واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-10, 03:38 PM  
ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!
sahj sahj آف لائن ہے 25-10-10, 03:38 PM

ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!


سوال:-
کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میں نے اپنی بیوی کو ۱۲/مارچ ۲۰۰۹ء کو تین طلاقیں دیں اور کچھ دن بعد عدالت سے بھی طلاق کے کاغذات لئے، جس پر میری طرف سے تحریری طلاق درج تھی، طلاق کے بعد میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی، انہوں نے گھر سے نکالا تو وہ نانی ، نانا کے ہاں گئی، اس کے نانا نے لڑکی کو اور مجھے ایک مسجد لے گئے، جہاں سے انہوں فتویٰ دیا کہ یہ طلاق رجعی ہے اورہمارا دوبارہ تجدید نکاح کرایا۔ اب کیا ہمارا یہ نکاح تھا یا نہیں؟

مستفتی راحیل الدین مکان نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرا چی۔


الجواب بعون الوہاب

واضح رہے کہ از روئے قرآن وحدیث وجمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین، تابعین رحمہ اللہ و تبع تابعین رحمہ اللہ، ائمہ مجتہدین بالخصوص چاروں ائمہ کرام امام اعظم ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ان تمام حضرات کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ “
(بقرہ:229)

اور اگلی آیت میں ہے:

”فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ …“
(بقرہ:230)

یعنی دو طلاق دینے تک تو مرد کو رجوع کا اختیار ہے، لیکن جب تیسری طلاق بھی دیدی تو اب مرد کے لئے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔

چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”ترجم البخاری علی ہذہ الایة باب من اجاز الطلاق الثلاث بقولہ تعالیٰ الطلاق مرتان، فامساک بمعروف او تسریح باحسان، وہذا اشارة الی ان ہذہ التعدید انما ہو فسخة لہم فمن ضیق علی نفسہ لزمہ قال علمائنا: واتفق ائمة الفتویٰ علی لزوم ایقاع الطلاق الثلاث فی کلمة واحدة وہو قول جمہور السلف… المشہور عن الحجاج بن ارطاة وجمہور السلف والائمة انہ لازم واقع ثلاثاً ولافرق بین ان یوقع ثلاثًا مجتمعة فی کلمة او متفرقة فی کلمات…“
(الجامع لاحکام القرآن ج:۳/۱۲۹)

اسی طرح احکام القرآن للجصاص میں ہے:

”قال ابوبکر: قولہ تعالیٰ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان الایة: یدل علی وقوع الثلاث معاً مع کونہ منہیاً عنہا…“


اسی طرح حدیث میں ہے:

”عن عائشہ ان رجلًا طلق امراتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبیا اتحل للاول قال لاحتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول…“ (بخاری شریف ج:۲/۷۹۱)
ترجمہ:…”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیدیں پھر اس نے دوسرے سے نکاح کرلیا، اس نے صحبت کئے بغیر طلاق دیدی، آپ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ پہلے خاوند کے لئے یہ عورت حلال ہوئی؟ آپ علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:” جب تک دوسرا شوہر صحبت نہ کرلے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی“۔

اس حدیث میں ”طلق امراتہ ثلاثًا“ کا جملہ اس کا مقتضی ہے کہ تین طلاق اکھٹی اور دفعة دی گئیں۔ اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تین طلاقیں اکٹھی واقع ہوجانے پر استدلال ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

”وہی بایقاع الثلاث اعم من ان تکون مجمعةً او متفرقةً“
(فتح الباری ج:۹/۳۶۲ ط ادارة بحوث العلمیة)

حدیث میں ہے:

”عن مجاہد قال کنت عند ابن عباس فجاء ہ رجل فقال انہ طلق امراتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظنت انہ رآدہا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقة ثم یقول: یا ابن عباس یا ابن عباس وان الله تعالیٰ قال ومن یتق الله یجعل لہ مخرجاً، وانک لم تتق الله فلااجد لک مخرجاً، عصیت ربک وبانت منک امراتک“۔
(سنن ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)

ترجمہ:…”مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں (کیا حکم ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئے (مجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی بیوی کو واپس لوٹانے والے ہیں پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان پر حماقت سوار ہوتی ہے، پھر میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یا ابن عباس یا ابن عباس جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے راستہ نکالتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ سے ڈر انہیں (اور بیک وقت تین طلاقیں دیدی) اس لئے قرآن کے مطابق تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں پاتا تونے خدا کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی ہے اور تم سے جدا ہوگئی ہے“۔

اور ابوداؤد رخمہ اللہ علیہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

”روی ہذا الحدیث حمید الاعرج وغیرہ عن مجاہد عن ابن عباس رضی اللہ عنہ… کلہم قالوا فی الطلاق الثلاث انہ اجاز ہا قال وبانت منک…“
(ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)
یعنی ان حضرات نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے یہ تمام رواة متفقہ طور پر نقل فرمارہے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کو نافذ فرمادیا اور فتویٰ دیا کہ عورت جدا ہوگئی۔

اسی طرح نسائی شریف کی حدیث میں ہے:

”عن محمود بن لبید قال اخبر رسول الله ا عن رجل طلق امراتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب الله وانا بین اظہر کم حتی قال رجل وقال یا رسول الله الا اقتلہ“۔
(نسائی،ج:۲/۹۹ ط قدیمی)
ترجمہ:…”محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاة و السلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دیدیں ہیں۔ آپ علیہ السلام نے غضبناک ہوکر تقیریر فرمائی کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، آنحضرت اکا یہ غصہ دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کردوں“۔

حدیث مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں مجتمعاً واقع ہوجاتی ہیں۔ اگر واقع نہ ہوتیں تو آنحضرت ا غضبناک نہ ہوتے اور فرمادیتے کہ کوئی حرج نہیں رجوع کرلو۔


اسی طرح مؤطا امام مالک رحمہ اللہ میں ہے:

”عن مالک بلغہ ان رجلاً قال لابن عباس رضی اللہ عنہ انی طلقت امرأتی مأة تطلیقة ما ذاتری علی؟ فقال لہ ابن عباس رضی اللہ عنہ طلقت منک بثلاث وسبع وتسعون اتخذت بہا آیات اللہ ہزوا“
(مؤطا امام مالک ،ص:۵۱۰)
ترجمہ:…”ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں ہیں، اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاقوں سے تو عورت تجھ سے جدا ہوگئی اور بقیہ ستانوے طلاقوں سے تونے اللہ کی آیات کا تمسخر کیا ہے“۔

اور طحاوی شریف میں ہے:

”عن مالک بن حارث قال رجل الی ابن عباس رضی اللہ عنہ فقال ان عمی طلق امراتہ ثلاثاً فقال: ان عمک عصی الله فاثمہ الله واطاع الشیطان فلم یجعل لہ مخرجا فقلت کیف تری فی رجل یحلہا لہ فقال من یخادع الله یخادعہ…“
(طحاوی،،باب الرجل یطلق امراتہ ثلاثا معا ج:۲/۳۴)

ترجمہ:…”مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میرے چچا اپنی عورت کو دفعتً تین طلاقیں دے بیٹھے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے چچا نے خدا کی نافرمانی کی اور شیطان کی اطاعت کی اور آپ نے اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں نکالی۔ مالک بن حارث فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا :آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو اس عورت کو اس شوہر کے لئے حلال کرے؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ سے چالبازی کرے گا اللہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرے گا“۔


اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”عن انس رضی اللہ عنہ قال کان عمر رضی اللہ عنہ اذا اتی برجل قد طلق امراتہ ثلاثاً فی مجلس او جعہ ضرباً وفرق بینہما…“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)
وفیہ ایضا عن معمر عن الزہری فی رجل طلق امراتہ ثلاثاً جمیعاً قال ان من فعل فقد عصی ربہ وبانت منہ امراتہ“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)

ترجمہ:…”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہوتیں تو آپ رضی اللہ عنہ اس کو سزا دیتے ہیں اور دونوں میں تفریق کردیتے ہیں۔ تو قرآنی آیات وتفاسیر واحادیث سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دقعةً تین طلاقیں دینے سے تین ہی شمار ہوتی ہیں۔“

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے چونکہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو اس سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ اس سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہے۔


باقی غیر مقلدین کا منسلکہ فتویٰ از روئے قرآن وحدیث اور جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین، تابعین رحمہ اللہ ، تبع تابعین رحمہ اللہ اور چاروں ائمہ کرام رحمہ اللہ کے متفقہ مسلک کے خلاف ہے، جیساکہ اوپر لکھا گیا ہے اور جس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ہے، اس حدیث سے تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کا استدلال کرنا تمام فقہاء کے نزدیک باطل ہے۔

مذکورہ حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے اس حدیث سے استدلال کرنا اس لئے درست نہیں ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت غیر مدخولہ کے متعلق ہے، عام نہیں ہے۔ واضح رہے کہ عورتیں دو قسم کی ہیں:

۱…غیر مدخولہ (جس کا شوھر کے ساتھ خاص تعلق نہ ھوا ھو)
۲…مدخولہ (جس کے ساتھ خاص تعلق قائم ھوچکا ھو)

غیر مدخولہ عورت کو اگر الگ الگ لفظوں میں اس طرح طلاق دی جائے۔ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“تو پہلے ہی لفظ سے وہ بائنہ ہوجاتی ہے یعنی نکاح سے نکل جاتی ہے اور ایسی عورت پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی، جب یہ عورت پہلے ہی لفظ سے بائنہ ہوگی اور اس پر عدت بھی نہیں تو اس کے بعد وہ طلاق کا محل نہ رہی، اس بناء پر دوسری اور تیسری طلاق لغو ہوتی ہے، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اگر تین طلاقیں دی جائیں تو ایک شمار ہوتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی سالوں میں غیر مدخولہ کو طلاق دینے کا یہی طریقہ تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے جلد بازی شروع کردی اور ایسی غیر مدخولہ کو ایک ساتھ ایک لفظ میں تین طلاق دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب تین طلاق ہی ہوں گی۔ کہ (انت طالق ثلاثا) کہہ کر طلاق دی ہے اور یہ لفظ نکاح قائم ہونے کی حالت میں بولا ہے۔
(ابوداؤد شریف ج:۱/۳۰۶)
دوسرا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانہ میں جب ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ کہا جاتا تو عموماً لوگوں کی دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی، استیناف کی نیت نہیں ہوتی تھی اور اس زمانہ میں لوگوں میں دین اور تقویٰ اور خوف آخرت اور خوف خدا غالب تھا دنیا کی خاطر دروغ بیانی کا خطرہ تک دل میں نہ آتا تھا۔ آخرت میں جوابدہی اور آخرت کے عذاب کا اتنا استحضار رہتا کہ مجرم بذات خود حاضر ہوکر اپنے جرم کا اقرار کرتا اور اپنے اوپر شرعی حد جاری کرنے کی درخواست کرتا، اس بناء پر ان کی بات پر اعتماد کرکے ایک طلاق کا حکم کیا جاتا، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں مگر جیسے جیسے عہد نبوی سے بعد ہوتا گیا اور بکثرت عجمی لوگ بھی حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے، ان میں تقویٰ وخوف آخرت کا معیار کم ہونے لگا اور پہلے جیسی سچائی، امانت داری اور دیانت داری نہ رہی، دنیا اور عورت کی خاطر دروغ بیانی ہونے لگی، جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے ایک سرکاری خط آیا کہ یہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ جملہ کہا ہے ”حبلک علی غاربک“ (تیری رسی تیری گردن پر ہے) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ ”ان مرہ ان یوافینی بمکة فی الموسم“ اس کو کہو کہ حج کے زمانہ میں مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے زمانہ میں کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اس آدمی (عراقی) نے آپ سے ملاقات کی اور سلام کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کون ہو، اس نے کہا: میں وہی ہوں جس کو آپ نے حج کے زمانہ میں طلب کیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے رب کعبہ کی قسم سچ بتا ”حبلک علی غاربکسے تیری کیا نیت تھی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اگر اس مبارک جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ قسم لی ہوتی تو میں صحیح نہ بتاتا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس جملے سے فراق کا یعنی عورت کو اپنے نکاح سے الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت تیرے ارادے کے مطابق تجھ سے علیحدہ ہوگئی۔
(موطأ امام مالک ص:۵۱۱ ماجاء فی الخلیة والبریة واشباء ذلک بحوالہ فتاویٰ رحیمہ ۴/۳۴۳)
یہ عراقی ایک عورت کے لئے جھوٹی قسم کھانے کے لئے اور دروغ بیانی کے لئے تیار تھا مگر کعبة اللہ اور حرم شریف کی عظمت وتقدس کا خیال رکھتے ہوئے کذب بیانی سے احتراز کیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عوام کی جب یہ حالت دیکھی، نیز آپ کی نظر اس حدیث پر تھی:

”اکرموا اصحابی فانہم خیارکم، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، ثم یظہر الکذب حتی ان الرجل یحلف ولایستحلف ویشہد ولایستشہد…الخ“۔
(مشکوٰة المصابیح، باب مناقب الصحابة ج:۳/۵۵۴ ط سعید)
یعنی عہد نبوت سے جیسے جیسے دوری ہوتی چلی جائے گئی، دینداری کم ہوتی رہے گی اور کذب ظاہر ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے موجودہ اور آئندہ حالات کو پیش نظر رکھ کر صحابہ سے مشورہ کیا کہ جب ابھی یہ حالت ہے تو آئندہ کیا حالت ہوگی اور لوگ عورت کو الگ کردینے کی نیت سے تین طلاق دیں گے اور پھر غلط بیانی کرکے کہیں گے کہ ہم نے ایک طلاق کی نیت کی تھی۔ آپ نے اس چور دروازے کو بند کرنے کے لئے فیصلہ کیا کہ لوگوں نے ایسی چیز میں جلد بازی شروع کردی جس میں انہیں دیر کرنی چایئے تھی، اب جو شخص تین مرتبہ طلاق دے گا، ہم اسے تین ہی قرار دیں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے اس فیصلہ سے اتفاق کیا اور کسی ایک نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہ کی۔

چنانچہ طحاوی شریف میں ہے:

”فخاطب عمر رضی اللہ عنہ بذلک الناس جمیعا وفیہم اصحاب رسول اللہ ا ورضی اللہ عنہم الذین قد علموا ما تقدم من ذلک فی زمن رسول اللہ ا فلم ینکرہ علیہ منہم ولم یدفعہ دافع…“
(طحاوی،،ج:۲/۳۴)
محقق علامہ ابن ہمام رحمة اللہ فرماتے ہیں:

”ولم ینقل عن احد منہم انہ خالف عمر رضی اللہ عنہ حین امضی الثلاث وہی یکفی فی الاجماع…“
(حاشیہ ابوداؤد ج:۱/۳۰۶)
یعنی کسی ایک صحابی سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں تین طلاق کا فیصلہ کیا، ان میں سے کسی ایک نے بھی… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف کیا ہو اور اس قدر بات اجماع کے لئے کافی ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”فاختلف العلماء فی جوابہ وتاویلہ فالاصح ان معناہ انہ کان فی اول الامر اذا قال لہا انت طالق، انت طالق، انت طالق، ولم ینو تاکیداً ولااستینافاً یحکم بوقوع طلقة لقلة ارادتہم الاستنیاف بذلک فحمل علی الغالب الذی ہو ارادة التاکید فلما کان فی زمن عمر رضی اللہ عنہ وکثر استعمال الناس بہذہ الصیغة وغلب منہم ارادة الاستیناف بہا حملت الاطلاق علی الثلاث عملاً بالغالب السابق الی الفہم…“
(نووی شرح مسلم ج:۱/۴۷۸ ط قدیمی)
یعنی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بالکل صحیح تاویل اور اس کی صحیح مراد یہ ہے کہ شروع زمانہ میں جب کوئی انت طالق، انت طالق، انت طالق کہہ کر طلاق دیتا تو عموماً اس زمانہ میں دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی تھی، استیناف کی نیت نہ ہوتی تھی، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے اس جملہ کا استعمال بکثرت شروع کیا اور عموماً ان کی نیت طلاق کی دوسرے اور تیسرے لفظ سے استیناف ہی کی ہوتی تھی، اس لئے اس جملہ کا جب کوئی استعمال کرتا تو عرف کی بناء پر تین طلاقوں کا حکم کیا جاتا۔


یہ ہے حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب محدثین کی نظر میں اور یہی تشریح اور مقصد صحیح ہے۔ جو مطلب غیر مقلدین بیان کرتے ہیں، وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ راوی حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خود تین طلاقوں کے نفاذ کا فتویٰ دیا ہے، جیساکہ مذکور ہوچکا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی باوجود اس تشدد وتصلب کے جوان کو اس مسئلہ میں تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ ”ایک مجلس میں تین طلاقیں تین ہیں اور اس کے بعد رجعت جائز نہیں“ سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس فتویٰ کے ثابت ہونے کا صاف اقرار کیا ہے۔

چنانچہ اغاثة اللفہان میں فرماتے ہیں:

”فقد صح بلاشک ابن مسعود وعلی ابن عباس الالزام بالثلاث ان اوقعہا جملة“۔
(اغاثة اللفہان ،،ص:۱۷۹)

اورچونکہ یہ مسئلہ حلال وحرام کے متعلق ہے، اگر واقعی تین کو ایک سمجھا جاتا تو اس کے راوی صرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کیوں ہیں، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین سے اس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے، جبکہ ان سے بڑے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے برخلاف فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کے سامنے کی بات ہے اور ایک صحابی نے بھی اس حکم کے خلاف نہیں کیا جس سے اس مسئلہ پر ان کا اجماع معلوم ہوتا ہے۔ الغرض تین طلاقیں شرعاً واقع ہوچکی ہیں، بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ سے حرام ہوگئی ہے، گمراہ لوگوں سے فتویٰ لے کر حرام کو حلال بنانے کی کوشش کرنا بدترین گناہ ہے، لہذا دونوں میں علیحدگی ضروری ہے، بصورت دیگر اگرایک ساتھ رہے تو حرام کے اندر مبتلا ہوں گے۔

چنانچہ حدیث میں ہے:

”من اعلام الساعة… وان یکثروا اولاد الزنا قیل لابن مسعود وہم مسلمون ! قال نعم: یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة طلقہا فیقیم علی فراشہا منہما زانیان ما اقاما“۔
(الخصائص الکبری للسیوطی ج:۲/۲۷۰ ط حقانیہ)
ترجمہ:…اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ زنا کی اولاد کی کثرت ہوجائے گی، پوچھا گیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا وہ مسلمان ہوں گے؟ فرمایا: ہاں! وہ مسلمان ہوں گے، ایک زمانہ آئے گا لوگوں پر کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا، لیکن پھر بھی اس کے ساتھ اس کے بستر پر رہے گا جب تک دونوں اس طرح رہیں گے زنا کار ہوں گے“۔



”قال:یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة ثم یجہدہا طلاقہا ثم یقیم علی فرجہا فہما زانیان ما اقاما…“
(المعجم الاوسط للطبرانی ج:۵/۴۴۲)
ترجمہ:…فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے گا پھر طلاق دینے سے انکار کرے گا پھر اس سے ہم بستری کرتا رہے گا پس جب تک وہ دونوں اس طرح رہیں گے زناکار ہوں گے“



لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی تھیں، سائل نے بغیر حلالہ شرعی جو دوبارہ نکاح کرکے ایک عرصہ ساتھ گذاراہے، دونوں حرام کاری میں مبتلا رہے، فی الفور علیحدگی کے بعد دونوں پر توبہ و استغفار لازم ہے۔



کتبہ
عبد اللہ منیر
متخصص فقہ اسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1195
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (25-10-10), ابن جمال (15-02-11), بلال اویسی (26-10-10), شمشاد احمد (25-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10), عروج (16-02-11)
پرانا 27-10-10, 04:06 PM   #16
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
میں ذاتی طور پر ایک وقت میں دی جانے والی 3 یا 3 سے زائد طلاق کو ایک ہی میں شمار کرتا ہوں


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
تین طلاقیں ایک ساتھ واقع نہیں ہوسکتی ہیں۔۔

السلام علیکم
کچھ مزید معلومات بھی ایک ساتھ تین طلاق ایک ہی وقت میں واقع ھونے سے متعلق پیش کرتا ھوں ۔

معاویہ ابن ابی یحی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں آپ نے جواب دیا بانت منک بثلاث:تیری بیوی تجھ سے تین طلاقوں سے جدا ہوگئی۔۔ (طحاوی۔ ج2 ص30)


سنن بیہقی میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ اعمش کوفی بیان کرتے ہیں کہ ایک شیخ کہتے تھے کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے تو اس کو ایک طلاق مانا جائے گا۔ میں نے شیخ سے کہا کہ تم نے حضرت علی سے یہ کہاں سے سنا ہے ؟شیخ نے کہا میں اپنی کتاب نکالتا ہوں اس میں موجود ہے۔ شیخ نے کتاب نکال کر پیش کی تو اس میں بسم اللہ کے بعد لکھا ہوا تھا: ھذا ما سمعت علی بن ابی طالب یقول: اذا طلق الرجل امراتہ ثلاثا فی مجلس واحد فقد بانت منہ ولا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ: یہ وہ حدیث ہے جس کو میں نے حضرت علی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے تو عورت اس سے جدا ہوجائےگی اور بغیر حلالہ شرعی کے حلال نہ ہوگی۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ افسوس یہ تو تمہارے بیان کے خلاف ہے۔ شیخ نے کہا صحیح یہی ہے لیکن لوگوں نے مجھے مجبور کیا تھا،اس لئے میں نے اس کو اس طرح بیان کیا۔
(بیہقی:ج6ص245)


شریک ابن نمر سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو عرفج کے درختوں کے برابر طلاق دی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا ان میں سے تین لے لو اور باقی چھوڑ دو۔
( مصنف عبد الرزاق:ج6 ص394)

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل اور فتوی

سنن دار قطنی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ واقعہ بیان کیا کہ میں نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دیدی۔ پھر ارادہ کیا کہ دو طہروں میں بقیہ دو طلاقیں دیدوں۔ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپنے فرمایا اے ابن عمر!اس طرح تمکو اللہ نے حکم نہیں دیا ہے، تم نے سہی طریقہ کے خلاف کیا (کہ حالت حیض میں طلاق دیدی) سہی طریقہ یہ ہے کہ طہر کا انتظار کیا جائے اور ہر طہر میں ایک طلاق دی جائے ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رجوع کا حکم دیا، میں نے رجوع کرلیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب وہ پاک ہوجائے تو تمکو اختیار ہے چاہو تو طلاق دیدینا یا اسکو روکے رکھنا۔ ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ارایت لو انی طلقتھا ثلاثا اکان یحل لی ان اراجعھا، قال: لا، کانت تبین منک و تکون معصیۃ: اگر میں نے تین طلاقیں دی ہوتی تو کیا میرے لئے رجوع کرنا جائز ہوتا؟ حضور نے فرمایا نہیں!اس صورت میں بیوی تم سے جدا ہوجاتی اور تمہارا یہ فعل گناہ ہوتا۔
(سنن دار قطنی،ج2 ص438 زاد المعاد:ج2 ص257)

اسی بنیاد ہر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تین طلاقوں کے پڑنے کا فتوی دیا کرتے تھے اور اسکی نسبت حضور کی طرف کرتے تھے

بخاری میں آپ کا یہ فتوی آیا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ جب ابن عمر سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جاتا جس نے تین طلاقیں دی ہوں تو آپ فرماتے:اگر تو نے ایک یا دو طلاق دی ہوتی (تو تو رجوع کرسکتا تھا ( اس لئے کہ حضور نے مجھے اس کا (یعنی رجعت کا( حکم دیا تھا اوراگر تین طلاق دیدے تو عورت حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کرے
(بخاری ، ج2 ص792)
(مسلم: ج1 ص476)

ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور عورت اس سے جدا ہوگئی۔
( مصنف ابن ابی شیبہ: ج5 ص 11
( مصنف عبد الرزاق،ج6 ص 359)

ان روایات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ تین طلاق ایک ساتھ دینا یقینا مذموم فعل ہے اور سنت طریقہ کے خلاف ہے لیکن اگر کوئی دیدے گا تو وہ نافذ ہوجائیں گی اور عورت اس پر حرام ہوجائے گی۔ تاہم حُکم یہی ہے کہ ایک وقت میں تین طلاق نا دی جائیں ۔ باقی اللہ تعالٰی سب جانتا ھے ۔

والسلام


آخر میں ایک اور واقعہ بھی پڑھ لیں جزاک اللہ

روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسن بن علی رض نے ایک موقعہ پر اپنی بیوی عائشہ خثعمیہ کو اس لفظ سے طلاق دی: انطلقی فانت طالق ثلاثا تو چلی جا تجھکو تین طلاق ہے، عائشہ چلی گئی۔ عدت کے بعد حضرت حسن نے مابقی مھر اور دس ہزار مزید خدمت میں بھیجے، اس کو دیکھ کر عائشہ رو پڑی اور کہا:متاع قليل من حبيب مفارق حبیب کی جدائی کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔ قاصد نے آکر صورت حال حضرت کو بتائی تو حضرت حسن بھی رو پڑے اور فرمایا :اگر میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جوشخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے۔ عند كل طھر تطليقۃ خواہ ہر طہر میں ایک طلاق دے۔أو عند رأس كل شھر تطليقۃ یا ہر مہینے کے شروع میں طلاق دے۔أو طلقھا ثلاثا جميعا یا تین طلاق ایک ساتھ دیدے تو وہ عورت حلال نہیں ہوسکتی یہاں تک کہ دوسرا نکاح کرلے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں رجوع کرلیتا۔
((سنن دار قطنی ))

Last edited by sahj; 27-10-10 at 04:08 PM.
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
کنعان (27-10-10), حیدر (27-10-10), شمشاد احمد (27-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 06:11 PM   #17
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ساہج اپ ایک واقعہ خود کا بیان کردہ ہی بھول رہے ہیں۔ جس میں اپ نے یہ کہ تھا ایک ہی دفعہ میں تین طلاق حضرت عمر کے حکم سے شروع ہوا تھا۔ اس سے پہلے ایک ہی طلاق تصور کی جاتی تھی۔ اپ پر لازم ہے کہ حق کی بات کریں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-10-10), فیصل ناصر (27-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), ابن آدم (17-02-11), حیدر (27-10-10), شمشاد احمد (27-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 06:24 PM   #18
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم منتظمین بھائی

شاہج بھائی نے احادیث مبارکہ پیش کی ہیں اپنی قلم سے کچھ بھی کمنٹس نہیں لکھے شائد آپ کا اعتراض یہاں لاگو نہیں ہوتا جب تک وہ اپنی قلم سے ایسا نہیں کرتے۔ کیونکہ شاہج بھائی صاحب کچھ نہیں لکھ رہے صرف احادیث مبارکہ پیش کر رہے ہیں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (28-10-10), حیدر (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 06:55 PM   #19
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یک طرفہ موقف پیش کررہے ہیں۔ موقف تو یہ خود بنا رہے ہیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), کنعان (27-10-10), ابن آدم (17-02-11), حیدر (27-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 10:22 PM   #20
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم منتظمین بھائی

کوئی بات نہیں اگر ایک موقف پیش کر رہے ہیں مگر کر احادیث مبارکہ سے رہے ہیں۔ دوسرے اور تیسرے موقف کے لئے کسی اور کو بھی موقع دیں، اگر سب کے موقف مطالعہ کی نظریہ سے ہی دیکھیں تو کوئی بھی مشکل نہیں کیونکہ اسطرح کے مسائل سے جو دوچار ہوتے ہیں انہوں نے کہیں نہ کہیں سے فتوٰی حاصل کر لینا ہوتا ھے بھلہ اس کا تعلق اس سے نہ بھی ہو مگر یہاں پر گفتگو اگر آرام سے اور مطالعہ کی رو سے کی جائے تو بہتر ہوتی ھے اور سکون بھی ملتا ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-10-10, 12:37 AM   #21
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

بھائیو!کچھ دوسرےموقف کے بارےمیں صر ف دو تین باتیں سامنےرکھتاہوں::

1::عن ابن عباس کان الطلاق علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر وسنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ۔ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لھم فی اناۃ فلو امضیناہ علیھم امضیناہ علیہم ( صحیح مسلم، 850 )

ترجمہ:: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ رسالت میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پورے عہد خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع دو سال تک تین طلاقیں ایک ہی شمارہوتی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے کام میں جلدی sبازی شروع کردی جس میں ان کو مہلت تھی پس اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو نافذ کردیں ( تو مناسب ہے ) پس انہوں نے تین طلاقوں کا نافذ کر دیا۔


طلاق رکانۃ امراتہ فی مجلس واحد فحزن علیھا حزناً شدیداً قال فسالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کیف طلقتھا ثلاثاً، قال طلقتھا ثلاثا فقال فی مجلس واحد؟ قال نعم قال فانما تلک واحدۃ فراجعھا ان شئت قال فراجعھا ( مسند احمد ، ص: 165 ج: 1 )
یعنی حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے کر سخت غمگین ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح طلاق دی ہے۔ عرض کیا کہ حضور! میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا ایک مجلس میں ہی ہیں؟ جواب دیا ہاں ایک ہی مجلس میں دی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تین طلاقیں ایک مجلس کی ایک ہی ہوئیں، اگر تو چاہتا ہے تو بیوی سے رجوع کرلے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں کہ حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ نے رجوع کر لیا۔

یہ حدیث بھی سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔
چنانچہ فن حدیث کے امام الائمہ حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں اسی مسند احمد کی حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔
وھذا الحدیث نص فی المسئلۃ لا تقبل تاویل الذی فی غیرہ۔ یعنی مجلس واحد کی طلاق ثلاثہ کے ایک ہونے میں یہ حدیث ایسی نص صریح ہے جس میں تاویل کی گنجائش نہیں جو دوسروں میں کی جاتی ہے۔

2::اب باقی رہ گیاجناب عمر رضی اللہ عنہ کا حکم تو یہ انہوں نے واپس بھی لے لیا تھاجس سےپتہ چلتاہےکہ یہ ایک تدبیری یاتعزیری حکم تھا،امام ابن القیم نے اغآثۃ اللھفان میں یہی بات بیان فرمائی ہے::

"" امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی چيز پر اتنا نادم نہیں ہوا جتنا کہ تین چيزوں پر ہوا کاش میں طلاق کو حرام نہ کرتا اور لونڈیوں کی شادی نہ کرواتا اور نوحہ کرنے والی عورتوں کو قتل نہ کرواتا-"
(اغثاۃ اللھفان ج1، ص:351)


امیر المومنین عمر کے ایسے کئی اقدام ہیں جو انتظام کے طور پر تھے- مثلا:

... شرابی کا گھر جلانا-
(کتاب الاموال لابی عبید القاسم ابن سلام، ص:102 وما بعدھا)

... اسی طرح جب لوگ شراب سے باز نہیں آرہے تھے تو اس کی سزا 40 سے بڑھا کر 80 کوڑوں تک کردی اور بعض کو ملک بدر کردیا-

...کوفہ کے گورنر سعد رض کی جگہ کو جلانا اس لیے کہ رعیت والوں سے وہ پردہ میں تھے-
(اغاثۃ اللھفان، ج1، ص: 348- 349)

4::اب یہ آیت پڑھیں::
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا

اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں بھٹک گیا
[33:36]


علامہ طحطاوی احناف کی مشہور کتاب در مختار میں رقم فرماتے ہیں::

" پس امیر المومنین عمر رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنے والے نہیں تھے، نہ انکو ایسا حق تھا اسکی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ وہ خود اپنے دور خلافت میں نبوی فیصلے پر کاربند تھے اور اسی کے مطابق فیصلہ نافظ کرتے تھے- اسلئے ان کے اس انتظامی قدم کو اپنے مذہب کی دلیل بنانا اختلاس ہے اقتباس نہیں – بلکہ شریعت میں ناجائز تصرف ہے-"
( حاشیہ در مختار، ج2، ص:12


3::جب اختلافی بات ہوتو فٹ سے گمراہی کےفتاوٰی نہیں لگا دینے چاہیں::ذرا دیکھں تو سہی کہ کون کون ان غیر محتاط فتاوٰی کی زد میں آتا ہے!!!
صحابہ کرام میں
عبداللہ بن عباس ،
حضرت زبیر بن عوام ،
حضرت عبدالرحمن بن عوف ،
حضرت علی ،
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ تابعین میں امام طاؤس ،
امام عکرمہ
نے بھی اسی کا فتویٰ دیا ہے
اور تبع تابعین میں سے محمد بن اسحاق وغیرہ نے بھی یہی فتویٰ دیا
اور خلاس بن عمرو
اور حارث عکلی
نے اسی کا فتویٰ دیا ہے
اور تبع تابعین کے اتباع میں سے
داؤد بن علی اور ان کے اکثر اصحاب نے بھی اسی کا فتویٰ دیا ہے اور
بعض مالکیہ اور
بعض حنفیہ اور
بعض حنابلہ نے بھی تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتویٰ دیا ہے!!!""

( اعلام الموقعین، ص: 26 )

مفصل بات تو اہل علم ہی کریںگے یہ میرے علم کیحدتک معلومات تھیں،اور ساہج بھائی نےچونکہ یک طرفہ طور پر بات کا ایک ہی رخ دکھایاہے جبکہ ایسا نہیں ہے تو اس لیے عرض کی ہیں...................اور میں ان کے موقف کا احترام کرتا ہوں!!!

باقی مسئلہ یہ ایساہےکہ صدیوں سےبحث ہو رہی ہے..............

والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ آدم; 28-10-10 at 12:42 AM.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), کنعان (28-10-10), نورالدین (18-02-11)
پرانا 28-10-10, 12:41 AM   #22
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی کہانیاں پیش کی ہیں آپ نے ۔ شکریہ
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 28-10-10, 12:45 AM   #23
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تیسرا مؤقف میں اپنا بھی پیش کر دیتا ہوں۔۔۔۔
اقتباس:
تین اور ایک طلاق کا مسئلہ
آخر میں ایک اہم نقطے کی طرف توجہ مبذول کرانا ضرور چاہوں گا۔۔۔ وہ یہ کہ اوپر جو میں نے مختصرا اسلام کے نظام طلاق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس سے آپ حضرات کو واضح ہوا ہو گا کہ یہ کوئی پہت پیچیدہ اور مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسا اختلافی موضوع ہے جس پر ہم مسلمان باہم دست و گریبان ہوں۔۔یہاں میں طلاق کے حوالے سے مشہور و معروف بحث ۔۔۔ کہ کیا تین طلاق تین ہی ہیں یا ایک ہیں۔۔۔ پر مختصر بات ضرور کروں گا۔ مگر ایک الگ انداز میں۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
عموما لوگ اس مسئلہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جی۔ فلاں مکتبہ فکر کے ہاں۔ تین طلاق ایک شمار کی جاتی ہے۔ اور دوسرے فلاں مکتبہ فکر کے حضرات کے ہاں تین طلاق کو تین ہی شمار کیاجاتا ہے۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے حقیقت میں مسئلہ یوں نہیں ہے۔۔۔ بلکہ مسئلہ میرے خیال میں یہ ہے کہ۔۔

اختلاف اس پر نہیں کہ تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں یا تین۔۔۔ بلکہ ایک اور تین کا یہ اختلاف ایک خاص صورت کے حوالے سے ہے۔۔۔ وہ یہ کہ۔۔۔ اگر کسی شخص نے ایک ہی مجلس یا ایک ہی لفظ میں تین طلاق اپنی بیوی کو دی تو کیا وہ تین شمار ہوں گی یا ایک شمار ہو گی۔
حلانکہ تین کو ایک قرار دینے والوں کا مؤقف یہ نہیں کہ ہر صورت میں تین طلاق ایک ہی شمار ہو گی۔ جیسا کہ بہت سے نا واقف حضرات سمجھتے ہیں۔۔۔۔ اور یہ بحث اتنی عام ہو گئی ہے کہ اسی بحث کے تناظر میں اہل سنت ولجماعت کے دو مکتبہ فکر کی پہنچان کی جاتی ہے۔۔ دونوں طرف سے اپنے اپنے دلائل دیے جاتے ہیں۔

میں یہاں یہ بحث نہیں کرنا چاہوں گا کہ طلاق کی اس مخصوص صورت میں تین طلاق ایک ہوتی ہیں یا تین ہوتی ہیں۔۔۔ بلکہ میں ایک اور گذارش بلکہ اپیل کرنا چاہوں گا۔
درد مندارنہ اپیل
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے نظام طلاق کو کتنا آسان اور سہل بنایا ہے کہ طلاق کی اقسام میں سے پہلی دونوں قسموں کے مطابق اگر میاں بیوی طلاق دینے کے برسوں بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان دونوں سے یا کسی ایک سے غلطی ہوئی ہے اور اب وہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ تو بس ایجاب و قبول اور نیا حق مہر مقرر کر کے دونوں ہسیے خوشی رہ سکتے ہیں۔۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا؟؟؟

کیا ہم نے کبھی سوچا آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارا معاشرے طلاق کے حوالے سے انتشار کا شکار کیوں ہے؟
آخر جب ایک جوڑے میں جدائی ہوتی ہے تو ان کے خاندان تو آپس میں دست و گریباں ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ پورے پورے مسلک اور مکتبہ فکر صف آراء ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی محلہ کی دو مساجد میں نمازی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ راہ چلتے، بازار میں ملتے وقت ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں۔۔ دونوں طرف کے کے حضرات اپنے اپنے نظریہ پر کتابوں کی کتابیں مطالعہ کر ڈالتے ہیں۔ اور ہر نماز پر جاتے وقت یا واپسی پر مساجد کے راستوں میں ایک عرصہ تک یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ تین طلاق تین ہوتی ہیں یا ایک ہوتی ہے۔

ہم اس مسئلہ کی سنگینی پر قابو پا سکتے ہیں اگر ہم اپنے اپنے مکتبہ فکر کے لوگوں کو تین کو ایک اور ایک کو تین ثابت کرنے کے دلائل سکھانے پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے اس سے آدھی توانائی اس کوشش پر صرف کر دیں کہ ہم ان کو طلاق دینے کا سنت کے مطابق طریقہ سکھا دیں جس میں تین طلاق کی کسی بھی طرح دینے کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ اور پھر طلاق کے بعد۔۔ حتی کہ عدت کے بعد بھی میاں بیوی جب چاہیں عزت سے باہمی رضا مندی سے دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ چاہے ہمارا معاشرہ مثالی اسلامی معاشرہ ہو یا نہ ہو۔اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ جو کہ میرا خیال ہے بہت بڑا ٹاسک نہیں ہے ۔۔۔ تو یقین کریں۔۔۔۔ یہ ایک اور تین کی بحث ان دوسری بہت سی مباحث کے ساتھ علماء کے لئے کتابوں میں ہی دفن ہو کر رہ جائے گی۔۔ جو اہل علم کتابوں میں تو پڑھتے پڑھاتے رہیں گے مگر خارج میں ہمارے گلی محلوں میں ہمارے گھروں میں ان کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔
مختصر نقل کیا ہے۔ تفصیل یہاں دیکھ لیں۔
نکاح۔ طلاق۔ اور حلالہ بحث کا خلاصہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
پرانا 28-10-10, 12:54 AM   #24
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تیسرا موقف میرا بھی سمجھا جائے.

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-10-10), فیصل ناصر (28-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), کنعان (28-10-10), شمشاد احمد (28-10-10)
پرانا 28-10-10, 07:08 AM   #25
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی طلاق کو "دینے" اور طلاق کو "لینے"‌ کے محاورے وقت کی پیدا وار ہیں۔ طلاق بنیادی طور پر مرد کی کی طرف سے عورت کے لئے اطلاع ہے ۔ اس اطلاح کے بعد عدت شروع ہوتی ہے اور عدت کے ختم ہونے تک رجوع کا حق باقی رہتا ہے۔ اس عدت کے اختتام پر طلاق مکمل ، واقع یا نافذ‌ہوجاتی ہے۔ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد مرعد و عورت کو مرضی سے نکاح کا حق حاصل ہے۔

اب یہ اطلاع تین بار دی گئی ، یا تیس بار، طلاق عدت پوری ہونے پر ہی واقع ہوگی۔ البتہ تیسری بار طلاق واقع، نافذ یا مکمل ہوجانے پر مردو عورت کے پاس مزید نکاح‌مع مہر کرنے کا حق نہیں رہتا۔ لیکن تیسری طلاق کی اطلاح کے بعد بھی دوران عدت مرد کو رجوع کرنے کا حق ہے۔

طلاق کی اطلاّ‌مرد کود یا کوئی اور یا کوئی کاغذ ، چاہے تین بار دے یا تیس بار، یہ صرف اور صرف اطلاع ہے۔ اس اطلاع سے عدت کی مدت شروع ہوئی۔ اور تین حیض‌ یا تین مہینے جاری رہی۔

اس کے بارے مٰیں‌آیات دیکھئے۔۔۔۔

شرعی طریقہِ طلاق

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-10-10), فیصل ناصر (28-10-10), نورالدین (18-02-11)
پرانا 31-10-10, 11:00 AM   #26
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,995
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
ساہج اپ ایک واقعہ خود کا بیان کردہ ہی بھول رہے ہیں۔ جس میں اپ نے یہ کہ تھا ایک ہی دفعہ میں تین طلاق حضرت عمر کے حکم سے شروع ہوا تھا۔ اس سے پہلے ایک ہی طلاق تصور کی جاتی تھی۔ اپ پر لازم ہے کہ حق کی بات کریں۔
السلام علیکم منتظمین صاحب

حق بات یہی ھے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفہ راشد اور
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ خلیفہ راشد ہیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد مسند خلافت پر فائض ھوئے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ترین امتی ہیں اور ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ ھے ۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھے
عن ابی حزیفہ قا ل قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقتدوا باللزین من بعدی ابی بکر و عمر ۔
(ترمزی ،، ص،507،،ج2،،)

ترجمہ:- ان دونوں کی اقتداء اور پیروی کرو جو میرے بعد ہو یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ

مزید فرمان رسالت ھے

عن العرباض ابن ساریہ یقول قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سترون من بعدی اختلافاً شدیداً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔
(ابن ماجہ،،ص،،5،)
ترجمہ:- عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں خطبہ دیا (اور اسکے درمیان فرمایا) میرے بعد تم لوگ بہت سے اختلافات دیکھو گے تو میری سنت اور میرے ھدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پابندی کرو ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) ، پھر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور پھر حضرت عثمان (رض) ہیں ۔
صحيح بخاري
كتاب فضائل الصحابہ


ابوحبیبہ (رحمتہ اللہ) نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :
میرے بعد تم لوگ فتنے اور اختلاف میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔
کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :
تم (اس) امین (امیر) اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑ لینا ۔

مسند احمد
المجلد الثانی


اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی ہیں کہ

شیطان تمھیں جس راستے آتا ھوا ملتا ہے وہ اس تیرے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے میں بھاگ جاتا ہے " ۔ ( بخاری )

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) ہیں ۔
صحيح بخاري
كتاب فضائل الصحابة

محترم منتظمین صاحب اوپر درج احادیث سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام اور اعلٰی مرتبہ صاف عیاں ھے اس میں کسی کو بھی مسلمان کو شک نہیں ، یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا چاھتا ھوں اور امید ھے اس سے شاید بات سب کی سمجھ میں آجائے جو کئی مسائل کو اسلئے اختلافی قرار دیتے ہیں کہ زمانہ نبوت میں تو ایسا ایسا ھوتا تھا یا کسی صحابی کے عمل کو نبی کے عمل پر ترجیع نہیں دینا چاھئے یا حجت صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور عمل ھے ۔
اسمیں شک نہیں ھے کہ تمام مسلمانوں کے واسطے حجت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ، اسی عقیدے کے مطابق ہی اوپر چند احادیث پیش کی ہیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ ""سترون من بعدی اختلافاً شدیداً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔""(ابن ماجہ،،ص،،5،)
دیکھئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا تھا کہ تم شدید اختلافات دیکھو گے ساتھ ہی تاکید بھی کردی کہ جب اختلافات پیدہ ھوں تو خلفہ راشدین کے طرز عمل سے رہنمائی لے لینا کہ ان کی سنت کیا ھے ۔ یہاں یہ بھی واضع ھونا چاھئے کہ کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منشاء نبوت کے برخلاف کبھی بھی کچھ نہیں کیا اور خلفہ راشدین تو خصوصی مقام کے حاملین ہیں وہ ایسا عمل جاری کیسے کرسکتے ہیں جو منشائے نبوت کے خلاف ھو؟
طلاق کے مسئلہ میں بھی وجہ نضاع یہی بات ھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی جاتی ھے کہ" یہ نبی کا طریقہ نہیں صحابی کا عمل ھے اور صحابی کا عمل حجت نہیں"۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے کہ "فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین" تو ہم پر لازم ھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ دیا چاھے وہ طلاق کے مسئلے میں ھو یا کسی اور مسئلے میں جیسے تراویح کی مسلسل سارا رمضان باقائدہ جماعت ۔ یہاں بھی اختلاف پیدہ ھوا کہ تراویح 20 ہیں یا 8 ؟ لیکن یہ اختلاف کرنے والے بھی سارا رمضان مسلسل بلا ناغہ تراویح کی جماعت کا قیام فرماتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو مانتے ھوئے، لیکن رکعتوں میں اختلاف کیا جاتا ھے کہ 8 تھیں، بھئی سیدھی سی بات ھے 8 تھیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے 20 کیوں شروع فرمائیں اور یہ ہی نہیں زمانہ نبوت سے لیکر عمر رضی اللہ عنہ کے دور تک ایک جماعت سے تراویح اور وہ بھی سارے رمضان روزانہ بلاناغہ۔ جبکہ حدیث میں ہے
"حضرت ابو ہر یرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان(یعنی نماز تراویح) کی ترغیب دیا کرتے تھے لیکن تاکید کے ساتھ صحابہ کو کوئی حکم نہیں دیا کرتے تھے چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ '' جو آدمی صحیح اعتقاد کے ساتھ حصول ثواب کے لیے (یعنی ریاء نمازئش کے جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ محض اﷲ جل شانہ کی رضاء و خوشنودی کے لیے رمضان میں قیام کرتا ہے اس کے لیے پہلے گناہ صغیرہ بخش دئیے جاتے ہیں'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور قیام رمضان کا معاملہ اسی طرح رہا (یعنی نماز تراویح کے لیے جماعت مقرر نہیں تھی بلکہ جو جانتا تھا حصول ثواب کے لیے پڑھ لیتا تھا) پھر حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت میں بھی یہی صورت رہی اور حضرت عمر کے زمانہ خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی یہی معمول رہا ( اور حضرت عمر نے نماز تراویح کے لیے جماعت کا حکم دیا اور اس کا التزام کیا۔''
(صحیح مسلم)
اور آج تمام مسلمان چاھے وہ آٹھ تراویح پڑھے یا 20 لیکن تمام رمضان بلاناغہ روزانہ تراویح جماعت سے ادا کرتے ہیں ، دیکھئے یہاں ایک حکم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے نافض ھوا جو پہلے نہیں تھا یعنی باجماعت ،روزانہ تراویح ۔ جو پہلے نہیں ھوتی تھی یا ھوئی تو روز نہیں ھوئی جیسے اس حدیث سے معلوم ھوتا ھے ""حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا فَصَلَّی عَلَيْهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ فِيهِ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلًا وَلَا خَفِيَ عَلَيَّ مَکَانُکُمْ
ہناد، عبدہ محمد بن عمرو، محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ، بن عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رمضان میں لوگ مسجد میں (تراویح کی نماز) تنہا تنہا پڑھا کرتے تھے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھائی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر وہی قصہ بیان کیا (اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگو بخدا میں رات میں بفضل خدا غافل نہیں رہا اور نہ ہی تمہارا حال مجھ سے مخفی رہا۔"" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مسئلہ اپنی بات سمجھانے کی غرض سے پیش کیا ھے تاکہ یہ سمجھا سکوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تین طلاق کو تین ہی حکم کیا ھے اسے ماننا لازم ھے اسلئے کہ اگر مانتے ہیں تو یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی فرمانبرداری میں سے ھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی خلفہ راشدین کی اطاعت کا حکم دیا ھے ۔

اور جناب منتظمین صاحب حق بات اور کیا ھوگی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق دیئے جانے کے معاملہ میں (ناراضگی کا اظہار فرماتے ھوئے بھی ( تین طلاق کو تین ہی نافض فرمایا ۔

اقتباس:
”عن محمود بن لبید قال اخبر رسول الله ا عن رجل طلق امراتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب الله وانا بین اظہر کم حتی قال رجل وقال یا رسول الله الا اقتلہ“۔
(نسائی،ج:۲/۹۹ ط قدیمی)
ترجمہ:…”محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاة و السلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دیدیں ہیں۔ آپ علیہ السلام نے غضبناک ہوکر تقیریر فرمائی کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، آنحضرت اکا یہ غصہ دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کردوں“۔
"""
حدیث مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں مجتمعاً واقع ہوجاتی ہیں۔ اگر واقع نہ ہوتیں تو آنحضرت ا غضبناک نہ ہوتے اور فرمادیتے کہ کوئی حرج نہیں رجوع کرلو۔"""

اقتباس:
”عن مالک بلغہ ان رجلاً قال لابن عباس رضی اللہ عنہ انی طلقت امرأتی مأة تطلیقة ما ذاتری علی؟ فقال لہ ابن عباس رضی اللہ عنہ طلقت منک بثلاث وسبع وتسعون اتخذت بہا آیات اللہ ہزوا“
(مؤطا امام مالک ،ص:۵۱۰)
ترجمہ:…”ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں ہیں، اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاقوں سے تو عورت تجھ سے جدا ہوگئی اور بقیہ ستانوے طلاقوں سے تونے اللہ کی آیات کا تمسخر کیا ہے“۔

اور طحاوی شریف میں ہے:

”عن مالک بن حارث قال رجل الی ابن عباس رضی اللہ عنہ فقال ان عمی طلق امراتہ ثلاثاً فقال: ان عمک عصی الله فاثمہ الله واطاع الشیطان فلم یجعل لہ مخرجا فقلت کیف تری فی رجل یحلہا لہ فقال من یخادع الله یخادعہ…“
(طحاوی،،باب الرجل یطلق امراتہ ثلاثا معا ج:۲/۳۴)

ترجمہ:…”مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میرے چچا اپنی عورت کو دفعتً تین طلاقیں دے بیٹھے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے چچا نے خدا کی نافرمانی کی اور شیطان کی اطاعت کی اور آپ نے اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں نکالی۔ مالک بن حارث فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا :آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو اس عورت کو اس شوہر کے لئے حلال کرے؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ سے چالبازی کرے گا اللہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرے گا“۔


اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”عن انس رضی اللہ عنہ قال کان عمر رضی اللہ عنہ اذا اتی برجل قد طلق امراتہ ثلاثاً فی مجلس او جعہ ضرباً وفرق بینہما…“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)
وفیہ ایضا عن معمر عن الزہری فی رجل طلق امراتہ ثلاثاً جمیعاً قال ان من فعل فقد عصی ربہ وبانت منہ امراتہ“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)

ترجمہ:…”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہوتیں تو آپ رضی اللہ عنہ اس کو سزا دیتے ہیں اور دونوں میں تفریق کردیتے ہیں۔ تو قرآنی آیات وتفاسیر واحادیث سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دقعةً تین طلاقیں دینے سے تین ہی شمار ہوتی ہیں۔“
مجھے امید ھے منتظمین صاحب سمیت تمام پڑھنے والے بھائی بہن سمجھنے کی کوشش ضرور کریں گے کہ "تین طلاق" ایک ہی وقت میں دی گئیں تین ہی ھوتی ھیں ایک نہیں ، کیونکہ حضرات صحابہ عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے فتاوٰی شاھد ہیں کہ ایک وقت میں دی گئی تین طلاق تین ہی ھوتی ہیں۔

آخر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان بیان کردیتا ھوں تاکہ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام اور مرتبہ یاد رہے۔
شکریہ

حدثني محمد بن الصلت أبو جعفر الكوفي، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال أخبرني حمزة، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ بينا أنا نائم شربت ـ يعني اللبن ـ حتى أنظر إلى الري يجري في ظفري أو في أظفاري، ثم ناولت عمر ‏"‏‏.‏ فقالوا فما أولته قال ‏"‏ العلم ‏"‏‏.‏
مجھ سے ابوجعفر محمد بن صلت کوفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو حمزہ نے خبردی اور انہیں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دودھ پیا ، اتنا کہ میں دودھ کی سیرابی و آسودگی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پربہ رہی ہے ، پھر میں نے پیالہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی تعبیر علم ہے

صحیح بخاری
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم


حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا عبيد الله، قال حدثني أبو بكر بن سالم، عن سالم، عن عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أريت في المنام أني أنزع بدلو بكرة على قليب، فجاء أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين نزعا ضعيفا، والله يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب فاستحالت غربا، فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن ‏"‏‏.‏ قال ابن جبير العبقري عتاق الزرابي‏.‏ وقال يحيى الزرابي الطنافس لها خمل رقيق ‏{‏مبثوثة‏}‏ كثيرة‏.‏
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہاہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن سالم نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں ، جس پر ” لکڑی کا چرخ “ لگا ہوا ہے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرگیا ۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کرسکتاہو ۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پلاکر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے ۔ ابن جبیر نے کہا کہ عبقری کا معنی عمدہ اور زرابی اور عبقری سردار کو بھی کہتے ہیں ( حدیث میں عبقری سے یہی مراد ہے ) یحییٰ بن زیاد فری نے کہا ، زرابی ان بچھونوں کوکہتے ہیں جن کے حاشیے باریک ، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں ۔
صحیح بخاری
فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم


حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، قال حدثني أبي، عن صالح، عن ابن شهاب، أخبرني عبد الحميد، أن محمد بن سعد، أخبره أن أباه قال ح حدثني عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد، عن محمد بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال استأذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه، عالية أصواتهن على صوته فلما استأذن عمر بن الخطاب قمن فبادرن الحجاب فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال عمر أضحك الله سنك يا رسول الله‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب ‏"‏‏.‏ فقال عمر فأنت أحق أن يهبن يا رسول الله‏.‏ ثم قال عمر يا عدوات أنفسهن، أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن نعم، أنت أفظ وأغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إيها يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك ‏"‏‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، کہا مجھ کو عبدالحمید بن عبدالرحمن نے خبردی ، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبردی اور ان سے ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہاہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید نے ، ان سے محمد بن سعدبن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی چند عورتیں ( امہات المومین میں سے ) بیٹھی باتیں کررہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نان ونفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کررہی تھیں ، جوں ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ تمام کھڑی ہوکر پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ کھڑی ہوئیں ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اوروہ داخل ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ آپ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پرہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ، لیکن تمہاری آواز سنتے ہی سب پردے کے پیچھے بھاگ گئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ڈرناتو انہیں آپ سے چاہیے تھا ۔ پھرانہوں نے ( عورتوں سے ) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو ! تم مجھ سے تو ڈرتی ہو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں ، عورتوں نے کہاکہ ہاں ، آپ رضی اللہ عنہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ رضی اللہ عنہ کہیں زیادہ سخت ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے ۔
صحیح بخاری
فضائل صحابہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی یا اللہ ! اسلام کو عمر یا پھر ابوجہل کے اسلام سے عزت عطاکر۔ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں آپ کی دعا قبول فرمائی۔ جن کے مسلمان ہونے پر مسلمان کعبہ میں اعلانیہ نماز پڑھنے لگے اور تبلیغ اسلام کے لیے راستہ کھل گیا۔

حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، حدثنا قيس، قال قال عبد الله ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر‏.‏
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیاکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ عزت حاصل رہی
صحیح بخاری
فضائل صحابہ

والسلام
حسین
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-11-10), کنعان (31-10-10), شمشاد احمد (31-10-10)
پرانا 01-11-10, 12:18 AM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 423
کمائي: 13,788
شکریہ: 82
310 مراسلہ میں 836 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارے محلے کی مسجد میں ہر جمعہ جو وعظ ہوتا ہے ۔۔۔ اس میں بھی براہ راست حملہ ہوتا ہے ۔۔۔


کیا خیال ہے۔ یہاں بھی سعودیہ اور متحدہ عرب امارت کی طرح حکومت کی طرف سے لکھا ہوا خطبہ ائمہ اور خطبا ءِ مسجد کو نہ بھیج دیا کریں ؟
__________________
ہم ہار کے بھی جیت گئے۔ اور وہ جیت کے بھی ہار گئے۔
قاسم شاہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے قاسم شاہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-11-10), فاروق سرورخان (01-11-10)
پرانا 01-11-10, 12:38 AM   #28
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رائے بری نہیں ہے سو‌چا جا سکتا ہے۔۔۔۔ ویسے اس سے بہتر یہ نہیں کہ یہ حملے ترک کے کے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔۔۔ اب حکومت کیا کیا کرے گی۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-11-10), فاروق سرورخان (01-11-10)
پرانا 01-11-10, 02:17 AM   #29
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

الامارت و سعودیہ میں مساجد محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں پر نماز و جمعہ کے لئے امامت کروانے والوں کو تنخواہ ملتی ھے اسی لئے وہاں پر خطبہ بھی اوقاف کی طرف سے موصول ہوتا ھے۔

پاکستان میں مساجد کسی ایک کی ملکیت سے ھدیہ کی ہوئی ہیں اور نماز و جمعہ کی امامت کروانے والوں کو تنخواہ بھی صاحب ملکیت و انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی ھے اور جمعہ کے دن امام و علامہ صاحب نے کیا وعظ کرنا ھے اس کا انتخاب بھی انتظامیہ کرتی ھے۔ اگر وعظ ان کی مرضی کے کے مطابق نہ ہو تو اسے فارغ کر دیا جاتا ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-11-10), shafresha (01-11-10), فیصل ناصر (01-11-10), فاروق سرورخان (01-11-10)
پرانا 01-11-10, 02:05 PM   #30
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

الامارت و سعودیہ میں مساجد محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں پر نماز و جمعہ کے لئے امامت کروانے والوں کو تنخواہ ملتی ھے اسی لئے وہاں پر خطبہ بھی اوقاف کی طرف سے موصول ہوتا ھے۔

پاکستان میں مساجد کسی ایک کی ملکیت سے ھدیہ کی ہوئی ہیں اور نماز و جمعہ کی امامت کروانے والوں کو تنخواہ بھی صاحب ملکیت و انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی ھے اور جمعہ کے دن امام و علامہ صاحب نے کیا وعظ کرنا ھے اس کا انتخاب بھی انتظامیہ کرتی ھے۔ اگر وعظ ان کی مرضی کے کے مطابق نہ ہو تو اسے فارغ کر دیا جاتا ھے۔

والسلام
سعوديہ وغيرہ كے بارے ميں سنا تو ميں نے بھي يہي ہے كہ وہاں جمعہ كے خطبہ ميں سركاري لكھا ہوا خطبہ ديا جاتا ہے۔۔۔۔ ليكن ميرا وجدان يا چھٹي حس يہ كہتي ہے كہ۔۔۔ كہ يہ خطبہ ايسا لكھا ہوا نہيں ہوتا كہ حرف برف وہي پڑھنا ہوتا ہے۔۔۔ بلكہ موضوعات كا انتخاب كيا جاتا ہو گا۔۔۔ اور اس ميں بھي تفصيل ہو گي اس اس موضوع كے تحت يہ بيان كيا جائے اور يہ بيان نہيں كيا جائے گا۔۔۔۔۔ باقي تفصيل امام صاحب اپنے علم و فضل كے مطابق كرتے ہوں گے۔۔۔ بہر حال۔۔۔ وہاں كے حضرات سے اس بارے ميں تصديق كروائي جا سكتي ہے۔۔۔۔ غالبا ہمارے ہاں پاك نٹ پر بھي بعض حضرات سعودي عرب سے آتےہيں۔۔۔
پاكستان ميں عمومي طور پر دكھا جائے تو مساجد كي تقسيم مختلف قسم كي ہے۔۔۔ سركاري اور غير سركاري۔۔ پاكستان ميں محكمہ اوقاف كے زير انتظام تمام مساجد كو سركاري مساجد قرار ديا جاتا ہے۔ اور ان كے اخراجات اوقاف ہي برداشت كرتا ہے۔ وہ الگ بات ہے كہ اوقاف كے پاس مساجد كي بجلي كے بل دينے كے پيسے تك نہيں ہوتے تو ائمہ كرام عوام الناس سے عموما چند كر كے بجلي اور گيس كے بل ادا كرتے ہيں۔۔۔ باقي اخراجات كے علاوہ مؤذن ا ور امام كي تنخواہ اور تعميرات وغيرہ بھي اوقات كي طرف سے ہوتي ہيں۔۔۔ ليكن ہماري بات چونكہ امام صاحب كے حوالے سے ہو رہي ہے۔۔۔ تو وہ واضح ہے كہ اوقاف كے زير انتظام مساجد كي تنخواہيں سركاري طور پر امام و مؤذن كو ملتي ہيں۔۔۔ البتہ خطبے وغيرہ كا انتخاب امام صاحب كي صوابديد پر ہوتا ہے۔ بس سركاري اہل كار اس بات سے تو خوش ہوتے ہيں كہ مولوي ايك دوسرے پر حملے كرتے رہيں، مگر حكومتي پاليسوں پر تنقيد عموما برداشت نہيں كي جاتي اور ايسا كرنے والوں كو وقتا وفوقتا نوٹس آتے رہتے ہيں، مگر ا ن نوٹس كا كوئي خاص اثر نہيں ہوتا۔

دوسر غيرسركاري مساجد ہوتي ہيں جن كے اخراجات مثلا خصوصا امام و مؤذن وغيرہ كي تنخواہيں رہائش وغيرہ كا انتظار لوگ خود كرتے ہيں۔۔۔۔ ان مساجد ميں سے جن مساجد ميں مسجد كي كميٹي يا انتظاميہ مضبوط ہوتي ہے وہاں عموما مولوي صاحب ان كي مرضي و منشاء كے مطابق چلتے ہيں۔۔۔ بيشتر سمجھدار علماء بڑي حكمت سے متعلقہ كميٹي اور خود كو چلانے ميں كامياب رہتے ہيں۔۔۔ صرف جلد باز اور جذباتي حضرات ہي اپنا نقصان كر بيٹھتے ہيں۔۔۔۔ اور بيشتر جگہوں پر يہ كميٹياں اپنے مخصوص مفادات، كي وجہ سے امام و مؤن تبديل كرتي رہتي ہيں۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-11-10), shafresha (01-11-10), فاروق سرورخان (01-11-10)
جواب

Tags
گمان, قرآن, قرآنی, لوگ, لڑکی, چور, نظر, مکہ, موجودہ, مسجد, معلوم, آدمی, اکبر, اللہ, امیر, اسلام, خلاف, خدا, دریافت, راستہ, طلاق, عورت, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا تین سو برس پہلے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن مجیدکے نسخہ کی جرمنی میں نیلامی جاویداسد خبریں 1 04-09-10 03:52 AM
عورت - انجینئر کی نظر میں - خواتین سے معذرت کے ساتھ طاھر دلچسپ اور عجیب 8 10-09-09 02:49 AM
اگر دنیا خواتین کے ہاتھ میں ہو ابو عمار دلچسپ اور عجیب 73 06-09-09 01:04 AM
پاکستان کے فورم ساتھ کچھ تیکنیکی مسائل عرفان حیدر تجاویز اور شکایات 27 01-05-08 09:37 AM
::: تھائی لینڈ : باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین فوجی ہلاک ::: ابو کاشان خبریں 0 26-12-07 03:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger