| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1028
|
||||
| 11 قاری/قارئین نے علی عمران کا شکریہ ادا کیا | arslansun (21-02-09), nsa47 (07-11-08), چیتا چالباز (31-12-08), میاں شاہد (22-10-08), ابن جلال (21-10-08), خرم شہزاد خرم (02-01-09), رضی (25-10-11), سحر (17-06-09), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (21-10-08), عرفان حیدر (21-10-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ تعالی جن شرائط کو نکاح یعنی شادی کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اس میں جہیز کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ جہیز ایک مقامی کلچر کا حصہ ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق ثابت نہیں۔
Last edited by فاروق سرورخان; 21-10-08 at 01:41 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | arslansun (21-02-09), وجدان (03-11-08), خرم شہزاد خرم (02-01-09), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (21-10-08) |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 30
کمائي: 452
شکریہ: 24
13 مراسلہ میں 44 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق سرور خان صاحب ، آپ کا بہت شکریہ.
جہیز میں اسراف کرنا یا اسے نکاح کا لازمی حصہ سمجھتا تو غلط ہے. کھلی بات کرتا ہوں کہ میں جہیز کے سخت خلاف ہوں لیکن سسرال والے دینے پر تلے ہیں. طے ہوا ہے کہ وہ زیادہ فضول خرچی نہ کریں گے اور ضرورت کی چند چیزیں بطور تحفہ یا بطور یادگار اپنی بیٹی کو دیں گے. تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ میں اصل میں وہ حد جاننا چاہتا ہوں جو اس بارے میں مقرر کی گئی ہے. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ و صلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ ، و اما بعد ،
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، محترم بھائی ، سب سے پہلے میں آپ کو پاک نیٹ پر خوش آمدید کہتا ہوں ، اور اُس کے بعد جواب میں تاخیر پر معذرت خواہ ہوں ، اِس کے بعد آپ کے سوال کا جواب ::: محترم بھائی ، علی عمران شادی کے وقت بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ شادی کے بعد بہن یا بیٹی کی رخصتی کے وقت اس کو دنیاوی مال اور سامان وغیرہ میں سے کچھ دینا ، جسے ہمارے معاشرے میں """جہیز """ کہا جاتا ہے ، محض پماری معاشرتی عادت نہیں ، جیسا کہ ہمارے کچھ بھائی مختلف فلسفوں کا شکار ہو کر دینی دنیاوی ، معاشرتی اُخروی معاملات میں فرق روا نہیں رکھتے ، اللہ ہم سب پر حق واضح کرے اور اس کو قبول کرنے کی ہمت عطا فرمائے ، بھائی علی عمران ، اب ہم اس """معاشرتی عادت """ کو دین کے روشنی میں سمجھتے ہیں ، کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دینے کے لیے ہمیں اللہ ، یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار ہے ، عادات کے امت کے اماموں اور علماء کا یہ قانون ہے کہ """ العادات اصل فیھا الاباحیۃ ::: عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے ::: اِلا ما نَھیٰ عنھا اللہ و رسولہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ::: سوائے اس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو """ اور بھائی علی عمران ، ممانعت کا حکم کئی صیغوں اور انداز میں پایا جاتا ہے ، بہرحال ، وہ عادات جن پر ممانعت وارد نہیں جائز ہیں ان عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کو دیکھا جائے گا جہاں تک کوئی کام کسی شرعی ممانعت میں داخل نہیں ہوتا اسے ناجائز نہیں کہا جائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں چار چیزیں عنایت فرمائیں ، جیسا کہ صحیح احادیث میں ملتا ہے کہ ((( أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ من آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے کا )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے ))) مسند احمد ، الاحادیث المختارہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس عمل مبارک کی روشنی میں جہیز دینا کوئی """ مقامی کلچر """ نہیں رہتا ، بلکہ اسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے ، اسے """ کسی معاشرے کا مقامی کلچر""" قرار دینا یا کہنا درست نہیں ، اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا جب تک کہ اس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے ، مثلا جہیز ، اگر حرام مال سے دیا جائے ، یا ، اپنی اولاد میں سے دوسروں کا حق مار کر دیا جائے ، یا ، معاملہ فضول خرچی کی حدود میں داخل ہو جائے ، یا بلا ضرورت دیا جائے ، تو یقینا ایسی صورت میں نا جائز ہو گا ، رہا معاملہ سنت ہونے کا تو یہ کہنا کئی طور پر درست نہیں کہ یہ سنت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی دو بیٹیاں رضی اللہ عنہما جنہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیا تھا ، کو جہیز دیا اس کی کوئی روایت نہیں ملتی ، فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گھر کے سامان میں کچھ نہ تھا جیسا کہ خود ان کا فرمان ہے جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا """ عندك شيء تعطيها ::: تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دینے کے لیے کچھ ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا """أين درعك الحطمية ::: تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ عندی ::: میری پاس ہے """ تو فرمایا """ وہ اسے (مہر میں )دے دو """ ))) یہ مندرجہ بالا حدیث ، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231 ، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ ، میں ہے ، اور مختلف الفاظ اور صحیح اسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے ، التعلیقات الحِسان علی صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان/حدیث 6906 /کتاب 60 أخبارہ صلی اللہ علی وعلی آلہ وسلم عن مناقب الصحابہ / ذکر ما أعطی علی رضی اللہ عنہ فی صداق فاطمہ رضی اللہ عنھا ، مطبوعہ دار باوزیر /جدہ /السعودیہ ، سنن النسائی / حدیث 3375 کتاب النکاح / باب 60 ، جز 6 داخل جلد 3 ، مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت ، لبنان ، عون المعبود شرح سنن ابی داود / حدیث 2126 / کتاب النکاح / باب 36 ، مطبوعہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سنن البیہقی الکبریٰ / مسند ابی یعلی / حدیث 2433 / مسند ابن عباس کی روایت 110 ، جلد 3 ، صفحہ 43 ، مطبوعہ دار القبلہ ، جدہ ، السعودیہ ، مسند احمد / حدیث 603 / مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث 41 ،جلد اول ، مطبوعہ عالم الکتب ، بیروت ، لبنان ، اور دیگر کتب احادیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے ، اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ان کی وجہ """معاشرتی عادت """ تھی نہ یہ """ کسی مقامی کلچر """ کی وجہ سے تھا ،بلکہ ضرورت تھی ، پس اسے سنت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی اپنی درع شادی کی تیاری کے لییے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مطابق بطور مہر دی تھی ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس درع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا تھا ، فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دیا گیا اس کے انتظام یا مہیا کرنے کے بارے میں امام ابن سعد کی طبقات الکبریٰ میں ایک روایت ہے جس میں علی رضی اللہ کی سواری کا جانور فروخت کرنے کا ذکر ہے اور اس کی قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے تقسیم کیا گیا کہ دوتہائی کو ولیمے کے استعمال ہو اور ایک تہائی کو سامان ضرورت کے لیے ، لیکن علی بھائی مجھے فی الوقت اس روایت کی صحت کا اندازہ نہیں اس لیے میں اس کو اپنی بات کا حصہ نہیں بنا رہا ، صرف معلومات کے لیے ذکر کر رہا ہوں ، اگر یہ روایت صحیح ہو تو معاملہ مرد حضرات کے لیے اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی والوں کو سامان کی تیاری کے لیے مال فراہم کریں نہ کہ ان سے مانگیں ، یہ معاملہ تو جہیز دینے والے کے لیے ہوا ، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے جائز نہیں ، کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے ، اور دوسری طرف اسلام میں عورت کو اس کی طلب کے مطابق مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت یا وارثین سے مال لینے کا ، یہ غیر اسلامی طریقہ ہے اور غیر ملسموں کی نقالی جائز نہیں ، خاص طور پر ان کی عادات اپنانے کی اجازت نہیں ، اگر میں اس موضوع پر بات کروں تو بات کافی طویل ہو جائے گی ، لیکن اگر آپ جاننا چاہیں تو ان شاء اللہ تعالی کسی اور وقت اس کی تفصیل بیان کردوں گا ، اب اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اس کی شادی و رخصتی پر جائز حدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو مرد کے لیے وہ لینا جائز ہے ۔ امید ہے کہ بھائی علی عمران یہ معلومات ان شاء اللہ آپ کی سوال کے جواب کے طور پر کافی ہوں گی ، اگر مزید کچھ جاننا چاہیں تو ضرور پوچھیے ، اسی طرح سب یعنی پوچھنے ، بتانے ، سننے پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ، اللہ تعالی ہمیں حق جاننے ، پہچاننے ، ماننے ، اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عبداللہ حیدر; 25-10-11 at 08:51 PM. وجہ: فونٹ کی درستگی |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | arslansun (21-02-09), فیصل ناصر (03-04-09), وجدان (03-11-08), چیتا چالباز (31-12-08), میاں شاہد (22-10-08), ابن جلال (21-10-08), احمد نذیر (27-10-11), حوا کی بیٹی (04-05-12), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (06-11-08) |
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 30
کمائي: 452
شکریہ: 24
13 مراسلہ میں 44 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ. اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہیز میں کچھ نہ دیا جائے تو بھی ٹھیک ہے لیکن والدین اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق اپنی بیٹی کو کچھ دیں تو جائز ہے. لیکن آج کل ایک قباحت یہ بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ امیر گھرانے بہت کچھ دے دیتے ہیں جس کے برے اثرات متوسط طبقے پر پڑتے ہیں. اور انہیں ناک رکھنے کے لیے وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جو مشکل ہی سے ان کے بس میں ہوتا ہے. کئی بچیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھی رہتی ہیں اور کوئی ان کا حال نہیں پوچھتا. ایسے میں کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ جہیز کو ایک معاشرتی برائی کہا جائے.
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے علی عمران کا شکریہ ادا کیا | nsa47 (07-11-08), فاروق سرورخان (22-10-08), وجدان (03-11-08), چیتا چالباز (31-12-08), میاں شاہد (22-10-08), ابن جلال (09-11-08), احمد نذیر (27-10-11), عبداللہ آدم (19-08-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
رہا معاملہ صاحب مال لوگوں کو دیتے ہوئے دیکھ کر متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں پر برے اثرات مرتب ہونے کا تو اس کا اصل حل تو یہی ہے کہ ہر کوئی اپنی استطاعت کو جانے اور اسے اللہ کا حکم مانے اور اس پر صبر کرتا ہوا اپنی زندگی بسر کرے ، اپنی برابری والوں میں رشتہ داری قائم کرے ، بچیوں کا جہیز نہ ہونے کی وجہ سے شادی سے محروم رہ جانا یقینا معاشرتی المیہ ہپے ، اس منفی اثر کی وجہ سے جہیز کو اس کی موجودہ صورت و کیفیت میں معاشرتی برائی کہا جا سکتا ہے ، اس کی درستگی کا طریقہ بھی کسی بھی اور برائی کی درستگی والا ہی ہے ، یعنی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مکمل تابع فرمانی ، اور اس کے لیے اسلامی تعلیمات کے علاوہ کوئی راہ نہیں ، جسے سے ہمیں طرح طرح کے فلسفوں وار نعروں کے ذریعے دن دبدن دور کیا جا رہا ہے ، اور ہم اپنی اصل کی طرف پلٹنے کا سوچتے بھی نہیں ، جبکہ اس کے علاوہ ہمارے بلکہ پوری بنی نوع انسان کی فلاح و خیر کا کوئی ذریعہ نہیں ، صدیوں کی تاریخ طرح طرح کے نظاموں اور اور ازمز کی ناکامی دکھاتی ہے سوائے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دیے ہوئے نظام کے ، اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس نظام کو سمجھیں اس کی حقانیت کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں اور کروائیں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (22-10-08), چیتا چالباز (31-12-08), میاں شاہد (22-10-08), ابن جلال (22-10-08), احمد نذیر (27-10-11), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (22-10-08) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
چچا جان! بہت شکریہ، یہ تو میرے بھی کام کی چیز ہے۔ اور علی بھائی، آپ میں مجھے واقعی ایکسٹو کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
جہیز کا تعلق بنیادی طور پر نکاح سے ہے، جس کے اردو زبان میںعرفی معانی شادی کے لئے جاتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اللہ تعالی نے نکاحکے لئے کیا امور فرضکئے ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے فرضکئے ہوئے ان امور کے باہر جتنے بھی امور ہیں وہ ضرورت، معاشرتی رواج اور سماجی رسموں اور اور کچھ لوگوں کے حساب سنت اور کچھ کے حساب سے سنت سے باہر پائے جاتے ہیں۔ ماں باپ پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی لڑکی کو جہیز دے کر ہی رخصت فرمائیں۔ سنتوں کی مد میں یہ بات عام طور پر قبول کی جاتی ہے کہ یہ فرضنہیں ، ان کا پورا کرنا احسن ہے لیکن لازم نہیں ۔ لہذا جہیز یا کوئی بھی ایسی سماجی رسم یا معاشرتی رواج جس کی وجہ سے کوئی بھی لڑکی اپنے گھر بیٹھی رہ جائے یا مناسب وقت یا جگہ پر شادی نہ ہو ایک معاشرتی برائی ہے۔ شادی کرنے والے حضرات یہ کرسکتے ہیں کہ خود اور آپس میں ، ضد سے نہیں، بلکہ آپسی باہمی مشاورت سے اپنے والدین کے ساتھ طے کریں کہ جہیز کی مد میں لڑکی والوں پر کوئی دباؤ نہں ڈالا جائے۔ اور لڑکی والوں کو بتا دیا جائے کہ لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ اس طرح اگر ضروری ہو کہ لڑکا اور لڑکی کو کوئی مدد کے لئے تحائف دینا چاہے تو وہ دے سکتا ہے۔ لڑکے والوں کے اس طرح کے قدم سے لڑکی والوں پر سے ڑیر مناسب دباؤ ہٹ سکتا ہے۔
میں یہاں نکاحیا شادی کی وہ شرائط جن کو فرض کی طرح پورا کرنا ضروری ہے درج کررہا ہوں، عادل سہیل صاحب اگر نکاح کے قرآنی فرائض یا شرائط پر نظر ثانی کرلیں اور اس کے ساتھ ساتھ نکاح کی مسنون شرائط بھی بیان فرما دیں تو درج ذیل آیات کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوجائے گی۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ آیا جہیز کسی طور بنیاد فرائض کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے یا نہیں۔ عادل سہیل صاحب نے رسول اکرم کی جہیز کی سنت کے بارے میں تفصیل پہلے ہی بتا دی ہے۔ اس طرح نکاح کے تمام پہلوؤںپر روشنی پڑ جائے گی۔ نکاح یا عرف عام میں شادی کی شرائط۔ 1۔ شادی پسند سے کی جائے، اس ضمن میں بنیادی آیت 4:3 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو 2۔ مہر کا تعین اور اس کی ادائیگی کا حکم۔ 4:4 وَآتُواْ النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا اور عورتوں کو ان کے مَہر خوش دلی سے ادا کیا کرو، پھر اگر وہ اس (مَہر) میں سے کچھ تمہارے لئے اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو تب اسے (اپنے لئے) سازگار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ 3۔ شادی سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کوئی ایسا رشتہ تو نہیںکہ یہ نکاح جائز نہ ہو۔ اس ضمن میں چند بنیادی آیات 4:22 وَلاَ تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلاً اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں مگر جو (اس حکم سے پہلے) گزر چکا (وہ معاف ہے)، بیشک یہ بڑی بے حیائی اور غضب (کا باعث) ہے، اور بہت بری روِش ہے 4:23 حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلاَبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُواْ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إَلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے 4۔ گو کہ اللہ تعالی قرآن میںشادی کی مد میں خصوصی طور پر دو گواہوں کی ضرورت بیان نہیںفرماتا ہے لیکن مستقبل کے سودے کی صورت میں دو گواہان کی ضرورت کا حکم دیتا ہے۔ اس ضمن میں کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ بناءگواہ بھی شادی ہوسکتی ہے اور کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ شادی کے لئے گواہان کو ہونا ضروری ہے۔ معاہدہ یا قرض کے سودے کی صورت میں معاہدے کے لکھے جانے اور دو گواہان کی ہدایت کی آیت 2:282 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّهَ رَبَّهُ وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لاَ يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى وَلاَ يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُواْ وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَكْتُبُوْهُ صَغِيرًا أَو كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّهِ وَأَقْومُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلاَّ تَرْتَابُواْ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوْاْ إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلاَ يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَلاَ شَهِيدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لئے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو اسے چاہئے کہ انصاف کے ساتھ لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اﷲ نے لکھنا سکھایا ہے، پس وہ لکھ دے (یعنی شرع اور ملکی دستور کے مطابق وثیقہ نویسی کا حق پوری دیانت سے ادا کرے)، اور مضمون وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق (یعنی قرض) ہو اور اسے چاہئے کہ اﷲ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (زرِ قرض) میں سے (لکھواتے وقت) کچھ بھی کمی نہ کرے، پھر اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق واجب ہوا ہے ناسمجھ یا ناتواں ہو یا خود مضمون لکھوانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کے کارندے کو چاہئے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، پھر اگر دونوں مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (یہ) ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں تم گواہی کے لئے پسند کرتے ہو (یعنی قابلِ اعتماد سمجھتے ہو) تاکہ ان دو میں سے ایک عورت بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو جب بھی (گواہی کے لئے) بلایا جائے وہ انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو، یہ تمہارا دستاویز تیار کر لینا اﷲ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور گواہی کے لئے مضبوط تر اور یہ اس کے بھی قریب تر ہے کہ تم شک میں مبتلا نہ ہو سوائے اس کے کہ دست بدست ایسی تجارت ہو جس کا لین دین تم آپس میں کرتے رہتے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے کا کوئی گناہ نہیں، اور جب بھی آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو، اور نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو، اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہاری حکم شکنی ہوگی، اور اﷲ سے ڈرتے رہو، اور اﷲ تمہیں (معاملات کی) تعلیم دیتا ہے اور اﷲ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے بنیادی طور پر زندگی کے مستقبل کے اس معاہدہ کو جس کو اللہ تعالی میثاق الغلیظہ یعنی ایک بھاری معاہدہ کا نام دیا ہے۔ اس کو نہ لکھا جانا اور گواہان کا نہ رکھا جانا بعید از عقل ہے۔خاص طور پر جب کہ لڑکے کے ذمے مہر کا کچھ حصہ قرضہو۔ 5۔ شادی کے معاہدہ واضح طور پر مرد و عورت کی جانب سے قبول کیا جائے اور اس کو عام کیا جائے۔ 6۔ شادی کا مقصد، انسان کی آبادی۔ 4:1 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے عورت کا اپنا شوہر چننے کا حق 2:232 وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، اس شخص کو اس امر کی نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اﷲ پراور یومِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو، یہ تمہارے لئے بہت ستھری اور نہایت پاکیزہ بات ہے، اور اﷲ جانتا ہے اور تم (بہت سی باتوں کو) نہیں جانتے یہ شرائط اللہ تعالی نے فرض کی ہیں۔ اگر کوئی فرض اس میں شامل نہیں تو اس کے بارے میں لکھ دیجئے۔ میرے علم میںکوئی بھی ایسی آیت نہیں ہے جس میں ماں باپ کے ذمہ شادی سے پہلے جہیز دینے کا کوئی حکم ہو۔ ان معلومات کا مقصد مسلمانوں میں شادی کے مروجہ طریقہ بارے میںبنیادی حوالہ جات فراہم کرنا ہے، اس میں سے کسی بات یا آیت کا کوئی انقلابی مطلب نہ لیا جائے کیونکہ الحمد للہ مسلمانوں میں شادی یعنی نکاح کا طریقہ کار بہت منظم ، بہترین اور اعلی مروجہ اور سنت نبوی سے آراستہ ہے۔ شادی کی مسنون شرائط 1۔ قانونی ولی۔ 2۔ حکومت کا نمائیندہ قاضی یا جج تاکہ قانونی طور پر ایک معاہدہ طے پائے۔ 3۔ نکاح کا خطبہ اس ضمن میں مزید معلومات اور روایات بھی فراہم کردیجئے۔ والسلام۔ Last edited by فاروق سرورخان; 06-11-08 at 10:02 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
و یا ابن اخی خذ ھذہ التی توضح لک اکثر مِن تلک ، و ھی فی صحیح ابن حبان انہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قال ((( انصر أخاك ظالما أو مظلوما ))) قيل يا رسول الله (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) هذا نصره مظلوما فكيف أنصره ظالما قال (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) (((تمسكه من الظلم فذاك نصرك إياه ))) و السلام علیکم ۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 24-10-08 at 02:28 AM. وجہ: عربی فونٹ درست کیے |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (06-11-08), چیتا چالباز (31-12-08), میاں شاہد (24-10-08), ابن جلال (09-11-08), علی عمران (09-11-08), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (24-10-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت عمدہ جناب ۔
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
طبقاتی تقسیم ہم لوگوںکی اپنی بنائی ہوئی ہے، جس نے جو بھی دینا ہے اپنی استطاعت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی بیٹی کو دینا ہے اس لئے دائیںبائیںوالوں کی نقل کرنا یا نمودونمائش کے چکر میں پڑنا قطعی طور پر درست نہیں ہے اسلام میں بھی معیانہ روی کہا حکم ہے۔
اپنے سے اوپر دیکھنے سے انسان کی اپنی پگڑی زمین پر گر جاتی ہے لہٰذا اپنی چادر کے مطابق پاوںپھیلانا ہی دانشمندی ہے۔ شادی دو خاندانوں کے درمیان قائم ہونے والا رشتہ ہوتی ہے اور دو انسانوں کی زندگیوں کا ایک اہم موڑ، سو اگر اس میں کاروباری یا لالچ کا عنصر شامل ہو جائے تو بقیہ زندگی خراب ہی ہوتی ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا | میاں شاہد (03-11-08), ابن جلال (09-11-08), خرم شہزاد خرم (02-01-09), عبداللہ آدم (19-08-10), عبداللہ حیدر (06-11-08) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی عادل سہیل صاحب سے عرضہے کہ وہ شادی میںمہر کی مقدار پر بھی روشنی ڈالیں۔ بہت سے لوگ شرعی مہر 32 روپے آٹھ آنے کے مساوی یا اس سے کچھ ملتی جلتی رقم کو قرار دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں بھی کچھ وضاحت فرمائیں کے شرعی یا اسلامی مہر کیا ہے اور کیا ہونا چاہئیے، اس صمن میں اکر کچھ غلط العام ہے تو وہ بھی واضح کریں اور کیا درست سوچ ہونی چاہئیے ، اس کے بارے میںبھی معلومات فراہم کیجئے۔
والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 36
مراسلات: 61
کمائي: 1,707
شکریہ: 53
34 مراسلہ میں 85 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میںسعودی عرب میں رہتا ہوں اور یہاں پر سنا ہے کہ لڑکیوںکے لیے 50 سے ایک لاکھ ریال لیے جاتے ہیں۔ اس کی شرعی حثیت کیا ہے؟
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم
یا اھلا و سھلا، عرب ملکوں میں الٹا رواج ہے۔ یہاں لڑکے کو رقم کا بندوبست کرنا پڑتا ہے اور لڑکی والے "ھل من مزید" کا نعرہ لگاتے جاتے ہیں۔ مکی حرم شریف میں امام کعبہ الشیخ سعود بن ابراھیم الشریم نے اس حرکت کے غیر شرعی ہونے پر تفصیلی خطبہ دیا تھا۔ اس وقت ربط ڈھونڈنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ خطبے اور وعظ و نصیحت کا اثر کم لوگ ہی پکڑتے ہیں لہٰذا مجموعی طور پر اس سے کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 1,847
کمائي: 16,138
شکریہ: 1,281
866 مراسلہ میں 1,528 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی بحثیں ہیں ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| arabic, فروخت, پاک, لوگ, لڑکی, نظر, معذرت, اللہ, اسلامی, بھائی, جواب, جلد, حکم, حدیث, حضرات, خوش, عورت, علی, عمران, عالم, صفحہ, صلاۃ, صحیح, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موجودہ عدالتی نظام کی شرعی حیثیت | عبداللہ آدم | عمومی بحث | 19 | 21-02-11 11:30 AM |
| مولود مروج کی شرعی حیثیت | sahj | عمومی بحث | 9 | 23-12-10 09:05 AM |
| خلافت و ملوکیت۔۔تاریخی و شرعی حیثیت | عبداللہ حیدر | کتاب گھر | 26 | 03-08-10 06:46 AM |
| زرعی شعبہ کی اہمیت اور آئندہ انتخابات ؟,,,,معاشی حقائق…سکندر حمید لودھی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 29-10-07 10:23 AM |