| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ
ابو طالب کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملاحظہ فرمائیے ، اور غور کیجیے کہ کیوں کِسی دِل و دِماغ میں ایسی شخصیت کے لیے ، رضی اللہ عنہُ یا علیہ السلام کا لقب آتا ہے ، جو کہ بالترتیب صحابہ اور نبیوں کے لیے خاص ہے ؟؟؟ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُن کے چچا ابو طالب کا ذِکر کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا ( لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِی یوم الْقِیَامَۃِ فَیُجْعَلُ فی ضَحْضَاحٍ من النَّارِ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِی منہ اُمُّ دِمَاغِہِ) ( اُمید ہے کہ اُسے قیامت والے دِن میری سفارش فائدہ دے اور اُسے( جہنم کی ) آگ کے اُس تالاب میں ڈال دِیا جائے جو اُس کے ٹِخنوں تک ہو گا (اور اُس کی گرمی کی وجہ سے ) ابو طالب کا دماغ اُبلتا رہے گا ) صحیح البُخاری / حدیث ٦٥٦٤ /کتاب الرقاق /باب٥١ ، صحیح مُسلم/حدیث ٢٠٩/کتاب الاِیمان/باب ٩٠ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ، عباس رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ::: اے رسول اللہ ، ابو طالب آپ کی حفاظت کیا کرتا تھا اور آپ کی مدد کیا کرتا تھا ، کیا آپ نے ابو طالب کو (آخرت میں) کوئی فائدہ پہنچایا ہے ؟::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( نَعم ہُوَ فِی ضَحْضَاحٍ من نَارٍ وَلَوْلَا اَنا لَکَانَ فی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِن النَّارِ ) ( جی ہاں ، اُسے( جہنم کی ) آگ کے چھوٹے تالاب میں ڈال دِیا گیا ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوتا) صحیح مُسلم/حدیث ٢٠٩/کتاب الاِیمان/باب ٩٠ دوسری روایت میں ہے ::: کیا اُسے ایسا کرنے کا (آخرت میں) کوئی فائدہ ہوا؟ ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( نَعم وَجَدْتُہُ فی غَمَرَاتٍ من النَّارِ فَاَخْرَجْتُہُ اِلی ضَحْضَاحٍِ ) ( جی ہاں ، میں نے اُسے( جہنم کی) آگ کے سب سے بڑے حصے میں پایا تو وہاں سے نکال کر آگ کے چھوٹے تالاب میں لے آیا ) صحیح مُسلم/حدیث ٢٠٩/کتاب الاِیمان/باب ٩٠ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات صاف اور واضح ہیں کہ ابو طالب حالتِ اِسلام میں نہیں بلکہ حالتِ کُفر میں دُنیا سے رخصت ہوا ، زندگی میں جو کچھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے کرتا رہا وہ ، اپنے بھتیجے کے لیے تھے ، نہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ، اور نہ ہی اللہ کی رضا کے لیے اور نہ ہی اللہ کے دِین کی سر بلندی کے لیے ، اگر ایسا ہوتا تو کم از کم مرتے ہوئے ہی کلمہ پڑھ لیا جاتا ، اور جہنم میں یہ عذاب نہ مل رہا ہوتا ، ان باتوں سے زیادہ اہم سوال یہ کہ ، ہم خود کیا کر رہے ہیں ؟ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں ، اور اللہ کے دِین کے لیے ، صحیح سُنّت کے مطابق کیا کام کر رہے ہیں ؟؟؟ یقین مانیئے اللہ تعالیٰ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ ابو طالب مسلمان مرا تھا یا کافر ، بلکہ ہم سے ہمارے بارے میں پوچھا جائے گا ((( تِلکَ اُمۃٌ قَد خَلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم و لا تُسئَلون عن ما کانوا یفعلون ::: وہ لوگ گذر چکے ہیں اُن کے لیے وہ ہے جو اُنہوں نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تُم نے کمایا اور تُم لوگوں کو اُن کے بارے نہیں پوچھا جائے گا ))) اگر تو اِس قِسم کے سوالات عقیدے کی درستگی کے لیے ہوں تو اِنشاء اللہ کوئی حرج نہیں ، اور اگر کِسی اور غرض سے ہوں تو ((( اِنما الاعمال بالنیات ::: بے شک عملوں (کے نتائج )کا دارومدار نیتوں پر ہے ))) ا و السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ Last edited by عادل سہیل; 08-12-07 at 11:16 PM. وجہ: re formatting |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (09-12-07) |
|
|
#17 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
عادل بھائی کو اللہ جزائے خیر دے انہوں نے بات وضاحت سے بیان کر دی ہے۔ مزید اضافہ کرتا چلوں کہ 1۔مشرکین سے نکاح کی ممانعت مدینہ منورہ آنے کے بعد نازل ہوئی تھی۔ سورۃ البقرۃ اور سورۃ الممتحنۃ میں اس بارے میں احکامات مذکور ہیں اور یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں۔ آغاز اسلام میں بکثرت مرد ایسے تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر ان کی بیویاں مسلمان نہ ہوئی تھیں اور بہت سی عورتیں ایسی تھیں جو مسلمان ہو گئیں مگر ان کے شوہروں نے اسلام قبول نہ کیا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کے شوہر ابوالعاص غیرمسلم تھے اور کئی سال تک غیر مسلم رہے۔ ابتدائی دور میں ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ مسلمان عورت کے لیے اس کا کافر شوہر اور مسلمان مرد کے لیے اس کی مشرک بیوی حلال نہیں ہے۔ اس لیے ان کے درمیان ازدواجی رشتے برقرار رہے۔ ہجرت کے بعد بھی کئی سال تک یہ صورتِ حال برقرار رہی۔
2۔ ابراھیم علیہ السلام نے حج کا جو طریقہ بتایا تھاجاہلیت کے زمانہ میں اس کے سارے اجزاء ضائع نہیں ہوئے تھے۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ عرب اس وقت بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے۔لیکن ابراھیم علیہ السلام کے طریقے کو چھوڑ کر انہوں نے دین میں بدعات کو رواج دے دیا تھا۔ چنانچہ طواف کے وقت سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے اور ننگے ہو کر طواف کرنے کو (نعوذباللہ) اللہ کا حکم قرار دیتے۔ سورۃ الانفال میں ہے: و ما کان صلاتھم عند البیت الا مکاء و تصدیۃ (الانفال۔35) "اور بیت اللہ کے نزدیک ان کی نماز تالیاں پیٹنے اور سیٹیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی" برہنہ ہو کر طواف کرنے کی رسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: و اذا فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیھا آباءنا واللہ امرنا بھا قل ان اللہ لا یامر بالفحشاء (الاعراف۔2 ![]() "اور جب وہ بے حیائی کا کوئی کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے آباء کو اسی پر پایا ہے اور ہم کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے، کہو بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا" 3۔ نکاح کے وقت کونسے کلمات پڑھے گئے تھے، اس کا کوئی ذکر مجھے نہیں مل سکا۔گواہوں کی موجودگی میں واضح طور پر ایجاب و قبول ہو جائے تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے، خاص الفاظ کی ادائیگی ضروری نہیں ہے۔ خطبہ نکاح مسنون ہے فرض نہیں۔ اسی لیے صحابہ اور صحابیات میں سے جو میاں بیوی دونوں مسلمان ہو گئے انہیں سابقہ نکاح پر برقرار رکھا گیا تھا۔ آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مومن ہونے کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں۔ کوئی شخص ان پر ایمان رکھتا ہو تو ابوطالب کے ایمان یا کفر کے بارے میں اس سے دریافت نہیں کیا جائے گا۔میرا مشورہ ہے کہ ان بحثوں میں پڑنے کی بجائے قرآن و حدیث کی صریح نصوص کی طرف توجہ کی جائے تو بہتر ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (10-12-07), عبداللہ آدم (19-08-10) |
|
|
#18 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,890
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فضول سوالوں اور بحثوں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 12:38 AM. |
|
|
|
|
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
جناب یہ کو ءی فضول بحث نہیں کیوں کہ سوال کیا گیا جس کا جواب دیا گیا، رہی بات اسکی کہ ہمیں اسطرح کہ کاموں میں نہیں پڑنا چاہیے تو اسکے لیے میں یہ عرض کروں کہ اگر خدا نخواستہ کو ءی دین کہ نام پر غلط کام کرتا ہے تو کو ءی تو ہو جو اسکو اس غلط کام سے روکے،اور جب اپ کسی کو کسی کام سےروکتے ہیں تو وہ اسکی وجہ پوچتے ہیں جوکہ بتانی لازم ہے تاکہ غلط فہمی جنم نہ لے۔میں ابھی مختلف احادیث جمع کر رہا ہوں اور مختلف کتابوں سے مختلف پیرا گراف بھی لکھنے پڑ رہے ہیں اسلیے فلحال میں کچھ نہیں بتا سکتا دعا کر یں جلد مکمل ہو تا کہ پوسٹ کر سکوں۔ وسلام |
|
|
|
| عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (10-12-07) |
|
|
#20 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میںاپکی منطق سے بالکل متفق ہوں۔۔۔۔
اپکی تحقیق کا انتظار رہے گا۔۔۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بھائی عرفان حیدر ، میں بھی آپ کی طرف سے تحقیق شدہ مواد کا منتظر ہوں ، اور یہ گذارش بھی کرتا ہوں کہ اپنی تحقیق کے حوالہ جات بھی وضاحت سے لکھ دیجیئے گا ، اور یہ بھی واضھ فرمائیے کہ مندرجہ بالا مراسلہ میں جو قول علی رضی اللہ عنہُ و ارضاہ کا آپ نے ذَکر کیا ہے ، اُس کا رواں موضوع کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ میں نے اپنے جواب میں اللہ تعالی کا ایک فرمان ذکر کیا تھا اور اُس کی روشنی میں کچھ عرض کیا تھا، عبداللہ حیدر بھائی نے بھی تقریبا وہی کہا ہے ، بھائی ، اُس نصیحت پر غور فرمائیے ، پھر بھی اگر آپ ایسے موضوعات کو زیر بحث لانا ہی چاہتے ہیں تو ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردی حدود میں رہتے ہوئے ہم انشا اللہ آپ کے ہر سوال کا جواب دینے کی بھر پور اور مُثبت کوشش کریں گے ، تا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر حق واضح فرمائے اور اُصے قُبُول کر کے اُس پر عمل کرنے اور اپصی پر مرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ السلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 12:40 AM. |
|
|
|
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
سب پہلے تو میں آپکی یہ غلط فہمی دور کردوں کہ میں اسطرح کے موضوعات پر بحث ہی نہیں کرنا چاہتا، اسوقت اگر میں کچھ لکھ رہا ہوں تو وہ صرف اسلئے کہ ایک سوال پوچھا گیا تھا اور میں اس کا اسی طرح جواب دے رہا ہوں جسطرح آپ نے جواب دیا۔اس کا اندازہ آپ میری دوسری پوسٹوں سے لگا سکتے ہیں اور ویسے بھی" آپس میں تفرقہ ایجاد کرنا یا دین میں اپنی طرف سے کو بات دین میں شامل کرنا حرام ہے " (بحوالہ توضیع المسائل آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ، استفتاء جلد اول عبادات)۔ جہاں تک حضرت علی علیہ السلام کے مذکورہ قول (جو میرے سیگنیچر کی صورت میں ہے ) کا تعلق ہے تو وہ میر ا سیگنیچر ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں اگر کسی کو اسپر اعتراض ہے تو مجھ سے کہہ سکتا ہے اور مذکورہ صورت میں اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر اعتراض صحیح ہو۔ اور حوالہ جات کا جہاں تک تعلق ہے تو مجھے دیر صرف اسی وجہ سے ہو رہی ہے کہ میں مختلف حوالے تلاش کرکے ان کو جمع کر رہا ہوں خواہ مخواہ میں اندھیرے میں تیر چلانے سے بہتر ہے کہ حوالوں کے ساتھ بات کی جائے۔ وسلام |
|
|
|
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ماشا اللہ
جزاک اللہ سبحان اللہ |
|
|
|
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی محترم
میں نے آپ کی پوسٹس دیکھی ہیں ، آپ کے حوالہ جات ایسی کتابوں کے ہیں جو ایک خاص فرقے کی کتابیں ہیں ، اور تمام اہل سنت اُن کتابوں کو ناقابل حجت جانتے ہیں،، کیا ایک فرقہ کی کتابوں سے مواد جمع کر کے بات پیش کرنا اور ایسی کتابوں کو ترک کر دینا جو اہل سنت و الجماعت کے تمام مکتب فکر اپنائے ہوئے ، فرقہ ایجاد کرنا بلکہ فرقہ بندی کو شدید کرنا نہیں ؟ مجھے آپ کے دستخط پر کوئی اعتراض نہیں ، دُکھ صرف اتنا ہے کہ اللہ کی ایک محبوب ہستی علی رضی اللہ عنہُ سے ایک بات منسوب کی گئی ہے ، گو کہ وہ بات حکمت والی ہی ہے لیکن کیا جس سے منسوب کی گئی ہے اُس عظیم ہستی نے وہ بات کہی بھی ہے ؟ آپ سے گذارش ہے کہ آپ ایسی کتابوں سے مواد تیار کریں جو مسلمانوں کی اکثریت یعنی اہل سنت و الجماعت کے ہاں معتبر ہوں ، تا کہ آپ کی بات کو کسی ایک فرقہ کی تشہیر نہ سمجھا جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ((( الدین نصحیۃ)::: دین نصیحت ہے )) پس یہ ایک نصیحت ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ((( فان الذکر تنفع المومنین ::: بے شک یا دہانی ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے ))) |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو کاشان (14-12-07) |
|
|
#25 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,890
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بلا شبہ حق تعالی شانہ کے کلام پاک کے بعد صحیح بخاری اور صحیح مسلم تمام کائنات کی مستند ترین کتا بیں مانی جاتی ہیں۔ یہ حدیث کی مستند ترین کتا بیں ہیں۔ یہ بات ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان تو کیا غیر مسلم بھی مانتے ہیں۔ جب ان کے حوالاجات موجود ہیں تو حجت کی گنجائش ہی نہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور حوالہ لانا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ باقی آپ سب بہت ذیادہ علم رکھنے والے ہیں۔ *** نوٹ فرمالیں کہ حوالہ اس چیز کا دیا جاتا ہے جسے سب مستند مانیں۔ کوئی قرآن پاک کو مستند نہ ماننے کی جرات کر سکتا ہے؟ کسی کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سند پر شک ہے؟ - ان دونوں کے مستند ہونے کے حوالاجات بھی درکار ہیں کیا ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ انشاء اللہ ہمارے بھائی جناب عبداللہ حیدر صاحب وہ بھی فراہم کر دیں گے۔ ان دونوں کے حوالاجات کی عدم دستیابی کے بعد بحث کی گنجائش ہے۔ ہبت بہت معذرت اور شکریہ کے ساتھ Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 12:39 AM. |
|
|
|
|
|
|
#26 | ||||
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام
میں عام طور پر کوشش کرتا ہوں کہ میں اسلامی سیکشن میں صرف اس حد تک دخل دوںجس حد تک مناسب ہے۔ لیکن یہ وہ واحد سیکشن ہے جس کو میں مکمل طور پر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں- جناب عرفان حیدر بھائی نے اس پوسٹ کی اطلاع کی تھی جس کی بنا پر مجھے اسمیں دخل دینا پڑھا۔۔ لنک http://forums.com.pk/showthread.php?p=36941#post36941 اقتباس:
اقتباس:
ہماری کامیابی تو تب ہے کہ اگر وہی شخص لکھےکہ وہ اللہ پر یقین کرتا ہے۔۔۔ اقتباس:
جب ہمارا پیمانہ قران اور حدیث ہے تو پھر اس میںفرقے کہاں سے آ گئے۔ کوئی بھی قران اور حدیث سے چیز ثابت ہو وہ کسی بھی فرقے سے تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ اقتباس:
اپ سب میرے لیے قابل احترام اور محترم ہیں۔۔ اپ سب سے التجاء ہے کہ اپنی قابلیت اور علمیت کو دین کے فروغ کے لیے مختص کریں نہ کہ باہمی اختلافات میں۔ دنیا میں سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ "اللہ" کو نہ ماننے والوںکی ہے کبھی اس کے بارے میںبھی سوچیں ایسا کیوں ہے۔۔۔ اپ سب کے تعاون کا طلب گار والسلام Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 12:43 AM. |
||||
|
|
|
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
خدا آپکو خوش رکھے وسلام |
|
|
|
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,793
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شیرنگ ھے سب کی۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِن کے بعد کوئی نبی اور کوئی معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، محترم بھائی ، عرفان حیدر ، اور سب دیگر بھائی جو یہاں اِس گفتگو میں شامل رہے ہیں ، میں بھی یہاں چند گذارشات اور وضاحتیں پیش کر رہا ہوں اور آپ سب کی رائے کا منتظر رہوں گا ، گو کہ بھائی قسیم حیدر اور بھائی متظمین اور بھائی ابو کاشان کے مرُاسلات کے بعد کِسی مزید بات کی ضرورت نہیں رہتی لیکن چونکہ میں مُلزم ہوں اور اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ توفیق سے یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میں اپنی کہی ہوئی بات کی مزید وضاحت کر سکتا ہوں اور میری بات سے جو دُکھ بھائی عرفان حیدر کو ہوا ہے شاید اُس کا کچھ ازالہ بھی کر سکتا ہوں ، بھائی عرفان حیدر ، جو بات بھائی قسیم حیدر نے لکھی اور اللہ تعالیٰ کے فرمان سے دلیل لے کر لکھی کچھ وہی بات میں نے بھی کہی تھی ، آپ کی آمد یا آپ کے ارسال کردہ مراسلات پر میں نے کوئی تنقید نہیں کی ، جب کہ اِس کی بہت گنجائش تھی اور ہے کہ اُن مراسلات اور آپ کی شکایت والے مُراسلے کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سمجھ کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو بہت لمبی اور طویل بحث کی جا سکتی ہے ، لیکن چونکہ بحث برائے تنقید کوئی فائدہ مند کام نہیں اِس لیے اُس میں وقت ضائع کرنا مُناسب نہیں ، میں نے جو مشورہ آپ کو دِیا وہ بھی اِسی لیے تھا اور ہے کہ اگر ہم اپنی گفتگو کے لیے وہ حدود مقرر رکھیں جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر ہیں تو یہ سب کے لیے بہتر ہے ، اور اگر ہم ایسی باتیں پیش کریں جو محل اختلاف ہوں اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حدود سے خارج دلائل کی بنیاد پر ہوں تو اِختلاف حل ہونے کی بجائے شدید ہوتا چلا جاتا ہے ، بھائی ، آپ جِس فقہ یا مکتبِ فِکر سے وابستہ یا متاثر ہیں ، اُس کی بات پیش کرنے سے آپ کو روکنا میرا مقصد نہیں ، چونکہ آپ بھی میری طرح اللہ کی واحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی و رسالت کا کلمہ پڑھنے والے کلمہ گو مُسلمان ہیں اورمیری ہر مُسلمان کے لیے یہ یقینی خواہش ہے کہ وہ کوئی بھی بات اور خاص طور پر دِین کی بات کرنے سے پہلے اُسے اُس کسوٹی پر ضرور پرکھے جو اللہ نے مقرر فرمائی ہے ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے ہم سب کے لیے اِیمان اور فہمِ دِین کے لیے ایک کسوٹی اور ایک معیار مقرر فرمایا ، اور یہود و نصاری کو جواب دِلواتے ہوئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب کو حُکم دِیا ( قُولُوا آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا اُنزِلَ اِلَیْْنَا وَمَا اُنزِلَ اِلَی اِبرَاہِیمَ وَاِسمَاعِیلَ وَاِسحَاقَ وَیَعقُوبَ وَالاَسبَاطِ وَمَا اُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا اُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِم لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ اَحَدٍ مِّنہُم وَنَحنُ لَہُ مُسلِمُونَ O فَاِن آمَنُوا بِمِثلِ مَا آمَنتُم بِہِ فَقَدِ اہتَدَوا وَّاِن تَوَلَّوا فَاِنَّمَا ہُم فِی شِقَاقٍ فَسَیَکفِیکَہُمُ اللّہُ وَہُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ) ( تُم سب (رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی) کہو ہم اِیمان لائے اللہ پر اور جو ہماری طرف اُتارا گیا اُس پر ، اور جو اِبراہیم اور اِسماعیل اور اِسحاق اور یعقوب (علیہم السلام )اور اپنے پوتوں پر اُتارا گیا اُس پر ، اور جو کچھ دِیا گیا موسی اور عیسی اور (دوسرے) نبیوں ( علیہم السلام اجمعین) کو اُن کے رب کی طرف سے دِیا گیا اُس پر ، ہم نبیوں میں سے کِسی میں فرق نہیں کرتے (یعنی سب کی نبوت پر اِیمان رکھتے ہیں) اور ہم اللہ (اور اُسکے احکام ) کے لیے سر نگوں ہیں O اور اگر (اِس پیغام کے بعد ) یہ تُم لوگوں کی طرح اِیمان لاتے ہیں تو پھر یہ ہدایت پائے ہوئے ہیں اور اگر منہ پھیرتے ہیں تو وہ کھُلے اِختلاف میں ہیں اور جلد ہی اللہ آپ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )کو اِس سے کفایت فرما دے گا اور اللہ سب کچھ سننے والا اور مکمل عِلم رکھنے والا ہے ) البقرۃ / آیت ١٣٦،١٣٧ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اُن کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا کسوٹی مقرر فرمایا ، اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ یہود و نصاریٰ کے لیے ہے ، بلکہ ہر ایک اِنسان کے لیے کہ اگر اُس کا اِیمان و عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتباع میں ہو گا تو وہ ہدایت والا ہوگا اور اگر نہیں تو وہ گمراہی والا ہوگا ، اور یہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ، ہر فرقہ مذہب و مسلک ظاہری طور پر قُران و حدیث کا نام لیوا ہوتا ہے ، لیکن جب اِن دنوں کو وہ اپنی عقل کے مُطابق سمجھتا اور سمجھاتا ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال و افعال کو ترک کر دیتا ہے تو پھر وہیں پہنچتا ہے جہاں کی خبر اللہ نے اِس مندرجہ بالا آیت مُبارکہ میں فرمائی ، مزید وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس معروف حدیث میں ملتی ہے کہ (اِنَّ بَنِی اِسرَائِیلَ افتَرَقَت علی اِحدَی وَسَبعِینَ فِرقَۃً وَاِنَّ اُمَّتِی سَتَفتَرِقُ علی ثِنتَینِ وَسَبعِینَ فِرقَۃً کُلُّہَا فی النَّارِ اِلا وَاحِدَۃً وہی الجَمَاعَۃُ ) ( یقینا بنی اِسرائیل (یہودی) ٧١ فرقوں میں بٹے اور میری اُمت٧٢ فرقوں میں بٹے گی ، سب کے سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے ، اور وہ فرقہ ( جو جنّت میں جائے گا ) الجماعت ہے ) حدیث صحیح ہے اور سنن ابن ماجہ ، سنن ابی دواؤد ، المستدرک الحاکم ، مُسند احمد ، سنن البیہقی الکبریٰ اور حدیث کی دیگر کتابوں میں ابو ہُریرہ ، انس ابن مالک ، عبداللہ ابن مسعود ، عوف بن مالک ، معاویہ بن ابی سُفیان ، ابو اُمامہ ، عبداللہ ابن عباس ، رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایت کی گئی ہے ، آپ کی پوسٹس سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ عربی زُبان کی سُوجھ بُوجھ رکھتے ہیں ، لہذا غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ''''' الجماعت ''''' کہا ہے جو کہ معرفہ ہے ، یعنی '''''ایک خاص جماعت ''''' کوئی بھی '''جماعت''' نہیں، اور پھر اِس کی تفسیربھی خود ہی فرمائی کہ وہ کوئی بھی ''''' جماعت ''''' نہیں ، بلکہ صِرف وہ جماعت جواُس اِیمان و عمل ہو گی ( مَا اَنا عَلِیہِ و اَصحَابِی الیَوم ) ( جِس پر میں اور میرے صحابہ ہیں آج کے دِن) یہ روایت بھی صحیح ہے اور مندرجہ بالا کتابوں میں مُیسر ہے ، (فرقہ ، مذھب ، مسلک وغیرہ کا مختصر تعارف میں ایک مراسلہ مندرجہ ذیل رابطہ پر ارسال کر چکا ہوں ، اِنشا اللہ اُس پر نظر کرنا فائدہ مند ہو گا ::: http://forums.com.pk/showthread.php?p=34975#post34975) جی ہاں ، ہر فرقہ اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہتا ہی نہیں ، بلکہ جانتا ہے ، لیکن اِس کا حل بھی اللہ تعالیٰ نے حُکماً بتا دِیا ہے اور اِیمان والوں کو بتایا ہے ( یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اَطِیعُوا اللَّہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاُولِی الاَمرِ مِنکُم فَاِن تَنَازَعتُم فِی شَیء ٍ فَرُدُّوہُ اِلَی اللَّہِ وَالرَّسُولِ اِن کُنتُم تُؤمِنُونَ بِاللَّہِ وَالیَومِ الآخِرِ ذلِکَ خَیرٌ وَاَحسَنُ تَاوِیلاً) ( اے وہ لوگو جو اِیمان لائے ہو ، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو ، اور اگر تُم لوگوں کِسی چیز میں اِختلاف کرو تو (فیصلے کے لیے) اُسے اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پلٹاؤ ، اگر تُم لوگ (واقعتا) اللہ اور آخرت کے دِن پر اِیمان لے آئے ہو ( تو تب ہی ایسا کرو گے اور یقین رکھو کہ ) ایسا کرنا خیراور بہترین انجام والا ہے ) سورت النساء /آیت ٥٩ ، پس ، جِس کو بھی جو بات اپنانی یا کہنی ہے ، خاص طور پر دِین کے معاملات میں تو وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بات کی موافقت والی بات اپنائے اور کہے ، اور ایسی بات ماننے سے کوئی بھی قلبِ سلیم رکھنے والا مسلمان ہچکچائے گا نہیں، کیونکہ یہ منھج اللہ نے مقرر کیا ہے اور مومن کی صفات میں سے ( سِمعَنا و اطاعَنا ) ہے ، اِس موضوع کی تفصیل اِنشاء اللہ ، عقیدے والے سیکشن میں سوال و جواب کے ایک سلسلے کی صور ت میں ارسال کروں جِس کا عنوان ''''' کیاآپ جانتے ہیں؟ ''''' ہو گا ، لیکن ارسال سے پہلے انتظامیہ سے گذارش کروں گا کہ وہ اِس عنوان کو ایک ذیلی قِسم کے طور پر مستقل کر دیں کیونکہ اِنشاء اللہ یہ سلسلہ کافی طویل ہوگا ، تو میرے بھائی ، آپ جو عِلم بانٹنا چاہتے ہیں ، ضرور بانٹیے ، میں بھی طالبِ عِلم ہوں اور چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے دِین کا عِلم اور اُس پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے ، لیکن صِرف اُس معیار پر جو اُس نے اور اُس کے حُکم سے اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے ، یہ میری کہی ہوئی بات کی کچھ تفصیل ہے ، اُمید ہے اللہ تعالیٰ آپ کی اُداسی دُور فرمائے گا ، اور آپ اللہ کے دِین کی اشاعت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹی اور معیار کے مطابق کریں گے ۔ السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (21-12-07) |
|
|
#30 | |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 36
مراسلات: 1,489
کمائي: 10,968
شکریہ: 280
495 مراسلہ میں 1,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بالکل آپ نے بجا فرمایا تھا۔ شکریہ و جزاک اللہ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| php, فورمز, کتابوں, گذارش, پوسٹ, پاک, قرآن, قران, لوگ, مکمل, معذرت, آبادی, ایمان, اللہ, انشا, اسلامی, بھائی, تلاش, ترک, جواب, جلد, حدیث, شخص, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|