| متفرقات متفرقات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 169
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو النعمان، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا عاصم أبو عبد الرحمن الأحول، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "المدينة حرم، من كذا إلى كذا، لا يقطع شجرها، ولا يحدث فيها حدث، من أحدث حدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمن احول عاصم نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک ) اس حد میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے نہ کوئی بدعت کی جائے اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔" صحیح بخاری کتاب فضائل المدینہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (12-02-10), عبداللہ حیدر (12-02-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن أبي التياح، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فأمر ببناء المسجد فقال "يا بني النجار ثامنوني". فقالوا لا نطلب ثمنه إلا إلى الله. فأمر بقبور المشركين، فنبشت، ثم بالخرب فسويت، وبالنخل فقطع، فصفوا النخل قبلة المسجد.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ(ہجرت کرکے ) تشریف لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنو نجار تم (اپنی اس زمین کی ) مجھ سے قیمت لے لو لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق فرمایا اور وہ اکھاڑی دی گئیں، ویرانہ کے متعلق حکم دیا اور وہ برابر کر دیا گیا، کھجور کے درختوں کے متعلق حکم دیا اور وہ کاٹ دیئے گئے اور وہ درخت قبلہ کی طرف بچھا دیئے گئے۔" صحیح بخاری کتاب فضائل المدینہ اس سے بعض افراد نے دلیل لی ہے کہ اگر مدینہ حرم ہوتا تو وہاں کے درخت آپ کیوں کٹواتے؟ ان کا جواب یہ ہے کہ یہ فعل ضرورت سے واقع ہوا یعنی مسجد نبوی بنانے کے لیے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کیا بحکم الٰہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مکہ میں بھی قتال کیا، کیا معترض افراد بھی اس کو کسی اور کے لیے جائز کہیں گے۔؟ مسلم کی روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ارد گرد بارہ میل تک حرم کی حد قرار دی۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فارم, کمال, پہچان, پاک, پسند, قرآن, نماز, مکہ, موم, موجودہ, موسیٰ علیہ السلام, مجید, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آبادی, اللہ, امیر, اسلام, تعلیم, حدیث, دجال, دعا, راستہ, شعبان |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ثنا خوانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظفر وارثی انتقال کر گئے | Ajmal Anjum | خبریں | 4 | 31-01-11 10:30 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| تکمیل اِیمان کی شرط ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ::: | عادل سہیل | عقیدہ رسالت | 3 | 15-05-10 09:55 AM |
| رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں | طارق راحیل | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 0 | 25-02-09 09:35 PM |