واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


کعبہ پر پہلی نظر - حج کے سفر ناموں سے انتخاب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-11-08, 06:15 PM   #1
کعبہ پر پہلی نظر - حج کے سفر ناموں سے انتخاب
باذوق باذوق آف لائن ہے 29-11-08, 06:15 PM

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کعبہ پر پہلی نظر - حج کے سفر ناموں سے انتخاب

سطح ارض پر "بیت اللہ" پہلی مبارک عبادت گاہ ہے جو انسانوں کے لیے قائم کی گئی ہے اور جسے تمام جہاں والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک متعدد انبیاء نے ضرورت پڑنے پر کعبة اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا۔

کتنی متبرک و مقدس ہے یہ جگہ کہ ۔۔۔۔
اللہ کے جلیل القدر انبیاء نے اس کا طواف کیا اور کتنے مبارک تھے وہ لمحات کہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے گھر کا طواف کیا اور حجر اسود کو بوسہ دیا۔ ہزاروں صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلو میں تھے۔

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔۔۔۔ دل شوق و محبت کے جذبات سے معمور اور آنکھیں بیت اللہ کی زیارت کے لیے بےتاب ہیں۔
محبان کے قافلے دور دراز کے مقامات سے آج بھی بیت الحرام پہنچ رہے ہیں۔
"بیت اللہ" پر پہلی نظر پڑتے ہی دل و دماغ کی کیفیات کو بعض زائرین کے قلمبند کیا ہے۔ اردو ادب میں مشاہرین کے جو چند حج نامے معروف ہیں ، انہی میں سے کچھ اقتباسات یہاں پیش کئے جا رہے ہیں جو ان احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں جو خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی مصنفین پر طاری ہوئے !!

بشکریہ :
ہفتہ وار "روشنی" (روزنامہ اردو نیوز ، سعودی عرب کا ہفتہ واری سپلیمنٹ) ، بتاریخ : 28-نومبر-2008ء

باذوق
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 185
Reply With Quote
پرانا 29-11-08, 06:16 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 173
کمائي: 5,506
شکریہ: 100
145 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کعبہ پر پہلی نظر - حج کے سفر ناموں سے انتخاب

نسیم حجازی (1959ء)
- پاکستان سے دیارِ حرم تک

بارگاہ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتا ہوا اندر داخل ہوا۔ صحن میں پاؤں رکھتے ہیں خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ اس کی چھت آسمان کو چھو رہی ہے !
سیکڑوں آدمی وہاں طواف کر رہے تھے۔ کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنا گوارا نہ تھا۔ جو طواف سے فارغ ہو چکے تھے ، ان میں کوئی حطیم کے اندر نفل پڑھ رہا تھا اور کوئی غلاف کعبہ تھام کر گریہ و زاری کر رہا تھا۔ کسی کو کسی کے ساتھ سروکار نہ تھا۔ کسی کو کسی کے ساتھ دلچسپی نہ تھی۔
وہ مختلف سمتوں سے آئے تھے ، لیکن وہاں مشرقی و مغربی ، کالے اور گورے ، امیر اور غریب ، ادنیٰ اور اعلیٰ کی کوئی تمیز نہیں تھی۔
طواف شروع کیا ، میری خودفراموشی کا یہ عالم تھا کہ کبھی چلتے چلتے میری رفتار کم ہو جاتی اور کبھی میرے قدم تیز ہو جاتے ، لیکن دو تین چکر لگانے کے بعد میں سنبھل چکا تھا۔
خانہ کعبہ کے گرد سات چکر پورے کرنے اور ہر بار حجر اسود کو بوسہ دینے کے بعد باب الرحمة کے سامنے دعا شروع کی۔
وہاں شائد پہلی بار یہ خیال آیا کہ میں کون ہوں؟ اور کہاں سے آیا ہوں؟ اور اس کے ساتھ ہی میری آواز بیٹھ گئی۔ میں بڑی کوشش کے ساتھ رک رک کر دعائیہ کلمات دہرا رہا تھا لیکن ۔۔۔۔
اچانک میری قوت گویائی جواب دے گئی اور آنسوؤں کا ایک سیلاب جو نہ جانے کب سے اس وقت کا منتظر تھا ، میری آنکھوں سے پھوٹ نکلا۔

===
قدرت اللہ شہاب (1953ء)
- شہاب نامہ

میں نے سن رکھا ہے کہ جو شخص حرم شریف میں داخل ہوتا ہے وہ اپنا جوتا ، گناہوں کی گھٹڑی ، اپنی دستار فضیلت اور اپنی بزرگی کا عمامہ دروازے کے باہر چھوڑ جاتا ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جب وہ باہر آئے گا تو اس کا جوتا یا اس کے گناہوں کی گھٹڑی یا اس کی فضیلت کی دستار یا اس کی بزرگی کا عمامہ ۔۔۔ اس کو واپس ملے گا یا نہیں؟
میرے پاس حرم شریف کے باہر چھوڑنے کے لیے پاؤں میں ربڑ کے چپل اور سر پر گناہوں کی گھٹڑی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ میں نے دل و جان سے دونوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔
باب السلام کے راستے حرم شریف میں داخل ہو گیا۔ اندر قدم رکھتے ہی دم بھر کے لیے بجلی سی کوندی اور زمین کی کشش ثقل گویا ختم ہو گئی۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے گاڑی کو مضبوط بریک لگا کر میرے وجود کو پنکچرشدہ ٹائر کی طرح جیک لگا کر ہوا میں معلق کر دیا گیا ہو۔ میرے جسم کے اعضا کا ایک دوسرے سے رابطہ ٹوٹ سا گیا ہو ، ہاتھ بےلوچ ہو کر لٹک گئے اور سر بھنور میں پھنسے ہوئے خس و خاشاک کی طرح بےبسی سے چکر کاٹنے لگا۔ اس طرح اپاہج سا ہو کر میں طواف کے لیے آگے بڑھنے کے بجائے بےساختہ لڑکھڑا کر وہیں بیٹھ گیا۔

===
ماہرالقادری (1954ء)
- کاروان حجاز

لیجئے ! حدود حرم سے بھی کچھ آگے نکل آئے۔ تلبیہ پڑھنے میں آنکھیں بھی زبان اشک سے لے میں لے ملا رہی ہیں۔ مکہ کی آبادی آ گئی۔ رات کا وقت ہے ، ایسے میں جو ٹیلہ ، جو پہاڑی اور جو مکان بھی نظر آتا ہے ، عقیدت کہتی ہے کہ اسے دل میں اتار لیجئے۔
انسانیت کی تاریخ کا پہلا ورق اسی سرزمین پر مرتب ہوا۔
اسی شہر میں حق کی وہ آواز بلند ہوئی جس نے باطل کے جسم میں تھرتھری پیدا کر دی۔
یہ تاریخی شہر نہیں بلکہ خود تاریخ ساز ہے۔ اس شہر پر تاریخ کا ذرہ برابر بھی احسان نہیں بلکہ خود تاریخ پر اس شہر کا احسان ہے۔ تاریخ اس شہر سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اگر تاریخ سے مکہ کو نکال دیا جائے تو پھر تاریخ میں رہ کیا جائے گا۔
یا اللہ ! میں کہاں آ گیا ؟ یہ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا ، مجھ سا پلید اور حرم مقدس میں ! مجھ سا خطاکار ، گناہگار اور معاصی سرشت اس مقام پر جہاں ہر زمانے کے اتقیاء و صلحاء ، پاک بازوؤں اور نیکو کاروں نے سجدے اور طواف کئے۔ یہ پیروں سے نہیں ، سر کے بل چلنے کا مقام ہے۔ یہاں کا جتنا بھی احترام کیا جائے کم ہے۔

ابوالحسن علی ندوی (1947ء)
- شرق اوسط میں کیا دیکھا

میں نے بچپن میں جس طرح لوگوں کو جنت اور اس کی نعمتوں کا بڑے شوق سے ذکر کرتے ہوئے سنا ، اسی طرح مکہ اور مدینہ کا تذکرہ بھی سنا تھا۔
جنت کو حاصل کرنے اور ان دونوں متبرک شہروں کو دیکھنے کی تمنا اسی وقت سے میرے دل میں کروٹیں لینے لگی تھیں۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک طویل عرصے کے بعد میں خود اس جگہ آ پہنچا جس کی زمین پر نہ تو سبزے کا فرش تھا اور نہ اس کی گودی میں ندیاں کھیلتی تھیں۔ جب میں نے حسن ظاہری سے خالی یہ سرزمین دیکھی تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ شہر مناظر سے کتنا تہی دست ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ میں نے یہ بھی سوچا کہ اس شہر نے انسانیت اور تمدن پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ اگر یہ شہر کا دامن گلکاریوں سے خالی ہے، روئے زمین پر نہ ہوتا تو دنیا ایک سونے کا پنجرہ ہوتی اور انسان محض ایک قیدی!
یہی وہ شہر ہے جس نے انسان کو دنیا کی تنگنائے سے نکال کر وسعتوں سے آشنا کیا۔ انسان کو اس کی کھوئی ہوئی سرداری اور چھنی ہوئی آزادی دلائی۔ اسی شہر نے انسانیت پر لدے ہوئے بوجھوں کو اتارا۔ اس کے طوق و سلاسل کو جدا کیا جو ظالم بادشاہوں اور نادان قانون سازوں نے ڈال رکھے تھے۔ وہ عزت دنیا کو دوبارہ ملی جو سرکشوں اور ظالموں کے ہاتھوں پامال ہو چکی تھی۔
سچ تو یہ ہے کہ یہاں انسانیت نے نیا جنم لیا اور تاریخ نئے سرے سے ڈھل کر نکلی۔

===
مولانا رفیع الدین مرادآبادی (1787ء)
- سفرنامہ حجاز

سعدیہ سے چل کر دو دن بعد بوقت چاشت 14-شوال بروز دوشنبہ مکہ معظمہ میں حاضر ہوئے۔ چونکہ چار کوس سے زیادہ پیادہ پا اور سر و پا برہنہ چلا تھا اور آفتاب بہت گرم تھا، سنگریزے اور ریگِ راہ جل رہے تھے اس لیے بہت مشقت برداشت کرنا پڑی لیکن دیدار جمال کعبہ سے تمام عمر کی کلفتوں کا ازالہ ہو گیا۔
اس مورود مسعود میں آنے کے وقت مشاقان جمال مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مواضع اقدام نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشاہدے سے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس مقام پر رونق افروز ہونے کے تصور سے دل میں وہ نور اور باطن میں وہ سرور پیدا ہوتا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔
طالب صادق پر کہ جس کی چشمِ بصیرت کحل ہدایت سے سرمگیں ہو اور اس کا دیدہ باطن نور عنایت سے منور ہو ، یہ بات پوشیدہ نہیں کہ حرمین اور اس کے نواح کے پہاڑوں ، جنگلوں ، وادیوں اور مکانوں میں جو کہ منظور نظر سعادت اثر رہے اور ناظر جمال ، بہجت مال ہوئے ہیں ، جمال محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اثر سے کس قدر نورانیت و روحانیت نمایاں ہے۔

***
باذوق آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-11-08, 08:20 PM   #3
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: کعبہ پر پہلی نظر - حج کے سفر ناموں سے انتخاب

بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, پاکستان, قدم, قدرت اللہ شہاب, نیوز, نظر, مکہ, محبت, آبادی, آج, آدمی, اللہ, امیر, اردو, اعلیٰ, بچپن, جواب, دل, دعا, رفتار, رات, سفر, شہر, عبادت, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger