واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


محرم کی بدعات اور رسوم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-11-11, 03:59 PM   #1
محرم کی بدعات اور رسوم
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 30-11-11, 03:59 PM

محرم کوفضلیت کس لئے حاصل ہوئی؟

کسی وقت، کسی دن یا مہینہ کو عظمت وفضلیت حاصل ہونے کی اصل وجہ اﷲ تعالی کی خاص تجلیات، انوار و برکات اور رحمتوں میں متوجہ اورظاہر ہوناہے، (لیکن بعض اہم واقعات کا اس وقت میں واقع ہوجانا بھی دوسرے درجہ میں فضلیت کا باعث ہو جاتا ہے جیسا کہ رمضان میں قرآن مجید کا نازل ہونا اور شب قدر وغیرہ کا واقع ہونا وغیرہ) اور فضلیت حاصل کرنے کا طریقہ(اصولی یا جزوی طریقہ پر) وحی کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوسکتا ہے، اپنی طرف سے کسی دن یا تاریخ میں خاص فضلیت کی بنیاد اپنی طرف سے کسی اور چیز کو قرار دے دینا یا فضلیت حاصل کرنے کاکوئی خاص طریقہ اپنی طرف سے متعین کر لینا يہ تمام چیزیں ناجائز، گناہ اور شریعت پر زیادتی ہیں۔ لہٰذا جو لوگ يہ سمجھتے ہیں کہ محرم کے مہینے یا دس محرم کے دن کی فضلیت حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے حاصل ہو ئی وہ لوگ غلطی میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اس مہینہ کی فضلیت تو کربلا کے واقعہ سے بہت پہلے آسمان وزمین کی پیدائش سے ہی چلی آرہی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت کربلا کے واقعہ کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ اسی طرح دس محرم کے دن کی فضلیت بھی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ يہاں تک کہ يہودونصاریٰ اور قریش مکہ بھی اس دن کی عظمت و فضلیت کے قائل تھے۔ حضور نے دس محرم کے روزے کے فضائل بیان فرمائے اور ظاہر ہے کہ اسو قت تک کربلا کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا،البتہ يہ کہا جائے گا کہ خود حضرت حسین کی شہادت اس مہینے اور اس دن میں اسلئے واقع ہوئی کہ يہ مہینہ اور دن فضلیت کا تھا ، اﷲ تعالیٰ نے اس مقدس مہینے کے اس مبارک دن کواپنے مقبول بندے حضرت حسین کی شہادت کے واسطے منتخب فرما دیا غرضیکہ اس دن کو حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے کوئی فضلیت حاصل نہیں ہوئی بلکہ خود حضرت حسین کو اس دن شہید ہونے سے اور زیادہ فضلیت حاصل ہوئی۔

کیا محرم غم کا مہینہ ہے؟
بعض نا واقف لوگ ایسے بھی ہیں محرم کے مہینے کو رنج وغم کا مہینہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینہ میں کربلا کا سانحہ پیش آیا تھا جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دوسری عظیم ہستیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا لہٰذا يہ مہینہ غم کا ہے اور اسی وجہ سے يہ لوگ اس مہینے میں خوشی کے کام (شادی بیاہ وغیرہ) انجام دينے سے پرہیز کرتے ہیں اور بعض لوگ خوشی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے مختلف قسم کے سوگ کرتے ہیں (مثلاً کالا لباس پہننا، عورتوں کا زیب وزینت اور بناﺅ سنگھار چھوڑ دینا، میاں بیوی کے خصوصی تعلقات سے رکے رہنا، مرثيے پڑھنا، نوحہ ، ماتم کرنا وغیرہ وغیرہ)
اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو يہ سمجھ لینا چاہیے کہ يہ خیال بالکل غلط ہے کہ يہ مہینہ غمی کا ہے کیونکہ يہ مہینہ تو بہت محترم اور فضلیت بلکہ عبادت والا مہینہ ہے اور دس محرم کے دن، تاریخ اسلام کے بہت بڑے عظیم اور خوشگوار واقعات رونما ہوئے ہیں اور دوسری بات يہ ہے کہ غمی کا واقعہ پیش آنے سے وہ مہینہ یا دن غم کےلئے مخصوص نہیں ہو جاتا کہ اس میں ہمیشہ غم کیاجاتا رہے اور صدییاں گزرنے کے باوجود اس کو غم کا مہینہ بنائے رکھنا تو بہت بڑی حماقت ہے ۔۔

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]کیا محرم نحوست کا مہینہ ہے ؟؟؟[/COLOR]

بعض لوگ اس مہینہ کو نحوست کا مہینہ سمجھتے ہیں۔زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض دنوں بعض تاریخوں اوربعض جانوروں یا انسانوں میں نحوست سمجھتے تھے خاص کر عورت، گھوڑے اور مکان میں نحوست کا زیادہ اعتقاد رکھتے تھے اور آج کل بعض مہینوں (مثلاً محرم ،صفر وغیرہ) اور بعض دنوں، تاریخوں اور جگہوں میں نحوست سمجھی جاتی ہے خاص طور پر جس تاریخ یا جس جگہ میں کوئی حادثہ ، ہلاکت یا کوئی نقصان اورغمی کا واقعہ پیش آجائے اس کو منحوس سمجھاجاتا ہے ،اور واقعہ کربلا کے محرم کے مہینہ میں پیش آجانے کی وجہ سے اسی بنیاد پر محرم کے مہینہ کو بہت سے لوگ منحوس خیال کرتے ہیں يہاں تک کہ جو بچہ محرم کے مہینہ میں پیدا ہوجائے اس کو بھی منحوس خیال کیا جاتا ہے ۔ جبکہ اسلام کے اصولوں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ثابت ہے کہ کوئی زمانہ یا دن تاریخ اپنی ذات میں منحوس نہیں ہے،غمی کا واقعہ پیش آنے سے زمانہ منحوس نہیں بن جاتا ، اور زمانہ تو اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہے اس کی طرف نحوست یا برائی منسوب کرنا گناہ ہے احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ ايک حدیث قدسی میں ہے :۔

نبی کریم سے مروی ہے کہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ بنی آدم مجھے ایذاء دیتا ہے ( یعنی میری شان کے خلاف بات کہتا ہے اور وہ اس طرح) کہ وہ زمانہ و برا بھلا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں (یعنی زمانہ ميرے تابع اور ماتحت ہے) میرے قبضہ قدرت میں تمام حالات اور زمانے ہیں میں ہی رات ودن کو پلٹتا(کم زیادہ کرتا) ہوں ۔

(بخاری، مسلم، ابو داود، موطا امام مالک، مشکوة ص13)

فائدہ:

زمانہ بذات خودکوئی چیز نہیں وہ تو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آیا ہے اوراسی کے حکم سے چلتا ہے، نحوست اگر ہے تو انسان کی بد اعمالیوں یا اپنے خیالات کی بنیاد پر ہے ۔ اول محرم کا مہینہ خود فضلیت والا مہینہ ہےاوراس میں کوئی نحوست نہیں ہے دوسرے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے اس مہینہ کو غمی یا نحوست کا مہینہ سمجھنے سے يہ لازم آتا ہے کہ نعوذ باﷲ شہادت کوئی بری یا منحوس چیز ہے جبکہ شرعی اعتبار سے شہادت ايک عظیم سعادت والا عمل ہے جو ہرکس وناکس کو بآسانی میسر نہیں آتا، اور شہادت ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے جس کی تمنا خود اپنے لئے محمد مصطفےٰ نے بھی کی ہے اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی ہے اور شہید کے لئے بڑے اجروانعام ، اعزاز و اکرام اور بےشمار نعمتوں کی خوشخبری سنائی ہے ۔

شہادت کے فضائل

آیت: ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات، بل احیاءولکن لا تشعرون (البقرہ)

ترجمہ: اور جو لوگ اس کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ تو (ايک ممتار حیات کے ساتھ) زندہ ہے لیکن تم (ان) حواس سے (اس حیات کا) ادارک نہیں کر سکتے۔

آیت: [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا، بل احیاءعند ربھم یرزقون۔ فرحین بما اتا ہم اﷲ من فضلہ[/COLOR]۔(آل عمران)

ترجمہ: اور جو اﷲ کے راستے میں شہید ہو جائیں ان کو مردے مت خیال کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے مقرب ہیں ان کو رزق ملتا ہے وہ اﷲ کے فضل میں سے دئيے ہوئے پر خوش ہوتے ہیں۔

ان آیات میں اﷲ تعالی نے شہیدوں کی کئی فضلتیں ذکر فرمائی ہيں۔ ايک يہ کہ شہیدوں کو شہادت کے بعد برزخ میں ہمیشہ کی امتیازی زندگی عطا ہوتی ہے تم ان کو عام مردوں کی طرح مردہ نہ خیا ل کرو دوسری فضلیت يہ ذکر ہوئی کہ شہید اپنے رب کے مقرب ہیں ان کو خصوصی قرب حاصل ہوتا ہے۔تیسری فضلیت يہ ذکر ہوئی کہ شہیدوں کو رزق عطا ہوتا ہے اس پر خوش ہوتے ہیں يہ روحانی رزق يہ یعنی جسمانی و روحانی دونوں قسم کا رزق ملتے ہیں۔ یاد رہے شہید کو شہادت کے بعد جو زندگی عطا ہوتی ہے يہ صرف روح کی زندگی نہیں ہے بلکہ روح کا تعلق جسم کے ساتھ بھی خاص درجہ کا دوسروں سے امتیازی ہوتا ہے ورنہ تو ان کو مردہ کہنے کی ممانعت کو کائی مطلب نہیں کیونکہ روح تو تمام مردوں ہی کی زندہ ہے۔

آیت: [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ولئن قتلتم فی سبیل اﷲ اومتم لمغفرة من اﷲ ورحمة خیر مما یجمعون [/COLOR](آلعمران)

ترجمہ: اور اگر تم اﷲ کے رساتے میں شہید ہو گئے یا طبعی موت کا شکار ہوئے بہر صورت اﷲ تعالی کی طرف سے حاصل ہونے والی مغفرت اور رحمت (جو اﷲ کے راستے میں حاصل ہوتی ہے) وہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔

اس آیت میں شہیدوں کو مغفرت اور رحمت حاصل ہونے کی خوشخبری ہے اور اس کا ثبوت ہے کہ دنیا کی مال ودولت اور دوسری چیزوں سے بہتر نعمتیں ان کو حاصل ہوتی ہیں۔

آیت:[COLOR="rgb(255, 0, 255)"] والذین ھاجروا سبیل اﷲ ثم قتلوا اوماتو الیرزقنہم اﷲ رزقا حسنا، وان اﷲ لھو خیر الرازقین۔ لیدخلنھم مدخلا یرضونہ[/COLOR] (الحج)

ترجمہ: اور جنہوں نے اﷲ کے راستے میں ہجرت کی پھر شہید ہوگئے یا طبعی موت کا شکار ہوئے اﷲ تعالیٰ نے ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا اور بیشک اﷲ بہترین رزق دينے والے ہیں۔ اور ان کو ایسی جگہ داخل کرےگا جس کو وہ خود پسند کریں گے۔

اس آیت میں شہید سے دو چیزوں کا وعدہ ہوا ہے ايک بہترین رزق کا دوسرا اپنی پسند کی جگہ یعنی جنت میں داخلہ کا يہ دونوں بہت بڑے اعزاز ہیں۔

آیت:[COLOR="rgb(255, 0, 255)"] ومن یطع اﷲ والرسول فاولئک مع الذین انعم اﷲ علیھم من النبین والصدیقین والشھداءوالصالحین[/COLOR](نسائ)

ترجمہ: اور جو اﷲاور رسول کی اطاعت کرے گا تو ایسے آدمی ان لوگوں کے ساتھ ہوں کے جن پر اﷲ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء، صدیقین، شہدااور صالحین۔

اس آیت میں اﷲ تعالی نے شہيدوں کی يہ فضلیت بیان فرمائی ہے کہ وہ اﷲ تعالی کے انعام یافتہ لوگوں میں سے ہیں، اور يہ کہ انبیا ءصدیقین کے بعد سب سے بڑھ کر شہیدوں کا مقام و مرتبہ ہے۔

حدیث:
  • لوددت انی اعزوفی سبیل اﷲ فاقتل ثم اغزو فاقتل ثم اغرو فاقتل (بخاری فی الجہاد، مسلم فی الا مارة، نسائی فی الجھاد، ابن ماجہ فی الجہاد، مسند احمد ، دارمی فی الجہادو موطا امام مالک فی الجہاد)


ترجمہ: حضور نے فرمایامیںپسند کرتا ہوں کہ میں اﷲ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کی جاؤں پھر شہید کیا جاؤں۔

حدیث: [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ما احد یدخل یحب ان یرجع الی الدنیا، ولہ ما علی الارض من شیئی الا الشہیدیتمنی ان یرجع الی الدنیا فیقتل عشر مرات لما یری من الکرامة[/COLOR] (البخاری فی الجہاد، مسلم فی الامارة، ترمذی فی الجہاد، نسائی فی الجہاد ومسند احمد)
ترجمہ: کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد يہ تمنا نہیں کرے گا کہ اس دنیا میں لوٹایا جائے یا دنیا کی کوئی چیز دی جائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرےگا کہ وہ دنیا میں لوٹایا جائے اور دس مرتبہ شہید کیا جائے، يہ تمنا وہ (شہید) اپنی تعظیم(اور مقام) ديکھنے کی وجہ سے کرے گا۔

حدیث: [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]من سال اﷲ الشہادة بصدق بلغہ اﷲ منازل الشہدآ ءو ان ما ت علی فراشہ۔(مسلم فی الا مارة ترمذی فی الجہاد، نسائی فی الجہاد، ابو ادؤد فی الصلوة، ابن ماجہ فی الجہاد، دارمی فی الجہاد[/COLOR])

ترجمہ: جس نے سچے دل کے ساتھ اﷲتعالی سے شہادة مانگی اﷲ تعالی اسے شہیدوں کے مقام تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ بستر پر مرے ۔

اس کے علاوہ شہید کے بارے میں فضائل بھی احادیث میں آئے ہیں مثلاً:

(1)شہید کے قرض کے علاوہ تمام گناہ بخشش ديئے جاتے ہیں(مسلم)

(2)شہید پر فرشتوں کے پروں کے سايہ ہوتا ہے (بخاری ومسلم)

(3)شہادت پر جنت میں داخلہ کی ضمانت(ایضاً)

(4)شہید سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں سے ہے(ترمذی)

(5)شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں میں داخل کر دی جاتی ہیں وہ جنت کی نہروں پر اترتے ہیں جنت کے میوے کھات ہیں، عرش کے سائے کے نيچے سونے کی قندیلوں پر بيٹھتے ہیں(صحیح مسلم، ابوداؤد و مستدرک)

(6)قبر کے فتنے اور قیامت کے دن کی بے ہوشی سے نجات دی جاتی ہے(نسائی )

(7)اپنے گھر والوں میں سے ستر(70) کی شفاعت کا حق عطا کیا جاتا ہے(ابو داود، بیہقی)

(شہید کے پہلے قطرے کے ساتھ بخشش کر دی جاتی ہے ،جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے امن ديدے جاتا ہے، اس کے سر پروقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ايک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے،72حورعین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہیں(مسند احمد، ترمذی، مصنف عبدالرزاق، ابن ماجہ)

(9)خون خشک ہونے سے پہلے حور عین کی زیارت کرادی جاتی ہے (ابن ماجہ، ابن ابی شبیہ، مصنف عبدالرزاق)

يہاں شہادت کے چند فضائل ذکر کيے گئے ہیں ورنہ شہید کہ بارے میں بے شمار فضائل آئے ہیں اور جب محرم الحرام عبادت اور عظمت والا مہینہ ہے تو اس مہینہ میں شہادت کی عظمت اس مہینے کی وجہ سےاور بھی زیادہ ہوجاتی ہے، لہٰذا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے اس مہینہ کو نحوست یا غم کا مہینہ سمجھنا سراسر غلط ہے۔ اگر کوئی شبہ کرے کہ يہ فضائل تو شہید کے لئے ہیں لیکن ہمارے اعتبار سے اس طرح کی شہادت رنج وغم کا باعث ہے لہٰذا ہمیں اس پر سوگ اور ماتم کرنا چاہيے اس کا جواب آگے آرہا ہے۔

محرم میں سوگ اور ماتم

شرعی اعتبار سے سو گ کرنا صرف چند صورتوں میں عورتوں کے حق میں ثابت ہے اور وہ يہ ہیں:

(1)جس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق بائن (ایسی طلاق جس میں نکاح ختم ہوجاتا ہے) دیدی ہو اس پرعدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے ۔عدت ختم ہونے کے بعد واجب نہیں بلکہ جائز بھی نہیں۔

(2)جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو اس پر عدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے عدت کے بعد واجب نہیں بلکہ جائز بھی ۔

(3)شوہر کے علاوہ کسی قریبی رشتہ دار(باپ بيٹے وغیرہ) کے فوت ہونے پر صرف تین دن تک عورت کو سوگ کرنے کی اجازت ہے واجب اور ضروری نہیں تین دن کے بعد يہ اجازت بھی نہیں۔

اس کے علاوہ اورکسی موقعہ پر عورت کو سوگ کرنے کی اجازت نہیں اورمرد کو تو سوگ کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں اور شرعی سوگ کاطریقہ يہ ہے کہ عورت اتنے عرصہ میں ایسے کپڑے نہ پہننے اور ایسا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کرے جس سے مردوں کو کشش اور میلان ہوتا ہو۔ خوشبو ، سرمہ، مہندی اور دوسری زیب و زینت اور بناؤ سنگھار کی چیزیں چھوڑدے۔ اس کے علاوہ اپنی طرف سے سوگ کے طریقے اختیار کرنا جائز نہیں مثلاً غم کے اظہار کےلئے مخصوص رنگوں کے (مثلا کالے) کپڑے پہننا وغیرہ۔

حدیث: حضرت ام سلمہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس عورت کا شوہر وفات پاگیا وہ عدت گزرنے تک عصفر سے رنگا ہوا اور خوشبو والی مٹی سے رنگا ہوا کپڑا اور خضاب بھی نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے۔ (مشکوة ص289بحوالہ ابوداود، نسائی )

حدیث: حضرت ابو سلمہ کی صاحبزادی حضرت زینت نے بیان فرمایا کہ جب ام المومنین حضرت ام حبیبہ کو(ان کے والد) حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن خوشبو منگائی جو زردرنگ کی تھی اور اپنے بازروں اور رخساروں پر ملی اور فرمایاکہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی (لیکن اس ڈر سے کہ کہیں میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنے والی عورتوں میں شمار نہ ہو جاﺅ میں خوشبو لگائی ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ ” ایسی عورت کے لئے جو اﷲ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو يہ حلال نہیں ہے (کسی کے فوت ہونے پر) تین دن رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس (کی موت ہو جانے) پر چار مہینہ دس دن سوگ کرے ( صحيح مسلم)

فائدہ:

حضر ت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے والد ماجد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا کہ جو عورت اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کےلئے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی بھی شخص کی وفات پر (خواہ کتنا بڑا بزرگ ہی کیوں نہ ہو) تین دن سے زیادہ سوگ کرے، پھر تعجب کی بات ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کے دعوی ہوتے ہوئے 1400 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی سوگ ہو رہا ہے کہ حضرت حسن و حسین اپنے نانا جان کے ارشادات اور احکام کے خلا ف چلنے والوں سے کيسے خوش ہوں گے؟

ذرا سوچئے اور غور کيجئے يہ کیسا سوگ ہے

کہ جس میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہو اور اس میں اتنی وعید ہو کہ اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھنے کے عقیدہ کو (جو کہ ایمان کی بنیاد ہے ) اس کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہو؟

اس تفصیل کی روشنی میں وہ حضرات اپنا جائزہ لیں جو محرم میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں مختلف من گھڑت رسمیں اور سوگ کرتے ہیں اور يہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں يہ سوگ کرتے ہیں جبکہ شریعت مطہرہ نےکسی ايسے دن یا مہینہ کے منانے کے اجازت نہیں دی جو اس طرح کے رنج وغم کے اظہار یا رونے دھونے کے مظاہرہ کے لئے مخصوص ہو، بلکہ اسلام میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کی موت و حیات یا شخص حالات کو مقصود و بنیاد بنا کر غمی وخوشی کو کوئی دن منانے کا تصور نہیں ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اگرچہ انتہائی المناک ہے مگر لوگوں کے ذہنوں میں يہ غلط بات بیٹھی ہوئی ہے کہ دنیا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور کوئی سانحہ پیش نہیں آیا حالانکہ دنیا میں اس سے بدرجہا زیادہ مظلومیت کے بے شمار انوہناک واقعات ہیں۔ اور اسلام میں اگر يہ غم کے دن منانے کی رسم چلے تو ايک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ انبیاءکرام ہیں جن کی پیدائش سے لیکر شہادت اور وفات تک دنیا میں پیش آنے والے مصائب وتکالیف کی ايک لمبی فہرست ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں سینکڑوں واقعات انبیا ء کرام کے مصايب و تکالیف سے متعلق موجود ہیں۔

نوح کا قصہ ہو یا ابراہیم کا،یعقوب کا ہو یا موسی کا ، یونس کا ہو یا لوط علیہم السلام کا، ہر ايک واقعہ تکلیفوں کے بے شمار انبار نظر آئیں گے۔انبیاء کے بعد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا ت طیبہ کو ديکھا جائے تو آپ کی زندگی کاکوئی دن نہیں ہر گھنٹہ اور ہر ساعت ولمحہ دنیا کی خاطر تکلیفوں، امت کے دوروغم اور آخرت کی فکر میں مصروف نظر آئے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن میں سے ہر ايک در حقیقت رسول اﷲ کا زندہ معجزہ ہے ۔ اور يہ سلسلہ چل پڑے تو پھر صحابہ کرام کے بعد امت کے اکابر ،اولیاءاﷲ، علما و مشائخ پر نظر ڈالی جائے جو کروڑوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہےں۔ ان حضرات کو دین کی خاطر پیش آنے والے مصائب ، تکالیف اور مشقتوں کا ايک طویل باب ہے جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔اوراگر يہ طے کر لیا جائے کہ سبھی کے یاد گاری دن منائے جائیں تو سال بھر میں ايک دن بھی یاد گار منانے سے خالی نہیں رہے گا بلکہ ہر دن کے ہر گھنٹہ میں کئی کئی یادگاریں منانی پڑیں گی ؟
ان کی یا دگار اصل يہی ہے کہ ان سے عبرت اور سبق حاصل کرکے اپنی آخرت کی تیاری کی جائے ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

Last edited by سیفی خان; 30-11-11 at 04:05 PM..

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 490
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (30-11-11), نبیل خان (30-11-11), ابوسعد (30-11-11), بنت حوا (30-11-11), حسن قادری (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 04:14 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب سے پہلا سوال۔ اگر یہ غم کا مہینہ نہیں کہا جا سکتا ہے جس میں حضور : جگر گوشے فوت ہوئے تھے 72 ساتھے سمیت۔
لیکن جس سال میں‌پیارے نبی: کے چچا اور بیوی وفات پائی تھی اسے عام الحزن کیوں کتہے ہیں ِ؟
باقی سوال بعد مین
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (30-11-11), مہتاب (30-11-11), حیدر (30-11-11)
کمائي نے محمدخلیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
30-11-11 حیدر لیکن جس سال میں‌پیارے نبی: کے چچا اور بیوی وفات پائی تھی اسے عام الحزن کیوں کتہے ہیں: question of the day 150
پرانا 30-11-11, 04:17 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سوال نمبر 2
اگر خدا نا خواستہ اپ کا کوئی قریبی رشتے دار فوت ہوجائے تو آپ غم کرتے اسی مہینہ یا پھر اس خوشی کے طور پر یاد رکھتے ہیں؟
اس لیے شعیہ حضرات اس لیے مجھے اچھے لگتے ہیں کہ اگر اس مہنیہ ان کا کوئی بھی فوت ہو جائے لیکن وہ صبر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حسین کے غم کے سوا ہمیں کسی کا غم نہیں۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 05:29 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
سب سے پہلا سوال۔ اگر یہ غم کا مہینہ نہیں کہا جا سکتا ہے جس میں حضور : جگر گوشے فوت ہوئے تھے 72 ساتھے سمیت۔
لیکن جس سال میں‌پیارے نبی: کے چچا اور بیوی وفات پائی تھی اسے عام الحزن کیوں کتہے ہیں ِ؟
باقی سوال بعد مین
آپ نے تو واقعی میں بہت بڑا سوال کیا ہے سیفی خان صاحب سے ۔ ۔ ۔
میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گی

کہ ۔ ۔ ۔ کیا وہ عام الحزن کا وہ مہینہ آنحضرت کی زندگی میں ایک بار آیا تھا یا کئی بار ۔ ۔
اور اگر کئی بار آیا تھا اور واقعتاً کئی بار آیا تھا تو کیا آنحضرت نے ہرسال اس مہینے کی آمد پر اسی طرح غم کا اظہار کیا جیسا کہ شیعہ حضرات کرتے ہیں۔ ۔ ۔
ویسے کیا یہ گستاخی اور توہین نہ ہو گی کہ شیعہ کے ماتم کو آپ آنحضرت کے غم کے ساتھ تشبہیہ دے کر جائز و درست قرار دے دیں ۔ ۔
اس کا جواب آُپ مجھے عنایت فرمادیں
اپنے سوال کو بھی پڑھیں اور اس مضمون کے جس حصہ پر میرے خیال سے آپ کو اعتراض ہے وہ بھی پڑھ لیں ۔ ۔

اقتباس:
دوسری بات يہ ہے کہ غمی کا واقعہ پیش آنے سے وہ مہینہ یا دن غم کےلئے مخصوص نہیں ہو جاتا کہ اس میں ہمیشہ غم کیاجاتا رہے اور صدییاں گزرنے کے باوجود اس کو غم کا مہینہ بنائے رکھنا تو بہت بڑی حماقت ہے ۔۔
اس میں صاف لکھا ہے کہ غم کے واقعہ کی وجہ سے وہ مہینہ یا دن غم کےلئے مخصوص نہیں ہو جاتا کہ اس میں ہمیشہ غم کیاجاتا رہے ۔ ۔ ۔

اب اس میں عام الحزن کی مثال دے کر سوال کرنا آپ ہی کی” شان “ہے ۔ ۔
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (01-12-11), skjatala (30-11-11), نبیل خان (30-11-11), ملک اظہر (30-11-11), ابوسعد (30-11-11), احمد نذیر (01-12-11), حسن قادری (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 05:44 PM   #5
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

[=بنت حوا;480137]آپ نے تو واقعی میں بہت بڑا سوال کیا ہے سیفی خان صاحب سے ۔ ۔ ۔
میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گی

اقتباس:
کہ ۔ ۔ ۔ کیا وہ عام الحزن کا وہ مہینہ آنحضرت کی زندگی میں ایک بار آیا تھا یا کئی بار ۔ ۔
مہینہ نہیں وہ سال تھا
اقتباس:
اور اگر کئی بار آیا تھا اور واقعتاً کئی بار آیا تھا تو کیا آنحضرت نے ہرسال اس مہینے کی آمد پر اسی طرح غم کا اظہار کیا جیسا کہ شیعہ حضرات کرتے ہیں۔ ۔ ۔
ویسے کیا یہ گستاخی اور توہین نہ ہو گی کہ شیعہ کے ماتم کو آپ آنحضرت کے غم کے ساتھ تشبہیہ دے کر جائز و درست قرار دے دیں ۔
۔
ویسے آپ کے اس لہجے سے شعیہ حضرات کی توہین ہو رہی ہے۔ ماتم کوئی شوق سے نہیں کرتا۔ جب دل پر کچھ چوٹ لگتی ہے تو بندہ
بے خود ایسا ہو جاتا ہے میں شعیہ نہیں ہوں لیکن جب وہ ظلم سنتا ہوں تو میرا دل کرتا ہے کہ اپنا سر پھوڑ لوں۔
شاید آپ نے اس لیے لکھا یہ میرا خیال ہے کہ آپ کو کربلا کے واقعے کا بالکل نہیں پتا
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 06:26 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
[=بنت حوا;480137]آپ نے تو واقعی میں بہت بڑا سوال کیا ہے سیفی خان صاحب سے ۔ ۔ ۔
میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گی


مہینہ نہیں وہ سال تھا۔
ویسے آپ کے اس لہجے سے شعیہ حضرات کی توہین ہو رہی ہے۔ ماتم کوئی شوق سے نہیں کرتا۔ جب دل پر کچھ چوٹ لگتی ہے تو بندہ
بے خود ایسا ہو جاتا ہے میں شعیہ نہیں ہوں لیکن جب وہ ظلم سنتا ہوں تو میرا دل کرتا ہے کہ اپنا سر پھوڑ لوں۔
شاید آپ نے اس لیے لکھا یہ میرا خیال ہے کہ آپ کو کربلا کے واقعے کا بالکل نہیں پتا
عام الحزن کی علت کیا تھی ۔ ۔۔کس وجہ سے اسے عام الحزن قرار دیا گیا ۔ ۔
میرا مطلب بھی یہی تھا کہ عام الحزن قرار دیے جانے کی وجہ وفات تھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور چچا ابوطالب کی ۔ ۔ ۔ اور وہ وفات پورا سال نہیں سال کے مہینہ اور مہینہ کے دن میں تھی ۔ ۔
میرا مطلب یہی تھا کہ آیا وہ دن پھر آنحضرت کی زندگی میں آیا کہ نہیں ۔ ۔
اور آیا تو آنحضرت نے وہ دن کیسے منایا ۔ ۔ ۔؟

اقتباس:
ویسے آپ کے اس لہجے سے شعیہ حضرات کی توہین ہو رہی ہے
۔
آپ کو بڑی فکر ہے کہ کس کی توہین ہو رہی ہے کس کی نہیں ۔ ۔ جہاں تک میں نے آپ کے مراسلے مختلف موضوعات میں پڑھے ہیں آپ خود صحابی رسول کی گستاخی کرتے نظر آتے ہیں ۔ ۔ بڑے افسوس کی بات ہے عام آدمی کے خلاف بات اپ کو توہین لگی اور صحابی رسول پر اعتراضات آپ کو کچھ نہیں لگتے ۔ ۔ بہت اچھے ۔ ۔

اقتباس:
شاید آپ نے اس لیے لکھا یہ میرا خیال ہے کہ آپ کو کربلا کے واقعے کا بالکل نہیں پتا
جی مجھے تو پتہ ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ آپ نے کبھی حقائق کو جاننے کی کوشش نہیں کی
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (01-12-11), skjatala (30-11-11), ہادی (30-11-11), قاسمی (30-11-11), نبیل خان (30-11-11), ملک اظہر (30-11-11), ابوسعد (30-11-11), احمد نذیر (01-12-11)
پرانا 30-11-11, 07:04 PM   #7
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بنت حوا مراسلہ دیکھیں
عام الحزن کی علت کیا تھی ۔ ۔۔کس وجہ سے اسے عام الحزن قرار دیا گیا ۔ ۔
میرا مطلب بھی یہی تھا کہ عام الحزن قرار دیے جانے کی وجہ وفات تھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور چچا ابوطالب کی ۔ ۔ ۔ اور وہ وفات پورا سال نہیں سال کے مہینہ اور مہینہ کے دن میں تھی ۔ ۔
میرا مطلب یہی تھا کہ آیا وہ دن پھر آنحضرت کی زندگی میں آیا کہ نہیں ۔ ۔
اور آیا تو آنحضرت نے وہ دن کیسے منایا ۔ ۔ ۔؟


آپ کو بڑی فکر ہے کہ کس کی توہین ہو رہی ہے کس کی نہیں ۔ ۔ جہاں تک میں نے آپ کے مراسلے مختلف موضوعات میں پڑھے ہیں آپ خود صحابی رسول کی گستاخی کرتے نظر آتے ہیں ۔ ۔ بڑے افسوس کی بات ہے عام آدمی کے خلاف بات اپ کو توہین لگی اور صحابی رسول پر اعتراضات آپ کو کچھ نہیں لگتے ۔ ۔ بہت اچھے ۔ ۔



جی مجھے تو پتہ ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ آپ نے کبھی حقائق کو جاننے کی کوشش نہیں کی
میرے خیال سے آپ اس کی قابل نہیں کہ آپ سے بحث کی جائے۔
ابھی آپ کو اور علم حاصل کرنا ہے۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 07:06 PM   #8
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کاش لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کی عظمت کا پتا ہوتا
کاش
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 07:37 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,309
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 795 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
میرے خیال سے آپ اس کی قابل نہیں کہ آپ سے بحث کی جائے۔
ابھی آپ کو اور علم حاصل کرنا ہے۔
یہ تو جواب نہ ہوا جناب ۔ ۔ ۔ جب جواب نہ آئے تو یہ بات واقعی اچھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جان چھڑانے کے لئے ۔ ۔ ۔ بلے بلے ۔ ۔ ۔ ۔
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے قاسمی کا شکریہ ادا کیا
compaq (05-12-11), dxbgraphics (01-12-11), نبیل خان (30-11-11), ابوسعد (30-11-11), بنت حوا (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 07:39 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,309
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 795 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
کاش لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کی عظمت کا پتا ہوتا
کاش
کاش کہ ایسا ہوتا ۔ ۔ ۔ کیونکہ حب حسین کی آر میں جو گستاخیاں ہوتی ہیں ان سے خدا کی پناۃ ۔ ۔ ۔
ہم وہ محبت کرتے ہیں جو ان کے نانا نے ہمیں بتائی ہے ۔ ۔ ۔
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے قاسمی کا شکریہ ادا کیا
compaq (05-12-11), dxbgraphics (01-12-11), نبیل خان (30-11-11), ملک اظہر (30-11-11), ابوسعد (30-11-11), احمد نذیر (01-12-11), بنت حوا (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 07:49 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جی میں جان چھڑا رہا ہوں کیونکہ بھینس کے آگے بین بجانے سے کوئی فائدہ نہیں‌ہوگا
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 07:57 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
کاش لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کی عظمت کا پتا ہوتا
کاش
امام حسین کی عظمت کا کسی کو بھی نہیں پتا۔ ہم کہاں اور ہماری مجال کہاں کہ ان کی عظمتوں کو ناپتے پھریں۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (01-12-11), ابوسعد (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 08:04 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءاللہ بنت حوا کے سوال و جواب زبر دست اور خوب تر ہیں ۔ اور عقل و فہم کے عین مطابق ہیں ۔ ۔ ۔ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ اللہ کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا راستہ بہترین ، بہترین راستہ ہے ۔
جزاکِ اللہ خیرا
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
compaq (05-12-11), قاسمی (01-12-11), ملک اظہر (30-11-11), بنت حوا (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 09:33 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,568
شکریہ: 190
214 مراسلہ میں 506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوا کے جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو گئے ہیں تو آپ نے بھی ایک ایک کر کے اپنے تمام دندان مبارک شہید کر دیے اسے عشق کی انتہا کہتے ہیں ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ شعیہ لوگ ماتم کر کے اپنا سینہ چھلنی کرتے ہیں تو یہ جائز ہے ۔ دکھاوا ہے یا بدعا یا سزا ۔۔۔۔
لیکن مجھے اتنا معلوم ہے کہ یہ بھی عشق کی انتہا ہے ۔

بنت حوا صاحبہ روشنی ڈالیں عشق کی انتہا کسے کہتے ہیں اور کیا یہ جائز امر ہے ؟
اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل جائز تھا ؟
قرآن مجید ہمیں اہل بیت سے مودت کا حکم دیتاہے اس سے کیا مراد ہے ؟

Last edited by اجمل; 30-11-11 at 09:36 PM.
اجمل آف لائن ہے   Reply With Quote
اجمل کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل (01-12-11)
پرانا 30-11-11, 09:39 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,568
شکریہ: 190
214 مراسلہ میں 506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
کاش لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کی عظمت کا پتا ہوتا
کاش
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
امام حسین کی عظمت کا کسی کو بھی نہیں پتا۔ ہم کہاں اور ہماری مجال کہاں کہ ان کی عظمتوں کو ناپتے پھریں۔
جنت کے شہزادے امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کی عظمت کو سلام
اجمل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (01-12-11), مرزا عامر (01-12-11)
جواب

Tags
کربلا, پسند, واقعات, قرآن, قصہ, لوگ, نظر, مکہ, موت, مجید, محبت, معلوم, معجزہ, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اسلام, بہترین, جواب, حدیث, رمضان, طلاق, عبادت, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں حیدر گپ شپ 29 30-10-11 06:19 PM
ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے عبدالہادی احمد اپکے کالم 13 02-02-11 08:32 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گوندل اخلاق و آداب 0 25-10-09 11:21 PM
اسوہ رسول (ص) کی عظمت و اہمیت Real_Light پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 15-07-08 01:54 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger