واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


کیا واقعہ غدیر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت ہوتی ہے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-12-11, 07:17 PM   #1
کیا واقعہ غدیر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت ہوتی ہے ؟
نبیل خان نبیل خان آن لائن ہے 04-12-11, 07:17 PM

یمن کے علاقے میں اسلام کی تبلیغ کافی عرصے سے جاری تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یکے بعد دیگرے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وقتا فوقتا وہاں بہیجتے رہے تھے ۔ اسی سلسلہ میں ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ فرمانے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نو عمر ہوں اور قضا کے معاملات میں مجھے زیادہ تجربہ نہں اور اس قوم میں تنازعات کے فیصلے کرنے کی نوبت آئے گی تو میں کیا کروں گا ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا :

ان اللہ سیہدی لسانک ویثبت قلبک :

اللہ کریم تمہاری زبان کو درست فیصلہ کی توفیق دے اور تمہارے دی کو ثابت رکھے گا۔
اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں ۔
فوضع علی صدری وقال اللہم ثبت لسانہ قاھدقلبہ۔

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک حضرت علی کے سینے پر رکھا اور دعا دی ۔ اے اللہ ان کی زبان کو ثابت رکھ اور ان کے دل کی رہنمائی فرما ۔ ( البدایہ والنہایہ ج۱ ص۱۰۷ ۔ تحت باب بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن ابی طالب وخالد الی یمن قبل حجۃالوداع )
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے سامنے جب بھی کوئی معاملہ پیش آیا تو اس میں اشکال پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے حل کے لئے کوی بہتر صورت منکشف ہو گئی ۔
یمن میں قیام کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کو متعدد واقعات پیش آئے تھے ۔علماء سیرت نے اس میں متعدد روایات ذکر کی ہیں ان میں سے ایک بطور خلاصہ ذکر کی جاتی ہے ۔
سیرت کی روایات میں ہے کہ یمن کے علاقہ سے مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں آئیں۔ ان اموال غنائم سے بطور خمس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک خادمہ حاصل کی اس پر دیگر ساتھیوں کو کچھ اعتراض ہوا ۔ گو موقعہ پر کوئی خاص کشیسگی نہیں ہوئی ۔ پھر جب یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حج سے واپسی پر مدینہ منورہ کے راستہ میں حضرت بریدہ بن خصیب اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ اعتراض پیش کیا ۔

۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غدیر خم : غدیر عربی میںجوہڑ یا تالاب کو کہتے ہیں جو : میں پنچے تو اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر آرام فرمایا ۔ اس دوران بعض صحابہ کی طرف سے وہ شکایات پیش کی گئیں جو سفرِ یمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پیش آئی تھیں ۔ غدیر خم کے مقام پر 18 ذوالحجہ 10 ھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا ۔ اس خطبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجن ضروری امور کو ذکر فرمایا تھا ان میں سے ایک چیز رفع شبہات کے درجہ میں تھی ۔
وہ حضرت علی کے متعلق تھی جو اعتراضات سفرِ یمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم سفر احباب کو اب کے خلاف پیدا ہوئے تھے ان کی مدافعت کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کی فضیلت بیان فرمائی ۔ اور حضرت علی کی امانت و دیانت کا واضح طور پر ذکر فرمایا ان کلمات میں ایک کلمہ سب سے زیادہ مشہور ہے


: من کنت مولاہ فعلی مولاہ :

ان کلمات میں حضرت علی سے اعتراضات کا ازالہ مقصؤد تھا اور حضرت علی کی فضیلت اور ان کے حسن کردار کا بیان کرنا پیش نظر تھا ۔یہ ایک وقتی مسئلہ تھا اس فرمانِ نبوت کے ذریعہ حسن اسلوبی کے ساتھ اختتام پزیر ہو گیا ۔۔مقام غدیرخم میں کوئی جنگ وغیرہ نہیں ہوئی ۔
غدیر خم کے واقعہ کو بعض لوگوں نے بڑی اہمیت دی ہے اور اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کرنے کے لئے نا کام کوشش کی ہے یہ لوگ اس واقعہ کومسئلہ خلافت کے لئے انتہائی درجہ کی قوی دلیل قرار دیتے یہاںچند اشیاء غور طلب ہیں ۔ ان پر توجہ فرمانے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ دلیل مسئلہ خلافت ہر گز ثابت نہیں کرتی ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق شکایات کا ازالہ جن الفاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں یہ جملہ مزکور ہے کہ : من کنت مولا ہ فعلی مولاہ :
یعنی جس شخص کے لئے میں محبوب اور دوست ہوں پس علی بن ابی طالب اس کے محبوب اور دوست ہیں ۔ یہاں پر مسئلہ خلافت و نیابت کا ذکر تک نہیں ہے ۔ اور نہ کسی جماعت کی طرف سے آپ کے سامنے خلافت کے مضمون کو زیر بحث لایا گیا ۔ اور نہ ہی کسی شخص نے اس کے متعلق کوئی سوال کیا جس کے جواب میں آپ نے یہ آپ نے یہ کلام فرمایا ہو ۔
پھر اس روایت کے اگلے الفاظ بھی غور طلب ہیں ان میں موالات اور معادات کو ایک دوسرے کے بالمقابل ذکر کیا ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں مولٰی کے لفظ میں ولایت بمقابلہ عداوت ہے بمعنی خلافت نہیں ۔ روایت کے وہ الفاظ یہ ہیں :

:
اللھم وال من ولاہ وعاد من عاداہ :

اللہ ! اسے دوست رکھ جو علی سے دوستی رکھے اور اس سے عداوت رکھ جو علی سے عداوت رکھے ۔
یہ ہے اصل واقعہ کا پسِ منظر جو سادہ الفاظ میں ذکر کر دیا ہے ۔ اور روایت ہٰزا کے متعلق ہمارا یہی مؤقف ہے جو ہم نے پیش کر دیا ۔
: جاری ہے :

Last edited by نبیل خان; 04-12-11 at 08:07 PM..

نبیل خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 441
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (21-01-12), بنت حوا (04-12-11)
پرانا 04-12-11, 07:42 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار آپ نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا۔
کاش لوگ اب بھی جان جائیں کی علیّ کی عظمت کیا ہے۔
اور اس کے مقابلے میں جو بھی آیا ہے فنا ہی ہوا ہے۔
جزاک اللہ
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (21-01-12), نبیل خان (04-12-11)
پرانا 04-12-11, 07:44 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default واقعہ غدیرخم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت ہے ؟:2:

شیعہ کا خلافت بلا فصل پر استدلال

شیعہ حضرات کے نزدیک روایت ھٰزا ( من کنت مولاہ فعلی مولاہ ) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے لئے نہایت اہم حجت اورقوی تر دلیل ہے ۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ رویت ھٰزا میں مولا کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے ، (یعنی جس کا مولا میں ہوں حضرت علی بھی اس کے مولا ہیں ) اور مولا کے معنی خلیفہ اور حاکم کے ہیں ۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت کے مولا ہیں فلہزا اس فرمان کی بنا پر حضرت علی بھی تمام امت کے مولا ہیں اور یہ روایت مسلم بین الفریقین ہے ۔ اور متوارات میں اس کو شمار کیا جاتا ہے لہٰزا اس پر عقیدے کی بنیاد ہو سکتی ہے ۔ نیز اس نوع کی روایت کسی دوسرے صحابی کے حق میں وارد نہیں ہوئی ۔ فلہٰزا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے لئے یہ نص صریح ہے اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام امت کے لئے خلیفہ اور حاکم ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

روایت ہٰزا کے متعلق فریق مقابل کا یہ دعوٰی کہ یہ روایت بین الفریقین متواتر روایات میں سے ہے ۔ قابل غور ہے ۔ یہ دعوٰی علی الالطلاق صحیح نہیں ۔
وجہ یہ ہے کہ بعض اکابر محدثین نے اس روایت پر کلام کیا ہے ۔ اس وجہ سے اس روایت کو متواترات میں سے شمار کرنا صحیح نہیں ۔ یہ روایت اخبار آحاد میں سے ہے ۔ اور وہ بھی اس طرح کہ اس کی اسانید ضعف سے خالی نہیں ۔ تاہم بعض علماء اس روایت کی صحت کے قائل ہیں اور روایت کو اپنے مفہوم کے اعتبار سے قبول کرتے ہیں ۔ بحر حال ہم بھی اس روایت کو تسلیم کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے بعد روایت ہٰزا کے معنی ومفہوم میں کلام جاری ہے اس پر توجہ فرمائیں ۔

نیز فریق مقابل کا یہ قول کرنا کہ یہ الفاظ کسی دوسرے صحابی کے لئے استعمال نہیں ہوئے یہ درست نہیں ہے ۔ اس لئے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد شدہ غلام صحابی رسول حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔
۔
۔ ۔ قال لزید انت اخونا ومولانا ۔

آٓپ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے مولٰے ہیں ۔
( مشکوۃ شریف ص ۲۹۳ بحوالہ بخاری ومسلم باب بلوغ صغیرالفصل الاول
)
روایت ہٰزا میں لفظ مولا وارد ہے

مولا کے معنی کتاب وسنت اورلغت عرب میں متعدد پائے جاتے ہیں ۔

النہایہ لابن اثیرالجزری ۔ ( جو لغت حدیث میں مشہور تصنیف ہے ) میں مولا کہ سولہ عدد معانی ذکر کئے ہیں لیکن ان میں خلیفہ بلا فصل اور حاکم والا معنی کہیں نہیں ملتا یکسر مفقود ہے ۔ یعنی لغت حدیث والوں نے مولا کا یہ معنی کہیں نہیں بیان کیا ۔ باقی معانی انہوں نے لکھے ہیں ۔ ( النہایہ فی غریب الحدیث ج۴ ص۲۳۱ )
اسی طرح ؛ المنجد ؛ میں مولا کے اکیس معنی ذکر کئے گے ہیں وہاں بھی مولا کا معنی خلیفہ یا حاکم نہیں پایا گیا ۔ یہ تو کسی مسلمان کی تالیف نہیں ایک عسائی کی علمی کاوش ہے ۔ سو یہ بات پختہ ہے کہ اس روایت میں مولا کا لفظ خلیفہ اور حاکم کے معنی میں ہر گز وارد نہیں ۔ اس طرح کتاب اللہ اور دیگر احادیث صحیحہ میں مولا کا لفظ خلیفہ یا حاکم کے معنی میں کہیں مستعمل نہیں دیگر معانی میں وارد ہے
۔ ا
ہل علم کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے خلافت بلا فصل ثابت کرنے کے لئے نص صریح درکار ہے ۔ لفظ ؛ مولا ؛ جیسے مجمل الفاظ جو متعدد معانی کے حامل ہو ں اور مشترک طور پر مستعمل ہوتے ہیں سے یہ مدٰعی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتا ۔۔
مختصر یہ کہ خلافت بلا فصل کا دعوٰی خاص ہے اور اس کے اثبات کے لئے جو دلیل پیش کی گئی ہے ۔ اس میں لفظ مولا اگر بمعنی حاکم ہو تو بھی یہ لفظ عام ہے ۔ دلیل عام مدعٰی خاص کو ثابت نہیں کرتی ۔ ۔ ۔
اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ خلافت بلا فصل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں ارشاد فرمایا تھا اور جناب علی رضی اللہ عنہ بلا فصل خلیفہ نامزد تھے تو درج ذیل چیزوں پر غور فرمائیں اصل نسئلہ کی حقیقت واضح ہو جائے گی ۔

1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے کچھ قبل حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ میں گمان کرتا ہوں کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو جائے اس بنا پر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر مسئلہ خلافت و امارت کے متعلق ررض کریں ۔ اگر یہ امارت ہم میں ہو گی تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے اور اگر امارت وخلافت ہمارے سوا دوسروں میں ہو گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق لوگوں کو وصیت فرمادیں گے ۔ اس کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ خلافت و امارت کے متعلق سوال کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیںاس سے منع فرمادیا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ کبھی ہمیں خلافت کا موقع نہیں دیں گے ، اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں اس بات کا ہر گز سوال نہیں کروں گا ۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے بحوالہ بخاری شریف ذکر کیا ہے ۔

فقال علی انا واللہ لئن سئالنا ھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فمنعنا ھا لا یعطینا ھاالناس بعدہ وانی واللہ لا اسالہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
( البدائیہ لابن کثیر ج۵ ص۲۲ تحت حالات مرض نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بحوالہ بخاری شریف )


اس واقعہ نے واضح کر دیا ہے کہ خم غدیر کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی فیصلہ خلافت نہیں ہوا تھا ، ورنہ طے شدہ امر کے لئے ۱۔ اولا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ گفتگو ہی نہ فرماتے ۔۲ ثانیا حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے کہ اس مسئلہ کا میرے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غدیر خم میں فیصلہ فرما چکے ہیں ۔لہٰزا اس سوال کی کوئی حاجت نہیں ہے ۔

2) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ منتخب ہونے کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں اس نص صریح کو کیوں پیش نہیں فرمایا ؟
(۳) تمام مہاجرین وانصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو غدیر خم کے موقعہ پر اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست سننے والے تھے انہوں نے اس نص صریح کو یکسر کیسے فراموش کردیا ؟ اور حضرت علی سے اعراض کر کے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کو خلیفہ تسلیم کر لیا ۔

اگر کوئی صاحب یہ کہنے کی جرائت کریں کہ ان حضرات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے نص صریح معلوم تھی مگر انہوں نے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بعض دیگر مصالح کی بنا پر پس پشت ڈال دیا اور اس سے اعراض کرتے ہوئے اس پر عمل درٓمد نہیں کیا ۔ تو یہ کہنا حقیقت کے بر خلاف ہے ۔ نہ شریعت کا مزاج اسے تسلیم کرتا ہے ۔نہ عقل اسے ممکن مانتی ہے ۔وجہ یہ ہے کہ فرمان نبوت کی اطاعت صحابہ کرام کے لئے ایک اہم ترین مقصد حیات تھی ۔ لہٰزا یہ تمام حضرات نبوت کیخلاف کیسے مجتمع ہو سکتے تھے ۔ ( لا تجتمع امتی علی الضلالہ )
:جاری ہے :

Last edited by نبیل خان; 04-12-11 at 07:58 PM.
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (21-01-12), گلاب خان (10-02-12), محمدخلیل (04-12-11), بلال الراعی (05-12-11)
پرانا 04-12-11, 07:50 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (21-01-12)
پرانا 04-12-11, 07:57 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا واقعہ غدیر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا ٍصل ثابت ہے ؟:3:

(۴) اس طرح دور صدیقی کے اختمام پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ کی اور اکابر بنی ہاشم کی موجودگی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب فرمایا ، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت کے متعلق کسی نے یہ نص صریح پیش نہیں کی ۔ حالانکہ یہ اثبات خلافت علوی کے لئے ایک اہم موقعہ تھا۔
ّ
5) اسی طرح حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنی شہادت کے موقعہ پر خلیفہ کے انتخاب کے لئے ایک کیٹی مقرر کی تھی ۔ ] جس طرح کہ اہل سیرت و تاریخ کو معلوم ہے [ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ان حضرات کا باہمی مشوہ ہوا اور انتخاب کا مکمل اختیار حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیا تھا ، پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب فرمایا ۔ تو اس موقعہ پر کسی ہا شمی ! غیر ہاشمی غدیر خم والی نص صریح کو پیش نہیں کیا ۔
(۶)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت لینے سے نکار کردیا ۔ اور بنی عمرو بن مبدول کے باغ میں جا کر الگ بیٹھ گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ میں ذکر کیا ہے کہ ۔
وقد امتنع علی رضی اللہ عنہ من احابتہم الی قبول الامارۃ حتی تکرر قولہم لہ وفرمنہم الی حائط بنی عمر بن مبدول واغلق بابہ َ
( البدایہ ج۷ ص ۲۲۵ ۔ قبل ذکر بیعت علی بالخلافۃ )
اور شیعہ علماء نے اس سلسلہ میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کلام نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے کہ جب لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایاکہ :

دعونی والتمسوا غیری ۔ ۔ ۔ وان ترکتمونی فانا کاحدکم ولعلی اسمعکم واطوعکم لمن ولیتموہامرکم وانالکم وزیرا خیرلکم منی امیرا۔
] نہج الباغۃ للسیدالشریف ارضی ص۱۸۱۔ طبع مصر ۔ تحت ومن خطبۃ لہ علیہ السلام لما ارید علی البیت بعد قتل عثمان [
یعنی (بیعت کے معاملہ میں ) مجھے تم چھوڑ دو اور میرے سوا کسی اور کو تلاش کر لو ۔۔۔۔ اور اگر مجھے تم چھوڑ دو گئے تو میں تم میں سے ایک فرد ہونگا ۔ اور جس شخص کو تم اپنے امر کا والی بناو گئے امید ہے کہ میں اس کا تم سب سے زیادہ تابعدار اور زیدہ مطیع ہوں گااور میرا تمہارے لئے وزیر رہنا امیر بننے سے زیادہ بہتر ہے ۔
مندرجات بالا کی روشنی میں واضح ہو کہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اولا انکار فرمایا ۔ اگرچہ بعد میں دیگر اکابر صحابہ کرام عیہم الرضوان کے اصرار پر بیعت لینا منظور فرمالیا ۔اس سے معلوم ہوا کہ غدیر خم یا کسی دیگر مقام میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے لئے کوئی نص صریح موجود نہیں ورنہ آپ انالکم وزیرا خیرلکم منی امیرا ۔ جیسا کلام نہ فرماتے ۔


7) حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت حسن مثنٰیکے سامنے ان کے ایک عقیدت مند نے کہا کہ ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ : من کنت مولا ہ فعلی مولا ہ : جس کا میں مولا اس کے علی مولا ہیں ۔
اس کک جواب میں حضرت حسن مثنٰی فرماتے ہینں کہ :


اما واللہ لویعنی بذالک الامرۃ والسلطٰن لا فصح لہم بذالک کما افصح لہم بالصلوۃوالزکوۃ وصیام رمضان وحج البیت ویقال لھم ایہاالناس ھذا ولیکم من بعدی فان افصح الناس کان للناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
( طبقات ابن سعد ج۵ تحت تذکرہ حسن بن حسن رضی اللہ عنہم )


یعنی اگر اس جملہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد امارت اور سلطنت ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ، زکوۃ، روزہ رمضان ، اورحج بیت اللہ کی طرح واضح طور پر اس کا حکم صادر فرماتے اور فرمادیتے کہ اے لوگو ! علی میرے بعد تمہارے حاکم ہیں ۔ کیونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ فصیح ( اور افصح الناس ) تھے ۔ ۔
اس سے بھی یہ واضح ہو گیا کہ ۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔ کا جملہ اکابر ہاشمی حضرات کے نزدیک بھی خلافت بلا فصل کے لئے نص صریح نہیں ۔


برادران اسلام

مندرجہ عنوان کے تحت جن چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے ان تمام پر غور کر لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ غدیر خم کے موقعہ پر جو فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صادر ہوا اس کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے ساتھ کچھ تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مسئلہ خلافت وہاں مطلوب و مقصود تھا ۔ بلکہ وقتی تقاضوں کے مطابق اس میں دیگر مقاصد پیش نظر تھے جن کو وہاں پورا کردیا گیا ۔ اللہ کریم ہمیں سمھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العٰلمین۔
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (21-01-12), بلال الراعی (05-12-11), بنت حوا (04-12-11)
پرانا 10-01-12, 01:44 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (21-01-12), نبیل خان (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 02:04 AM   #7
Senior Member
مقبول
 
کاشف جمیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2011
مقام: سعودی عرب
عمر: 26
مراسلات: 124
کمائي: 2,474
شکریہ: 82
76 مراسلہ میں 203 بارشکریہ ادا کیا گیا
کاشف جمیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم

بھائی موضوع مکمل کریں۔ ابھی اس میں بہت سی تشنگی ہے۔

موضوع ہو باب علم مولا علی علیہ السلام کے بارے میں اور اتنا کم لکھا جائے۔۔ آپ کے تو فضائل ہی بہت ہیں بس 1 حدیث غدیر (وہ بھی متواتر روایت کی گئی حدیث) کا حوالہ دیا آپ نے۔ ابھی تو میرے مولا کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث ھیں اور لکھیں اس بارے میں بلکہ دوسرے ممبران بھی آئیں اور لکھیں۔

Last edited by کاشف جمیل; 21-01-12 at 01:56 PM.
کاشف جمیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کاشف جمیل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (21-01-12), نبیل خان (21-01-12)
جواب

Tags
color, کوشش, کلمہ, کلمات, کلام, واقعات, نظر, اللہ, اسلام, جواب, حل, حسن, حضرات, خلاف, دوست, دعا, راستہ, شخص, علی, عربی, عرض, غور, غنیمت, غدیر, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
والدین کے فرمانبردار کی دعا قبول ہوتی ہے عبداللہ حیدر دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 2 24-01-11 03:29 PM
انمول موتی wajee گپ شپ 3 16-12-10 03:42 PM
محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی The Great مزاحیہ شاعری 0 14-09-09 12:37 PM
اداس چہرے کی رنگت کچھ اور ہوتی ھے The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 11:26 AM
قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے خرم شہزاد خرم آئیں شاعری سیکھیں 0 22-09-07 11:47 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger