| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1786
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم ، بھائی ، چاچا کمال صاحب ،
لسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ، آپ کے سوال کا مختصرا جواب حاضر ہے ، یہ سمجھیئے کہ یہ اِس موضوع کی تفصیل نہیں تعارف ہے ، اللہ کے لطف و کرم سے یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ معلومات کفایت کریں گی ، غیبٌ کا لفظی مفہوم ہے ''' وہ چیز قول یا فعل یا مادی جو انسان کے حواس کے احاطے سے باہر ہو ''' مثلا میں آپ کے سوال کے جواب میں یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں ، مجھے آپ کے بارے میں صرف اتنا پتہ ہے کہ آپ نے اپنا نام چاچا کمال ظاہر کیا ہوا ہے ، آپ کی شخصیت کے بارے میں دیگر معومات میرے لیے غیب ہیں ، اور اس غیب کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہو جو مجھے آپ کی شخصیت کے بارے میں معلومات دے ، اور یہ بات یقینی ہو کہ وہ ذریعہ آپ کو یقینی طور پر جانتا ہے اور آپ اُس کے لئے غیب نہیں ہیں ، اور اُس ذریعے کی لائی ہوئی معلومات کی درستگی کے لیے اُس ذریعے کا سچا ، برائی اور شیطانی عمل دخل سے محفوظ ہونا ایک لازمی اور یقینی ضرورت ہے ، ورنہ اطلاعات و معلومات کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا پس ہر چیز ، قول یعنی بات ہو یا فعل یعنی کام ، جِس کے علم میں ہے اس کے لیے غیب نہیں ، اور جس کے علم نہیں اس کے لیے وہ غیب ہے ''' علمِ غیب ''' ، اسلامی اصطلاح کے طور پر استعمال ہو تو اُس کا مفہوم ''' ہر وہ کام یا بات جو انسان کو دیئے گئے علم سے خارج ہے یا جِس کا علم تو ہے لیکن یقینی نہیں ''' اور یہ وہ ''' علمِ غیب ''' ہے جِس کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا اور اِس عِلم کا کوئی بھی معاملہ جاننے کے لیئے اللہ تعالیٰ یا اللہ کے رَسْول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خبر کی ضْرورت ہوتی ہے ، اگر یہ خبر مْیسر نہیں تو پھر ایسے کِسی معاملے میں کوئی حکم دینا گویا کہ ''' علمِ غیب ''' جاننے کا دعویٰ کرنا ہے ، اور یہ سراسر شرک اور اللہ تعالیٰ اور اْسکے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات کا اِنکار ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :::: ( قْل لَّا یَعلَمْ مَن فِی السَّمٰوٰاتِ وَ الاَرضِ الغَیبَ اِلَّا اللَّہْ وَ مَا یَشعْرْونَ اَیَّانَ یْبعَثْونَ ) ((کہو ( اے رسْول ) زمین اور آسمانوں میں جو کوئی بھی ہے ( اْن میں سے کوئی بھی ) غیب نہیں جانتا سِوائے اللہ کے اور وہ سب کے سب اِس بات کا شعور ( عِلم ) نہیں رکھتے کہ کب اْنہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ) ) سْورت النمل : آیت ، ٦٥ ۔ إإ اب اگر کوئی کسی کے بارے میں یہ خیال یا عقیدہ رکھے کہ وہ اپنی یا کسی اور کی موت کا وقت اور مقام جانتا ہے یا جانتا تھا ،،،، تو کیا ایسا خیال یا عقیدہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ کے ابھی اوپر ذکر کیے گئے فرمان کا عملی منکر نہیں؟؟؟ اور اگر اللہ کے اِس فرمان کو سن اور جان کر بھی وہ ایسا عقیدہ رکھے تو کیا وہ اللہ کے اِس فرمان کا عقیدۃً انکار کرنے والا نہیں ؟؟؟ إإ اور عقیدے کا انکار اور اقرار ہی تو اسلام میں داخلے اور خارج ہونے کا سبب ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وَ عِندَہ، مَفَاتِحْ الغَیبِ لا یَعلَمْھَآ اِلَّا ھْوَ ) ( اور غیب ( کے عِلم اور خزانوں ) کی چابیاں اْس ( اللہ ) کے پاس ہیں کوئی نہیں جانتا اْن ( چابیوں )کے بارے میں سِوائے اللہ کے ) سْورت الانعام : آیت ، ٥٩ اور فرمایا (وَ لِلَّہِ غَیبْ السَّمٰوٰات ِ وَ الاَرضِ وَ الِیہ یْرجَعْ الامرْ کْلّہْ ) ( اور زمین اور آسمانوں کا ( عِلمِ ) غیب اللہ کے لیے ہی ہے اور اْسی کی طرف ہر کام پلٹتا ہے ) سْورت ھْود /آیت ١٢٣ ، اور فرمایا ( وَ لِلَّہِ غَیبْ السَّمٰوٰاتِ وَ الاَرضِ )( اور زمین اور آسمانوں کا ( عِلمِ ) غیب اللہ کے لیے ہی ہے ) سْورت النحل/آیت ٧٧ ، اور فرمایا (عَالِمْ الغَیبِ فَلا یْظھِرْ عَلیٰ غَیبِہِۤ احداً اِلَّا مَن اَرتَضٰی مِن رَّسْولٍ فَاِنَّہْ یَسلُکُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَمِن خَلفِہِ رَصَداً ) ( ( اللہ ) عالِمْ الغیب ہے پس اپنا عِلمِ غیب کِسی پر ظاہر نہیں کرتا سِوائے اْس کے ، جِس کو رَسْولوں میںسے ( اللہ) چْن لے لہذا بِلا شک اْس ( چْنے ہوئے رَسْول) کے آگے اور پیچھے ( اللہ کی طرف سے) حفاظت کرنے والا چلتا ہے ) سْورت الجِن / آیت ٢٦، اِس آیتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے فرمایا ہے کہ وہ اپنے غیب کے علم میں سے جتنا چاہتا ہے صرف اپنے چنے ہوئے رسولوں کو اُتنا بتا دیتا ہے ، ہر رسول کو بھی نہیں ، صرف چنے ہوئے رسولوں کو ، إإ اب اگر کوئی کِسی رسول کے علاوہ کِسی کے بارے میں یہ خیال یا عقیدہ رکھے کہ وہ غیب جانتا ہے ، تو کیا وہ اللہ کے اِس فرمان کا منکر نہیں ؟؟؟ اور رَسْولْ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے''' غیب '''کی شرح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ( مفَاتِیحْ الغِیبِ خَمسٌ لایَعلَمْھَا اِ لَّا اللَّہ(١)لا یَعلمْ مَا تَغِیضْ الأرحامْ اِلِّا اللَّہ (٢)ولایَعلمْ مَا فيغَداً اِلَّا اللَّہ(٣)ولا یَعلمْ مَتیٰ یاتي المَطرْ احدٌ اِلَّا اللَّہ (٤)و لا تَدرِی نَفسٌ بِايّ ارضٍ تَموتْ إلا اللَّہ(٥) ولایَعلمْ مَتیٰ تَقْومْ السَّاعَۃْ اِلا اللَّہ) ( غیب کی چابیاں پانچ ہیں ، اللہ کے سِوا اْنہیں کوئی نہیں جانتا (١) رحم ( بچہ دانی ) میں کیا ہے سِوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا (٢) اور کل کیا ہونے والا ہے سِوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا (٣) اور بارش کب ہو گی سِوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا اور(٤)کون کِس جگہ مرے گا سِوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتااور (٥)قیامت کب قائم ہو گی سِوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا ) صحیح البْخاری ،حدیث ٧٣٧٩ اور اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے فرمایا ( مَن حَدَّثَکَ انَّ مْحمَداً (صلی اللہ علیہ وسلم ) رای ربَہْ فَقَد کَذَب، و ھَوْ یَقْول ( لا تْدرَکہْ الابصارْ ) و مَن حَدَّثَکَ انَّہْ یَعلَمْ الغَیبَ فَقَد کَذَب، و ھَوْ یَقْول( لایَعلَمْ الغَیبَ الَّا اللَّہ ) ( جو تمہیں یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو یقینا اْس ( یعنی یہ بات کہنے والے ) نے جھوٹ بولا ، کیونکہ اللہ تو کہتا ہے کہ ( اْسے ( یعنی اللہ تعالیٰ کو ) آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں ) ، اور جو تمہیں یہ کہے کہ وہ ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) غیب جانتے ہیں تو یقینا اْس ( یعنی یہ بات کہنے والے ) نے جھوٹ بولا ، کیونکہ اللہ تو کہتا ہے کہ ( سِوائے اللہ کے غیب کا عِلم کوئی نہیں جانتا )صحیح البْخاری /حدیث ٧٣٨٠۔ اسکے عِلاوہ اور بھی صحیح احادیث ہیں جو کہ اِس عقیدے کو ثابت کرتی ہیں کہ اللہ سْبحانہْ و تعالیٰ کے سِوا کوئی عالِمِ غیب نہیں ہے ، لہذا اللہ کے سِوا کِسی اور کو عالِمِ غیب ماننا ، یا سمجھنا ، کْلیاً یا جْزئیا ً ، ہر گِز ہر گِز درست نہیں ہے ، اولیاءَ اللہ ، أتقیا ، ابرار ، صالحین ، عْلماء ، قْطب ، ابدال ، وغیرہ وغیرہ کوئی کْچھ بھی ہو نبی یا رسْول نہیں ہوتا ، اور غیب کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں کو ہی کی جاتی ہے ، کِسی بھی اور کو نہیں ، بلکہ رسْولوں میں سے بھی صرف اْنہیں جِنہیں اللہ تعالیٰ اِسکے لیے چْنتا ہے ، سْورہ الجِن آیت ٢٦ میں اللہ تعالیٰ نے خْود ہمیں یہ بتایا ہے پچھلے صفحے پر یہ آیت ذِکر کی گئی ہے ، اِس آیت اور اْوپر ذِکر کی گئی دیگر آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے عِلاوہ کِسی بھی دوسرے کو عالِمِ غیب ماننا سراسر باطل عقیدہ ہے ، اب اِس بد عقیدگی کو چْھپانے کے لیئے اسے '' عِلمِ لدْنی '' کہا جائے '' کشف ِ قبور '' کہاجائے '' مْکاشفۃ الاموات '' کہا جائے ، '' وجدان '' کہا جائے ، ''حالتِ جذب '' کہا جائے ، '' اِلقاءَ ''کہا جائے ، '' اِلہام '' کہا جائے ، یا کوئی بھی اور نام دیا جائے غلط چیز غلط ہی رہتی ہے ، کیونکہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی ، لہذا یہ بات طے شُدہ ہے کہ جب کِسی چیز پر شریعت کا کوئی حْکم لگایا جاتا ہے تو اْس چیز کے نام کے مْطابق نہیں بلکہ اْس چیز کی حقیقت کے مطابق اْس پر حْکم لگایا جاتا ہے ، یہ قاعِدہ اور قانون ''' علم اصول الفقہ ''' میں مقررہے ، اور رَسْولْ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل حدیث کی روشنی میں اپنایا گیا ہے ( یَشرَبُ نَاسٌ مِن اُمتی الخَمرَ وَ یُسمُّونَھَا بِغِیرِ اسمِھَا )( میری اْمت میں سے لوگ شراب پیئںگے اور اْسے ( حلال ثابت کرنے کے لیئے ) کوئی اور نام دیں گے ) سْنن النِسائی حدیث ، ٤ ٥٦٧: یہ اِلفاظ اِمام النسائی نے اپنی سْنن میں نقل کیئے ہیں ، جبکہ اِس حدیث کو اِلفاظ کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مْختلِف صحابہ سے اِمام الطبرانی ، اِمام الدارمی ، اِمام الحاکم ، اِمام ابو داؤد ، اِمام ابنِ ماجہ نے اپنی اپنی کِتابوں میں نقل کیا ہے اور اِمام الالبانی نے اپنی کِتاب سلسلہ الاحادیثالصحیحہ حدیث نمبر ٩١ کی تحقیق میں اِس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ، لہذا اب اگر شراب کو کوئی اور نام دے کر پیا جا رہا ہے تو وہ شراب ہی رہتی ہے ، اْسے آبِ جو ، انگور کی بیٹی ، سیب کا رس ، کھجور کا عرق، وغیرہ کہنے سے اْس کی حقیقت نہیں بدلتی ، موسیقی کو اگر ــ'' روح کی غذا'' یا '' جمالیاتی حس کی تسکین ''وغیرہ کہہ کر سنا جائے تو اُس کا شرعی حکم تو نہیں بدلے گا ، اِسی طرح''' عِلمِ غیب ''' ،''' عِلمِ غیب ''' ہی ہے ، کوئی بھی اور نام دینے سے اْس کی حقیقت نہیں بدلتی اور عِلمِ غیب جاننے کا ذریعہ صِرف اور صِرف اللہ تعا لیٰ کی طرف سے آنے والی وحی ہے اور وحی صِرف اور صِرف نبیوں اور رسْولوں کو ہی کی جاتی ہے ۔ محترم بھائی اُمید ہے ''' عِلمِ غیب ''' کا یہ مْختصر سا تعارف آپ کے سوال کے جواب کے طور پر انشاء اللہ کافی ہو گا ، مزید پھر کبھی اِنشاء اللہ ، اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچان کر اْس کی اِتباع کی توفیق عطا فرمائے ، اور شرک و بدعات سے محفوظ فرمائے ۔ طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر۔ 15/07/2007
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 13-01-08 at 11:51 PM. |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (22-06-09), فاروق سرورخان (18-08-08), پیاسا (18-08-08), میاں شاہد (09-07-08), مون لائیٹ آفریدی (10-07-08), جمال عتیق (21-09-08), عمیر نعیم (10-07-08), عبداللہ حیدر (21-06-09), عبدالله (20-01-09) |
|
|
#3 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مراسلات: 11
کمائي: 268
شکریہ: 1
7 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل بھائی!
جزاکم اللہ احسن الجزاء بہت معلوماتی مضمون ارسال فرمایا ہے آپ نے اس کو اگر مختصر عام فہم الفاظ میں سمجھا جائے تو کچھ یوں ہوگا کہ ہر وہ چیز جو ابھی تک انسان کے حیطہ علم میں نہیں آئی ــــ وہ پردہ غیب میں ہے اور وہ اللہ ہی جانتا ہے اور ہر وہ چیز جو انسان نے اللہ کے دیے ہوئے علوم اور وسائل کے ذریعہ جان لی اور اس کی حقیقت تک پہنچ گیا وہ حیطہ علم میں آگئی اور وہ غیب نہیں رہی آدم کی تخلیق کے وقت ہی اللہ رب العزت نے"وعلم آدم الاسماء کلھا" کے مطابق آدم کی کی سرشت میں تمام علوم رکھ دیے اب جوں جوں بنی آدم اللہ کے اس دیے ہوئے علم اور صلاحیت کے ذریعہ نا معلوم سے معلوم کی جانب سفر کرتا جاتا ہے پردہ ہائے غیب اٹھتے چلے جاتے ہیں کل جو علم غیب تھا ــــــ آج وہ علم غیب نہیں اور آج جو علم غیب ہے ــــ ممکن ہے آنے والی کل کو وہ پردہ ظہور پہ جلوہ فگن ہو جائے اور یہ بات تو طے ہے کہ جب تک کوئی چیز غیب میں ہوتی ہے اس کا علم صرف اللہ یا اس کے منتخب رسولوں کو ہوتا ہے اور جب اللہ کے دیے ہوئے علم ، وسائل اور ذرائع سے وہ چیز انسان کے علم میں آجائے وہ غیب نہیں رہتی اب دیکھتے ہیں کہ یہ علمﹺ، ذرائع اور وسائل کیا ہو سکتے ہیں 1ـــــ اللہ نے آدم کو اسماء تعلیم کیے 2ــــ اللہ نے انبیاء کے ذریعہ انسانو کو غیب سے آگاہ کیا مثلا وجود باری، جنت اور دوزخ کا علم وغیرہ 3ـــ اللہ نے انسان کو افلا تدبرون، افلا تفکروں وغیرہ احکام سے تدبر اور فکر کرنے کا حکم دیا اور یہ حکم بھی دیا کہ اللہ کی نشانیوں پر غور کرو اس سے تحقیق اور جستجو کا سلسلہ شروع ہوا اور انسان نا ممعلوم سے معلوم تک کا سفر کرتا چلا گیا مثلا پہلے انسان کو ذرہ اور اس کے اندر پوشیدہ قوت کا علم نہ تھا لیکن آج وہ ذرہ کی حقیقت کو جان چکا ہے اور اس نے ایٹم بم بنا لیا کل تک انسان کو یہی معلوم تھا کہ لوہا پانی میں ڈوب جاتا ہے اور آج انسان نے ہزاروں ٹن لوہا سطح سممندر پر تیرانے کا راز جان لیا ہے اسی طرح الہام القاء اور علم خواب کی حقیقت کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا خواب اور ان کی تعبیر باقاعدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ خوابوں کے ذریعہ آئندہ کے حالات و واقعات سے آگاہی ہوتی ہے گوکہ سچے اور ہوبہو خواب صرف انبیاۓ کرام کے ہوتے ہیں جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کو امر ربی جانتے ہوئے اس پر بلا تامل عمل کر ڈالا لیکن اللہ کے صالح بندوں کے خوابوں میں بھی کچھ نہ کچھ اشارات پوشیدہ ہوتے ہیں اور علم تعبیر کے ذریعہ ان اشارات کی مدد سے خواب کی تعبیر حاصل کی جاتی ہے اسی طرح الہام اور القاء بھی ہے اور اس کا مطلب و معنی صرف اتنا ہی ہے کہ اللہ اپنے بندے کے دل میں کچھ ڈال دیتا ہے اس کی تفصیلات مآئندہ کسی پوسٹ میں لکھوں گا انشاء اللہ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
جزاک اللہ خیرا بھائی شاکر قادری صاحب آپ کی بات میں الہام ، خواب القا کا موضوع وضاحت طلب ہے ، لیکن اپنی طرف سے کوئی جواب دینے سے پہلے میں آپ کی بات کی تکمیل کا منتظر ہوں ، ہو سکتا ہے آپ کی بات مکمل ہوتے ہوتے مجھے کوئی جواب دینے کی ضرورت نہ رہے، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عمیر نعیم (10-07-08) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() |
ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے آُ پ نے شاکر بھائی ۔ اور انتے ہی شکریہ کے خق دار عادل بھائی بھی ہیں
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,351
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب اللہ تعالٰی آپ کو اس کا اجر دے آمین
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Junior Member
اجنبی
|
![]() الصلوِٰہ والسلام علیک یا رسول اللہ اسلام علیکم جناب سہیل صاحب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :::: إإ اور عقیدے کا انکار اور اقرار ہی تو اسلام میں داخلے اور خارج ہونے کا سبب ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وَ عِندَہ، مَفَاتِحْ الغَیبِ لا یَعلَمْھَآ اِلَّا ھْوَ ) ( اور غیب ( کے عِلم اور خزانوں ) کی چابیاں اْس ( اللہ ) کے پاس ہیں کوئی نہیں جانتا اْن ( چابیوں )کے بارے میں سِوائے اللہ کے ) سْورت الانعام : آیت ، ٥٩ اور فرمایا (وَ لِلَّہِ غَیبْ السَّمٰوٰات ِ وَ الاَرضِ وَ الِیہ یْرجَعْ الامرْ کْلّہْ ) ( اور زمین اور آسمانوں کا ( عِلمِ ) غیب اللہ کے لیے ہی ہے اور اْسی کی طرف ہر کام پلٹتا ہے ) سْورت ھْود /آیت ١٢٣ ، اور فرمایا ( وَ لِلَّہِ غَیبْ السَّمٰوٰاتِ وَ الاَرضِ )( اور زمین اور آسمانوں کا ( عِلمِ ) غیب اللہ کے لیے ہی ہے ) سْورت النحل/آیت ٧٧ ، اور فرمایا (عَالِمْ الغَیبِ فَلا یْظھِرْ عَلیٰ غَیبِہِۤ احداً اِلَّا مَن اَرتَضٰی مِن رَّسْولٍ فَاِنَّہْ یَسلُکُ مِن بَینِ یَدَیہِ وَمِن خَلفِہِ رَصَداً ) ( ( اللہ ) عالِمْ الغیب ہے پس اپنا عِلمِ غیب کِسی پر ظاہر نہیں کرتا سِوائے اْس کے ، جِس کو رَسْولوں میںسے ( اللہ) چْن لے لہذا بِلا شک اْس ( چْنے ہوئے رَسْول) کے آگے اور پیچھے ( اللہ کی طرف سے) حفاظت کرنے والا چلتا ہے ) سْورت الجِن / آیت ٢٦، ماشاللہ عزّوجل آپ نے بڑی خوبی سے سمجھانے کی کوشش کی مگر کچھ مبہم انداز رکھا میں نا چیز کچھ سوالات کا جواب چاہتا ہوں 1 - ( قْل لَّا یَعلَمْ مَن فِی السَّمٰوٰاتِ وَ الاَرضِ الغَیبَ اِلَّا اللَّہْ وَ مَا یَشعْرْونَ اَیَّانَ یْبعَثْونَ ) ((کہو ( اے رسْول ) زمین اور آسمانوں میں جو کوئی بھی ہے ( اْن میں سے کوئی بھی ) غیب نہیں جانتا سِوائے اللہ کے اور وہ سب کے سب اِس بات کا شعور ( عِلم ) نہیں رکھتے کہ کب اْنہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ) ) سْورت النمل : آیت ، ٦٥ ۔ إإ اب اگر کوئی کسی کے بارے میں یہ خیال یا عقیدہ رکھے کہ وہ اپنی یا کسی اور کی موت کا وقت اور مقام جانتا ہے یا جانتا تھا ،،،، تو کیا ایسا خیال یا عقیدہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ کے ابھی اوپر ذکر کیے گئے فرمان کا عملی منکر نہیں؟؟؟ اور اگر اللہ کے اِس فرمان کو سن اور جان کر بھی وہ ایسا عقیدہ رکھے تو کیا وہ اللہ کے اِس فرمان کا عقیدۃً انکار کرنے والا نہیں ؟؟؟ اسی کے تناظر میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے میرے آقا صلی للہ علیہ وسلم کو ان کی موت کے بارے نہیں بتا دیا تھا؟ اگر نہیں تو پہر سیدنا ابوبکر صدیق آپ صلی للہ علیہ وسلم کا خطبہ سن کر کیوں رونا شروع کر دیا تھا؟(مشھور حدیث ہے اس لیے تفسیل میں نہیں گیا) آقا صلی للہ علیہ وسلم نے وصال شریف سے پہلے اپنے قرضے اور بدلے نہیں لوٹا دیے تھے۔ اگر آپ مجھے ایڈ کر سکیں آپ سے تفصیل سے بات ہوگی کیونکہ بہت سی بات عام لوگوں کے سامنے فالحال نہیں ہو سکتیں۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آپ مجھے ایڈ کر سکیں آپ سے تفصیل سے بات ہوگی کیونکہ بہت سی بات عام لوگوں کے سامنے فالحال نہیں ہو سکتیں۔
جناب عمیر الدین عطاری قادری کیا اپ اپنے اس ارشاد کی وضاحت کریں گے کہ کچھ باتیں عام لوگوں کے سامنے نہیں ہو سکتیں۔ کیا اپ عام لوگوں کو مسلمان نہیں سمجھتے یا پھر اپ انھیں اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ اپکی بات کو سمجھ سکیں۔ جہاں تک میرا ناقص علم بتاتا ہے اس طرح کی تفریق تو صرف اسماعیلیوں اور درزی فرقوں میں ہی کی جاتی ہے۔ اپ بصدشوق کسی سے بھی ذاتی پیغامات پر رابطہ کریں لیکن اللہ کے لیے قارئین کی اس طرح تحقیر تو نہ کریں۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ٕجزاک اللہ خیر بھائی منتظمین اور بھائی عمیر قادری صاحب میرے کوائف میں میری برقی ڈاک کا پتہ موجود ہے ، آپ جو بات خاص طور پر علیحدگی مٰن کرنا چاہتے ہٰن وہاں ارسال فرما دیجیئے ، لیکن بھائی منتظمین کی بات کی موافقت میں ، میں بھی یہ عرض کروں گا کہ ان معاملات کو سب پڑھنے والوں کے سامنے رکھا جائے تا کہ ہر سوچ والے کو اپنی سوچ کی درستگی پرکھنے کا موقع میسر ہو ، انشا اللہ انشا اللہ رقتہ رقتہ آپ کے سوالات کے جوابات ارسال کروں گا اور اَس کا سبب میرے پاس وقت کی کمی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سمجھنے اور مکمل دلیری اور جرات کے ساتھ اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | پیاسا (18-08-08) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ماشاء اللہ تحمل اور برداشت کی فضا میں علمی بحث پروان چڑھ رہی ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (22-06-09), فاروق سرورخان (18-08-08) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,230
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Junior Member
اجنبی
|
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Junior Member
اجنبی
|
![]() اصلوٰٰہ واسلام علیک یا رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلٌم اسسلام و علیکم ![]() میرا مقصد خدا نا خواستہ کسی کی دل آزاری نہیں تھی اور نہ ھی عام لو گوں کی تحقیر مقصد تھی اگر کسی اسلامی بھای کو تکلیف پھنچی تہ انتھای عاجزی کے ساتھ معافی کی درخواست ہے۔ میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میں کسی کو نہیں بلکہ خد کو ایک جاہل آدمی جانتا ہوں اور کھیں ایسا نہ ہو کہ میری منہ سے کوی ایسی بات نکل جاے جسکو باقی اسلامی بھای کسی غلط رخ میں لے جاءیں۔ جیسا کے عام طور پر بے انتھا مثالیں میں دیکھ چکا ہوں بہر حال تمام اسلامی بھایوں سے دل آزاری کی معزرت انشاءاللہ بہت جلد اسی موزوع پر تفصیلی مراسلہ لے کر حاضر ہونگا جب تک کے لیے- اللہ حافظ وناصر دعا ٔوں کی مدنی التجا خادم اہلسنت و سگ عطار عمیر عطاری قادری |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ اتنی انکساری سے کام لیتے ہیں ، میں آپ کے تفصیلی مراسلے کا منتظر رہوں گا انشا اللہ، اور ساتھ یہ جاننے کی بھی خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اشرف المخلوقات میں سے بنایا تو آپ خود کو ایک نجس مخلوق کا نام یا لقب دے کر اللہ تعالیٰ کی نا شکری کیوں کر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق جاننے پہچاننے اور اُسے قبول کر کے اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پوسٹ, واقعات, قرآن, مکمل, موقع, موت, ممکن, آج, ایٹم بم, اللہ, انسان, انشا, بھائی, تلاش, تعلیم, جواب, حکم, حل, حدیث, سفر, عالم, صلاحیت, صالح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے | ناصر نعمان | اسلامی عقیدہ | 143 | 04-11-10 11:49 AM |
| غیر تعامل گیسیں inert gases یا nobel gaes | طارق راحیل | شعبہ طب | 0 | 27-12-08 03:57 PM |
| اتحاد و یکجہتی... کے بغیر کامیابی ناممکن ہے | پیاسا | متفرقات | 1 | 02-11-08 01:59 PM |
| افغانستان: ہرات میں غیر ملکی افواج کے قافلے پر خودکش حملہ، متعدد ہلاک | ابن جلال | خبریں | 0 | 18-10-08 03:04 PM |