| متفرقات متفرقات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 718
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عجیب قصے ہیں آپ کے
پہلے کہتے ہیں کے کربلا کے واقعے کا رسول اللہ کو پہلے سے پتہ تھا (کے یہ ہونا ہے )اب امام جعفر کہتے ہیں " اگر لوگ غدیر کو نہ بھُلا لتے تو کربلا کا معرکہ نہ ہوتا"
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
| 10 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-12-11), قاسمی (30-11-11), نبیل خان (29-11-11), مرزا عامر (29-11-11), wajee (29-11-11), بلال الراعی (29-11-11), بنت حوا (01-12-11), حیدر (29-11-11), سیفی خان (29-11-11), شھزادباجوہ (02-12-11) |
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,135
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ بھی جانتا تھا اور وحی کے زریعے رسول اکرم ص کو بھی خبر دی جاچکی تھی اس لیے رسول اکرم ص نے امام حسین ع سے وعدہ لیا کہ تمھیں آنے والے دور کے امت کے لوگوں کی فلاح کے لیے قربانی دینی ہوگی کیونکہ لوگ غدیر کو بھلا دیں گئے۔ ۔ ۔ ۔ آیت لیجئے تحقیق کیجئے۔۔ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ 5:57 اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارا لوگوں کو) پہنچا دیجئے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اﷲ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بیشک اﷲ کافروں کو راہِ ہدایت نہیں دکھاتا۔ یوم غدیر پر آیت کا نزول ۔۔ کیا کافرین سے مراد صرف انکار کرنے والے ہیں ؟ یا اس کا ایک مطلب چپھانے والے بھی ہیں ؟ اسی آیت میں اللہ نے رسول اکرم ص کی جان کی حفاظت کی زمہ دار بھی لی۔ عجیب بات یہ ہے کہ سوا لاکھ اصحاب رسول ص کی موجودگی میں رسول اکرم ص کو خوف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نہ صرف یہ کہ غدیر کو بھلادیا جائے گا بلکہ آج ’اعلان ولایت علی ع‘ کے بعد دشمنی بھی ظاہر ہوجائےگی۔کیونکہ لوگوں کے زہنوں میں کچھ اور ہی چل رہا تھا اور اللہ اور اس کا رسول ص جانتے تھے۔ ورنہ یہ بات تعجب خیز کیوں نہ ہوکہ اعلان ولایت علی ع پر اتنے سارے مسلمانوں/ اصحابوں کی موجودگی میں اللہ نے اپنے رسول ص کی جان کی حفاظت کی زمہ داری لے رہا ہے جبکہ جان کی حفاظت کی زمہ داری تو اس وقت لینی چاہیے تھی جب رسول اکرم ص اعلان نبوت کے بعد مکہ میں کافروں کے بیچ تنہا تھے۔ اعلان ولایت علی ع کی مثال اعلان خلافت آدم کی مثل ہے۔ تعجب نہ کریں کہ اللہ کی بارگاہ میں ہزاروں سال رہنے کے باوجود بھی شیطان کو ھدایت کا نہ ملنا ثابت ہوا اللہ نے جب فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے کا حکم دیا تو وہ جو ہزاروں سال سے عبادت کررہا تھا کھل کر سامنے آگیا یعنی اللہ کے بنائے وئے خلیفہ کی دشمنی پر اتر آیا۔ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-11-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھای ریحان اتنی تفصیل کے بجائے ہمارے اٹھائے پوائنٹ پر کچھ عرض کرتے تو اچھا ہوتا
ایک واقعہ جو طے شدہ ہونا تھا اس پر امام جعفر کے اس قول " اگر لوگ غدیر کو نہ بھُلا لتے تو کربلا کا معرکہ نہ ہوتا" کی کیا توجیح ہے ؟ کیا امام جعفر کو رسول اللہ کے فرمودات کا علم نا تھا ؟ یا جو آیت اپ نے پیش کی اس کی تفسیر کا علم نا تھا ؟ جبکہ امام کے پاس تو آپکے نزدیک علم غیب بھی ہوتا ہے
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اس کی مثال بھی قرآن سے ہی ڈھونڈتے ہیں۔ جب اللہ نے کہا کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والہ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب وقت گذر گیا اور وہ دونوں جنت کے باغوں کے درمیاں رہنے لگے پھر ایک دن آدم و حوا دونوں ایک شجر کے نذیک پہچ گئے جہاں اللہ نے منع فرمایا تھا بس اللہ کو جلال آیا ان دونوں کے ستر ظاہر ہوگئے تھے اس لیے ان دنوں کو جنت سے نکال دیا علمائے امت یہ کہتے ہیں کہ اگر آدم و حوا شجر کے نذدیک نہ جاتے تو وہ جنت سے نکالے نہ جاتے اب اپنے سوال کا جواب خودسمجھ جائیں جب یہ بات طے تھی کہ اللہ نے آدم کو خلق ہی اس لیے کیا تھا کہ وہ زمین پر آئیں اور اللہ کی عطا کی ہوئی خلافت کو دنیا میں ظاہر کریں ۔تو پھر امت کے علما کا یہ کہنا کہ اگر آدم و حوا جنت میں اس شجر کے نذدیک نہ جاتے تو وہ دونوں جنت سے نکالے نہ جاتے کیا معنی رکھتا ہے؟ ۔۔ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-11-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر لوگ غدیر کو نہ بھُلا لتے تو کربلا کا معرکہ نہ ہوتا
’فرمانِ فرزندِ رسول ص امام جعفرصادق ع‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً حیدر ریحان کی مراد( اگر لوگ غدیر کو نہ بھُلا لتے تو کربلا کا معرکہ نہ ہوتا( حدیث غدیر ہے اوراستدلال فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت مولٰی علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلا فصل کو ثابت کرتی ہے۔غالباً حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ایک قول منسوب کر کے کہنا چاہتے ہیں اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول مانا جاتا تو واقعہ کربلا پیش نہ آتا۔ جناب اھل بیت رضی اللہ عنہم پیکر راضی برضائے الٰہی تھے اگر مگر سے انہیں کیا کام؟ فریضہ حج سے واپسی پر غدیر کے مقام پر،کم و بیش ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے خطاب کرتے ہوئے خاتم النبین، رحمت اللعالمین، اشرف الانبیاء احمد مجتبٰی حضرت محمد مصطٰفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ الا فمن کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ۔ خبردار جس کا میں مولا ہوں پس اس کے یہ علی کرم اللہ وجہہ مولا ہیں۔۔۔ خداوندا!۔ تو اس کو دوست رکھ جو علی کرم اللہ وجہہ کو دوست رکھے اور تو اُس کو دشمن رکھ جو علی کرم اللہ وجہہ سے دشمنی رکھے جو علی کو چھوڑ دے تو بھی اُسے چھوڑ دے۔ بلا شبہ اس حدیث شریف سے بدیہی طور پر سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی غایت درجہ فضیلت اور تکریم ظاہر ہوتی ہے۔ اور ہر اھل ایمان کے لیے ترغیب بھی ہے کہ وہ عترت پاک کے ساتھ اسی طرح محبت رکھے جیسا کہ حضور صل اللہ علیہ وسلم ذات گرامی کے ساتھ کہ اس پر ایمان کا دار ومدار ہے۔ اسکے سننے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اثنائے ملاقات فرمایا کہ اے ابو طالب کے بیٹے خوش ہو اور تجھے بشارت ہو کہ تو ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کا مولا ہو گیا ہے۔ اس حدیث کی تقریب کے متعلق بریدہ اسلمی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رم اللہ وجہہ کو لشکر دے کر یمن بھیجا تھا جس میں میں بھی تھا فتح کے بعد مال خمس ۔۔۔۔کی وجہ سے میرے دل میں انکے متعلق کدورت پیدا ہوئی۔۔۔۔ واپسی پر غدیر خم کے مقام پر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آپکی شکایت کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی کو دشمن نہ سمجھ خمس میں علی کا حصہ اور بھی تھا۔ خم غدیر کے واقعہ کے بیان سےصاف ظاہر ہے کہ فرمان نبوی الا فمن کنت مولاہ فھذا علی مولاہ بریدہ کی شکایت کی وجہ سے تھا۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے دوستی اور محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی اور محبت ہے نہ کہ یہ خلافت علی کا اعلان تھا۔اور یہیں سے ”مولیٰ علی“ کی اصطلاح چلی ہے، اہل سنت اس کو مانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے محبوب ہیں ، اور ان کی محبت اور ان کی آل و اولاد کی محبت، اہل سنت کے نزدیک جزو ایمان ہے اور جو شخص ان کی محبت سے خالی ہو، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ایمان سے فارغ ہوگیا۔
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش Last edited by ملک اظہر; 29-11-11 at 10:58 PM. |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اظہر بھائی ۔۔۔۔۔یہ صرف ایک قول نہی ہے کہ امام جعفر صادق ع سے منصوب کرکے کہنا چاہتاہوں میں تو خود چاہتا ہوں کہ اس قول پر رشنی ڈالی جائے اب اس جملہ کو دوسرے نظریے سے بھی دیکھتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ خدا اور رسول اکرم ص کا اقدام غدیر اس لیے تھا کہ واقعہ کربلا نہ ہو لیکن لوگوں نے غدیر کو بھلادیا بس ۔۔۔ اگر لوگ غدیر کو نہ بھُلا لتے تو کربلا کا معرکہ نہ ہوتا ۔ |
|||
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | شھزادباجوہ (02-12-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کمال ہے، غدیر کو بھلایا تو لوگوںنے۔ اور اس کی سزا ملی تو بجائے ان لوگوںکو ملتی جنہوںنے بھلایا، سزا ملی اہل بیت کو؟ کیا یہی انصاف ہے؟
یہ دعویٰعیسائیوںکے اس دعویٰسے ماخوذ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی ہمارے گناہوں کی وجہ سے صلیب چڑھ گئے۔ کمال ہے گناہ لوگ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰسزا ایک نبی کو دے کر ان کے گناہ معاف کرتا ہے۔۔؟
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-12-11), کنعان (01-12-11), نبیل خان (01-12-11), بنت حوا (01-12-11), حسن قادری (01-12-11), راجہ اکرام (02-12-11), شھزادباجوہ (02-12-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لیکن امت مسلمان ایسا نہ کرسکئ اور اللہ کے حکم کو بھلادیا اور قران پاک کی شان لوگوں کو بیان کرنا تھی وہ نہ کرسکئے ۔ امریکہ میں ایک غیر مسلم نے قران پاک کو جلا دیا ہمارے جرم کی سزا قرآن کو کیوں ملی ؟ اور خود اس کے بدعمل کی سزا قرآن کو کیوں ملی ؟ اس کے بعد کسی غیر مسلم کے ہاتھوں قرآن پاک کے جلائے جانے کے عمل سے مسلمانوں کا دل جلنا ، دکھ ہونا ، پریشان ہونا اور اللہ سے معافی مانگنا کیا معنی رکھتا ہے؟ عمل کسی کا سزا کسی کو ؟ Last edited by حیدر Rehan; 01-12-11 at 01:47 PM. |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
برادر من، یہ سزا نہیں، بلکہ محبت کی نشانی ہے۔ اور دنیا بھر میں یہ اصول رائج ہے کہ جس کسی سے ہمیںمحبت ہو، اس کو تکلیف پہنچنے پر ہم بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ یہ براہ راست محبت کا تعلق ہے جو بالکل فطری ہے۔ جبکہ آپ اس فطری تعلق سے جو دلیل کشید کر رہے ہیںوہ یہ ہے کہ چوری کی عین نے، اور سزا ملی غین کو۔ محترم، سمجھنے کی کوشش فرمائیںکہ ہم یہاںجرم و سزا کی بات کر رہے ہیں۔ آپ ہی بتائیں غدیر کو بھلانا جرم تھا کہ نہیں؟ اب اس جرم پر اہل بیت دکھی ہوتے، پریشان ہوتے، اللہ سے معافیاںطلب کرتے تو یہ فطری بات ہوتی، جس پر آپ کی پیش کردہ مثال بالکل صادق آتی۔ لیکن اس جرم پر غدیر کو بھلانے والوںکو تو کچھ نہیںکہا گیا، الٹا ان دکھی، پشیمان، پریشان، معافیاںطلب کرنے والے اہل بیت ہی کو سزا سنا دی گئی؟؟؟ اب بتائیںکیا یہی اللہ تعالیٰکا انصاف ہے؟ اور کیا یہ عقیدہ عیسائیوںکے عقیدہ سے ملتا جلتا نہیں، کیونکہ عیسائیوںکے عقیدہ میںبھی جرم و گناہ، بلکہ ازلی گناہ اور اس کی معافی کے لئے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی سولی کا تذکرہ ہے۔ لہٰذا آپ کی مثال کو سامنے رکھیں تو بات یوںبنتی ہے کہ ایک عیسائی نے قرآن کی بے حرمتی کی۔ مسلمان پشیمان، دکھی ، مغفرت کے طلبگار ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰنے بجائے اس کے کہ بے حرمتی کرنے والے عیسائی کو سزا دیتا، انہی پشیمان، دکھی اور طلبگار مغفرت مسلمانوں کو سزا دینی شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰسے دعا ہے کہ ہمارے عقائد کی اصلاح فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غدیر کا معرکہ بھی کوئی بیان کر دو
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے صحابہ کرام کی کثیر جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غدیر خم : غدیر عربی میںجوہڑ یا تالاب کو کہتے ہیں جو : میں پنچے تو اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر آرام فرمایا ۔ اس دوران بعض صحابہ کی طرف سے وہ شکایات پیش کی گئیں جو سفرِ یمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پیش آئی تیں ۔ غدیر خم کے مقام پر 18 ذوالحجہ 10 ھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا ۔ اس خطبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن ضروری امور کو ذکر فرمایا تھا ان میں سے ایک چیز رفع شبہات کے درجہ میں تھی ۔
وہ حضرت علی کے متعلق تھی جو اعتراضات سفرِ یمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم سفر احباب کو اب کے خلاف پیدا ہوئے تھے ان کی مدافعت کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کی فضیلت بیان فرمائی ۔ اور حضرت علی کی امانت و دیانت کا واضح طور پر ذکر فرمایا ان کلمات میں ایک کلمہ سب سے زیادہ مشہور ہے : من کنت مولاہ فعلی مولاہ : ان کلمات میں حضرت علی سے اعتراضات کا ازالہ مقصؤد تھا اور حضرت علی کی فضیلت اور ان کے حسن کردار کا بیان کرنا پیش نظر تھا ۔یہ ایک وقتی مسئلہتھا اس فرمانِ نبوت کے ذریعہ حسن اسلوبی کے ساتھ اختتام پزیر ہو گیا ۔۔مقام غدیرخم میں کوئی جنگ وغیرہ نہیں ہوئی ۔ |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, size, ہونا, ہوتا, کربلا, پتہ, واقعے, قرآن, قصے, لوگ, مکہ, معرکہ, آگے, آج, اہل بیت, اللہ, امام, بھُلا, جعفر, رسول, علی, علم, عبادت, عجیب, غدیر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اُدھر سے وار ہوتا تو اِدھر سے پیار ہوتا | میاں شاہد | امیر مینائی | 1 | 17-10-10 10:05 AM |
| نہ تھا کچھ تو خدا ہوتا، کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا | The Great | شعر و شاعری | 1 | 14-09-09 02:43 PM |
| ! کبوتر امن کی علامت ! | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 39 | 15-02-09 11:52 PM |
| عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا | میاں شاہد | داغ دہلوی | 0 | 14-04-08 05:13 AM |