| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2217
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
بھائی مجاہد حسین ، کِسی کو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر آنا اُس کی بزرگی کی دلیل اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس بات کا یقین ہو کہ اُس نے خواب میں واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا ہے ، اور خوشی والی کوئی خبر اُسے دی گئی ہے ، یا شریعت کے مُطابق کوئی حکم اُسے دَیا گیا ہے ، خوابوں کی شرعی حیثیت کے بارے میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم والے مراسلات میں آٹھویں دلیل کے جواب میں لکھ چکا ہوں ، مزید یہ عرض ہے کہ اَس طرح کے خوابوں کے دعوے دار بہت ہیں ، اور اگر اُن کے خواب سچے بھی ہوں تو وہ خواب کسی دوسرے کے لیے اُن خواب سیکھنے والے صاحب کی کسی خاص شرعی حیثیت کے لیے کوئی دلیل نہیں ، اگر اُس کے خواب سچے ہیں تو یہ اُس کا اور اللہ کا معاملہ ہے ، اُن خوابوں کی بنیاد پر خواب دیکھنے والا کسی دوسرے کے لیے کسی بزرگی کا حامل نہیں ہو جاتا ، رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کسی کا مقرب ہونا تو یہ قیامت والے دن پتہ چلے گا ، خوابوں سے نہیں ، کیونکہ اس بات کی کسی کے پاس کوئی ضمانت نہیں کہ اُس نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا ہے ، جی ہاں کسی صحابی رضی اللہ عنہُ کے عَلاوہ کسی کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ یقین کر سکے یا کسی دوسرے کو یقین دلا سکے کہ اُص نے خواب میں جسے دیکھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جی ہاں یہ درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ((( سَمُّوا بِاسْمِي ولا تكنوا بِكُنْيَتِي وَمَنْ رَآنِي في الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فاِن الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ صُورَتِي وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّا مَقْعَدَہ من النَّارِ ::: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت مت رکھو اور جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی خواب میں دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا اور جس نے مجھ ہر جان بوجھ کر جھوٹ بولا اُس کا ٹھکانا جہنم ہے ))) صحیح البخاری ، کتاب الادب لیکن سمجھنے والی بات یہ کہ کون ایسا ہے جو کسی کو خواب میں دیکھے اور یہ یقین کر سکے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے ؟؟؟؟؟ ایسا یقین وہ ہی رکھ سکتا ہے جس نے جاگتے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو ، اور وہ کوئی صحابی رضی اللہ عنہُ ہی ہو سکتا ہے ، کوئی بھی اور نہیں ، پس شیطان کوئی بھی ایسی صورت بنا کر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کے قریب ترین ہو کسی کو خواب میں آ کر یہ کہہ سکتا ہے یا وسوسہ ڈال سکتا ہے کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، اور وہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرب ہے ، وغیرہ وغیرہ ، بلکہ اپنے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت کی صورتیں بھی دَکھا سکتا ہے ، تو حآصل کلا یہ ہوا کہ اولا تو صحابہ رضی اللہ عنہُ کے عَلاوہ کسی کے پاس اس بات کی یقین دھانی کی کوئی کسوٹی نہیں کہ اُس نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، پس جب اس بات کا ہی کوئی یقین نہیں تو مقبول یا مقرب کیسے ؟؟؟ اور اگر کسی نے دیکھا بھی ہے تو اُسے یا اُس کے متاثرین میں سے کسی کو اس خوش فہمی کا چکار نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ہو گیا ہے ، کیونکہ یہ بات اُسے بہت سی خیر پر عمل کرنے سے روکنے کا سبب بن سکتی ہے ، انشا اللہ امید ہے یہ جواب کافی ہوگا ، والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,351
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم بھائی میںنے خواب کے بارے میںایک جگہ پڑھا ہے وہ آپ کو بھی پڑھنے کے لیے ارسال کرتا ہوں اس کو پڑھے اس کے بعد خود ہی فیصلہ کر لے ویسے میں اس کے جواب کی بھی کوشش کرتاہوں
خوابوں کی اقسام: حضرت ابو ہریرہ رضی اللھ عنھ نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ دررسالت پرعلم سیکھنے پر گزار دیا۔ انہوں نے تعبیر خواب کا علم اپنے عالم باعمل شاگرد محمد ابن سیرین رحمت اللھ علیھ کو سکھایا۔وہ اپنے استاد گرامی سے روایت کرتے ہیں۔خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو نفسیاتی خیالات کے دوسرے شیطان کا ڈراوا۔اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری۔بخاری) حضرت انس بن مالک رضی اللھ عنھ روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہ نے فرمایا،”میرے بعد رسالت اور نبوت ختم ہو جائے گی۔“یہ بات لوگوں کو بڑی تکلیف دہ لگی ۔تو آپ نے فرمایا،”لیکن بشارتیں باقی ہیں۔“ لوگوں نے پوچھا،بشارتیں کیا ہیں؟تو ارشاد ہوا ،یہ مسلمان کا خواب ہے جو کہ نبوت کے حصوں میں سے ہے۔جامع ترمذی) ٰٓایک اورروایت میں حضرت ابوالدرداء رضی اللھ عنھ کے واسطے سے قرآن مجید کی آیت۔لھم البشریٰ فی الحیوة الدنیا کے بارے میںبتایا کہ اس سے مراد وہ اچھے خواب ہیںجن کو ایک مومن مسلمان دیکھتا رہتاہے۔ خواب کی اقسام متعین کردینے کے بعد نبی پاک صلی اللھ علیھ وسلم ہر روز صبح کی نماز کے بعدلوگوں کے خواب سنتے اور تعبیر بتاتے ۔اس سے صحابہ کرام رضی اللھ عنھم نے تعبیر خواب کا پوراعلم ان سے سیکھ لیا۔ان کا تعلیمی اسلوب یہ تھا کہ پہلے وہ اپنے خواب سناتے تھے پھر لوگوں کے سنتے تھے اور ان کے حل کرنے کا اسلوب بیان فرماتے۔مگر وہ خواب جن میں صرف ذہنی خلفشار کا بیان تھا ان کو شیطان کی شرارت قرار دے دیا جاتا تھا۔کیونکہ نفس امارہ بھی ایک شیطان ہے۔ ارشاد ہے،”خیر کا سامنا کرواورشر سے بچو اور (یہ خواب)ہمارے واسطے بہتر ہو اور ہمارے دشمنوں کے لئے شر ہواورتمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تعبیر خواب کرتے تو ان کی اس عادت کے بارے میںحضرت سمرہ بن جندب رضی اللھ عنھ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پو چھتے تم میںسے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ بخاری۔مسلم) بعد میں آپ نے یہ معمول ترک فرما دیا۔کہا جاتا ہے کہ خواب کے بارے میں گفتگو علی الصبح کی جائے ورنہ اس کا اکثر حصہ بھول جاتا ہے۔حضرت ابو ہذیل عقیلی رضی اللھ عنھ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللھ علیھ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کا خواب نبوت کاچھیالیسواں حصہ ہے اور خوا ب جب تک اس کو بیان نہ کیا جائے پروں کے پیروں پر ہوتا ہے۔(یعنی غیر مستقل اور غیر قائم)۔لیکن جب اس کو بیان کر دیا جائے ،(یعنی جب اس کی تعبیر کو بھی بیان کر دیا جائے) تو خواب واقع ہو جاتا ہے۔راوی کا بیان ہے کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خواب کسی کے سامنے بیان نہ کرو۔مگر دوست یا عقلمند آدمی کے سامنے۔۔۔(ترمذی۔مشکوة) اسلام نے تعبیر خو اب اور وابوں کے بارے میں جو معقول تعلیمات دی ہیںان کے مطابق برے اور ڈراﺅنے خواب شیطان کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اچھے اور برے خوابوں کے بارے میںحضرت ابو سعید رضی اللھ عنھ اورحضرت ابو قتادہ رضی اللھ عنھ کی دو مختلف روایات میں آیا ہے۔نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم فرماتے ھیں کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔اور اس خواب کو کسی سے بیان نہ کرے۔شیطان کے شر سے اللہ سے پناہ مانگے،اس کو کچھ نقصان نہ ہو گا۔ بخاری) برے خوابوں کا آنا ایک حقیقت ہے لیکن اس کا حل اسلام کے علاوہ کسی اور سائنس کے پاس نہیں۔برے خوابوںکے برے اثرات سے محفوظ رہنے کے با لائی طریقے کے علاوہ اور بھی بہت سے طریقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔برے خواب دیکھنے کے بعد”لاحول ولاقوةالابا للہ ‘’ پڑھا جائے۔شیطان کی برائیوں سے پناہ مانگنے کے بعد بائیں طرف تین مرتبہ تھوکا جائے اور کروٹ بدل کر سو جائیں کوئی نقصان نہ ہو گا ۔انشاءاللہ۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | S_S_G_Commando (04-03-08), taiyang (01-04-09), کنعان (30-03-10), محمدعدنان (02-03-08), اویسی (17-08-10), عمیر نعیم (10-07-08), عرفان حیدر (25-02-08) |
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مراسلات: 8
کمائي: 23
شکریہ: 25
1 مراسلہ میں 1 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1 حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے آب زم زم سے غسل کرتے مقام ابراھیم میں دو رکعت نفل پڑھتے اس کے بعد حدیث قلمبند کیا کرتے تھے کیا یہ درست ہے؟
2 کسی مسلمان کے مرنے کے ایک عرصے کے بعدکسی وجہ سے اُس کی قبر کھودی گئی تو اُس کا کفن و جسم بلکل صیح و سلامت بلکہ ترو تازہ تھا جیسے ابھی فوت ہوا ہوابھی کفن دیا ہو اور پھر اُس کی قبر سے خوشبو کی لپٹیں بھی آ رہی ہوں تو ایسے انتقال شدہ مسلمان کے بارے میں( نیک و بد یا بخشے) ہوئے کے سلسلے میں کیا گمان کرنا چاہیے؟؟کیونکہ مرنے کے کچھ عرصے بعد ہی انسان کا جسم گل سڑ جاتا ہے اور قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل بھی ہے جو اس میں کامیاب ہو گیا وہ آگے بھی کامیاب ہو گیا |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم بھائی مجاہد حسین صاحب ، اِمام بُخاری رحمۃُ اللہ علیہ کے بارے میں یہ بات کافی معروف ہے کہ اُنہوں نے اپنی صحیح البُخاری میں کِسی بھی حدیث کو شامل کرنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑہی ہے ، اور یہ سب کی سب نمازیں حرم میں نہیں پڑہی گئی ہیں بلکہ اِن میں سے کچھ حرم میں ادا کی گئی اور کچھ دوسری جگہوں پر ، کیونکہ اِمام بُخاری رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنی صحیح البُخاری تیار کرنے میں تقریباً سولہ سال صرف کیے اور یہ سارا عرصہ اُنہوں نے مکہ میں نہیں گذارا، مزید با سند تفصیلات کے لیے اِمام ابن حَجر العسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی ''' ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ''' کے تقریباً آخر میں( الفصل العاشر میں ذکر فضائل الجامع الصحیح ) میں ملاحظہ فرمائیے ، رہا معاملہ زم زم سے وضوء کر نے اور مُقام اِبراہیم کے پاس یا وہاں پر ہی یہ نمازیں پڑہنے کا تو میں نے یہ بات پہلے دفعہ سُنی ہے ، اگر آپ کے پاس اِس کا کوئی حوالہ ہو تو بتائیے تا کہ اُس کی صحت کا اندازہ کیا جا سکے ۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (24-08-08) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کے اِس دوسرے سوال کے بارے میں مختصراً عرض ہے کہ اگر کِسی مرے ہوئے مُسلمان کی قبر کھلنے یا کھولنے پر اُس کی میت اور کفن سب کچھ نئی حالت میں نظر آئے اور اُس کی قبر میں سے خوشبو بھی آئے یا کچھ اور ایسا نظر آئے جو اُس کی اچھی حالت ظاہر کرے ، اور اگر وہ شخص اللہ کی راہ میں جِہاد کرتے ہوئے شہید ہونے میں سے نہیں ، تو سب سے پہلے دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ مُسلمان کیسی زندگی بسر کرتا رہا ہے ؟ کیا وہ صحیح عقیدے والا اور صحیح سنّت پر عمل کرنے والا تھا ؟ رزقِ حلال کمانے والا تھا ؟ اگراِن سوالات کا جواب ''' ہاں ''' ہے تو پھر اُمید رکھی جائے گی کہ اِنشاء اللہ اُس کی مغفرت ہو چکی اور وہ اللہ کے ہاں مُقبُول ہے ، یقینی بات نہیں کہی جا سکتی ، کیونکہ ایسا ظاہر ہونا اللہ کی طرف سے دوسروں کے لیے کوئی امتحان و ابتلاء بھی ہو سکتا ہے ، جی ہاں ، قبرآخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے اور جو اِس میں کامیاب ہو گیا وہ اِنشاء اللہ آگے بھی کامیاب ہو گیا ، لیکن جو کچھ اللہ کی طرف سے دِکھایا جا رہا ہے اُس کی حقیقیت کیا ہے وہ اللہ ہی جانتا ہے ، ہم اللہ کی رحمت سے کِسی بھی مُسلمان کے لیے مغفرت کی اُمید رکھ سکتے ہیں ، ایسی کوئی علامت دِکھائی دینے پریہ کہہ سکتے ہیں کہ ''' مغفورٌ یا مرحومٌ اِنشاء اللہ ''' کوئی حتمی فیصلہ کُن بات کہنے سے گُریز کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہمیں اِس بات کی خبر دِی گئی ہے کہ اگر قبر میں آسانی ہوئی تو آگے بھی آسانی ہوگی ، لیکن یہ یقین دہانی نہیں کروائی گئی کہ اگر قبر میں آسانی ہوئی تو مغفرت ہو گئی اور آسانی ہونے اور مغفرت ہونے میں بہت فرق ہے ، واللہ اعلم ۔ اور بھائی مجاہد حسین ، صاحب ایک مشورہ ہے کہ اگر کوئی نیا سوال سابقہ سوال کے ہم موضوع نہ ہو تو اُسے الگ دھاگے کی سورت میں ارسال کیا کیجیئے تا کہ موضوعات گڈ مڈ نہ ہوں ، جزاک اللہ خیرا، والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ |
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اقتباس:
ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی ، آخر ہم نے اس مسلمان کو کیوں آسمان پر چڑھا لیا ہے کہ اگر کچھ ہے تو بس وہی ہے، اور اگر کوئی دوسرا مرتا ہے تو تاویلیں شروع ہوجاتی ہیں کہ جناب ہندو ہے، عیسائی ہے، یہودی ہے وغیرہ وغیرہ کس قدر شرم کا مقام ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتےہیں ، اور ساتھ میں یہ رٹا بھی لگاتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور اسکے بعد اس طرح کی خرافات نکالتے ہیں اللہ کی پناہ، کیا آپکے نزدیک یہ بینر صحیح ہے کہ "یہود و نصارا تمھارے دوست نہیں ہوسکتے؟؟؟؟" یہ بینز آج کل کراچی میں نجانے کتنی جگہ لگے ہوئے ہیں اور اس سے نجانے کتنی اہل کتاب کی دل آزاری ہوتی ہوگی۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دوسرے کا بیڑا غرق کرو اور جنت پاؤ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ ہم نے مسلمان کو اشرف المخلوقات اور دوسرے غیر مسلمانوں کو جانور سمجھ لیا ہے، کہ جو ہیں ہم ہی ہیں۔ ایک آدمی مرتا ہے تو بجائے اسکے کہ ہم اسکے لیے اگر دعا نہیں کرسکتے تو کم از کم برے الفاظ میں یاد تو نہ کریں۔ وسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اقتباس:
کیوں کہ وہ مردود ہے۔ وسلام |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا | taiyang (01-04-09), فاروق سرورخان (24-08-08), کنعان (30-03-10), اویسی (17-08-10), خرم شہزاد خرم (05-03-08) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
مقبول
|
اقتباس:
آپ جو اس پر کلام کرنا شروع ہوگئے ہیں حیرت ہے مجھے آپ پر جب میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ’’’ جس نے بھی‘‘‘‘ تو جناب آپ اس میں قید لگانے والے کون ہوتے ہیں.کسی قرآن کی آیت نے قید لگائی ؟؟کسی صحابی نے لگائی ؟؟ کسی اور حدیث میں قید لگائی ؟؟جناب ایک طرف تو آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ جو نبی دے دیں اُسے لے لو جس سے منع کر دیں رُک جائو اور دوسری طرف آپ حدیث پاک پر اپنی طرف سے قید لگا نا شروع ہوگئے ہیں.جناب قرآن حدیث یا آثار صحابہ سے یہ بات(قید جو کہ آپ نے لگائی ہے) ثابت کریں ورنہ آپ اپنے مضمون جس میں آپ نے اعمال کی کسوٹیوں کا ذکر کیا ہے اُس کو بار بار پڑھ لیں. آپ کو نبی کے فرمان پر یقین نہیں ؟؟اگر ایسی بات ہوتی تو حدیث پاک یو ں ہوتی ’’ اے صحابہ تم میں سے جس نے مجھے خواب دیکھا اُس نے مجھے ہی دیکھا‘‘ اور یہ بات تو اُن لوگوں کیلئے ہی خاص طور پر ہے جس نے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ثبت فرما دی کہ میر ی اُمت تا قیامت کسی بھی وہم میں نہ پڑ ھ جائے مجھے خواب میں دیکھ کر اس لئے فرما دیا’’ جس نے مجھے دیکھا اُس نے مجھے ہی دیکھا‘‘ Last edited by S_S_G_Commando; 04-03-08 at 06:41 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا | taiyang (01-04-09), فاروق سرورخان (24-08-08), کنعان (30-03-10), اویسی (17-08-10), خرم شہزاد خرم (05-03-08) |
|
|
#10 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی عرفان حیدر صاحب ، حیرت کی بات ہے کہ آپ اپنے یا کِسی کے لیکن اپنائے ہوئے فلسفے کو اِس قدر درست مانتے ہیں کہ یہ تک خیال نہیں فرماتے کہ کِس بات میں اللہ کی بات کا اِنکار ہو رہا ہے ، جنّت میں داخلے کی شرط اِیمان اور عملِ صالح ہے ، کوئی بھی جو اللہ پر ، اُس کی واحدانیت پر ، یوم آخرت پر ، اللہ کی کتاب قُران کے ایک ایک حرف پر کِسی تبدیلی اور تحریف کا شک رکھے بغیر ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی اور رسالت پر اِیمان نہیں رکھتا اُس کا کوئی عمل اللہ کے ہاں نیک (صالح ) نہیں ، اور نہ ہی وہ عمل کرنے والا صالح ہے ، حتیٰ کہ اِیمان والے بھی اگر نیک (صالح) اعمال نیک نیتی اور سنّت کی اتباع میں نہیں کرتے تو وہ اعمال اُن کو بھی آخرت میں نفع دینے والے نہیں، اور جو ہو ہی کافر ، بے اِیمان ، وہ صالح کیسے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مبارک میں ہر جگہ عمل صالح (نیک کام ) کے ساتھ اِیمان کو جوڑے رکھا ہے ، کہیں بھی ایسا کوئی اِشارہ بھی نہیں فرمایا جو کِسی کے بغیر اِیمان کے صالح ہونے کے بارے میں کچھ مددگار ہو سکے ، بلکہ وضاحت کے ساتھ یہ حُکم فرمایا ہے کہ بغیر اِیمان والا کافر ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، ( اِنَّ اللَّہَ یُدخِلُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجرِی مِن تَحتِہَا الاَنہَارُ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یَتَمَتَّعُونَ وَیَاکُلُونَ کَمَا تَاکُلُ الاَنعَامُ وَالنَّارُ مَثوًی لَّہُم) ( بے شک اللہ اُنکو جنّت میں داخل فرمائے گا جو اِیمان لائے اور (پھر)نیک عمل کیئے ، وہ جنّتیں جِن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور وہ لوگ جِنہوں نے (اللہ کے دِین کا) کفر (اِنکار) کِیا (اِس دُنیا میں تو)مزے کرتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں اور اُن (کافروں ) کے (جہنم کی ) آگ ٹھکانا ہے ) سورت مُحمد / آیت ١٢، جو کوئی بھی حالتِ کفر میں مرا اُس کا انجام اللہ نے بتایا ( اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَہُم کُفَّارٌ اُولَئِکَ عَلَیْْہِم لَعنَۃُ اللّہِ وَالمَلآئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجمَعِینَ ) ( بے شک وہ جنہوں نے کفر کِیا اور کافر ہی مر گئے اُن پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام تر انسانوں کی) سورت البقرۃ / آیت ١٦١، اور فرمایا ( اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ مَاتُوا وَہُم کُفَّارٌ فَلَن یَغفِرَ اللَّہُ لَہُم ) ( بے شک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکتے رہے اور پھر (اسی ) کفر کی حالت میں مر گئے اللہ تعالیٰ ہر گِز اُن کو نہیں بخشے گا) سورت محمد / آیت ٣٤ اور فرمایا ( اِلَیہِ مَرجِعُکُم جَمِیعاً وَعدَ اللّہِ حَقّاً اِنَّہُ یَبدَاُ الخَلقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ لِیَجزِیَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالقِسطِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا لَہُم شَرَابٌ مِّن حَمِیمٍ وَعَذَابٌ اَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکفُرُونَ ) ( اللہ کی طرف ہی تُم سب نے پلٹنا ہے (یہ) اللہ کا سچا پکا وعدہ ہے کہ اُس نے مخلوق (کی تخلیق )کا آغاز کِیا اور پھر (اُسے فنا کرنے کے بعد) دوبارہ اُس ( تخلیق) کو دہرائے گا تا کہ جو لوگ اِیمان لائے اور اِنصاف کے ساتھ نیک عمل کرتے رہے اُن کو جزاء (انعام و اِکرام ) دے اور جِنہوں نے کفر کِیا اُن کے پینے کے لیے حمیم (جہنم کا گرم مشروب) ہے اور شدید عذاب ہے اور ایسا اُس کفر کی وجہ سے ہے جو وہ کیا کرتے تھے ) سورت یُونُس / آیت ٤ کافروں کا یقینی مُقام جہنم ہے ، یہ اللہ کا فیصلہ ہے ، کِسی اور کا نہیں ، ( وَالَّذِینَ کَفَروا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا اُولَـئِکَ اَصحَابُ النَّارِ ہُم فِیہَا خَالِدُونَ ) ( اور جِنہوں نے ہماری آیات سے کفر کیا وہ سب جہنمی ہیں اور وہ سب اُن (جہنم ) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ) البقرۃ / آیت ٣٩ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (اِنَّ اللّہَ جَامِعُ المُنَافِقِینَ وَالکَافِرِینَ فِی جَہَنَّمَ جَمِیعاً ) ( بے شک اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرے گا سب کو ) سورت النساء / آیت١٤٠، اور فرمایا ( وَکَذَلِکَ حَقَّت کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا اَنَّہُم اَصحَابُ النَّارِ) ( اور اِسی طرح تُمارے رب کی باتیں کفر کرنے والوں پر فیصلہ کن ہیں کہ یقینا وہ (سب کے سب کافر) جہنمی ہیں) سورت غافر / آیت ٦[/SIZE] اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اللہ سُبحانہُ و تعالٰی کے کچھ ارشادات مُلاحظہ فرمائیے ، ( یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصَارَی اَولِیَاء بَعضُہُم اَولِیَاء بَعضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُم فَاِنَّہُ مِنہُم اِنَّ اللّہَ لاَ یَہدِی القَومَ الظَّالِمِین)( اے اِیمان لانے والو یہودیوں اور نصاریٰ (عیسائیوں ) کو دوست (راہبر ، سرپرست )مت بناؤ ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں (تُمہارے نہیں) اور تُم میں سے جو کوئی اُن کو دوست (راہبر ، سرپرست ) بنائے گا تو وہ (ہمارے ہاں ) اُن میں سے ہی ہے بے شک اللہ ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ) سورت المائدہ / آیت ٥١ ، ( یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَکُم ہُزُواً وَلَعِباً مِّنَ الَّذِینَ اُوتُوا الکِتَابَ مِن قَبلِکُم وَالکُفَّارَ اَولِیَاء وَاتَّقُوا اللّہَ اِن کُنتُم مُّؤمِنِینَ ) ( اے اِیمان لانے والواگر تُم واقع ہی اِیمان والے ہو تو تُم سے پہلے جِن کو کتابیں دی گِئیں (یعنی اہل کتاب یہود و نصاریٰ)اور (دوسرے ) کافروں کو جو تُمارے دِین کو بے وقعت اور کھیل بناتے ہیں دوست (راہبر، راہنما ، سرپرست) مت بناؤ اور اللہ (کے عذاب )سے بچو) سورت المائدہ / آیت ٥٧ کافروں کے دوست کون ہوتے ہیں ، اللہ کا فرمان ہے ( اِنَّا جَعَلنَا الشَّیَاطِینَ اَولِیَاء لِلَّذِینَ لاَ یُؤمِنُونَ ) ( بے شک ہم نے شیطانوں کو اُن کا دوست ( راہبر ، سرپرست ) بنا دِیا ہے جو اِیمان نہیں لاتے ) سورت الاعراف ٢٧ ، یہاں یہ بات بہت وضاحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اِسلام یقینا امن و سلامتی والا دِین ہے اِس میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے اُنہیں اپنا راہبر، راہنما ، سرپرست وغیرہ بنانے سے منع کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حُکم ہے کہ کِسی کے کافر ہونے کی وجہ سے اُس کا جان مال عِزت مُسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہو جاتا جب تک کہ وہ مُسلمانوں اور اِسلام کے خِلاف کاروائیاں نہیں کرتا ، اور جیسی کاروائی وہ کرے ویسی ہی جوابی کاروائی کرنے اور زیادتی سے باز رہنے کا حُکم ہے ، اگر کوئی منظق و فلسفہ اور کفار و منافقین کے افکار سے متاثر ہوئے بغیر ، اِن دونوں حُکموں پر غور کرے تو اُسے یقینا یہ سمجھ میں آ جائے گا کہ اِن میں پوری انسانیت کے لیے امن و سلامتی ہے ، اقتباس:
جی ہاں اگر کوئی مُسلمان مرا ہے اور اللہ اور اُس کے دِین کی دُشمنی کرتے ہوءے نہں مرا تو اُس کے لیے دُعا کرنی چاہیئے ، کافر کے لیے نہیں ، اگر کوئی کافر اللہ تعالیٰ کے اِن فرمودات سے دل گرفتہ ہوتا ہے تو دُنیا اور آخرت کی حقیقی عِزت اپنائے ، اللہ کے دِین میں داخل ہو جائے ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بلا مشروط تابع فرمان بن جائے ، اِنشاء اللہ تعالیٰ عِزت والوں کی صف میں شامل ہو جائے گا پس ، میرے کلمہ گو مُسلمان بھائی ، اپنے دِین اِسلام پر فخر کرنا سیکھیئے ، اُسے ٹھیک طور پر سمجھیئے ، باتوں کو گڈ مڈ نہ ہونے دیجیئے ، اللہ کے احکامات کو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا اپنے اور پوری انسانیت کے دُنیا اور آخرت کی خیر و فلاح ، امن و سلامتی کا یقینی باعث ہونے پر اِیمان رکھیئے ، ، قران کو قران سے ، صحیح ثابت شدہ سنّت سے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال سے ، تابعین تبع تابعین کی زندگیوں میں سے سمجھیئے ، اِنشاء اللہ حق پہچان پائیں گے ، والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ |
|||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کس قدر شرم کا مقام ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتےہیں ، اور ساتھ میں یہ رٹا بھی لگاتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور اسکے بعد اس طرح کی خرافات نکالتے ہیں اللہ کی پناہ، کیا آپکے نزدیک یہ بینر صحیح ہے کہ "یہود و نصارا تمھارے دوست نہیں ہوسکتے؟؟؟؟" یہ بینز آج کل کراچی میں نجانے کتنی جگہ لگے ہوئے ہیں اور اس سے نجانے کتنی اہل کتاب کی دل آزاری ہوتی ہوگی۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دوسرے کا بیڑا غرق کرو اور جنت پاؤ۔
کیوں بھائ کیا آپ کو یہودونصاری کے دوست نہ ہونے پر شک ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اقتباس:
تاریخ شاہد ہے کہ یہ عیسائی راہب ہی تھا جس نے امام حسین علیہ السلام کو پہچانا جب کہ ان علیہ السلام کا سر مبارک نیزے پہ تھا، یہ عیسائی راہب ہی تھا جس نے حضرت ابوطالب علیہ السلام کو اس بات کی خوشخبری دی کہ تمھارا بھتیجا صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیغمبر ہے، یہ عیسائی راہب ہی تھا کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے ایک جگہ کالے پتھر کو ہٹا کر چشمہ جاری کروایا تو وہ بمشرف اسلام ہوا۔ کیا مجھے کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ ہم ایسی کونسی اسلام کی خدمت کررہے ہیں جس میں ہمیں عیسائیوں سے تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا ہے، ہم انکی تذلیل کرنے سے نہیں چونکتے توکیا جہاں انکو موقع ملے گا وہ ہماری بھی ایسی ہی تذلیل کریں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اسلام کسی بھی صورت ہم کو یہ نہیں سکھاتا کہ ہم کسی بھی انسان کی تذلیل کریں ہا ں اگر وہ برا ہے، بدکردار ہے، مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا ہے تو اس صورت میں تو اگر مسلمان ہوگا وہ بھی مسلمانوں کے زیرعتاب آئے گا۔ بھائیوں مسلمان کے معنی یہ نہیں کہ آپ اس طرح کی چیزیں دیواروں پر لگانا شروع کردیں جس سے کسی بھی دوسرے مسلک کی دل آزاری ہوتی ہو۔ یہی چھوٹا بچہ جو کہ عیسائی ہے آج اگر کچھ اور نہیں کرسکتا مگر کل کو یہی بڑا ہوکر بہت کچھ کرسکتا ہے، آپ کیا کرلیں گے اگر وہ گالیں دینا شروع کردے؟ جس طرح آپ اس سے نفرت کرتے ہیں وہ بھی نفرت شروع کردے؟ جس طرح آپ اسکی تذلیل کرتے ہیں وہ بھی شروع کردے؟ نفرت محبت سے مٹتی ہے۔ آج اگر خودکش بم دھماکے ہورہے ہیں تو کیا وہ عیسائی یا یہودی ہے جہ آکر لوگوں کے بیچوں بیچ پھٹ جاتا ہے؟ جو مجلس حسین علیہ السلام کو نہ بخشے، مسجد میں پڑھنے والے نمازیوں کو نہ بخشے، میلاد النبی کے منانے والوں کو نہ بخشے آپ اسکے بارے میں کیا کہتے ہیں؟؟؟؟ سوالات بہت ہیں مگر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا طرز عمل کیا ہے، ہم کیا کرتے ہیں۔ عیسائی تو دور کی بات ہم مسلمان آپس میں ایک پلیٹ میں کھانا کھالیں یہ بھی بہت ہے۔ وسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (24-08-08), کنعان (30-03-10) |
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
سورۃ المائدۃ آیت 51 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا َيُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَھُودَ وَالنَّصَارَى اَوْلِيَاءَ بَعْضُھُمْ اَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّھُم مِّنكُمْ فَاِنَّہُ مِنْھُمْ اِنَّ اللّہَ لاَ يَھْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ذیل میں مختلف مسالک کے دس سے زائد مترجمین کا ترجمہ دیا جاتا ہے: "اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا" (محمد جونا گڑھی) "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کر دیتا ہے" (مودودی) "اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا" (طاہر القادری) "اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ ان میں سے ہے اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا" (احمد علی) "اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا" (احمد رضا خان) "اے ایمان والو! نہ بناؤ یہود و نصاریٰ کو دوست۔ وہ باہم دوست ہیں ایک دوسرے کے اور جو کوئی دوستی کرے گا اُن سے، تم میں سے تو وہ انہی میں سے ہے۔ بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو۔"(شبیر احمد) انگریزی تراجم ملاحظہ فرمائیے: Literal You, you those who believed, do not take the Jews and the Christians (as) guardians/patrons , some of them (are) guardians/patrons (of) some, and who follows them from you, so that he truly is from them, that God does not guide the nation, the unjust/oppressive. Yusuf Ali O ye who believe! take not the Jews and the Christians for your friends and protectors: They are but friends and protectors to each other. And he amongst you that turns to them (for friendship) is of them. Verily Allah guideth not a people unjust. Pickthal O ye who believe! Take not the Jews and the Christians for friends. They are friends one to another. He among you who taketh them for friends is (one) of them. Lo! Allah guideth not wrongdoing folk. Arberry O believers, take not Jews and Christians as friends; they are friends of each other. Whoso of you makes them his friends is one of them. God guides not the people of the evildoers. Shakir O you who believe! do not take the Jews and the Christians for friends; they are friends of each other; and whoever amongst you takes them for a friend, then surely he is one of them; surely Allah does not guide the unjust people. Sarwar Believers, do not consider the Jews and Christians as your intimate friends for they are only friends with each other. Whoever does so will be considered as one of them. God does not guide the unjust people. H/K/Saheeh O you who have believed, do not take the Jews and the Christians as allies. They are [in fact] allies of one another. And whoever is an ally to them among you then indeed, he is [one] of them. Indeed, Allah guides not the wrongdoing people. Malik O believers! Take neither Jews nor Christians as your protecting friends: they are only protecting friends of one another. Whoever of you disobeys this commandment will be counted as one of them. Surely Allah does not guide the wrongdoers. میں نے یہ سارے تراجم اس لیے لکھے ہیں تاکہ اس غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے کہ کسی ایک مکتبہ فکر کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔ قرآن کریم کی اس واضح نص سے قطعی ثابت ہے کہ یہود و نصارٰی مسلمانوں کے خیرخواہ کبھی نہیں ہو سکتے۔ البتہ جو لوگ مسلمانوں سے قتال نہیں کرتے اور انہیں ظلم و زبردستی کر کے ان کے گھروں سے نہیں نکالتے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے اللہ نہیں روکتا (سورۃ الممتحنۃ) Last edited by عبداللہ حیدر; 06-03-08 at 02:38 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
مقبول
|
جناب عادل صاحب آپ مجھے یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ کیا کسی صحابی نے ہر حدیث لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھے؟؟ کس صحابی نے یہ عمل کیا جس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دلیل پکڑی اور وہ ہر حدیث سے پہلے دو رکعت نفل پڑھتے تھے؟؟کیا آپ کی پیش کردہ کسوٹیوں کے مطابق امام بخاری بدعتی نہیں ہو گئے؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ ایک بجا سوال ہے۔ اس کے بارے میں مجھے بھی تجسس رہے گا۔
والسلام |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (24-08-08) |
![]() |
| Tags |
| color, friendship, پاک, قرآن, نماز, نظر, مجید, آدمی, ایمان, اللہ, اسلامی, استاد, بھائی, ترک, جواب, حل, دوست, رات, سائنس, شاگرد, علی, عالم, صبح, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|