واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-10, 03:38 PM  
ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!
sahj sahj آف لائن ہے 25-10-10, 03:38 PM

ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!


سوال:-
کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میں نے اپنی بیوی کو ۱۲/مارچ ۲۰۰۹ء کو تین طلاقیں دیں اور کچھ دن بعد عدالت سے بھی طلاق کے کاغذات لئے، جس پر میری طرف سے تحریری طلاق درج تھی، طلاق کے بعد میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی، انہوں نے گھر سے نکالا تو وہ نانی ، نانا کے ہاں گئی، اس کے نانا نے لڑکی کو اور مجھے ایک مسجد لے گئے، جہاں سے انہوں فتویٰ دیا کہ یہ طلاق رجعی ہے اورہمارا دوبارہ تجدید نکاح کرایا۔ اب کیا ہمارا یہ نکاح تھا یا نہیں؟

مستفتی راحیل الدین مکان نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرا چی۔


الجواب بعون الوہاب

واضح رہے کہ از روئے قرآن وحدیث وجمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین، تابعین رحمہ اللہ و تبع تابعین رحمہ اللہ، ائمہ مجتہدین بالخصوص چاروں ائمہ کرام امام اعظم ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ان تمام حضرات کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ “
(بقرہ:229)

اور اگلی آیت میں ہے:

”فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ …“
(بقرہ:230)

یعنی دو طلاق دینے تک تو مرد کو رجوع کا اختیار ہے، لیکن جب تیسری طلاق بھی دیدی تو اب مرد کے لئے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔

چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”ترجم البخاری علی ہذہ الایة باب من اجاز الطلاق الثلاث بقولہ تعالیٰ الطلاق مرتان، فامساک بمعروف او تسریح باحسان، وہذا اشارة الی ان ہذہ التعدید انما ہو فسخة لہم فمن ضیق علی نفسہ لزمہ قال علمائنا: واتفق ائمة الفتویٰ علی لزوم ایقاع الطلاق الثلاث فی کلمة واحدة وہو قول جمہور السلف… المشہور عن الحجاج بن ارطاة وجمہور السلف والائمة انہ لازم واقع ثلاثاً ولافرق بین ان یوقع ثلاثًا مجتمعة فی کلمة او متفرقة فی کلمات…“
(الجامع لاحکام القرآن ج:۳/۱۲۹)

اسی طرح احکام القرآن للجصاص میں ہے:

”قال ابوبکر: قولہ تعالیٰ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان الایة: یدل علی وقوع الثلاث معاً مع کونہ منہیاً عنہا…“


اسی طرح حدیث میں ہے:

”عن عائشہ ان رجلًا طلق امراتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبیا اتحل للاول قال لاحتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول…“ (بخاری شریف ج:۲/۷۹۱)
ترجمہ:…”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیدیں پھر اس نے دوسرے سے نکاح کرلیا، اس نے صحبت کئے بغیر طلاق دیدی، آپ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ پہلے خاوند کے لئے یہ عورت حلال ہوئی؟ آپ علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:” جب تک دوسرا شوہر صحبت نہ کرلے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی“۔

اس حدیث میں ”طلق امراتہ ثلاثًا“ کا جملہ اس کا مقتضی ہے کہ تین طلاق اکھٹی اور دفعة دی گئیں۔ اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تین طلاقیں اکٹھی واقع ہوجانے پر استدلال ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

”وہی بایقاع الثلاث اعم من ان تکون مجمعةً او متفرقةً“
(فتح الباری ج:۹/۳۶۲ ط ادارة بحوث العلمیة)

حدیث میں ہے:

”عن مجاہد قال کنت عند ابن عباس فجاء ہ رجل فقال انہ طلق امراتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظنت انہ رآدہا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقة ثم یقول: یا ابن عباس یا ابن عباس وان الله تعالیٰ قال ومن یتق الله یجعل لہ مخرجاً، وانک لم تتق الله فلااجد لک مخرجاً، عصیت ربک وبانت منک امراتک“۔
(سنن ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)

ترجمہ:…”مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں (کیا حکم ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئے (مجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی بیوی کو واپس لوٹانے والے ہیں پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان پر حماقت سوار ہوتی ہے، پھر میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یا ابن عباس یا ابن عباس جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے راستہ نکالتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ سے ڈر انہیں (اور بیک وقت تین طلاقیں دیدی) اس لئے قرآن کے مطابق تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں پاتا تونے خدا کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی ہے اور تم سے جدا ہوگئی ہے“۔

اور ابوداؤد رخمہ اللہ علیہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

”روی ہذا الحدیث حمید الاعرج وغیرہ عن مجاہد عن ابن عباس رضی اللہ عنہ… کلہم قالوا فی الطلاق الثلاث انہ اجاز ہا قال وبانت منک…“
(ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)
یعنی ان حضرات نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے یہ تمام رواة متفقہ طور پر نقل فرمارہے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کو نافذ فرمادیا اور فتویٰ دیا کہ عورت جدا ہوگئی۔

اسی طرح نسائی شریف کی حدیث میں ہے:

”عن محمود بن لبید قال اخبر رسول الله ا عن رجل طلق امراتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب الله وانا بین اظہر کم حتی قال رجل وقال یا رسول الله الا اقتلہ“۔
(نسائی،ج:۲/۹۹ ط قدیمی)
ترجمہ:…”محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاة و السلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دیدیں ہیں۔ آپ علیہ السلام نے غضبناک ہوکر تقیریر فرمائی کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، آنحضرت اکا یہ غصہ دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کردوں“۔

حدیث مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں مجتمعاً واقع ہوجاتی ہیں۔ اگر واقع نہ ہوتیں تو آنحضرت ا غضبناک نہ ہوتے اور فرمادیتے کہ کوئی حرج نہیں رجوع کرلو۔


اسی طرح مؤطا امام مالک رحمہ اللہ میں ہے:

”عن مالک بلغہ ان رجلاً قال لابن عباس رضی اللہ عنہ انی طلقت امرأتی مأة تطلیقة ما ذاتری علی؟ فقال لہ ابن عباس رضی اللہ عنہ طلقت منک بثلاث وسبع وتسعون اتخذت بہا آیات اللہ ہزوا“
(مؤطا امام مالک ،ص:۵۱۰)
ترجمہ:…”ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں ہیں، اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاقوں سے تو عورت تجھ سے جدا ہوگئی اور بقیہ ستانوے طلاقوں سے تونے اللہ کی آیات کا تمسخر کیا ہے“۔

اور طحاوی شریف میں ہے:

”عن مالک بن حارث قال رجل الی ابن عباس رضی اللہ عنہ فقال ان عمی طلق امراتہ ثلاثاً فقال: ان عمک عصی الله فاثمہ الله واطاع الشیطان فلم یجعل لہ مخرجا فقلت کیف تری فی رجل یحلہا لہ فقال من یخادع الله یخادعہ…“
(طحاوی،،باب الرجل یطلق امراتہ ثلاثا معا ج:۲/۳۴)

ترجمہ:…”مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میرے چچا اپنی عورت کو دفعتً تین طلاقیں دے بیٹھے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے چچا نے خدا کی نافرمانی کی اور شیطان کی اطاعت کی اور آپ نے اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں نکالی۔ مالک بن حارث فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا :آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو اس عورت کو اس شوہر کے لئے حلال کرے؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ سے چالبازی کرے گا اللہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرے گا“۔


اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”عن انس رضی اللہ عنہ قال کان عمر رضی اللہ عنہ اذا اتی برجل قد طلق امراتہ ثلاثاً فی مجلس او جعہ ضرباً وفرق بینہما…“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)
وفیہ ایضا عن معمر عن الزہری فی رجل طلق امراتہ ثلاثاً جمیعاً قال ان من فعل فقد عصی ربہ وبانت منہ امراتہ“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)

ترجمہ:…”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہوتیں تو آپ رضی اللہ عنہ اس کو سزا دیتے ہیں اور دونوں میں تفریق کردیتے ہیں۔ تو قرآنی آیات وتفاسیر واحادیث سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دقعةً تین طلاقیں دینے سے تین ہی شمار ہوتی ہیں۔“

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے چونکہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو اس سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ اس سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہے۔


باقی غیر مقلدین کا منسلکہ فتویٰ از روئے قرآن وحدیث اور جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین، تابعین رحمہ اللہ ، تبع تابعین رحمہ اللہ اور چاروں ائمہ کرام رحمہ اللہ کے متفقہ مسلک کے خلاف ہے، جیساکہ اوپر لکھا گیا ہے اور جس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ہے، اس حدیث سے تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کا استدلال کرنا تمام فقہاء کے نزدیک باطل ہے۔

مذکورہ حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے اس حدیث سے استدلال کرنا اس لئے درست نہیں ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت غیر مدخولہ کے متعلق ہے، عام نہیں ہے۔ واضح رہے کہ عورتیں دو قسم کی ہیں:

۱…غیر مدخولہ (جس کا شوھر کے ساتھ خاص تعلق نہ ھوا ھو)
۲…مدخولہ (جس کے ساتھ خاص تعلق قائم ھوچکا ھو)

غیر مدخولہ عورت کو اگر الگ الگ لفظوں میں اس طرح طلاق دی جائے۔ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“تو پہلے ہی لفظ سے وہ بائنہ ہوجاتی ہے یعنی نکاح سے نکل جاتی ہے اور ایسی عورت پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی، جب یہ عورت پہلے ہی لفظ سے بائنہ ہوگی اور اس پر عدت بھی نہیں تو اس کے بعد وہ طلاق کا محل نہ رہی، اس بناء پر دوسری اور تیسری طلاق لغو ہوتی ہے، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اگر تین طلاقیں دی جائیں تو ایک شمار ہوتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی سالوں میں غیر مدخولہ کو طلاق دینے کا یہی طریقہ تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے جلد بازی شروع کردی اور ایسی غیر مدخولہ کو ایک ساتھ ایک لفظ میں تین طلاق دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب تین طلاق ہی ہوں گی۔ کہ (انت طالق ثلاثا) کہہ کر طلاق دی ہے اور یہ لفظ نکاح قائم ہونے کی حالت میں بولا ہے۔
(ابوداؤد شریف ج:۱/۳۰۶)
دوسرا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانہ میں جب ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ کہا جاتا تو عموماً لوگوں کی دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی، استیناف کی نیت نہیں ہوتی تھی اور اس زمانہ میں لوگوں میں دین اور تقویٰ اور خوف آخرت اور خوف خدا غالب تھا دنیا کی خاطر دروغ بیانی کا خطرہ تک دل میں نہ آتا تھا۔ آخرت میں جوابدہی اور آخرت کے عذاب کا اتنا استحضار رہتا کہ مجرم بذات خود حاضر ہوکر اپنے جرم کا اقرار کرتا اور اپنے اوپر شرعی حد جاری کرنے کی درخواست کرتا، اس بناء پر ان کی بات پر اعتماد کرکے ایک طلاق کا حکم کیا جاتا، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں مگر جیسے جیسے عہد نبوی سے بعد ہوتا گیا اور بکثرت عجمی لوگ بھی حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے، ان میں تقویٰ وخوف آخرت کا معیار کم ہونے لگا اور پہلے جیسی سچائی، امانت داری اور دیانت داری نہ رہی، دنیا اور عورت کی خاطر دروغ بیانی ہونے لگی، جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے ایک سرکاری خط آیا کہ یہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ جملہ کہا ہے ”حبلک علی غاربک“ (تیری رسی تیری گردن پر ہے) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ ”ان مرہ ان یوافینی بمکة فی الموسم“ اس کو کہو کہ حج کے زمانہ میں مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے زمانہ میں کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اس آدمی (عراقی) نے آپ سے ملاقات کی اور سلام کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کون ہو، اس نے کہا: میں وہی ہوں جس کو آپ نے حج کے زمانہ میں طلب کیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے رب کعبہ کی قسم سچ بتا ”حبلک علی غاربکسے تیری کیا نیت تھی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اگر اس مبارک جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ قسم لی ہوتی تو میں صحیح نہ بتاتا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس جملے سے فراق کا یعنی عورت کو اپنے نکاح سے الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت تیرے ارادے کے مطابق تجھ سے علیحدہ ہوگئی۔
(موطأ امام مالک ص:۵۱۱ ماجاء فی الخلیة والبریة واشباء ذلک بحوالہ فتاویٰ رحیمہ ۴/۳۴۳)
یہ عراقی ایک عورت کے لئے جھوٹی قسم کھانے کے لئے اور دروغ بیانی کے لئے تیار تھا مگر کعبة اللہ اور حرم شریف کی عظمت وتقدس کا خیال رکھتے ہوئے کذب بیانی سے احتراز کیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عوام کی جب یہ حالت دیکھی، نیز آپ کی نظر اس حدیث پر تھی:

”اکرموا اصحابی فانہم خیارکم، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، ثم یظہر الکذب حتی ان الرجل یحلف ولایستحلف ویشہد ولایستشہد…الخ“۔
(مشکوٰة المصابیح، باب مناقب الصحابة ج:۳/۵۵۴ ط سعید)
یعنی عہد نبوت سے جیسے جیسے دوری ہوتی چلی جائے گئی، دینداری کم ہوتی رہے گی اور کذب ظاہر ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے موجودہ اور آئندہ حالات کو پیش نظر رکھ کر صحابہ سے مشورہ کیا کہ جب ابھی یہ حالت ہے تو آئندہ کیا حالت ہوگی اور لوگ عورت کو الگ کردینے کی نیت سے تین طلاق دیں گے اور پھر غلط بیانی کرکے کہیں گے کہ ہم نے ایک طلاق کی نیت کی تھی۔ آپ نے اس چور دروازے کو بند کرنے کے لئے فیصلہ کیا کہ لوگوں نے ایسی چیز میں جلد بازی شروع کردی جس میں انہیں دیر کرنی چایئے تھی، اب جو شخص تین مرتبہ طلاق دے گا، ہم اسے تین ہی قرار دیں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے اس فیصلہ سے اتفاق کیا اور کسی ایک نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہ کی۔

چنانچہ طحاوی شریف میں ہے:

”فخاطب عمر رضی اللہ عنہ بذلک الناس جمیعا وفیہم اصحاب رسول اللہ ا ورضی اللہ عنہم الذین قد علموا ما تقدم من ذلک فی زمن رسول اللہ ا فلم ینکرہ علیہ منہم ولم یدفعہ دافع…“
(طحاوی،،ج:۲/۳۴)
محقق علامہ ابن ہمام رحمة اللہ فرماتے ہیں:

”ولم ینقل عن احد منہم انہ خالف عمر رضی اللہ عنہ حین امضی الثلاث وہی یکفی فی الاجماع…“
(حاشیہ ابوداؤد ج:۱/۳۰۶)
یعنی کسی ایک صحابی سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں تین طلاق کا فیصلہ کیا، ان میں سے کسی ایک نے بھی… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف کیا ہو اور اس قدر بات اجماع کے لئے کافی ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”فاختلف العلماء فی جوابہ وتاویلہ فالاصح ان معناہ انہ کان فی اول الامر اذا قال لہا انت طالق، انت طالق، انت طالق، ولم ینو تاکیداً ولااستینافاً یحکم بوقوع طلقة لقلة ارادتہم الاستنیاف بذلک فحمل علی الغالب الذی ہو ارادة التاکید فلما کان فی زمن عمر رضی اللہ عنہ وکثر استعمال الناس بہذہ الصیغة وغلب منہم ارادة الاستیناف بہا حملت الاطلاق علی الثلاث عملاً بالغالب السابق الی الفہم…“
(نووی شرح مسلم ج:۱/۴۷۸ ط قدیمی)
یعنی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بالکل صحیح تاویل اور اس کی صحیح مراد یہ ہے کہ شروع زمانہ میں جب کوئی انت طالق، انت طالق، انت طالق کہہ کر طلاق دیتا تو عموماً اس زمانہ میں دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی تھی، استیناف کی نیت نہ ہوتی تھی، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے اس جملہ کا استعمال بکثرت شروع کیا اور عموماً ان کی نیت طلاق کی دوسرے اور تیسرے لفظ سے استیناف ہی کی ہوتی تھی، اس لئے اس جملہ کا جب کوئی استعمال کرتا تو عرف کی بناء پر تین طلاقوں کا حکم کیا جاتا۔


یہ ہے حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب محدثین کی نظر میں اور یہی تشریح اور مقصد صحیح ہے۔ جو مطلب غیر مقلدین بیان کرتے ہیں، وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ راوی حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خود تین طلاقوں کے نفاذ کا فتویٰ دیا ہے، جیساکہ مذکور ہوچکا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی باوجود اس تشدد وتصلب کے جوان کو اس مسئلہ میں تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ ”ایک مجلس میں تین طلاقیں تین ہیں اور اس کے بعد رجعت جائز نہیں“ سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس فتویٰ کے ثابت ہونے کا صاف اقرار کیا ہے۔

چنانچہ اغاثة اللفہان میں فرماتے ہیں:

”فقد صح بلاشک ابن مسعود وعلی ابن عباس الالزام بالثلاث ان اوقعہا جملة“۔
(اغاثة اللفہان ،،ص:۱۷۹)

اورچونکہ یہ مسئلہ حلال وحرام کے متعلق ہے، اگر واقعی تین کو ایک سمجھا جاتا تو اس کے راوی صرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کیوں ہیں، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین سے اس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے، جبکہ ان سے بڑے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے برخلاف فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کے سامنے کی بات ہے اور ایک صحابی نے بھی اس حکم کے خلاف نہیں کیا جس سے اس مسئلہ پر ان کا اجماع معلوم ہوتا ہے۔ الغرض تین طلاقیں شرعاً واقع ہوچکی ہیں، بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ سے حرام ہوگئی ہے، گمراہ لوگوں سے فتویٰ لے کر حرام کو حلال بنانے کی کوشش کرنا بدترین گناہ ہے، لہذا دونوں میں علیحدگی ضروری ہے، بصورت دیگر اگرایک ساتھ رہے تو حرام کے اندر مبتلا ہوں گے۔

چنانچہ حدیث میں ہے:

”من اعلام الساعة… وان یکثروا اولاد الزنا قیل لابن مسعود وہم مسلمون ! قال نعم: یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة طلقہا فیقیم علی فراشہا منہما زانیان ما اقاما“۔
(الخصائص الکبری للسیوطی ج:۲/۲۷۰ ط حقانیہ)
ترجمہ:…اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ زنا کی اولاد کی کثرت ہوجائے گی، پوچھا گیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا وہ مسلمان ہوں گے؟ فرمایا: ہاں! وہ مسلمان ہوں گے، ایک زمانہ آئے گا لوگوں پر کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا، لیکن پھر بھی اس کے ساتھ اس کے بستر پر رہے گا جب تک دونوں اس طرح رہیں گے زنا کار ہوں گے“۔



”قال:یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة ثم یجہدہا طلاقہا ثم یقیم علی فرجہا فہما زانیان ما اقاما…“
(المعجم الاوسط للطبرانی ج:۵/۴۴۲)
ترجمہ:…فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے گا پھر طلاق دینے سے انکار کرے گا پھر اس سے ہم بستری کرتا رہے گا پس جب تک وہ دونوں اس طرح رہیں گے زناکار ہوں گے“



لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی تھیں، سائل نے بغیر حلالہ شرعی جو دوبارہ نکاح کرکے ایک عرصہ ساتھ گذاراہے، دونوں حرام کاری میں مبتلا رہے، فی الفور علیحدگی کے بعد دونوں پر توبہ و استغفار لازم ہے۔



کتبہ
عبد اللہ منیر
متخصص فقہ اسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1195
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (25-10-10), ابن جمال (15-02-11), بلال اویسی (26-10-10), شمشاد احمد (25-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10), عروج (16-02-11)
پرانا 07-11-10, 04:16 AM   #31
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

جمعہ کے خطبہ کے لئے کسی موضوع کا تعین نہیں کیا جاتا۔

پاکستان میں جمعہ کے وقت مساجد میں 45 منٹ سے ایک یا سوا ایک گھنٹہ تک اردو میں وعظ و بیان ہوتا ھے جس پر موضوع کریٹ کیا جا سکتا ھے اور وہ موضوع کوئی بھی دے سکتا ھے۔ پھر عربی میں خطبات دئے جاتے ہیں جن کا وقت اندازاً 3 منٹ سے 5 منٹ تک کا ہوتا ھے۔

مگر عرب ممالک جمعہ کے وقت عربی زبان میں کوئی وعظ و بیان نہیں ہوتا امام صاحب پورے وقت پر مسجد میں داخل ہوتے ہیں نوافل پڑھنے کے بعد امام صاحب خطبات پڑھنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں ان دونوں خطبات کا وقت زیادہ تر 45 منٹ تک کا ہوتا ھے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ھے۔ پرچی ان کے ہاتھ میں بھی پکڑی ہوتی ھے مگر انہیں زبانی یاد ہوتے ہیں۔

باقی رہی بات پاکستان کے حوالہ سے محکمہ اوقاف کی تو اس پر جو آپ نے لکھ دیا میں اس پر کچھ نہیں کہتا کیونکہ بات پھر بہت لمبی ہو جائے گی۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-11-10), شمشاد احمد (07-11-10)
پرانا 07-11-10, 11:46 AM   #32
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عرب مملک میں خطبہ جمعہ""میکانائزڈ"" پریکٹس کی طرح ہوتا ہے.................کوئی بھی بات تحریک،جہاد،یا مسلمانوں کے حقیقی مسائل اور کفار کے خلاف نہیں کی جا سکتی..............

گلا تو گھونٹ دیا "اہل حکومت"" نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-11-10), شمشاد احمد (07-11-10)
پرانا 14-11-10, 05:39 AM   #33
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

عرب ممالک میں 5 وقت کی نماز پڑھانے کے لئے زیادہ تر امام پاکستانی اور بنگلہ دیشی ہوتے ہیں جن کی تنخواہ 1500 ریال/درھم سے 3000 تک ہوتی تھی اب کا پتہ نہیں کتنی ھے، مگر جمعہ صرف مواطن/ مقامی نیشنل ہی پڑھاتے ہیں اور جو خطبہ ہوتا ھے وہ وعظ و بیان ہی ھے۔ اور یہ بھی اچھی بات ھے کہ وہ محکمہ اوقاف کی طرف سے پیش ہوتا ھے ورنہ میں تو جب بھی جمعہ پڑھنے جاؤں تو افسوس ہی ہوتا ھے کہ حقیقی وعظ و بیان 5 سے 10 منٹ کا پھر اس کے بعد علامہ صاحب ٹریک بدل لیتے ہیں اور بڑی عجیب سی صورت حال پیدا ہو جاتی ھے کہ دل کرتا ھے بغیر جمعہ ادا کئے گھر چلے جائیں یا جمعہ پڑھنے اس وقت ہی جائیں جب جماعت کھڑی ہونی ہو حالنکہ یہاں پر مساجد زیر انتظامیہ کی سرپرستی میں ہیں مگر انہیں منع کرنے والا بھی کوئی نہیں اب اگر مجھ جیسا بندہ اٹھ کر کھڑا ہو گا تو وہ یہ کہیں گے کہ یہ غلط بندہ ھے اسے مسجد سے باہر نکال دو حالانکہ وہ غلطی پر ہیں جو اسطرح نفرت پھیلانے والی باتیں سن کر خوش ہوتے ہیں۔ اللہ سبحان تعالی انہیں ھدایت دے جو دین کا استعمال صحیح کریں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-11-10), فیصل ناصر (14-11-10)
پرانا 16-02-11, 11:12 AM   #34
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شیخ عبدالفتاح ابوغدہ نے عبدالعزیز بن باز صاحب سے پہلے جو مفتی اعظم تھے شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ ان کے حوالہ سے نقل کیاہے کہ وہ خود تین طلاق کو تین مانتے تھے اورشیخ عبدالوہاب کے حوالہ سے یہ بھی نقل کیاکہ انہوں نے صرف ایک مرتبہ شیخ الاسلام ابن تیمہ کے قول پر فتویٰ دیااس کے بعد انہوں نے ہمیشہ جمہور ائمہ کے اقوال پر فتویٰ دیا۔
تراجم ستۃ فقہاء من عالم الاسلامی
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جمال کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (16-02-11)
پرانا 16-02-11, 06:42 PM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ تعالی کے قرآن کے مطابق ہر ایک طلاق ، اطلاع اور عدت کی مدت سے مشروط ہے۔

طلاق = اطلاع + عدت کی مدت

بناء عدت کے طلاق نہیں ہوتی ۔۔۔ یہ غیر منطقی بات ہے کہ تین عدت کی مدتیں ساتھ شمار کی جائیں۔ لہذا طلاق کی اطلاع یا اعلان 3 بار ہو یا تیس بار۔۔۔ عدت کی مدت کی وجہ سے سب طلاقوں‌کی اطلاع یا اعلان ایک طلاق شمار ہوگی۔

لہذا جو لوگ تین یا تیس طلاقیں ساتھ دیتے ہیں وہ صرف اور صرف اطلاع یا اعلان اتنی با ر کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اس کے بعد کی عدت ان اعلانات یا اطلاعات کو ایک بناتی ہے۔

کیا تیس بار نکاح پڑھوانے سے تیس نکا ح ہوجاتے ہیں ، نکاح کا اعلان تین بار ہو یا تیس بار ، وہ ایک ہی نکاح ہوتا ہے۔ ؟؟

کیا 10 + 10 + 10 = 30 سال کی قید کو 10 سال کی مدت میں‌ ساتھ ساتھ چلایا جاسکتا ہے؟؟؟

جو لوگ طلاق کو عدت کی مدت سے جدا کرتے ہیں‌، وہ اللہ تعالی کے فرمان --- ہر طلاق کے ساتھ عدت کی مدت --- کو ماننے سے یا تو انکار کرتے ہیں یا ان کی سمجھ میں‌یہ بات نہیں‌آتی۔۔۔۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-02-11), مرزا عامر (18-02-11)
پرانا 16-02-11, 07:33 PM   #36
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب اردومحفل اوردیگرفورم پر آپ کے خیالات سے اورنظریات سے واقف ہوں۔آنجناب احادیث کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو اہل سنت والجماعت کے یہاں دیاجاتاہے۔ ظاہر سی بات ہے یہ آپ کانظریہ ہے۔جمہوری حکومت میں آپ ازاد ہیں۔ لہذا جب ہمارے اورآپ کے نظریات میں ہی زمین آسمان کا فرق ہے توپھر فروعات پر بحث کرنا وقت کاضیاع ہے۔امید ہے کہ آنجناب کواس کااحساس ہوگا۔
ویسے آپ نے نکاح اورطلاق کی جومثال پیش کی ہے۔اسے فقہ کی اصطلاح میں قیاس مع الفارق کہاجاتاہے۔
آنجناب کو معلوم ہے کہ بچہ کی ولادت کن نازک مراحل کی مرہون منت ہوتی ہیں اس کے مقابلہ میں زندگی ختم کرنے کیلئئے ایک کاری ضرب اورایک گولی کافی ہوتی ہے۔
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جمال کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-02-11, 07:26 AM   #37
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تین طلاقوں‌کی ایک عدت پر کون کون سے فرقے رضامند ہیں‌یہ جاننا میرے لئے ضروری نہیں۔

البتہ آپ کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، اردن، مصر، سوڈان، یمن، انڈونیشیا ، بنگلہ دیش اور ملائشیا میں‌ ایک وقت میں‌دی ہوئی متعدد طلاق کو صرف اور صرف ایک طلاق مانا جانے کا قانون موجود ہے۔ سب سے پہلے اس کی ابتدا مصر سے ہوئی۔ مصر میں جامعۃ الازہر نے سب سے پہلے انیسویں صدی میں‌ اس قانون کی حمایت کی۔ جس کے بعد یہ دوسرے ممالک میں‌بھی بطور قانون نافذ‌ہوا۔ لہذا اس کو "میراخیال " قرآر دینا ، صرف ان لوگوں‌کے لئے ممکن ہے جو اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کے لئے طرح‌ طرح کی تاویلات پیش کرتے ہیں۔ یا پھر کسی کنویں‌میں‌ بند تھے کہ کوئی 120 سالہ پرانی خبر بھی ان تک نہیں‌پہنچی ۔۔ اور آج بھی قرآن حکیم چھوڑ کر فضول کی بحث میں مصروف ہیں۔ ٹھیک ہے کہ قرآن حکیم کچھ لوگوں‌کے لئے بہت تکلیف دہ ہے لیکن کم از کم ملکی قوانین کا تو احترام کیجئے ۔۔۔ یا پھر اپنی ڈیڑھ اینٹ‌کی مسجد بنانی ہے۔ مسلمان ہے تو صرف مسلمان، نا کہ "سنی مسلم "، شیعہ مسلم ، حنفی مسلم ، اہلسنت مسلم ، قادیانی مسلم ، "یہ مسلم" ، "وہ مسلم"

فرقہ بندی ہے اور کہیں‌ذاتیں‌ہیں
کیا زمانے میں‌پنپنے کی یہی باتیں‌ہیں؟

اب اگر کچھ لوگ زبردستی تین عدد طلاقوں کو سریع رفتار سے ایک عدت میں پورا کرنا چاہتے ہیں تو ان کے پاس ضرور بالضرور اللہ کے فرمان قرآن سے کوئی نا کوئی دلیل ہوگی۔۔ آپ وہ دلیل فراہم کیجئے تو اس پر غور کیا جائے گا۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-02-11), نورالدین (18-02-11), مرزا عامر (18-02-11)
پرانا 17-02-11, 12:43 PM   #38
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب اب میں آپ سے کہاں‌ تک بحث کروں جیساکہ قبل ازیں ذکر کرچکاہوں‌کہ جب ہمارے آپ کے نظریات میں مشرق ومغرب کا فرق ہے تومتفقہ نتیجہ تونکلنا کارمحال ٹھہرا۔
مصر کا حوالہ دے دیابہت خوب۔اس سے پہلے ترکی میں جوقانون رائج تھااس پر بھی توایک نگاہ ڈالتے۔ ہندوستان میں عہد اسلامی میں جو قانون رائج تھا اورجس کی معتبر دستاویز فتاوی عالمگیری ہے اس پر بھی تونگاہ دوڑاتے۔
یہ توکوئی بات نہ ہوئی کہ جہاں سے اپنے مطلب کی چیزدستیاب ہو اسے توپیش کردیاجائے اورجس سے مزعومہ نظریات کی تائید نہ ہوتی ہواس سے صرف نظرکرلیاجائے۔سعودی عرب میں بھی بطور قانون تین طلاق کوتین ہی مانتے ہیں۔بعض علماء‌کی ذاتی جو سعودی کے ہیںمثلا عبدالعزیز بن باز صاحب اوردوسرے ان کی رائے بھلے ہی کچھ اور ہو لیکن سعودی عرب میں بطور قانون تین طلاق کو تین ہی ماناجاتاہے۔
کہاں توآنجناب صرف قرآن کی بات کرتے ہیں۔احادیث سے استدلال گوارانہیں اورکہاں مصر وغیرہ کی مثال پیش کرتے ہیں یعنی آمروں کا مصر،جمال عبدالناصر کامصر،انورسادات کا مصر،اورحسنی مبارک المعزول والمخزول کا مصر۔فیاللعجب۔
بہرحال یہ اس سلسلے میں میراآخری مراسلہ تھا۔ اگرکچھ ناگوارخاطر گزرا ہوتومعذرت کاخواستگار ہوں۔
خداہمیں قرآن وحدیث کوسمجھنے اوراس پرعمل کرنے کی توفیق دے۔والسلام
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-02-11, 07:12 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ان تمام ممالک جن میں طلاق کو عدت کے ساتھ مشروط کیا جاتا ہے ، ان ممالک کے قوانین ، مسلمانوں نے ہی بنائے ہیں۔ ان میں‌پاکستان بھی شامل ہے۔

اب ایسے لوگوں کا کیا کیا جائے جنہوں نے اپنا اپنا اسلام ایجاد کر رکھا ہے یا کر رکھا تھا۔ مذہبی سیاسی بازی گری کا نتیجہ اتنا بھیانک نکلا کہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد ہندوستان میں اس "نمبر دو اسلامی حکومت" کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔۔

اگر سب کچھ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ملکہ برطانیہ کا خاندان آج بھی برطانیہ پر حکمران ہے اور مغلیہ خاندان کی حکومت "فتاوی عالمگیری" کا شکار ہوگئی ؟؟؟؟؟

فتاوی الہی یعنی اللہ کا فرمان قرآن طلاق کی اطلاع، عدت کی مدت سے مشروط کرتا ہے ۔۔۔‌کسی بھی فتاوی عالمگیری کی فتاوی الہی کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں‌ ہے۔ آپ پوجا کیجئے عالم گیری فتاوی کے مطابق۔ میں عبادت کرتا رہوں گا فتاوی الہی ، قرآن حکیم کے مطابق۔ ----- آپ کے لئے آپ کا دین اور میرے لئے میرا دین ۔۔۔( فتاوی الہی سے اقتباس)

والسلام۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-02-11), نورالدین (18-02-11), مرزا عامر (18-02-11)
پرانا 20-02-11, 12:19 PM   #40
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,513
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تین طلاق کے مسئلہ پر دارالعلوم دیوبند سے شائع شدہ یہ مضمون بھی قابلِ التفات ہے خاص‌طور پر جناب فاروق سرور خان صاحب کے لئے
Attached Files
File Type: pdf teen_talaq.pdf (543.3 KB, 30 views)
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-02-11, 03:34 PM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,788
کمائي: 26,539
شکریہ: 937
1,285 مراسلہ میں 2,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابوسعد مراسلہ دیکھیں
تین طلاق کے مسئلہ پر دارالعلوم دیوبند سے شائع شدہ یہ مضمون بھی قابلِ التفات ہے خاص‌طور پر جناب فاروق سرور خان صاحب کے لئے
مفید شیرنگ کے لیے شکریہ ۔جزاک اللہ
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-02-11, 06:41 AM   #42
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مضمون کی فراہمی کا شکریہ۔ غیر منطقی نکتہ نظر کس لئے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت کے دن شمار کرو۔ طلاق کو عدت کی مدت سے الگ کرنے کی کوئی معقول وجہ فراہم کیجئے۔ کیا وجہ ہے کہ تین طلاقوں کی ایک عدت کی مدت؟؟؟؟

ملا ازم نے عام پڑھے لکھے آدمی کا دماغ بھی بند کردیا ہے۔۔۔ کچھ تو خود سے سوچئے خدارا۔۔۔۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-02-11, 06:05 PM   #43
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,513
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے امید ہے کہ آپ نے میرا فراہم کردہ مضمون ’’غیر جانب دار‘‘ ہو کر ’’پورا‘‘ پڑھنے کےبعد ہی جواب ارسال فرمایا ہوگا
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-03-11, 12:03 AM   #44
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک ویڈیو نظر سے گذری ہے سوچا آپ لوگوں کی نظر میں پیش کردوں۔ یہ ڈاکٹر شبیر ہیں جو ایک ساتھ 3 طلاقوں کے مخالف ہیں

__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-03-11, 01:22 AM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

طلاقوں کی تین یا تیس اطلاعات کی اوجہ سے طلاق کی ایک عدد عدت نہیں ہوسکتی ۔۔۔ ہر طلاق کے ساتھ عدت ضروری ہے۔

قرآنی آیات کے مناسب حوالے پیش کرچکا ہوں۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (14-07-11), مرزا عامر (09-03-11)
جواب

Tags
گمان, قرآن, قرآنی, لوگ, لڑکی, چور, نظر, مکہ, موجودہ, مسجد, معلوم, آدمی, اکبر, اللہ, امیر, اسلام, خلاف, خدا, دریافت, راستہ, طلاق, عورت, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا تین سو برس پہلے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن مجیدکے نسخہ کی جرمنی میں نیلامی جاویداسد خبریں 1 04-09-10 03:52 AM
عورت - انجینئر کی نظر میں - خواتین سے معذرت کے ساتھ طاھر دلچسپ اور عجیب 8 10-09-09 02:49 AM
اگر دنیا خواتین کے ہاتھ میں ہو ابو عمار دلچسپ اور عجیب 73 06-09-09 01:04 AM
پاکستان کے فورم ساتھ کچھ تیکنیکی مسائل عرفان حیدر تجاویز اور شکایات 27 01-05-08 09:37 AM
::: تھائی لینڈ : باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین فوجی ہلاک ::: ابو کاشان خبریں 0 26-12-07 03:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:20 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger