واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


روزے کے مسائل از (از، مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-08-11, 04:09 AM   #1
روزے کے مسائل از (از، مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب)
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 09-08-11, 04:09 AM

__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 301
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-08-11), عرفان مسلم (15-08-11)
پرانا 09-08-11, 04:18 AM   #2
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default روزے کے مسائل حصہ سوم از مفتی منیب الرحمٰن صاحب

رمضان المبارک میں عشاء کی نماز تنہا پڑھنے والا، وتر جماعت کے ساتھ پڑھے یا تنہا؟

سوال: رمضان المبارک میں ایسے مواقع اکثر پیش آتے رہتے ہیں کہ ایک شخص نمازِ عشاء کے لئے مسجد میں پہنچا تو فرض کی جماعت ختم ہوچکی ہوتی ہے، اب وہ بامرِ مجبوری فرض اور سنت مؤکدہ تنہا ادا کرکے تراویح کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال میں وہ وتر باجماعت یا تنہا پڑھے۔؟

جواب: اس مسئلے میں ہمارے فقہاء کرام کی دو آراء ہیں، ایک یہ کہ ماہ ِرمضان المبارک میں فرض نماز جماعت کے ساتھ نہ بھی پڑھی ہو تو اس کا وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا بلا کراہت جائز ہے، اور دلائل کے اعتبار سے یہی نظریہ راجح ہے، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ ’’فرضِ عشاء‘‘ جماعت کے ساتھ نہ پڑھے ہوں، تو وتر بھی جماعت کے ساتھ نہ پڑھے بلکہ تنہا پڑھے، دلائل کے اعتبار سے یہ نظریہ مرجوح ہے۔

فقہاء ِکرام میں یہ اختلاف آراء ایک اور اختلاف پر مبنی ہے، وہ یہ کہ آیا رمضان المبارک میں وتر کی جماعت، ’’فرضِ عشاء‘‘ کی جماعت کے تابع ہے یا تراویح کی جماعت کے۔ قول صحیح یہ ہے کہ فی نفسہ نماز وتر تو فرض عشاء کے تابع ہے، لیکن وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے، کیونکہ اگر وتر کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہوتی تو وتر سارا سال جماعت کے ساتھ مسنون ہوتے، اس لئے کہ عشاء کی نماز میں جماعت سارا سال واجب ہے، جبکہ وتر تو صرف رمضان المبارک میں جماعت کے ساتھ مسنون ہیں، پس ثابت ہوا کہ وتر کی جماعت کا مسنون ہونا تراویح کی جماعت کے مسنون ہونے کے تابع ہے۔

علامہ محمود قاضی خان اوز جندی لکھتے ہیں:
اِخْتَلَفُوْا اَنَّ اَدَائَ الْوِتْرِ فِیْ رَمَضَانَ بِالْجَمَاعَۃِ اَفْضَلُ اَمِ الْاَدَائُ فِیْ مَنْزِلِہ وَحْدَہ اَلصَّحِیْحُ اَنَّ الْجَمَاعَۃَ اَفْضَلُ لِاَنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یَؤُمُّھُمْ فِی الْوِتْرِ وَلِاَنَّہ لَمَّا جَازَ الْاَدَائُ بِالْجَمَاعَۃِ کَانَتِ الْجَمَاعَۃُ اَفْضَلُ اِعْتِبَاراً بِالْمَکْتُوْبَہِ۔

’’ اس بات میں اختلاف ہے کہ رمضان میں وتر باجماعت ادا کرنا افضل ہے یا تنہا گھر میں پڑھنا، صحیح یہ ہے کہ جماعت افضل ہے، کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صحابہ کو وتر جماعت کے ساتھ پڑھاتے تھے، اور یہ بات اس لئے بھی درست ہے کہ جب وتر کو جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز ہے تو پھر فرض پر قیاس کرتے ہوئے (یہی کہنا چاہئے کہ وتر میں بھی) جماعت ہی افضل ہے،
(فتاویٰ قاضی خان برحاشیہء عالمگیری ج1، ص244، مطبوعہ کبری بولاق مصر)۔‘‘

علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فتح القدیر ج1، ص410-409 پر اس مسئلے کی بحث کی ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

’’علامہ قاضی خان کی مذکورہ بالا عبارت کو نقل کرنے کے بعد ’’صاحبِ نہایہ‘‘ نے فرمایا کہ ہمارے علماء کا مختار یہ ہے کہ وتر بغیر جماعت کے پڑھے جائیں۔‘‘ اس پر کلام کرتے ہوئے علامہ ابن ہمام تطبیق فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ (رمضان المبارک میں) وتر کا باجماعت پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، پھر اس کے تسلسل کو ترک کرنے کا سبب وہی ہے جو جماعت تراویح کا ہے، پھر خلفاء ِراشدین سے بھی وتر کی جماعت اور تعامل ثابت ہے، اس حقیقت کے پیش نظر علامہ قاضی خان کے قول کا محمل یہ ہے کہ اگر وتر عشاء کے اول وقت میں پڑھنے ہوں تو باجماعت پڑھنا افضل ہے اور اگر رات کے آخری حصے میں پڑھنے ہوں تو تنہا پڑھنا افضل ہے، جیساکہ حضرت عمر کا قول ہے: ’’رات کے جس حصے میں تم سوجاتے ہو، اس میں نماز پڑھنا افضل ہے‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی معروف ہے کہ رات کو تمہاری آخری نماز وتر ہونی چاہئے تو اسے مؤخر کرکے پڑھو، جیساکہ علماء عاملین اور سلف صالحین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ وتر کو آخرِ شب تہجد کے ساتھ پڑھتے تھے اور ظاہر ہے کہ اس وقت جماعت کا اہتمام دشوار ہے۔ علامہ ابن ہمام کے اس قول کو نقل کرکے جن فقہاء نے (آخرِ شب کی استثنائی صورت کے علاوہ) وتر کی جماعت کی افضلیت پر استدلال کیا ہے، ان میں علامہ زین الدین ابن نجیم، علامہ حسن بن عمار شرنبلالی، علامہ ابراہیم اور علامہ عبدالحلیم کے اسماء گرامی نمایاں ہیں۔

علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:

اَلَّذِیْ یَظْہَرُ اَنَّ جَمَاعَۃَ الْوِتْرِ تَبْع’‘ لِجَمَاعَۃِ التَّرَاوِیْحِ وَاِنْ کَانَ الْوِتْرُ نَفْسُہ اَصْلاً فِیْ ذَاِتہ لِاَنَّ سُنَّۃَ الْجَمَاعَۃِ فِی الْوِتْرِ اِنَّمَا عُرِفَتْ بِاْلاَثَرِ تَابِعَۃ’‘ لِلتَّرَاوِیْحِ۔


’’جو بات میرے نزدیک بالکل عیاں ہے وہ یہ ہے کہ: وتر کی جماعت، تراویح کی جماعت کے تابع ہے، (یہاں بات جماعت وتر کی ہورہی ہے ورنہ) فی نفسہٖ اپنی مشروعیت کے اعتبار سے تو وتر کی نماز بذاتِ خود اصل ہے (یعنی کسی کے تابع نہیں ہے، مگر یہاں بات جماعتِ وتر کی ہورہی ہے) اور وتر کی جماعت کا سنت ہونا، آثار کی روشنی میں تراویح کے تابع ہے،(ردالمحتار ج1، ص663)‘‘۔

اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رمضان المبارک میں وتر کی جماعت، تراویح کے تابع ہے، تو واضح ہوگیا کہ رمضان میں اگر عشاء کے فرض تنہا پڑھے ہوں اور تراویح جماعت کے ساتھ پڑھی ہو تو پھر وتر کی نماز تراویح کے ساتھ بلاکراہت پڑھ سکتا ہے۔

مولانا عبدالحلیم لکھتے ہیں:

اِذِا لْاِ تْیـَارُ بِالْجَمَاعَۃِ فِیْ رَمَضَانَ سُنَّۃ’‘ کَمَا اَنَّھَا سُنَّۃ’‘ فِی التَّرَاوِیْحِ۔
’’رمضان میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا سنت ہے، جیساکہ تراویح میں جماعت سنت ہے، (حاشیۃ الدرر ص84)‘‘۔

علامہ ابراہیم حلبی منیۃ المصلیّ کی شرح کبیر (غنیۃ المستملی) میں لکھتے ہیں:

قَالَ اَبُوْ یُوْسُفَ الْبَانِی: اِذَا صَلّٰی مَعَ الْاِمَامِ شَیْأً مِّنَ التَّرَاوِیْحِ یُصَلِّیْ مَعَہُ الْوِتْرَ وَکَذَا اِذَا لَمْ یُدْرِکْ مَعَہ شَیْأً مِّنْھَا وَکَذَا اِذَا صَلَّی التَّرَاوِیْحَ مَعَ غَیْرِہ لَہ اَنْ یُّصَلِّیَ الْوِتْرَ مَعَہ وَھُوَالصَّحِیْحُ، ذَکَرَہ اَبُواللَّیْثِ وَکَذَا قَالَ ظَھِیْرُ الدِّیْنِ الْمَرغِیْنَانِیْ لَوْ صَلَّی الْعِشَائَ وَحْدَہ فَلَہ اَنْ یُّصَلِّیَ التَّرَاوِیْحَ مَعَ الْاِمَامِ وَھُوَالصَّحِیْحُ۔

’’ ابویوسف البانی کہتے ہیں کہ:
اگر امام کے ساتھ کچھ تراویح پڑھ لی ہیں تو اس کے ساتھ وتر پڑھ سکتا ہے، اور اگر امام کے ساتھ کچھ بھی نہ پڑھا ہو (نہ فرض، نہ تراویح)، اسی طرح اگر کسی اور کے ساتھ تراویح پڑھی ہوں تو وہ امام کے ساتھ وتر پڑھ سکتا ہے۔ اور یہی صحیح ہے، اس مسئلے کو ابواللیث نے ذکر کیا ہے، اور علامہ ظہیرالدین مرغینانی نے بھی یہی کہا ہے، اور اگر عشاء کے فرض تنہا پڑھے ہوں، تب بھی وہ امام کے ساتھ تراویح پڑھ سکتا ہے، یہی قول صحیح ہے،
(غنیۃ المستملی ص391 مطبوعہ مطبع مجتبائی)‘‘۔

علامہ ابراہیم حلبی منیۃ المصلّی کی شرح کبیر کے بعد منیہ کی شرح صغیر میں یہ مسئلہ مزید وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں:

وَاِذَا لَمْ یُصَلِّ الْفَرْضَ مَعَ الْاِمَامِ قِیْلَ لاَ یَتْبَعُہ فِی التَّرَاوِیْحِ وَلاَ فِی الْوِتْرِ وَکَذَا اِذَا لَمْ یُصَلِّ مَعَہُ التَّرَاوِیْحَ لاَیَتْبَعُہ فِی الْوِتْرِ وَالصَّحِیْحُ اَنَّہ یَجُوْزُ اَنْ یَّتْبَعَہ فِیْ ذٰلِکَ کُلِّہ۔

’’اور جب امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے گئے ہوں تو کہا گیا ہے کہ پھر امام کی اقتداء میں نہ تراویح پڑھے نہ وتر، اسی طرح اگر امام کی اقتداء میں تراویح نہ پڑھی ہوں تو اس کی اقتداء میں وتر نہ پڑھے، اور ـصحیح قول یہ ہے کہ جب امام کے ساتھ فرض یا تراویح نہ پڑھی ہوں تو وتر جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے، اسی طرح اگر امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہو تو تراویح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے،(شرح صغیر (صغیری) ص210)‘‘۔

علامہ احمد بن محمد الطحطاوی لکھتے ہیں:

لِاَنَّ الْمُنْفَرِدَ لَوْ صَلَّی الْعِشَائَ وَحْدَہ فَلَہ اَنْ یُّصَلِّیَ التَّرَاوِیْحَ مَعَ الْاِمَامِ۔۔ اِلـٰی قَوْلِہ۔۔ قَضِیَّۃَ التَّعْلِیْلِ فِی الْمَسْئَلَۃِ السَّابِقَۃِ بِقَوْلِھِمْ لِاَنَّھَا تَبْع’‘ لِلتَّرَاوِیْحِ وَلاَ لِلْعِشَائِ عِنْدَالْاِمَامِ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِنْتَھٰی۔

’’کیونکہ اگر کوئی شخص عشاء کی نماز تنہا پڑھے تو اس کے لئے تراویح امام کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ گزشتہ مسئلے میں بیان کردہ علت کا یہی تقاضا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ (رمضان میں) امام کے نزدیک وتر کی جماعت نہ جماعت عشاء کے تابع ہے اور نہ ہی جماعت تراویح کے، (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ج1، ص297)۔‘‘

اس عبارت کا مستفاد یہ ہے کہ رمضان میں اگرچہ فی نفسہ ’’جماعتِ وتر‘‘ کا مسنون ہونا، ’’جماعتِ تراویح‘‘ کے مسنون ہونے کے تابع ہے، یعنی چونکہ رمضان میں تراویح باجماعت پڑھنا سنت ہے، لہٰذا وتر بھی باجماعت پڑھنا سنت ہے، لیکن وتر کا عملاً باجماعت پڑھنا، نہ جماعتِ عشاء کے تابع ہے اور نہ جماعتِ تراویح کے، لہٰذا اگر کسی نے فرض عشاء یا تراویح میں سے کوئی بھی باجماعت نہ پڑھے ہوں، وہ وتر باجماعت پڑھ سکتا ہے۔

ملا خسرو فرماتے ہیں:
ولا یصلی الوتر (بجماعۃ خارج رمضان) للاجماع ولا یصلی التطوع بجماعۃ الاقیام رمضان و عن شمس الائمۃ الکردری ان التطوع بالجماعۃ انما یکرہ اذا کان علی سبیل التداعی امالو اقتدی واحد بواحد او اثنان بواحد لا یکرہ۔

’’رمضان کے علاوہ وتر باجماعت نہ پڑھے اس پر اجماع ہے اور تراویح کے سوا نفل باجماعت نہ پڑھے، شمس الائمہ کردری سے منقول ہے کہ نوافل کی جماعت اس وقت مکروہ ہے جب لوگوں کو اس کی دعوت دی جائے اگر ایک کی اقتداء میں ایک یا ایک کی اقتداء میں دو آدمی نفل پڑھ لیں تو مکروہ نہیں ہے،(دررالحکام فی شرح غررالحکام ج1، ص120)‘‘۔

اس عبارت کا مستفاد یہ ہے کہ غیرِ رمضان میں وتر باجماعت پڑھنا جائز ہے مگر مکروہ ہے، اس سے زیادہ واضح طور پر علامہ علائی نے لکھا ہے:

وَلاَ یُصَلِّی الْوِتْرَ وَلاَ التَّطَوُّعَ خَارِجَ رَمَضَانَ اَیْ یَکْرَہُ ذٰلِکَ۔
’’وتر اور نوافل رمضان کے علاوہ جماعت سے نہ پڑھے جائیں، یعنی جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے،(درمختار علی ھامش الرد ج1، ص663)‘‘۔

اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی نے طویل بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غیر رمضان میں وتر اگر کبھی باجماعت پڑھ لئے جائیں تو یہ مباح ہے۔ امام طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ منصور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے رات گئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تدفین کی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے وتر نہیں پڑھے اور پڑھنے کھڑے ہوگئے، ہم نے بھی ان کی اقتداء میں صف باندھ لی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہم کو تین رکعات پڑھائیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔

الغرض غیر رمضان میں کبھی کبھار وتر باجماعت پڑھ لینا مباح، غیرمکروہ یا غیرمستحب یا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے، البتہ اسے معمول بنالینا بدعت ِمکروہہ ہوگا۔

(نوٹ:- جو حضرات اس مسئلے کو مزید تفصیل کے ساتھ سمجھنا اور مطالعہ کرنا چاہتے ہوں، وہ شرح صحیح مسلم، مصّنفہ علامہ غلام رسول سعیدی ج2، ص502 تا 509 کا مطالعہ کریں۔)

روزے میں سرمہ لگانے کے جواز پر ایک دلچسپ اور مفید علمی بحث
جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں بعض فقہی مسائل پر نظرِثانی کی ضرورت

ہمارے قدیم فقہاء ِکرام نے ظن ِغالب کی بناء پر بعض امور کے مفسد ِصوم ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رائے قائم کرکے حکم صادر کیا تھا۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ کان میں دوا یا تیل ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ ان کی رائے یہ تھی کہ کان سے معدے کی طرف حلق کے راستے ایک منفذ‘ نالی یا سوراخ ہے۔ اب جدید طبی تحقیق نے عین الیقین سے بتادیا کہ کان سے معدے کی طرف کوئی سوراخ نہیں ہے، لہٰذا اب اس پر فقہاء عصر کا اجماع ہوتا جارہا ہے کہ کان میں دوا یا تیل ٹپکانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ الحمدللہ ہم لوگ اور حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری اس مسئلے کی نشاندہی میں سبقت کا شرف رکھتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قدیم فقہاء کرام کی رائے یہ تھی کہ چونکہ آنکھ میں حلق کی جانب کوئی سوراخ یا منفذ نہیں ہے، اس لئے آنکھ میں دوا ٹپکانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، ہمارے معاصر فقہاء میں سے غالب اکثریت ابھی تک اسی رائے پر قائم ہے۔ اب چونکہ طبی طور پر عین الیقین کی حد تک یہ ثابت ہوچکا ہے کہ آنکھ میں حلق کی طرف سوراخ یا نالی موجود ہے، اس لئے اب اہل ِفتویٰ کو یہ فتویٰ دینا چاہئے کہ آنکھ میں دوا ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

ہمارے اجلّہ فقہاء عصر علامہ غلام رسول سعیدی اور علامہ مفتی محمد ابراہیم قادری کی یہی رائے ہے اور انہی کی تحقیقات سے استفادہ کرکے ہم نے تین سال قبل قومی اخبارات و جرائد میں ان مسائل کی جانب فقہاء عصر کو متوجہ کیا تھا اور ان سے جدید تحقیق کی روشنی میں اس مسئلے کے بارے میں اپنی قدیم رائے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔ ان مسائل ِجدیدہ میں سے کان میں دوا یا تیل ٹپکانے سے روزہ ٹوٹ جانے کی بابت علمائِ دیوبند میں سے دارالعلوم کراچی کے مفتیانِ کرام کا نظرثانی شدہ فتویٰ باقاعدہ دستخطوں کے ساتھ آچکا ہے، جس کی ہم نے ’’مجلس فقہ اسلامی‘‘ کی جانب سے تحسین کی ہے اور انہیں بعض دیگر مسائل پر نظرِثانی کرنے اور غور و فکر کی دعوت دی ہے۔

ہم نے آنکھ میں دوا ٹپکانے کے مسئلے میں لکھا تھا کہ سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کی اجازت دی ہے، لہٰذا خلافِ قیاس استحساناً سرمہ لگانے کو مفسد ِصوم نہیں قرار دیا جائے گا۔ اس پر کوئی محترم اشرف صاحب ہیں، جنہوں نے حضرت مفتی محمد رفیق حسنی صاحب نائب رئیس مجلس فقہ اسلامی کی خدمت میں ہمارا اور حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کا موقف ارسال کرکے ’’سرمے کے مفسد صوم ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں‘‘ ان سے محاکمہ کرنے کی درخواست کی ہے، ’’مفتی صاحب نے اپنا موقف واضح کرنے کے لئے یہ مسئلہ مجھے ارسال فرمایا ہے۔ اس مسئلے پر اپنے تفصیلی معروضات پیش کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمارے اور حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کے درمیان اصل متفق علیہ ہے، لہٰذا اختلاف ِرائے اصول میں نہیں ہے بلکہ اس کے اطلاق میں ہے، جو اصل ہمارے درمیان متفق علیہ ہے، وہ یہ ہے کہ آنکھ اور حلق کے درمیان منفذ ہے، حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری ہمارے معاصر علماء و فقہاء کرام اور اہل فتویٰ میں سے دقت ِنظر کے حامل ہیں، جزئیات پر اصول کے اطلاق و انطباق میں ان کی نظر عمیق ہے۔

جزئیات کے استنباط و استخراج، مماثل جزئیات میں علتِ مشترکہ کی بناء پر ایک حکم دوسری کے لئے ثابت کرنے اور جدید دور میں پیش آمدہ مسائل کا فقہی و شرعی حل تلاش کرنے میں مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہیں۔ موجودہ دور میں ایسے وسیع المطالعہ، متصلّب فی الدین اور روشن خیال علماء کا وجود اہلسنّت کے لئے غنیمت اور وقیع علمی سرمایہ ہے۔ ہم اسے علمی دیانت کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں کہ زیرِ بحث مسئلے پر حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کا موقف ان کے تفصیلی دلائل کے ساتھ پیش کردیا جائے تاکہ اہل علمِ کو محاکمہ کرنے میں آسانی ہو۔

چنانچہ مفتی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ’’اختتام ِبحث سے قبل اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ کی حالت میں سرمہ ڈالنا یا اس کا حکم فرمانا ثابت نہیں اور اس سلسلے میں مروی تمام احادیث ضعیف ہیں۔ اس قسم کی متعدد احادیث اور ان کی اسناد پر مفصل جزم کے لئے فتح القدیر ص72، ج2، مطبوعہ مصر اور مرقات شرح مشکوٰۃ، ص505، ص506، ج4، مطبوعہ المکتبہ التجاریہ، مکہ مکرمہ ملاحظہ ہو۔ یہاں صرف ایک حدیث اور پھر اس کی فنی حیثیت پر امام ابو عیسٰی ترمذی علیہ الرحمۃ کا کلام نقل کیا جاتا ہے۔

ترمذی شریف باب ماجاء فی الکحل للصائم میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے:

جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اشتکت عینی افاکتحل وانا صائم قال نعم وفی الباب عن ابی رافع قال ابوعیسٰی حدیث انس حدیث اسنادہ لیس بالقوی ولا یصح عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی ھذا الباب شیٍٔ و ابو عاتکۃ یضعف و اختلف اھل العلم فی الکحل للصائم فکرھہ بعضھم وھو قول سفیان و ابن المبارک و احمد و اسحٰق و رخص بعض اھل العلم فی الکحل للصائم۔

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا میری آنکھیں دکھتی ہیں کیا میں روزہ رکھتے ہوئے سرمہ لگا سکتا ہوں فرمایا ہاں (امام ابو عیسٰی ترمذی فرماتے ہیں) اس باب میں ابو رافع سے بھی روایت ہے اور حدیث انس (جس کا ابھی ذکر ہوا) کی سند قوی نہیں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث صحت کے ساتھ ثابت نہیں اور ابو عاتکہ (جو حدیث انس کے راوی ہیں) کو ضعیف مانا جاتا ہے اور اہل علم نے روزہ کی حالت میں سرمہ لگانے میں اختلاف کیا ہے بعض اسے مکروہ کہتے ہیں حضرت سفیان ثوری، ابن المبارک، امام احمد اور اسحق کا یہی قول ہے اور بعض اہل علم نے روزہ دار کو سرمہ لگانے میں رخصت دی ہے۔

الغرض ’’اکتحال فی الصوم‘‘ کے جواز میں وارد احادیث ضعیف ہیں۔ بلکہ روزہ کی حالت میں سرمہ ڈالنے کی ممانعت پر بھی بعض ضعیف احادیث موجود ہیں، چنانچہ سنن ابی دائود میں حضرت معبد بن ہوذہ سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت مشک ملے ہوئے اثمد (سرمہ کی ایک قسم) لگانے کا حکم فرمایا اور یہ بھی ارشاد فرمایا لیتقہ الصائم یعنی ’’روزہ دار اس سے بچے۔‘‘

اسی حدیث سے قاضی ابن ابی لیلیٰ اور ابن شبرمہ (یہ دونوں تابعی ہیں اور حضرت امام اعظم کے معاصر ہیں) نے یہ استدلال کیا ہے کہ سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ چنانچہ عون المعبود شرح سنن ابی دائود میں ہے: وقد استدل لھذا الحدیث ابن شبرمۃ و ابن ابی لیلـٰی وقالا ان الکحل یفسد الصوم، ص283، ج2،طبع بیروت۔

البتہ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ روزہ میں سرمہ لگانے کی احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگر احادیثِ ضعیفہ کا مجموعہ قابل ِاستدلال ہوتا ہے جیساکہ امام ابن الہمام اور علامہ علی قاری نے اس کی تصریح فرمائی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مجموعہ کی قوت مسلم ہے مگر یہ حدیث صحیح ’’الفطر مما دخل‘‘ کے معارض ہیں اور احناف تعارض کے وقت ’’محرم‘‘ کو ’’مبیح‘‘ پر ترجیح دیتے ہیں چونکہ ’’الفطر مما دخل‘‘ سے روزہ کی حالت میں سرمہ لگانے کی حرمت ظاہر ہوتی ہے اور اکتحال فی الصوم کی احادیث سے سرمہ ڈالنے کا جواز نکلتا ہے لہٰذا الفطر مما دخل کی روایات اکتحال فی الصوم کی روایات پر راجح قرار پائیں گی۔

نیز الفطر مما دخل کی روایت ضابطہ کلیہ بیان کررہی ہے اور اکتحال فی الصوم کی روایات اس ضابطہ کلیہ کے خلاف ایک امر جزئی (آنکھ میں سرمہ ڈالنا) بیان کررہی ہیں اور احناف ایسی صورت میں اس روایت کو قبول کرتے ہیں جو ضابطہ کلیہ بیان کررہی ہو۔ (خلاصہ تذکرۃ المحدثین بحوالہ عمدۃ القاری، ص79)

پھر الفطر مما دخل کی روایت مؤید بالقیاس ہے اور اکتحال فی الصوم کی روایات مؤید بالقیاس نہیں بلکہ مخالف ِقیاس ہیں اس لئے بھی الفطر مما دخل کی حدیث راجح ہونی چاہئے۔

مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کا یہ کہنا صحیح ہے کہ جب دو حدیثوں میں تعارض ہو تو مُحَرِّم کو مُبِیحْ پر ترجیح دی جاتی ہے، لیکن ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ’’اَلْاِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ‘ ‘یا ’’اَلصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ‘‘ والی حدیث کو، ترمذی کی روزے میں سرمہ لگانے کی اجازت والی حدیث پر، ترجیح حاصل ہے۔ کیونکہ ’’اَلْاِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ‘‘ والی حدیث، جو انہوں نے فتح القدیر ص72، ج2 کے حوالے سے لکھی ہے، یہ مسند ابو یعلیٰ کی حدیث نمبر4602 ہے اورفتح القدیر میں بھی یہ مسند ابو یعلیٰ ہی کے حوالے سے لکھی گئی ہے اور امام کمال الدین ابن ہمام نے اس حدیث کو درج کرنے کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ: وَلِجَھَالَۃِ الْمَوْلاَۃِ لَمْ یُثْبِتْہُ بَعْضُ اَہْلِ الْحَدِیْثِ یعنی ’’باندی کے مجہول ہونے کی وجہ سے بعض ماہرین ِعلم حدیث کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔‘‘ اس جملے کو حضرت مفتی محمد ابراہیم نے نقل نہیں فرمایا کہ یہ حدیث غیر ثابت ہے اور لائقِ استدلال نہیں، نیز مسند ابو یعلیٰ کے شارح اور محقق نے اس حدیث کی سند پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے: سلمیٰ کے مجہول ہونے کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ (حاشیہ مسند ابو یعلیٰ ج8 ص76) اور حافظ الہیثمی نے اس حدیث کو درج کرکے لکھا ہے: ’’وَفِیْہِ مَنْ لَّمْ اَعْرِفْ‘‘ یعنی ’’اس میں ایک راوی ایسا ہے جسے میں نہیں جانتا‘‘ (مجمع الزوائد ج3 ص167)‘‘

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور دیگر اسانید سے اس کو روایت کرکے اس کی تقویت بھی نہیں کی گئی، لہٰذا اس حدیث میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ یہ جامع ترمذی کی اس حدیث سے معارض ہوسکے جو دیگر اسانید سے تقویت یافتہ ہے۔

یہ اصل جو بیان کیا گیا ہے کہ مُبِیحْ اور مُحَرِّم میں تعارض کے وقت ’’مُحَرِّم‘‘ کو ’’مُبِیحْ‘‘ پر ترجیح ہوتی ہے، یہ اس وقت ہے جب دونوں حدیثیں ایک ہی درجہ کی ہوں، لیکن پر جو حدیث ’’مُبِیحْ ‘‘ ہے، وہ صحاح ستہ کی ہے اور دیگرمتعدد اسانید سے اس کی تائید و تقویت ہے، اور جو حدیث ’’ محرم ‘‘ ہے، وہ غیر صحاح ستہ کی ہے اور اس کی ضعیف سند کی کسی دوسری سند سے تائید بھی نہیں ہے، لہذا ان دونوں میں تعارض ہی نہیں ہے، چہ جائے کہ ایک دوسری پر راجح ہو۔ نیز مفتی صاحب کا اسے حدیث صحیح قرار دینا فنی اعبتار سے بھی صحیح نہیں ہے۔

مفتی صاحب نے ’’اَلْاِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ‘‘ ( یعنی روزہ ان چیزوں سے ٹوٹتا ہے جو بدن کے اندر داخل ہوں) والی جو حدیث پیش کی ہے، وہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عکرمہ (جو تابعی ہیں) کے اقوال ہیں اور ان کی فنی حیثیت یہ ہے کہ ان کو امام بخاری نے تعلیقاً بغیر سند کے درج کیا ہے۔ (صحیح البخاری ج1 ص260)‘‘ جیساکہ علامہ عینی نے لکھا ہے: ’’ھٰذَانِ التَّعْلِیْقَانِ۔ (عمدۃ القاری ج11 ص37)

اور اہل علم سے مخفی نہیں کہ امام بخاری کی تعلیقات میں ہر قسم کی روایات ہیں اور صحیح بخاری میں درج ہونے سے وہ لازماً صحیح نہیں قرار پاتیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے میں سرمہ لگانے کی اجازت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ،اور ’’الصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ‘‘ یہ صحابی اور تابعی کے اقوال ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بہرحال صحابی اور تابعی کے اقوال پر راجح ہے۔ لہٰذا یہ بھی ایک درجے کی احادیث نہیں ہیں اور ان میں بھی تعارض نہیں ہے، اس لئے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان میں سے مُحَرِّم، مُبِیْحْ پر راجح ہے، کیونکہ ترجیح اس وقت دی جاتی ہے جب دونوں ایک ہی درجے کی احادیث ہوں۔

مفتی صاحب نے سنن ابی دائود کی حدیث نمبر2377 کا حوالہ دیا ہے جو یہ ہے:

عن عبدالرحمن بن النعمان بن معبد بن ھوذۃ عن ابیہ عن جدہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ امر بالاثمد المروح عندالنوم وقال: لیتقہ الصائم۔

’’حضرت معبد بن ھوذہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت مشک ملا ہوا سرمہ لگانے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ روزے دار اس سے بچے۔‘‘

اس حدیث کے تحت امام ابودائود نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ’’منکر‘‘ ہے، واضح رہے کہ حدیث ’’منکر‘‘ اسے کہتے ہیں جو حدیث معروف کے مقابلے میں ہو اور معروف حدیث یہ ہے:

عن انس بن مالک، قال: جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: اشتکت عینی، افأکتحل وأنا صائم؟ قال: نعم۔

’’حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں سرمہ لگا سکتا ہوں جبکہ میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ہاں۔(جامع ترمذی، رقم الحدیث: 726)‘‘

لہٰذا یہ جامع ترمذی کی حدیث معروف کے معارض نہیں ہوسکتی۔

حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری نے ’’اَلْاِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ‘‘ کو ضابطہء کلیہ قرار دیا ہے، حالانکہ یہ’’عام مخصوص عنہ البعض‘‘ ہے، کیونکہ شار ع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ناک میں پانی ڈالنے اور کلی کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ بھی ’’مِمَّا دَخَلَ‘‘ کے عموم میں شامل ہے۔

اور جوفِ معدہ یا جوفِ دماغ تک پہنچنے کے ’’مفطر‘‘ ہونے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں ہے، یہ ہمارے فقہاء کرام کی تصریح ہے۔ اور ’’عام مخصوص عنہ البعض‘‘ ظنی ہوتا ہے اور اس سے کسی کلیہ پر استدلال کرنا یا اس کو ضابطہء کلیہ قرار دینا صحیح نہیں ہے، علاوہ ازیں یہ ایک صحابی یا تابعی کا قول ہے اور وہ حدیث رسول سے متصادم ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،اور برسبیلِ تنزل اگر اسے ضابطہء کلیہ مان بھی لیا جائے، تب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرمہ لگانے کی اجازت اس ضابطہء کلیہ سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ آپ شارع ہیں۔ علاوہ ازیں جس طرح ایک صحابی اور ایک تابعی حضرت ابن عباس اور حضرت عکرمہ سے ’’اَلصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ‘‘ منقول ہے، جس کی بنیاد پر حضرت مفتی صاحب نے روزے میں سرمہ لگانے کو ’’مفطر‘‘ (روزہ ٹوٹنے کا سبب) قرار دیا ہے، اسی طرح سے ایک صحابی اور ایک تابعی حضرت انس اور حضرت اعمش سے عبارۃ النص سے روزے میں سرمہ لگانے کے ’’غیرمفطر‘‘ ہونے کی تصریح ہے، وہ روایات درج ذیل ہیں:

(1) عن انس بن مالک انہ کان یکتحل وھو صائم۔

’’حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے،(سنن ابی دائود رقم الحدیث: 237‘‘۔

(2) عن الاعمش قال: مارأیت احدا من اصحابنا یکرہ الکحل للصائم وکان ابراہیم یرخص ان یکتحل الصائم بالمصبر۔

حضرت اعمش نے فرمایا کہ میں نے اپنے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو روزے دار کے لئے سرمہ لگانے کو مکروہ سمجھتا ہو اور ابراہیم روزے دار کو مصبر کا سرمہ لگانے کی اجازت دیا کرتے تھے، (سنن ابی دائود رقم الحدیث: 2379)‘‘۔

حضرت ابن عباس اور عکرمہ کے اقوال سے ’’اشارۃ النص‘‘ کے طور پر روزے میں سرمہ لگانے کی ممانعت ثابت ہے اور اس کے مقابلے میں حضرت انس اور اعمش سے روزے میں سرمہ لگانے کے ’’غیرمفطر‘‘ ہونے کی تصریح ہے۔ اگر ان اقوال کو آپس میں متعارض بھی قرار دیا جائے تو جامع ترمذی میں جو روزے میں سرمہ لگانے کی اجازت کا ذکر ہے، وہ تعارض سے خالی ہے اور اس کا کوئی مزاحم نہیں ہے۔

امید ہے حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب ان سطور کا مطالعہ فرمانے کے بعد اپنے موقف پر یا تو نظر ثانی فرمائیں گے اور یا ہماری ان گزارشات کی توجیہہ فرمائیں گے۔

(از، مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن صاحب)
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-08-11), ننھا بچہ (28-08-11), عرفان مسلم (29-08-11)
جواب

Tags
فرض, پاک, پاکستان, پسند, قرآنی, لوگ, نماز, نظر, مکمل, ممکن, مجید, مسائل, آج, بچوں, بندگی, حدیث, خون, خواتین, خدا, روزہ, رمضان, سحری, عورت, عبادت, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان میں خود کش حملوں کیلئے لڑکیاں خریدی جاتی ہیں،بھارتی اخبار عارف اقبال خبریں 7 19-04-11 11:39 PM
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 06:52 AM
کشمیری لیڈروں نے آٹھ نکا تی بھارتی فارمولہ مسترد کردیا جاویداسد خبریں 0 25-09-10 11:59 PM
افغانستان میں بھارتی افواج کی تعیناتی شروع، آئندہ 4 ماہ پاکستان کیلئے خطرناک champion_pakistani خبریں 4 18-09-08 10:08 AM
پولنگ کے موقع پر سندھ کی پرائیویٹ سیکورٹی گارڈزکی تعیناتی کی درخواست مسترد عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger