واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


شرعی استخارہ ،حقیقت اور حکم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-08-11, 09:56 PM   #1
شرعی استخارہ ،حقیقت اور حکم
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 24-08-11, 09:56 PM

سوال: استخارہ کا معنی ومفہوم کیا ہے اور حدیث کی روشنی میں اس کا صحیح طریقہ کیا ہے،کیا ہرمعاملے میں استخارہ کرنا ضروری ہے، کسی کام سے پہلے استخارہ نہ کرنے والایااستخارہ کرنے کے بعد اگر کوئی شخص کسی وجہ سے اس پر عمل نہ کر سکے ،تو گنہگار تونہیں ہوگا؟،(منوراحمد نعیمی ،ملیر کالونی ،کراچی)۔

جواب:
استخارہ کے لفظی معنٰی ہیں: خیر طلب کرنا اور اس کے جامع معنٰی ہیں: وہ معاملہ جس کے نفع بخش یا نقصان دہ ہونے کا انسان اپنی عقل کی روشنی میں فیصلہ نہ کرسکے اور تردُّدمیں مبتلا ہوجائے کہ اسے کروں یا نہ کروں، تو اللہ تعالیٰ سے رہنمائی طلب کرے، اس کا تعلق ماضی کے معاملات سے نہیں ہے، مستقبل میں درپیش ایسے معاملات سے ہے،جن کو کرناہے۔ ایسے تمام معاملات جن کا خیر ہونا ،شریعت میں ثابت ہے، ان کے لئے استخارہ نہیں کیاجائے گا، جیسے نماز، روزہ، حج اور جہاد وغیرہ،فارسی کا مقولہ ہے " درکارِ خیر حاجتِ استخارہ نیست " ۔ہاں البتہ کسی کارِخیر کے لئے شریعت میں وقت مقرر نہیں ہے بلکہ توسُّع ہے،تو تعیینِ وقت کے لئے استخارہ کرسکتے ہیں۔ بنیادی طور پر استخارہ مباح امور میں ہوتا ہے، جیسے نکاح اپنی اصل کے اعتبار سے مشروع ہے اور سنت ہے اور بعض اشخاص کے لئے ان کے بشری احوال کے مطابق واجب کے درجے میں ہے، لیکن نکاح کے لئے کس کا انتخاب کیا جائے،اس کے لئے اگر کوئی پیغام یا پیشکش آئے،تو اس کے لئے استخارہ کیا جاسکتا ہے،
حدیث پاک میں ہے:
عن جابر رضی اﷲعنہ قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الاستخارۃ فی الامورکلھا کالسورۃ من القرآن اذاھم احدکم بالامر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ ثم یقول اللھم انی استخیرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسئلک من فضلک العظیم فانک تقدر ولااقدر، وتعلم ولااعلم، وانت علام الغیوب، اللھم ان کنت تعلم ان ھذالامر خیر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ امری۔او قال فی عاجل امری واٰجلہ۔ فاقدرہ لی وان کنت تعلم أن ھذاالامرشرلی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ امری اوقال فی عاجل أمری واٰجلہ فاصرفہ عنی واصرفنی عنہ واقدرلی الخیر حیث کان ثم ارضنی بہ ویسمی حاجتہ۔

ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امورمیں ’’استخارہ‘‘ کی تعلیم فرماتے تھے، اس اہتمام کے ساتھ ،جیسے قرآن کی کسی سورت کی تعلیم فرمایا کرتے تھے،(تو استخارہ یہ ہے کہ)جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے،تو اسے چاہئے کہ دورکعت نفل پڑھے،پھر کہے:اے اللہ! میں تیرے علم کی روشنی میں خیر کی طرف رہنمائی چاہتا ہوں،اورتیری قدرت سے (حصولِ خیرکے لئے) قدرت کا طلبگارہوں اور میں تیرے فضلِ عظیم سے سوال کرتا ہوں،کیونکہ توقدرت والا اورمیں عاجزوبے بس ہوں،اور تو(ہرمعاملے کے انجام کو) جانتا ہے ،اور میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تو تمام غیبی امور کا بہت زیادہ جاننے والا ہے، اے اللہ! اگرتوجانتا ہے کہ یہ معاملہ (جومجھے درپیش ہے)،میرے دین،میرے معاش اورانجامِ کار کے اعتبارسے، اور فوری اوردیرپا فائدے کے اعتبار سے میرے لئے بہتر ہے،تو تو اسے میرے لئے مقدر فرما ۔
اور (اے اللہ!) اگرتوجانتا ہے کہ یہ معاملہ (جو مجھے درپیش ہے)،میرے دین ،میرے معاش اورانجامِ کار کے اعتبار سے،فوری اور دیرپا فائدے کے اعتبار سے میرے لئے برا ہے،تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے، اور(اس کے بدلے میں ) خیر جہاں بھی ہے،وہ میرے لئے مقدر فرما،پھر اس پر میری طبیعت کو راضی کردے(یعنی مجھے اس کے بارے میں قلبی اطمینان اورقراروسکون نصیب ہوجائے کہ بس یہی میرے لئے خیر ہے)،اور ’’ہذالامر‘‘ (یعنی یہ معاملہ) کے بجائے (چاہے تو) اپنی حاجت کا نام لے کردعاکرے(جیسے شادی،کاروبار،کسی کے ساتھ شراکت وغیرہ، الغرض جو بھی مسئلہ درپیش ہو،اس کا نام لے)،(صحیح البخاری، جلد4 ص: 2004، رقم الحدیث:6382مطبوعہ المکتبۃ العصریہ،بیروت)


۔اس حدیث کوامام مسلم کے سوا محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیاہے۔
مثلاً امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام بیہقی وغیرھم۔
’’علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں: ومنھا رکعتاالاستخارۃ۔
اوران مستحب نمازوں میں دورکعت نماز استخارہ ہے،اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

وفی الحلیۃویستحب افتتاح ھذالدعاء وختمہ بالحمدلۃ والصلٰوۃ وفی الاذکار انہ یقرء فی الرکعۃ الاولیٰ الکافرون وفی الثانیۃ الاخلاص وعن م بعض السلف انہ یزید فی الاولی’’وربک یخلق ما یشاء ویختارُ ط ماکان لہم الخیرۃ ط سبحٰن اﷲ وتعٰلیٰ عما یشرکونo وربک یعلم ماتکن صدورھم وما یعلنون‘‘وفی الثانیۃ وماکان لمؤمن ولامؤمنۃ۔الایہ۔ وینبغی ان یکررھا سبعاکما روی ابن السنی یاانس اذاھمت بأمر فاستخر ربک فیہ سبع مرّات ثم انظر الی الذی سبق الیٰ قلبک فان الخیر فیہ ولو تعذرت علیہ الصلوٰۃ الستخارۃ باالدعاء ا ھ ملخصاوفی شرح الشرعۃ المسموع من المشائخ انہ ینبغی ان ینام علی طہارۃ مستقبل القبلۃبعد قرا ء ۃ الدعاء المذکورفان رایٰ فی منامہ بیاضا او خضرۃ فذالک الامر خیر وان رایٰ فیہ سوادا أو خمرۃ فھو شر ینبغی ان یجتنب ۔

اور’’حلیہ‘‘ میں ہے اور اس دعاء استخارہ کی ابتدا اور آخر میں حمد وصلوٰۃ پڑھنا مستحب ہے، اور ’’الاذکار‘‘ میں ہے: پہلی رکعت میں سورۂ ’’الکافرون‘‘ پڑھے اور دوسری میں سورۂ ’’اخلاص‘‘ اوربعض بزرگوں سے روایت ہے کہ پہلی رکعت میں ’’وربک یخلق ما یشاء ویختارُ ط ماکان لہم الخیرۃ ط سبحٰن اللہ وتعٰلیٰ عما یشرکونo وربک یعلم ماتکن صدورھم وما یعلنونo(القصص:68-69 )
تک ان کلمات کا اضافہ کرے اور دوسری رکعت میں سورۂ احزاب، آیت:36 کا اضافہ کرے۔( اور اگر درپیش مسئلہ کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہوتو) سات دن تک مسلسل یہ نماز پڑھے ،جیسا کہ ابن السّنی نے روایت کیا ہے: (ترجمہ’’اے انس: ! جب توکسی کام کا ارادہ کرے،تو اپنے رب سے اس میں سات باررہنمائی کی دعا کرتا رہے،پھر غوروفکر کر کہ تیرے دل میں جو بات قرارپا گئی ہے(یعنی اس کام کاکرنا یا نہ کرنا)، بس خیر اسی میں ہے‘‘،اور اگر اس کے لئے نماز پڑھنا دشوار ہو تو صرف دعا کر کے استخارہ کر لے ،(یہ ’’اذکار‘‘ کی عبارت کا )خلاصہ ہے،اور’’ شرح الشرحۃ‘‘ میں ہے کہ(ہم نے اپنے )مشائخ سے سنا ہے کہ مذکورہ دعا پڑھنے کے بعد باوضو ہوکر قبلہ روسوجائے، اگر اپنی خواب میں سفید یا ہرا رنگ دیکھے تو سمجھ لے کہ اس میں خیر ہے،(اور اس کام کو کرلے) اور اگر کالایا سرخ رنگ دیکھے توسمجھ لے کہ اس میں شر ہے،پھر اس کام سے اجتناب کرے،(ردالمحتارعلی الدرالمختارجلدنمبر2صفحات 409-410مطبوعہ داراحیاء التراث العربی،بیروت)‘‘۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حدیث پاک میں خواب میں کسی چیز کے نظر آنے یا نہ آنے کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی خواب کا آنا ضروری ہے۔ یہ بزرگوں اوراہل خیر کے اپنے اپنے تجربات ہیں، لیکن اگرخواب نظرآجائے،تو اس سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنے کے بعد جب دل کو کسی ایک جانب سکون و قرار نصیب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئے اس کام کو کرلے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔
اور اگرخدانخواستہ اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں کسی ناکامی کا سامان ہو،تو یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاکو سمجھنے میں مجھ سے خطاہوگئی ہے،اور یا یہ سمجھے کہ اگر اس کے برعکس کیا ہوتا توممکن ہے کہ (خدانخواستہ) اس سے بڑی ناکامی یا نقصان کا سامنا کرناپڑتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:


عسیٰ ان تکرہوا شیئا وھو خیرلکم وعسیٰ ان تحبوا شیئا وھو شرلکم۔

ترجمہ:’’ہوسکتا ہے کہ ایک چیز کو تم اپنے حق میں ناپسندیدہ سمجھو،(مگر)وہ (درحقیقت)تمہارے حق میں بہتر ہو اور (یہ بھی) ہوسکتا ہے کہ ایک چیز کو تم اپنے لئے پسندیدہ سمجھو(مگردرحقیقت) وہ تمہارے لئے بری ہو،(البقرۃ:216
)‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دعا کسی نازل شدہ مصیبت کے لئے بھی مفید ہے(کہ اگروہ صبر و تحمل کا پیکربن کر اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتا رہے،تو اللہ تعالیٰ اس مشکل سے اسے نجات دے دے گا یا صبر وتحمل پر اسے اجرعظیم سے نوازے گا)، اور ان مصیبتوں کے لئے بھی دعا مفید ہے،جو ابھی نازل نہیں ہوئی ہیں
(یہ دعا ان کے لئے ردِّبلا کا سبب بن جائے گی) سو اے اللہ کے بندو! دعا کو اپنا لازمی شعار بناؤ(مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی ،ص: 195 )۔صرف نبی کا خواب یا الہام ، ’’حُجَّتِ قطعیّہ‘‘ہوتا ہے۔ اور غیر نبی کا خواب یا الہام ایک ظنّی امر ہے،لہٰذااگر کسی نے کسی مسئلے میں استخارہ کرلیا اورکسی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا،تو اس سے گنہگار نہیں ہوگا، نہ ہی اس پر کوئی وبال آئے گا۔

’’استخارہ ‘‘ کی روح یہ ہے کہ جس بندے کوکوئی مسئلہ درپیش ہے، وہ خود استخارہ کرے،کیونکہ جتنا درد، شکستگیٔ دل، حضوریٔ قلب، تضرُّع وعاجزی کسی شخص کو اپنے معاملے میں ہوسکتی ہے، دوسرے شخص کو نہیں ہوسکتی۔حدیث میں ہے:رب ذوالجلال فرماتا ہے: ترجمہ:میں ان کے پاس ہوتاہوں،جومیری (خشیت ومحبت اور انکسارکی)وجہ سے شکستہ دل رہتے ہیں،(الاسرارالرفوعہ،رقم الحدیث:249،کشف الخفاء ج1ص:232،الشفاء قاضی عیاض مالکی ج1ص:7‘‘۔
جو شخص اپنے درپیش مسئلے میں پانچ سات بار عاجزی سے اپنے رب کے حضورالتجا اورطلبِ خیر و دعا کے لئے ذہنی،فکری اور عملی طورپر آمادہ نہ ہو،وہ استخارے کی روح اورحقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔ باقی وہ لوگ جو استخارے کے نام پر ماضی کے احوال بتاتے ہیں کہ کسی پر کالا جادو ہوگیا ہے،سفلی عمل کردیا گیا ہے،چند سیکنڈ میں یہ تمام غیبی امور ان پر منکشف ہوجاتے ہیں اور ایک ہی لمحے میں ان کا حل بھی نکل آتا ہے،اس کامجھے علم نہیں ہے، اس سے لوگ توہُّم پرستی اور تشکیک میں مبتلا ہوتے ہیں، تقدیرِ الہٰی پر رضا جومومن کا شعار ہونا چاہئے، اُس میں کمزوری واقع ہوتی ہے ۔پھر لوگ کسی مشکل صورتِ حال میں ،جب انہیں کوئی فیصلہ کن راہ سجھائی نہ دے،اللہ تعالیٰ کی ذات سے براہِ راست رجوع کرنے اور اس کے حبیبِ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے توسُّل کے بجائے، اِس روش کو ترک کرکے، اِس طرح کے عاملوں سے رجوع کرتے ہیں۔استخارہ تومستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میںاللہ تعالیٰ سے رہنمائی طلب کر نے کا نام ہے ۔


حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ درپیش معاملات اورمباح امو رمیں سے کسی ایک کے انتخاب کے لئے یاکسی کام کوکرنے یا نہ کرنے کے بارے میں استخارہ کرنا افضل اورمستحب ہے ،لیکن یہ واجب نہیں ہے کہ نہ کرنے پر گنہگارہوگا۔ اورویسے کسی مسئلے کے بارے میں دستیاب معلومات اورقرائن و شواہدکی روشنی میں یا اہل فن واہل نظر اوراہل اللہ سے مشورہ کرنے کے بعد ذہن میں یہ امر واضح ہوجائے کہ یہ کام کرلینا چاہئے،تو اللہ پر توکل کرکے کرلے،اور اللہ تعالیٰ سے اس میں کامیابی اور سرخ رو ہونے کی دعا کرتا رہے۔ واللہ اعلم ورسولہ

(تفھیم المسائل جلد چہارم از مفتی منیب الرحمٰن مد ظلہ العالی )
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 455
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-08-11), نبیل خان (25-08-11), مہتاب (25-08-11), ملک اظہر (05-11-11), ملک زوالفقار (23-05-12), محمدعدنان (25-08-11), ارشد کمبوہ (24-08-11), بزم خیال (25-08-11), حیدر (25-08-11), حیدر Rehan (25-08-11), رضی (20-09-11), شمشاد احمد (25-08-11), عبداللہ آدم (24-08-11), عرفان مسلم (28-08-11)
پرانا 24-08-11, 10:48 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں آپ کا یہ دھاگہ بعد میں پڑھونگا پہلے معزرت کے ساتھ ایک سوال کا جواب دے دیں
کیا استخارہ جاگتے ہوئے بھی کیا جا سکتا ہے؟
پیارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پیارا کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (24-08-11)
پرانا 24-08-11, 11:02 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حدیث پاک میں خواب میں کسی چیز کے نظر آنے یا نہ آنے کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی خواب کا آنا ضروری ہے۔ یہ بزرگوں اوراہل خیر کے اپنے اپنے تجربات ہیں، لیکن اگرخواب نظرآجائے،تو اس سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنے کے بعد جب دل کو کسی ایک جانب سکون و قرار نصیب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئے اس کام کو کرلے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔
اور اگرخدانخواستہ اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں کسی ناکامی کا سامان ہو،تو یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاکو سمجھنے میں مجھ سے خطاہوگئی ہے،اور یا یہ سمجھے کہ اگر اس کے برعکس کیا ہوتا توممکن ہے کہ (خدانخواستہ) اس سے بڑی ناکامی یا نقصان کا سامنا کرناپڑتا.


نچوڑ ہے .................... اور لوگوں کی سب سے بری غلط فہمی ہے ہی یہ کہ لازما خواب میں ہی نظر آنا چاہیے.

زبردست مضمون کے لیے شکریہ عابد بھائی.

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (25-08-11), محمدعدنان (25-08-11), آبی ٹوکول (25-08-11), ارشد کمبوہ (24-08-11), بزم خیال (25-08-11), حیدر (25-08-11)
پرانا 25-08-11, 12:10 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 241
کمائي: 4,549
شکریہ: 97
163 مراسلہ میں 441 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزا ک اللہ احسن الجزا ۔بہت ہی عمدہ۔
بعض اکابر علما کا کہنا ہے کہ اگر خواب میں ''سفیدی''یا سبزی نظر آئے تو سمجھنا چاہئے کہ کام اچھا ہے اور اسے انجام دینا چاہئے اور اگر سرخی یا سیاہی نظر آئے تو سمجھنا چاہئے کہ کام برا ہے اور اسے چھوڑ دینا چاہئے
(غایۃ الاوطار )مگر اس باب میں اصل طبیعت کا جھکاؤ ہی ہے ( پندرہ نفلیں مفتی عبد الرحیم بستوی استاذ تفسیر دارالعلوم دیوبند‌‌)
اگر عجلت کی وجہ سے لمبی دعا پڑھنی مشکل ہو تو یہ مختصر دعا پڑھ لے ۔ اللھم خر لی واخترلی ولا تکلنی الیٰ اختیاری ۔اے اللہ ! میرے لئے اختیار اور پسند فر ما اور خود میری پسند اور اختیار پر نہ سونپ۔ (مظاہر حق‌ )
__________________
ہندوستان کا پہلا اردواسلامی فورم ‌http://www.algazali.org
gazali آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے gazali کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-08-11), ھارون اعظم (25-08-11), آبی ٹوکول (25-08-11), حیدر (25-08-11)
پرانا 25-08-11, 12:26 AM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی موضوع پر ایک اور عمدہ موضوع

''' اِستخارہ ''' سُنّت میں اور کہانیوں میں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-08-11), آبی ٹوکول (25-08-11), حیدر (25-08-11), عبداللہ آدم (26-08-11)
پرانا 25-08-11, 09:27 AM   #6
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,048
کمائي: 22,685
شکریہ: 873
1,315 مراسلہ میں 2,843 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت زبردست شیئرنگ ہے جزاک اللہ خیر
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-08-11, 09:59 AM   #7
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,669
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ بہت اچھی شیئرنگ ہے شکریہ
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-08-11, 01:30 PM   #8
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا عابد بھائی اچھی شئیرنگ ہے

اقتباس:
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حدیث پاک میں خواب میں کسی چیز کے نظر آنے یا نہ آنے کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی خواب کا آنا ضروری ہے۔ یہ بزرگوں اوراہل خیر کے اپنے اپنے تجربات ہیں، لیکن اگرخواب نظرآجائے،تو اس سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ایک سال پہلے ہمارے ایک جاننے والے جن سے میرا ملنا بہت کم ہوا انہوں نے بیرون ملک ملازمت میں مشکلات اور والدین سے دوری کی وجہ سے ملک واپس لوٹنے کا ارادہ کیا ۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے استخارہ کیا ۔ اور خواب میں مجھے دیکھ لیا ۔ اور مجھے فون کر کے رہنمائی کے طالب ہوئے ۔ اب بھلا میں ان کو کیا مشورہ دیتا ۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی ۔

اقتباس:
پھر غوروفکر کر کہ تیرے دل میں جو بات قرارپا گئی ہے(یعنی اس کام کاکرنا یا نہ کرنا)، بس خیر اسی میں ہے‘‘
میں نے کئی سخت فیصلے اسی بنیاد پر کئے ہیں ۔ اور اس میں ہمیشہ بہتری پائی ۔ الحمداللہ
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
حیدر (25-08-11), عبداللہ آدم (26-08-11)
پرانا 25-08-11, 02:04 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پیارا مراسلہ دیکھیں
کیا استخارہ جاگتے ہوئے بھی کیا جا سکتا ہے؟
تم نے جو سوال کیا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ یہاں صرف سوتے میں ہی استخارہ کرنے کو ""صرف"" اور ""فقط"" سمھجا جارہا ہے۔
اگر ایسا ہے تو اس پر کئی سوال اٹھ سکتے ہیں ۔ ۔ ۔۔ مگر شائد ایسا نہ ہو
آبی کول ۔۔۔۔ اپنے فقہ کے بارے میں بہتر بتائے گا ۔ ۔ ۔


۔
۔
۔
۔
درست بات یہ ہے کہ استخارہ کی کئی اور صورتیں بھی ہیں۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (25-08-11)
پرانا 25-08-11, 03:13 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا
بہت اچھے موضوع پر قلم اٹھایا ہے
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-08-11, 08:02 PM   #11
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,898
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاء اللہ، بہت ہی زبردست شئیرنگ کی جناب،
اللہ مفتی اعظم پاکستان صاحب کو لمبی عمر اور بہترین صحت عطا فرمائے جو نہایت آسان پیرائے میں اہم مسائل سمجھا دیتے ہیں۔
عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کلمات, گئی, پاک, وقت, لوگ, مطابق, معلوم, اللہ, انسان, ترک, تعلیم, جواب, جلد, حکم, حال, حدیث, درپیش, شخص, عقل, عبارت, عبداللہ, صفحات, صبر, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان کا سری لنکن فوج سے دفاعی تعاون، تامل ٹائیگرز کی شکست کا باعث بنا فرحان دانش خبریں 5 28-08-11 08:10 PM
بن لادن کا پر اسرار قتل ۔ پاکستان کیخلاف کارروائی کا بہانہ؟...ثروت جمال اصمعی آبی ٹوکول عمومی بحث 1 08-05-11 04:20 PM
کیا واقعی بلوچستان میں ایسا ہو رہا ہے ؟ عبدالقدوس عمومی بحث 12 24-01-11 11:58 PM
کیا پاکستان واقعی غیر محفوظ ملک ہے؟؟؟ گلاب خان پاکستان میں دہشت گردی 4 26-11-10 12:43 PM
افغانستان:امر یکی سفیر کی موسیٰ قلعہ کے ضلعی گورنر سے ملاقات ابو کاشان خبریں 0 14-01-08 11:23 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger