| مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نصرت ظہیر اس روز صبح ہوئی تو سب کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔حالانکہ سب کچھ معمول کے مطابق ہی تھا۔کسی چیز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ گھڑی نے ہر روز کی طرح سات بجے الارم دیا۔ میں نے ہمیشہ کی طرح اس کے کان اینٹھے اور گھڑی کوخاموش کر کے پھر چادر تان لی۔ اس کے بعد جس طرح بیڑی پھونکنے والا بیڑی ختم ہونے پر زور زور سے اس کے آخری کش لیتا ہے، اسی طرح میں بھی نیند پوری ہونے پر ایک ڈیڑھ گھنٹا مزید سو کر نیند کی لذت کے آخری لمحے نچوڑنے لگا۔ یوں روز کی طرح مسلمانوں کے معیاری وقت کے مطابق اس روز بھی ساڑھے دس بجے بستر سے اترا تھا۔ سر حسبِ معمول بھاری لگ رہا تھا۔ منھ پر پانی کے چھینٹے دیے۔ دانتوں کو برش کیا۔ سر کا بھاری پن کچھ کم ہونے لگا۔سوچا تھوڑی سی ورزش کر لوں۔ چنانچہ کمرے کا دروازہ اور کھڑکیاں بند کرکے میوزک سسٹم پر کشور کمار کے پرانے گیتوں کی ایک کیسٹ لگادی۔ یہ میراآزمودہ تجربہ ہے کہ کشور کمار کے گیتوں پر ورزش سب سے اچھی ہوتی ہے۔اس کے برعکس ایک مرتبہ میں نے کندن لال سہگل کے نغموں پر ورزش کا تجربہ کیاتھا تو ایک ہی ریکارڈ میں سانس پھولنے لگاتھا،بلکہ ایک بار تو پنڈت بھیم سین جوشی کی میوزک البم پر بھی طبع آزمائی کی۔ میرے پھیپھڑے پنڈت جی کی ایک تان کی بھی تاب نہ لا سکے۔ کلاسیکی موسیقی میں صرف استاد اﷲ رکھا خاں اور ان کے فرزند استاد ذاکر خاں کی جوڑی ہے، جن کا لاجواب فن ورزش میں کچھ اچھے نتائج فراہم کر سکتا ہے۔بشرطیکہ آپ کی ورزش کا بیش ترحصہ اِن استادانِ فن کی درُت لَے پر مبنی ہو۔ بہر کیف میں نے کشور کمار کی کیسٹ آن کی اور ورزش والی سائیکل پر سوار ہو گیا۔ صاحب، یہ ورزشی سائیکل بھی خوب ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وزن کم رکھنا ہے اور صحت مند رہنا ہے تو ہرروز صبح ایک گھنٹا کھلے میدان میں دوڑ لگائو۔ مگر اس سائیکل کے اشتہار میں لکھا تھا کہ اسے ہر روز پانچ دس منٹ چلانے سے وزن قابو میں آ جاتا ہے۔ بندہ ٹھہرا پیدائشی مسلمان اور وہ بھی ایسامسلمان۔ غیر ضروری ہی نہیں، بلکہ ضروری محنت و مشقت سے بھی بچتے رہنے کا خوگراور زندگی کے ہر راستے میں شارٹ کٹ، بلکہ ہوسکے تو یو ٹرن ڈھونڈنے کا عادی۔ سو میدان کی دوڑ سے بچنے کے لیے یہ سائیکل خرید لی۔ سائیکل خرید کر گھر لایا تو میاں عبد القدوس نے اس کی کچھ ایسی خوبیاں بیان کردیں، جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں، بلکہ میرا توخیال ہے سائیکل بنانے والوں کے ذہن میں بھی یہ باتیں نہیں آئی ہوں گی۔ کہنے لگے: ''سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ اس میں ایکسیڈنٹ کاخطرہ نہیں ہے۔ نہ یہ ڈی ٹی سی کی بس کے نیچے آئے گی، نہ کسی نالے میں جاگرے گی۔پھرٹائر ٹیوب اور پنکچر کا بھی کوئی جھنجھٹ نہیں۔ ہمیشہ اپنی چار ٹانگوں پر کھڑی رہتی ہے۔ علاوہ ازیں سائیکل پر سوار ہو کر اسے چاہے جتنا دور چلالو،گھر واپسی کے لیے مزید پیڈل مارنے اور جان کھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں رکو گے وہیں گھر آجائے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس پر چڑھ کر خود تو تم کئی کلو میٹر چل لو گے، لیکن یہ خود وہیں کی وہیں کھڑی رہے گی۔ یوں دیکھو گے تو مردِ مومن کی کئی صفات تم ان میں پائو گے،بلکہ ایک نقاد نے تو لکھا ہے کہ ''علامہ اقبال کو بھی سائیکل سواری بہت پسند تھی اور اکثر وہ اپنی کو ٹھی کی بالکنی میں آرام سے بیٹھ کر لوگوں کو سائیکل چلاتے ہوئے دیکھتے رہتے تھے۔'' بہر حال، اس روز بھی میں نے گن کر دو پرانے فلمی گانوں کے بقدر ورزش کی (پورے سات منٹ تک!) اور اس کے بعد ہانپتا کانپتا غسل خانے کی طرف چل دیا۔ غسل سے فراغت کے بعدناشتہ سے انصاف کیا اور چائے پی کر بالکنی میں آکھڑا ہوا۔ باہر بھی سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ سڑک پر لوگ تیزی سے پیدل آجارہے تھے۔ بازار کھل چکے تھے۔ دائیں طرف راشن کی دُکان کے آگے زندگی سے اکتائے لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔ مٹی کا تیل لینے والوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی، کئی لوگ ایک دوسرے سے لائن توڑنے پر جھگڑ رہے تھے اور راشن کی دُکان کا مالک حسبِ معمول آج بھی وقت پر نہیں آیا تھا۔ سامنے میونسپل پرائمری گرلس اسکول میں صبح کی شفٹ کا وقفہ چل رہا تھا۔ اسکول کا آہنی سلاخوں والا گیٹ بند تھا۔ سلاخوں سے اسکولی بچیوں کے ننھے منے ہاتھ باہر کو پھیلے ہوئے تھے۔ بچیاں جن کے چہرے بھوک سے کمھلائے تھے،گیٹ کے باہر کھڑے چنے چھولے والے کو آواز دے دے کر اپنی طرف بلا رہی تھیں۔ اس سے چھولے خرید رہی تھیںاور گندے کپڑوں میں ملبوس چھولے والا بدرنگ پتوں کے دونے میں چھولے بھر کر ایک ہاتھ سے بچیوں کو چھولے تھما رہا تھاتو دوسرے ہاتھ سے ان کی ہتھیلیوں پر رکھے سکّے چُگ رہا تھا! ہر منظر معمول کے مطابق تھا۔ مگر شاید میرے اندر رفتہ رفتہ کوئی تبدیلی آنے لگی تھی۔ کیونکہ دوسری بار میں نے چھولے والے کے کپڑوں کو دیکھا تو وہ اتنے زیادہ میلے نہیں تھے، جتنے میں سمجھتا تھا۔ شاید ان کا رنگ ہی ایسا تھا۔ بچیوں کے چہرے بھی بھوک سے اتنے مرجھائے ہوئے نہیں تھے، جتنے ہر روز نظر آتے تھے۔ راشن کی دُکان کے آگے کھڑی بھیڑ میں بھی چہروں پر وہ اکتاہٹ، جھنجھلاہٹ اور مایوسی جمی ہوئی نہیں تھی، جو روز دکھائی دیتی تھی۔یہاں تک کہ اسکول کی چھت پر شور مچاتا ہوا کوا بھی آج اتنا منحوس نہیں لگ رہا تھا، جتنا ہر روز لگتا تھا۔ میں نے دیکھا چھولے والے کے چہرے پر ممتا بھری مسکان تھی۔ بچیوں کے چہرے زندگی کی چمک سے روشن تھے۔مٹی کے تیل کا دُکاندار کام پرآچکا تھا۔ لائن میں کھڑے لوگ ایک دوسرے سے لائن توڑنے پر جھگڑنے کی بجائے آپس میں لطیفے بازی کررہے تھے،ہنس رہے تھے، مسکرا رہے اور اسکول کی چھت پر بیٹھے شور مچاتے ہوئے کوے کی کائیں کائیں میں بھی آج مجھے ایک قدرتی آہنگ سنائی دے رہا تھا! پتہ نہیں کیوں میرا جی چاہا کہ نیچے اتروںاور 'یاہو' کا نعرہ لگا کر سڑک پر قلابازی کھا جائوں۔چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لوں اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتادوں کہ ''احمقو! بے وقوفو!سب کچھ اتنا برا اور اتنا ناخوشگوار نہیں جتنا تم سمجھتے ہو، بس ذرا نظر اور نظریے کا صحیح استعمال کرنا سیکھ لو! تبھی دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں زینے سے نیچے اتر آیا۔ سامنے اخبار والا کھڑا تھا۔ ''معاف کرنا سر! بیوی بیمار تھی، بچوں کو تیار کرکے اسکول بھیجنااور کھانا بنانا تھا ، اس لیے دیر ہوگئی۔'' اخبار والے کے چہرے پر شر مندگی تھی اور میری طرف پھیلے ہاتھ میں اخبار کا بنڈل! اور جیسے کھٹ سے صبح کی تمام تبدیلیوں کی وجہ میری سمجھ میں آگئی۔ آج میں نے صبح کا اخبار نہیں پڑھا تھا! |
|
|
|
| کمائي نے ابن جمال کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 17-02-11 | زارا | ایک صبح نکھری نکھری سی | 100 |
![]() |
| Tags |
| color, فن, کلاسیکی, گھر, گمان, ٹانگوں, پسند, یاہو, ورزش, نیند, استاد, بیوی, بچوں, تاب, دیکھو, دنیا, ذرا, زندگی, علامہ, غسل, صفات, صبح, صحیح, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سی آئی اے سمیت کسی غیر ملکی ایجنسی کو پاکستان میں آزادانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی | گلاب خان | خبریں | 0 | 28-02-11 05:13 AM |
| ایس سی او ٹول بار کسی بھی مہنگے سرچ انجن آپٹیمائزیشن سافٹ ویر سے بہتر | یاسر عمران مرزا | SEO and Marketing | 15 | 28-11-10 12:55 AM |
| پی سی بی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-08-10 10:28 PM |
| آئی سی ایل میںپاکستان کا نام کیوں ---- پی سی بی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرل | محمدعدنان | کرکٹ | 1 | 16-04-08 11:27 AM |
| لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-12-07 08:27 AM |