واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


مدینہء منورہ شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-10, 09:52 AM   #1
مدینہء منورہ شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم
sahj sahj آف لائن ہے 11-02-10, 09:52 AM

مدینہ الرسول کے کچھ تاریخی حالات :

مدینہ منورہ یا مدینۃ الرسول جسے طیبہ بھی کہتے ہیں، سطح سمندر سے تقریباً 619 میٹر بلندہے اور وہ مشرق کی جانب39 درجہ 55 دقیقہ کے طول پر اور شمال کو خط استوا سے24 درجہ اور15 دقیقہ کے عرض پر واقع ہے، موسم گرما میں اس کی حرارت 28 درجہ تک پہنچ جاتی ہے اور سرما میں دن کو صفر کے اوپر دس درجہ تک اور رات کو صفر کے نیچے5 درجہ تک آتی ہے، سردی کے ایام میں صبح کے وقت اکثر پانی برتنوں میں جم جاتا ہے۔

یہ شہر مکۃ المکرمہ سے جانب شمال دو سو ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے اورملک عرب کے صوبہ حجاز میں بلحاظ آبادی دوسرے نمبر پر ہے۔ مکہ المکرمہ کے بعد دنیائے اسلام کا سب سے پیارا بابرکت مقدس شہر ہے، جہاں اللہ کے آخری رسول حضرت سید الانبیاءسند الاتقیا احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔

وجہ تسمیہ :

ہجرت سے پہلے یہ شہر یثرب کے نام سے موسوم تھا، قرآن مجید میں یہ نام بھی آیا ہے و اذ قالت طائفۃ منہم یٰآہل یثرب لا مقام لکم ( الاحزاب : 13 ) بقول زجاج یہ شہر یثرب بن قانیہ بن مہلائیل بن ارم بن عیل بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کا آباد کیا ہوا ہے اس لیے یثرب کے نام سے موسوم ہوا۔ بعض مورخین کے بیان کے مطابق اس کو یثرب اس لیے کہتے ہیں کہ ایک شخص یثرب نامی عملقی نے اس شہر کو بسایا تھا، آخر میں یہودیوں بنو نضیر و بنو قریظہ و بنو قینقاع کے ہاتھ آگیا۔

300ءمیں بنو ازد کے دو قبائل اوس و خزرج نے اس کی سرحد میں سکونت اختیار کی اور492ءمیں اس پر قابض ہو گئے۔ مدینہ سے شمال و مشرق میں اب بھی ایک بستی ہے جس کا نام یثرب ہے عجب نہیں کہ پہلی آبادی اسی جگہ ہو اور اوس و خزرج نے یہود سے جدا رہنا پسند کرکے یہاں رہائش اختیار کی ہو اوراس لیے اس حصہ کوبھی یثرب ہی سے پکارا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ یثرب مصری کلمہ اتربیس سے بگڑ کر بنا ہے اگر یہ صحیح ہے تو ثابت ہوتا کہ عمالقہ نے مصر سے نکلنے کے بعد مدینہ کو بسایا۔ اس کی یہودیت کے اس قول سے بھی تائید ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فلسطین کو جاتے ہوئے ایک جماعت کو بھیجا تاکہ وہ اس جانب کے حالات معلوم کرے جب وہ لوگ اس طرف پہنچے اور ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کی خبر ملی تو انہوں نے شہر اتربیس بنا کر اس میں اقامت اختیار کی، اس قول کی بنا پر مدینہ کی آبادی سولہ سوسال قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔

مدینہ میں اسلام کیوں کر پہنچا؟ :

مدینہ منور میں بسنے والے قبائل بیشتر یہودی المذہب تھے مگر کبر و حمیت کی بنا پر ان میں باہم اتنے نزاع تھے کہ گویا ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ اوس و خزرج کی خانہ جنگی کو ایک صدی کا زمانہ گزر چکا تھا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و تبلیغ کا چرچہ مکہ ونواح میں پھیلا، اسی دوران میں خاندان عبدالاشہل کے چند آدمی قریش کو اپنا حلیف بنانے کی غرض سے مکہ آئے اور اسلام کا چرچا سنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہائی میں ان کو اسلام کی پاک تعلیم سے آگاہ کیا اور قرآن پاک کی چند آیات سنائیں۔ ان میں ایاس بن معاذ پر اس تلقین کا بہت اثر ہوا اور مسلمان ہونے کا ارادہ کیا مگر امیر وفد انس بن رافع نے کہا کہ جلدی نہ کرو ابھی حالات کا مطالعہ کرو، چنانچہ یہ لوگ یونہی واپس ہو گئے۔

