واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


ممنوعہ امور، مردوں پر سونے کا استعمال ممنوع و حرام ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-08, 11:46 AM   #1
ممنوعہ امور، مردوں پر سونے کا استعمال ممنوع و حرام ہے
چیتا چالباز چیتا چالباز آف لائن ہے 19-12-08, 11:46 AM

ممنوعہ امور
مردوں پر سونے کا استعمال ممنوع و حرام ہے

اللہ تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے ، اس نے ہمارے لئے بعض اشیاءکا استعمال ممنوع و حرام قرار دیا ہے ، ہمیں چاہئیے کہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے ان سے رک جائیں ، اسی میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ، سونا مرد کے لئے حرام و ممنوع ہے ، عورت کے لئے جائز ہے :

1 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا ، اور فرمایا تم میں سے کوئی آگ کے انگارے کا قصد و ارادہ کرتا ہے کہ اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیتا ہے ( یعنی مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی وغیرہ کو آگ کے انگارے سے تعبیر کیا ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لے جانے کے بعد اس آدمی کو کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے فائدہ حاصل کرو ، تو اس نے کہا ، نہیں ، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھینک دیا ہے ، میں یہ کبھی بھی نہیں لوں گا ۔ ( صحیح مسلم : 2090 )
مطلب یہ ہے کہ یہ سونے کی انگوٹھی نہیں ، جہنم کی آگ کا انگارا ہے ، جسے ہاتھ میں لیے ہوئے ہو ۔

2 سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من کان یومن باللہ والیوم الآخر فلا یلبس حریرا ولا ذھبا ( مسند الامام احمد : 261/5 وسندہ حسن )
” جو ( مرد ) اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ ریشم اور سونا مت پہنے ۔ “
حافظ منذری رحمہ اللہ ( الترغیب ) اور حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے اس کے راویوں کو ” ثقہ “ کہا ہے ۔ ( مجمع الزوائد : 174/5 )

3 سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجران سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا کہ تم میرے پاس آئے ہو ، جبکہ آپ کے ہاتھ میں آگ کا انگارا ہے ۔ ( نسائی : 5191 ، مسند الامام احمد : 14/3 وسندہ حسن )

امام ابن حبان رحمہ اللہ ( 5489 ) نے اسے ” صحیح “ کہا ہے ۔ اس کا راوی ابوالنجیب المصری ” حسن الحدیث “ ہے ، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ ( 1669 ) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ ( 5489 ) نے اس کو ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام ابن یونس المصری کہتے ہیں ۔ کان احد الفقہاءفی ایامہ

ہماری حالت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مال کی فراوانی سے نواز رکھا ہے تو فخریہ طور پر سونے کی انگوٹھیاں وغیرہ پہن لیتے ہیں ، ہمیں چاہئیے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے بچیں ، وہ کتنا ہی بدنصیب و بدبخت اور نامراد انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ کپڑوں اور سونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے گا ۔

4 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی ( منسوخیت و حرمت سے پہلے ) پہنتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں یہ کبھی بھی نہیں پہنوں گا ، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔ “ ( صحیح بخاری : 5865 ، صحیح مسلم : 53/2091 )

سیدنا براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں سے منع فرمایا ، ان میں ایک سونے کی انگوٹھی ( وغیرہ ) تھی ۔ ( صحیح بخاری : 5863 )

فائدہ : ابوالسفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ براءبن عازب رضی اللہ عنہ نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی ۔ “ ( مصنف ابن ابی شیبہ : 282/8 ، شرح معانی الاثار : 259/4 ، وسندہ صحیح )
براءبن عازب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرد کے لئے سونا پہننے کی ممانعت بیان کر رہے ہیں ، جبکہ خود سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے ، اس کا جواب یہ ہے کہ سیدنا براءبن عازب رضی اللہ عنہ یہ سونے کی انگوٹھی پہننا اپنے لیے خاص سمجھتے تھے جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے ۔

محمد بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے براءبن عازب رضی اللہ عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو کہتے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے ؟
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ( مردوں ) کو منع فرما دیا ہے ، تو سیدنا براءبن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ کے سامنے مالِ غنیمت پڑا تھا ، آپ اسے تقسیم کر رہے تھے ، اس مالِ غنیمت میں قیدی اور دیگر سامان تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے کا سارا مال تقسیم کر دیا ، صرف ایک انگوٹھی بچ گئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف نگاہ مبارک اٹھائی ۔ پھر جھکالی ، پھر اٹھائی نیچے کرلی ، پھر اٹھائی اور فرمایا اے برائ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، آپ نے وہ انگوٹھی لی اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
خذ البس ماکساک ورسولہ قال : وکان البراءیقول : کیف تامرونی ان اضع ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم البس ماکساک ورسولہ
” یہ سونے کی انگوٹھی لے لو ، اور پہن لو ، یہ آپ کو اللہ اور اس کے رسول نے پہنائی ہے ، براءبن عازب کہتے ہیں کہ آپ لوگ کیسے مجھے یہ انگوٹھی اتارنے کا حکم دیتے ہو ، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو یہ انگوٹھی پہن لے ۔ جو تجھے اللہ اور اس کے رسول نے پہنائی ہے ۔ ( مسند الامام احمد : 294/4 ، مسند ابی یعلیٰ : 1707 ، شرح معانی الاثار : 259/4 وسندہ حسن )
اس کا راوی محمد بن مالک الجوز جانی رحمہ اللہ کو امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ” لاباس بہ “ کہا ہے ۔ ( الجرح والتعدیل : 88/8 )
امام ابن حبان رضی اللہ عنہ کا قول تعارض و تناقض کی وجہ سے ساقط ہے ۔ پتہ چلا کہ سیدنا براءبن عازب رضی اللہ عنہ یہ انگوٹھی اپنے لیے خاص سمجھتے تھے ۔ لہٰذا سونے کی حرمت مرد کے حق میں برقرار رہی ۔

فائدہ نمبر 2 : جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے سونے کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے ، شاید ان تک سونے کی منسوخیت اور حرمت و ممانعت نہ پہنچی ہو ۔

6 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے دوست ( مرد ) کو آگ کا کڑا پہنانا پسند کرتا ہے ، چاہئیے کہ وہ اسے سونے کا کڑا پہنائے ۔ جو اپنے دوست کو آگ کا طوق پہنانا پسند کرتا ہے ۔ وہ اسے سونے کا طوق ( زنجیر ) پہنائے جو اپنے دوست کو آگ کے کنگن پہنانا پسند کرتا ہے ، وہ اسے سونے کا کنگن پہنائے ۔ چاندی ہی استعمال کرو ( سونے کی طرف تجاوز مت کرو ) اس کے ساتھ کھیلو ( یعنی جو چیز چاہو بنالو ) ( ابوداود : 4236 ، مسند الامام احمد : 378, 334/2 وسندہ حسن )
حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند تو ” صحیح “ کہا ہے ۔ ( الترغیب والترہیب : 273/1 )
معلوم ہوا سونا مرد کے لئے جہنم کی آگ ہے ، تھوڑا استعمال کرنا یا زیادہ ۔

7 سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ مبارک میں ریشم اور بائیں میں سونا پکڑ کر فرمایا :
ان ھذان حرام علی ذکور امتی
” یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ “ ( ابوداؤد : 4057 ، نسائی : 160/8 ، ابن ماجہ : 3595 ، مسند الامام احمد : 115/1 وسندہ حسن )
حافظ عبدالحق الاشبیلی رحمہ اللہ نے اپنی ” احکام “ میں اس حدیث کے بارے میں امام علی بن مدینی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں :
حدیث حسن رجالہ معروفون
” اس کا راوی ابو افلح کو امام عجلی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ” صدوق “ کہا ہے ۔ ( الکاشف : 271/3 )
عبداللہ بن زریر کو امام ابن سعد رحمہ اللہ ، امام عجلی رحمہ اللہ ، ابن حبان رحمہ اللہ اور ابن خلفون رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ کہا ہے ۔ عبدالعزیز بن ابی الصعبہ کو امام ابن حبان نے ” ثقہ “ اور امام علی بن مدینی رحمہ اللہ نے لیس بہ باس معروف کہا ہے ۔ کمامر

8 مسلمہ بن مخلد رحمہ اللہ نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کھڑے ہو جائیے ، جو بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، اس کے بارے میں لوگوں کو خبر دیں ، تو انہوں نے کہا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار
” جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا ، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ۔ “

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
الحریر والذھب حرام علی ذکور امتی حلال لاناثھم
” ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے ، عورتوں کے لئے حلال ہے ۔ “
( المعرفۃ والتاریخ یعقوب بن سفیان الفسوی : 506/2 ، بیہقی : 276, 75/3 ، شرح معانی الآثار للطحاوی : 251/4 وسندہ حسن )
یحییٰ بن ایوب اور الحسن بن ثوبان دونوں حسن الحدیث میں ، ہشام بن ابی رمیۃ کو امام ابن حبان اور یعقوب بن سفیان نے ثقہ کہا ہے ۔ مسلمہ بن مخلد کوجمہور محدثین نے صحابہ میں شمار کیا ہے ۔

فائدہ نمبر1 : بعض اضطراری حالتوں میں مرد کے لئے سونے کے استعمال کا جواز ملتا ہے ۔ مثلاً سونے کا ناک لگوانا ، دانت یا داڑھ میں سونا بھرنا ، دانتوں کو سونے کی تار سے جوڑنا جائز ہے ۔ جیسا کہ عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ” یوم الکلاب میں ان کی ناک کٹ گئی ، انہوں نے چاندی کی ناک لگوائی ، جو بدبو دار ہو گئی ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سونے کی ناک لگوانے کا حکم صادر فرمایا ۔ ( مسند الامام احمد : 23/5 ، ابوداؤد : 4232 ، ترمذی : 1770 نسائی : 5164 ، وسندہ حسن )
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ” حسن “ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 5462 نے ” صحیح “ کہا ہے ۔ اس کے راوی عبدالرحمن بن طرفہ کو امام عجلی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ وغیرہ نے ” ثقہ “ کہا ہے لہٰذا یہ ” حسن الحدیث “ ہے ۔

فائدہ نمبر2 : بعض لوگ شوقیہ طور پر سونے کا خول چڑھا لیتے ہیں ، یہ قطعی طور پر جائز نہیں ہے ۔

9 سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں ) کو سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع کر دیا ۔ “ ( صحیح بخاری : 5864 ، صحیح مسلم : 2089 )

10 نجاشی ( بادشاہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں کچھ زیور بھیجا ، اس میں سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی ، جس پر حبشی نگینہ جڑا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انگوٹھی سے اعراض برتتے ہوئے لکڑی یا اپنی انگلی سے پکڑا ۔ پھر ( اپنی نواسی ) امامہ بنت زینب کو بلایا اور فرمایا ، بیٹی! یہ پہن لو ۔ “ ( ابوداؤد : 4235 ، ابن ماجہ : 3644 وسندہ حسن )
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی ہے ، تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا ، یقینا یہ تو آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر ہستی نے بھی دیکھی ، لیکن اسے معیوب نہیں سمجھا ، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا ، وہ کون ہیں ؟ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ “ ( نسائی : 5166 )
اس کی سند ” ضعیف “ ہے ، اس میں عطا الخراسانی ہے ، جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ” یدلس “ یہ تدلس کے مرتکب تھے ۔ “ ( تقریب : 4600 )
یاد رہے کہ عطا الخراسانی ” حسن الحدیث “ ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس کو ” حسن “ بھی مان لیا جائے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تک سونے کی حلت کی منسوخیت نہیں پہنچی ہو گی ۔
الحاصل ، سونا مرد کے لئے حرام اور ممنوع ہے ، عورت کے لئے حلال ہے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اپنے سچے دین پر راضی ہونے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سے نوازے ۔

 
چیتا چالباز's Avatar
چیتا چالباز
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 435
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا
compaq (23-08-11), فیصل ناصر (11-06-11), میاں شاہد (19-12-08), سحر (09-06-09), عروج (11-06-11)
پرانا 11-06-11, 07:41 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج ھم قرآن اور حدیث کا علم حاصل کرنے کو فالتو وقت کے لیے بہترین کام سمجھتے ھیں جبکہ یہ فرض بھی اسی لیے قرار دیا گیا کہ معمولی معمولی مگر اھم باتوں کا خیال کر کے گناہ کی بجائے ثواب کمائیں۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (05-05-12)
پرانا 05-05-12, 12:51 AM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 142
کمائي: 1,905
شکریہ: 20
68 مراسلہ میں 138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[SIZE="5"]ناصر الدین البانی اپنی عربی تصنیف "آداب الزّفاف فی السّنۃ المطھّرۃ" جس کا اردو ترجمہ محمد اختر صدیق نے کیا ہے" سنت مطہرہ اور آداب مباشرت" کے نام سے
اس کتاب کے صفحہ 76 پر البانی صاحب لکھتے ہیں کہ

"خوب جان لو کہ سونے کی انگوٹھی کنگن ہار وغیرہ عورت کے لیے ویسے ہی حرام ہے جسے مرد کے لیے ہے "

Last edited by فیصل ناصر; 05-05-12 at 01:25 AM. وجہ: no link allowed in Islamic section
khuram آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 01:07 AM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
"خوب جان لو کہ سونے کی انگوٹھی کنگن ہار وغیرہ عورت کے لیے ویسے ہی حرام ہے جسے مرد کے لیے ہے "
تو پھر سونے کا کریں کیا ِ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (05-05-12)
پرانا 05-05-12, 01:35 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 142
کمائي: 1,905
شکریہ: 20
68 مراسلہ میں 138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
تو پھر سونے کا کریں کیا ِ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ بات آپ البانی صاحب کے چاہنے والوں سے پوچھیں شکریہ
khuram آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 01:51 AM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : khuram مراسلہ دیکھیں
یہ بات آپ البانی صاحب کے چاہنے والوں سے پوچھیں شکریہ
اب یہ کہاں سے ملیں گے ۔؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 02:20 AM   #7
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : khuram مراسلہ دیکھیں
[SIZE="5"]ناصر الدین البانی اپنی عربی تصنیف "آداب الزّفاف فی السّنۃ المطھّرۃ" جس کا اردو ترجمہ محمد اختر صدیق نے کیا ہے" سنت مطہرہ اور آداب مباشرت" کے نام سے
اس کتاب کے صفحہ 76 پر البانی صاحب لکھتے ہیں کہ

"خوب جان لو کہ سونے کی انگوٹھی کنگن ہار وغیرہ عورت کے لیے ویسے ہی حرام ہے جسے مرد کے لیے ہے "

السلام علیکم محترم خرم

دیکھیں اگر کام خدمت کے لئے کریں گے تو فائدہ حاصل ہو گا اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور نیت ہو گی تو اس کا رزلٹ ہمیشہ الٹ ہوتا ھے۔

اسطرح اپنی بات پیش کریں گے تو کوئی بھی بندہ سوچنے پر مجبور ہو گا کیونکہ ہر بندہ کتاب کی طرف متوجہ نہیں ہوتا سامنے جو ہو اسی پر بات کرتے ہیں۔

علامہ صاحب کی اپنی رائے ھے دوسرے صفحہ کے حاثیہ میں غور فرمائیں تو علم ہو جائے گا۔





والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 03:08 AM   #8
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 142
کمائي: 1,905
شکریہ: 20
68 مراسلہ میں 138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ًمحترم کعنان بھائی

کتاب کا حاشیہ البانی صاحب نے نہیں لکھا بلکہ یہ مترجم کی رائے ہے جبکہ البانی صاحب اس بات کے قائل ہیں کہ عورتوں کے لیے حلقہ دار سونے کے زیورات پہنا حرام ہیں اس کے لیے وہ دو صحیح احادیث بھی بیان کرتے ہیں آپ کے اسکیں شدہ صفحات پر
khuram آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 03:11 AM   #9
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 142
کمائي: 1,905
شکریہ: 20
68 مراسلہ میں 138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
اب یہ کہاں سے ملیں گے ۔؟؟
انتظار کریں بس ابھی آنے ہی والے ہیں
khuram آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 03:38 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

دیکھیں بھائی مترجم نے بھی جو لکھا ھے وہ بات سمجھ میں تو آتی ھے جیسے علامہ البانی اور ابن باز دونوں کا موقف الگ الگ ھے پھر اس کے علاوہ جمہور علماء کا موقف بھی اس سے الگ ھے۔

اس موضوع پر علامہ البانی سے بھی بہت سوں مفتق ہونگے اپنے اپنے ذھن کی بات ھے۔ مترجم نے بھی جو لکھا ھے معلوم نہیں اصل متن میں اسے کیسے پیش کیا گیا ہو میں خود اس موقف سے متفق نہیں کیونکہ سونے عورتوں کے پہننے پر اور بھی احادیث مبارکہ ہیں جس سے سونا ایک گرم دھات ھے جو عورتوں کے -------- کے لئے بہتر/مفید ھے۔ ریشم اور سونا پر میں سائنٹیفک طریقہ سے بھی بہت دلیلیں پیش کر سکتا ہوں جو احادیث مبارکہ سے میچ کریں گی مگر ایسے موضوع میں اوپن فارم پر ڈسکس نہیں کرتا۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-05-12, 10:24 AM   #11
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مندرجہ بالا احادیث سے اتنا تو معلوم ہورہا ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواتین کا بھی سونا پہننا پسند نہیں تھا ۔
لیکن ہمارے معاشرے میں شادی کے بعد عورتوں کو سونے کے زیور پہننا لازمی تصور کیا جاتا ہے
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پسند, وقت, قرآن, قصد, معلوم, آج, آدمی, ایمان, انسان, بہترین, جھوٹ, جواب, حکم, حدیث, حسن, خبر, دوست, دعا, سمجھتے, عورت, علم, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
امریکی اہلکار کا پاکستانی شہریوں پر ممنوعہ گولیاں استعمال کرنے کا انکشاف گلاب خان خبریں 0 29-01-11 03:37 AM
موبائل فون کا استعمال پٹرول پمپ پر کیوں ممنوع ہے ؟ عبدالقدوس دلچسپ اور عجیب 9 19-11-10 04:43 PM
:::::تین کاموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے قسم اٹھائی ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 7 14-12-09 02:17 PM
ممنوعہ ادویات استعمال کرنے والے پلیئرز تفسیر حیدر کرکٹ 0 16-07-08 03:47 PM
سول اداروں سے فوجیوں کی واپسی کے بعد سویلین افسران کی تعیناتی شروع عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger