| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
السلام و علیکم
جناب میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک دوست کی اپنے والد کے ساتھ لڑائی ہو گئ جس پہ اس کے والد نے اس کو گھر سے نکال دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر تم آئندہ اس گھر میں آئے تو میری طرف سے تمہاری ماں کو طلاق (استغفراللہ)۔ لیکن اب وہ لڑکا اپنے گھر واپس جانا چاہتا ہے لہذا میر ی آپ سے گذارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ اگر وہ لڑکا اپنے گھر جاتا ہے تو اس کی ماں کو طلاق ہو جائے گی؟ اور کیا اس طرح کہنے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے؟ اور اگر اس قسم کو فاسد کرنا ہو تو اسکے والد کو کیا کرنا ہو گا؟ kindlyاس سوال کا جواب زرا جلد از جلد دینے کی کوشش کریں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
__________________
![]() http://www.itmehfil.com |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,469
کمائي: 37,336
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,096
3,830 مراسلہ میں 9,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پلیز اس میں یہ بھی آضافہ کر لیں کہ اگر اس قسم کو فاسد کرنا ہو تو اسکے والد کو کیا کرنا ہو گا۔
اللہ ہمیںسب کو غصہ اور ایسی قسموں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین)
__________________
"یہ ضروری تو نہیں کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ زندگی بھی بتا سکیں" |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
مراسلات: 14,176
کمائي: 2,206,414
ميرا موڈ:
شکریہ: 3,103
3,493 مراسلہ میں 6,176 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے مطابق اسلام میں اس طرح کی باتوں کی کوئی گنجائش نہیںہے کہ بس کہ دیا اور طلاق.. طلاق کا باقدہ ایک طریقہ ہوتا ہے بلکل نکاح کی طرح ، اب مزید ان کو کرنا کیا ہوگا اور کیسے کرنے پو گا. میرے حساب سے تو بیٹے کو اپنے والد صاحب سے معافی مانگنی چاہیے اور پھر والد صآحب کو چاہیے کہ وہ اپنے دی ہوئی قسم واپس لیں. اب اس اسلام میںاس کا کیا حل ہے یہ تو آپ کو قسیم بھائی ہی بتا سکیںگے
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() |
اول تو غصہ میں طلاق ہوتی نہیںاور دوسری بات طلاق کے لئے بہت سی شرائظ ہے میرے بھائی ۔ایسے ہی تو طلاق نہیںنا ہو جاتی
__________________
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مراسلات: 79
کمائي: 127
شکریہ: 0
3 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے خیال سے تو اس صورت میں طلاق رجعی ہو جاتی ہے۔ جس کا حل یہ ہے کہ جس دن باپ نے بیٹے سے کہا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اس دن سے لیکر ایک ماہ تک میاں بیوں آپس میں رجوع کر لیں تو طلاق نہیں ہوتی۔ اور اگر بیٹا گھر واپس آجائے تو طلاقِ رجعی ہوجاتی ہے جس کا حل ہے کہ 10/15آدمی بٹھا کر دوبارہ نکاح کیا جائے گا لیکن اس نکاح کا اندراج نہیں ہوگا۔
اللہ کمی بیشی معاف فرمائے |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
میرے علم کے مطابق اگر بیٹا گھر میں جاتا ہے تو ایک طلاق رجعی ہو جائے گی۔ اس کے والد نے اگر پہلے دو طلاقیں نہیں دے رکھیں تو وہ بغیر کوئی نیا نکاح کیے رجوع کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ مقررہ مدت نہ گزری ہو۔ نئے نکاح کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب طلاق رجعی کے بعد مقررہ مدت گزر جائے۔ اور یہ مدت تقریبا تین ماہ ہے۔ ارشاد باری ہے
والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۔۔۔۔و بعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا (البقرۃ 22 ![]() “اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔ ۔۔۔اور ان کے خاوند اس مدت میں انہیں واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں اگر وہ اصلاح کرنا چاہیں۔“ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
مراسلات: 14,176
کمائي: 2,206,414
ميرا موڈ:
شکریہ: 3,103
3,493 مراسلہ میں 6,176 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشا اللہ
اللہ آپ سب کو جزا عطا فرمائیں |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ماشااللہ قسیم بھائی آپ نے بہت اچھے طریقے سے اصلاح اور ہمارے علم میں اضافہ فرمایا....شکریہ
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت شکریہ قسیم بھائی اللہ آپ کو خوش رکھے
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,021
کمائي: 44,030
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,300
2,183 مراسلہ میں 5,577 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الحمد للہ و الصلاۃ و السلام علیٰ رسول اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ طلاق والے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ ::: طلاق دینے کا حق اللہ تعالیٰ نے مرد کو دیا ہے اور اسکے لیے کسی بھی قسم کا کوئی خاص طریقہ نہ اللہ نے مقرر فرمایا ہے اور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ، صرف مرد کے کہہ دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ، نہ واقع ہونے کی صورت عورت کا حیض یعنی ماہواری یا حمل میں ہونا ہوتا ہے ، ایسی صورت میں طلاق اُسی وقت واقع نہیں قرار پاتی بلکہ عورت کے حیض ولادت اور نفاس سے فراغت کے بعد اُس کا وقت شمار کیا جاتا ہے ، مرد کو یقینا اَس بات کی مکمل اجازت ہے کہ وہ کسی بھی عمل کو مشروط کر کے اپنی بیوی کے لیے طلاق مقرر کر سکتا ہے ، خواہ وہ عمل اُس بیوی کا ہو یا کسی اور کا ، عمل ہو جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اور ایک وقت میں ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے ، خواہ کوئی ہزار دفعہ طلاق دینے کا اعلان کر دے ، ایک اور دو طلاق سے واپسی کا طریقہ یہ ہے کہ خاوند مقررہ مدت ختم ہونے پہلے بیوی سے ہم بستری کر لے ، کسی نئے نکاح یا کسی بھی اور رسم کی ضرورت نہیں اور نہ ہی قران و سنت میں کوئی دلیل ہے ، جی ہاں ، اگر طلاق واقع ہو جائے تو اُس کا اعلان کرنا ضروری ہے اور اسی طرح اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو واپس لے لیتا ہے تو اُس کا اعلان کرنا بھی ضروری ہے ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہُ سے کِسی نے ایک پوچھا کہ وہ طلاق دیتے ہوئے یا رجوع کرتے ہوئے یعنی عدت پوری ہونے سے پہلے اپنی بیوی کو واپس لیتے ہوئے اِن معاملات کو ظاہر نہیں کرتا اور کوئی گواہ نہیں بناتا تو اُنہوں نے فرمایا “““ تم طلاق بھی سنت کے مُخلافت کرتے ہوئے دیتے ہو اور رجوع بھی سُنت کی مُخالفت کرتے ہوئے کرتے ہوئے ““““ سنن ابو داود ، سنن ابن ماجہ ، اور جب کوئی صحابی کسی کام کو سنت کے مُخالف کہتا ہے تو وہ ہمارے جدید دور کے فلسفے کے مطابق “““ سنت ہی تو ہے “““ کی زد میں لا کر غیر اھم قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ صحابی کا خٌافَ سنت کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ “““ یہ کام نا جائز ہے “““ لہذا طلاق اور رجوع دونوں کاموں کے اظہار اور اُن پر گواہ رکھنا ضروری ہے ، لیکن نکاح یا کسی بھی اور رسم کی ادائیگی جیسا کوئی معاملہ نہیں ہے اور اگر طلاق کسی عمل کے ساتھ مشروط کر دی جائے جیسا کہ اَس سوال میں ہے کہ بیٹے کے گھر میں داخل ہونے کی شرط لگائی گئی ہے ، اللہ نہ کرے اگر ایسا ہو چکا ہے تو طلاق واقع ہو چکی ، اور اگر بیٹا باپ کے گھر میں داخل نہیں ہوا تو طلاق واقع نہیں ہوئی ، جس سوال کے جواب میں یہ معلومات مہیا کی جارہی ہیں ، اُس میں پوچھا گیا ہے کہ “قسم کو فاسد کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ محترم بھائی ، قسم فاسد نہیں ہوتی ، فاسد ہونے کا مطلب ہے خراب ہونا ، کسی چیز کو ختم کرنا اور خراب کرنا دو مختلف کیفیات ہیں ، دوسری بات یہ کہ سوال میں دی گئی معلومات کے مطابق یہ قسم نہیں بلکہ شرط ہے جو باپ نے بیٹے کی ماں پر طلاق واقع ہونے کے لیے لگائی ہے ، اس شرط کو شرعا قسم کے حُکم میں ہی لیا جائے گا لیکن قسم کا نام نہیں دیا جا سکتا ، اور اس شرط کے خاتمے یا ازالے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ باپ نے یہ شرط واقعتا اپنے اُس بیٹے کی ماں پر طلاق وارد کرنے کے لیے لگائی تھی یا صرف بیٹے کو ڈرانے کے لیے ، اگر اُص نے بیٹے کو ڈرانے کے لیے یہ شرط لگائی تھی تو اَس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ، جیسا کہ رسول اللہ ؤلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انما الاعمال بالنیات (صحیح البخاری کی پہلی حدیث) یعنی عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے ، اور اگر باپ نے یہ شرط واقعتا اُس بیٹے کی ماں پر طلاق وارد کرنے کی نیت سے لگائی تھی اور ابھی تک طلاق وارد نہیں ہوئی یعنی بیٹا اُس کے گھر میں داخل نہیں ہوا ، اور اب وہ باپ اپنی اَص شرط کو ختم کرنا چاہتا ہے تو وہ قسم سے پھرنے کا کفارہ ادا کرے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ““““ من حَلَفَ على يَمِينٍ فَرَاى غَيْرَھا خَيْرًا منھا فَلیاتِ الذی ھُوَ خَیر و لَيُكَفِّرْ عن يَمِينِہِ ::: جَس نے (کسی کام کے لیے ) قسم اُٹھائی اور ( پھر کِسی) دوسرے کام میں اُسے بہتری نظرآئے تو وہ بہتری والے کام کو کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے ““““ صحیح مسلم ، حدیث 1650 ، کتاب الایمان ، باب 3 کی گیارھویں روایت ، اور قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مقرر فرمایا ہے ““““ وَلَکِن یُواخِذُکُم بِما عَقَّدُم الایمان َ فکُفارتہُ طعامُ عشرۃ َ مساکِینَ مِن اوسطِ مَا تُطعِمُونَ اھلیکُم او کِسوَتُھُم او تَحرِیرُ رقبۃٍ فَمَن لم یَجِد فَصیامُ ثلاثۃِ ایامٍ ذَلکَ کُفارۃُ ایمانِکُم اِذا حَلفتُم ::::: لیکن اللہ تم لوگوں پر اُن قسموں کے لیے گرفت کرے گا جو تم لوگ دِلی طور پر اُٹھاتے ہو ، ایسی قسم کا کُفارہ دس غریبیوں کو وہ کھانا کھلانا ہے جو تم عام طور پر اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ، یا دس غریبوں کو لباس دینا ہے ، یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے ، اور جو ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ تین دِن روزہ رکھےجب تم لوگ قسم اُٹھا لیتے(اور اُسے پورا نہیں کرتے تو ایسی صورت میں ) یہ تم لوگوں کی قسم کا کُفارہ ہے “““““ سورت المائدہ ، آیت 89 زبیر صاحب نے کہا ::: اول تو غصہ میں طلاق ہوتی نہیںاور دوسری بات طلاق کے لئے بہت سی شرائظ ہے میرے بھائی ۔ایسے ہی تو طلاق نہیںنا ہو جاتی ::: محترم بھائی ، طلاق غصے میں ہی تو دی جاتی ہے ، کبھی کوئی اپنی بیوی کو پیار سے یا پیار میں بھی طلاق دیتا ہے ؟؟؟ غصہ تو بہت ہی دور ٹھہرا ، طلاق ایسے معاملات میں سے ہے جو مذاق میں کہنے سے بھی سنجیدگی کے ساتھ واقع ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ““““ ثلاثۃ جدُھُن جِد و ھزلُھُن جد ، النکاح و الطلاق و الرجعۃ :::: تین کام ایسے ہیں جَن کا مذاق بھی سنجیدگی ہے اور منجیدگی بھی منجیدگی ہے ، طلاق ، نکاح اور طلاق سے واپسی ““““ رہا معاملہ بیٹے کا معافی مانگنے کا تو اگر باپ کا غصہ کسی ایسی وجہ سے نہیں جو خلاف شریعت ہو تو یقینا بیٹے کو باپ سے معافی مانگنا چاہیئے اور اُسے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے ہر طریقے سے راضی کرنا چاہیئے کیونکہ باپ کا حق اولاد پر اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے جو اپنے والد کی شکایت کر رہت تھے کہ وہ ان کا مال خرچ کر دیتے ہیں سے فرمایا ““““ انت و مالك لوالدك ان اولادكم من اطيب كسبكم فكلوا من كسب اولادكم :::: :::: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہیں ، تمہاری اولاد تمہاری بیترین کمائی میں سے ہیں پس تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاو ““““ مسند احمد ، سنن ابن ماجہ ، سنن ابو داود ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ ، حدیث 1478 اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا ““““ ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ و ان ولدہ من کسبہ:::: انسان کا سب سے اچھا کھانا وہ ہے جو وہ خود کما کر کھائے اور انسان کی اولاد اُص کی کمائی ہے ““““ سنن ابی داود حدیث 3529 ، سنن ابن ماجہ حدیث 2290 ، سنن الترمذی حدیث 1358 ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ ، حدیث 2208 یہ دو حدیثیں باپ کے رتبے اور حق کو بڑی وضاحت سے بیان کرتی ہیں ، لہذا بیٹے کو چاہیئے کہ وہ شریعت کی حدود میں ریتے ہوئے اپنے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کرے اور اَس مٰں کوئی شرم یا بے عزتی محسوس نہ کرے ، میں بار بار شریعت کی حدود کا ذَکر کر رہا ہوں اور وہ اَص لیئے کہ رسول اللہ سصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے “““ لَا طَاعَۃ في مَعْصِيَۃِ اللَّہ انما الطَّاعَۃُ في الْمَعْرُوفِ :::: اللہ تعالی کی نافرمانی کرت ہوئے کسی کی بھی تابع فرمانی نہیں کی جا سکتی ، بے شک تابع فرمانی تو سرف نیکی کے کاموں میں ہوتی ہے ““““ صحیح مسلم ، حدیث 1840 ، کتاب الامارۃ باب 8 کی بیسویں روایت ۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہ جواب سوال کرنے والے اور جوابات میں حصہ لینے والوں کے لیے اطمینان اور درستگی کا سبب ہو جائے گا ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادَل سُہیل ظفر
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
مراسلات: 14,176
کمائي: 2,206,414
ميرا موڈ:
شکریہ: 3,103
3,493 مراسلہ میں 6,176 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قابل محترم عادل صاحب آپ کے انتہائی مشکور ہیںکہ آپ نے اس قدر دلچسپی لیتے ہوے اس قدر جامع جواب دیا |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
محترم جناب عادل صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس قدر تفصیل سے جواب دیا بہت شکریہ آپکا بھائی
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| گذارش, قرآن, قران, نظر, مکمل, ماں, آدمی, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, جواب, جلد, حل, حدیث, خوش, دوست, روزہ, طلاق, عورت, عبدالقدوس, صحیح, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک مشکل سوال | خرم شہزاد خرم | خوشبو مکمل کتاب | 2 | 05-01-09 12:43 PM |
| تين سوال | ابن ضیاء | اردو کہانیاں | 4 | 11-04-08 09:31 AM |
| ایک سوال ایک جواب | خرم شہزاد خرم | گپ شپ | 78 | 29-11-07 10:27 AM |
| پہلے ایک سوال | م۔م۔مغل | تعارف | 26 | 14-11-07 11:43 AM |