واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


نومولود کے کان میں‌اذان دینے کا طریقہ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-09-11, 06:55 AM  
نومولود کے کان میں‌اذان دینے کا طریقہ؟
بلال الراعی بلال الراعی آن لائن ہے 02-09-11, 06:55 AM

براے مھربانی نومولود کے کان میں‌اذان دینے کا طریقہ تفصیل سے سمجھا دیں۔

Last edited by بلال الراعی; 05-09-11 at 05:36 PM..

 
بلال الراعی's Avatar
بلال الراعی
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
شکریہ: 821
158 مراسلہ میں 527 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 940
Reply With Quote
بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (02-09-11)
پرانا 09-09-11, 07:46 PM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی جاتی ہے جو کہ حدیث پاک سے ثابت ہے چنانچہ جامع ترمذی،ابو دائود،مصنف عبدالرزاق،مسند احمد،المعجم الکبیراور شعب الایمان للبیہقی کی بسند حسن حدیث پاک ہے’’عن عاصم بن عبید اللہ أخبرنی عبید اللہ بن أبی رافع قال رأیت أو قال أذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی أذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃ‘‘ترجمہ:حضرت عاصم بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ مجھے عبید اللہ بن ابی رافع نے خبر دی کہ وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا یا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے کان میں اذان دی جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں پیداکیا۔
(شعب الایمان للبیہقی،باب فی حقوق الأولاد والأہلین، جلد6،صفحہ389،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)
افسوس کہ اس مذکورہ بالا عبارت کے آغاز میں ذکر کردہ کاموں کو حدیث پاک سے ثابت قرار دیا گیا ، اور اس سے زیادہ افسوس یہ کہ ثبوت کے طور پر ذکر کردہ روایات کی کوئی سند نہیں لکھی گئی بلکہ یوں ہی لکھ دیا گیا ہے """ بسند حسن """ یعنی """ حسن درجے کی سند کے ذریعے مروی ہے """،
اور اس سے زیادہ افسوس یہ کہ اس میں مذکورہ کام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے ثابت شدہ طور پر منسوب بھی مانا جا رہا ہے ،
یہاں اس مقتبوسہ بالا عبارت میں جن کتابوں کے نام لکھے گئے ہیں ، اور ان کے علاوہ بھی جن کتابوں میں یہ روایت نقل و ذِکر کی گئی ہے سب کی سند میں """ عاصم بن عبید اللہ """ نامی راوی ایسا ہے جسے أئمہ محدثین رحمہم اللہ نے نا قابل اعتماد قرار دے رکھا ،
لہذا اس روایت کو کسی طور کسی عقیدے یا عمل کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
مرقاۃ المفاتیح میں ہے ’’روی أن عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کان یؤذن فی الیمنی ویقیم فی الیسری إذا ولد الصبی قلت قد جاء فی مسند أبی یعلی الموصلی، عن الحسین رضی اللہ عنہ مرفوعامن ولد لہ ولد فأذن فی أذنہ الیمنی وأقام فی أذنہ الیسری لم تضرہ أم الصبیان‘‘ترجمہ:حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچے کی پیدائش پر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہتے تھے۔مسند ابویعلی موصلی میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جب بچہ پیدا ہو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھی جائے تو بچہ ام الصبیان(آسیب) کی بیماری سے بچے گا۔
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصید و الذبائح،باب العقیقۃ،جلد7،صفحہ2691،دار الفکر، بیروت)
اس مذکورہ بالا روایت کی صحت کی حقیقت یہ ہے کہ اس مذکورہ بالا روایت کو یہاں تو کسی سند کے بغیر ذکر کیا گیا ہے ، لیکن یہ روایت جہاں جہاں بھی ہے ، حدیث کی کتابوں میں سے جس جس کتاب میں بھی مذکور ہے اس کی سند میں """ یحی بن العلاء """ اور """ مروان بن سالم """ دونوں ہی روایات گھڑنے والے جھوٹے اشخاص ہیں ،
اس سے ملتی جلتی ایک اور روایت جوعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی کی گئی ہے اور امام البیھقی رحمہ ُ اللہ نے اپنی """ شعب الایمان""" میں نقل کی ہے ،
اس کی سند میں """ الحسن بن عمرو بن السیف السدوسی """ نامی ایسا راوی ہے جسے """ متروک """ قرار دیا گیا ہے اور امام ابن المدینی اور امام بخاری رحمہما اللہ نے اسے جھوٹا کہا ہے ،
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک اور روایت """ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ """ نے اپنی معروف کتاب """ العلل المتناھیۃ فی الأحادیث الواھیۃ """ میں اس کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ""" اس روایت کی سند میں """ حنظلہ""" نامی راوی کو امام یحیی بن القطان رحمہ اللہ نے مختلط قرار دیا ہے ، اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا ، منکر الحدیث ہے (یعنی اس کی روایت کردہ حدیث کا درجہ منکر ہے)، عجیب (یعنی نا قابل یقین عجیب و غریب ) باتیں (حدیث کے طور پر ) کرتا ہے """،
ان روایات میں اور نقائص بھی ہیں فی الحال میں نے وقت کی کمی کی وجہ سے یہ چند ایک نقائص لکھے ہیں ،
مزید تفصیلات کا متمنی ان کی اسناد کی تحقیق کے لیے """ اسماء الرجال """ اور """ جرح و تعدیل """ کی کتب کا مطالعہ کر سکتا ہے ،
قصہ مختصر یہ کام ، یعنی نو مولود کے کان میں اذان کہنا ، یا ایک کان میں اذان اور دوسرے میں اقامت کہنا، نبی اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قولی یا عملی سُنّت مبارکہ سے ثابت نہیں ہوتا ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ، اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ جب یہ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں تھا ہی نہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کہاں سے کرتے ، معاذ اللہ وہ بدعات بنانے والے تو نہیں تھے ،
انہی سب باتوں کو سامنے لانے کے لیے میں نے اپنے پہلے مراسلے میں سند سوالات کیے تھے ، جو غلطی سے بھائی بلال الراعی صاحب کے بجائے مہتاب بھائی کے نام ارسال ہو گیا ،
بہر حال ، اللہ کا شکر ہے اور اس کی ہی مدد ہے کہ مطلوب حاصل ہو گیا ، اور یہ معلومات سب کے سامنے نشر ہوگئیں ،
اگر کسی بھائی یا بہن کے دل و دماغ میں کوئی اور اشکال ہو تو سامنے لائے ، اِن شاء اللہ مزید اشکالات کی وضاحت کی بھی کوشش کی جائے گی ،
لیکن سب سے گذارش ہے کہ کسی شک میں مبتلا ہونے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ ہماری اس گفتگو میں زیر مطالعہ نومولود کے کانوں میں اذان اور اقامت وغیرہ کہنے والے یہ کام قران و سنت کی کوئی صحیح دلیل نہیں رکھتے ، لہذا ان کا دِین اسلام میں کوئی حصہ نہیں خواہ یہ بظاہر بالکل اسلامی کام نظرآتے ہیں ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اولاد کے حقوق میں فرماتے ہیں:’’ جب بچہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان وام الصبیان سے بچے۔‘‘
(فتاوٰی رضویہ ،جلد24،صفحہ452،رضا فائونڈیشن،لاہور)

اس اذان دینے میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ بچہ سب سے پہلے اللہ عزوجل کانام سنے جیسا کہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’ والأظہر أن حکمۃ الأذان فی الأذن أنہ یطرق وسمعہ أول وہلۃ ذکر اللہ تعالی علی وجہ الدعاء إلی الإیمان‘‘ ترجمہ:بچے کے کان میں اذان دینے کی حکمت یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ عزوجل کے ذکر کوایمان کی دعا کی صورت میں سنے گا۔
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصید و الذبائح،باب العقیقۃ،جلد7،صفحہ2691،دار الفکر، بیروت)
رہا معاملہ بزرگوں کا ان غیر ثابت شدہ باتوں کے بارے میں کچھ کہنے لکھنے کا تو اس کے بارے گذارش یہ ہے کہ جو عقیدہ یا کام اللہ کی کتاب ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ سے ثابت ہی نہیں ہوتا ، اس کے درستی ، حکمت یا فضائل کے بارے میں کسی نے کیا کچھ ہی کیوں نہ کہا ہو ، دین میں کوئی دلیل نہیں ہوتا ،
ہمیں ہمت کر کے یہ کڑوی کسیلی لیکن سچی باتیں قبول کر ہی لینا چاہیے کہ :::
""" جو عبادت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ سے سرٹیفائیڈ نہ ہو گی وہ ثواب کی حامل نہیں ہو سکتی ، اور سنت مبارکہ کی پیروی ہی اہل سنت کا مسلک ہے ،
اور ،
اگر ہم کسی شخصیت کے بارے میں، اس کے علم و فضل، زُھد و تقویٰ کے بارے میں حسنء ظن رکھتے ہیں تو وہ حسنء ظن اس شخصیت کے کہے یا لکھے ہوئے کو دینی اعمال کی درستگی کی دلیل نہیں بنا سکتا، کسی بزرگ کا کچھ کہنا ، لکھنا اس وقت زیر توجہ ہو گا جب ان کی دلیل ثابت شدہ ہو گی"""
،
ان باتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے (((((بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ::: ایسا دروازہ جِس دروازے کے اندر کی طرف تو رحمت ہو گی اور اس کے سامنے کی طرف سے ظاہری طور پر عذاب ہو گا )))))،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا دِین اس طرح سمجھنے ، ماننے ، اپنانے اور اس پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے جِس طرح اس نے وہ دِین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل فرمایا ، اور جِس طرح ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی اُمت تک پہنچایا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-09-11), مرزا عامر (26-09-11), احمد نذیر (14-09-11), بلال الراعی (10-09-11), حیدر (15-09-11), راجہ اکرام (11-09-11)
پرانا 10-09-11, 12:14 AM   #17
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

""" اسماء الرجال """ اور """ جرح و تعدیل """ کے موضوع پر بکس ریکومینڈ کریں ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (16-09-11), حیدر (15-09-11)
پرانا 10-09-11, 01:24 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رضی مراسلہ دیکھیں
""" اسماء الرجال """ اور """ جرح و تعدیل """ کے موضوع پر بکس ریکومینڈ کریں ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم رضی بھإئی ، سلام اللہ کے لیے کیا جاتا ہے ،
اس کے بعد گذارش یہ ہے کہ اسماء الرجال ، اور جرح و تعدیل موضوعات نہیں ہیں ، مستقل علم ہیں‌،
بھائی جی ، کتابیں تو بہت سی ہیں ، میں صرف چند کتابوں کے نام لکھ رہا ہوں جن میں ان شاء اللہ آپ کو اس تھریڈ میں زیر مطالعہ راویوں کے بارے میں معلومات مل جائیں گی ، اور اس کے علاوہ بھی تقریبا سب ہی ایسے راویوں کے بارے میں جو روایت کرنے کے لحاظ سے کسی کمزوری کے حامل رہے ہوں اور جن کی روایات کمزور قرار پاتی ہوں ، معلومات مل سکتی ہیں ،
وہ چند نام درج ذیل ہیں :::
الضعفاء و المتروکین ، للامام ابن الجوزی ،
الکامل فی ضعفاء الرجال ، للامام ابن عدی
المغني في الضعفاء ، للامام شمس الدين الذهبي
تاریخ دمشق ، للامام ابن عساکر،
تقریب التھذیب ، للامام احمد ابن حجر العسقلانی ،
الضعفاء الصغیر ، للامام البخاری ،
الکنی و الاسماء ، للامام محمد بن احمد الدولابی ،
کتاب الضعفاء ، للامام احمد بن عبداللہ الاصبھانی،
میزان الاعتدال فی نقد الرجال ، للامام شمس الدین الذھبی ،
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (14-09-11), حیدر (15-09-11), رضی (10-09-11)
پرانا 10-09-11, 09:22 AM   #19
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,160
شکریہ: 25,590
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ۔
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-09-11, 10:48 AM   #20
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیر مکرمی عادل سہیل صاحب
اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے ،،، آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حیدر (15-09-11), عادل سہیل (14-09-11)
پرانا 11-09-11, 07:34 PM   #21
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم رضی بھإئی ، سلام اللہ کے لیے کیا جاتا ہے ،
اس کے بعد گذارش یہ ہے کہ اسماء الرجال ، اور جرح و تعدیل موضوعات نہیں ہیں ، مستقل علم ہیں‌،
بھائی جی ، کتابیں تو بہت سی ہیں ، میں صرف چند کتابوں کے نام لکھ رہا ہوں جن میں ان شاء اللہ آپ کو اس تھریڈ میں زیر مطالعہ راویوں کے بارے میں معلومات مل جائیں گی ، اور اس کے علاوہ بھی تقریبا سب ہی ایسے راویوں کے بارے میں جو روایت کرنے کے لحاظ سے کسی کمزوری کے حامل رہے ہوں اور جن کی روایات کمزور قرار پاتی ہوں ، معلومات مل سکتی ہیں ،
وہ چند نام درج ذیل ہیں :::
الضعفاء و المتروکین ، للامام ابن الجوزی ،
الکامل فی ضعفاء الرجال ، للامام ابن عدی
المغني في الضعفاء ، للامام شمس الدين الذهبي
تاریخ دمشق ، للامام ابن عساکر،
تقریب التھذیب ، للامام احمد ابن حجر العسقلانی ،
الضعفاء الصغیر ، للامام البخاری ،
الکنی و الاسماء ، للامام محمد بن احمد الدولابی ،
کتاب الضعفاء ، للامام احمد بن عبداللہ الاصبھانی،
میزان الاعتدال فی نقد الرجال ، للامام شمس الدین الذھبی ،
و السلام علیکم۔
یہ تو نام سے ہی لگتا ہے عربی میں ہونگی
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (16-09-11), حیدر (15-09-11), عادل سہیل (14-09-11)
پرانا 14-09-11, 12:08 PM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ خیر مکرمی عادل سہیل صاحب
اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے ،،، آمین
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے راجہ بھإئی ، اور آپ کی دعا قبول فرمإئے اور جو کچھ آپ نے میرے لیے دعا کی اس سے کہیں زیادہ آپ کو عطاء فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (15-09-11)
پرانا 14-09-11, 12:16 PM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رضی مراسلہ دیکھیں
یہ تو نام سے ہی لگتا ہے عربی میں ہونگی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی رضی بھإئی ، میں‌ انہی کتابوں کے نام بتا سکتا ہوں جن کا میں مطالعہ کرتا ہوں ، اور چونکہ الحمد للہ ایک عرصہ دراز سے میرا دینی مطالعہ عربی کتب کے ذریعے ہے اس لیے میں انہی عربی کتابوں کے نام بتا رہا ہوں ، یوں بھی جرح و تعدیل اور اسماء الرجال صدیوں پرانا علم ہے جو حدیث شریف کے راویوں کے زندگیوں کے بعد مزید مرتب ہونے والا نہیں ، اور اس وقت اس علم کی تمام تر کتابیں عربی میں ہی مرتب کی گٕئی تھیں کیونکہ مسلمانوں کے تمام علوم کے لیے بنیادی زبان عربی ہی تھی ،و السلام علیکم ،
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (15-09-11)
پرانا 15-09-11, 09:24 AM   #24
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

علم الرجال کے موضوع پر کبھی تفصیلی مضمون تو بنائیے۔۔۔۔جو اپنی ذات میں مکمل ہو ۔ یعنی اس میں ممکنہ ہر قسم کی معلومات درج ہوں۔ کتب وغیرہ ۔۔آن لائن لنکس وغیرہ۔
اس بارے میں پڑھا ہے کہ یہ اپنے اندر ایک سمندر کا سا مواد رکھتا ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-09-11, 05:12 PM   #25
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


پیدائش کے بعد بچے کے کان میں اذان دینا

حضرت ابو رافع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں حسن بن علی پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان دی۔

(سنن ابی داؤد)


جامع ترمذی،ابو دائود،مصنف عبدالرزاق،مسند احمد،المعجم الکبیراور شعب الایمان للبیہقی کی بسند حسن حدیث پاک ہے

’’عن عاصم بن عبید اللہ أخبرنی عبید اللہ بن أبی رافع قال رأیت أو قال أذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی أذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃ‘‘

ترجمہ:حضرت عاصم بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ مجھے عبید اللہ بن ابی رافع نے خبر دی کہ وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا یا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے کان میں اذان دی جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں جنم دیا۔

(شعب الایمان للبیہقی،باب فی حقوق الاولاد والاہلین، جلد6،صفحہ389،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-09-11), نیلم خان (16-09-11), ننھا بچہ (15-09-11), مرزا عامر (26-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 26-09-11, 09:26 PM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
علم الرجال کے موضوع پر کبھی تفصیلی مضمون تو بنائیے۔۔۔۔جو اپنی ذات میں مکمل ہو ۔ یعنی اس میں ممکنہ ہر قسم کی معلومات درج ہوں۔ کتب وغیرہ ۔۔آن لائن لنکس وغیرہ۔
اس بارے میں پڑھا ہے کہ یہ اپنے اندر ایک سمندر کا سا مواد رکھتا ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
حیدر بھائی یہ خطاب مجھ سے ہے کیا ؟؟؟
اگر ہاں تو میرے لیے دعا بھی کیجیے کہ اللہ وسإئل مہیا فرمإئے ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-09-11)
پرانا 26-09-11, 09:32 PM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں

پیدائش کے بعد بچے کے کان میں اذان دینا

حضرت ابو رافع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں حسن بن علی پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان دی۔

(سنن ابی داؤد)


جامع ترمذی،ابو دائود،مصنف عبدالرزاق،مسند احمد،المعجم الکبیراور شعب الایمان للبیہقی کی بسند حسن حدیث پاک ہے

’’عن عاصم بن عبید اللہ أخبرنی عبید اللہ بن أبی رافع قال رأیت أو قال أذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی أذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃ‘‘

ترجمہ:حضرت عاصم بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ مجھے عبید اللہ بن ابی رافع نے خبر دی کہ وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا یا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے کان میں اذان دی جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں جنم دیا۔

(شعب الایمان للبیہقی،باب فی حقوق الاولاد والاہلین، جلد6،صفحہ389،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)
السلام علیکم و رحمۃ ‌اللہ و برکاتہ ،
عدنان بھإئی ، آپ نے غالبا میرا مراسلہ رقم 16 نہیں پڑھا، اور وہی روایات پھر سے لکھ دی ہیں جن کی صحت کے بارے میں تحقیق پیش کر چکا ہوں ،
چلیے یہاں بھی آپ کے مراسلے کی روشنی میں‌ چند الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ اپنے اس مراسلہ رقم 16 کا اقتباس پیش کیے دیتا ہوں:::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
یہاں جس روایت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ """ بسند حسن """ یعنی """ حسن درجے کی سند کے ذریعے مروی ہے """،
اور اس کے حوالے کے طور پر جن کتابوں کے نام لکھے گئے ہیں ، اور ان کے علاوہ بھی جن کتابوں میں یہ روایت نقل و ذِکر کی گئی ہے سب کی سند میں """ عاصم بن عبید اللہ """ نامی راوی ایسا ہے جسے أئمہ محدثین رحمہم اللہ نے نا قابل اعتماد قرار دے رکھا ،
لہذا اس روایت کو کسی طور کسی عقیدے یا عمل کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
قصہ مختصر یہ کام ، یعنی نو مولود کے کان میں اذان کہنا ، یا ایک کان میں اذان اور دوسرے میں اقامت کہنا، نبی اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قولی یا عملی سُنّت مبارکہ سے ثابت نہیں ہوتا ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ، اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ جب یہ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں تھا ہی نہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کہاں سے کرتے ، معاذ اللہ وہ بدعات بنانے والے تو نہیں تھے ،

اگر کسی بھائی یا بہن کے دل و دماغ میں کوئی اور اشکال ہو تو سامنے لائے ، اِن شاء اللہ مزید اشکالات کی وضاحت کی بھی کوشش کی جائے گی ،

لیکن سب سے گذارش ہے کہ کسی شک میں مبتلا ہونے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ ہماری اس گفتگو میں زیر مطالعہ نومولود کے کانوں میں اذان اور اقامت وغیرہ کہنے والے یہ کام قران و سنت کی کوئی صحیح دلیل نہیں رکھتے ، لہذا ان کا دِین اسلام میں کوئی حصہ نہیں خواہ یہ بظاہر بالکل اسلامی کام نظرآتے ہیں ،

رہا معاملہ بزرگوں کا ان غیر ثابت شدہ باتوں کے بارے میں کچھ کہنے لکھنے کا تو اس کے بارے گذارش یہ ہے کہ جو عقیدہ یا کام اللہ کی کتاب ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ سے ثابت ہی نہیں ہوتا ، اس کے درستی ، حکمت یا فضائل کے بارے میں کسی نے کیا کچھ ہی کیوں نہ کہا ہو ، دین میں کوئی دلیل نہیں ہوتا ،
ہمیں ہمت کر کے یہ کڑوی کسیلی لیکن سچی باتیں قبول کر ہی لینا چاہیے کہ :::
""" جو عبادت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ سے سرٹیفائیڈ نہ ہو گی وہ ثواب کی حامل نہیں ہو سکتی ، اور سنت مبارکہ کی پیروی ہی اہل سنت کا مسلک ہے ،
اور ،
اگر ہم کسی شخصیت کے بارے میں، اس کے علم و فضل، زُھد و تقویٰ کے بارے میں حسنء ظن رکھتے ہیں تو وہ حسنء ظن اس شخصیت کے کہے یا لکھے ہوئے کو دینی اعمال کی درستگی کی دلیل نہیں بنا سکتا، کسی بزرگ کا کچھ کہنا ، لکھنا اس وقت زیر توجہ ہو گا جب ان کی دلیل ثابت شدہ ہو گی"""
،
ان باتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے (((((بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ::: ایسا دروازہ جِس دروازے کے اندر کی طرف تو رحمت ہو گی اور اس کے سامنے کی طرف سے ظاہری طور پر عذاب ہو گا )))))،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا دِین اس طرح سمجھنے ، ماننے ، اپنانے اور اس پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے جِس طرح اس نے وہ دِین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل فرمایا ، اور جِس طرح ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی اُمت تک پہنچایا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-09-11), مرزا عامر (26-09-11), حیدر (28-09-11), عدنان دانی (27-09-11)
پرانا 26-09-11, 10:43 PM   #28
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ کیا عادل سہیل صاحب ۔ میں تو کتنے ہی بچوں کے کان میں اذان دے چکا ہوں ۔ چلیں خیر کوئی بات نہیں۔
کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ احادیث کی کتب میں جتنی بھی مشکوک یا موضوع احادیث ہیں انہیں نکال دیا جائے اور نئے سرے سے احادیث کی کتب مرتب کی جائیں اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف اور صرف نئی مرتب شدہ کتب پر عمل کرنے کی تلقین کی جائے ۔
ویسے عادل سہیل صاحب آپ نے حدیث کو رد کیا ہے کہیں آپ پر بھی ہماری طرح منکر حدیث کا فتویٰ نہ لگ جائے
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-09-11), حیدر (28-09-11)
پرانا 27-09-11, 12:16 AM   #29
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
یہ کیا عادل سہیل صاحب ۔ میں تو کتنے ہی بچوں کے کان میں اذان دے چکا ہوں ۔ چلیں خیر کوئی بات نہیں۔
کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ احادیث کی کتب میں جتنی بھی مشکوک یا موضوع احادیث ہیں انہیں نکال دیا جائے اور نئے سرے سے احادیث کی کتب مرتب کی جائیں اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف اور صرف نئی مرتب شدہ کتب پر عمل کرنے کی تلقین کی جائے ۔
ویسے عادل سہیل صاحب آپ نے حدیث کو رد کیا ہے کہیں آپ پر بھی ہماری طرح منکر حدیث کا فتویٰ نہ لگ جائے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مرزا بھإئی ، اللہ اس خطاء کو معاف فرمإئے ،
احادیث کی جو کتابیں جیسے مرتب کی گٕئی ان کو اسی طرح برقرار رکھا جاتا ہے ، اور اس کا ایک بڑا سبب یہ اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے سے کچھ لوگ دانستہ اور کچھ نا دانستہ احادیث میں تحریف کا واویلا کریں گے ،
اور دوسرا سبب ، امانت میں خیانت کا احساس ہے ،
لہذا صدیوں سے ائمہ محدثین اس کام میں جان فشاں محنت کر کر کے احادیث کی روایات کی تحقیق کرتے چلے آ رہے ہیں ، اور ضعیف ، یعنی کمزور نا قابل حجت روایات کو الگ الگ کتابوں میں مرتب کرتے چلے آرہے ہیں ،
ہمارے اس زمانے میں اللہ نے امام محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ‌ُ اللہ سے سنت مبارکہ کی اس عظیم خدمت کا بہت اور ایسا کام لیا ہے جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی ،
ان کے کاموں میں‌ آپ کی خواہش کے مطابق احادیث کی بہت سی معروف اور زیادہ استعمال ہونے والی کتابوں کو صحیح اور ضعیف روایات الگ الگ کر کے الگ الگ کتاب کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے ، یہ کتابیں عرب مارکیٹ میں‌تو عام میسر ہیں ،
اس کے علاوہ عقإئد کی تصحیح ،فقہی مسإئل اور فتاویٰ پر مشتمل علمی دروس کی ہزاروں کیسٹس بھی ہیں ،
اور دو سلسلہ وار کتابیں ایسی بھی ہیں‌ جن میں‌ پہلے ذکر کردہ کتب کے علاوہ کتب میں مذکور روایات کی تحقیق ہے ،
ان ائمہ کرام کو کوئی منکرء حدیث نہیں کہتا اور نہ کہہ سکتا ہے ، سوإئے کسی جاھل یا اندھے تعصب کے شکار کے،
اور ہم جیسے طالب علم جو ان ائمہ کرام رحمہم اللہ کے علوم کے مطابق کسی روایت کی صحت کا حکم ظاہر کرتے ہیں انہیں بھی کوٕئی عقل سلیم اور قلب سلیم رکھنے والا منکرء حدیث نہیں کہہ سکتا ،
کیونکہ ہماری بات بھی اُنہی اماموں کے ان محقق و مصدق علمی دلإئل کے مطابق ہوتی ہے جن کے مطابق کسی روایت کی صحت کا حکم وارد کیا جاتا ہے ،
کوٕئی بھی ایسا صاحب علم جو روایات کی جانچ کے سارے علوم کا اچھا علم رکھتا ہو اپنی تحقیق پیش کر سکتا ہے ، تحقیق ء مزید سے اس کی تحقیق کی جانچ کرنے کے بعد اسے قبول یا رد کیا جاتا ہے، لیکن اپنے مزاج اور اپنی سوچ کی بنا پر کسی صحیح روایت کو رد کرنے والی کی بات بذات خود مردود ہوتی ہے ،
الحمد للہ ، مرزا بھإئی ، اللہ نے اپنی حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ جو دین کا دوسرا نصف ہے ، اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اپنے بندوں کو ظاہر رکھا ہے ،
اب یہ ہماری بدبختی یا نالإئقی ہے کہ ہم ان چیزوں کو جانے بغیر ، علم و ہنر کے اماموں کی محنتوں کا علم رکھے بغیر ادھر ادھر کے فلسفوں اور خیالی باتوں سے متاثر ہو کر خود ہی اپنے دین کے ایک نصف کو مشکوک دینے کی سعی میں مشغول ہو جائیں ، اور اس کے لازمی نتیجے کے طور پر پہلے نصف کا درست فہم و ادراک بھی کھو دیں،
اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے ، اور صرف وہی دلوں کو بدلنے والا ہے ،
اللہ ہم سب کو ، ہمارے ہر ایک کلمہ گو بھإئی اور بہن کو حق جاننے ، ماننے ، اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمإئے ۔ والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-09-11)
پرانا 27-09-11, 10:19 AM   #30
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

1:26 پر دیکھیئے اہحدیث فنی مولوی کان میں اذان دینے کا اقرار کرتا ہے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
مفتی (02-01-12), حیدر (28-09-11)
جواب

Tags
کان, کاغذ, لیں, مھربانی, آواز, انتظار, انداز, ابھی, بھائی, بلال, بچے, براے, تفصیل, تفصیلی, جواب, جائے, دیں, دیں۔, دینے, درود, درود شریف, ساجھا, شکریہ, شریف, طریقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں‌پھر باتوں میں‌اس کی آ گیا ہوں نیلم خان شاعری اور مصوری 8 22-08-11 01:40 AM
الکمونیا میں‌تو ایسا نہیں‌ہوتا ”پارٹ 2“ میاں شاہد گپ شپ 16 11-03-11 07:44 AM
ہم گناہ گار بھی ہیں‌تیرے پرستاروں میں‌ ابوسعد شعر و شاعری 3 03-03-11 11:09 PM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM
جنہیں‌میں‌ڈھونڈتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میاں شاہد شاعر مشرق علامہ اقبال 0 03-04-08 06:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:20 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger