|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
کمائي: 15,661
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہی پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔ بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ھیں،١٩٦٥ میں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔ بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودہ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔ بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ھوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مظبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔ راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔
انشاء جی |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شئیرنگ ہے بھائی
|
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | چیتا چالباز (20-01-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب اچھی شیئرنگ ہے۔
|
|
|
|
| ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | چیتا چالباز (20-01-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہی پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔ بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ہیں، ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔ بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودھ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔ بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ہوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مظبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔ راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے -
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
ایک بات بتاتا چلو
عطااللہ شاہ بخاری جب قرآن مجید پڑھتے تھے ان آواز میں مٹھاس ہوتی تھی گاندھی بھی ان سے قرآن مجید سننے جاتے تھے ایک اور بات سننے میں آئی گاندھی قرآن مجید 12 سپاروں کے حافظ بھی تھے قرآن مجید کو الہامی کتاب مانتے تھے اور قرآن مجید کا ناظرہ بھی کئی بار کیا تھا واللہ علم بالصواب ************************************************** ** |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پڑھ کر بہت اچھا لگا
شئیرنگ کا شکریہ
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی عید کارڈ بھیجے نا بھیجے۔ کسی پر غیر منصفانہ بات نہیں کرنی چاہیے (اس جملے کا مندرجہ بالا پیرا گراف سے کوئی تعلق نہیں)
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ننھا بچہ (06-06-11) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھارت
ابن انشاء کی یہ تحریر پہلے سے پاک نیٹ پر موجود ہے یا دونوںکو ضم کر دیا جائے یا قانون کے مطابق پرانی کو باقی رکھا جائے اور نئی کو سرد خانے میں منتقل کر دیا جائے ۔۔ شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
کمائي: 17,990
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مولانا ظفرعلی خان نے کہا تھا؎
ہندوستان میں بلائیں دوہی ہیں اک ساورکر،اک گاندھی ہے اک جھوٹ کاچلتاپیکرہے،اک مکر کی اٹھتی آ ند ھی ہے یہ توہماری رائےہے یہ حقیقت اپنی جگہ ہےکہ اپنی قوم کے لیےانہھوں نے بہت کچھ کیا ۔اسی لیے قائداعظم نےگاندھی جی کوگلاب کے پھول سےتشبیہہ دی تھی۔ |
|
|
|
| سام کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (07-06-11) |
|
|
#14 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن انسانیت کے نعرے لگانے والا ڈرامہ بھی بہت خوب کیا ۔۔ اوپر سے جتنے امن کی آشا تھے اندر سے مسلمانوں کے خلاف اتنے ہی سخت بغض رکھنے والے تھے۔ اور قائد اعظم نے گاندھی جی کو گلاب کے پھول سے تشبیہ کب دی تھی؟ اس کی تاریخ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب کانگریس کے پلیٹ فارم سے مشترکہ کاوشیں ہو رہی تھیں تب یا اس سے قبل تو ایسا ہو سکتا ہے لیکن جب قائد اعظم پر حقائق آشکار ہو گئے اور وہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کے مطالبے کے ساتھ کوشش کرنے میں مصروف ہوئے اس کے بعد ان کی طرف سے ایسا بیان اور ایسی تشبیہ کم از کم مجھے ممکن نظر نہیں آتی۔ |
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
مصنف کی انتقامی کاروائی بھی ہو سکتی۔ ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا
یہ تو بات کی حد تک ٹھیک ہے سچائی رب ہی جانتا ہے ************************************* |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہیں،, ہوتے, ہوتا, ہے،, کوئی, کرتے, پہلے, پھول, پورے, پاکستان, پسند, لوگ, چین, نظر, معلوم, آدمی, بھائی, بھارت, بڑا, بار, ثبوت, خود, عقیدت, عادت, عزت, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|