واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


روٴیت ِہلال اور مطالع کا اختلاف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-08-11, 11:16 PM   #1
روٴیت ِہلال اور مطالع کا اختلاف
کنعان کنعان آن لائن ہے 28-08-11, 11:16 PM

السلام علیکم!

میرے لئے مسلک اتنا امپارٹنٹ نہیں جتنا امپارٹنٹ معلومات ھے جو کہیں سے بھی ہو میں اٹھا لیتا ہوں ایک معلوماتی دھاگہ لایا ہوں امید کرتا ہوں آپ بھی اس کا مطالعہ فرمائیں بھلہ تھوڑا تھوڑا کر کے، پسند آئے تو جزاک اللہ خیر اور نہ بھی آئے تو بھی جزاک اللہ۔


روٴیت ِہلال اور مطالع کا اختلاف


فقہ واجتہاد

مولانا ابوالسلام محمد صدیق، سرگودھا

رؤیت ِہلال کا مسئلہ ان چند مسائل میں سے ہے جن سے عامۃ المسلمین اکثر متاثر ہوتے ہیں اور علم نہ ہونے کی بنا پر اہل علم کے متعلق مختلف شبہات بھی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ رؤیت ِہلال کا مسئلہ جہاں رؤیت یا شہادت سے تعلق رکھتا ہے، وہاں اس مسئلہ کا ’قضا‘ سے بھی گہرا تعلق ہے جو شہادتیں وصول کر کے ان کے معتبر ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ مزید برآں اس مسئلے میں مسلمانوں کی اجتماعیت کی واضح رعایت بھی موجود ہے۔

اسی طرح اختلافِ مطالع کی بنا پر تمام مسلمان ایک مخصوص فاصلے تک ہی ایک رؤیت کی پابندی کرسکتے ہیں، اور یہ خواہش شرعی لحاظ سے کوئی درجہ استناد نہیں رکھتی کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان ایک ہی روزِ عید منائیں۔ جس طرح دنیا بھر میں نمازوں کا وقت ایک نہیں ہو سکتا بلکہ سورج کے طلوع و غروب کے اوقات مختلف ہونے کی وجہ ہر علاقے کے لوگوں کے اوقات قدرے مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح چاند کے طلوع وغروب میں واقعاتی فرق کی بنا پر رمضان، عید الفطر اور عید الاضحی وغیرہ میں بھی فرق لابدی امر ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی حکومتوں میں رؤیت ِہلال پر توجہ دینے کا شعور پیدا کیا جائے اورعوام کو بھی اس شرعی امر کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے ، بطورِ شاہد اپنی ذمہ داری کا اور رؤیت ہلال کی انتظامیہ تک پہنچانے کا اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر محدث میں پہلے بھی علمی مباحث شائع ہو چکے ہیں، جن کی فہرست مقالہ کے آخر میں دی گئی ہے، جبکہ زیر نظر مضمون میں بھی رؤیت ِہلال کے ان تصورات پر ایک جامع بحث موجود ہے۔
(حسن مدنی)

يَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ
(البقرہ: ۱۸۹)
آپ سے ہلالوں (چاند) کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ لوگوں کے لئے اوقات (معلوم کرنے) کاذریعہ ہیں اور حج کے لئے۔


کواکب

علم ہیئت میں یہ بات مسلمہ ہے کہ کواکب میں سے بعض سیارے ایسے ہیں جو آسمان میں گردش کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو گردش نہیں کرتے بلکہ اپنی جگہ پر ثابت ہیں۔ گردش کرنے والے کواکب کی تعداد سات ہے

(۱)
زحل

(۲)
مشتری

(۳)
مریخ

(۴)
شمس

(۵)
زہرہ

(۶)
عطارد

(۷)
قمر

شمس اور قمر کے ماسوا باقی پانچ کواکب کو خُنَّس ، جَوَار ، کُنَّس کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس بحث کا تعلق در اصل علم الافلاک سے ہے جس کا ہمارے موضوع سے تعلق نہیں۔ صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ علم الافلاک کے ماہرین کا یہ نظریہ ہے کہ قمر بھی دوسرے سیاروں کی طرح آسمان میں گردش کرتاہے اور ﴿کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ يَّسْبَحُوْنَ﴾ کی آیت بھی بتا رہی ہے کہ سورج چاند وغیرہ آسمان میں تیر رہے ہیں۔


ہلال اور قمر


’ہلال‘ واحد ہے أَہِلَّة کی۔ پہلی یا دوسری رات کا چاند ہو تو اسے ’ہلال‘ کہا جاتا ہے۔ ابوہیثم کا قول ہے کہ مہینہ کے آخری دو رات کے چاند کو بھی ’ہلال‘ کہا جاتا ہے جبکہ نصف ماہ کے چاند پر’ قمر‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔


ہلال نام کی وجہ


لہٰذا پہلی اور دوسری تاریخ کے چاند کو ’ہلال‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ چاند نظر آنے پر بغرضِ اطلاع لوگ آواز بلند کرتے ہیں۔ ہلال کا لغوی معنی آواز بلند کرنا ہے، کہا جاتا ہے

استهلّ الصبی حين يولد
یعنی پیدائش کے وقت بچہ نے آواز بلند کی


یوم

رات دن کے مجموعہ کا نام ’یوم‘ ہے۔ عربوں کے نزدیک یہ دورانیہ غروبِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ہے۔ اہل روم اور اہل فارس کے نزدیک طلوعِ آفتاب سے طلوعِ آفتاب تک ہے۔ فرق یہ ہے کہ عربوں کے نزدیک رات پہلے اور دن بعد میں اور اہل روم، اور اہل فارس کے نزدیک دن پہلے اور رات بعد میں آتی ہے۔


چاند کا بتدریج بڑا ہونا اورکم ہونا


پہلی تاریخ کو چاند چھوٹا ہوتا ہے، روشنی بھی کم ہوتی ہے۔ پھر بتدریج بڑا ہوتا جاتا اور روشنی بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ چودھویں رات تک چاند تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ پھر پندرھویں رات سے گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ آخر میں کھجور کی ٹہنی جیسا ہو جاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاه مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِيْمِ
(سورة یٰسین : ۳۹)
چاند کے لئے اس کی منزلوں کا ہم نے اندازہ لگایا ہے ۔ حتی کہ وہ اپنی منزل طے کرتا ہوا کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو جاتا ہے

چاند کا یہ چکر ایک مہینہ میں پورا ہوتا ہے اور سال میں بارہ چکر ہوتے ہیں۔

آیت کا شانِ نزول
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی اور ثعلبہ رضی اللہ تعالی دونوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ شروع میں جب چاند نکلتا ہے تو دھاگے کی طرح باریک ہوتا ہے۔ پھر بتدریج بڑھتے بڑھتے گول ہو جاتا ہے، پھر بتدریج گھٹتا گھٹتا پہلی حالت پر لوٹ آتا ہے۔ سورج کی طرح یہ ایک حالت پر کیوں نہیں رہتا؟

جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی

يَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ
یعنی چاند کے بڑا چھوٹا ہونے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے یہ لوگوں کیلئے اور حج کے لئے اوقات ہیں

یہ آیت بتاتی ہے کہ چاند کا بڑا چھوٹا ہونا، اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔


مہینے کے دن


قمری مہینے تیس دن کے بھی ہوتے ہیں اور اُنتیس کے بھی، لیکن زیادہ انتیس دن کے ہوتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں

ما صُمتُ مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم تسعا وعشرين أکثر مما صُمنا ثلثين
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جتنے ماہ روزے رکھے ہیں، ان میں انتیس دن والے مہینے تیس دن والے مہینوں کی نسبت زیادہ تھے۔
(ترمذی)


بخاری کی ایک اور روایت میں ہے
الشهر هکذا وهکذا وخنس الإبهام فی الثالثة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے (دس دن)، اتنے (دس دن) دن کا ہے۔ تیسری مرتبہ انگوٹھے کو نیچے کرلیا یعنی نو دن ۔ کل انتیس دن کا ہے۔

اس سے یا تو یہ بتانا مقصود تھا کہ ماہِ رواں انتیس دن کا ہے یا یہ کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں الفاظ یوں ہیں

الشهر يکون تسعة وعشرين ويکون ثلاثين
مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے او رتیس دن کا بھی۔


اُنتیس دن والے مہینے


حافظ ابن حجر نے بعض حفاظ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو برس روزے رکھے ہیں، ان میں دو رمضان تیس تیس دن کے تھے… امام نووی نے بیان کیا ہے کہ پے در پے دو، تین یا حد چار مہینے انتیس دن کے ہوتے ہیں۔ مسلسل چار سے زیادہ مہینے انتیس دن کے نہیں ہوتے۔


قمری مہینے طبعی اور فطرتی ہیں


قمری مہینے کا آغاز اور اس کی انتہا روٴیت ِہلال پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قمری مہینے طبعی اور فطرتی ہیں۔ مہینہ کا انتیس یا تیس دن کا ہونا، یہ اختلاف بھی طبعی ہے۔


حسی علامت


چاند بذات ِخود تاریخ اور مہینہ کے لئے حسی علامت ہے۔ ہر واقف اور ناواقف چاند دیکھ کر تاریخ اور مہینہ کی ابتدا اور انتہا کا اندازہ بآسانی لگا سکتا ہے۔ اس کے برعکس سورج، مہینہ اور سال معلوم کرنے کی غیرحسی علامت ہے۔ اس سے سال اور مہینہ کا اندازہ ایک باخبر انسان تو حساب سے کرسکتا ہے مگر جو شخص ناواقف اور بے علم ہے، اس کے لئے مہینہ کی تاریخ اور سال سے خود بخود باخبر ہونا ایک مشکل امر ہے، اس لئے قیاس یہ چاہتا ہے کہ ابتداے آفرینش میں لوگ چاند ہی کے مہینے جانتے تھے اور بارہ مہینوں کا سال شمار کرتے تھے۔ چنانچہ تقویم تاریخی کے مصنّفین میں سے بعض نے لکھا ہے

قمری سال حقیقی ہے یعنی چاند کے بارہ مرتبہ عروج و زوال کو ایک سال شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں موسم کا کوئی لحاظ نہیں، کبھی یہ سال سردیوں سے شروع ہوتا ہے اورکبھی گرمیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی خزاں میں۔ چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے، وہ دائرہ جس پر چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے، بالکل گول نہیں ہے۔ اس لئے چاند کبھی زمین سے قریب تر ہوتا ہے اورکبھی بعید تر۔ اسی طرح چاند کی رفتار ہر جگہ برابر نہیں ہوتی، کبھی تیز ہوتی ہے کبھی سست۔ اس لئے زمین کے گرد چاند کا چکر کبھی تیس دن میں مکمل ہوتا ہے اور کبھی انتیس دن میں۔ اسی طرح چاند کے مہینے انتیس دن کے ہوتے ہیں اور کبھی تیس دن کے۔ زمین کے گرد چاند کے بارہ چکروں کی مجموعی مدت قریباً تین سو چون دن ہوتی ہے، اس لئے ہر قمری سال اتنی ہی مدت کا ہوتا ہے۔ اس میں کسی حسابی کے زحمت اُٹھانے کی ضرورت نہیں۔ کسی ایک مقام پر تیرہویں بار چاند اس سے کم مدت میں نظر آہی نہیں سکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ مطلع غبار آلود ہو یا بادل چھائے ہوں تو چاندوقت پر نظر نہ آئے لیکن یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ اس سے کم مدت میں چاند نظر آجائے۔
(تقویم تاریخی ، مرتبہ: ہاشمی)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ کِتَابِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ
(التوبہ:۳۷)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس دن سے مقرر ہیں جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاہے۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں۔ یہی دین قیم ہے۔


روٴیت اور شہادت

اَحادیث میں یہ بات واضح ہے کہ روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا انحصار روٴیت ِہلال پر ہے۔ دیکھے بغیر نہ روزہ رکھا جائے اور نہ افطار یعنی ترک کیا جائے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی سے مروی ہے

صوموا لروٴيته وأفطروا لروٴيته فان غُمّٰی عليکم فأکملوا عدة شعبان ثلاثين
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر چاند پوشیدہ ہوجائے تو شعبان کی گنتی تیس دن پوری کرو۔
(منتقیٰ)

اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں

ليس المراد به أنه لا يصومه أحد حتی يراه بنفسه
یعنی اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کوئی شخص خود چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھے بلکہ اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ لا یصومہ أحد حتی یراہ أویراہ غیرہ یعنی کوئی شخص روزہ نہ رکھے جب تک خود چاند نہ دیکھ لے یا کوئی دوسرا معتبر آدمی چاند نہ دیکھ لے۔ اگر حدیث کا یہ مفہوم ہو کہ جو شخص چاند دیکھے وہی روزہ رکھے تو نابینا یا وہ شخص جو نگاہ کی کمزوری کی بنا پر چاند نہیں دیکھ سکتا، وہ روزہ رکھنے کا مکلف نہیں ہوگا جبکہ ﴿ فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْه ﴾ والی آیت کا تقاضا ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ “

مختصر یہ کہ جن کو چاند نظر نہ آئے، شہادت ملنے سے روزہ اور اِفطار ان پر لازم ہو جاتا ہے۔ اگر مطلع ابر آلود ہو یا غبار کی وجہ سے چاند نظر نہیں آیا تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کی ہدایت ہے جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے فأکملوا عدة شعبان ثلاثين


نصابِ شہادت


ہلالِ رمضان کی شہادت : جمہور ائمہ کا قول ہے کہ رمضان کے بارے میں ایک عادل مسلمان کی شہادت کافی ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی شہادت پر روزہ رکھا اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ نیز ابن عمر رضی اللہ تعالی نے بیان کیا کہ فأخبرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنی رأيته فصام وأمرالناس بصيامه
(ابوداود)
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے تو آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
( اس حدیث کو ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے )

(1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بیان کیا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تو کلمہ توحید اور رسالت کی شہادت دیتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا ، آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے کہ لوگ روزہ رکھیں
(منتقیٰ: ج ۴/ ص۱۸۴)
اس حدیث کو ابن حبان اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے۔

ہر دو احادیث سے ظاہر ہے کہ رمضان کے بارے میں ایک مسلمان عادل کی شہادت کافی ہے۔ امام نووی نے بھی اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔


ہلالِ عید کی شہادت


ہلالِ عید کی شہادت کے لئے کم از کم دو گواہوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ آخر رمضان میں ہلالِ عید کے متعلق جھگڑا ہوا۔ دو اعرابی آئے اور انہوں نے شہادت دی کہ بخدا ہم نے کل عید کا چاند دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ روزہ افطار کر لیں اور صبح عید گاہ کی طرف نکلیں۔

عید کے بارے میں کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں جس میں ایک شہادت کا ذکر ہو۔
نصاب شہادتِ رمضان کے بارے میں اعتراض :امام مالک ، لیث ، اوزاعی ، ثوری اور امام شافعی سے مروی (ایک قول میں) ہے کہ ہلالِ رمضان کے لئے ایک شہادت کافی نہیں بلکہ دو کی شہادت کا اعتبار ہو گا۔ ان ائمہ نے اپنے موقف کے بارے میں جو احادیث بیان کی ہیں، ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو عبدالرحمن بن زید سے مروی ہے۔ الفاظ یہ ہیں:

فإن شهد شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ فصوموا واَفطروا
(مسند احمد)
اگر دو مسلمان شہادت دیں تو روزہ رکھو اور افطار کرو

دوسری حدیث وہ ہے جو امیر مکہ حارث بن حاطب سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ حسب ِذیل ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

فإن لم نره وشهد شاهد عدل نَسَکْنَا بشهادتهما
(ابوداود)
اگر ہم چاند نہ دیکھ پائیں اور دو عادل گواہ شہادت دے دیں تو ان کی شہادت پر شرعی احکام یعنی روزہ/ عید ادا کریں گے

اور دارقطنی نے روایت کر کے اس کی سند کو متصل صحیح کہا
(منتقی: ۲/۱۵۹)

بظاہر ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلالِ رمضان کے لئے بھی کم ا زکم دو گواہ ہوں۔ جن احادیث میں ایک گواہ کا ذکر ہے، ان میں دوسرے گواہ کی نفی نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے پہلے کسی دوسرے شخص سے بھی روٴیت ِہلال کا علم ہوگیا ہو۔

جواب
اس اعتراض کا ابن مبارک او رامام احمد بن حنبل نے یہ جواب دیا ہے کہ جن احادیث میں دو گواہوں کی تصریح ہے، ان سے زیادہ سے زیادہ ایک شہادت سے ممانعت بالمفہوم ثابت ہوتی ہے۔ مگر ابن عمر اور ابن عباس ہر دو کی احادیث میں ایک شہادت کی قبولیت کا بالمنطوق بیان ہے اور مسلمہ اُصول ہے کہ دلالت ِ مفہوم سے دلالت ِ منطوق راجح ہے۔ اس لئے یہی قول درست ہے کہ روٴیت ِہلال کے بارے میں ایک مسلمان عادل کی شہادت کافی ہے۔

پھر یہ احتمال پیدا کرنا کہ کسی دوسرے شخص سے روٴیت ِہلال کا علم ہو گیا ہو، شریعت کے بیشتر احکام کو معطل کر دینے کے مترادف ہے۔ البتہ عبدالرحمن اور امیر مکہ کی احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہلالِ عید کے لئے بہرحال کم از کم دو گواہوں کی ضرورت ہے۔


ہلالِ شعبان کی نگرانی


رمضان کی یکم تاریخ معلوم کرنے کے لئے ہلالِ شعبان کی نگرانی اور اس کا تحفظ کیا جائے۔ بروایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

احصوا ہلال شعبان لرمضان
(ترمذی: رقم ۶۸۷)
رمضان کے لئے شعبان کے ہلال کا احاطہ کرو۔


مشکوک دن کا روزہ


چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ شعبان کی تیسویں تاریخ ہے یا نہیں؟ بعض لوگ احتیاط کے طور پر شکی روزہ رکھتے ہیں جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ حضرت عمار نے فرمایا

من صام اليوم الذي شک فيه فقد عصی أبا القاسم
(دارقطنی : ۲/۱۵۷)
جس شخص نے شکی دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم کی نافرمانی کی۔


شهرا عيد لاينقصان

یہ حدیث کے الفاظ ہیں۔ بروایت ِ ابوبکرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

شهرا عيد لاينقصان: رمضان وذوالحجة
(صحیح سنن الترمذی: رقم ۵۵۸)
عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے، ایک رمضان اور دوسرا ذوالحج

امام احمد کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک سال میں رمضان اور ذوالحج کا مہینہ دونوں ایک ساتھ کم نہیں ہوتے، اگر ایک انتیس دن کا ہے تو دوسرا تیس دن کا ہوگا۔

امام اسحق نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ

اگر مہینہ انتیس دن کا ہوا تو بھی اس پر لفظ تمام کا اطلاق ہو گا، اسے نقص کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا۔

یعنی امام اسحق کے قول کے مطابق دونوں مہینے ایک ساتھ کم ہوسکتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

ابن حبان نے اس حدیث کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ

فضیلت میں دونوں مہینے برابر ہیں، خواہ ایک مہینہ انتیس دن کا ہو، دوسرا مہینہ تیس دن کا۔

امام نووی کے نزدیک راجح معنی یہ ہے کہ ”ان کے اجر میں کمی واقع نہیں ہوگی“۔ حدیث میں ہے جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور حصولِ ثواب کی غرض سے رکھتا ہے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یہ حدیث اپنے عموم کے اعتبار سے اس مہینہ کو بھی شامل ہے جو تیس دن کا ہے اور اس کو بھی شامل ہے جو انتیس دن کا ہو۔ فضیلت ہر دو کی یکساں ہے۔


(محدث لائبریری)
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 133
Reply With Quote
پرانا 28-08-11, 11:19 PM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


ٹیلیفون، ریڈیو، تار کے ذریعے شہادت


ٹیلیفون، ریڈیو اور تار یہ سب خبر رسانی کے جدید ذرائع ہیں۔ ان کے بارے میں ہماری تحقیق یہ ہے کہ جو خبر ٹیلیفون، ریڈیو کے ذریعہ موصول ہو اور یہ معلوم ہو جائے کہ خبر دہندہ مسلمان اور عادل یعنی متدین ہے تو اس طرح ملنے والی خبر کا اعتبار ہوگا۔ اگر یہ پتہ نہ چل سکے تو پھر ایسی خبر کا اعتبار نہ ہوگا۔ اس لیے کہ شریعت نے گواہ کے لئے اسلام اور اس کے عادل ہونے کی شرط لگائی ہے جیسا کہ احادیث میں بیان ہو چکا ہے۔


تارِ برقی

کے ذریعہ آنے والی خبر کا اعتبار اس لئے نہیں کہ ایک تو اس میں آواز کو کوئی دخل نہیں کہ اس سے خبر دہندہ کی پہچان ہو سکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ درمیان میں کئی واسطے پڑتے ہیں جن کے متعلق یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم، عادل ہیں یا غیر عادل، البتہ اگرمختلف مقامات سے متعدد تاروں کے ذریعہ خبر آئے جو تواتر کی حد کو پہنچ جائے تو اس وقت واسطہ کیسا ہی ہو، خبر معتبر ہوگی۔ تواتر کے لئے کوئی عدد معین نہیں بلکہ جتنے عدد سے علم یقین حاصل ہوجائے، وہی تواتر ہے۔


مطالع کا اختلاف


مطالع کا اختلاف ایک فطرتی اور طبعی شے ہے اس لئے کہ سورج اور چاند کے طلوع کا محل آسمان ہے جو گول ہے۔ امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں

﴿وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴾ (الرحمٰن) فقد قيل: هو من الحساب وقيل: بحسبان کحسبان الرحی وهو دوران الفلک فإن هذا لاخلاف فيه، بل قد دل الکتاب والسنة واجمع علماء الأمة علی مثل ما عليه أهل المعرفة من أهل الحساب من أن الأفلاک مستديرة لا مسطحة“
(فتاویٰ ابن تیمیہ: ج۲۵ ، ص۱۴۲)
والشمس والقمر بحسبان آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ بعض کے نزدیک حُسبان حساب سے ہے اور بعض کا قول ہے چکی کے گھومنے کو کہتے ہیں۔ حسبان دورانِ فلک کا نام ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ کتاب وسنت اور امت کے علما کا اجماع سب اسی بات کی تائید کرتے ہیں جو بات آج کے ماہرین نجوم کہہ رہے ہیں کہ افلاک گیند کی طرح گول ہیں، ان کی سطح برابر نہیں ہے۔“

نواب صدیق حسن خان اسی مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں

والأرض جسم کالکرة وقيل ليست بکريه الشکل وهي واقفة فی الهواء بجميع جبالها وبحارها وعامرها وغامرها والهواء محيط بها من جميع جهاتها کالمخ فی البيضة وبعدها من السماء متساومن جميع الجهات
(ذکر صورة الا ص۶۷)
زمین جسم ہے جوگیند کی طرح گول ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گیند کی شکل پر نہیں۔ وہ اپنے تمام پہاڑوں، سمندروں، آباد اور بنجرزمینوں سمیت ہوا میں ٹھہری ہوئی ہے اور ہوا اس کی تمام سمتوں کو اس طرح گھیرے ہوئے ہے جس طرح انڈے کی سفیدی زردی کو محیط ہوتی ہے۔ اور آسمان سے اس کی مسافت تمام سمتوں سے برابر ہے۔اس حالت میں سورج اور چاند کی روشنی بیک وقت زمین کو منور نہیں کرسکتی بلکہ زمین کا جو قطعہ سورج اور چاند کے سامنے ہوگا، وہ پہلے روشن ہوگا۔ اس لئے یہ حقیقت ہے کہ سورج اور چاند کے مطالع میں اختلاف ایک فطرتی اور طبعی ہے۔


ایک علاقہ کی روٴیت، دوسرے علاقہ کے لئے


روٴیت ہلال کے متعلق جتنے پیش آمدہ مسائل ہیں، ان میں یہ مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک علاقہ یا ایک ملک کی روٴیت دوسرے علاقہ یا ملک کے لئے معتبر ہے یا نہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے حسب ِذیل امور پر غور کرنا ضروری ہے

۱۔
ملک ایک ہے، اس کے کسی ایک شہر میں دیکھا ہوا چاند تمام ملک کے لئے کافی ہے۔

۲۔
ایک ملک کی روٴیت دوسرے ملک کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

۳۔
مطالع کا اختلاف، روٴیت اور عدم روٴیت میں کس حد تک موٴثر ہے۔


پہلی صورت

پہلی صورت میں عکرمہ ، قاسم ، سالم ، اسحق کا قول ہے کہ ملک کے ایک شہر میں دیکھا ہوا چاند اس ملک کے دوسرے شہر کے لئے کافی نہیں۔ امام ترمذی نے بعض اہل علم کا یہ مذہب نقل کیا ہے کہ إن لکل بلد روٴیتھم یعنی ہر شہر کے لئے ان کے اہالیان کی روٴیت کارآمد ہے۔ امام ترمذی نے انہی الفاظ سے باب باندھا ہے۔ ان ائمہ نے جس حدیث سے اپنے اس نظریہ کا استدلال کیا ہے وہ کریب تابعی سے مروی حدیث ہے جس کو بخاری اور مسلم کے سوا اَئمہ کی ایک جماعت نے تخریج کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ حسب ِذیل ہیں

عن کريب أن أم الفضل بعثته إلی معاوية بالشام فقال فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل علیّ رمضان وأنا بالشام فرأيت الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة فی اٰخر الشهر فسألنی عبدالله بن عباس ثم ذکر الهلال فقال متی رأيتم الهلال فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أنت رأيته؟ فقلت نعم وراٰه الناس وصاموا وصام معاوية فقال لکنا رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتی فکمّل ثلاثين أونراه فقلت ألا تکتفی بروٴية معاوية وصيامه؟ فقال: لا هکذا أمرنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم
(صحیح سنن الترمذی : رقم ۵۵۹/ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار)
کریب تابعی سے روایت ہے کہ اُمّ الفضل نے مجھے معاویہ کی طرف ملک شام میں (کسی کام کے لئے) بھیجا، میں نے اس کام کو سر انجام دیا۔ میں ابھی شام میں ہی تھا کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا اور جمعہ کی رات کو میں نے خود چاند دیکھا۔ پھر مہینہ کے آخر میں مدینہ واپس آیا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی نے مجھ سے (وہاں کا حال) پوچھا۔ اس کے بعد انہوں نے چاند کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ہے ۔ پوچھا : کیا تو نے خود دیکھا ہے، میں نے کہا: ہاں میں نے خود دیکھا ہے اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا ہے؟ انہوں نے روزہ رکھا اور معاویہ نے بھی روزہ رکھا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی نے کہا کہ ہم نے تو ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم تو روزہ رکھیں گے حتیٰ کہ تیس روزے پورے ہو جائیں یا اس سے پہلے چاند دیکھ لیں۔ میں نے کہا کہ آپ معاویہ کی رؤیت او ران کے روزوں پر اکتفا نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں کیونکہ رسول خدا علیہ صلی اللہ نے ہم کو اس طرح حکم دیا ہے۔

علامہ عبد الرحمن مبارکپوری نے لکھا ہے
هذا بظاهره يدل علی أن لکل بلد روٴيتهم ولا تکفی روية أهل بلد لأهل بلد اٰخر
(تحفة الاحوذی: ج۲، ص۳۵)
یہ حدیث بظاہر دلالت کرتی ہے کہ ہر علاقہ کے لئے ان کے باشندگان کی روایت ہے، اہل بلد کی روٴیت دوسرے اہل علاقہ کے لئے کفایت نہیں کرتی۔

بعض ائمہ نے کریب کی اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ روٴیت کے بارے میں ایک شہادت معتبر نہیں، اسی لئے تو ابن عباس نے کریب کی شہادت پر عمل نہیں کیا مگر ان کا یہ استدلال اس لئے درست نہیں کہ حدیث سے جو بات مترشح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ روٴیت کا حکم بعید کے حق میں ثابت نہیں ہوتا۔ اس بنا پر ابن عباس نے کریب کی شہادت کو قبول نہیں کیا۔
حدیث ِکریب اور مختلف مذاہب :ایک شہر کی روٴیت دوسرے شہر کے لئے معتبر نہیں
(نووی)

اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس میں علماء کے مختلف مذاہب ہیں

۱۔
ہر بلد کی روٴیت انہی کے لئے ہے جووہاں کے باشندے ہیں، دوسرے بلد کے لئے نہیں ہے۔

۲۔
جب ایک بلد میں چاند نظر آجائے تو اس کی روٴیت تمام بلاد کے لئے لازم ہوتی ہے۔ مالکیہ کے نزدیک یہ مشہور مذہب ہے۔

۳۔
ملک مختلف ہیں تو ایک ملک کی روٴیت دوسرے ملک کے لئے کافی نہیں۔

۴۔
جن شہروں میں چاند کے طلوع ہونے کا امکان ہے، صرف بادل یا غبار چاند کے خفا کا باعث ہے، ایسے تمام شہروں میں سے ایک شہر میں دیکھا ہوا چاند سب شہروں میں معتبر ہے، ان کے علاوہ دیگر شہروں میں طلوعِ چاند کا حکم نافذ نہیں ہوگا، یہ قول سرخسی کا ہے۔

۵۔
ابن ماجشون کا قول ہے کہ اہل بلد کی روٴیت دوسرے بلد کے لئے کفایت نہیں کرتی۔ البتہ اگر وقت کا حاکم کسی ثبوت کی بنا پر روٴیت ِہلال کا اعلان کر دے، اس لئے کہ اس کے حق میں جملہ بلاد ایک ہی بلد کے حکم میں ہیں، اور اس لئے بھی کہ ا س کا حکم تمام ملک میں نافذ ہے تو ایسی روٴیت جملہ بلاد پرموٴثر ہوگی۔

۶۔
اگر علاقہ کی ایک جہت پہاڑی ہے۔ دوسری میدانی تو اس صورت میں ایک جہت کی روٴیت دوسری جہت کے لئے کافی نہیں۔


تبصرہ:

کریب کی اس حدیث سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ ایک شہر کی روٴیت اسی شہر کے باشندگان کے لئے ہے، دوسرے شہروں کے لئے نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن شہروں کے درمیان اتنی مسافت ہو جس قدر مدینہ اور شام کے درمیان ہے تو ان میں سے ایک شہر کی روٴیت دوسرے شہر کے لئے کافی نہیں۔ اگر اس سے کم مسافت ہو تو اس حدیث کی رو سے ایسے شہروں میں ایک شہر کی روٴیت دوسرے شہروں کے لئے کافی ہونے میں ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔ پھر اس معنی کی بنا صرف ابن عباس کے اجتہاد پر ہے اور یہ معنی اسی وقت قابل اعتماد ہوسکتا ہے جب اجتہاد کو حجت تسلیم کرلیا جائے اور یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اُمتی کا اجتہاد حجت نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ جہاں اس میں صواب کا امکان ہے، وہاں خطا کا بھی احتمال ہے۔


حدیث ِ کریب اور امام شوکانی

امام شوکانی ان تمام اقوال کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کی دلیل کریب کی مذکورہ بالاحدیث ہے جس میں ہے کہ ابن عباس نے اہل شام کی روٴیت پرعمل نہیں کیا اور انہوں نے فرمایا: ھکذا أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی رسالت ِمآب نے ہم کو اسی طرح حکم دیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ ایک علاقہ کے لوگوں کے لئے دوسرے علاقہ کی رؤیت پر عمل کرنا ضروری نہیں۔

لیکن امام شوکانی تبصرہ فرماتے ہیں کہ کریب کی حدیث جس سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک بلد کی روٴیت دوسرے بلد کے لئے معتبر نہیں، دراصل ابن عباس کا اپنا اجتہاد ہے جسے حجت قرار نہیں دیا سکتا۔ حجت تو مرفوع حدیث ہوتی ہے اور ابن عباس نے جو یہ کہا ہے کہ ھکذا أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو اس ھکذا کا مشار الیہ ان کا وہ قول ہے جس میں انہوں نے بیان کیا

فلانزال نصوم حتی نکمل ثلاثين
ہم روزے رکھتے ہی رہیں گے حتیٰ کہ تیس پورے کریں“۔

اورابن عباس کا یہ قول دراصل رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی روشنی میں ہے جس کو بخاری اور مسلم نے ان الفاظ سے روایت کیا ہے

لاتصوموا حتی تروا لهلال ولا تفطروه حتی تروه فإن غم عليکم فأکملوا العدة ثلاثين یعنی
چاند دیکھے بغیر نہ روزے رکھو او رنہ دیکھے بغیر افطار کرو۔ اگر بادل یا غبار کی وجہ سے چاند پوشیدہ ہو تو پھر تیس روزے پورے کرو

امام شوکانی فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم کسی ایک علاقہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اس حکم کا مخاطب ہر وہ مسلمان ہے جو اس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لئے حدیث سے یہ استدلال کرنا زیادہ واضح ہے کہ ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے اہل بلد کے لئے معتبر ہے۔ بہ نسبت اس استدلال کے کہ ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے اہل بلد کے لئے قابل قبول نہیں۔ امام شوکانی نے اس کی یہ وجہ بھی بیان کی ہے کہ جب کسی علاقہ کے لوگوں نے چاند دیکھا ہے تو گویا مسلمانوں نے چاند دیکھا ہے چنانچہ جو بات چاند دیکھنے والے مسلمانوں پر لازم آتی ہے، وہی دوسرے مسلمانوں پر لازم آتی ہے۔

اگر ابن عباس کے کلام میں اشارہ کو اس طرف متوجہ کر لیا جائے کہ ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے اہل بلد کے لئے قابل عمل نہیں تو پھر اس مفہوم کو عقلی دلیل کے ساتھ مقید کرنا پڑے گا۔ یعنی اگر ہر دو شہروں کے درمیان اتنی لمبی مسافت ہے کہ اس سے ہر دو شہروں کا مطلع اتنا مختلف ہو جاتا ہے کہ اس سے تاریخ بدل جانے کا احتمال ہے تو اس صورت میں ایک بلد کی روٴیت دوسرے بلد کے لئے کافی نہیں۔


اہل شام کی روٴیت


اگر یہ کہا جائے کہ ابن عباس نے اہل شام کی روٴیت پر عمل نہیں کیا حالانکہ شام اور مدینہ کے درمیان اتنا بُعد نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے درمیانی مطلع کا کوئی زیادہ اختلاف ہو۔ تو جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابن عباس کا حضرت معاویہ کی روٴیت اور ان کے روزوں پر اکتفا نہ کرنا، ان کا اجتہادی عمل ہے جو مرفوع حدیث کے مقابلہ میں حجت نہیں بن سکتا۔ نیز اس حقیقت سے انکار نہیں ہوسکتا کہ جمیع احکام شرعیہ میں قرب و بُعد کے لحاظ کے باوجود لوگ ایک دوسرے کی شہادت کو قبول کرتے ہیں۔ روٴیت ہلال کا مسئلہ بھی احکام شرعیہ میں داخل ہے۔ اس کے قابل اعتماد ہونے میں کون سی رکاوٹ ہے۔

امام شوکانی بحث کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں
اگر ھکذا کا مشار الیہ ابن عباس کے اس اجتہاد کو قرار دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن شہروں کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی مسافت شام اور مدینہ کے درمیان ہے تو ان میں ایک شہر کی روٴیت دوسرے شہر کے لئے کافی نہیں ہوگی۔ مگر جن شہروں کی مسافت اس سے کم ہے، ان پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت معاویہ کی روٴیت پرجو عمل نہیں کیا، اس میں کوئی اور حکمت ہوگی جس کا ہمیں علم نہیں۔

امام شوکانی کا فیصلہ : روٴیت ِہلال کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے امام شوکانی لکھتے ہیں

والذی ينبغی اعتماده هو ما ذهب إليه المالکية وجماعة من الزيدية واختاره المهدي منهم وحکاه القرطبي عن شيوخه أنه إذا راٰه أهل بلد لزم أهل البلاد کلها
(نیل الاوطار: ج۴، ص۱۹۴)
روٴیت ِہلال کے بارے میں قابل اعتماد وہی بات ہے جو مالکیہ اور زیدیہ کی ایک جماعت نے اختیار کی ہے۔ مہدی نے ان سے اور قرطبی نے اپنے شیوخ سے نقل کیا ہے کہ جب ایک اہل بلد چاند کو دیکھ لیں تو تمام اہل بلاد پر اس کا اعتبار لازم ہوجاتا ہے


شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی رائے

روٴیت ِہلال کی بحث کے وقت ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ الاسلام نے فرمایا کہ

جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک بلد کی روٴیت جمیع بلاد کے لئے نہیں ہے جیسا کہ اکثر اصحابِ شافعی کا قول ہے کہ مسافت ِقصر کی حد تک بلاد میں، ایک بلد کی روٴیت دوسرے بلاد کے لئے کافی ہے اور جو بلاد مسافت ِقصر کی حد سے باہر ہیں، ان کے لئے کافی نہیں۔ اور ان میں سے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک ملک کی روٴیت دوسرے ملک کے لئے کافی نہیں۔ انہوں نے ہر دو نظریوں کو ضعیف قرار دیا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ طلوعِ ہلال کا مسافت ِقصر سے کوئی تعلق نہیں اور دو ملکوں کا الگ الگ ہونا بھی ایک دوسرے کے لئے روٴیت کے ناکافی ہونے کا باعث نہیں۔

دوسری وجہ
ان ہر دو نظریوں کے غلط ہونے کی جو دوسری وجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر روٴیت ہلال کے لئے مسافت ِقصر کو یا ملک کے مختلف ہونے کو حد تصور کرلیا جائے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جو شخص مسافت قصر کی حد کے اندر یا ملک کے آخری کنارہ پر ہوگا، وہ توروزہ رکھنے اور عید کرنے کا پابندہوگا لیکن جو شخص مسافت ِقصر سے تھوڑے فاصلے پر ہے یا دوسرے ملک کے آخری کنارے پر ہے جو اس ملک سے متصل ہے، وہ روزہ رکھنے اور عید کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔ تو اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں

وهذا ليس من دين المسلمين
(فتاویٰ ابن تیمیہ: ج۲۵/ ص۱۰۵)
یہ صورتِ حال مسلمانوں کے دین میں شمار نہیں ہوتی“۔

چنانچہ اس بارے میں درست بات وہی ہے جس کا پتہ یہ حدیث بتاتی ہے

صومکم يوم تصومون إفطارکم يوم تفطرون وأضحاکم يوم تضحونيعنی
تمہارا روزہ اسی دن ہے جب تم سب روزہ رکھتے ہوں، تمہارا افطار اسی دن ہے جب تم سب افطار کرتے ہو۔ اور قربانی تمہاری اس دن ہے جب تم سب قربانی کرتے ہو۔ پس جب کوئی شخص شعبان کی تیسویں رات کو روٴیت ِہلال کی شہادت کسی جگہ سے دے دے، وہ جگہ قریب ہو یا بعید تو روزہ سب پر واجب ہو جاتا ہے۔

خلاصہٴ کلام بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے لکھا ہے کہ جس شخص کو روٴیت ِہلال کی خبر ایسے وقت میں ملے کہ اس میں روزہ یا عید یا قربانی ادا کی جاسکتی ہو توبلاشبہ اس شہادت پر اعتبار کرنا واجب ہے، آثارِ سلف سے یہ بات ثابت ہے۔


عقل اور شرع کی مخالفت

جو شخص روٴیت ِہلال کے بارے میں قصر مسافت یا ملک کے مختلف ہونے کی قید لگاتا ہے، اس کا یہ قول عقل کے بھی خلاف ہے اور شرع کے بھی ۔

بروایت ِابوہریرہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحی يوم تضحون
(صحیح سنن ترمذی: ۵۶۱)
کہ ”جس دن تم روزہ رکھتے ہو (اللہ کے نزدیک) وہی روزہ ہے۔ جس دن افطار کرتے ہو، وہی افطار ہے اور جس دن قربانی کرتے ہو وہی قربانی ہے

اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا اور اس کو غریب حسن کہا ہے۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کا یہ معنی بیان کیا کہ شہادت کی بنا پر اگر تمام مسلمان یا ان کی اکثریت روٴیت ِہلال کے فیصلہ پرمتفق ہوجائے تو باقی لوگوں کو ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے، وہ ان کے ساتھ ہی روزہ رکھیں، اور ساتھ نمازِ عید ادا کریں۔

محمد بن حسن شیبانی نے بھی اس حدیث کا یہی معنی بیان کیا ہے کہ روٴیت ِہلال کے بارے میں منفرد آدمی جماعت کے تابع ہے۔
(تحفة الاحوذی)

شیخ الاسلام سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص اکیلا چاند دیکھتا ہے کیا وہ اپنی روٴیت کی بنا پر روزہ رکھے اور افطار کرے یا لوگوں کے ساتھ روزہ اور عید ادا کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس بارے میں تین قول ہیں

ایک قول یہ ہے کہ وہ روزہ رکھے اور افطار کرے مگر پوشیدہ کرے، یہ امام شافعی کا مذہب ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ روزہ رکھے اور نمازِ عید ادا نہ کرے، یہ مذہب امام احمد ، مالک اور امام ابوحنیفہ کا ہے۔

تیسرا قول یہ ہے کہ روزہ بھی لوگوں کے ساتھ رکھے اور نمازِ عید بھی لوگوں کے ساتھ پڑھے۔

شیخ الاسلام نے تیسرے قول کو الصوم یوم تصومون والی حدیث کی روشنی میں ترجیح دی ہے کہ روزہ وہی ہے جس دن تم روزہ رکھتے ہو۔ افطار اور قربانی بھی وہی ہے جس دن تم افطا راور قربانی کرتے ہو۔ شیخ الاسلام نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ شہادت ملنے پر تمام مسلمانوں کو روزہ اور نمازِ عید ادا کرنی چاہئے۔
(فتاویٰ ابن تیمیہ: ج۲۵، ص۱۱۴)

شوافع میں سے بعض ائمہ کا یہ قول ہے کہ جو بلاد ایک دوسرے کے قریب ہیں، ان میں سے ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے بلد کیلئے کافی ہو جائے گی۔ اگر ان میں بُعد ہے تو اس صورت میں دو قول ہیں

ایک قول یہ ہے کہ ایسے بلاد میں سے ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے بلد کے لئے لازم نہیں۔

دوسرا قول وہ ہے جو ابوطیب اور ائمہ کی ایک جماعت کا ہے کہ جو بلاد ایک دوسرے سے دور ہیں، ان میں سے ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے بلد کیلئے کافی ہے۔ یہ قول امام شافعی کی طرف منسوب ہے۔


بُعد کی تعریف

بُعد کی تعریف کیا ہے، اس میں بھی ائمہ کے کئی اقوال ہیں۔

بعض نے مطالع کے اختلاف کو بُعد کی بنیاد قرار دیا ہے یعنی جن بلاد کے مطالع میں اختلا ف ہے، وہ ایک دوسرے سے دور شمار ہوں گے۔ عراقی علما کے نزدیک بُعد کی یہ تعریف بھی قابل اعتماد ہے۔ امام نووی نے بھی روضہ میں اس تعریف کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔

بُعد کی تعریف میں دوسرا قول یہ ہے کہ مسافت ِقصر تک جتنے بلاد ہیں وہ ایک دوسرے کے قریب ہیں اور جو اس حد مسافت سے باہر ہیں، ان پر بُعد کا اطلاق ہوتا ہے ۔یعنی وہ ایک دوسرے سے دورشمار ہوں گے، یہ قول امام بغوی کا ہے۔ رافعی نے صغیر میں اس کو صحیح کہا ہے۔
(تحفة الاحوذی: ج۲ ص۳۶)


خلاصہ

تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے

۱۔
چاند کا چھوٹا بڑا ہونا لوگوں کے لئے اوقات اور حج کا وقت معلوم کرنے کی علامت ہے۔

۲۔
رمضان کی ابتدا اور اس کی انتہا روٴیت ِ ہلال یا شہادت پر مبنی ہے۔

۳۔ مطالع کا اختلاف ایک بدیہی اور فطری امر ہے۔

۴۔ ہلالِ رمضان کے لئے ایک مسلمان کی شہادت اور ہلالِ شوال (عید) کے لئے کم از کم دو مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے۔

۵۔
رمضان کی خاطر ہلالِ شعبان کا تحفظ ایک ضروری امر ہے۔

۶۔
ریڈیو، ٹیلیفون، تار اورخبررسانی کے دیگر ذرائع سے ملنے والی خبر قابل اعتبار ہے۔ بشرطیکہ یہ معلوم ہو کہ خبردہندہ مسلمان ہے …اور تار کے ذریعہ پہنچنے والی خبر حد ِتواتر کو پہنچ چکی ہے۔

۷۔ علامہ شوکانی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا موقف روٴیت ِہلال کے بارے میں یہ ہے کہ ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے بلد کے لئے معتبر ہے۔

مسافت ِقصر اور ممالک کے مختلف ہونے کی قید ان کے نزدیک عقلاً و شرعاً درست نہیں۔

۸۔
ہمارے نزدیک علامہ شوکانی اور شیخ الاسلام کا نظریہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہل بلد کی روٴیت دوسرے بلد کے لئے معتبر ہے۔ اوران پر روزہ لازم ہو جاتا ہے جب کہ ہر دو بلاد کا مطلع ایک ہو یا اتنا فرق ہو کہ اگر ایک بلد میں چاند طلوع ہوا ہے تو دوسرے بلد میں بھی اس کا طلوع ممکن ہو۔

اگر ہر دو بلد کے مطالع میں اتنا فرق ہے کہ جب دونوں میں سے ایک بلد میں چاند طلوع ہو اور دوسرے میں طلوع نہ ہو بلکہ اس فرق سے تاریخ بدل جائے تو ایسے ہر دو بلاد میں سے ایک بلد میں دیکھا ہوا چاند دوسرے بلد کے لئے قطعاً کافی نہیں ہوگا۔ روزہ اور عید ادا کرنے میں وہ ایک دوسرے کے پابند نہیں ہوں گے۔ مغنی ابن قدامہ سے بھی ہمارے اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے

اہل بلد کی روٴیت سے تمام اہل بلاد کے لئے روزہ لازم آتا ہے اور بعض نے یہ قید بھی لگائی ہے کہ بلاد ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوں کہ ان کے مطالع میں اختلاف واقع نہ ہو مثلاً بغداد اور بصرہ کے درمیان مطالع میں کوئی بڑا ا ختلاف نہیں۔
لہٰذا ان میں سے ایک روٴیت دوسرے کے لئے کافی ہے اور جن بلاد میں بُعد اس قدر زیادہ ہو کہ ان کا مطلع مختلف ہوجائے تو ان میں سے ایک کی روٴیت باقی بلاد کے لئے کافی نہیں۔ مثلاً عراق، حجاز، شام ان میں ہر ایک بلد کی روٴیت انہی کے لئے ہے، دوسروں کے لئے نہیں ہے۔ عکرمہ کے اس قول لکل بلد روٴيتهم کا یہی مطلب ہے کہ ایسے بلاد کی روٴیت اپنی اپنی ہے۔

(مغنی ابن قدامہ: ج۳/ص۸۸)


ایک غلط نظریہ

آخر میں اس غلط نظریہ کا اِزالہ کر دینا بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب جو اسلامی ممالک کے لئے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے ساتھ ہی تمام اسلامی ملکوں میں روزہ اور عید کو ادا کرنا چاہئے۔

یہ نظریہ اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ اس لئے کہ روزہ اور عید کا انحصار روٴیت ِہلال پر ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : صوموا لروٴيته واَفطروا لروٴيتهکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ نیز مطالع کا اختلاف بھی ایسی حقیقت ہے کہ اس کا انکار ناممکن ہے، اس لئے یہ نظریہ سرے ہی سے غلط ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک روزہ رکھیں اور عید اور دیگر مناسک ادا کریں۔


جغرافیائی اور علم ہیئت کا نظریہ


جغرافیائی لحاظ سے زمین کی حد بندی سے روٴیت ِہلال کا کوئی تعلق نہیں، جس کی بنا پر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ ایک ملک کی روٴیت دوسرے ملک کے لئے یا ایک بلدکی روٴیت دوسرے بلاد کے لئے معتبر ہے یا نہیں؟ البتہ یہ حقیقت ہے کہ زمین کا جو حصہ طلوعِ ہلال کے وقت اس کے سامنے ہوگا، اس تمام حصہ میں روٴیت ِہلال کا تصور ہوگا، اس علاقہ میں ایک ملک شامل ہو یا زیادہ، ایک بلد ہو یا زیادہ بلاد ہوں۔ ان سب کا مطلع ایک شمار ہوگا۔ ملکوں کے مختلف ہونے یا مسافت ِقصر وغیرہ کی حد بندی کرنا شریعت اور عقل کی رو سے درست نہیں۔

علم ہیئت اور جغرافیہ دان حضرات نے اپنے تجربہ کی بنا پر کہا ہے کہ
غروبِ آفتاب کے وقت چاند اگر کسی بلد میں آٹھ درجے بلند ہے تو غروبِ آفتاب کے بعد تیس منٹ تک رہے گا تو ایسا چاند مشرقی علاقہ میں پانسو ساٹھ میل تک ضروری موجود ہوگا۔

اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ جس بلد میں چاند آٹھ درجے بلند ہو، اس بلد سے جو بلد ستر میل مشرق میں ہے، وہ سات درجے پر ہوگا اور جو بلد اس بلد سے مغرب میں ہے وہاں چاند نو درجے پر ہو گا۔

جب ایک بلد میں چاند نظر آ جائے تو اس کے قریب جتنے بلاد ہیں، ان میں چاند طلوع ہو چکتا ہے۔ یہ بات علم ہیئت کی مسلمات میں سے ہے اور اس بلد کے مشرق کی جانب پانچ سو ساٹھ میل تک طلوعِ ہلال کا اعتبار ہو گا لیکن مغربی بلاد میں روٴیت ِہلال کا مطلق اعتبار ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ
مشرق میں چاند نظر آ جائے تو مغرب میں اس کا طلوع ضروری ہے لیکن مغرب میں دیکھنے سے مشرق میں دیکھا جانا ضروری نہیں۔

چھ ماہ یا کم بیش مدت کے دن؟
بعض ایسے علاقے ہیں وہاں چھ ماہ کا دن اورچھ ماہ کی رات ہوتی ہے بلکہ بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں غروبِ آفتاب کے تھوڑی دیر بعد فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں جو ان علاقوں کے ہمسایہ ملک یا علاقے ہیں، ان کے اوقات کے مطابق اندازہ کرکے نماز پڑھی جائے اور روزے رکھیں جائیں، چنانچہ جامع ترمذی میں نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ

دجال زمان میں چالیس دن قیام کرے گا۔ ایک دن سال بقدر دوسرا دن مہینہ بقدر تیسرا دن جمعہ بقدر ہوگا اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ تعالی نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول کہ جب دن سال بقدر ہو گا تو اس میں صرف ایک دن کی نمازیں کفایت کریں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اندازہ کر کے سال بھر کی نمازیں پڑھی جائیں۔

(محدث لائبریری)
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (29-08-11)
جواب

Tags
پسند, نظر, مکہ, مکمل, ممکن, مسائل, آدمی, ایمان, اللہ, انتظامیہ, انسان, امیر, اسلامی, توحید, ترک, جواب, حکم, حدیث, حسن, دریافت, روزہ, سیارے, شعبان, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger