واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-10, 03:38 PM   #1
ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!
sahj sahj آف لائن ہے 25-10-10, 03:38 PM

ایک ساتھ تین طلاق دینے کا حکم!


سوال:-
کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میں نے اپنی بیوی کو ۱۲/مارچ ۲۰۰۹ء کو تین طلاقیں دیں اور کچھ دن بعد عدالت سے بھی طلاق کے کاغذات لئے، جس پر میری طرف سے تحریری طلاق درج تھی، طلاق کے بعد میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی، انہوں نے گھر سے نکالا تو وہ نانی ، نانا کے ہاں گئی، اس کے نانا نے لڑکی کو اور مجھے ایک مسجد لے گئے، جہاں سے انہوں فتویٰ دیا کہ یہ طلاق رجعی ہے اورہمارا دوبارہ تجدید نکاح کرایا۔ اب کیا ہمارا یہ نکاح تھا یا نہیں؟

مستفتی راحیل الدین مکان نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرا چی۔


الجواب بعون الوہاب

واضح رہے کہ از روئے قرآن وحدیث وجمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین، تابعین رحمہ اللہ و تبع تابعین رحمہ اللہ، ائمہ مجتہدین بالخصوص چاروں ائمہ کرام امام اعظم ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ان تمام حضرات کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ “
(بقرہ:229)

اور اگلی آیت میں ہے:

”فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ …“
(بقرہ:230)

یعنی دو طلاق دینے تک تو مرد کو رجوع کا اختیار ہے، لیکن جب تیسری طلاق بھی دیدی تو اب مرد کے لئے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔

چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”ترجم البخاری علی ہذہ الایة باب من اجاز الطلاق الثلاث بقولہ تعالیٰ الطلاق مرتان، فامساک بمعروف او تسریح باحسان، وہذا اشارة الی ان ہذہ التعدید انما ہو فسخة لہم فمن ضیق علی نفسہ لزمہ قال علمائنا: واتفق ائمة الفتویٰ علی لزوم ایقاع الطلاق الثلاث فی کلمة واحدة وہو قول جمہور السلف… المشہور عن الحجاج بن ارطاة وجمہور السلف والائمة انہ لازم واقع ثلاثاً ولافرق بین ان یوقع ثلاثًا مجتمعة فی کلمة او متفرقة فی کلمات…“
(الجامع لاحکام القرآن ج:۳/۱۲۹)

اسی طرح احکام القرآن للجصاص میں ہے:

”قال ابوبکر: قولہ تعالیٰ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان الایة: یدل علی وقوع الثلاث معاً مع کونہ منہیاً عنہا…“


اسی طرح حدیث میں ہے:

”عن عائشہ ان رجلًا طلق امراتہ ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبیا اتحل للاول قال لاحتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول…“ (بخاری شریف ج:۲/۷۹۱)
ترجمہ:…”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیدیں پھر اس نے دوسرے سے نکاح کرلیا، اس نے صحبت کئے بغیر طلاق دیدی، آپ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ پہلے خاوند کے لئے یہ عورت حلال ہوئی؟ آپ علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:” جب تک دوسرا شوہر صحبت نہ کرلے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی“۔

اس حدیث میں ”طلق امراتہ ثلاثًا“ کا جملہ اس کا مقتضی ہے کہ تین طلاق اکھٹی اور دفعة دی گئیں۔ اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تین طلاقیں اکٹھی واقع ہوجانے پر استدلال ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

”وہی بایقاع الثلاث اعم من ان تکون مجمعةً او متفرقةً“
(فتح الباری ج:۹/۳۶۲ ط ادارة بحوث العلمیة)

حدیث میں ہے:

”عن مجاہد قال کنت عند ابن عباس فجاء ہ رجل فقال انہ طلق امراتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظنت انہ رآدہا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقة ثم یقول: یا ابن عباس یا ابن عباس وان الله تعالیٰ قال ومن یتق الله یجعل لہ مخرجاً، وانک لم تتق الله فلااجد لک مخرجاً، عصیت ربک وبانت منک امراتک“۔
(سنن ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)

ترجمہ:…”مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں (کیا حکم ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئے (مجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی بیوی کو واپس لوٹانے والے ہیں پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان پر حماقت سوار ہوتی ہے، پھر میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یا ابن عباس یا ابن عباس جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے راستہ نکالتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ سے ڈر انہیں (اور بیک وقت تین طلاقیں دیدی) اس لئے قرآن کے مطابق تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں پاتا تونے خدا کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی ہے اور تم سے جدا ہوگئی ہے“۔

اور ابوداؤد رخمہ اللہ علیہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

”روی ہذا الحدیث حمید الاعرج وغیرہ عن مجاہد عن ابن عباس رضی اللہ عنہ… کلہم قالوا فی الطلاق الثلاث انہ اجاز ہا قال وبانت منک…“
(ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)
یعنی ان حضرات نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے یہ تمام رواة متفقہ طور پر نقل فرمارہے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کو نافذ فرمادیا اور فتویٰ دیا کہ عورت جدا ہوگئی۔

اسی طرح نسائی شریف کی حدیث میں ہے:

”عن محمود بن لبید قال اخبر رسول الله ا عن رجل طلق امراتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب الله وانا بین اظہر کم حتی قال رجل وقال یا رسول الله الا اقتلہ“۔
(نسائی،ج:۲/۹۹ ط قدیمی)
ترجمہ:…”محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاة و السلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دیدیں ہیں۔ آپ علیہ السلام نے غضبناک ہوکر تقیریر فرمائی کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، آنحضرت اکا یہ غصہ دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کردوں“۔

حدیث مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں مجتمعاً واقع ہوجاتی ہیں۔ اگر واقع نہ ہوتیں تو آنحضرت ا غضبناک نہ ہوتے اور فرمادیتے کہ کوئی حرج نہیں رجوع کرلو۔


اسی طرح مؤطا امام مالک رحمہ اللہ میں ہے:

”عن مالک بلغہ ان رجلاً قال لابن عباس رضی اللہ عنہ انی طلقت امرأتی مأة تطلیقة ما ذاتری علی؟ فقال لہ ابن عباس رضی اللہ عنہ طلقت منک بثلاث وسبع وتسعون اتخذت بہا آیات اللہ ہزوا“
(مؤطا امام مالک ،ص:۵۱۰)
ترجمہ:…”ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں ہیں، اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین طلاقوں سے تو عورت تجھ سے جدا ہوگئی اور بقیہ ستانوے طلاقوں سے تونے اللہ کی آیات کا تمسخر کیا ہے“۔

اور طحاوی شریف میں ہے:

”عن مالک بن حارث قال رجل الی ابن عباس رضی اللہ عنہ فقال ان عمی طلق امراتہ ثلاثاً فقال: ان عمک عصی الله فاثمہ الله واطاع الشیطان فلم یجعل لہ مخرجا فقلت کیف تری فی رجل یحلہا لہ فقال من یخادع الله یخادعہ…“
(طحاوی،،باب الرجل یطلق امراتہ ثلاثا معا ج:۲/۳۴)

ترجمہ:…”مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میرے چچا اپنی عورت کو دفعتً تین طلاقیں دے بیٹھے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے چچا نے خدا کی نافرمانی کی اور شیطان کی اطاعت کی اور آپ نے اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں نکالی۔ مالک بن حارث فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا :آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو اس عورت کو اس شوہر کے لئے حلال کرے؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ سے چالبازی کرے گا اللہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرے گا“۔


اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”عن انس رضی اللہ عنہ قال کان عمر رضی اللہ عنہ اذا اتی برجل قد طلق امراتہ ثلاثاً فی مجلس او جعہ ضرباً وفرق بینہما…“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)
وفیہ ایضا عن معمر عن الزہری فی رجل طلق امراتہ ثلاثاً جمیعاً قال ان من فعل فقد عصی ربہ وبانت منہ امراتہ“
(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج:۵/۱۱)

ترجمہ:…”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہوتیں تو آپ رضی اللہ عنہ اس کو سزا دیتے ہیں اور دونوں میں تفریق کردیتے ہیں۔ تو قرآنی آیات وتفاسیر واحادیث سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دقعةً تین طلاقیں دینے سے تین ہی شمار ہوتی ہیں۔“

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے چونکہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو اس سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ اس سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہے۔


باقی غیر مقلدین کا منسلکہ فتویٰ از روئے قرآن وحدیث اور جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین، تابعین رحمہ اللہ ، تبع تابعین رحمہ اللہ اور چاروں ائمہ کرام رحمہ اللہ کے متفقہ مسلک کے خلاف ہے، جیساکہ اوپر لکھا گیا ہے اور جس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ہے، اس حدیث سے تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کا استدلال کرنا تمام فقہاء کے نزدیک باطل ہے۔

مذکورہ حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے اس حدیث سے استدلال کرنا اس لئے درست نہیں ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت غیر مدخولہ کے متعلق ہے، عام نہیں ہے۔ واضح رہے کہ عورتیں دو قسم کی ہیں:

۱…غیر مدخولہ (جس کا شوھر کے ساتھ خاص تعلق نہ ھوا ھو)
۲…مدخولہ (جس کے ساتھ خاص تعلق قائم ھوچکا ھو)

غیر مدخولہ عورت کو اگر الگ الگ لفظوں میں اس طرح طلاق دی جائے۔ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“تو پہلے ہی لفظ سے وہ بائنہ ہوجاتی ہے یعنی نکاح سے نکل جاتی ہے اور ایسی عورت پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی، جب یہ عورت پہلے ہی لفظ سے بائنہ ہوگی اور اس پر عدت بھی نہیں تو اس کے بعد وہ طلاق کا محل نہ رہی، اس بناء پر دوسری اور تیسری طلاق لغو ہوتی ہے، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اگر تین طلاقیں دی جائیں تو ایک شمار ہوتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی سالوں میں غیر مدخولہ کو طلاق دینے کا یہی طریقہ تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے جلد بازی شروع کردی اور ایسی غیر مدخولہ کو ایک ساتھ ایک لفظ میں تین طلاق دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب تین طلاق ہی ہوں گی۔ کہ (انت طالق ثلاثا) کہہ کر طلاق دی ہے اور یہ لفظ نکاح قائم ہونے کی حالت میں بولا ہے۔
(ابوداؤد شریف ج:۱/۳۰۶)
دوسرا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانہ میں جب ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ کہا جاتا تو عموماً لوگوں کی دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی، استیناف کی نیت نہیں ہوتی تھی اور اس زمانہ میں لوگوں میں دین اور تقویٰ اور خوف آخرت اور خوف خدا غالب تھا دنیا کی خاطر دروغ بیانی کا خطرہ تک دل میں نہ آتا تھا۔ آخرت میں جوابدہی اور آخرت کے عذاب کا اتنا استحضار رہتا کہ مجرم بذات خود حاضر ہوکر اپنے جرم کا اقرار کرتا اور اپنے اوپر شرعی حد جاری کرنے کی درخواست کرتا، اس بناء پر ان کی بات پر اعتماد کرکے ایک طلاق کا حکم کیا جاتا، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں مگر جیسے جیسے عہد نبوی سے بعد ہوتا گیا اور بکثرت عجمی لوگ بھی حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے، ان میں تقویٰ وخوف آخرت کا معیار کم ہونے لگا اور پہلے جیسی سچائی، امانت داری اور دیانت داری نہ رہی، دنیا اور عورت کی خاطر دروغ بیانی ہونے لگی، جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے ایک سرکاری خط آیا کہ یہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ جملہ کہا ہے ”حبلک علی غاربک“ (تیری رسی تیری گردن پر ہے) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ ”ان مرہ ان یوافینی بمکة فی الموسم“ اس کو کہو کہ حج کے زمانہ میں مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے زمانہ میں کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اس آدمی (عراقی) نے آپ سے ملاقات کی اور سلام کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کون ہو، اس نے کہا: میں وہی ہوں جس کو آپ نے حج کے زمانہ میں طلب کیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے رب کعبہ کی قسم سچ بتا ”حبلک علی غاربکسے تیری کیا نیت تھی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اگر اس مبارک جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ قسم لی ہوتی تو میں صحیح نہ بتاتا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس جملے سے فراق کا یعنی عورت کو اپنے نکاح سے الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت تیرے ارادے کے مطابق تجھ سے علیحدہ ہوگئی۔
(موطأ امام مالک ص:۵۱۱ ماجاء فی الخلیة والبریة واشباء ذلک بحوالہ فتاویٰ رحیمہ ۴/۳۴۳)
یہ عراقی ایک عورت کے لئے جھوٹی قسم کھانے کے لئے اور دروغ بیانی کے لئے تیار تھا مگر کعبة اللہ اور حرم شریف کی عظمت وتقدس کا خیال رکھتے ہوئے کذب بیانی سے احتراز کیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عوام کی جب یہ حالت دیکھی، نیز آپ کی نظر اس حدیث پر تھی:

”اکرموا اصحابی فانہم خیارکم، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، ثم یظہر الکذب حتی ان الرجل یحلف ولایستحلف ویشہد ولایستشہد…الخ“۔
(مشکوٰة المصابیح، باب مناقب الصحابة ج:۳/۵۵۴ ط سعید)
یعنی عہد نبوت سے جیسے جیسے دوری ہوتی چلی جائے گئی، دینداری کم ہوتی رہے گی اور کذب ظاہر ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے موجودہ اور آئندہ حالات کو پیش نظر رکھ کر صحابہ سے مشورہ کیا کہ جب ابھی یہ حالت ہے تو آئندہ کیا حالت ہوگی اور لوگ عورت کو الگ کردینے کی نیت سے تین طلاق دیں گے اور پھر غلط بیانی کرکے کہیں گے کہ ہم نے ایک طلاق کی نیت کی تھی۔ آپ نے اس چور دروازے کو بند کرنے کے لئے فیصلہ کیا کہ لوگوں نے ایسی چیز میں جلد بازی شروع کردی جس میں انہیں دیر کرنی چایئے تھی، اب جو شخص تین مرتبہ طلاق دے گا، ہم اسے تین ہی قرار دیں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے اس فیصلہ سے اتفاق کیا اور کسی ایک نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہ کی۔

چنانچہ طحاوی شریف میں ہے:

”فخاطب عمر رضی اللہ عنہ بذلک الناس جمیعا وفیہم اصحاب رسول اللہ ا ورضی اللہ عنہم الذین قد علموا ما تقدم من ذلک فی زمن رسول اللہ ا فلم ینکرہ علیہ منہم ولم یدفعہ دافع…“
(طحاوی،،ج:۲/۳۴)
محقق علامہ ابن ہمام رحمة اللہ فرماتے ہیں:

”ولم ینقل عن احد منہم انہ خالف عمر رضی اللہ عنہ حین امضی الثلاث وہی یکفی فی الاجماع…“
(حاشیہ ابوداؤد ج:۱/۳۰۶)
یعنی کسی ایک صحابی سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں تین طلاق کا فیصلہ کیا، ان میں سے کسی ایک نے بھی… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف کیا ہو اور اس قدر بات اجماع کے لئے کافی ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”فاختلف العلماء فی جوابہ وتاویلہ فالاصح ان معناہ انہ کان فی اول الامر اذا قال لہا انت طالق، انت طالق، انت طالق، ولم ینو تاکیداً ولااستینافاً یحکم بوقوع طلقة لقلة ارادتہم الاستنیاف بذلک فحمل علی الغالب الذی ہو ارادة التاکید فلما کان فی زمن عمر رضی اللہ عنہ وکثر استعمال الناس بہذہ الصیغة وغلب منہم ارادة الاستیناف بہا حملت الاطلاق علی الثلاث عملاً بالغالب السابق الی الفہم…“
(نووی شرح مسلم ج:۱/۴۷۸ ط قدیمی)
یعنی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بالکل صحیح تاویل اور اس کی صحیح مراد یہ ہے کہ شروع زمانہ میں جب کوئی انت طالق، انت طالق، انت طالق کہہ کر طلاق دیتا تو عموماً اس زمانہ میں دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی تھی، استیناف کی نیت نہ ہوتی تھی، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے اس جملہ کا استعمال بکثرت شروع کیا اور عموماً ان کی نیت طلاق کی دوسرے اور تیسرے لفظ سے استیناف ہی کی ہوتی تھی، اس لئے اس جملہ کا جب کوئی استعمال کرتا تو عرف کی بناء پر تین طلاقوں کا حکم کیا جاتا۔


یہ ہے حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب محدثین کی نظر میں اور یہی تشریح اور مقصد صحیح ہے۔ جو مطلب غیر مقلدین بیان کرتے ہیں، وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ راوی حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خود تین طلاقوں کے نفاذ کا فتویٰ دیا ہے، جیساکہ مذکور ہوچکا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی باوجود اس تشدد وتصلب کے جوان کو اس مسئلہ میں تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ ”ایک مجلس میں تین طلاقیں تین ہیں اور اس کے بعد رجعت جائز نہیں“ سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس فتویٰ کے ثابت ہونے کا صاف اقرار کیا ہے۔

چنانچہ اغاثة اللفہان میں فرماتے ہیں:

”فقد صح بلاشک ابن مسعود وعلی ابن عباس الالزام بالثلاث ان اوقعہا جملة“۔
(اغاثة اللفہان ،،ص:۱۷۹)

اورچونکہ یہ مسئلہ حلال وحرام کے متعلق ہے، اگر واقعی تین کو ایک سمجھا جاتا تو اس کے راوی صرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کیوں ہیں، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین سے اس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے، جبکہ ان سے بڑے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے برخلاف فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کے سامنے کی بات ہے اور ایک صحابی نے بھی اس حکم کے خلاف نہیں کیا جس سے اس مسئلہ پر ان کا اجماع معلوم ہوتا ہے۔ الغرض تین طلاقیں شرعاً واقع ہوچکی ہیں، بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ سے حرام ہوگئی ہے، گمراہ لوگوں سے فتویٰ لے کر حرام کو حلال بنانے کی کوشش کرنا بدترین گناہ ہے، لہذا دونوں میں علیحدگی ضروری ہے، بصورت دیگر اگرایک ساتھ رہے تو حرام کے اندر مبتلا ہوں گے۔

چنانچہ حدیث میں ہے:

”من اعلام الساعة… وان یکثروا اولاد الزنا قیل لابن مسعود وہم مسلمون ! قال نعم: یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة طلقہا فیقیم علی فراشہا منہما زانیان ما اقاما“۔
(الخصائص الکبری للسیوطی ج:۲/۲۷۰ ط حقانیہ)
ترجمہ:…اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ زنا کی اولاد کی کثرت ہوجائے گی، پوچھا گیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا وہ مسلمان ہوں گے؟ فرمایا: ہاں! وہ مسلمان ہوں گے، ایک زمانہ آئے گا لوگوں پر کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا، لیکن پھر بھی اس کے ساتھ اس کے بستر پر رہے گا جب تک دونوں اس طرح رہیں گے زنا کار ہوں گے“۔



”قال:یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة ثم یجہدہا طلاقہا ثم یقیم علی فرجہا فہما زانیان ما اقاما…“
(المعجم الاوسط للطبرانی ج:۵/۴۴۲)
ترجمہ:…فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے گا پھر طلاق دینے سے انکار کرے گا پھر اس سے ہم بستری کرتا رہے گا پس جب تک وہ دونوں اس طرح رہیں گے زناکار ہوں گے“



لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی تھیں، سائل نے بغیر حلالہ شرعی جو دوبارہ نکاح کرکے ایک عرصہ ساتھ گذاراہے، دونوں حرام کاری میں مبتلا رہے، فی الفور علیحدگی کے بعد دونوں پر توبہ و استغفار لازم ہے۔



کتبہ
عبد اللہ منیر
متخصص فقہ اسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1195
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (25-10-10), ابن جمال (15-02-11), بلال اویسی (26-10-10), شمشاد احمد (25-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10), عروج (16-02-11)
پرانا 25-10-10, 10:25 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

موضوع مختلف فیہ لیکن بہت اچھا اس لئے ہے کے یہ ایک بڑا معاشرتی مسئلہ ہے
اس پر اچھی بحث کے حق میں ہوں
امید ہے تمام ممبران ذاتیات سے بالاتر ہو اس پر بات کریں گے

میں ذاتی طور پر ایک وقت میں دی جانے والی 3 یا 3 سے زائد طلاق کو ایک ہی میں شمار کرتا ہوں

مزید صاحب علم افراد کی رائے آجائے گی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 25-10-10 at 11:42 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (25-10-10), نورالدین (18-02-11), ارشد کمبوہ (26-10-10), بلال اویسی (26-10-10), شمشاد احمد (25-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10)
پرانا 25-10-10, 11:28 PM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
موضوع متنازعہ لیکن بہت اچھا اس لئے ہے کے یہ ایک بڑا معاشرتی مسئلہ ہے
اس پر اچھی بحث کے حق میں ہوں
امید ہے تمام ممبران ذاتیات سے بالاتر ہو اس پر بات کریں گے

میں ذاتی طور پر ایک وقت میں دی جانے والی 3 یا 3 سے زائد طلاق کو ایک ہی میں شمار کرتا ہوں

مزید صاحب علم افراد کی رائے آجائے گی
موضوع متنازعہ نہیں مختلف فیہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
اوپر مذکورہ بالا قر‏آن و سنت دلائل کے باوجود ‏آپ کے یہ رائے اختیار کرنے کی وجہ؟؟
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), ایکسٹو (16-02-11), ارشد کمبوہ (26-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10)
پرانا 25-10-10, 11:40 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تصحیح‌ کا شکریہ
ایڈٹ کردیا گیا ہے

شمشاد بھائی ویسے متنازعہ اور مختلف فیہ میں کیا فرق ہوتا ہے ؟

Last edited by فیصل ناصر; 25-10-10 at 11:44 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), نورالدین (18-02-11)
پرانا 26-10-10, 08:39 AM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
تصحیح‌ کا شکریہ
ایڈٹ کردیا گیا ہے

شمشاد بھائی ویسے متنازعہ اور مختلف فیہ میں کیا فرق ہوتا ہے ؟
پیارے۔۔۔ میرا خیال ہے۔ کہ
متازعہ وہ ‌چیز ہوتی ہے جس پر تنازعہ یعنی لڑائی ہو سکتی ہو۔۔۔۔ اور
مختلف وہ ہے جس پر ‏آراء کا اختلاف ہو سکتا ہے۔۔۔ تنازعہ یعنی لڑائی نہیں۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), نورالدین (18-02-11), عبداللہ آدم (27-10-10)
پرانا 26-10-10, 10:09 AM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,788
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-10-10, 10:45 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی کوشش ہے۔ بہت اچھی بات یہ ہے کہ شروع وہاں سے کیا گیا ہے جہاں‌پر اختلاف ہے۔ اور طلاق دینے کا طریقہ اس سے بالکل برعکس طریقہ بتایا گیا ہے جو ایک محترم ہنے فراہم کیا تھا۔

سب سے پہلے تو میں اس طریقے سے اپنا اختلاف رجسٹر کراتا ہوں:

قران و سنت سے میاں‌بیوی کی طلاق ، عدت یعنی وقت کے ساتھ مشروط ہے۔ ہر طلاق کے لئے صرف الفاظ نہیں کافی۔ عورت کے لئے عدت کی مدت گذارنا ہی ایک طلاق کو مکمل کرتا ہے اس لئے تین طلاقیں ایک ساتھ واقع نہیں ہوسکتی ہیں۔۔ یہ نکتہ آج کی تاریخ میں‌ مصر، سوڈان، اردن، مراکو، تیونس، سعودی عرب اور پاکستان کے علماء اور فقہاء واضح کرکے قانون سازی کا عمل مکمل کرچکے ہیں۔ پاکستان کے عائلی قوانین مجریہ 1961، ان علماء کی محنت کا ثبوت ہیں۔ جس میں‌ ایک مجلس کی تین یا اس سے بھی زیادہ طلاق کو طلاق ہونے کی ابتداء تسلیم کیا گیا ہے۔

اس کے قرآن و سنت سے حوالے بعد میں ۔

پلیز غور کیجئے اس مراسلے میں صرف اور صرف معاملہ پر توجہ دی گئی ہے کسی شخص کا نام نہیں‌لیا گیا ، کسی کو برا نہیں‌کہا گیا۔ اختلاف کیا گیا ہے ، جس کا حق سب کو ہے۔ کوشش کیجئے کہ کسی بھی شخص کو مخاطب کئے بغیر اور کسی کا نام سے ریفرنس دئے بغیر بات کیجئے۔ سمجھنے سمجھانے کا عمل اس کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا اپنے نکات پیش کیجئے اور کسی بھی شخص سے کوئی بھی تکلیف دہ بات کہنے سے پہلے اپنے آپ کو یقین دلا لیجئے کہ کیا آپ کے پاس نکات ختم ہوگئے ہیں؟

اچھی بات ہی اچھی بات کو جنم دے سکتی ہے۔۔۔ کوشش کیجئے کہ بحث مثبت اور معلومات سے بھرپور ہو۔ تاکہ اس سے بہت سے لوگ استفادہ حاصل کرسکیں۔۔ آج بھی اور کل بھی۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), نورالدین (18-02-11)
پرانا 26-10-10, 10:52 AM   #8
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اختلافات کا مطلب ہی لڑائی لیا جاتا ہے بھائی ۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
پیارے۔۔۔ میرا خیال ہے۔ کہ
متازعہ وہ ‌چیز ہوتی ہے جس پر تنازعہ یعنی لڑائی ہو سکتی ہو۔۔۔۔ اور
مختلف وہ ہے جس پر ‏آراء کا اختلاف ہو سکتا ہے۔۔۔ تنازعہ یعنی لڑائی نہیں۔۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
ARHAM کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 01:56 PM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ARHAM مراسلہ دیکھیں
اختلافات کا مطلب ہی لڑائی لیا جاتا ہے بھائی ۔۔
اختلاف كا مطلب لڑائي نہيں ہوتا۔۔۔۔ اگر كہيں يہ مطلب لياجاتاہے تو غلط لياجاتاہے۔۔۔
ميرا اور والد صاحب كا سونے اور جاگنے كے اوقات كار پر اختلاف ہے۔۔۔۔ لڑائي نہيں ہے۔
والدہ كے ساتھ ناشتے اور كھانے كے اوقات پر اختلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑائي نہيں ہے۔
ميراا ہليہ كے ساتھ اوٹنگ پر جانے اور گھومنے كے مقامات كے انتخاب پر اختلاف ہو تا ہے۔۔۔۔ لڑائي نہيں ہوتي۔۔
بہن كے ساتھ گھر كي سيٹنگ اور ڈركوريشن كے معاملے ميں ميرا اور بسا اوقات ميري اہليہ كا اختلاف ہو جاتا ہے۔۔۔ لڑائي نہيں ہوتي۔
آفس ميں ميرا اپنے آفس كے كوليگ كے ساتھ آفس كے اوقات كار ميں اختلاف ہے۔۔۔۔ لڑائي نہيں‌ہوتي۔
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), کنعان (26-10-10), نورالدین (18-02-11)
پرانا 26-10-10, 02:36 PM   #10
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارے ارے بھائی ۔۔۔ اتنا بھی نہیں چلتے چلے جائیں ۔۔۔ کہ پیچھے والوں کی بات ہی نہ سن سکیں ۔۔۔
میں ذاتی اختلافات کی بات نہیں کر رہی ۔۔۔۔ ( اتنے تو آپ بھی سمجھدار ہیں ) وہ تو میرے بھی ہیں مگر کوئی لڑائی نہیں ۔۔۔۔۔
بے شک ہر کوئی تو ایسا نہیں ہوتا لیکن مذہب کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ہمیں سب سے پہلے برداشت کی ہی کمی نظر آتی ہے ۔۔۔
بات کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پہنچ جاتی ہے
مسئلہ جوں کا توں ۔۔
ہمارے محلے کی مسجد میں ہر جمعہ جو وعظ ہوتا ہے ۔۔۔ اس میں بھی براہ راست حملہ ہوتا ہے ۔۔۔
اب اگر اسی طرح چلتے چلتے جائیں تو ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اختلاف كا مطلب لڑائي نہيں ہوتا۔۔۔۔ اگر كہيں يہ مطلب لياجاتاہے تو غلط لياجاتاہے۔۔۔
ميرا اور والد صاحب كا سونے اور جاگنے كے اوقات كار پر اختلاف ہے۔۔۔۔ لڑائي نہيں ہے۔
والدہ كے ساتھ ناشتے اور كھانے كے اوقات پر اختلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑائي نہيں ہے۔
ميراا ہليہ كے ساتھ اوٹنگ پر جانے اور گھومنے كے مقامات كے انتخاب پر اختلاف ہو تا ہے۔۔۔۔ لڑائي نہيں ہوتي۔۔
بہن كے ساتھ گھر كي سيٹنگ اور ڈركوريشن كے معاملے ميں ميرا اور بسا اوقات ميري اہليہ كا اختلاف ہو جاتا ہے۔۔۔ لڑائي نہيں ہوتي۔
آفس ميں ميرا اپنے آفس كے كوليگ كے ساتھ آفس كے اوقات كار ميں اختلاف ہے۔۔۔۔ لڑائي نہيں‌ہوتي۔
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
چلتے چلو
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-10-10), شمشاد احمد (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 04:30 PM   #11
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

موضوع پرمثبت بات ہونی چاہئے شمشاد بھائی کی بات جہاں تک میں سمجھا ہوں اس کے تناظر میں عرض ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ایک ساتھ تین طلاقوں کے قائل ہیں اور حضرت امام احمد بن حنبل ایک ساتھ تین طلاقوں کو ایک مانتے ہیں۔ یہ ان میں متنازعہ بات نہیں بلکہ مختلف فیہ بات ہے۔ یعنی اس پر لڑائی کی ضرورت نہیں بلکہ دومختلف آرا ہیں۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (26-10-10), اویسی (26-10-10), حیدر (27-10-10), شمشاد احمد (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 05:04 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ARHAM مراسلہ دیکھیں
ارے ارے بھائی ۔۔۔ اتنا بھی نہیں چلتے چلے جائیں ۔۔۔ کہ پیچھے والوں کی بات ہی نہ سن سکیں ۔۔۔
میں ذاتی اختلافات کی بات نہیں کر رہی ۔۔۔۔ ( اتنے تو آپ بھی سمجھدار ہیں ) وہ تو میرے بھی ہیں مگر کوئی لڑائی نہیں ۔۔۔۔۔
بے شک ہر کوئی تو ایسا نہیں ہوتا لیکن مذہب کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ہمیں سب سے پہلے برداشت کی ہی کمی نظر آتی ہے ۔۔۔
بات کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پہنچ جاتی ہے
مسئلہ جوں کا توں ۔۔
ہمارے محلے کی مسجد میں ہر جمعہ جو وعظ ہوتا ہے ۔۔۔ اس میں بھی براہ راست حملہ ہوتا ہے ۔۔۔
اب اگر اسی طرح چلتے چلتے جائیں تو ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تك ہر ايك يا كم از كم اكثريت ايسا نہيں ہوتي۔۔۔۔‌اس وقت تك ۔۔‌ہم يوں ہي اپني اپني آراء پر لڑتے رہيں گے۔۔۔۔
باقي برداشت كي كمي كا تعلق مذہب سے نہيں ہماري مٹي سے ہے۔۔۔۔ بس مسئلہ يہ ہے‌كہ مذہب سے ہمارا جذباتي لگاؤ ہے اس لئے اس پر ہم اپنے رد عمل كا بھر پور اظہار كرتے ہيں۔۔۔ اور بيشتر اوقات يہ رد عمل كا اظہار ديني فہم كم ہوني كي وجہ سے فروعي مسائل پر اتنا زيادہ ہو جاتا ہے جو شرعا مطلوب نہيں ہوتا۔۔۔ اور خير سے خون مسلم جوش تو مارتا ہي ہے۔۔۔ پھر سامنے‌والا بھي فروعي مسائل پر غيرت ايماني ميں آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ چليں آپ كو يقين نہيں آتا تو ايك تجربہ كر ليں۔۔۔۔
آپ كے محلے كي جس مسجد سے‌ براہ راست ہر جمعہ كے وعظ ميں‌حملے ہوتے ہيں۔۔ اس كے رد عمل كے طور پر آپ تھوڑا سا احتجاج تو جا كر ريكارڈ كرائيں۔۔۔۔۔۔ كيوں كہ دكھيں دونوں طرف سے فروعي مسائل پر كيسے غيرت ايماني بيدار ہوتي ہے۔۔۔‌
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 05:05 PM   #13
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بلال اویسی مراسلہ دیکھیں
موضوع پرمثبت بات ہونی چاہئے شمشاد بھائی کی بات جہاں تک میں سمجھا ہوں اس کے تناظر میں عرض ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ایک ساتھ تین طلاقوں کے قائل ہیں اور حضرت امام احمد بن حنبل ایک ساتھ تین طلاقوں کو ایک مانتے ہیں۔ یہ ان میں متنازعہ بات نہیں بلکہ مختلف فیہ بات ہے۔ یعنی اس پر لڑائی کی ضرورت نہیں بلکہ دومختلف آرا ہیں۔
اويسي بھائي ساڈے بوجھ‌بوجھكڑ توسي ہو۔۔۔۔ بالكل گل ٹھيك سمجھے ہو۔۔۔۔۔ ارحم بہن جي نوں وي سمجھاؤ۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 05:15 PM   #14
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

دوران گفتگو اگر کوئی ممبر بھائی کوئی بات لکھ دے تو براہ مہرنانی اسے پڑھ لیا کریں کوئی بری بات نہیں ھے، مگر موضوع چھوڑ کر اس لکھی ہوئی بات پر اتنے مراسلے لکھنے پر اپنی توانائی نہ صرف کیا کریں۔
موضوع طلاق پر مراسلہ بہت اچھے انداز سے قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیا گیا ھے، اب کسی اور کا انتظار بھی کریں کہ وہ بھی قرآن و سنت سے اس پر روشنی ڈالیں اگر وہ معلومات اس سے مختلف بھی ہوں تو قارئین پر منحصر ھے کہ اس کو کونسی معلومات اچھی لگتی ھے اس کے بعد اگر کوئی چاہے تو اس پر ڈبیٹس کر سکتا ھے۔

شکریہ

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), اویسی (26-10-10), بلال اویسی (26-10-10), شمشاد احمد (26-10-10), عبداللہ آدم (27-10-10), عروج (16-02-11)
پرانا 26-10-10, 05:39 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تين اور ايك طلاق پر دل چسپي ركھنے والے حضرات كے طلاق كے موضوع پر چند گذارشات يہاں پر عرض كر دي گئي ہيں۔

نكاح، طلاق اور حلالہ۔ بحث كا خلاصہ۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-10-10), فاروق سرورخان (26-10-10), کنعان (26-10-10), منتظمین (26-10-10), بلال اویسی (26-10-10), حیدر (27-10-10), عبداللہ حیدر (28-10-10)
جواب

Tags
گمان, قرآن, قرآنی, لوگ, لڑکی, چور, نظر, مکہ, موجودہ, مسجد, معلوم, آدمی, اکبر, اللہ, امیر, اسلام, خلاف, خدا, دریافت, راستہ, طلاق, عورت, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا تین سو برس پہلے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن مجیدکے نسخہ کی جرمنی میں نیلامی جاویداسد خبریں 1 04-09-10 03:52 AM
عورت - انجینئر کی نظر میں - خواتین سے معذرت کے ساتھ طاھر دلچسپ اور عجیب 8 10-09-09 02:49 AM
اگر دنیا خواتین کے ہاتھ میں ہو ابو عمار دلچسپ اور عجیب 73 06-09-09 01:04 AM
پاکستان کے فورم ساتھ کچھ تیکنیکی مسائل عرفان حیدر تجاویز اور شکایات 27 01-05-08 09:37 AM
::: تھائی لینڈ : باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین فوجی ہلاک ::: ابو کاشان خبریں 0 26-12-07 03:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:20 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger