واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


حربي كفار كي اشياء كا بائيكاٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-12-08, 08:41 PM   #1
حربي كفار كي اشياء كا بائيكاٹ
چیتا چالباز چیتا چالباز آف لائن ہے 28-12-08, 08:41 PM

كيا عادتا يھوديوں يا يھوديوں كي ملكيتي كمپنيوں يا يھوديوں كي شراكت سے چلنےوالي كمپنيوں يا ايسي كمپنياں جس كي شاخيں اسرائيل ميں بھي ہيں كےساتھ لين دين كرنا مباح ہے الخ ؟
ان آخري ايام ميں بہت سےمسلمان يہ كہتےہيں كہ يہوديوں كےساتھ مطلقا لين دين كرنا حرام ہے، ميري محدود معلومات كےمطابق تو يہ ہے كہ جب مسلمانوں نے دورنبوي ميں يھوديوں كےساتھ مسلمانوں نےلڑائي لڑي تو اس وقت بھي ان كےساتھ لين دين منع نہيں كيا، اور جب نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اس دنيا سے رخصت ہوئے توان كي درعہ قرضہ كے عوض ميں ايك يھودي كے پاس گروي ركھي ہوئي تھي، آپ سےگزارش ہے كہ اس معاملہ ميں ہماري صحيح راہمائي فرمائيں.

الحمد للہ :

اول:

اصل تويہي ہے كہ يھوديوں وغيرہ كےساتھ خريدوفروخت جائز ہے، كيونكہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام سے ايسا كرنا ثابت ہے اور وہ مدينہ كےيھوديوں سے خريدوفروخت اور رہن وغيرہ اور اس كے علاوہ ہمارے دين ميں مباح قسم كےمعاملات ميں لين دين كرتےتھے.

اور بني كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے جن يھوديوں سے لين دين كيا وہ معاہدہ والے يھودي تھے، اور جس نے بھي ان ميں سے معاہدہ توڑ ديا اسے يا تو قتل كرديا گيا يا پھر جلاوطن كرديا گيا يا كسي مصلحت كي بنا پر چھوڑديا گيا.

اور يہ بھي ثابت ہے جو محارب كفار كےساتھ بھي خريدوفروخت كےجواز پر دلالت كرتا ہے اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

امام بخاري رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

مشركوں اور اہل حرب سے خريدوفروخت كا بيان

پھر اس كےبعد مندرجہ ذيل روايت بيان كرتےہيں:

عبدالرحمن بن ابي بكر رضي اللہ تعالي عنھما بيان كرتےہيں كہ ہم نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےساتھ تھے، توايك مشرك شخص بكري ہانكتا ہوا آيا تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: فروخت يا عطيہ يا فرمايا: يا ھبہ ؟ تو اس نےجواب ديا: بلكہ فروخت كےليے، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےاس سے وہ بكري خريد لي. صحيح بخاري حديث نمبر ( 2216 ) .

امام نووي رحمہ اللہ تعالي صحيح مسلم كي شرح ميں كہتےہيں:

اہل ذمہ اور ان كےعلاوہ دوسرے كفار كےساتھ معاملات كرنےكےجواز پر مسلمان متفق ہيں جب تك جوكچھ اس كےپاس ہے كي حرمت نہ ثابت ہو جائے، ليكن مسلمان كےليے اہل حرب كو اسلحہ يا لڑائي كےليے كوئي آلہ فروخت كرنا جائز نہيں اور نہ ايسي چيز جس سے وہ اپنےدين كومضبوط كرنےكےليے اس سے مدد حاصل كريں ... اھ

ديكھيں: شرح صحيح مسلم للنووي ( 11 / 41 )

اور ابن بطال رحمہ اللہ تعالي كا كہنا ہےكہ:

كفار كےساتھ معاملات كرنا جائز ہے، ليكن ايسي كوئي چيز فروخت كرني جائز نہيں جو اہل حرب مسلمانوں كےخلاف استعمال كريں اور اس سے مسلمانوں كےخلاف انہيں مدد حاصل ہوتي ہو. اھ

اور المجموع ميں اہل حرب كو اسلحہ فروخت كرنے كي حرمت پر اجماع نقل كيا گيا ہے. ديكھيں: المجموع ( 9 / 432 ) .

اس كي حكمت واضح اور ظاہر ہے كہ وہ اس اسلحہ سے مسلمانوں كو قتل كريں گے اور ان كےخلاف استعمال كريں گے.

دوم:

محارب يھوديوں اور دوسرے حربي كفار كےخلاف مالي اور جاني جھاد كےمشروع ہونے ميں كوئي شك وشبہ نہيں، اور اس ميں ہروہ وسيلہ اور طريقہ داخل ہوگا جس سے ان كفار كي اقتصاديات كمزور ہوں اور انہيں نقصان پہنچے اس ليےكہ پہلےدورميں بھي اور آج بھي جنگ ميں مال لڑائي كي روح شمار ہوتي ہے.

اورمسلمانوں كوعموما يہ چاہيےكہ وہ نيكي اور تقوي پر ايك دوسرے كا تعاون كريں اور ہر جگہ پر مسلمانوں كا تعاون كريں جوان كے گھربار كي حفاظت كا باعث ہو اور اس سے وہ اپنےملك ميں رہنےاور ديني شعائر كوظاہر اور اسلامي تعليمات پر عمل پيرا ہونے اور شرعي احكام اور حدود اللہ كا نفاذ كرنے كے قابل ہوسكيں، اور ايسي اشياء كےساتھ ان كي مدد كريں جو كافروں اور يھوديوں وغيرہ كےخلاف مسلمانوں كي مدد ونصرت كا سبب بنيں، اس ليے اسے ہر قسم كي طاقت كو بقدر استطاعت اللہ تعالي كےدشمنوں كےخلاف جھاد ميں استعمال كرنا چاہيے.

اور پھر رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےبھي يہ فرمايا ہےكہ:

( مشركوں كےخلاف اپنےمالوں، جانوں اور زبانوں كےساتھ جھاد كرو ) سنن ابوداود حديث نمبر ( 2504 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح ابوداود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

لھذا مسلمانوں كوچاہيے كہ وہ ہر اس چيز كےساتھ مجاھدين كي مدد كريں جس كي ان ميں طاقت ہے، اور ہر وہ وسائل اور ذرائع جومسلمانوں اور اسلام كي تقويت كا باعث بنيں اسے خرچ كريں، اور ان پر يہ بھي ضروري ہے كہ وہ جتي طاقت اور قدرت ركھتےہيں اس كےساتھ كفار كےخلاف جھاد كريں، اور ہرايسا عمل كريں جس سے كفار اوردين اسلام كو نقصان اوركمزوي حاصل ہو، لھذا مسلمان ان كفار كو ايسي ملازمتوں پر نہ ركھيں جس ميں انہيں تقويت اور مال حاصل ہوتا ہو اور وہ مسلمانوں كا مال جمع كركے مسلمانوں كو ہي اس مال كےساتھ ماريں، مثلا انہيں اجرت پر كاتب، يا اكاؤٹنٹ، يا انجنئير اور خادم وغيرہ نہ ركھيں.

خلاصہ:

اس بحث كا حاصل يہ ہےكہ: جو كوئي بھي حربي كفار كےمال اور اشياء كا بائيكاٹ كر كےوہ كفار كےساتھ عدم دوستي كا اظہار اور ان كي افتصاديات كو كمزور كرنا چاہتا ہے تواس اچھے مقصد كي بنا پران شاء اللہ اسےاجروثواب حاصل ہوگا .

اور جوكوئي اصل پر عمل كرتےہوئے كہ كفار كےساتھ معاملات كرنے جائز ہيں اور خاص كران اشياء كي خريداري جس كا وہ محتاج ہے تو ان شاء اللہ اس ميں كوئي حرج نہيں اور ايسا كرنے سے اسلام كےاصول الولاء والبراء كےمتعلق اس پر كوئي قدغن نہيں لگائي جائےگي .

مستقل فتوي كميٹي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

مسلمانوں كا آپس ميں تعاون ترك كردينا وہ اس طرح كہ مسلمان كسي مسلمان سے خريدنا پسند نہيں كرتا بلكہ كفار سے خريداري كرنا پسند كرتا ہے اس كيا حكم كيا ہےاور آيا يہ حلال ہے كہ حرام؟

كميٹي كا جواب تھا:

اصل تو جواز ہے كہ مسلمان اپني ضرورت كي وہ اشياء جواللہ تعالي نے اس كےليے حلال قرار دي ہيں مسلمان سےخريدے يا كافر سے جائز ہے، اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےبھي يھوديوں سے خريداري كي تھي.

ليكن جب مسلمان اپنےمسلمان بھائي سے بغير كسي سبب يعني دھوكہ اور ريٹ ميں زيادتي اور سامان ردي ہونے وغيرہ كےبغير ہي خريداري ترك كركے كفار سے خريداري كرنا پسند كرے يا اس كي رغبت ركھے اور بغير كسي سبب كے ہي كافر سے خريداري كو مسلمان پر ترجيح دے تو يہ حرام ہے كيونكہ اس ميں كفار سےموالاۃ و دوستي اور ان سے راضي ہونا اور ان سےمحبت كا اظہار، اور مسلمان تاجروں كےساتھ كساد بازاري اور انہيں نقصان دينا ہے اور جب مسلمان اس كي عادت ہي بنا لے تو اس ميں مسلمانوں سےخريداري كا عدم رواج ہوگا، ليكن اگر مسلمان سےخريداري نہ كرنے كےكچھ اسباب ہوں جيسا كہ اوپر بيان ہوچكا ہے تو وہ اپنےمسلمان بھائي كو نصيحت كرے جواسے ان عيوب كودور كرے اگر تو وہ نصيحت قبول كرلے الحمد للہ وگرنہ وہ اس سے خريداري كرنا ترك كركے كسي اور سے خريداري كرے اگرچہ كافر ہي كيوں نہ جو اپنےمعاملات ميں سچائي اختيار كرتا اور منافع كا احسن طريقہ سے تبادلہ كرتا ہو. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 18 ).

واللہ اعلم .

 
چیتا چالباز's Avatar
چیتا چالباز
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 536
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (11-06-11), سام (11-06-11)
پرانا 11-06-11, 07:32 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مگر اُس دور کے محدود وسائل۔۔۔۔۔۔۔آ ج کے آسائیشوں بھرے اور مختلف منڈیوں کے ھوتے ھوئے مسلمانوں کو نہیں چاھئیے کہ انکے لیے منڈی بنیں۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ھوئے, پسند, چاھئیے, مگر, منڈیوں, محدود, مختلف, مسلمانوں, آج, اُس, اللہ, انکے, بھرے, دور, شخص, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
كافرممالك كي بني ہوئي اشياء خريدنا چیتا چالباز مذہبی مسائل اور ان کا حل 2 11-06-11 08:59 PM
ضرورت ايجاد كي ماں ہے۔ شمشاد احمد گھریلو ٹوٹکے 12 22-01-11 07:23 PM
املاء كي غلطي درست كي جائے۔ شمشاد احمد تجاویز اور شکایات 51 30-11-10 09:41 PM
60 معروف قراء كرام كي آواز ميں مكمل قرآن ابن آدم ویب سائٹس کا جائزہ 0 04-08-10 10:51 AM
ګل په دېوال كي عدنان دانی پشتو فورمز 0 24-11-09 11:51 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger