واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-03-10, 04:52 PM   #1
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
سحر سحر آن لائن ہے 01-03-10, 04:52 PM

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے احاطے میں داخل ہوں تو ٹھنڈے فرش ، بلندیوں کو چھوتی ہوئی عمارت اور چکاچوند کردینے والی روشنیاں ، انسان کو ایک لمحے کو بہت متاثر کرتی ہیں ۔ اس مسجد میں جانے والا ہر شخص اس عمارت کی خوبصورتی ، نقش و نگاری کی دل آویزی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا ہے ۔ مسجد نبوی کے اندرونی حصہ میں سونے کے پانی سے مذین فانوس آویزاں ہیں ۔ مسجد نبوی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ہے جو اس مسجد کی اصل اساس ہے ۔ روضہ مبارک کی جالی بھی سونے سے بنی ہوئی ہے ۔ روضہ اطہر کے اطراف سونے چاندی کے نقش ونگار سے مزین کیا ہوا ہے ۔ مسجد کی چھت اور دیواروں بھی نقش ونگار سے مذین ہیں ۔ ریاض جنت میں جابجا بے شمار فانوس لگے ہیں ۔ مسجد نبوی خوبصورتی کے اعتبار سے ایک بے مثال عمارت ہے ۔
لیکن
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سادگی اور وقار کی اعلیٰ مثال ہے ۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونے چاندی کے پہاڑ سے نوازدیتا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے سادگی کی زندگی کو پسند فرمایا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کہیں سے ہدیہ آتا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت سے ذیادہ ہوتا تو جب تک اس کو باقی مومنین میں تقسیم نا کردیتے سکون نہ پاتے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی دیورایں کچی مٹی کی بنی تھیں ۔
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے چاندی کا چھلا اپنی انگلی میں پہن رکھا تھا ۔ تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا اور اس کو اتارنے کو کہا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب انتقال ہوا تو ان کے گھر میں اسلحہ کے سامان کے سوا کچھ بھی نہ تھا ۔
ہم نے روضہ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان چیزوں کی بھرمار کردی یعنی سونے چاندی کی جن کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سونے چاندی کی محتاج نہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ اس سونے چاندی سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرلیں گے تو یہ ہماری حماقت سوا کچھ نہیں ۔
بلکہ ان سونے چاندی کے فانوس سے ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو تکلیف پہنچارہے ہیں ۔
اور اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے خوش نہیں تو اللہ بھی ہم سے راضی نہ ہوگا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ایک مشفق باپ کی طرح تھے ۔ اگر اولاد فاقے کررہی ہو تو کوئی باپ یہ پسند نہین کرے گا کہ اس کے گھر میں سونے کے فانوس لگے ہوں ۔ بلکہ ایسے فانوس اس باپ کو تکلیف میں مبتلا رکھیں گے ۔ آج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہر طرح کی تکالیف میں مبتلا ہے ۔ تو یہ سونے کے فانوس حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی دینگے یا تکلیف ۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے
قیامت سے قریب لوگ اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے اور خوبصورت مسجدیں بنانے میں مقابلہ کریں گے ۔
آج اس مقابلہ کی شروعات مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی ہے ۔
آپ خود سوچیں ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں کے پاس بےپناہ دولت اور عروج تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کو سونے چاندی سے نہیں بھرا کیوں ؟
کاش ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سونے چاندی سے بھرنے کے بجائے اعلیٰ کردار کے مومنین اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان قربان کرنے والے مسلمانوں سے بھر سکتے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 01-03-10 at 05:16 PM..

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 330
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-03-10), shafresha (02-03-10), فیصل ناصر (01-03-10), ڈاکٹرنور (02-03-10), نورالدین (03-03-10), منتظمین (02-03-10), ابو عمار (01-03-10), راجہ اکرام (01-03-10), عادل سہیل (03-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10)
پرانا 01-03-10, 05:02 PM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آج اس مقابلہ کی شروعات مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے ۔
آپ خود سوچیں ۔ ۔
السلام علیکم بہن سحر

بہت اچھی تحریر لکھی ھے آپ نے ، جزاک اللہ

اللہ سے دعا ھے کہ اللہ ہم سب کو سہی معنوں میں مسلمان بنادے ، آمین

آپ سے اک درخواست بھی ھے کہ اوپر اقتباس میں لی گئی عبارت اگر ایسے ھوتی تو زیادہ اچھا ھوتا

آج اس مقابلہ کی شروعات مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی ھے

جزاک اللہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (03-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10)
پرانا 01-03-10, 05:15 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پیاری بہنا
ماشاء اللہ آپ نے بہت ہی اہم نکتہ کی جانب اشارہ کیا ہے، اس جانب بہت ہی کم لوگ سوچتے ہیں۔
اللہ آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اور جزائے خیر عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-03-10), نورالدین (03-03-10)
پرانا 01-03-10, 05:18 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم بہن سحر

بہت اچھی تحریر لکھی ھے آپ نے ، جزاک اللہ

اللہ سے دعا ھے کہ اللہ ہم سب کو سہی معنوں میں مسلمان بنادے ، آمین

آپ سے اک درخواست بھی ھے کہ اوپر اقتباس میں لی گئی عبارت اگر ایسے ھوتی تو زیادہ اچھا ھوتا

آج اس مقابلہ کی شروعات مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی ھے

جزاک اللہ
جزاک اللہ ساہج بھائی
میں نے ایڈٹ کردیا ہے
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-03-10), نورالدین (03-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10)
پرانا 01-03-10, 05:26 PM   #5
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
بہن جی، آپ نے بالکل درست باتیں کہی ہیں۔ مسجد نبوی علی صاحبہا الصلاۃ و التسلیم کی پہلی زیارت کے بعد میرے تاثرات بھی اسی قسم کے تھے۔ اتفاق سے وہ تحریر میرے پاس موجود ہے، اقتباس ملاحظہ کجیے:
"۔ ۔ ۔ آپ دیکھ لیں گے کہ "رسم اذاں" رہ گئی ہے لیکن "روح بلالی" باقی نہیں ہے۔ میں جب مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ جاتا ہوں تو ایک خاص کیفیت کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی سر اٹھاتا رہتا ہے گویا میں "عکاظ" کے بازار میں پھر رہا ہوں۔ دکانوں کی کثرت، کاروباری گہما گہمی، سونے چاندی کی خرید و فروخت، انواع اقسام کے ملبوسات اور دنیا بھر سے آنے والی مصنوعات میں مگن مخلوق میں ایسے لوگ بہت کم رہ جاتے ہیں جو ان دلچسپیوں کو پیچھے رکھ کر حرمین کی جانب دلی رغبت کو قائم رکھ سکیں"۔
مسجد نبوی میں پہنچ کرسوچ چودہ سو سال پیچھے چلی گئی، کئی واقعات چشمِ تصور میں پھر گئے۔ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا دور ہے۔ قرآن کریم دلوں کو جھنجھوڑ رہا ہے، مسجد نبوی میں نیزہ بازی کا مقابلہ ہو رہا ہے، کبھی احد کی جنگ کا منظر ہے تو کبھی دس ہزار مشرک مدینہ النبی کی چھوٹی سے بستی کا گھیراؤ کیے نظر آتے ہیں۔ امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پیٹ پر بھوک کی شدت سے دو دو پتھر بندھے ہیں۔ فرمان نبوت جاری ہو رہا ہے:
انا فرطکم و انا شھید علیکم۔ ۔۔ ۔
"میں تمہارا پیش رو ہوں، اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ اللہ کی قسم مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے لیکن میں اسے سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا فراخ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلوں پر فراخ کی گئی"
"جب تو دیکھے کہ اونٹ چروانے والے چرواہے بلند عمارتیں بنانے میں مقابلہ کریں (تو قیامت قریب ہو گی)۔
پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آواز کانوں میں گونجتی ہے:
"اگر مدینے کے بازاروں میں بھیڑیے ازواج مطہرات کو گھسیٹتے پھریں پھر بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا"
کھجور کے پتوں سے بنی مسجد نبوی میں بیٹھ کر امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں:
"ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی ہے، جب ہم اسے کسی دوسرے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا"
اس خوبصورت، مرصع اور بلند و بالا عمارت میں وہ سکون اور حلاوت نہیں ہے جو ہمارے خیالوں میں بسی اس مسجد میں ہے جہاں دورِ نبوت میں رات کو دیا بھی نہ جلتا تھا"
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-03-10), shafresha (02-03-10), فیصل ناصر (01-03-10), نورالدین (03-03-10), ابو عمار (01-03-10), راجہ اکرام (01-03-10), سحر (01-03-10), عادل سہیل (03-03-10)
پرانا 01-03-10, 06:35 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ اکبر
اللہ آپ لوگوں کو مزید خیر کی توفیق دے
اور ہم سب کو رسول اللہ کے طریقے اور سوچ پر عمل کرنے کی توفیق دے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (03-03-10), راجہ اکرام (01-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10)
پرانا 01-03-10, 07:08 PM   #7
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم !
سحر بہن ۔۔۔۔
ماشاء اللہ ۔۔ بہت اہم بات کی طرف آپ نے نشاندہی کی ہے ۔۔
وہی ہے نا کہ ۔۔۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد کچھ عرصے تک مسجدیں تو کچی تھیں لیکن نمازی
ایمان میں پکے اور مضبوط تھے ۔۔۔ آج مسجدیں پکی اور شاندار ہیں لیکن نمازیوں کا ایمان کچا ہے ۔۔
یہی وجہ ہے کی تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود کوئی حیثیت نہیں رہی ۔۔
اللہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے اس کا غلط استعمال کررہے ہیں تو ہر جگہ مار بھی کھا رہے ہیں ۔۔
ظاہر داری حد سے بڑھ گئی ہے اندر سے کھوکھلے ہیں ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-03-10), فیصل ناصر (01-03-10), نورالدین (03-03-10), راجہ اکرام (01-03-10), عادل سہیل (03-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10)
پرانا 01-03-10, 07:51 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر بہنا، برادر عبد اللہ حیدر اور مکرمی ارحم جی آپ تینوں کیں باتیں واقعی دعوت فکر ہیں ہم سب کے لئے۔
مساجد کی خوبصورتی اور وسعت زیر بحث ہے تو میرے ذہن میں اک بات آ رہی ہے۔
آج کل مساجد کی بہتات ہے جیسا کہ اوپر بھی ذکر ہوا، خوبصورتی ایسی ہے کہ مسجد کم اور پکنک پوائنٹ زیاد بن گئے ہیں، فیصل مسجد کو ہی بطور مثال لے لیں ، اور وسعت اتنی ہے کہ ایک طرف شہر میں عوام کے بیٹھنے کی جگہ نہیں، کوئی مسافر خانہ نہیں ، بے شمار مسائل اور دوسری جانب ایک ہی علاقے میں نصف درجن کشادہ مساجد جہاں نمازی پہلی صف بھی مکمل کرنے کی تعداد کے برابر بھی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس حوالے سے بھی ذرا سوچنے کی ضرورت ہے۔
مساجد بے شمار اور نمازی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے
اقبال مرحوم نے سچ ہی کہا تھا کہ
مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-03-10), فیصل ناصر (01-03-10), نورالدین (03-03-10), عادل سہیل (03-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10)
پرانا 01-03-10, 08:14 PM   #9
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی بھائی پہلے گلی گلی اسکول کھلا کرتے تھے کیوں کی یہ بھی ایک منافع بخش کاروبار تھا
اب ہر گلی میں ایک مسجد تیار ہوجاتی ہے ۔۔۔
اور ایسی شاندار کہ سمجھ میں نہیں آتا کی اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں ۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-03-10), نورالدین (03-03-10), راجہ اکرام (01-03-10)
پرانا 02-03-10, 09:41 AM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
عبداللہ حیدر اگر اپ اپنا مراسلہ الگ سے پیش کریں تو وہ بھی مناسب رہے گا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-03-10), نورالدین (03-03-10), عبداللہ حیدر (04-03-10)
پرانا 02-03-10, 11:18 AM   #11
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شاندار سحر بہن
بہت اچھا لکھا ۔۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (03-03-10), عبداللہ حیدر (04-03-10)
پرانا 03-03-10, 04:50 PM   #12
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میری عمر اس وقت پانچ چھے سال ہو گی جب ہمارے محلے میں مسجد کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا۔مجھے یاد ہے کہ مغرب اور عشاء کی نمازیں اس وقت زیر تعمیر برآمدے میں ادا کی جاتی تھیں۔ آج 23 سال گزرنے کے بعد دو منزلہ مسجد ہمارے سامنے ہے۔ سپلٹ اے سی، دیواروں پر منقش ٹائلیں، فرش پر دبیز قالین اور اس قسم کی دوسری چیزیں بہترین حالت میں موجود ہیں۔ لیکن کوئی سال نہیں گزرتا جب ایک نئی تعمیر شروع نہ کی جاتی ہو۔ یہ ایک مسجد کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں عمومًا یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ بیس بیس سال گزرنے کے بعد بھی مولوی صاحب ثواب دارین کے حصول کے لیے چندہ مانگتے نظر آتے ہیں۔ اور لوگ بھی اپنے اردگرد بسنے والے غریب مسلمانوں کا حق مار کر دیواروں کو سجاتے اور فرشوں کو آراستہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات مسجد کو ڈیکوریٹ کرنے اور فانوس لٹکانے کے لیے اتنا پیسہ خرچ کر دیا جاتا ہے جس سے ایک غریب خاندان کے سال بھر کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں یا کسی بے روزگار کے روزگار کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مسجد کیسی تھی۔ امام بخاری اپنی صحیح میں بیان کرتے ہیں:
كَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ
"مسجد (نبوی) کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی"
کہنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت خراب تھی، مدینہ منورہ کی معیشت مہاجرین کی آمد اور جہاد کے اخراجات کی وجہ سے دباؤ میں تھی اس لیے مسجد کی سجاوٹ پر خرچ نہیں کیا گیا لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب مسجد دوبارہ تعمیر کی گئی تو اسلام دنیا میں سربلند تھا، مال غنیمت کی کثرت تھی۔ بیت المال بھرا ہوا تھا۔ لیکن امیر المومنین رضی اللہ عنہ خوب جانتے تھے کہ اللہ نے یہ مال دیواروں کو سجانے اور میناروں پر سونا چڑھانے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی فلاح کے لیے دیا ہے۔ چنانچہ معماروں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
أَكِنَّ النَّاسَ مِنْ الْمَطَرِ وَإِيَّاكَ أَنْ تُحَمِّرَ أَوْ تُصَفِّرَ فَتَفْتِنَ النَّاسَ
"(اس تعمیر سے تمہارا مقصد صرف یہ ہو کہ) لوگوں کو بارش سے بچاؤ، اور خبردار (مسجد میں ) زردی یا سرخی کا استعمال نہ کرنا کہ لوگ (اس کی وجہ سے نماز کی بجائے نقش و نگار کی طرف متوجہ ہوں اور) فتنے میں پڑ جائیں"
ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسے مفسر قرآن صحابی فرماتے تھے:
لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى
"یقینًا تم لوگ مساجد کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودی اور نصرانیوں نے اپنی عبادت گاہوں کو آراستہ کیا"
صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب بنیان المساجد)
نہ صرف یہ بلکہ مساجد کی خوبصورتی کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کرنے کو قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ
سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی بناء المساجد، صحیح سنن ابی داؤد 449)
"قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ (ایک دوسرے کے سامنے) مسجدوں پر فخر نہ کریں گے۔ "
اور فرمایا
مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ
سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی بناء المساجد، صحیح سنن ابی داؤد 448
"مجھے اونچی اونچی مسجدیں بنا نے کا حکم نہیں دیا گیا "
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اصلاح کر دے۔ اور ہمارے علماء اور ائمہ کو صحیح دین بیان کرنے اور سمجھانے کی توفیق دے۔
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 03-03-10 at 09:16 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (03-03-10), نورالدین (03-03-10), راجہ اکرام (03-03-10), سحر (05-03-10), عادل سہیل (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 11:30 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb یہ تباہی کا سبب ہے ،

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سحر بہن ، بھتیجے عبداللہ ، بھائی راجہ اکرام اور بھإئی ارحم جزاکم اللہ خیرا ،
مسجدوں کو گرجا گھروں کی طرح سجانے کی مصیبت جب سے مسلمانوں پر ٹوٹی ہے ان مساجد میں‌ہونے والی عبادات کا اثر بھی معاشرے سے مفقود ہو گیا ہے ،
مساجد کی سجاوٹ کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ،
بھتیجے نے اس بات کی دلیل میں ایک حدیث نقل کی ہے جو انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ سے سنن ابی داود کی روایت ہے انہی انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ کی روایت امام النسائی اور امام الدارمی رحمہما اللہ کی سنن میں ان الفاظ میں ہے کہ ((((( اِنَّ مِن اِشراط السَّاعۃ أن یَتباھی النَّاس فی المساجد ::: بے شک یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ لوگ (اپنی اپنی) مساجد کے بارے میں ایک دوسرے کے سامنے فخر جتانیں گے )))))
اس روایت میں بالکل واضح الفاظ میں مسجدوں کی سجاوٹ کو قیامت کی نشانیوں میں سے بتایا گیا ہے ،
مخلوق کے جس کام کو قیامت کی نشانی کے طور پر بتایا گیا ہے وہ کام اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہوتا اسے گناہ کی فہرست میں جانا جاتا ہے ، آخرت میں ایسے کام کے نقصانات تو ہوں گے ہی ، لیکن ان میں سے کچھ کام ایسے بھی ہیں جن کا نقصان آخرت سے پہلے دُنیا میں بھی ہو گا اور خوب ہو گا ،
مساجد کی آرائش بھی ایسے ہی کاموں‌میں سے ایک ہے ، جی ہاں ، اس کا نتیجہ بھی ہمیں ایک صحابی رضی اللہ عنہ‌ُ کی زبانی پتہ چلتا ہے ،
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ ((((( إذَا حَلَّيْتُمْ مَصَاحِفَكُمْ وَزَوَّقْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ فَالدَّمَارُ عَلَيْكُمْ ::: جب تُم لوگ اپنے مصاحف (قران کے نسخوں) کو سجانے لگو اور اپنی مساجد میں نقش و نگاری کرنے لگو تو پھر تُم لوگوں پر تباہی ہے ))))) صحیح الجامع الصغیر ، حدیث 585 ،
یہ تباہی ہم دیکھ رہے ہیں ، اندرونی تباہی جس کا تذکرہ بھتیجے نے اپنے مراسلے میں کیا کہ ایک دوسرے کا احساس نہیں رہا ، مسجدوں کی آرائش پر خرچ کر دیا جاتا ہے لیکن کسی ضرورت مند مسلمان بھائی بہن کو نہیں دیا جاتا ،
اور بیرونی تباہی کہ ہماری مسجدوں میں کی جانے والی عبادات کی کوئی قوت اللہ کے دشمنوں کے سامنے برقرار نہیں رہی اور یہ ہماری عبادات کے غیر مقبول ہونے کی ایک دلیل ہے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کے ، ہر ایک مسلمان کے تمام احوال کی فرما دے ، ہمارے ساتھ اپنی خاص رحمت والا معاملہ فرمائے، ہماری کوتاہیوں ، ہمارے گناہوں کے مطابق نہ فرمإئے ، آمین ، ثم آمین ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-03-10), راجہ اکرام (04-03-10), سحر (05-03-10), عبداللہ حیدر (04-03-10)
جواب

Tags
color, گھر, پسند, لوگ, نبوی, مقابلہ, مسلمانوں, مسجد, مسجد نبوی, آج, اللہ, انسان, اعلیٰ, بے, جانے, حصہ, خود, خوش, دل, زندگی, شخص, عمارت, عمارتیں, عائشہ, عروج


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ارشادات نبوی صلی اللہ علہہ وسلم naeemuddin متفرقات 0 29-12-09 06:22 PM
مسجد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت منظر کشی 1 میاں شاہد متفرقات 3 28-07-09 12:41 PM
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم Real_Light تاریخ و عبر 4 20-12-08 02:00 PM
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دنیاوی خزانے کی وقعت ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 1 06-07-08 10:30 PM
فرمان نبوی(صلی للہ علیہ وسلم) ابو عمار پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 2 17-09-07 05:11 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:10 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger