واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > مزاحیہ ادب



مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب


بچے [ از شفیق الرحمٰٰن ]

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-07-10, 07:06 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post بچے [ از شفیق الرحمٰٰن ]

بچے [ از شفیق الرحمٰٰن ]


بچے

ایک صاحب جو غالباً شکاری تھے اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے کہ کس طرح وہ جنگل میں چُھپتے پھر رہے تھے اور ایک شیر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ بچے طرح طرح کے سوال پوچھ رہے تھے۔
شیر کا رنگ کیسا تھا؟
آپ کی شیر سے دشمنی تھی کیا؟
شیر دُبلا تھا یا موٹا؟
آپ نے شیر کی کمر پر لٹھ کیوں نہیں مارا؟
کیا آپ ڈرپوک تھے جو شیر سے ڈر رہے تھے؟

۔۔۔۔ وہ تھوڑی سی بات کرتے اور سب بچے چلّا کر پوچھتے،
پھر کیا ہوا؟
اور ساتھ ہی بے تُکے سوالات کی بوچھاڑ ہو جاتی۔ وہ بالکل تنگ آ چکے تھے۔
ایک مرتبہ بچوں نے پھر پوچھا کہ
پھر کیا ہُوا؟
" پھر کیا ہونا تھا۔" وہ اپنے بال نوچ کر بولے۔ " پھر شیر نے مجھے کھا لیا۔"
اور بچوں نے تالیاں بجائیں۔ ہپ ہپ ہرے کیا۔ ایک ننھا اپنا ڈھول اٹھا لایا اور ساتھ ہی لکڑی کا نصف گھوڑا، جسے آری سے کاٹا گیا تھا۔ اس گھوڑے کا نام لوئی ساڑھے تین تھا۔ انہوں نے وجہ بتائی کہ پہلے انہوں نے اُسے کسی دوست کے ساتھ مل کر خریدا تھا۔ تب اس کا نام لوئی ہفتم تھا۔ دونوں‌دوستوں کی لڑائی ہوئی تو گھوڑے کو آری سے آدھا آدھا تقسیم کیا گیا۔ چنانچہ اس کا نام لوئی ساڑھے تین رکھ دیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔


اُدھر بچوں نے ہمیں پریشان کر دیا۔ ایک پوچھتا تھا، بھائی جان چڑیا گھر کو چڑیا گھر کیوں کہتے ہیں؟ دوسرا یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ یہ چیتے اور شیر وغیرہ سرکس سے پہلے کیا کیا کرتے تھے؟ ایک کا غبارہ اُڑ گیا۔ وہ یہ دریافت فرما رہے تھے کہ کششِ ثقل نے غبارے کو روکا کیوں نہیں؟ کششِ ثقل سے اُن کا اعتبار اُٹھ چلا تھا۔
ایک بچے نے بتایا کہ اس نے ایک شخص دیکھا تھا جس کا نصف چہرہ بالکل سیاہ تھا۔
"یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" روفی نے پوچھا۔
"اس کا بقیہ نصف چہرہ بھی سیاہ تھا۔"
ایک بزرگ فرما رہے تھے۔ " جب میں چھوٹا سا تھا تو اس قدر نحیف تھا ، اتنا کمزور تھا کہ میرا وزن چار پونڈ تھا۔ مجھے دنیا کی بیماریوں نے گھیرے رکھا۔"
"تو کیا آپ زندہ رہے تھے؟" ایک ننھے نے دریافت کیا۔
ایک خاتون فرما رہی تھیں۔" اس وقت اپنے ملک میں ہم جاگ رہے ہیں، لیکن امریکہ کے بعض حصوں میں لوگ سو رہے ہوں گے۔"
" سُست الوجود کہیں کے۔" ایک ننھے نے بات کاٹی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرے کمرے سے ایک بچے نے صدائے احتجاج بلند کی اور نعرہ لگایا۔ ہم بھاگ کر پہنچے تو دیکھا کہ دو بچے لڑ رہے ہیں۔
بڑا چھوٹے کی خوب تواضع کر رہا تھا۔ مشکل سے دونوں کو علیحدہ کیا۔ دادی جان کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ لڑائی کی تفصیل بیان کی جا رہی تھی۔ چھوٹا بچہ ڈینگیں مار رہا تھا کہ میں نے یہ کیا ، میں نے وہ کیا۔ وہ کہہ رہا تھا۔
" میں نے اس کو پکڑ کر اپنے اوپر گرا لیا اور اپنی ناک اس کے دانتوں میں دے دی۔ پھر میں نے اس کی کُہنی اپنی پسلیوں میں چبھو دی اور دھڑام سے اس کا مُکہ اپنی کمر میں رسید کیا۔ پھر زور سے اس کا تھپڑ اپنے منہ پر مارا۔ پھر میں نے اس کی ٹھوکر جو اپنے سینے میں لگائی ہے تو بس۔۔"

اقتباس از حماقتیں کرنل شفیق الرحمٰن

یونی کوڈ بہ شکریہ UrduWeb Home Page

__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (29-07-10), معظم (29-07-10), ابو عمار (30-07-10)
پرانا 29-07-10, 11:04 PM   #2
Senior Member
 
معظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: ولایت
مراسلات: 2,539
کمائي: 66,987
شکریہ: 3,000
1,870 مراسلہ میں 4,776 بارشکریہ ادا کیا گیا
معظم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں معظم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں نے بچپن میں شفیق الرحمن صاحب کی ننانوے ناٹ آؤٹ پڑھی تھی اور کافی موٹی کتاب تھی شاید حماقتیں ہی نام تھا یا کچھ اور اس میں‌مختلف باب تھے۔ بہت عمدہ طرز تحریر تھا۔
یہ قطعہ بھی عمدہ ہے۔
__________________
اے اللہ! ان سنگین حالات میں ملکِ پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین ثم آمین
بزنس ایجوکیشن ایک تعلیمی بلاگ ، اب نئے انداز میں - http://bizedu.co.cc
معظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (30-07-10), مرزا عامر (29-07-10)
جواب

Tags
color, کیسا, کمر, کرنل شفیق الرحمٰن, کس, گھر, پہلے, وقت, لوگ, چیتے, نام, ملک, معلوم, امریکہ, احتجاج, بھائی, بے, بچوں, بچّے, حماقتیں, دیکھا, دوست, دے, دنیا, دریافت, شخص, علیحدہ, صدائے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger