| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 400
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,018
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے پاس رسائل مسائل پڑی ہوئی ہے اس میںیہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے ، میںاسے کاپی پیسٹکر رہا ہوں
تو ام متحد الجسم لڑکیوں کا نکاح: (ذیل میں جس سوال کا جواب درج کیا جا رہا ہے اس کی بنیاد پر کئی سال سے ایک گروہ مصنف کے خلاف یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ اس نے جمع بین الاختین و حلال کر دیا ہے۔ اب ہر شخص اسے خود پڑھ کر رائے قائم کر سکتا ہے کہ اس افترا کی حقیقت کیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دو بھائیوں یا دو بہنوں کا متحد الجسم ہونا کوئی نا ممکن واقعہ نہیں ہے۔ دسمبر۱۹۵۲ء کے ریڈرز ڈائجسٹ میں سیام کے متحد الجسم بھائیوں کا قصہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔) سوال: مندرجہ ذیل سطور بغرض جواب ارسال میں۔کسی ملاقاتی کے ذریع بھیج کر ممنون فرمائیں۔ بہاول پور میں دو تو ام لڑکیاں متحد الجسم ہیں۔ یعنی جس وقت وہ پیدا ہوئیں تو ان کے کندھے، پہلو، کولہے کی ہڈی تک آپس میں جڑے ہوئے تھے۔اور کسی طرح سے ان کو جدا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اپنی پیدائش سے اب جوان ہونے تک وہ ایک ساتھ چلتی پھرتی ہیں۔ ان کو بھوک ایک ہی وقت لگتی ہے۔پیشاب پاخانہ کی حاجت ایک ہی وقت ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو کوئی عارضہ لاحق ہو تو دوسری بھی اسی مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کا نکاح ایک مرد سے ہو سکتا ہے یا نہیں۔ نیز اگر دونوں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں آسکتی ہیں تو اس کے لیے شرعی دلیل کیا ہے؟ مقامی علماء نہ ایک مرد سے نکاح کی اجازت دیتے ہیں اور نہ دو سے۔ ایک مرد سے ان دونوں کا نکاح قرآن کی اس آیت کی رو سے درست نہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دو حقیقی بہنیں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں نہیں آ سکتیں۔ وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اس حکم کو بنیاد بنا کر اگر دو مردوں کے نکاح میں ان دو متحد الجسم عورتوں کو دے دیا گیا تو مندرجہ ذیل دشواریاں ایسی ہیں جن کو دیکھ علماء نے سکوت اختیار کر لیا ہے۔ مثلاً ۱۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک مرد اپنی منکوحہ نامزد بیوی تک ہی اپنے جنسی تعلقات کو محدود کر سکے گا اور دوسری متحد الجسم عورت سے جو اس کے نکاح میں نہیں ہے تعرض نہ کرے گا۔ ۲۔ یہ دوسری عورت جو اپنی بہن سے متحد الجسم ہونے کے ساتھ متحد المزاج بھی ہے زوجی تعلق کے وقت متاثر نہ ہو گی۔ ۳۔ دو مردوں سے ایسا نکاح جس میں دونوں عورتیں (صنفی تعلقات کے وقت متاثر ہوتی ہوں، ان کی حیا مجروح ہوتی ہو، ان میں رقیبانہ جذبات پیدا ہوتے ہوں، کیا نکاح کی اس روح کے منافی نہیں جس میں بتایا گیا ۔ وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً (الروم)۔ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیۡہَاۚ (اعراف) ۴۔ نکاح کا ایک بڑا مقصد افزائشِ نسل ہے اور والدین اور مولود میں شفقت بھی ہے۔ دو مردوں کا یہ نکاح اس تعلق پر کلہاڑا چلاتا ہے۔ اور بھی مفاسد ہیں جن کے بیان کو یہاں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں اس سوال کو حل کیجیے تا کہ یہ تذبذب دور ہو۔ ان عورتوں کے والدین ان کا نکاح کر سکیں، اور اس فتنہ کا سدباب ہو ۔جو والدین ہونے کی وجہ سے ان کو لاحق ہے۔ جواب: ان دونوں لڑکیوں کے معاملے میں چار صورتیں ممکن ہیں: ایک یہ کہ دونوں کا نکاح دو الگ شخصوں سے ہو۔ دوسری یہ کہ ان میں سے کسی ایک کا نکاح ایک شخص سے کیا جائے اور دوسری محروم رکھی جائے۔ تیسری یہ کہ دونوں کا نکاح ایک ہی شخص سے کر دیا جائے۔ چوتھی یہ کہ دونوں ہمیشہ نکاح سے محروم رہیں۔ ان میں سے پہلی دو صورتیں تو ایسی صریح ناجائز، غیر معقول اور ناقابل عمل ہیں کہ ان کے خلاف کسی استدلال کی حاجت نہیں۔ اب رہ جاتی ہیں آخری دو صورتیں۔ یہ دونوں قابلِِ عمل ہیں۔ مگر ایک صورت کے متعلق مقامی علماء کہتے ہیں کہ یہ چونکہ جمع بین الاختین کی صورت ہے جسے قرآن میں حرام قرار دیا گیا ہے،اس لیے لامحالہ آخری صورت پر ہی عمل کرنا ہو گا۔ بظاہر علماء کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ دونوں لڑکیاں تو ام بہنیں ہیں اور قرآن کا یہ حکم صاف اور صریح ہے کہ دو بہن کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ لیکن اس پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان لڑکیوں کو دائمی تجرد پر مجبور کیا جائے اور یہ ہمیشہ کے لیے نکاح سے محروم رہیں؟ اور کیا قرآن کا یہ حکم واقعی اس مخصوص اور نادر صورتِ حال کے لیے ہے جس میں یہ دونوں لڑکیاں پیدائشی طور پر مبتلا ہیں؟ میرا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس مخصوص حالت کے لیے نہیں ہے بلکہ اس عام حالت کے لیے ہے جس میں دو بہنوں کے الگ الگ مستقل وجود ہوتے ہیں، اور وہ ایک شخص کے جمع کرنے سے ہی بیک وقت ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہیں ورنہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ عام حالات کے لیے حکم بیان کرتا ہے۔ اور مخصوص، شاذ اور نادر الوقوع یا عسیر الوقوع حالات کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے اگر سابقہ پیش آ جائے تو تفقہ کا تقاضا یہ ہے کہ عام حکم کو ان پر جوں کا توں چسپاں کرنے کے بجائے صورتِ حکم کو چھوڑ کر مقصدِ حکم کو مناسب طریقے سے پورا کیا جائے۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ شارع نے دو زے کے لیے بہ الفاظ صریح یہ حکم دیا ہے کہ طوعِ فجر کے ساتھ اس کو مشروع کیا جائے اور رات کا آغاز ہوتے ہی افطار کر لیا جائے۔ وَکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ۔یہ حکم زمین کے ان علاقوں کے لیے ہے جن میں رات دن کا الٹ پھیر چوبیس گھنٹوں ک اندر پورا ہو جاتا ہے۔ اور حکم کو اس مشکل میں بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی آبادی کا بشتر حصہ انہی علاقوں میں رہتا ہے۔ اب ایک شخص سخت غلطی کرے گا اگر اس حکم کو ان مخصوص حالات پر جوں کا توں چسپاں کر دے گا جو قطب شمالی کے قریب علاقوں میں پائے جاتے ہیں، جہاں رات اور دن کا طول کئی کئی مہینوں تک ممتد ہو جا تا ہے، ایسے علاقوں کے لیے یہ کہنا کہ وہاں بھی طلوعِ فجر کے ساتھ روزہ شروع کیا جائے اور رات آنے پر کھولا جائے، یا یہ کہ وہاں سرے سے روزہ رکھا ہی نہ جائے، کسی طرح صحیح نہ ہو گا۔ تفقہ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے مقامات پر صورتِ حکم کو چھوڑ کر کسی دوسری مناسب صورت سے حکم کا منشا پورا کیا جائے۔مثلاً یہ کہ روزوں کے لیے ایسے اوقات مقرر کر لیے جائیں جو زمین کی بیشتر آبادی کے اوقاتِ صوم سے ملتے جلتے ہوں۔ یہی صورت میرے نزدیک ان دو لڑکیوں کے معاملہ میں بھی اختیار کرنی چاہیے جن کے جسم آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے نکاح دو الگ شخصوں سے کرنے یا سرے سے نکاح ہی نہ کرنے کی، تجویزیں غلط ہیں۔ ان کی بجائے ہونا یہ چاہیے کہ اِنۡ تجمعوا بین الاختینکے ظاہر کو چھوڑ کر صرف اس کے منشاء کو پورا کیا جائے۔ حکم کا منشا یہ ہے کہ دو بہنوں کو سوکنا پے کی رقابت میں مبتلا کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ یہاں چونکہ ایسی صورتِ حال در پیش ہے کہ دونوں کا نکاح یا تو ایک ہی شخص سے ہو سکتا ہے یا پھر کسی سے نہیں ہو سکتا، اس لیے یہ فیصلہ انہی دونوں بہنوں پر چھوڑ دیا جائے کہ آیا وہ بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جانے پر راضی ہیں یاد الہی تجرد کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر وہ پہلی صورت کو خود قبول کر لیں تو ان کا نکاح کسی ایسے شخص سے کر دیا جائے جو انہیں پسند کرے، اور اگر وہ دوسری صورت ہی کو ترجیح دیں تو پھر اس ظلم کی ذمہ داری سے ہم بھی بری ہیں اور خدا کا قانون بھی۔ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ بالفرض یہ دونوں ایک شخص کے نکاح میں دے دی جائیں، اور بعد میں وہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دے تو کیا ہو گا۔ میں کہتا ہوں کہ اس صورت میں دونوں اس سے جدا ہو جائیں گی۔ ایک اس لیے کہ اسے طلاق دی گئی اور دوسری اس لیے کہ وہ اس سے کوئی تمتع نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ خلوتِ اجنبیہ کے جرم کا ارتکاب نہ کرے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اسے اپنے گھر پر بھی نہیں رکھ سکتا، کیونکہ مطلقہ لڑکی کو اپنے گھر رہنے پر مجبور کرنے کا اسے حق نہیں ہے اور غیر مطلقہ لڑکی اس کے گھر اس وقت تک نہیں رہ سکتی جب تک کہ مطلقہ لڑکی بھی اس کے ساتھ نہ ہو۔ لہذا جب وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے گا تو دوسری کو خلع کے مطالبے کا جائز حق حاصل ہو جائے گا۔ اگر وہ خلع نہ دے تو عدالت کا فرض ہے کہ اسے خلع پر مجبور کرے۔ یہ لڑکیاں اپنی پیدائش ہی کی وجہ سے ایسی ہیں کہ کوئی شخص نہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی ایک کو طلاق دے سکتا ہے۔ ان کا نکاح بھی ایک ساتھ ہو گا اور طلاق بھی۔ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب (ترجمان القرآن۔ صفر۱۳۷۳ھ۔ نومبر۱۹۵۴ء) |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (01-02-11), کنعان (02-02-11), پاکستانی (01-02-11), منتظمین (01-02-11), ابن جمال (15-02-11), احمد بلال (01-02-11), راجہ اکرام (01-02-11), شمشاد احمد (01-02-11), عبداللہ آدم (01-02-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سلام،
میری ناقص رائے میں اس کا بہت ہی چھوٹا سا جواب ہے۔۔ 4:23 حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلاَبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُواْ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إَلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے اس آیت کو بغور پڑھئے۔۔۔ اس میں لفظ ہے ۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔۔ جبکہ ان لڑکیوں کو ۔۔۔۔ انسانوں ۔۔۔۔۔ نہیں جمع کیا۔۔۔۔۔۔ بلکہ اللہ تعالی نے جمع کیا ہے۔ لہذا ان کا جسم ایک ہی عورت شمار کیا جائے گا۔۔۔ جس کو اللہ نے ایک جگہ جمع کیا ہے ۔۔ نہ کہ -------- تم ۔۔۔۔ نے۔۔۔۔ جمع کرنا وہ عمل ہوگا ، جس میں الگ الگ کیا جاسکے۔۔ چونکہ لڑکیوں کو جسم سے الگ الگ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان کو ایک جگہ کسی انسان نے جمع کیا ہے لہذا اس قانون کا اطلاق اس صورت حال پر نہیں ہوتا۔۔۔۔ لہذا ان کا نکاح اور طلاق ایک ساتھ ایک مجسم عورت کی طرح ہوگا۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | کنعان (02-02-11), پاکستانی (01-02-11), منتظمین (01-02-11), مرزا عامر (02-02-11), ابرارحسین (02-02-11), احمد بلال (01-02-11), ارشد کمبوہ (01-02-11), شمشاد احمد (01-02-11), عبداللہ آدم (01-02-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بصیرت مودودی کے تو کہنے ہی کیا ہیں لیکن ....................نکتہ فاروق صاحب نے بھی خوب نکالا ہے ماشاء اللہ.
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | احمد بلال (02-02-11), ارشد کمبوہ (01-02-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
برادران و خواہران ، سلام،
اس مسئلے سے ہٹ کر میں آپ کی توجہ قرآن حکیم کی ایک خاصصفت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ قرآن حکیم ایک ایسی مہارت سے اور ایسی قانونی زبان میںلکھا گیا ہے کہ یہ انسانی جذبات کا بہترین احترام کرتا ہے اور عدل و انصاف کے وہ تقاضے پورے کرتا ہے جو اب تک میری نظر سے انسان کے بنائے ہوئے قانون میںنہیں گذرے۔ اس کتاب کی یہ خوبی ہے کہ یہ ہر حال میں درست رہتی ہے۔ اس آیت میں لفظ "تجمعو " میں "ت" کی ضرورت نہیں تھی ۔ یہ جملہ اس طرحبھی درست رہتا کہ -- دو بہنوںکی ایک جگہ جمع نا کرو --- لیکن لفظ "تم " کے اضافے سے اس میںایک ایسی خاصیت پیدا ہوگئی ہے جو ہمارے ذہنوں کو عش عش کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔۔ قرآن حکیم ایسی زبان میںلکھا ہے کہ اگر آپ کے ذہن کی اینالائیٹک صلاحتیں کسی بچے کی طرحہیں تو آپ کو یہ کتاب قصص الانبیاء ، کہانیاں اور حکائتیں لگتی ہیں۔ اور اگر آپ ایک ماہر قانون دان ہیں ، جن کی تجزیاتی صلاحیتیں ، جینیئس اور نابغاتی و ناطقاتی درجہ رکھتی ہیں تو یہی کہانیاں ، دقیق قوانین میںتبدیل ہوجاتے ہیں اور ان کہانیوںمیں وہ قوانین نظر آنے لگتے ہیں جو عدل و انصاف کی بلندیوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالی کے پسندیدہ قوانین جو انسانی جذبات کے مطابق و موافق ہیں۔ اور اللہ تعالی کے ناپسندیدہ قوانین جو انسانی جذبات کے عین مطابق ہیں۔ اللہ تعالی مثالوں سے قوانین کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ مثال لیجئے قتل کی جو کسی انسان کے لئے قابل قبول نہیں۔ قتل کتنا برا عمل ہے ۔۔۔ اس کو ہم کیسے بتائیں؟ اللہ تعالی اس کی مثال اس طرح دیتے ہیں کہ ہم کو واضح نظر آتا ہے کہ قتل کا وزن ، کیا ہے؟ یہ ایسا عمل ہے کہ جس طرح ساری انسانیت کا خون کردیا جائے۔ جو قانونی زبان اللہ تعالی استعمال کرتے ہیں۔ اور جتنا اختصار اور جامع مضمون بیان کرتے ہیں۔ اس کی مثال میں نے نہیںدیکھی۔ اسی مضمون کو دیکھ لیجئے۔ یہ سارا مضمون صرف ایک لفظ "ت" کے ایسے استعمال سے سامنے آیا ہے کہ جس سے انسان چونک پڑے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اس عظیم کتاب کو پڑھنے ، سمجھنے اور اس سے عظیم ہدایت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔۔ والسلام |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (02-02-11), کنعان (15-02-11), منتظمین (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), شمشاد احمد (02-02-11), عبداللہ آدم (02-02-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے تویہ مسئلہ شواذ کے قبیل سے ہے اوراس پر اپنی توانائی خرچ کرنا صحیح نہیں ہے۔اگرایسی صورت پیش آئے توکسی قابل اعتماد عالم سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرلے۔اس کو بحث کا موضوع بناناصحیح نہیں ہے۔
میری رائے مولانا مودودی سے قطعاالگ ہے۔ وہ دونوں صبر کریں اوربغیرشادی کے ہی رہیں ان کو انشاء اللہ اس پرثواب ملے گا۔ ایک جانب قرآن کریم کایہ حکم ہے کہ دوبہنوں کو جمع نہ کرو۔یہ دونوں بہرحال دومستقل شخصیت ہیں۔ابھی تک ٹی وی پر اس قسم کے جتنے بھی مثالیں دیکھیں سب میں یہی نظرآیاکہ دونوں مستقل شخصیت ہیں اوربسااوقات دونوںکی دلچسپیاں ،مزاج اورطبعیت بالکل الگ الگ ہوتی ہیں توکسی بھی تاویل سے دونوں کو ایک قراردینادرست نہیں ہے۔ اب ایک طرف فطری تقاضہ ہے اوردوسری طرف ایک شرعی قباحت۔ اس کواسی پر قیاس کر لیجئے کہ ایک شخص جوان ہے نادار ہے کچھ فطری تقاضے ہیں لیکن ناداری ہے وہ اس قابل نہیں کہ بیوی اورگھرکاخرچ اٹھاسکے ۔ اس کو صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ روزہ رکھ کر اپنے فطری تقاضوں کو دبائے ۔ اس صورت میں بھی دونوںبہنیں خدا کی اس مرضی کے تابع رہ کر اللہ سے ثواب کی امید رکھیں اوریاد رکھیں کہ اللہ اپنی شریعت پر خلوص سے عمل کرنے والوں کوکبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتا اور آخرت مین ان کیلئے انشاء اللہ بڑااجر ہے۔ والسلام Last edited by کنعان; 15-02-11 at 02:39 AM. وجہ: Font size |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا | کنعان (15-02-11), شمشاد احمد (14-02-11) |
![]() |
| Tags |
| ہے۔, ہے۔۔۔, کراچی, پیش, والی, لڑکیاں, مولانا, ممکن, معلومات, اللہ, السلام, جواب, جائیں, جاتا, حکم, حقیقت, دیکھ, رکھنے, سوال, سنا, سامنے, ساتھ, علیحدہ, علم, علمی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا میں واقعی پاگل ہوں ؟ | سحر | گپ شپ | 33 | 07-04-11 01:20 AM |
| کیا یہ واقعی مَردوں کا معاشرہ ہے | سحر | عمومی بحث | 22 | 04-12-10 11:19 AM |
| خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت | عبداللہ حیدر | کتاب گھر | 26 | 03-08-10 06:46 AM |
| خورشید شاہ کے آموں نے گلا خراب کیا، واقعی کوئی سننے والا نہیں | گلاب خان | خبریں | 0 | 20-06-10 04:02 AM |
| 700 جوڑوں کی شادی کی اجتماعی تقریب | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 10 | 07-02-09 03:52 PM |