وسلم نے جو احکام بیان فرمائیں وہ صرف حضور صلی اللہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ مخصوص تھے ۔ ہر زمانے کے لحاظ سے ان احکام میں تغیرو تبدل کیا جاسکتا ہے ۔ ( پرویز معارف جلد 4ص 692) ( طلوع اسلام جون 50 ء ص47) (2) کبھی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ وسلم کا قول اور فعل حجت تو ہے ۔ مگر چونکہ ہم تک باوثوق ذرائع سے نہیں پہنچا اس لئے ظنی ہونے کی وجہ سے قابل اعتماد نہیں رہا ۔ ( پرویز طلوع اسلام جولائی 1950 ء ص 49) ( اسلم جیرا جپوری طلوع اسلام نومبر 1950ئ ص 73) (3) اور کسی وقت یوں کہتے ہیں کہ روایات حدیث کا سلسلہ قرآن کے خلاف عجمی سازش ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ حدیث کو تاریخی درجہ بھی حاصل نہیں ۔ ( پرویز طلوع اسلام اکتوبر 1952ئ ص 7) منکرین حدیث کے اس تذبذب سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی جملہ مساعی کا مقصد صرف یہ ہے کہ حدیث کا کسی نہ کسی طریقہ سے انکار کرکے آزادنہ زندگی بسر کریں اس مقصد کے لئے وہ جہاں کہیں سے جیسا موقع پاتے ہیں ویسی ہی بات منہ سے نکال دیتے ہیں ۔ اس امر کی کچھ پروا نہیں کرتے کہ اس پہلے کیا کہہ چکے ہیں ۔ آخر میں منکرین حدیث کو بطور نصیحت کہتے ہیں کہ ظالم ابھی ہے فرصت توبہ نہ دیر کر وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھرسنبھل گیا وما علینا الا البلاغ مفتی رشید احمد رحمہ اللہ تعالی کتبہ فی16 ذی الحجہ1373 ھ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا | شکاری (27-05-12), عبیداللہ عبید (26-05-12) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد غزنوی (30-11-08) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,459
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب
جزاک اللہ خیرا اللہم زد فزد Last edited by shafresha; 10-12-09 at 10:05 AM. |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
جزاک اللہ بھائی غزنوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبحان اللہ
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر
----------------- |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
خوب بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 96
کمائي: 3,318
شکریہ: 71
70 مراسلہ میں 158 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
----------------------
Last edited by بندے اللہ; 26-05-12 at 04:28 AM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, فرض, کمر, پاکستان, وزیر, قرآن, چین, نماز, مکہ, موت, ایمان, انکار حدیث، منکرین حدیث،, احتجاج, توحید, تعلیم, جاہل, جرم, حدیث, خدا, روزہ, عقد, عبادت, عشق, صحابہ, صدقہ, صدائے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|