واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


15 شعبان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-07-11, 07:43 PM   #1
15 شعبان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 16-07-11, 07:43 PM

شب براءت یا پندرہ شعبان کے متعلق مختلف آراء سننے کو ملتی ہیں
کچھ کہتے ہیں یہ اللہ تعالی کے بجٹ کی رات ہے جس میں آنے والے سال کے لئے فیصلے ہوتے ہیں
کوئی کہتا ہے اس رات ایک درخت سے پتے جھڑتے ہیں اور جس کا پتہ جھڑ گیا اسی سال اس کا ویزہ (اوپرکا) لگ جاتا ہے
اسکے علاوہ مختلف قسم کی عبادات اور نوافل کی تلقین کی جاتی ہے

جبکہ
کچھ کے نزدیک اس رات کی کوئی شرعی حیثیت نہیں

صاحبان علم سے گذارش ہے کے اس بارے میں کچھ وضاحت فرمائیں


نوٹ : اس دھاگے کا مقصد صرف معلومات کا حصول اور لوگوں کی آگاہی ہے اس لئے گذارش ہے کے صرف اپنا موقف بیان کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں ۔ اور بحث برائے بحث اور مخالف موقف کی دل آزاری سے گریز کریں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 728
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
J.S (19-07-11), skjatala (16-07-11), ھارون اعظم (18-07-11), ننھا بچہ (16-07-11), مرزا عامر (16-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (16-07-11), شھزادباجوہ (22-07-11), شمشاد احمد (16-07-11)
پرانا 16-07-11, 08:49 PM   #2
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس پر بھی اختلافات موجود ہیں
میں واقعی میں ننھا رہ گیا ہوں
چلیں ہمارے علم میں بھی انشاءاللہ مثبت اضافہ ہوگا۔۔ میں آبی بھائی سے درخواست کروں گا اس موضوع پر ضرور ضرور ضرور کُچھ لکھیں۔
جزاءک اللہ
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-07-11), حیدر (16-07-11)
پرانا 16-07-11, 09:14 PM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شبِ نجا ت
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-07-11)
پرانا 16-07-11, 09:41 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
شب براءت کی شرعی حیثیت از چچا عادل سہیل

Last edited by عبداللہ حیدر; 16-07-11 at 09:45 PM. وجہ: link correction
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (17-07-11), فیصل ناصر (17-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11)
پرانا 16-07-11, 09:52 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج جماعت الدعوۃ والوں کا اخبار آیا گھر میں۔
اُس میں اسی سے متعلق کافی مواد تھا۔
اُن کے مطابق تو اس کی کسی قسم کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ، احادیث ضعیف ہیں (پھر وہی صحاح ستہ والا رولا) اور یہ کہ یہ بدعت ہے۔ وغیرہ۔
ابھی بجلی جانے والی ہے ورنی لکھ دیتا ادھر تفصیلاً

نوٹ: ضروری نہیں کہ مجھے بھی اُنکے موقف سے اتفاق ہو
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 16-07-11, 10:32 PM   #6
Senior Member
 
بنت آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: Sialkot Pakistan
عمر: 25
مراسلات: 606
کمائي: 4,108
شکریہ: 17
194 مراسلہ میں 526 بارشکریہ ادا کیا گیا
بنت آدم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں بنت آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت ہے؟

اس کے متعلق علامہ طاہر القادری صاحب کی یہ تصنیف پڑھنے کا موقع ملا اور آپ سے بھی شئیر کر رہی ہوں

اس میں صفحہ 49 پر تقسیم بدعت ہے پڑھیے گا

میلاد منانا بدعت ہے کیا؟
بنت آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-07-11)
پرانا 16-07-11, 11:55 PM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شبِ بارات کا قران حکیم میں کوئی ذکر نہیں ہے ۔ تمام اہم امور کے فیصلے قرانِ حکیم کے مطابق شب قدر یعنی تقدیر کی رات میں کیئے جاتے ہیں ۔ باقی یہ کہ صحابہ کا کیا کردار رہا ہے اور احادیث صحیح ہیں یا ضعیف اس کا مجھے علم نہیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), فاروق سرورخان (17-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 01:23 AM   #8
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,668
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی ہم تو ان پڑھ سے بندے ہیں شبِ قدر کی شرعی حثیت جو بھی ہو اگر اس بہانے ہم تھوڑے نیک ہو جاتے ہیں خدا کو یاد کر لیتے ہیں تو اس میں کیا بدعت ہے
ہاں آتش بازی تھوڑی غلط ہے
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 01:45 AM   #9
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ لوگ شبِ بارات کو قران حکیم سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیئے سورۃ الدخان کی شروع کی آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ آئیے قران پاک کی مزید سورتوں کی آیات سے کیا ربط ملتا ہے

1 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ۔۔۔۔۔۔ سورۃ البقرۃ آیت 185
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور رہنمائی کرنے والی اور امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں،-----

2 . حمO وَالْكِتَابِ الْمُبِينِO. إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَO فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍO أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَO رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO
حا میم اس روشن کتاب کی قسمo بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیںo اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہےo ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیںo آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo سورۃ الدخان آیات 1 تا 6


3- إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِO وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِO لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍO تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍO سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِO

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہےo شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہےo اس میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo یہ طلوعِ فجر تک سلامتی ہےo

اہم نقاط ۔
1 رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قران کا نزول ہوا -
2 سورۃ دخان کی شروع کی آیات میں جو بات کی جارہی ہے وہ اس مبارک رات کی کی جا رہی ہے جس میں قران نزول ہوا ۔ اور قران کا نزول رمضان میں ہوا نہ کہ شعبان میں
3 سورۃ القدر میں اس رات کو لیلۃ القدر کا نام دیا گیا ۔
4 تمام امور کے فیصلے لیلۃ القدر یعنی تقدیر کی رات میں کیئے جاتے ہین
اس کے علاوہ اگر کسی اور رات کا قران پاک میں ذکر ہے تو براہ مہربانی تصحیح فرمادیں
اگر آپ کے کسی مسلک کے مولوی نے سورۃ دحان کی آیات کو شبِ برات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے تو آپ خود اپنے دل سے بھی پوچھیں کہ حقیقت تو کچھ اور واضح ہو رہی ہے ۔
احادیث کے مطابق آپ لوگ شبِ بارات کو جس طرح گزارنا چاہیں آپ کی مر ضی لیکن قران حکیم کو ہدایت کے لیئے پڑھیئے نہ کہ اپنے مسلک کی پشت پناہی کے لیئے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (17-07-11), فیصل ناصر (17-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 09:57 AM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم !
ماہِ شعبان المعظم اور اس کی پندرھویں شب یعنی ”شب برات“ کی عظمت و فضیلت اور اہمیت امت مسلمہ میں ہمیشہ سے مُسلّمہ رہی ہے مگر بد قسمتی سے عصر حاضر میں فرقہ واریت کہ عفریت نے اسے بھی متنازعہ بنا دیا ہے تمہیدا ایک واقعہ نقل کردوں جو آج ہی پیش آیا ہمارے ہاں یہاں بارسلونا سپین میں گذشتہ رات اور اس سے پہلے والی رات کو بطور شب برات منایا گیا وہ یوں کہ گذشتہ سے پہلے والی رات کو اہل سنت والجماعت المعروف بریلوی مکتبہ فکر نے یہاں کہ مقامی موسمیاتی ادارے کی اطلاعات کہ مطابق شعبان کی 15 ویں شب کو منایا جبکہ آج جو رات گزری ہے اس رات کو دیو بندی مکتبہ فکر نے بطور 15 ویں شب کہ منایا فرق دونوں میں جہاں تاریخوں کا تھا وہاں یہ بھی تھا کہ اہل سنت کی مسجد میں شب بیداری اور محافل ذکر و نعت و نوافل و صلواۃ التسبیح کے خصوصی اہتمام کہ ساتھ ساتھ سحری اور دن کا روزہ رکھنے کا بھی خصوصی اہتمام تھا جبکہ جو احباب آج کی رات دیو بندی مکتبہ فکر کی مسجد میں شب بیداری اور اجتماعی اور انفرادی عبادت کی غرض سے گئے ان کو مسجد کہ گیٹ پر تالا منہ چڑھاتا ہوا نظر آیا ان میں سے بعض دوست واپسی میں مجھ سے ملے اور پوچھا کہ ایسا کیوں ؟؟؟ تو میں نے صاف صاف عرض کردی کہ بعض مکاتب فکر کہ نزدیک یہ بدعت ہے تو اس پر انھے شدید حیرت ہوئی خیر قصہ مختصر یہ کہ عوام کالانعام کی عمومی جہالت اور علماء کرام کی خصوصی بغض و عناد نے اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط کا سا ماحول پیدا کرکے اسے خطرناک حد تک اختلافی مسئلہ بنا دیا ہے نیز اس میں مسلکی منافرت پیدا کرکے کہ اسے اصولی اختلافی مسائل کی طرح ایک عقد لا ینخل بنا دیا ہے حالانکہ اگر بنظر غائر و انصاف دیکھا جائے تو یہ ایک فروعی مسئلہ ہے کہ جس کا سراسر تعلق فضائل کہ باب میں سے ہے مگر برا ہو تعصب ضد انا اور ہٹ دھرمی کا کہ جو انسان کو کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتی ۔ ۔ ۔۔

خیر بات بہت دور نکل گئی عرض یہ کررہا تھا کہ شعبان کی 15 ویں شب کی فضیلت بہت سی احادیث میں آئی ہے نیز شعبان کو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کثرت سے روزے رکھنا جبکہ اسکی درمیانی شب کہ جسے شب برات کہا جاتا ہے میں آپ کا خصوصیت کہ ساتھ قبرستان جانا بھی ثابت ہے نیز اسکی رات کی فضیلت میں متعدد روایات ہیں جن میں اگر بعض کو ضعیف بھی مان لیا جائے تو تب بھی اصول روایت کہ اعتبار سے ان احادیث پر عمل کرنا اور اس کے نتیجہ میں شعبان کی 15 ویں رات کو خصوصی عبادات و استغفار میں گزارنا ایک بالکل جائز و مباح امر ہوگا وجہ یہ کہ ایک تو متعدد طرق سے کثرت کہ ساتھ اس باب میں احادیث آئیں ہیں اور دوسرے فضائل کے باب میں بالاتفاق محدثین ضعیف احادیث کو بھی قبولیت عامہ کا درجہ بطور اصول کہ حاصل ہے ۔

یعنی آسان کروں تو ہمیں تو شکر کرنا چاہیے کہ آج کل کہ اس پرفتن دور میں بندگان خدا کو خدا کی بارگاہ میں لانے کی کوئی سبیل میسر آئی نہ کہ ہمیں ایسی بابرکت راتوں کو اپنے فطری بغض و عناد کا نشانہ بنا کر بدعت کہ فتووں کی نذر کردینا چاہیے جب اصول یہ ٹھرا کہ فضائل اعمال میں ضعیف احادیث بھی قابل قبول ہیں تو پھر کیوں عامۃ الناس کو اس رات میں اپنے رب کہ قریب ہونے اور اس سے رجوع بجا لانے سے روکا جاتا ہے اور ظلما اس حد تک گزرا جاتا ہے کہ اس رات کی اصل ماننے سے ہی ایک طبقہ فکر انکاری ہوجاتا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

اب ہم زیل میں اس مقدس رات کی فضیلت پر چند احادیث اور آخر میں دیو بند مکتبہ فکر کی عظیم علمی شخصیت جناب مفتی تقی عثمانی صاحب کا فیصلہ کن مقالہ بطور تتمہ نقل کریں گے ۔ ۔ ۔


اس مبارک و مقدس رات کے بارے میں قرآن پاک میں ارشادِ خداوندی ہے :

حٰمٓO وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنO إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِیْنَOفِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیْمٍO أَمْراً مِّنْ عِنْدِنَا إِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَO رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ إِنَّہُ ہُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُO (سورۃ الدخان: آیت نمبر 1-6)

ترجمہ: ”حم (حق کو واضح کر نے والی ) کتاب (قرآن ) کی قسم ! ہم نے اس کو با برکت رات میں نازل فر ما یا ہے، ہم بر وقت خبردار کر دیا کر تے ہیں ، اسی رات میں تمام حکمت والے کاموں کا فیصلہ کیا جا تا ہے، ہر حکم ہماری جا نب سے صادر ہوتا ہے ، بلا شبہ ہم ہی (تمہاری طرف کتاب و رسول ) بھیجتے ہیں ، تمہارے رب کی طرف سے سراسر رحمت ہے ، بے شک وہی سب کچھ سننے وا لا اور بہت جا ننے وا لا ہے “۔
اس کی تفسیر میں امام طبری رقمطراز ہیں کہ :

واختلف أهل التأويل في تلك الليلة، أيّ ليلة من ليالي السنة هي؟ فقال بعضهم: هي ليلة القدر ۔ ۔ ۔ ۔ وقال آخرون: بل هي ليلة النصف من شعبان. ۔ ۔ ۔ ۔والصواب من القول في ذلك قول من قال: عنى بها ليلة القدر،

یعنی اہل تاویل اس آیت کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے کہ آیا یہ کونسی رات ہے بعض نے کہا کہ یہ شب قدر ہے ۔ ۔ ۔۔ پھر اسکے بعد امام صاحب اس رات کہ شب قدر ہونے پر آثار صحابہ نقل کرتے ہیں اور پھر آگے چل کرفرماتے ہیں کہ ۔۔اور آخر میں یہ کیا گیا کہ یہ شعبان کی پندرویں شب ہے ۔ ۔۔۔ جبکہ حق قول یہی ہے کہ جنھون نے کہا یہ رات شب قدر کی رات ہے


اسی طرح ان آیات پر تبصرہ کرتے ہوئے علم الکلام کہ بادشاہ امام رازی نے فرمایا کہ :

المسألة الخامسة: اختلفوا في هذه الليلة المباركة، فقال الأكثرون: إنها ليلة القدر، وقال عكرمة وطائفة آخرون: إنها ليلة البراءة، وهي ليلة النصف من شعبان۔۔۔۔

اس رات کہ تعین میں اختلاف ہے اکثر نے کہا کہ لیلۃ القدر ہے جبکہ عکرمہ اور ایک طبقہ نے کہا کہ یہ شعبان کی 15 ویں رات ہے جبکہ امام رازی نے بھی اس آیت میں مذکورہ رات کہ شب قدر ہونے پر ہی دلائل دیئے ہیں نہایت ہی مضبوط دلائل دیئے ہیں ۔۔۔

اس آیت سے شعبان کی 15 ویں شب مرا دلینے کا قول تابعین میں سے عکرمہ کا قول ہے جو کہ شاگرد ہیں رئیس المفسرین و امام المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات سے مراد شب قدر ہی ہے اور یہی مضبوط اور محکم رائے کیونکہ قرآن سے یہی ثابت ہے ۔ ۔۔
شب برأت کی وجہ تسمیہ اورمشہور نام
شعبان کی پندرھویں شب کو ”شب برأت “ اس لیے کہتے ہیں کہ ”برأت “ کا معنی ہے : ” نجات پا نا“ اور’’ آزادوبری ہو جا نا‘‘، چو نکہ اس عظیم رات میں اللہ تعالیٰ بے شمار گناہ گاروں کو جہنم سے نجات اورآزادی عطا فر ما دیتا ہے ، اس لیے اس رات کو ” شب برات“ کہتے ہیں۔

احادیثِ مبا رکہ میں شعبان المعظم کی پندرھویں شب یعنی شب برات کے چا ر مشہور نام وارد ہوئے ہیں ، جو حسب ِ ذیل ہیں:

”لَیْلَۃُ الْبَرَأت“ ۔۔۔ نجات والی رات
”لَیْلَۃُ الرَّحْمَتْ “ ۔۔۔ رحمتوں والی رات
”لَیْلَۃُ الْمُبَارَکْ“ ۔۔۔ برکتوں والی رات
”لَیْلَۃُ الصَّکْ“ ۔۔۔ نجا ت کا چیک ملنے والی رات


نوٹ : مندرجہ بالا ان چار ناموں کو محدث کبیر امام رازی علیہ رحمہ نے بھی اپنی تفسیر کبیر میں سورہ دخان کی آیات کہ ضمن میں نقل کیا ہے ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ: ”شعبان کی پندرھویں رات(یعنی شب برات) کویہ لکھ دیا جاتا ہے کہ اس سال سال کون کون آدمی پید اہوگا اوراس سال سال کون کون انتقال کرے گا اور اس رات کوبنی آدم کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں اٹھائے جاتے ہیں اوراس رات کواُن کا رزق (اسباب کے ساتھ)نازل کیاجاتا ہے (یعنی وہ تمام فیصلے جو تقدیر الٰہی میں پہلے ہی سے طے شدہ ہو تے ہیں ،ا س رات میں لو حِ محفوظ سے علیحدہ کر کے متعلقہ فرشتوں کے سپرد کئے جا تے ہیں ، جس کی وہ سال بھر میں تعمیل کر تے ہیں ) پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جوشخص بھی جنت میں داخل ہو گاوہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہو گا“۔ (بیہقی فی دعوات الکبیر،مشکوٰۃ المصابیح،)

ماہ شعبان اور شب برات کی عظمت و فضیلت
حضرت عر وہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فر ما تی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ماہِ شعبان میں) اکثر روزے رکھتے تھے۔میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے میں آپ کو ماہِ شعبان میں اکثر روزہ رکھتے ہوئے دیکھتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ : ”اے عائشہ( رضی اللہ عنہا )یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں فرشتے کو ایک تحریر دی جا تی ہے، اس میں ان لوگوں کے نام درج ہو تے ہیں جن کی آئندہ سال روح قبض کی جا تی ہے ، پس میں چاہتا ہوں کہ جب میرا نام لکھا جائے تو میں روزہ کی حا لت میں ہوں “۔(غنیۃ الطالبین)

ایک اور حدیث مبارکہ میں شب برات کے متعلق فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ باقی مہینوں کی نسبت شعبان میں زیادہ روزے کیوں رکھتے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ:” شعبان کا مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے اور لو گ اس (کی عظمت و اہمیت)سے غافل ہیں،اس میں بندوں کے اعمال پر ور دگارِ عالم کی بارگا ہ میں اٹھائے جا تے ہیں،لہٰذامیں چاہتاہوں کہ جب میرے اعمال اٹھائے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں‘‘۔ (سنن ابی داؤد،سنن ابن ماجہ،سنن بیہقی ،ماثبت من السنہ)

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا کہ:

”شعبان میر ا مہینہ ہے ، رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کامہینہ ہے۔شعبان گناہوں کا مٹانے والااوررمضان المبارک گناہوں سے پا ک کر نے وا لا ہے “۔(غنیۃ الطالبین،ماثبت من السنہ)

شب برأت کی برکتیں
شعبان المعظم کی پندرھویں شب کوشب برأت کہاجاتا ہے یعنی جہنم سے نجات اور آزادی کی رات،مغفرت ورحمت کی رات، مرحومین کیلیے ایصالِ ثواب کی رات جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت ِ مسلمہ کیلیے ایک خصوصی تحفہ ہے۔اس عظیم البرکت را ت کی عظمت و فضیلت کو بیان کر تے ہوئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فر ما تے ہیں :

”عن علی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذاکان لیلۃ النصف من شعبان فقوموالیلھا وصوموایومھا فان اللہ تعالٰی ینزل فیھالغروب الشمس الی سماء الدنیافیقول اَلامن مستغفرٍفأغفرُلہ، اَلا مسترزقٌ فأرزقہ، أَلا من مبتلی فاعافیہ، الاکذا الاکذا حتی یطلع الفجر“۔
(سنن ابن ماجہ: جلد2صفحہ160،مشکوٰۃ المصابیح،ص115،سنن بیہقی)


ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ: ” جب نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو جا گو اور نمازیں پڑھو جبکہ دن کو روزہ رکھو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس رات کو غروب آفتاب کے وقت سے ہی آسمانِ دنیا پر توجہ فر ماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت چا ہنے وا لا کہ میں اس کی مغفرت کر دوں ہے کو ئی رزق ما نگنے والا کہ میں اس کو رزق عطا کروں ہے کوئی گرفتارِ مصیبت کہ میں اس کو مصیبت سے نجات دے دوں ۔ اسی طرح یہ صدائے عام برابرجا ری رہتی ہے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے“۔

حضر ت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ : ”حضر ت جبرائیل علیہ السلام شعبان کی پندرھویں شب کو میرے پاس آئے اور کہا :

” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آسمان کی طرف اپنا سر اقدس اٹھا ئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا یہ کو ن سی رات ہے ؟۔ حضرت جبرائیل نے جو اب دیا، یہ وہ رات ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ رحمت کے دروازوں میں سے تین سو دروازے کھو ل دیتا ہے اور ہراس شخص کو بخش دیتا ہے جو مشرک نہ ہو، البتہ جا دو گروں ، کا ہنوں ، عادی شرابیوں ،با بار سود کھا نے والوں اورزنا کا ر کی بخشش نہیں ہو تی جب تک کہ وہ سچی تو بہ نہ کریں جب رات کا چو تھا ئی حصہ ہوا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دوبارہ عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سراٹھا ئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر انور اٹھا کر دیکھا تو جنت کے دروازے کھلے ہو ئے تھے اور پہلے دروزے پر ایک فرشتہ ندا دے رہا تھا کہ اس رات کو رکوع کر نے و الوں کے لیے خوشخبری ہے دوسرے دروازے پر کھڑ افرشتہ کہہ رہا تھا کہ آج سجدہ کر نے وا لوں کے لیے خوشخبری ہے تیسرے دروازے پر فرشتہ پکا ر رہا تھا کہ اس رات دعا مانگنے وا لوں کے لیے خو شخبری ہے چو تھے دروازے والے فرشتے کی ندا تھی ،اس رات ذکر خداوندی کر نے والوں کے لیے خو شخبری ہے پا نچویں دروازے پر فرشتے کی پکا ر تھی، اس رات اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے والوں کے لیے خوشخبری ہے چھٹے دروازے پرفر شتے کا کہنا تھا اس رات تمام (عبا دت گزار ) مسلمانوں کے لیے خوشخبری ہے سا تویں دروازے پر مو جود فرشتہ کی آواز تھی،ہے کو ئی سائل جس کو سوال کے مطابق عطا کیا جائے جبکہ آٹھویں دروازے وا لا فرشتہ کہہ رہا تھا، ہے کو ئی بخشش کا طلب گار جس کو بخش دیا جا ئے حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں کہ میں نے پو چھا کہ یہ دروازے کب تک کھلے رہیں گے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ دروازے رات کے شروع ہو نے سے طلو ع فجر تک کھلے رہیں گے اور اس رات اللہ تعالیٰ(عرب کے مشہور) ”قبیلہ بنو کلب“ کی بکریوں کے با لوں کے برا بر لو گوں کو جہنم سے آزاد فر ماد یتاہے “۔ (غنیۃ الطالبین)

اب آخر میں دیوبند مکتبہ فکر کی عظیم علمی شخصیت مفتی اعظم پاکستان جناب مفتی تقی عثمانی کا اس باب میں فیصلہ کن مقالہ پیش خدمت ہے بعنوان شب برات کی فضیلت کی حقیقت :


مفتی تقی عثمانی۔ [ماخوذ از : ماہنامہ البلاغ اگست 2010ئ]
Mufti Taqi Usmani is a great famous scholar of the Muslim world. He is well known all over the world. He has been giving Shariah Rulings and teaching in Islamic subjects since the last 5 decades. The following article has been taken from his detailed speech about Shab-e-Barat. in this speech he explained the Reality of Shab-e-Barat. Darse Quran Online is publishing this article with the thanks of monthly Albalagh. Do not forget to give your Comments.
شب برات کی فضیلت کی حقیقت :شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اسکی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔
شب برات میں عبادت :
امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔


عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں :
البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب ِ برات میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے ، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔


شبِ برات میں قبرستان جانا:
اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، لیکن میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے، جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے، فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم ﷺ سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجے میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریمﷺ سے ایک مرتبہ جانا مروی ہے، کہ آپ شبِ برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے ، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاو تو ٹھیک ہے ، لیکن ہر شب برات میں جانے کا اہتمام کرنا،التزام کرنا، اور اسکو ضروری سمجھنا اور اسکو شب برات کے ارکان میں داخل کرنا اور اسکو شب برات کا لازمی حصہ سمجھنا اور اسکے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برات نہیں ہوئی ، یہ اسکو اسکے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔


15 شعبان کا روزہ:۔
ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، اسکو بھی سمجھ لینا چاہئے، وہ یہ کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزہ کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھولیکن یہ روایت ضعیف ہے لہٰذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماءکے نزدیک درست نہیں البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28اور29 شعبان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔

والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (17-07-11), کنعان (17-07-11), ننھا بچہ (17-07-11), محمد یاسرعلی (17-07-11), مرزا عامر (17-07-11), اویسی (22-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 11:09 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دیوالی، ہندوؤں‌کا ایک تہوار ہے جو کہ چاند کی 15 تاریخ‌کو منایا جاتا ہے ۔۔۔ یہ دیکھئے

‪Firework on Diwali Night In Jaipur‬‏ - YouTube

ہندو تو خوب پٹاخے چلاتے ہیں‌ ‌ تو پھر ہم کیا کریں‌۔ چلو 15 شعبان کو پٹاخے چلاتے ہیں

اقتباس برادرم سہیل عادل

اقتباس:
بات تو تھی بھیڑ چال کی،اسی چال میں چلتے چلتے ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو کُچھ کو دیئے جلاتے ہوئے پایا اور خود بھی یہ کام شروع کر دیا ، کُچھ نے اِس دیے بازی اور آتش پرستی کو ہندو چال اور مجوسی چال سے مُسلم چال میں ڈھالنے کےلئیے شبِ برأت بنا لیا ، کچھ حساب کتاب کی بات بنائی گئی ، کُچھ نماز اور ذِکر اذکار شامل کر لیئے گئے ، جب کہ اِن سب چیزوں کے لیئے ہمارے پاس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ثابت شدہ سچی قابلِ اعتماد خبر نہیں، مگر کیا کریں ذوق اور عادت میں شامل ہو چکا ہے کہ ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ناکافی سمجھا جائے ، اور اُن کی تعلیمات خلاف ورزی کی جائے لیکن جِن کی پیروی کی جاتی ہے اُنکی بات کو ہر صورت مانا جائے اور اُسے درست ثابت کرنے کے لیے قران و سُنّت کی کوئی بھی تاویل کی جائے ،
خود کو بدلتے نہیں قراں کو بدل دیتے ہیں ::: مرشد کے نہیں رسول کے فرماں کو بدل دیتے ہیں
باقی سب خیر ہے

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (17-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11), سام (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 11:16 AM   #12
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاءک اللہ خیر آبی بھائی
ابھی پورا پڑھتا ہوں

Last edited by ننھا بچہ; 17-07-11 at 11:18 AM.
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-07-11, 04:40 PM   #13
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,222
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج حلوے کھانے اور کھلانے کا دن ہے۔۔۔
حضرت محمد مصطفى صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں'' جس نے اپنے مسلمان بھائی کو میٹھا لقمہ کھلایا اس کو سبحانہ و تعالیٰ حشر کی تکلیف سے محفوظ رکھے گا،۔ (شرح الصدور، للعلامہ امام سیوطی مجدد قرن نہم)
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (22-07-11)
پرانا 17-07-11, 08:21 PM   #14
Senior Member
 
Ferozi's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آئی بی بھائی شکریہ

12.jpg

13.jpg

aatish.jpg


Last edited by Ferozi; 17-07-11 at 08:31 PM.
Ferozi آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Ferozi کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-07-11), مرزا عامر (18-07-11), آبی ٹوکول (17-07-11), اویسی (22-07-11), حیدر (19-07-11)
پرانا 17-07-11, 11:33 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی ہم لوگ تو بہت زوق اور شوق سے پٹاخے چلاتے ہیں پھر جاکر مسجد میں نوافل ادا کرتے ہیں
اور آتش بازی کوئی گناہ نہیں ہے۔ عجیب لوگ ہیں اس کو بھی گناہ قرار دے دیا ہے ۔ لگتا ہے اسلام میں خوشی کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہم تو کھل کر ہنس بھی نہیں سکتے
والسلام۔۔۔
پیارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا
حیدر (19-07-11), شھزادباجوہ (18-07-11)
جواب

Tags
color, ہوتے, گذارش, پتہ, یا, وضاحت, لگ, مقصد, متعلق, معلومات, اللہ, بجٹ, بحث, توجہ, تعالی, جاتی, جاتا, حصول, دل, رات, سال, شب, شعبان, علم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ملکی قرضہ کی شرعی حثیت محمد یاسرعلی متفرقات 65 05-08-11 10:26 AM
رسم یا روایت کیسے جنم لیتی ہے؟؟ راجہ اکرام دلچسپ اور عجیب 18 15-05-11 08:30 PM
مناسک حج و عمرہ کی سمعی وبصری تربیت کے مفت انتظامات گلاب خان عمرہ و حج 2 27-03-11 07:03 AM
موجودہ عدالتی نظام کی شرعی حیثیت عبداللہ آدم عمومی بحث 19 21-02-11 11:30 AM
مولود مروج کی شرعی حیثیت sahj عمومی بحث 9 23-12-10 09:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger