محمد فتح اللہ گولن تركي كے ايك عظيم سكالر ہيں جن كي تحرير كردہ كتابوں كي تعداد 60 سےزائد ہے۔۔ جن كے 35 مختلف زبانوں ميں ترجمے ہو چكے ہيں۔ جن ميں سےاردو ميں ان كي تقريبا 13 كتابوں كا ترجمہ ہو چكا ہے۔
نور سرمدي، فخر انسانيت حضرت محمد صلي اللہ عليہ والہ وسلم ( دو جلديں) سيرت پرديے گئے مساجد ميںخطبات پر مشتمل ہے۔۔۔ دلچسپ كتاب ہے۔۔ آج كل اس كامطالعہ كر رہا ہوں سوچا اس كي خاص خاص باتيں آپ سے بھي شيئر كر لوں۔۔۔
ميں مصنف كو پہلي بار پڑھ رہا ہوں۔۔۔۔ اس لئے يہاں صرف ان كي تحرير كو بلا تبصرہ پيش كر رہا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف اور اس كےكارناموں كے بارےميں مزيد معلومات ميںدلچسپي ركھنےوالے ساتھي اس يہاں بہت كچھ پائيںگے۔
اردو كے لئے
انگريزي كے لئے
عربي كے لئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دريائے فرات كا خزانہ
ارشاد نبوي ہے
عنقريب دريائے فرات سونے كا خزانہ ( يا آپ نے ارشاد فرمايا سونے كا پہاڑ)اگلے گا جو اس موقع پر موجود ہ وہ اس ميں سے كوئي چيز نہ لے۔
دريائے فرات كے قريب بڑي بڑي جنگيں ہو چكي ہيںماضي قريب كي تاريخ ميں جھانك كر ديكھيں تو عراق اور ايران كے درميان ہونےوالي خون ريز جنگ بھي دريائے فرات كےقريب ہي ہوئي تھي نيز 1958 ميںدريائے فرات كے نزديك قتل عام ہوا جس ميں آل رسول كا خون بہا۔
تاہم ان دونوں حادثوں كو مذكورہ بالا حديث كا مصداق قرار نہيں ديا جا سكتا۔ بلكہ اس حديث ميں يقيني طور پر مستقبل كےكسي ايسے واقعہ كي طرف اشارہ ہےجو يہاں پيش آئےگا مثلا ہو سكتا ہے كہ مستقبل ميں كبھي فرات كا پاني سونے كي طرح مہنگا ہو جائےاور حديث شريف ميںمجازا اس طرف اشارہ ہو يا اس پر بند اور ڈيم تعمير ہو جانے كے بعد اس سے حاصل ہونے والي آمدني سونے كي طرح قيمتي ہو جائے يا دريائے فرات كا پاني مكمل طور پر خشك ہو جائےاور اس كے نيچے سے تيل كے چشمے يا سونے كي كانيںدريافت ہو جائيں۔ چاہے كوئي بھي مطلب ہو اتني بات يقيني ہے كہ دريائے فرات كا علاقہ ٹائم بم كي طرح كسي بہي وقت عالم اسلام كے ليے خطرے كا باعث بن سكتا ہے۔
يہ حوادث ابھي تك پيش نہيں آئے بلكہ مستقبل ميں وقوع پذير ہوں گے اور جو لوگ اس وقت موجود ہوں گے اور اس پيش گوئي كا مشاہدہ كريںگےوہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ والہ وسلم كي صداقت كي گواہي دے كر اپنے ايمان كو تازگي بخشيں گے۔