| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 9 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (25-10-10), ابن جمال (15-02-11), بلال اویسی (26-10-10), شمشاد احمد (25-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10), عروج (16-02-11) |
|
|
#16 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
السلام علیکم کچھ مزید معلومات بھی ایک ساتھ تین طلاق ایک ہی وقت میں واقع ھونے سے متعلق پیش کرتا ھوں ۔ معاویہ ابن ابی یحی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں آپ نے جواب دیا بانت منک بثلاث:تیری بیوی تجھ سے تین طلاقوں سے جدا ہوگئی۔۔ (طحاوی۔ ج2 ص30) سنن بیہقی میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ اعمش کوفی بیان کرتے ہیں کہ ایک شیخ کہتے تھے کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے تو اس کو ایک طلاق مانا جائے گا۔ میں نے شیخ سے کہا کہ تم نے حضرت علی سے یہ کہاں سے سنا ہے ؟شیخ نے کہا میں اپنی کتاب نکالتا ہوں اس میں موجود ہے۔ شیخ نے کتاب نکال کر پیش کی تو اس میں بسم اللہ کے بعد لکھا ہوا تھا: ھذا ما سمعت علی بن ابی طالب یقول: اذا طلق الرجل امراتہ ثلاثا فی مجلس واحد فقد بانت منہ ولا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ: یہ وہ حدیث ہے جس کو میں نے حضرت علی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے تو عورت اس سے جدا ہوجائےگی اور بغیر حلالہ شرعی کے حلال نہ ہوگی۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ افسوس یہ تو تمہارے بیان کے خلاف ہے۔ شیخ نے کہا صحیح یہی ہے لیکن لوگوں نے مجھے مجبور کیا تھا،اس لئے میں نے اس کو اس طرح بیان کیا۔ (بیہقی:ج6ص245) شریک ابن نمر سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو عرفج کے درختوں کے برابر طلاق دی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا ان میں سے تین لے لو اور باقی چھوڑ دو۔ ( مصنف عبد الرزاق:ج6 ص394) حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل اور فتوی سنن دار قطنی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ واقعہ بیان کیا کہ میں نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں طلاق دیدی۔ پھر ارادہ کیا کہ دو طہروں میں بقیہ دو طلاقیں دیدوں۔ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپنے فرمایا اے ابن عمر!اس طرح تمکو اللہ نے حکم نہیں دیا ہے، تم نے سہی طریقہ کے خلاف کیا (کہ حالت حیض میں طلاق دیدی) سہی طریقہ یہ ہے کہ طہر کا انتظار کیا جائے اور ہر طہر میں ایک طلاق دی جائے ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رجوع کا حکم دیا، میں نے رجوع کرلیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب وہ پاک ہوجائے تو تمکو اختیار ہے چاہو تو طلاق دیدینا یا اسکو روکے رکھنا۔ ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ارایت لو انی طلقتھا ثلاثا اکان یحل لی ان اراجعھا، قال: لا، کانت تبین منک و تکون معصیۃ: اگر میں نے تین طلاقیں دی ہوتی تو کیا میرے لئے رجوع کرنا جائز ہوتا؟ حضور نے فرمایا نہیں!اس صورت میں بیوی تم سے جدا ہوجاتی اور تمہارا یہ فعل گناہ ہوتا۔ (سنن دار قطنی،ج2 ص438 زاد المعاد:ج2 ص257) اسی بنیاد ہر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تین طلاقوں کے پڑنے کا فتوی دیا کرتے تھے اور اسکی نسبت حضور کی طرف کرتے تھے بخاری میں آپ کا یہ فتوی آیا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ جب ابن عمر سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جاتا جس نے تین طلاقیں دی ہوں تو آپ فرماتے:اگر تو نے ایک یا دو طلاق دی ہوتی (تو تو رجوع کرسکتا تھا ( اس لئے کہ حضور نے مجھے اس کا (یعنی رجعت کا( حکم دیا تھا اوراگر تین طلاق دیدے تو عورت حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کرے (بخاری ، ج2 ص792) (مسلم: ج1 ص476) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور عورت اس سے جدا ہوگئی۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ: ج5 ص 11 ( مصنف عبد الرزاق،ج6 ص 359) ان روایات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ تین طلاق ایک ساتھ دینا یقینا مذموم فعل ہے اور سنت طریقہ کے خلاف ہے لیکن اگر کوئی دیدے گا تو وہ نافذ ہوجائیں گی اور عورت اس پر حرام ہوجائے گی۔ تاہم حُکم یہی ہے کہ ایک وقت میں تین طلاق نا دی جائیں ۔ باقی اللہ تعالٰی سب جانتا ھے ۔ والسلام آخر میں ایک اور واقعہ بھی پڑھ لیں جزاک اللہ روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسن بن علی رض نے ایک موقعہ پر اپنی بیوی عائشہ خثعمیہ کو اس لفظ سے طلاق دی: انطلقی فانت طالق ثلاثا تو چلی جا تجھکو تین طلاق ہے، عائشہ چلی گئی۔ عدت کے بعد حضرت حسن نے مابقی مھر اور دس ہزار مزید خدمت میں بھیجے، اس کو دیکھ کر عائشہ رو پڑی اور کہا:متاع قليل من حبيب مفارق حبیب کی جدائی کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔ قاصد نے آکر صورت حال حضرت کو بتائی تو حضرت حسن بھی رو پڑے اور فرمایا :اگر میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جوشخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے۔ عند كل طھر تطليقۃ خواہ ہر طہر میں ایک طلاق دے۔أو عند رأس كل شھر تطليقۃ یا ہر مہینے کے شروع میں طلاق دے۔أو طلقھا ثلاثا جميعا یا تین طلاق ایک ساتھ دیدے تو وہ عورت حلال نہیں ہوسکتی یہاں تک کہ دوسرا نکاح کرلے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں رجوع کرلیتا۔ ((سنن دار قطنی )) Last edited by sahj; 27-10-10 at 04:08 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساہج اپ ایک واقعہ خود کا بیان کردہ ہی بھول رہے ہیں۔ جس میں اپ نے یہ کہ تھا ایک ہی دفعہ میں تین طلاق حضرت عمر کے حکم سے شروع ہوا تھا۔ اس سے پہلے ایک ہی طلاق تصور کی جاتی تھی۔ اپ پر لازم ہے کہ حق کی بات کریں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | sahj (31-10-10), فیصل ناصر (27-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), ابن آدم (17-02-11), حیدر (27-10-10), شمشاد احمد (27-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10) |
|
|
#18 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم منتظمین بھائی
شاہج بھائی نے احادیث مبارکہ پیش کی ہیں اپنی قلم سے کچھ بھی کمنٹس نہیں لکھے شائد آپ کا اعتراض یہاں لاگو نہیں ہوتا جب تک وہ اپنی قلم سے ایسا نہیں کرتے۔ کیونکہ شاہج بھائی صاحب کچھ نہیں لکھ رہے صرف احادیث مبارکہ پیش کر رہے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (28-10-10), حیدر (27-10-10) |
|
|
#19 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یک طرفہ موقف پیش کررہے ہیں۔ موقف تو یہ خود بنا رہے ہیں۔
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), کنعان (27-10-10), ابن آدم (17-02-11), حیدر (27-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10) |
|
|
#20 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم منتظمین بھائی
کوئی بات نہیں اگر ایک موقف پیش کر رہے ہیں مگر کر احادیث مبارکہ سے رہے ہیں۔ دوسرے اور تیسرے موقف کے لئے کسی اور کو بھی موقع دیں، اگر سب کے موقف مطالعہ کی نظریہ سے ہی دیکھیں تو کوئی بھی مشکل نہیں کیونکہ اسطرح کے مسائل سے جو دوچار ہوتے ہیں انہوں نے کہیں نہ کہیں سے فتوٰی حاصل کر لینا ہوتا ھے بھلہ اس کا تعلق اس سے نہ بھی ہو مگر یہاں پر گفتگو اگر آرام سے اور مطالعہ کی رو سے کی جائے تو بہتر ہوتی ھے اور سکون بھی ملتا ھے۔ والسلام |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (28-10-10) |
|
|
#21 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
بھائیو!کچھ دوسرےموقف کے بارےمیں صر ف دو تین باتیں سامنےرکھتاہوں:: 1::عن ابن عباس کان الطلاق علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر وسنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ۔ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لھم فی اناۃ فلو امضیناہ علیھم امضیناہ علیہم ( صحیح مسلم، 850 ) ترجمہ:: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ رسالت میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پورے عہد خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع دو سال تک تین طلاقیں ایک ہی شمارہوتی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے کام میں جلدی sبازی شروع کردی جس میں ان کو مہلت تھی پس اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو نافذ کردیں ( تو مناسب ہے ) پس انہوں نے تین طلاقوں کا نافذ کر دیا۔ طلاق رکانۃ امراتہ فی مجلس واحد فحزن علیھا حزناً شدیداً قال فسالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ کیف طلقتھا ثلاثاً، قال طلقتھا ثلاثا فقال فی مجلس واحد؟ قال نعم قال فانما تلک واحدۃ فراجعھا ان شئت قال فراجعھا ( مسند احمد ، ص: 165 ج: 1 ) یعنی حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے کر سخت غمگین ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح طلاق دی ہے۔ عرض کیا کہ حضور! میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا ایک مجلس میں ہی ہیں؟ جواب دیا ہاں ایک ہی مجلس میں دی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تین طلاقیں ایک مجلس کی ایک ہی ہوئیں، اگر تو چاہتا ہے تو بیوی سے رجوع کرلے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں کہ حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ نے رجوع کر لیا۔ یہ حدیث بھی سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ چنانچہ فن حدیث کے امام الائمہ حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں اسی مسند احمد کی حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔ وھذا الحدیث نص فی المسئلۃ لا تقبل تاویل الذی فی غیرہ۔ یعنی مجلس واحد کی طلاق ثلاثہ کے ایک ہونے میں یہ حدیث ایسی نص صریح ہے جس میں تاویل کی گنجائش نہیں جو دوسروں میں کی جاتی ہے۔ 2::اب باقی رہ گیاجناب عمر رضی اللہ عنہ کا حکم تو یہ انہوں نے واپس بھی لے لیا تھاجس سےپتہ چلتاہےکہ یہ ایک تدبیری یاتعزیری حکم تھا،امام ابن القیم نے اغآثۃ اللھفان میں یہی بات بیان فرمائی ہے:: "" امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی چيز پر اتنا نادم نہیں ہوا جتنا کہ تین چيزوں پر ہوا کاش میں طلاق کو حرام نہ کرتا اور لونڈیوں کی شادی نہ کرواتا اور نوحہ کرنے والی عورتوں کو قتل نہ کرواتا-" (اغثاۃ اللھفان ج1، ص:351) امیر المومنین عمر کے ایسے کئی اقدام ہیں جو انتظام کے طور پر تھے- مثلا: ... شرابی کا گھر جلانا- (کتاب الاموال لابی عبید القاسم ابن سلام، ص:102 وما بعدھا) ... اسی طرح جب لوگ شراب سے باز نہیں آرہے تھے تو اس کی سزا 40 سے بڑھا کر 80 کوڑوں تک کردی اور بعض کو ملک بدر کردیا- ...کوفہ کے گورنر سعد رض کی جگہ کو جلانا اس لیے کہ رعیت والوں سے وہ پردہ میں تھے- (اغاثۃ اللھفان، ج1، ص: 348- 349) 4::اب یہ آیت پڑھیں:: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں بھٹک گیا [33:36] علامہ طحطاوی احناف کی مشہور کتاب در مختار میں رقم فرماتے ہیں:: " پس امیر المومنین عمر رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنے والے نہیں تھے، نہ انکو ایسا حق تھا اسکی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ وہ خود اپنے دور خلافت میں نبوی فیصلے پر کاربند تھے اور اسی کے مطابق فیصلہ نافظ کرتے تھے- اسلئے ان کے اس انتظامی قدم کو اپنے مذہب کی دلیل بنانا اختلاس ہے اقتباس نہیں – بلکہ شریعت میں ناجائز تصرف ہے-" ( حاشیہ در مختار، ج2، ص:12 ![]() 3::جب اختلافی بات ہوتو فٹ سے گمراہی کےفتاوٰی نہیں لگا دینے چاہیں::ذرا دیکھں تو سہی کہ کون کون ان غیر محتاط فتاوٰی کی زد میں آتا ہے!!! صحابہ کرام میں عبداللہ بن عباس ، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت علی ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ تابعین میں امام طاؤس ، امام عکرمہ نے بھی اسی کا فتویٰ دیا ہے اور تبع تابعین میں سے محمد بن اسحاق وغیرہ نے بھی یہی فتویٰ دیا اور خلاس بن عمرو اور حارث عکلی نے اسی کا فتویٰ دیا ہے اور تبع تابعین کے اتباع میں سے داؤد بن علی اور ان کے اکثر اصحاب نے بھی اسی کا فتویٰ دیا ہے اور بعض مالکیہ اور بعض حنفیہ اور بعض حنابلہ نے بھی تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتویٰ دیا ہے!!!"" ( اعلام الموقعین، ص: 26 ) مفصل بات تو اہل علم ہی کریںگے یہ میرے علم کیحدتک معلومات تھیں،اور ساہج بھائی نےچونکہ یک طرفہ طور پر بات کا ایک ہی رخ دکھایاہے جبکہ ایسا نہیں ہے تو اس لیے عرض کی ہیں...................اور میں ان کے موقف کا احترام کرتا ہوں!!! باقی مسئلہ یہ ایساہےکہ صدیوں سےبحث ہو رہی ہے.............. والسلام علیکم Last edited by عبداللہ آدم; 28-10-10 at 12:42 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی کہانیاں پیش کی ہیں آپ نے ۔ شکریہ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (28-10-10), نورالدین (18-02-11) |
|
|
#23 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تیسرا مؤقف میں اپنا بھی پیش کر دیتا ہوں۔۔۔۔
اقتباس:
نکاح۔ طلاق۔ اور حلالہ بحث کا خلاصہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
تیسرا موقف میرا بھی سمجھا جائے.
والسلام |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (28-10-10), فیصل ناصر (28-10-10), فاروق سرورخان (28-10-10), کنعان (28-10-10), شمشاد احمد (28-10-10) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی طلاق کو "دینے" اور طلاق کو "لینے" کے محاورے وقت کی پیدا وار ہیں۔ طلاق بنیادی طور پر مرد کی کی طرف سے عورت کے لئے اطلاع ہے ۔ اس اطلاح کے بعد عدت شروع ہوتی ہے اور عدت کے ختم ہونے تک رجوع کا حق باقی رہتا ہے۔ اس عدت کے اختتام پر طلاق مکمل ، واقع یا نافذہوجاتی ہے۔ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد مرعد و عورت کو مرضی سے نکاح کا حق حاصل ہے۔
اب یہ اطلاع تین بار دی گئی ، یا تیس بار، طلاق عدت پوری ہونے پر ہی واقع ہوگی۔ البتہ تیسری بار طلاق واقع، نافذ یا مکمل ہوجانے پر مردو عورت کے پاس مزید نکاحمع مہر کرنے کا حق نہیں رہتا۔ لیکن تیسری طلاق کی اطلاح کے بعد بھی دوران عدت مرد کو رجوع کرنے کا حق ہے۔ طلاق کی اطلاّمرد کود یا کوئی اور یا کوئی کاغذ ، چاہے تین بار دے یا تیس بار، یہ صرف اور صرف اطلاع ہے۔ اس اطلاع سے عدت کی مدت شروع ہوئی۔ اور تین حیض یا تین مہینے جاری رہی۔ اس کے بارے مٰیںآیات دیکھئے۔۔۔۔ شرعی طریقہِ طلاق والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#26 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
حق بات یہی ھے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفہ راشد اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ خلیفہ راشد ہیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد مسند خلافت پر فائض ھوئے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ترین امتی ہیں اور ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ ھے ۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھے عن ابی حزیفہ قا ل قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقتدوا باللزین من بعدی ابی بکر و عمر ۔ (ترمزی ،، ص،507،،ج2،،) ترجمہ:- ان دونوں کی اقتداء اور پیروی کرو جو میرے بعد ہو یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ مزید فرمان رسالت ھے عن العرباض ابن ساریہ یقول قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سترون من بعدی اختلافاً شدیداً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔ (ابن ماجہ،،ص،،5،) ترجمہ:- عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں خطبہ دیا (اور اسکے درمیان فرمایا) میرے بعد تم لوگ بہت سے اختلافات دیکھو گے تو میری سنت اور میرے ھدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پابندی کرو ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) ، پھر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور پھر حضرت عثمان (رض) ہیں ۔ صحيح بخاري كتاب فضائل الصحابہ ابوحبیبہ (رحمتہ اللہ) نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : میرے بعد تم لوگ فتنے اور اختلاف میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔ کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : تم (اس) امین (امیر) اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑ لینا ۔ مسند احمد المجلد الثانی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی ہیں کہ شیطان تمھیں جس راستے آتا ھوا ملتا ہے وہ اس تیرے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے میں بھاگ جاتا ہے " ۔ ( بخاری ) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) ہیں ۔ صحيح بخاري كتاب فضائل الصحابة محترم منتظمین صاحب اوپر درج احادیث سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام اور اعلٰی مرتبہ صاف عیاں ھے اس میں کسی کو بھی مسلمان کو شک نہیں ، یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا چاھتا ھوں اور امید ھے اس سے شاید بات سب کی سمجھ میں آجائے جو کئی مسائل کو اسلئے اختلافی قرار دیتے ہیں کہ زمانہ نبوت میں تو ایسا ایسا ھوتا تھا یا کسی صحابی کے عمل کو نبی کے عمل پر ترجیع نہیں دینا چاھئے یا حجت صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور عمل ھے ۔ اسمیں شک نہیں ھے کہ تمام مسلمانوں کے واسطے حجت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ، اسی عقیدے کے مطابق ہی اوپر چند احادیث پیش کی ہیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ ""سترون من بعدی اختلافاً شدیداً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔""(ابن ماجہ،،ص،،5،) دیکھئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا تھا کہ تم شدید اختلافات دیکھو گے ساتھ ہی تاکید بھی کردی کہ جب اختلافات پیدہ ھوں تو خلفہ راشدین کے طرز عمل سے رہنمائی لے لینا کہ ان کی سنت کیا ھے ۔ یہاں یہ بھی واضع ھونا چاھئے کہ کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منشاء نبوت کے برخلاف کبھی بھی کچھ نہیں کیا اور خلفہ راشدین تو خصوصی مقام کے حاملین ہیں وہ ایسا عمل جاری کیسے کرسکتے ہیں جو منشائے نبوت کے خلاف ھو؟ طلاق کے مسئلہ میں بھی وجہ نضاع یہی بات ھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی جاتی ھے کہ" یہ نبی کا طریقہ نہیں صحابی کا عمل ھے اور صحابی کا عمل حجت نہیں"۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے کہ "فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین" تو ہم پر لازم ھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ دیا چاھے وہ طلاق کے مسئلے میں ھو یا کسی اور مسئلے میں جیسے تراویح کی مسلسل سارا رمضان باقائدہ جماعت ۔ یہاں بھی اختلاف پیدہ ھوا کہ تراویح 20 ہیں یا 8 ؟ لیکن یہ اختلاف کرنے والے بھی سارا رمضان مسلسل بلا ناغہ تراویح کی جماعت کا قیام فرماتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو مانتے ھوئے، لیکن رکعتوں میں اختلاف کیا جاتا ھے کہ 8 تھیں، بھئی سیدھی سی بات ھے 8 تھیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے 20 کیوں شروع فرمائیں اور یہ ہی نہیں زمانہ نبوت سے لیکر عمر رضی اللہ عنہ کے دور تک ایک جماعت سے تراویح اور وہ بھی سارے رمضان روزانہ بلاناغہ۔ جبکہ حدیث میں ہے "حضرت ابو ہر یرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان(یعنی نماز تراویح) کی ترغیب دیا کرتے تھے لیکن تاکید کے ساتھ صحابہ کو کوئی حکم نہیں دیا کرتے تھے چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ '' جو آدمی صحیح اعتقاد کے ساتھ حصول ثواب کے لیے (یعنی ریاء نمازئش کے جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ محض اﷲ جل شانہ کی رضاء و خوشنودی کے لیے رمضان میں قیام کرتا ہے اس کے لیے پہلے گناہ صغیرہ بخش دئیے جاتے ہیں'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور قیام رمضان کا معاملہ اسی طرح رہا (یعنی نماز تراویح کے لیے جماعت مقرر نہیں تھی بلکہ جو جانتا تھا حصول ثواب کے لیے پڑھ لیتا تھا) پھر حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت میں بھی یہی صورت رہی اور حضرت عمر کے زمانہ خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی یہی معمول رہا ( اور حضرت عمر نے نماز تراویح کے لیے جماعت کا حکم دیا اور اس کا التزام کیا۔'' (صحیح مسلم) اور آج تمام مسلمان چاھے وہ آٹھ تراویح پڑھے یا 20 لیکن تمام رمضان بلاناغہ روزانہ تراویح جماعت سے ادا کرتے ہیں ، دیکھئے یہاں ایک حکم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے نافض ھوا جو پہلے نہیں تھا یعنی باجماعت ،روزانہ تراویح ۔ جو پہلے نہیں ھوتی تھی یا ھوئی تو روز نہیں ھوئی جیسے اس حدیث سے معلوم ھوتا ھے ""حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا فَصَلَّی عَلَيْهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ فِيهِ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلًا وَلَا خَفِيَ عَلَيَّ مَکَانُکُمْ ہناد، عبدہ محمد بن عمرو، محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ، بن عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رمضان میں لوگ مسجد میں (تراویح کی نماز) تنہا تنہا پڑھا کرتے تھے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھائی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر وہی قصہ بیان کیا (اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگو بخدا میں رات میں بفضل خدا غافل نہیں رہا اور نہ ہی تمہارا حال مجھ سے مخفی رہا۔"" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مسئلہ اپنی بات سمجھانے کی غرض سے پیش کیا ھے تاکہ یہ سمجھا سکوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تین طلاق کو تین ہی حکم کیا ھے اسے ماننا لازم ھے اسلئے کہ اگر مانتے ہیں تو یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی فرمانبرداری میں سے ھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی خلفہ راشدین کی اطاعت کا حکم دیا ھے ۔ اور جناب منتظمین صاحب حق بات اور کیا ھوگی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق دیئے جانے کے معاملہ میں (ناراضگی کا اظہار فرماتے ھوئے بھی ( تین طلاق کو تین ہی نافض فرمایا ۔ اقتباس:
اقتباس:
آخر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان بیان کردیتا ھوں تاکہ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مقام اور مرتبہ یاد رہے۔ شکریہ حدثني محمد بن الصلت أبو جعفر الكوفي، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال أخبرني حمزة، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا أنا نائم شربت ـ يعني اللبن ـ حتى أنظر إلى الري يجري في ظفري أو في أظفاري، ثم ناولت عمر ". فقالوا فما أولته قال " العلم ". مجھ سے ابوجعفر محمد بن صلت کوفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو حمزہ نے خبردی اور انہیں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دودھ پیا ، اتنا کہ میں دودھ کی سیرابی و آسودگی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پربہ رہی ہے ، پھر میں نے پیالہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی تعبیر علم ہے صحیح بخاری فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا عبيد الله، قال حدثني أبو بكر بن سالم، عن سالم، عن عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " أريت في المنام أني أنزع بدلو بكرة على قليب، فجاء أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين نزعا ضعيفا، والله يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب فاستحالت غربا، فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن ". قال ابن جبير العبقري عتاق الزرابي. وقال يحيى الزرابي الطنافس لها خمل رقيق {مبثوثة} كثيرة. ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہاہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن سالم نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں ، جس پر ” لکڑی کا چرخ “ لگا ہوا ہے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرگیا ۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کرسکتاہو ۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پلاکر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے ۔ ابن جبیر نے کہا کہ عبقری کا معنی عمدہ اور زرابی اور عبقری سردار کو بھی کہتے ہیں ( حدیث میں عبقری سے یہی مراد ہے ) یحییٰ بن زیاد فری نے کہا ، زرابی ان بچھونوں کوکہتے ہیں جن کے حاشیے باریک ، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں ۔ صحیح بخاری فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، قال حدثني أبي، عن صالح، عن ابن شهاب، أخبرني عبد الحميد، أن محمد بن سعد، أخبره أن أباه قال ح حدثني عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد، عن محمد بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال استأذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه، عالية أصواتهن على صوته فلما استأذن عمر بن الخطاب قمن فبادرن الحجاب فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال عمر أضحك الله سنك يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب ". فقال عمر فأنت أحق أن يهبن يا رسول الله. ثم قال عمر يا عدوات أنفسهن، أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن نعم، أنت أفظ وأغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " إيها يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك ". ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، کہا مجھ کو عبدالحمید بن عبدالرحمن نے خبردی ، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبردی اور ان سے ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہاہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید نے ، ان سے محمد بن سعدبن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی چند عورتیں ( امہات المومین میں سے ) بیٹھی باتیں کررہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نان ونفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کررہی تھیں ، جوں ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ تمام کھڑی ہوکر پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ کھڑی ہوئیں ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اوروہ داخل ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ آپ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پرہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ، لیکن تمہاری آواز سنتے ہی سب پردے کے پیچھے بھاگ گئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ڈرناتو انہیں آپ سے چاہیے تھا ۔ پھرانہوں نے ( عورتوں سے ) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو ! تم مجھ سے تو ڈرتی ہو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں ، عورتوں نے کہاکہ ہاں ، آپ رضی اللہ عنہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ رضی اللہ عنہ کہیں زیادہ سخت ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے ۔ صحیح بخاری فضائل صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی یا اللہ ! اسلام کو عمر یا پھر ابوجہل کے اسلام سے عزت عطاکر۔ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں آپ کی دعا قبول فرمائی۔ جن کے مسلمان ہونے پر مسلمان کعبہ میں اعلانیہ نماز پڑھنے لگے اور تبلیغ اسلام کے لیے راستہ کھل گیا۔ حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، حدثنا قيس، قال قال عبد الله ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر. ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیاکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ عزت حاصل رہی صحیح بخاری فضائل صحابہ والسلام حسین |
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 423
کمائي: 13,788
شکریہ: 82
310 مراسلہ میں 836 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارے محلے کی مسجد میں ہر جمعہ جو وعظ ہوتا ہے ۔۔۔ اس میں بھی براہ راست حملہ ہوتا ہے ۔۔۔
کیا خیال ہے۔ یہاں بھی سعودیہ اور متحدہ عرب امارت کی طرح حکومت کی طرف سے لکھا ہوا خطبہ ائمہ اور خطبا ءِ مسجد کو نہ بھیج دیا کریں ؟
__________________
ہم ہار کے بھی جیت گئے۔ اور وہ جیت کے بھی ہار گئے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے قاسم شاہ کا شکریہ ادا کیا | shafresha (01-11-10), فاروق سرورخان (01-11-10) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رائے بری نہیں ہے سوچا جا سکتا ہے۔۔۔۔ ویسے اس سے بہتر یہ نہیں کہ یہ حملے ترک کے کے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔۔۔ اب حکومت کیا کیا کرے گی۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (01-11-10), فاروق سرورخان (01-11-10) |
|
|
#29 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
الامارت و سعودیہ میں مساجد محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں پر نماز و جمعہ کے لئے امامت کروانے والوں کو تنخواہ ملتی ھے اسی لئے وہاں پر خطبہ بھی اوقاف کی طرف سے موصول ہوتا ھے۔ پاکستان میں مساجد کسی ایک کی ملکیت سے ھدیہ کی ہوئی ہیں اور نماز و جمعہ کی امامت کروانے والوں کو تنخواہ بھی صاحب ملکیت و انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی ھے اور جمعہ کے دن امام و علامہ صاحب نے کیا وعظ کرنا ھے اس کا انتخاب بھی انتظامیہ کرتی ھے۔ اگر وعظ ان کی مرضی کے کے مطابق نہ ہو تو اسے فارغ کر دیا جاتا ھے۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#30 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پاكستان ميں عمومي طور پر دكھا جائے تو مساجد كي تقسيم مختلف قسم كي ہے۔۔۔ سركاري اور غير سركاري۔۔ پاكستان ميں محكمہ اوقاف كے زير انتظام تمام مساجد كو سركاري مساجد قرار ديا جاتا ہے۔ اور ان كے اخراجات اوقاف ہي برداشت كرتا ہے۔ وہ الگ بات ہے كہ اوقاف كے پاس مساجد كي بجلي كے بل دينے كے پيسے تك نہيں ہوتے تو ائمہ كرام عوام الناس سے عموما چند كر كے بجلي اور گيس كے بل ادا كرتے ہيں۔۔۔ باقي اخراجات كے علاوہ مؤذن ا ور امام كي تنخواہ اور تعميرات وغيرہ بھي اوقات كي طرف سے ہوتي ہيں۔۔۔ ليكن ہماري بات چونكہ امام صاحب كے حوالے سے ہو رہي ہے۔۔۔ تو وہ واضح ہے كہ اوقاف كے زير انتظام مساجد كي تنخواہيں سركاري طور پر امام و مؤذن كو ملتي ہيں۔۔۔ البتہ خطبے وغيرہ كا انتخاب امام صاحب كي صوابديد پر ہوتا ہے۔ بس سركاري اہل كار اس بات سے تو خوش ہوتے ہيں كہ مولوي ايك دوسرے پر حملے كرتے رہيں، مگر حكومتي پاليسوں پر تنقيد عموما برداشت نہيں كي جاتي اور ايسا كرنے والوں كو وقتا وفوقتا نوٹس آتے رہتے ہيں، مگر ا ن نوٹس كا كوئي خاص اثر نہيں ہوتا۔ دوسر غيرسركاري مساجد ہوتي ہيں جن كے اخراجات مثلا خصوصا امام و مؤذن وغيرہ كي تنخواہيں رہائش وغيرہ كا انتظار لوگ خود كرتے ہيں۔۔۔۔ ان مساجد ميں سے جن مساجد ميں مسجد كي كميٹي يا انتظاميہ مضبوط ہوتي ہے وہاں عموما مولوي صاحب ان كي مرضي و منشاء كے مطابق چلتے ہيں۔۔۔ بيشتر سمجھدار علماء بڑي حكمت سے متعلقہ كميٹي اور خود كو چلانے ميں كامياب رہتے ہيں۔۔۔ صرف جلد باز اور جذباتي حضرات ہي اپنا نقصان كر بيٹھتے ہيں۔۔۔۔ اور بيشتر جگہوں پر يہ كميٹياں اپنے مخصوص مفادات، كي وجہ سے امام و مؤن تبديل كرتي رہتي ہيں۔۔۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| گمان, قرآن, قرآنی, لوگ, لڑکی, چور, نظر, مکہ, موجودہ, مسجد, معلوم, آدمی, اکبر, اللہ, امیر, اسلام, خلاف, خدا, دریافت, راستہ, طلاق, عورت, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا تین سو برس پہلے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن مجیدکے نسخہ کی جرمنی میں نیلامی | جاویداسد | خبریں | 1 | 04-09-10 03:52 AM |
| عورت - انجینئر کی نظر میں - خواتین سے معذرت کے ساتھ | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 8 | 10-09-09 02:49 AM |
| اگر دنیا خواتین کے ہاتھ میں ہو | ابو عمار | دلچسپ اور عجیب | 73 | 06-09-09 01:04 AM |
| پاکستان کے فورم ساتھ کچھ تیکنیکی مسائل | عرفان حیدر | تجاویز اور شکایات | 27 | 01-05-08 09:37 AM |
| ::: تھائی لینڈ : باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین فوجی ہلاک ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 26-12-07 03:56 PM |