10 نبوی میں قبیلہ خزرج کے چھ آدمی موسم حج میں آئے تو عقبہ یعنی اس پہاڑی کی گھاٹی میں جو منیٰ جانے والے بائیں ہاتھ پر چڑھائی کی سیڑھیوں سے ذرا ورے پڑتی ہے، شب کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اوران کو اسلام کی دعوت دی، چنانچہ یہ حضرات مشرف بہ اسلام ہو گئے اوراس کا نام عقبہ اولی ہوا۔ ان کے ذریعہ سے مدینہ میں اسلام کا چرچا پھیلا۔

دوسرے سال بارہ سربرآوردہ اصحاب آئے اور اس عقبیٰ میں آنحضرت صلی اللہ علی وسلم سے تنہائی میں گفتگو کرنے کا وقت معین کر لیا۔ چنانچہ خوب کھل کر باتیں ہوئیں اورانہوں نے یہ اطمینان کرکے کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں، اسلام قبول کرلیا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مبلغ اسلام بنا کر ان کے ہمراہ کر دیا اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے مکان میں ٹھہرایا۔ اب دار بنی ظفر میں اسلامی مشن کا دفتر قائم کر دیا گیا۔ جو حضرات اسلام لاچکے تھے وہ مذہبی تعلیم پاتے اور جو نئے آتے ان کو وعظ سنایا جاتا تھا۔ اس مخلصانہ پرچار کے بہترین نتائج نکلے اور رفتہ رفتہ یثرب کے نامور قبیلہ عبدالاشہل کا ہر مرد وزن حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ اب یثرب میں ایک کثیر جماعت اسلام کی نصرت اور پیغمبر اسلام کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کے لیے تیار ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہجرت فرما کریثرب تشریف لے آئے۔ اس وقت سے یثرب کو مدینۃ الرسول بننے کا شرف حاصل ہوا۔ مدینۃ الرسول کا چپہ چپہ مسلمانان عالم کے لیے باعث صد احترام ہے اس مقدس شہر میں وہ مبارک مسجد ہے جس میں بیٹھ کر سیدالانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی روشنی کو چار دانگ عالم میں پھیلا یا اور اس مبارک شہر میں وہ مقدس جگہ ہے جہاں سرتاج الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لاکھوں غلام جہاں کی مٹی کے اندر سوئے ہوئے ہیں علاوہ ازیں چند تاریخی یاد داشتیں مسافرین مدینہ کے لیے بطور ہدیہ پیش کی جاتی ہیں۔

ہجرت میں تشریف آوری کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے جنوبی سمت قبا میں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے مہمان ہوئے تھے۔ کلثوم بن ہدم کا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام گاہ بنا اور سعد بن خیثمہ کا گھر آپ کی مردانہ نشست گاہ، یہ دونوں گھر نزول قدوم نبوی کے سبب بڑی شان رکھتے ہیں۔ مسجد قبا کے جنوب میں بہ سمت قبلہ40 فٹ فاصلے پر دو قبے بیضوی شکل کے ہیں، ان میں ایک قبہ جو مقام العمرہ کے نام سے مشہور ہے، یہی کلثوم بن ہدم کا مکان تھا اور اس سے ملا ہوا قبہ جو بیت فاطمہ کہلاتا ہے یہ سعد بن خیثمہ کا گھر تھا۔ مسجد قبا کے صحن میں جو قبہ مبرک ناقہ کہلاتا ہے یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی جہاں اس وقت مسجد قبا ہے وہ حضرت کلثوم کا مربد تھا کہ کھجوریں خشک کرنے کے لیے وہاں پھیلاتے تھے، مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مکان پر اترے تھے، یہ مکان محلہ زقاق الجسہ میں مسجد کی صورت میں اب موجو دہے۔ جس میں محراب بھی ہے اور قبہ بھی اس کی بیرونی دیوار پر ایک پتھر نصب ہے جس میں آب زر سے یہ لکھا ہوا ہے ہذا بیت ابی ایوب الانصاری الخ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کی جنوبی سمت حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا مکان تھا جو اس وقت دا رنائب الحرم کہلاتا ہے۔ مسجد کے مشرق میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دو چھوٹے بڑے مکان تھے، بوقت شہادت آپ کی سکونت بڑے مکان میں تھی، اس مکان کی جالی کے اوپر اب بھی مقتل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ لکھا ہوا ہے۔ بقیع کے راستہ سے شمالی جانب حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا مکان تھا جس میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، زوایۃ السمان سے ملحق شمالی جانب ایک چھوٹا سے قبہ ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شیر اسلام کا مکان تھا، رباط خالد کے پیچھے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فاتح مصر کا مکان تھا، مسجد کے غربی جانب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مکان تھا یہ اب باب السلام کے شمال میں ایک کھڑکی کی شکل میں ہے اس پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے : لا یبقین فی المسجد خوخۃ احد الا خوخہ ابی بکر۔

حرم مدینہ شریف کا بیان :

اندازاً بارہ میل تک مدینہ منورہ کی حد حرم ہے، جس کے اندر شکار کرنا، درخت اکھاڑنا، گھاس اکھاڑنی حرام ہے۔ ہاں جانوروں کے لیے گھاس یا پتے وغیرہ توڑنے جائز ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اللہم ان ابراہیم خلیلک و نبیک و انک حرمت مکۃ علی لسان ابراہیم اللہم و انا عبدک و نبیک و انی احرم ما بین لا بیتہا الخ ( ابن ماجہ ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اے اللہ ! حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے خلیل اور پیغمبر تھے جن کی زبان پر تو نے مکہ کو بلد الحرم قرار دیا۔ اے اللہ ! میں تیرا بندہ اور پیغمبر ہوں اور مدینہ کو اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان تک حرام قرار دیتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ شریف کے بارے میں یہ دعا فرمائی اللہم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکہ او اشد یعنی اے اللہ ! مدینے کو ہمیں مکہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔ ( بخاری ) ایک روایت میں مدینہ کی حدود حرم عیر سے ثور تک بیان کی گئی ہے، یہ اطراف مدینہ کے پہاڑوں کے نام ہیں۔ مدینے شریف کے فضائل میں بہت سی احادیث آئی ہیں چند حدیثیں یہاں درج کی جاتی ہے عن ابن ....قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من استطاع ان یموت بالمدینۃ فلیمت بہا فانی اشفع لمن یموت بہا۔ ( رواہ احمد و الترمذی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص مدینہ شریف میں رہے اور مدینے ہی میں اس کو موت آئے میں اس کی شفارش کروں گا۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ایک شخص آل خطاب سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خالص پاک نیت کے ساتھ میری زیارت کے لیے آیا، قیامت کے دن وہ میرے پڑوس میں ہوگا اور جو مدینہ شریف میں رہ کر صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزراتا رہا میں اس کے لیے قیامت کے دن گواہ اور سفارشی ہوں گا اور جو حرمین شریفین میں موت پائے گا وہ قیامت کے دن امن پانے والوں میں ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس مدینہ شریف لوٹتے تو مکانات مدینہ کی دیواروں کو دیکھ کر مگن ہو جاتے اور سواری کو تیز کردیتے ( بخاری ) یہ بھی آیا ہے کہ مدینہ شریف کے دروازوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں۔ اس پاک شہر میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتے۔

حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن جده، عن أبي بكرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال، لها يومئذ سبعة أبواب، على كل باب ملكان‏"‏‏.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے اوران سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا اس دور میں مدینہ کے سات دورازے ہوں گے اور ہر در وازے پر دو فرشتے ہوں گے۔"

صحیح بخاری
کتاب فضائل المدینہ



حرم نبوی کا بیان :

حرم نبوی سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک و مبارک مسجد اور اس کا ماحول ہے، یہ سرتاپا نور عمارت شہر مدینہ منورہ کے درمیان میں کسی قدر مشرق کو جھکی ہوئی ہے یہاں کی فضا لطیف منظر جمیل اور ہیئت مستطیل ہے، قدیم مسجد کی کل عمارت سرخ پتھر کی ہے اس کا طول شمال سے جنوب تک اوسطاً 1161/4میٹر ہے ( فرانسیسی پیمانہ ہے جو40 انچ کے برابر ہوتا ہے ) اس لحاظ سے قدیم حرم شریف کا طول ایک سو انتیس گز سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کا عرض مشرق سے مغرب تک قبلہ کی طرف 82 میٹر اور35 سینٹی میٹر یعنی 96 گز ہے، باب شامی کی طرف سے عرض 66 میٹر سوا 73 گز رہ جاتا ہے۔ بناوٹ کے لحاظ سے حرم نبوی دو حصوں میں منقسم ہوسکتا ہے مسجد اور صحن۔ حدود مسجد کی ابتداءاس جگہ سے ہوتی ہے جہاں کھڑے ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھایا کرتے تھے یعنی قبلہ رخ دیوار سے صحن ایک طرف اور باب رحمت اور باب النساءکے درمیان مسجد ہی مسجد ہے۔ یہ سارا حصہ گنبدوں سے ڈھکا ہوا ہے جو محرابوں پر قائم ہیں ان محرابوں کو ایک قسم کے سخت پتھر کے ستونوں پر کھڑا کیا گیا ہے، ان پر سنگ مرمر کی تہ چڑھی ہوئی اور اوپر سونے کے پانی سے پچی کاری کر دی گئی ہے، دوسرا صحن ہے جس کا نام حصوہ ہے اس کی شکل شامی دروازہ سے مستطیل ہے اس کے گرد تین طرف سے تین دالان احاطہ کئے ہوئے ہیں برآمدوں میں ستون ہیں جن کے اوپر محراب اور محرابوں کے اوپر گنبد سر بلند اور بادلوں سے سرگوشیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، حرم شریف کے کل ستونوں کی تعداد جو دیواروں کے ساتھ ملتصق ہیں تین سو ستائیس تک پہنچ جاتی ہیں، ان میں22 حجرہ شریف کے اند رہیں شامی دروازے کی ڈیوڑھی میں مدرسہ مجیدیہ واقع ہے اسی وجہ سے حرم شریف میں داخل ہونے کے راستہ کے اندرونی حصے یعنی ڈیوڑھی کا نام باب التوسل رکھا گیا ہے، جہت مغرب کی طرف خواجہ سراؤں کے بیٹھنے کی جگہ ہے جو بردہ فروشی کے زمانہ میں خصی شدہ غلاموں کی شکل میں حرم نبوی کی خدمت کے لیے نذر کر دیے جاتے تھے۔ اب یہ ظالمانہ طریقہ موقوف ہوچکا ہے پچھلی طرف شرقی برآمدے کی لمبائی کے ساتھ ساتھ شیشم کی لکڑی کا ایک جالی دار شیڈ ہے جو عورتوں کے لیے مخصوص ہے، حرم شریف کے اندر عورتیں یہیں بیٹھتی ہیں اور یہیں نماز ادا کرتی ہیں۔ اسے قفس النساءکہا جاتا ہے اس برآمدے کے جنوب میں ایک چبوترہ ہے جو پلیٹ فارم کی شکل میں ساڑھے تیرہ گز لمبا اور نو گز چوڑا ہے اور زمین سے قریباً سولہ انچ بلند ہے، یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں اصحاب صفہ رضی اللہ عنہم بیٹھا کرتے تھے، یہ نادار طلباءاسلامیہ کی جماعت تھی جنہیں کھانا کپڑا اور دیگر ضروریات دار العلوم محمدیہ سے پہنچ جایا کرتی تھیں، اس چبوترے کے جنوب میں ایک اور چبوترہ ہے جو اس سے چھوٹا ہے یہ چبوترہ مقصورہ شریف سے متصل شمال کی جانب ہے اس جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد ادا فرمایا کرتے تھے، روضہ شریف مقصورہ شریف کے مغرب میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر شریف اور روضہ شریف کے درمیان یہی جگہ ہے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی کیاروں میں سے ایک کیاری بتلایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ ٹکڑا سارا جنت میں رکھا جائے گا۔

اس مبارک زمین کا طول اندازاً پونے ستائیس گز اور عرض اندازاً پونے سترہ گز ہے، روضہ شریف کے ساتھ پیتل کا جنگلہ ہے جس سے متصل وہ اضافے ہیں جو اس حرم شریف میںحضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ایام میں کئے گئے تھے۔ یہ دونوں اضافے جنوب کی طرف ہیں، پیتل کے جنگلے کی اونچائی ایک گز دو گرہ ہے۔ روضہ شریف اپنے شرف مرتبت کے لحاظ سے ہر وقت فدائیان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرا رہتا ہے۔ روضہ شریف کے مغربی جانب وہ جگہ ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھایا کرتے تھے جو اپنی کمال بہجت اور جمال صنعت کے لحاظ سے اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور یہ قبلہ کی طرف مقصورہ شریف کی سیدھ میں ہے، حضور علیہ السلام نے اس کی بنیاد ہجرت مبارک کے دوسرے سال شعبان کی پندرہویں تاریخ روز سہ شنبہ کو رکھی تھی، یہ اس دن کا واقعہ ہے جب اللہ عزو جل نے حضور علیہ السلام کوکعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا قبلہ کے مغرب کی طرف منبر شریف ہے جو سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے اور اس پر سونے کے پانی سے نہایت اعلیٰ درجے کے نقش و نگار کئے گئے ہیں۔ یہ بے حد خوبصورت اور صنعت کا بہترین نمونہ ہے، اسے ترکی سلطان مرا دثالث مرحوم نے 998ھ میں حرم شریف کے لیے بطور ہدیہ پیش کیا تھا یہی وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر رکھا تھا حرم شریف کے فرش مبارک پر انواع و اقسام کے بیش قیمت سجادے بچھے ہوئے ہیں، قالین بھی بتعداد کثیر موجود ہیں بالخصوص روضہ شریف میں تو بیش قیمت اشیاءکی کثرت ہے۔ حرم شریف کے پانچ دروازے ہیں صدر دروازے باب الاسلام اور باب الرحمۃ دونوں مغرب کی طرف ہیں۔ باب مجیدی شمال کی جانب، باب النساءاور باب جبرئیل دونوں مشرق کی طرف ہیں۔ عشاءکے بعد ان دروازوں کو بند کرکے قفل لگا دیا جاتا ہے۔ پھر تہجد کی اذان کے وقت کھول دیا جاتا ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے یہ چلا آرہا ہے۔

موجودہ حکومت سعودیہ عربیہ نے حرم مسجد نبوی کی توسیع اس قدر کی ہے کہ بیک وقت ہزاروں نمازی نماز ادا کرتے ہیں اور تعمیر جدید پر کروڑہا روپیہ بڑی فراخدلی کے ساتھ خرچ کرکے نہ صرف مسجد نبوی بلکہ اطراف کے جملہ علاقے کو وسیع تر بنا کر صفائی ستھرائی کا ایسا نادر نمونہ پیش کیا ہے کہ دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں اللہ پاک اس حکومت کو دشمنووں کی نظر بد سے بچائے اور خدمت حرمین شریفین کے لیے ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین

گنبد خضراءکے حالات :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے12ربیع الاول11ھ یوم دو شنبہ کو حجرہ عائشہ میں انتقال فرمایا، اسی جگہ لحد شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کو لٹایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بجانب غرب اور روئے مبارک بجانب جنوب ہے، زمین کا یہ ٹکڑا بھی اپنی سعادت ابدی پر جتنا ناز کرے بجا ہے۔ 22جماد ی الاول13ھ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی جانب دفن کئے گئے ان کا سر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ مبارک کے مقابل یعنی قریب ایک فٹ نیچے سرکا ہوا رہا، پھر 27ذی الحجہ 23ھ کو بدھ کے روز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ آپ باجازت صدیقہ رضی اللہ عنہا یہاں دفن ہوئے۔ آپ کا سر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے شانہ کے مقابل یعنی ذرا نیچے سرکا ہوا رہا۔

عہد فاروقی میں حجرہ شریفہ کی دیواریں سابق بنیادوں پر دوبارہ کچی اینٹوں سے بنوا دی گئی تھیں۔ علامہ سمہودی نے پیمائش بھی کی ہے، جنوبی دیوار اندر سے 10-2/3 ہاتھ، شمالی 11-5/13 ہاتھ، شرقی و غربی ہر دو دیواریں 17-5/8 اونچائی 15 ہاتھ تھی۔ پھر امیر مدینہ عمر بن عبدالعزیز نے حجرہ شریف کو بحالہا قائم رکھا اور اس کے گرد بہت عمیق بنیادیں کھود کر پتھر کی ایک مخمس دیوار قائم کردی، حجرہ شریفہ کی چھت لکڑی کی بنا دی اور اوپر تلے تختوں کو کیلوں سے جڑ دیا، اس کے اوپر موم جامہ بچھا دیا تاکہ بارش کا پانی اندر نہ جائے نہ چھت پر اثر کرے، بعد میں سلاطین اسلام نے اس کی حفاظت و مرمت کے لیے بہت کچھ تجدید و اصلاح کی۔ 557ھ میں سلطان نور الدین زنگی شہید نے جب کہ وہ عیسائیوں کے ساتھ صلیبی جنگ عظیم میں مشغول تھا خواب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسم دو گربہ چشم آدمیوں کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں : ”انجدنی و انقذنی من ہذین“ چونک کر سلطا ن کی آنکھ کھل گئی اور فوراً تیز رو سانڈنیاں منگا کر چند ہمراہی ساتھ لئے۔ نہ دن دیکھا نہ رات۔ رواں دواں سولہ دن میں مصر سے مدینہ پہنچا اور جتنے بھی بیرونی باشندے مدینہ میں مقیم تھے سب کی دعوت کی یہ میدان اب بھی دار الضیافۃ کے نام سے مشہور ہے۔ سلطان نے ان پر ایک گہری نگاہ ڈالی مگر وہ دو شخص نظر نہ آئے جو خواب میں دکھائے گئے تھے، پوچھا کیا اور کوئی بھی باقی ہیں؟ معلوم ہوا کہ دو مغربی درویش گوشہ نشین باقی رہ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ بلوائے گئے ان کو دیکھتے ہیں سلطان نے پہچان لیا کہ انہیں کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا۔ ان کو لیے ہوئے سلطان ان کے قیام گاہ پر آیا دیکھا کہ ادھر ادھر چند کتابیں پڑی ہوئی ہیں زمین پر ایک معمولی ٹاٹ پڑا اور اس پر مصلی بچھا ہوا ہے اور چند برتن رکھے ہوئے ہیں جن میں کچھ اناج ہے۔ بادشاہ خاموش سوچ رہا تھا کہ خواب کا کیا مقصد ہے، حیران تھا کہ کچھ سمجھ نہ سکا دفعتاً اس کے قلب میں القا ہوا اوراس نے بچھا ہوا ٹاٹ اور مصلیٰ اٹھالیا۔ دیکھا تو اس کے نیچے گڑھا ہے جس پر پتھر رکھا ہوا ہے پتھر اٹھایا تو دیکھا کہ گھونس کی طرف سرنگ کھو دی گئی ہے اور وہ سرنگ اند ہی اندر جسم انور کے قریب پہنچ گئی ہے۔

یہ دیکھ کر سلطان رحمۃ اللہ علیہ غصہ سے لرزنے لگا اور سختی سے تفتیش حال کرنے لگا، آخر دونوں نے اقرار کیا کہ وہ نصرانی ہیں جو اسلامی وضع میں یہاں آئے ہیں اور ان کے عیسائی بادشاہ نے جسد محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نکال لانے کے لیے ان کو بھیجا ہے۔ ان حالات کو سن کر بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب کیفیت ہوئی وہ تھر تھر کانپنے اور رونے لگا۔ آخر ان دونوں کو اپنے سامنے قتل کرا دیا اور مخمس دیوار کے گرد اگرد اتنی گہری خندق کھدوائی کہ پانی نکل آیا پھر لاکھو من سیسہ پگھلوا کر اس میں ڈالویا اور سطح زمین تک سیسہ کی ایک زمین دوز ٹھوس دیوار قائم کردی کہ کسی رخ سے جسد مطہر تک کوئی دشمن رسائی نہ پاسکے۔

سلطان محمود بن عبدالحمید عثمانی کے زمانے میں قبہ شریف میں کچھ شگاف آگیا تھا چنانچہ1233ھ میں سلطان نے اس کی تجدید کرائی اوپر کا حصہ اتار کر از سر نو تعمیر کیا گیا اور اس پر گہرا سبز روغن پھیرا گیا جس کی وجہ سے اس کا نام قبہ خضراءہوا اس کے بعد دھوپ اور بارش سے جب اس کا رنگ ہلکا ہوا تو یہی سبز رنگ کا روغن چڑھا کر اس کو پختہ اور روشن کیا جاتا رہا۔ دیوار مخمس کے گرد اگرد محرابوں میں جالیاں لگی ہوی ہیں، یہ جالیاں 888ھ میں سلطان قاطبانی کی طرف سے محمل مصری کے ساتھ ستر اونٹوں پر لد کر آئیں، جالی کے ساتھ دنیا کا وہ بے مثل مصحف بھی مستقل ایک اونٹ پر محمول ہو کر آیا تھا جو شاہین نوری خوشنویس نے لکھا تھا۔ جالیدار مقصورہ اور دائرہ مخمس کے درمیان ہر چار طرف سات اور دس فٹ کے درمیان برآمدہ چھوٹا ہوا ہے جس پر سنگ مرمر کا فرش ہے۔



مواجہ شریف میں پیتل کی جالی لگی ہوئی ہے، باقی تین طرف تانبہ اور اس پر گہرا پختہ سبز روغن چڑھا ہوا ہے اس کا نام شباک ہے، یہ بشکل مستطیل ہے اور اس کا جنوبی و شمالی ہر ضلع ساڑھے سترہ گز اور شرقی و غربی ضلع ساڑھے سولہ گز ہے، یہ شباک مع اپنے اندرون کے مقصورہ کہلاتا ہے۔ اللہم صلی علی محمد و علی آل محمد موجودہ حکومت سعودیہ عربیہ نے ان تمام حصوں کے استحکام میں جس قدر کوششیں کی ہیں بلکہ سارے شہر مدینہ کی ترقی اور آبادی کے لیے جو مساعی کام میں لائی جارہی ہیں ان کی تفصیلات کے لیے یہاں موقع نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ اس حکومت نے خدمت حرمین شریفین کا حق ادا کر دیا ہے مدینہ منورہ سے متصل ہی ایک بڑا زبردست دار العلوم جامعہ اسلامہ مدینۃ المنورہ کے نام سے قائم کیا ہے۔ جس میں تمام دنیائے اسلام کے سینکڑوں نوجوان حکومت سعودیہ کے خرچ پر تحصیل علوم کے اندر مشغول ہیں۔ اللہ پاک اس حکومت کی ہمیشہ مدد فرمائے اور اسے زیادہ سے زیادہ مستحکم کرے۔ موجودہ شاہ کی عمر دراز کرے جو حرمین شریفین کی خدمت کے لیے جملہ وسائل ممکنہ وقف کئے ہوئے ہیں۔
اللہ ایدہ بنصرہ العزیز آمین۔


فضائل مدینہ(احادیث)

حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن جده، عن أبي بكرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال، لها يومئذ سبعة أبواب، على كل باب ملكان‏"‏‏.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے اوران سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا اس دور میں مدینہ کے سات دورازے ہوں گے اور ہر در وازے پر دو فرشتے ہوں گے۔"
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ ‏"‏على أنقاب المدينة ملائكة، لا يدخلها الطاعون ولا الدجال‏"‏‏.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نعیم بن عبداللہ المجمر نے بیان کیا اوران سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں نہ اس میں طاعون آسکتا ہے نہ دجال۔"

::::::::::::::::::::::::::::::::
حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا الوليد، حدثنا أبو عمرو، حدثنا إسحاق، حدثني أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ليس من بلد إلا سيطؤه الدجال، إلا مكة والمدينة، ليس له من نقابها نقب إلا عليه الملائكة صافين، يحرسونها، ثم ترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات، فيخرج الله كل كافر ومنافق‏"‏‏.

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، ان سے ولید نے بیان کیا، ان سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے اسحق نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کردے گا۔"

:::::::::::::::::::::::::::::::::
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزبير، عن سفيان بن أبي زهير ـ رضى الله عنه ـ أنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏تفتح اليمن فيأتي قوم يبسون، فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، وتفتح الشأم، فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، وتفتح العراق، فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم‏.‏ والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون‏"‏‏. ‏

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہمانے اوران سے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ
" یمن فتح ہو گا تو لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اوراپنے گھر والوں کو اوران کو جو ان کی بات مان جائیں گے سوار کرکے مدینہ سے (واپس یمن کو ) لے جائیں گے کاش ! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا اور عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اوراپنے گھر والوں کو اورجو ان کی بات مانیں گے اپنے ساتھ (عراق واپس ) لے جائیں گے کاش ! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا۔"

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::
حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا أنس بن عياض، قال حدثني عبيد الله، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏إن الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها‏"‏‏.

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبید اللہ عمری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خبیب بن عبدالرحمن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اوران سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

"(قیامت کے قریب ) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آجایا کرتا ہے۔"


صحیح بخاری
کتاب فضائل المدینہ



میری اللہ سے دعا ھے کہ اللہ تعالٰی مجھے اور تمام اہل ایمان کو بار بار حرم مکی اور حرم مدنی کی زیارت نصیب فرمائے

آمین یا رب العالمین
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 169
Reply With Quote
پرانا 12-02-10, 10:37 AM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدثنا أبو النعمان، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا عاصم أبو عبد الرحمن الأحول، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏المدينة حرم، من كذا إلى كذا، لا يقطع شجرها، ولا يحدث فيها حدث، من أحدث حدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين‏"‏‏.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمن احول عاصم نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک ) اس حد میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے نہ کوئی بدعت کی جائے اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔"

صحیح بخاری
کتاب فضائل المدینہ
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
پرانا 12-02-10, 11:45 AM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن أبي التياح، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فأمر ببناء المسجد فقال ‏"‏يا بني النجار ثامنوني‏"‏‏. ‏ فقالوا لا نطلب ثمنه إلا إلى الله‏.‏ فأمر بقبور المشركين، فنبشت، ثم بالخرب فسويت، وبالنخل فقطع، فصفوا النخل قبلة المسجد‏.‏

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ(ہجرت کرکے ) تشریف لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنو نجار تم (اپنی اس زمین کی ) مجھ سے قیمت لے لو لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق فرمایا اور وہ اکھاڑی دی گئیں، ویرانہ کے متعلق حکم دیا اور وہ برابر کر دیا گیا، کھجور کے درختوں کے متعلق حکم دیا اور وہ کاٹ دیئے گئے اور وہ درخت قبلہ کی طرف بچھا دیئے گئے۔"

صحیح بخاری
کتاب فضائل المدینہ


اس سے بعض افراد نے دلیل لی ہے کہ اگر مدینہ حرم ہوتا تو وہاں کے درخت آپ کیوں کٹواتے؟ ان کا جواب یہ ہے کہ یہ فعل ضرورت سے واقع ہوا یعنی مسجد نبوی بنانے کے لیے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کیا بحکم الٰہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مکہ میں بھی قتال کیا، کیا معترض افراد بھی اس کو کسی اور کے لیے جائز کہیں گے۔؟ مسلم کی روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ارد گرد بارہ میل تک حرم کی حد قرار دی۔
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فارم, کمال, پہچان, پاک, پسند, قرآن, نماز, مکہ, موم, موجودہ, موسیٰ علیہ السلام, مجید, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آبادی, اللہ, امیر, اسلام, تعلیم, حدیث, دجال, دعا, راستہ, شعبان


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ثنا خوانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظفر وارثی انتقال کر گئے Ajmal Anjum خبریں 4 31-01-11 10:30 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
تکمیل اِیمان کی شرط ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 3 15-05-10 09:55 AM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں طارق راحیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 25-02-09 09:35 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger