واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > کیرئر کی راہنمائی > مختلف ممالک کے متعلق معلومات اور حصول ویزا میں معاونت




لیبر ویزہ اور ورک پرمٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  2 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 19-10-11, 07:15 PM   #1
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لیبر ویزہ اور ورک پرمٹ

لیبر ویزہ اور ورک پرمٹ

السلام علیکم!

ورک پرمٹ پر مجھے بہت سے دوستوں کو جواب دینے باقی ہیں اس لئے میں ایک ہی مرتبہ یہاں اس ان پر خاص حصوں پر معلومات فراہم کرنے کی کوشش کروں گا، اگر مزید کسی نے کچھ جاننا ہو تو وہ سوال جواب کے ذریعے باقی باتوں پر معلومات حاصل کر سکتا ھے۔

لیبر ویزہ اور ورک پرمٹ پر میں متحدہ عرب الامارات اور بریطانیہ کے حوالہ سے معلومات فراہم کروں گا، جس سے عریبین گلف اور یورپ کا سسٹم بھی اسی جیسا ہو گا، ہو سکتا ھے کچھ تھوڑی سی تبدیلی مختلف ہو مگر سارا سسٹم نہیں۔ اگر چاہیں تو اس پر بھی مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

الامارات کے حوالہ سے "وزارۃ العمل" اور "الجوازات الجنسیہ والھجرہ" یہ دونوں الگ الگ محکمے ہیں۔


وزارۃ العمل

کمپنی عربی کی ہو یا غیر عرب کی ہر کمپنی اس ادارہ میں رجسٹرڈ ہوتی ھے، کسی بھی کمپنی کا رقبہ، مالیت، انویسٹمنٹ، مشینری، کاروباری کی نوعیت وغیرہ وغیرہ سب کا ریکارڈ یہ ادارہ اپنے پاس رکھتا ھے۔

بڑی کمپنیاں وزارۃ العمل اور الجوازات اور اس کے علاوہ دوسرے سرکاری و غیر سرکاری معاملات پر ڈیلنگ کے لئے "غیر نیشنل عرب مندوب" ( PRO) رکھتے ہیں اور چھوٹی کمپنیوں والے کنٹریکٹ پر مندوب سے اپنے کام کرواتے ہیں اور اس سے نیچے آئیں تو چھوٹے دکاندار خود ہی مندوب کا کام ایک دوسرں کو پوچھ کر کرتے ہیں۔

ویزہ لیبر کا ہو، کمپنی کے مالک کا، کوئی بھی ویزہ حاصل کرنے کے لئے یہ ادارہ اس کام کو نپٹاتا ھے۔

بڑی بڑی کمپنیاں جو عرب نیشنل و غیر عرب کی ہیں جن میں ایک کمپنی کی لیبر کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ھے ان کے لئے ویزہ کا حصول بہت آسان ہوتا ھے، یعنی انہیں جتنی بھی لیبر چاہئے ہوتی ھے "وزارۃ العمل" کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا وہ اجازت دے دیتی ہیں اور ان کمپنیوں کے وزارۃ العمل اور جوازات میں "صندوق برید" ہوتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے مندوبوں کو لائنوں میں نہیں لگنا پڑتا بلکہ یہ اپنے پرسنل صندوق برید میں ہی اپنے روزانہ کے معاملے ڈال آتے ہیں اور جو منظور ہوئے ہوں وہ اسی صندوق برید سے حاصل کرتے ہیں۔
یہ کمپنیاں دوسرے ممالک سے لیبر لاتے ہیں اور پھرکنٹریکٹ ختم ہونے پر انہیں واپس بھیج دیتے ہیں، یہ کمپنیاں لیبر کو کہیں دوسری جگہ اچھی ملازمت ملنے پر "ریلیز" (نقل کفالہ) نہیں دیتیں۔

اس سے نیچے طبقہ کی کمپنیاں پیسے لے کر نقل کفالہ دے دیتی ہیں۔

اس سے نیچے آئیں تو دکاندار کسی بھی قسم کی تجارت ہو ان کا اپنا ایک ویزہ ہوتا ھے اور ان کو ایک ویزہ آسانی سے مل جاتا ھے اس کے علاوہ مزید دو ویزے یہ پیسے دے کر لامانع کروا لیتے ہیں۔

پاکستان میں اگر کسی کو دبئی کا ایمپائی (لیبر) ویزہ چاہئے ہوتا ھے تو اس پر کوئی بھی کمپنی والا یا دوکاندار جس سے کسی کا رابطہ ہوتا ھے، وہ تمام کاغذی کاروائی مکمل کر کے اسے "وزارۃ العمل" میں جمع کرواتا ھے۔ یہ ادارۃ اپنے ریکارڈ میں چیک کرتا ھے کہ یہ اس دکان کا کاروباری سٹیٹس کیا ھے، اس میں کونسے شعبہ سے تعلق رکھنے والے پہلے کتنے ہیں اور مزید اس کو جو ضرورت پڑی ھے کیا وہ جائز ھے وغیرہ وغیرہ تو ان سب باتوں پر چھان بین کر کے وزارۃ العمل اگر راضی ھے تو اس دکاندار و کمپنی کو ایک لیٹر جاری کرتا ھے جو جمع کروائے گئے فارم کا ایک حصہ ہوتا ھے جس میں وہ اجازت دیتا ھے۔

الجوازات الجنسیہ والھجرہ

جب وزارۃ العمل اجازت نامہ جاری کر دیتا ھے تو پھر اس کے بعد جوازات کا کام ھے،

اسی طرح جوازات کی تمام کاغذی کاروائی مکمل کر کے ان فارمز کے ساتھ وزارۃ العمل کا وہ اجازت نامہ جو منظور کیا گیا ھے اسے بھی ساتھ نتھی کر کے لگانا ہوتا ھے بمعہ فیس کے، اس کے کچھ دن بعد جوازات، لیبر ویزہ جاری کرتا ھے۔

یہ ھے کسی بھی قسم کا ویزہ حاصل کرنے کا طریقہ کار، مزید اگر کسی نے اس پر کچھ جاننا ہو تو پوچھ سکتا ھے۔

اگلا مراسلہ بریطانیہ کے "ورک پرمٹ" پر ہو گا جس پر وقت درکار ھے کیونکہ اس پر کچھ خاکے بھی بنانیں پڑیں گے اس لئے کچھ دن لگیں گے اسے۔ فون پر سمجھانا مشکل ھے اور کوئی یقین بھی نہیں کرتا، مگر جب یہاں پر معلومات فراہم کروں گا تو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (23-10-11), shafresha (19-10-11), ننھا بچہ (20-10-11), محمد یاسرعلی (19-10-11), محمدمبشرعلی (19-10-11), محمدعدنان (19-10-11), wajee (19-10-11), آصف رضا (07-12-11), حیدر (23-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), رضی (19-10-11), عبدالقدوس (19-10-11)
پرانا 19-10-11, 07:24 PM   #2
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,669
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
کیا امارات میں ایسا کوئی قانون ہے کے جو بندہ لیبر ویزے پہ گیا ہے اس کو کام پسند نہیں جا کوئی مسئلہ ہے اس لیے وہ واپس آنا چاہتا ہے

دوسرا واپس آکے دوبارہ کسی دوسرے ویزے پہ جانا اس کے لیے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
آصف رضا (07-12-11), حیدر (23-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 19-10-11, 07:45 PM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
معلومات فراہم کرنے کا شکریہ

کیا امارات میں ایسا کوئی قانون ہے کے جو بندہ لیبر ویزے پہ گیا ہے اس کو کام پسند نہیں جا کوئی مسئلہ ہے اس لیے وہ واپس آنا چاہتا ہے

دوسرا واپس آکے دوبارہ کسی دوسرے ویزے پہ جانا اس کے لیے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا
السلام علیکم!

ہر غیر قانونی طریقہ کار سے میں واقف ہوں مگر جدید دور میں اس مسئلہ پر غیر قانونی لائحہ عمل تیار کرنے سے پہلے ایک بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ پچھلے چند سالوں سے الامارات سے "آنکھ کو سکین" کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ھے اس لئے اس پر قانونی رائے ہی پیش کروں گا۔

آپکے دوست کو کام پسند نہیں تو آپکا دوست جب چاہے واپس آ سکتا ھے اس کا ایک قانونی طریقہ کار ھے۔ وہ آپکی نظر کرتا ہوں۔

اگر تو آپکا دوست کمپنی کو کہے گا کہ وہ واپس جانا چاہتا ھے تو اس میں بہت سی کمپنیاں اس پر کان نہیں دھرتیں، اس لئے وہ پہلے اپنی کمپنی کو کہے کہ وہ واپس جانا چاہتا ھے، جس پر وہ کمپنی اس کا ویزہ کینسل کروا کے اسے واپس بھیج دے گی، اگر کمپنی ایسا نہیں کرت تو اس لئے کسی بھی ٹائپسٹ کے پاس چلا جائے اور ان کو بتائے کہ میں اس کمپنی کے کام سے مطمعن نہیں، اجرت کم دیتے ہیں، اجرت اتنے مہینوں سے نہیں دی، بہت سخت کام لیتے ہیں، لیبر کنٹریکٹ کے مطابق تنخواہ نہیں دیتے وغیرہ وغیرہ یہ وہی جانتا ھے کہ وہ کیوں نہیں وہاں مطمعین یا جو بھی کوئی ریزن ھے انہیں بتائے اور کہے کہ مجھے وزارۃ العمل میں اس پر درخواست دینی ھے جو وہ مجھے بنا دے۔ درخواست بنانے کے بعد انہی سے وزارۃ العمل کا ایڈریس بھی لے لے یا کسی بھی ٹیکسی والے کو کہے کہ وہ اسے وہاں پر پہنچا دے۔ یہ درخواست وزارۃ العمل میں جا کر جمع کروا دے۔ اس ادارہ کا لیبر کے حق میں ایک بہت بڑا اہم اور اچھا کردار ھے کہ لیبر کی زیادتی پر یہ کسی بھی عربی کے دوست نہیں بنتے اور لیبر کی ہی سنی جاتی ھے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے بعد کا پراسیس بھی میں‌ آپکو بتا دوں گا۔

وزارۃ العمل جب کسی بھی قسم و ٹریڈ کا جب "بتاخہ" (لیبر آئی۔ڈی) کینسل کرتی ھے تو ویزہ کینسل کے لئے جوازات کو ھدایت کرتی ھے کہ دوباہ 6 مہینے سے ایک سال تک یہ نیا ویزہ نہیں لے سکتا بھلہ ویزہ رضا مندی سے کینسل ہو یا بغیر رضا مندی کے۔ یہ مدت پوری ہونے کے بعد آپکا دوست دوبارہ الامارات میں کسی بھی جگہ جا سکتا ھے۔

اس پر ایسا ہوتا ھے کہ اگر بندہ کسی شعبہ میں سپیشلائز ھے اور دوسری فرم کو وہ مطلوب ھے تو وہ کمپنی ایک سال تک اس کو وزٹ ویزہ پر بلواتی رہتی ھے اور جونہی ایک سال کی ریسٹرکشن ختم ہوتی ھے تو وہ نیا لیبر ویزہ نکلوا لیتی ھے۔ یہ ریسٹریشن وزٹ ویزہ پر اثر انداز نہیں ہوتی۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (23-10-11), محمد یاسرعلی (19-10-11), محمدعدنان (19-10-11), wajee (19-10-11), آصف رضا (07-12-11), حیدر (23-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 19-10-11, 07:57 PM   #4
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,669
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت بہت شکریہ کنعان بھائی میں نے بھی آپ سے کوئی غیر قانونی طریقہ نہیں پوچھا تھا اصل میں فی الوقت ایسا تو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہاں دو سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گاوں سے تین لڑکے سعودی عرب گئے تھے یہاں سے ان کو بتایا گیا تھا کے ان کو خادموں میں لے کے جا رہے ہیں ان کی ڈیوٹی مسجد الحرام یا مسجد النبی میں ہو گئ پر جب وہاں وہ گئے تو ان کی ڈیوٹی سعودیاں کے مختلف شہروں میں لگائی جاتی جب انہوں نے واپس آنا چاہا تو پتا چلا کے ایک سال سے پہلے تو کسی صورت ممکن ہی نہیں ہے اور وہ ایک سال کے بعد واپس آئے
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-10-11), آصف رضا (07-12-11), حیدر (23-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 12:12 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امارات میں کیس کے حوالے سے میں پچھلے سال اکتوبر سے لکھنے کا سوچ رہا ہوں لیکن پھر سوچا جب میرا کیس دبئی کورٹ سے ختم ہوجائے اس پر ایک تفصیلی نوٹ لکھوں۔
میرا ویزہ اپریل میں ایکسپائر ہوگیا۔ لیکن لیبر لاء پڑھنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ہر چھ مہینے کے بعد مجھے عارضی ورک پرمٹ اور دبئی کورٹ سے این او سی مل جاتی ہے۔ اور جب تک میرا کیس دبئی کورٹ میں ہے مجھے ویزے کی ضرورت بھی نہیں میرا سٹیٹس لیگل رہیگا۔20 اکتوبر کو میرے کیس کو پورا ایک سال ہوجائے گا۔ پھر بھی میں کیس ختم ہونے کے بعد ہی اس معاملے پر تفصیلی روشنی ڈال سکتا ہوں کہ آیا کیس کرنے کا فائدہ لیبر کو ہوتا ہے یا کمپنی کو۔ لیبر یا کورٹ ایمپلائی کے حق میں رہتی ہے یا ایمپلائر کے وغیرہ وغیرہ
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-10-11), آصف رضا (07-12-11), حیدر (23-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 12:31 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یو اے ای میں اپ اگر ایک جگہ نوکری چھوڑ کر دوسری جگہ نوکری فوری طور پر کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے اپکو دوسری کمپنی کی طرف سے نیا ویزا جاری ہو گا اور اپ کو اپنے ملک سے واپسی جانا ہو گا۔ این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-10-11), آصف رضا (07-12-11), حیدر (23-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 12:47 AM   #7
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ورک پرمٹ


ورک پرمٹ

ورک پرمٹ کس طرح حاصل ہوتا ھے اور اس کا حصول کیونکر مشکل کام ھے اس پر ہر قسم کی معلومات یہاں فراہم کی جائے گی لیکن اس سے پہلے یہاں پر کچھ اداروں کی کیا کارکردگی ھے اس پر بھی مختصر روشنی ڈالنی ضروری ھے تاکہ اس سارے معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ براہ مہربانی اس پر کچھ وقت درکار ھے اس لئے یہ معلومات کچھ مراسلات میں مکمل ہو گی اس لئے تب تک بیچ میں کوئی مراسلہ نہ لگائیں اگر سوال بہت ضروری ہو تو الگ سے دھاگہ بنا لیں۔ شکریہ۔


(NI Number (National Insurance Number
17 سے 18 سال کی عمر میں پہنچتے ہی ہر شہری کو یہ نمبر بذریعہ ڈال ان کے ایڈریس پر ملتا ھے جو ایک کارڈ پر لکھا ہوتا ھے۔ اور اگر کوئی کسی لیگل پرمٹ کے تحت یہاں پر آئے تو اسے پہلے 6 مہینے کام کرنے پر "کچا" این۔ آئی نمبر دیا جاتا ھے اور جب اس کا متواتر ٹیکس حکومت کو جاتا ھے تو 6 مہینے بعد بدل کر "پکا" این۔ آئی نمبر دے دیا جاتا ھے۔ ہر قسم کے سرکاری و غیر سرکاری معاملات اسی این۔ آئی نمبر سے ہی تہہ پاتے ہیں۔


INLAND REVENUE
یہ ڈپارٹمنٹ ہر قسم کے بینیفٹس مہیا کرنا، جاب و کاروبار پر ٹیکسیز اور اس جیسے مزید بہت سے معملات پر ڈیل کرتی ھے۔


COUNCIL
اس کا کام ھے اگر کسی کے پاس رہنے کو سر پر چھت نہیں تو یہ 24 گھنٹہ میں اس کا انتظام کرتی ھے پہلے پرائیوٹ اور پھر کونسل اپنے بنائے ہوئے گھر فراہم کرتی ھے۔ اگر جاب نہیں تو یہ خود ہی اس کا کرایہ اور کونسل ٹیکس ادا کرتی ھے اور جب جاب مل جائے تو پھر بندے کی تنخواہ اور بجٹ سے تہہ کرتی ھے کہ اسے کرایہ معاف کرنا ھے یا کم کرنا ھے یا پورا لینا ھے اور ساتھ میں کونسل ٹیکس بھی۔ کونسل کے گھر کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ھے کہ ان کے گھروں کا کرایہ بہت ہی کم ہوتا ھے نسبت پرائیوٹ ہوم لینڈرز کے۔


JOB CENTRE
1۔ جب کسی بندے کی جاب ختم ہو جائے تو اس پر جاب سینٹر پلس کو فون کر کے بتانا پڑتا ھے اس پر وہ تمام کروائی فون پر ہی ڈیل کرتی ھے اور پھر بیکاری الاؤنس شروع ہو جاتا ھے، مگر اس پر اپنے قریبی جاب سینٹر پر جا کر ہر 14 دن بعد جا کر حاضر ہونا پڑتا ھے اور وہاں دستخط کرنے پڑتے ہیں اور زبانی کلامی بتانا پڑتا ھے کہ جابز ڈھونڈ رہا ہوں۔ زبانی کلامی والا عمل 6 مہینے تک ہوتا ھے پھر اس کے بعد وہ ایک چھوٹا سا کتابچہ دیتے ہیں جس پر 14 دن میں 4 جابز ڈھونڈنے کی انٹری ہونی چاہئے بمعہ ایڈریس و فون نمبرز کے، یہ پراسیس بھی 6 مہینے تک چلتا ھے تو ٹوٹل ملا کے ایک سال بعد جاب سینٹر والوں کی طرف سے تھوڑا سا پریشر بڑھ جاتا ھے اور جاب سینٹر والے خود جابز ڈھونڈتے ہیں اور جب حاضری کے لئے جائیں تو وہ کمپنیوں کے ایڈریس دیتے ہیں کہ یہاں پر اپلائی کرو۔ جابز نہ ملے اس پر کوئی پرابلمز نہیں مگر وہاں پر اپنی سی۔ وی ارسال ضرور کرنی ھے یا فون پر بات ضرور کرنی ھے۔

2- اسی ادارہ کا ایک اور کام بھی ھے کہ جس بھی کمپنی کے پاس ورکز شارٹ ہوتے ہیں وہ بھی اسی ادارہ میں رپورٹس کرتے ہیں کہ فلاں فلاں ٹریڈز میں جابز خالی ہیں اور اس کے لئے ان کو ورکرز کی ضرورت ھے۔

جاب سینٹر کے اندر کمپیوٹر پوائنٹس ہیں جہاں پر جابز سرچ کی جاتی ہیں اور فون سروس بھی فری ہوتی ھے جہاں سے فون کر سکتے ہیں۔

ایک بندہ کی جاب نہ ہونے پر جاب سینٹر بندہ اور اس کی بیوی کا خرچہ کا بندوبست کرتا ھے۔
ہاؤسنگ کونسل اس کا کرایہ معاف کرتی ھے۔
گھر کا کونسل ٹیکس معاف کرتی ھے۔
ریوینیو 3 قسم کے بچوں کے بینیفٹس ادا کرتی ھے۔

ورک پرمٹ ویزہ کو سمجھنے کے لئے یہ معلومات فراہم کرنی بہت ضروری تھیں تاکہ ورک پرمٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

اگلے مراسلہ تک شکریہ کے ساتھ انتظار فرمائیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-10-11), ننھا بچہ (20-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 01:09 AM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
یو اے ای میں اپ اگر ایک جگہ نوکری چھوڑ کر دوسری جگہ نوکری فوری طور پر کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے اپکو دوسری کمپنی کی طرف سے نیا ویزا جاری ہو گا اور اپ کو اپنے ملک سے واپسی جانا ہو گا۔ این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
السلام علیکم

الامارات کے لئے آپکو اگر کسی نئی جگہ جابز مل جاتی ھے تو پہلی کمپنی سے آپکو این۔ او۔ سی کی ضرورت نہیں سیدھا "نقل کفالہ" ہی ہو جاتا ھے لیکن اس صورت میں جب پہلی کمپنی نقل کفالہ پر راضی ہو تو۔ پھر اس میں ایسا بھی ہوتا ھے کہ نقل کفالہ کبھی کبھی حکومت کچھ عرصہ کے لئے بند بھی کر دیتی ھے اس لئے معلوم ہونا چاہئے کہ نقل کفالہ ہو رہا ھے تو ہی جابز تلاش کرے۔

نقل کفالہ پر ایک بات ذہن میں رکھیں جو کمپنیاں پاکستان میں ایجنٹوں کے ذریعے لیبر لاتے ہیں ان کو نقل کفالہ نہیں دیتے۔

جو لوگ اپنے کسی عزیز کے ذریعے ویزہ لیتے ہیں اس میں پہلے تہہ ہوتا ھے کہ این۔ او۔ سی اور نقل کفالہ بھی دیں گے جس پر وہ تھوڑی فیس چارج کرتے ہیں۔

جو لوگ وہاں انٹرنٹ کے ذریعے جاب تلاش کر کے پہنچتے ہیں نقل کفالہ انہیں بھی مل جاتا ھے مگر انہیں وہاں "مندوب" سے اپنی لائن سیدھی رکھنی چاہئے، مندوب ان سے پیسے لے کر انہیں نقل کفالہ کروا دیتے ہیں۔

نقل کفالہ کے بغیر جاب نہیں بدلی جا سکتی یہ لیگل پراسیس ھے۔ اس کے بغیر بھی اگر آپکو جاب مل جاتی ھے اور کمپنی آپکو اپنی ضرورت پر جاب دے دیتی ھے تو آپ سلپ ہونگے، اس پر بڑی کمپنیاں اخبار میں ایڈ دیتی ہیں کہ ہمارا ایمپلائر ایبسینٹ ھے اور وہ 2 ہفتوں تک کمپنی میں رپورٹ کرے، نہیں تو ہم اس کے کسی بھی لین دین کے ذمہ دار نہ ہونگے۔ اور وہ پھر لیبر میں اس کی رپورٹ کرتے ہیں اور جوازات میں اس کا پاسپورٹ جمع کروا دیتے ہیں۔

خیال رہے نقل کفالہ کے بغیر لیگل پراسیس ناممکن ھے۔

نقل کفالہ ہونے کے لئے الامارات سے باہر نہیں جانا پڑتا وہیں ہوتا ھے، وہیں سے وہیں دوسری جاب سٹارٹ کر سکتے ہیں۔ نقل کفالہ کا فارم میں ہوتا کیا ھے وہ بھی لکھ دیتا ہوں۔
ایک فارم میں 3 حصے ہوتے ہیں۔ پہلا حصہ میں پرنٹ ہوتا ھے کہ پرانا کفیل اسے چھوڑنے پر راضی ھے بس اس جگہ پرانے کفیل یا جو بھی اتھریز ھے اس نے دستخط اور مہر لگانی ہوتی ھے
دوسرے حصہ میں نئے کفیل نے دستخط اور مہر لگانی ہوتی ھے وہ اسے جاب دینے پر راضی ھے۔
تیسرے حصہ میں لیبر ان دونوں کے راضی نامہ پڑھ کر اسے قبول کرتا ھے اور وہ اپنے دستخط اور مہر لگاتے ہیں پھر نئے بطاخہ اور ویزہ ٹرانسفر کا عمل ہوتا ھے۔

الامارات میں ایک بات پر قانون تھوڑا مختلف ھے اور بہت اچھا ھے وہ یہ کہ ایک مرتبہ کسی بھی کمپنی سے ویزہ 3 سال کا لگ جائے تو 3 سال تک جب دل کرے پاکستان جا سکتے ہیں ارباب کے دخول و خروج کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں پاکستان میں 5 مہینے اور 29 دن تک رہ سکتے ہیں اس سے ایک دن بھی اوپر ہوا تو ویزہ آٹو میٹک کینسل۔


والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (20-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 02:04 AM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نقل کفالہ کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ بلکہ اس میں اپ ایک ارباب سے نوکری چھوڑ کر اپنے ملک جا کر فورا دوسرے ویزے پر دوسرے ارباب کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ اس میں اپکو این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یو اے ای کی گورنمنٹ نے حال ہی میں یہ قانون ختم کر دیا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-10-11), ننھا بچہ (20-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 02:19 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

جب آپ ایک ارباب سے نوکری چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ آپکا بطاخہ اور ویزہ کینسل کر کے ہی آپکو بھیجے گا، اس لئے این۔ او۔ سی کا اس کے ساتھ کیا تعلق۔

جب بطاخہ کینسل ہوتا ھے تو وزارۃ العمل فارم میں 6 مہینے سے ایک سال کی نو انٹری کی مہر لگاتا ھے اور وہی کاپی جب جوازت میں پاسپورٹ کے ساتھ جاتی ھے تو جوازات پاسپورٹ پر ویزہ کینسل کر کے سامنے جتنی رسٹرکشن لیبر نے اپروو کی ہوتی ھے وہ پاسپورٹ پر مہر کرتا ھے۔

اگر پہلی کمپنی ویزہ کینسل کے وقت نو انٹری کی مہر لگواتی ھے تو جو نئی کمپنی ھے وہ وزٹ ویزہ پر بندے کو بلوا سکتی ھے اور جب وہ مدت ختم ہو جائے تو پھر پکا ویزہ نکلوا لیا جاتا ھے۔

آئی۔ ٹی میں جو بڑی کمپنیوں میں بڑی پوسٹ پر ہیں انجیجئرز، ڈاکٹرز اور اس جیسے کچھ ٹریڈز میں ان کو یہ مہر نہیں لگائی جاتی وہ دوبارہ نئے ارباب کے پاس آ سکتے ہیں۔ اگر یہ قانون ہر ٹریڈز کے لئے ہو گیا ھے تو اس پر مجھے اپنے بھائی کو پوچھنا پڑے گا۔ یا دبئی گرافکس وہاں سے کسی ٹایپسٹ سے پوچھ کر بتا سکتا ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (20-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 02:47 AM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

آپکی معلومات نٹ پر چیک کی تو دو رزلٹ سامنے آئے جن کے لنک درج ذیل ہیں مگر اخبار کی خبر اور وہاں کے حالات میں بہت فرق ہوتا ھے جس پر وہاں اس پر کنفرم کرنا ضروری ھے۔ ایک خبر 2009 کی ھے اور ایک 2010 کی۔

کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-10-11), ننھا بچہ (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 03:37 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 762
کمائي: 15,424
شکریہ: 2,138
583 مراسلہ میں 1,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں نے کمپنی پر ویزہ کینسلیشن کے لئے اکتوبر 2010 میں کیس کیا تھا اُس وقت این او سی لازمی تھی۔ تو میں نے آل ریڈی ملائشیا کا ایک سال کا وزٹ لگوایا تھا۔ لہذا کمپنی کو کہا کہ کینسل کر دو ۔ مجھے این او سی کی ضرورت نہیں۔ پھر کمپنی نے کہا کہ ہم کینسل نہیں کریں گے۔ تو میں نے کیس کر دیا۔ لیکن کیس نے ٹائم زیادہ لے لیا اور میرے ایک سال کا وزٹ ختم ہوگیا ۔ تو پھر میں نے دوبارہ ایک سال کا وزٹ لے لیا جو کہ اب اگست 2012 تک کارآمد ہے۔ چونکہ پاسپورٹ میرے پاس رہتا ہے۔ اور میرا ویزا مئی میں ایکسپائر ہونے والا تھا۔ تو میں اپریل 2010 میں سالانہ چھٹیوں پر بھی چلا گیا۔ میری قسمت اچھی تھی۔ یو اے ای نے نیا قانون لانچ کیا وہ یہ کہ جن ایمپلائیز کو کمپنی میں دو سال یا اس سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا ہے ان پر لیبر بین جو کہ چھ مہینے یا ایک سال کا ہوتا ہے نہیں ہوگا اور ان کو این او سی کی بھی ضرورت نہیں۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ دو سال سے پہلے کوئی کینسل ہوگا تو اس کو ایک سال کے بین کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یا ایک سال کے پورے ہونے پر کمپنی اگر این او سی دیتی ہے تو ویزہ ٹرانسفر ہوسکتا ہے۔ دو دن پہلے دبئی کورٹ میں کمپنی کے ایم ڈی کا بھائی ملنے آیا اور کہا کہ کیس ختم کر دو ۔ آپ کا ٹائم ضائع ہورہا ہے تو میں نے اس کو اپنا ورک پرمٹ اور بطاقہ دکھایا۔ اور ملائشیاکے ویزے بھی دکھائے تو اس کا سر چکرا گیا دوسری وجہ یہ ہے کہ کیس کی وجہ سے کمپنی کوئی بھی نیا ایمپلائی نہیں رکھ سکتی کمپنی کا لائسنس بلاک ہوجاتا ہے۔بحرحال میرا ارادہ تھا کہ کیس ختم ہونے کے بعد ہی اس پر کوئی بحث کرونگا۔ لیکن سرسری یہاں بتانا پڑ گئی۔

Last edited by dxbgraphics; 20-10-11 at 03:49 AM.
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-10-11), پاکستانی (26-10-11), ننھا بچہ (20-10-11), منتظمین (20-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), عبدالقدوس (20-10-11)
پرانا 23-10-11, 06:57 PM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لیبر ویزہ اور ورک پرمٹ



Social Security

اسے بیت المال بھی کہتے ہیں۔
جو میاں بیوی (لیگل و اللیگل) کسی بھی وجہ سے آپس میں علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں (سچ/ جھوٹ) اور اس میں ضروری ھے کہ کم از کام "ایک بچہ" ضرور ہو۔

علیحدگی میں یہ ادارہ بیوی کو سوشل سکیورٹی بینیفٹ دیتا ھے جب تک ایک بچہ اگر ہو تو اس کی عمر سترہ سے اٹھارہ سال ہونے تک، اور اگر بچے زیادہ ہیں تو سب سے چھوٹا بچہ کی عمر جب تک سترہ سے اٹھارہ سال نہ ہو جائے اس کے علاوہ بھی اگر بیوی کو مزید کچھ چاہئے ہو تو فراہم کرتے ہیں، اور بچہ جب اٹھارہ سال کی عمر عبور کر لیتا ھے تو پھر عورت جاب سیکر الاؤنس اپلائی کرے گی اور اسے جاب کرنی پڑے گی اس وقت تک الاؤنس ملیں گے۔

آدمی کی کام کرنے کی آخری عمر 65 سال اور عورت کی 60 سال عمر ھے۔

میاں بیوی دونوں میں ایک نوکری کر سکتا/ سکتی ھے اور ایک بچوں کی دیکھ بھال، اس کے علاوہ اگر بیوی کام کام کرنا چاہے تو حکومت کی طرف سے کرنے پر کوئی ممانعت نہیں۔

میاں بیوی کی علیحدگی میں بچے ہمیشہ ماں کے ہیں۔

Home Office
الجوازات

عرب ممالک میں وزٹ ویزہ انہی کے ملک کا جوازات جاری کرتا ھے وہاں درخواست دینے پر مگر بریطانیہ کا وزٹ ویزہ جہاں بھی ان کے سفارت خانے ہیں‌ وہیں سے وزٹ ویزہ جاری کیا جاتا ھے۔ یہاں اس کی ورک پرمٹ کے حوالہ سے بات ہو گی۔


کاروبار و ملازمت
کاروبار یہاں پر کوئی بھی کر سکتا ھے اس حوالہ سے کفالت والا کوئی عمل دخل نہیں بلکل پاکستان جیسا سسٹم ھے۔ کہیں بھی دکان یا آفس خریدیں اسے رجسٹرڈ کروائیں اور کام شروع، اس پر پرائیوٹ اکاؤنٹنٹ ہائر کرنا پڑتا ھے جو ایک سال میں کیا کھویا اور کیا پایا پر ریکارڈ بناتا ھے جسے ریوینیو ڈپاٹمنٹ پھر اس کے مطابق کام کرنے والے آنرز کو بھی دیکھتے ہیں کہ یہ ٹیکس دینے کے قابل بھی ھے یا نہیں اور اسے اپنی فیملی کے لئے بھی مزید بینیفٹس کی ضرورت ھے کہ نہیں۔

جو انگلش برطانوی لوگ ہیں وہ اپنی کمپنیوں میں کسی بھی اللیگل یا بغیر انشورنس و لیگل ڈاکومنٹیشن کے جاب نہیں دیتے۔

پاکستانی یا دوسرے ممالک کے کاروباری حضرات جو یہاں پر پرانے یا نئے نیشنل ہیں ان میں سے جو بڑے بڑے کاروبار کرتے ہیں وہ بھی اللیگل بندوں کو جابز نہیں دیتے، اس کے علاوہ جو "دکاندار کاروباری حضرات" ہیں وہ اپنے اپنے ملک سے آئے ہوئے اللیگل بندوں کو بہت کم معاش میں نوکری دے دیتے ہیں جو کام بھی سخت اور وقت بھی زیادہ لیتے ہیں یوں سمجھ لیں کہ ظلم کرتے ہیں۔ مگر ورکرز کی بھی مجبوری ھے کہ گھر کا کرایہ اور خود کا کھانا پینا اور پیچھے گھر والوں کی بھی بھیجنا اسطرح اس تھوڑی میں بھی وہ اپنے گھر والوں کی کفالت بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔

اللیگل ایمگرینٹ ورکز کے حوالہ سے یہاں پر بھی کچھ سال پہلے ایک قانون متعارف کروایا گیا تھا کہ جو بھی کاروبار کا مالک ھے اگر اس کے دکان سے کوئی اللیگل ایمگرینٹ پکڑا گیا تو اس دکان کے مالک کو جرمانہ اور قید کی سزا بھی ملے گی، اس معاملہ میں لندن جیسے بڑے شہر میں بہت سے لوگوں نے کام دینے میں کمی کی ہوئی ھے، اور جو قانونی داؤ پیچ جانتے ہیں وہ ابھی بھی اللیگل کو کام دیتے ہیں وہ نہیں ڈرتے۔ اس میں کچھ داؤ پیچ ہیں جن کا ذکر یہاں ضروری نہیں۔

یہاں پر کبھی بھی اللیگل ایمگرینٹ کو شاپس میں نہیں پکڑا جاتا جب تک ان کی کوئی مخبری نہ کرے اور مخبری ہر ملک کا اپنا باشندہ اپنوں پر ہی کرتا ھے وجہ صرف جیلسی یا اس کے خود کے پاس کام نہیں ہوتا تو دوسرے کو پکڑا کے خود وہیں جاب پر لگ جاتے ہیں۔



ورک پرمٹ
اگر آپ نے اوپر میرے دو مراسلوں (مراسلہ نمبر 1 اور مراسلہ نمبر 7) کا مطالعہ کیا ھے تو اسے سمجھنے میں زیادہ مشکل نہیں پیش آئے گی، اس کے باوجود بھی اگر کچھ پوچھنا ہوا تو پوچھ سکتے ہیں۔

سب سے ضروری بات کہ یہاں کا ہر نیشنل 18 سال سے 65/60 سال کی عمر تک یا تو کام کرتا ھے یا حکومتی بینیفٹس لیتا ھے۔

برطانیہ جن کا ملک ھے "انگلش لوگ" اپنے ملک میں باہر روڈ پر کچرہ اٹھانے سے لے کر پرائم منسٹر تک تمام جابز یہ خود ہی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا تعلیمی نظام بھی ایسا ھے کہ بیرون ممالک سے آئے ہوئے جو یہاں پر نیشنل ہیں یا ہوتے ہیں اور یہاں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس قابل بنتے ہیں تو انہیں بھی تمام جابز فراہم کی جاتی ہیں (پرائیویٹ، نیم سرکاری و سرکاری) ہر قسم کی تعلیم و فنی تعلیم فری ھے اور عمر کی بھی کوئی قید نہیں۔

کسی بھی کمپنی یا حکومت ادارہ کو کام کرنے پر ورکرز کی ضرورت ھے تو وہ "جاب سینٹر" میں رپورٹ کرتا ھے اور اس کی طلب پر مزید پرائیوٹ ایجنسیوں اور اخبارات میں رپورٹ کرتا ھے۔

جاب سینٹر کے پاس جو لوگ بیفنیفٹس لے رہے ہوتے ہیں اس کیٹگری کے لوگوں کو ان جگہوں پر رابطہ کرنے کے لئے فون فراہم کرتے ہیں، وہاں جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کرایہ فراہم کرتے ہیں، 6 مہینے جاب نہ ہونے پر اگر وہ ڈیمانڈ کرے تو اسے ٹو پیس سوٹ بمعہ شوز بیگ وغیرہ وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ اگر وہ مزید کوئی نیا کورس و ٹریننگ چاہتا ھے اسے وہ فراہم کرتے ہیں، کوئی پروگرام پرائیویٹ ہو تو 1500£ تک کیش پیمٹ بھی کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔

جب سے یورپئن ممالک کو یہاں پر کام کرنے کی اجازت ہوئی ھے تو کچھ غریب ممالک جو یورپئن میں شامل ہوئے ہیں انہوں نے بھی برطانیہ کا ہی رخ کیا ھے جن میں سے سب سے زیادہ تعداد "پولش" ملک کے باشندوں کی ھے۔ اس پر "جاب سنٹر" والے ان کی کوئی مدد نہیں کرتے اور نہ ہی ان کو کسی قسم کا کوئی بینیفٹ ملتا ھے جب تک یہ 2 سال تک کام کریں اور ٹیکس نہ ادا کریں، جابز کے حوالہ سے یہ خود ہی پرائیوٹ ایجنسیوں میں جا کر کمپنیوں و شاپس میں جا کر نوکری تلاش کرتے ہیں اور جب جاب مل جائے تو اس لیٹر سے انہیں ٹیمپریری نیشنل انشورنس نمبر مل جاتا ھے۔

ہر بڑی جابز پر انہیں یہاں سے ورکرز مل جاتے ہیں اس لئے باہر سے ورکرز لانے والا کوئی آپشن نہیں۔

آئی۔ٹی میں انڈیا چھایا ہوا ھے اور اس پر یہاں بڑی کمپنیاں ورکرز نہ ملنے پر پرائیویٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں سے رابطہ کرتی ہیں جس پر وہ ریکروٹنگ کمپنیاں انڈیا سے ورکرز لا کر ان بڑی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہیں اور یہ کنٹریکٹ 6، 6 مہینے کا ہوتا ھے، یعنی یوں سمجھ لیں کہ ایک بیج جب 6 مہینے ختم ہونے والے ہیں تو دوسرا بیج یہاں ہوتا ھے اور پہلا بیج جا رہا ہوتا ھے۔ (تفصیلاً سمجھانا یہاں مشکل ھے اور مراسلہ میں جگہ بھی نہیں، بعد میں)

یہاں پر انہیں اگر ضرورت ھے تو وہ "نرسوں" کی ھے اور جو ہر وقت شارٹ رہتی ہیں اس کی کمی اندر سے پوری نہیں کی جا سکتی اور اس پر یہ دوسرے ممالک سے ہی نرسیں لیتے ہیں اور ان کے لئے ورک پرمٹ ویزہ کا انتظام بھی کرتے ہیں جسے ہوم آفس یا ورک پرمٹ سائٹس پر بھی چیک کیا جا سکتا ھے۔

پاکستانیوں کے لئے ورک پرمٹ پر ایسا ھے کہ جو برٹش نژاد پاکستانی یہاں پر فوڈ سٹورز، ریسٹورنٹس اور حلال گوشت کا کاروبار کرتے ہیں اور کاروبار کے ساتھ وہ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں تو اس پر وہ پاکستان سے کسی بھی پاکستانی کے لئے ورک پرمٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پر بھی دو سال پہلے ہوم آفس نے اس کیگری پر ویزے بند کر دئے تھے کہ یوپئن لوگوں کو جابز دی جائیں، جس پر یہاں بڑے کاروباری حضرات کی ان کے ساتھ آپس میں "حلال" کے حوالہ سے ڈبیٹس بھی ہوئی تھی، جو کامیاب نہیں ہوئی اس کے باوجود بھی بڑے پیمانہ پر کام کرنے والے یہی 3 کاروبار ہیں جس میں ورک پرمٹ قانونی طریقہ کار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ھے لیکن اس کا حصول کیا ھے وہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔

ورک پرمٹ ہوم آفس جاری کرتا ھے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے "سالیسٹر" (وکیل) کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جس پر مکمل فیس 3 ہزار پاؤنڈ تک ہوتی ھے بمعہ اپیل، ہو سکتا ھے اب کچھ زیادہ ہو گئی ہو،
اس پر پہلا طریقہ وہی ھے کہ کاروباری حضرات ورکز کے لئے جاب سینٹر میں رپورٹ کرتے ہیں، اور جاب سینٹر ان کے پاس بینیفٹس لینے والے بےروزگار کو ان کے پاس بھیجتا ھے، سی۔وی اور درخواست کے مطابق لوگوں کے ساتھ انٹرویو سیٹ کیا جاتا ھے اور پھر ان کو کسی بھی سوال پر اعتراض لگا کر انہیں انتظار کرنے کا کہہ دیا جاتا ھے۔ اسی طرح یہ سلسلہ کچھ دیر تک چلتا ھے پھر اخبارات میں بھی نکالا جاتا ھے اور کسی بھی انٹرویو دینے والے کو فارغ کیا جاتا ھے اور پھر کم و بیش 3 مہینے بعد سالیسٹر تمام کاغذی کاروائی مکمل کر کے پاکستان سے جس کو ورک پرمنٹ دینا ھے اس کا پاسپورٹ تعلیم و فنی تعلیمی اسناد کے ساتھ سارا معاملہ ہوم آفس میں جمع کرواتے ہیں۔ پہلی مجلس میں ورک پرمٹ مل جائے تو درست نہیں تو اپیل پر کچھ اعتراضات کے مدلل جواب فراہم کر کے اور اگر ضرورت ہو تو جیوری کے ساتھ آمنے سامنے بھی ان پر سوالوں کے جوابات فراہم کر کے ورک پرمٹ حاصل کر لیا جاتا ھے۔ پھر اس ورک پرمٹ کو 15 لاکھ میں فروخت کر دیا جاتا ھے، جس پر کچھ رقم تو ایڈوانس میں اور باقی وہ ان کے پاس کام کر کے اپنی تنخواہ سے ادا کرتا ھے۔ یہ ویزہ وہی حاصل کرتے ہیں جن کا بھائی یا رشتہ دار ان کے پاس کام کرتا ہو، یا پاکستان میں اپنے جاننے والا کوئی خاص ہو۔

ورک پرمٹ پر یہاں بھی ایک سال تک اسی کے پاس کام کرنے کی ریسٹرکشن ھے، ایک سال کے بعد اگر بندہ چاہے تو کسی دوسری جگہ اچھی جاب ملنے پر اسے ٹرانسفر کر سکتا ھے اور ٹرانسفر میں پہلے سے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ آفس فیلڈ میں جابز کے لئے ورک پرمٹ کا اندازہ آپکو تینوں مراسلات کے مطالعہ سے خود ہی ہو جائے گا کہ اس پر حصول کا آپشن کہیں نظر نہیں آتا۔

یہ تھی ورک پرمٹ کی کہانی یہاں پر میری معلومات مکمل ہوئی، اب اگر کسی نے سیریئس ہر معاملہ کی سپیسیفیکیشن جاننی ہو تو رابطہ کر سکتے ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (23-10-11), shafresha (23-10-11), پاکستانی (26-10-11), ننھا بچہ (23-10-11), منتظمین (23-10-11), محمد یاسرعلی (24-10-11), عبدالقدوس (23-10-11)
جواب

Tags
color, فون, ہوتے, ہوتا, فارم, کوشش, کنٹریکٹ, پہلے, پڑی, یا, وقت, چیک, مکمل, منظور, اجازت, جواب, حصہ, خود, دے, دبئی, ریکارڈ, سوال جواب, عرب, عربی, صندوق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عمرےکےویزے muhammad asif virani گپ شپ 7 19-09-09 03:51 PM
اب کیا کراچی کے لیے ویزہ کی ضرورت ہوگی ؟ مزمل فاروق سیاست 99 11-06-09 11:21 PM
سابق صدر پرویزمشرف کراچی پہنچ گئے ابن جلال خبریں 5 21-09-08 07:10 AM
برطانیہ نے میرج ویزہ کیلئے عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 21 برس کر دی Real_Light خبریں 0 27-07-08 03:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger