واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > مزاحیہ ادب



مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب


سیاست دان و بیماریاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-11, 06:18 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سیاست دان و بیماریاں

سیاست دان و بیماریاں

السلام علیکم

شوگر
یہ بیماری تقریباً سارے سیاست دانوں میں پائی جاتی ہے۔ حتی کہ وصی ظفر بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری کے جراثیم عام حالات میں سوئے رہتے ہیں۔ اور الیکشن سے چند ماہ قبل اس کا حملہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ سیاست دانوںکے منہ سے مٹھاس بھری باتیں کی بوچھاڑسے عوام شکر وشکر ہو جاتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انگلیاں مٹھاس کے شیرے سے جڑ گئی ہوں۔ وہی جانو مسلی جس کے پسینے کی بدبو سیاست دان صاحب کو میلوں دور سے ناک پر رومال رکھنے پر مجبور کردیتی تھی اور وہ بے چارہ ہمیشہ کتا اور کھوتا دا پتر جیسے القاب سے نوازا جاتا تھا۔ الیکشن کی گہما گہمی میں اسی جانو مسلی کو مسند خاص پر بٹھایا جاتا ہے۔ اور سیاست دان صاحب اس کی خوشامد کرتے اگلی پچھلی باتیں بھول جاتے ہیں۔ ”اوئے تو ،تو میرا بھائی ہے۔ میرا پتر ہے۔ اوئے تائے سے ناراضگی کیسی۔ اوئے ککڑ لا جانو چوہدری کے لئے“۔، عوام کے ان دنوں گھل مل جانے کے باوجود سیاست دانوں سے یہ بیماری عوام میں منتقل نہیں ہوتی۔ ہائی اور لوشوگر کا حملہ عموماً دو صورتوں میں ہوتا ہے۔ اگر پتہ چلے کہ مخالف آپ کے دھڑا دھڑ ووٹ خرید رہا ہے۔ یا پہلے پولنگ بوتھ پر اپنی جیت ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ہائی شوگر کا حملہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ جبکہ ہارنے والے سیاست دان کی شوگر لو ہو جاتی ہے۔ دونوں سیاست دانوں کی تکلیف ایک ہے۔ ایک کی شوگر ہائی اور دوسرے کی شوگر لو ۔ان دونوں صورتوں میں وہ چت لیٹے منہ میں زبان گھماتے ،خالی آنکھوں سے تیمار داروں اور آسمان کی جانب ٹکٹکی لگائے ہوتے ہیں۔ ایک منہ میں ٹافی گھما رہا ہے اور دوسرا انسولین لے رہا ہے۔

دل کی بیماریاں

سیاست چونکہ ایک پر خطر شاہراہ کا سفر ہے۔ اس شاہراہ پر قدم قدم پر دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی ہیں۔ اس لئے سیاست دانوں میں دل کی بیماریاں ایک عام مسئلہ ہیں۔ چونکہ الیکشن سے لے کر حکومت کی جبری برخاستگی تک وہ مسلسل ذھنی دباﺅ کا شکار رہتے ہیں۔ ایک آمر کا خوف انہیں کسی پل پھولون کی سیج پر سونے نہیں دیتا۔ حیرت کی بات ہے اس ذھنی تناﺅ میں اعلی پائے کے سیاست دانوں سے لے کونسلر لیول کے سیاست دان بھی شامل ہیں۔ اس دباﺅ میں حکومتی سیاست دانوں کا پریشان ہونا تو سمجھ میں آتا ہے۔اس تناﺅ کا شکار اپوزیشن کے سیاست دان بھی ہو جاتے ہیں۔اربوں روپوں سے الیکشن کھیل سے ان کی ”لاگت“ بھی پوری ہونے سے قبل ہی اگر انکی بساط لپیٹ دی جائے تو اس خوف سے ہائی بلڈ پریشر، لو بلڈ پریشر ،سانس کا پھولنا، دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو کر بڑبڑاتی ہیں۔ پھر نہ جانے دل کی کون کونسی بیماریاںاپنا گھر کر لیتی ہیں۔ اس صورت میں مولانا فضل الرحمن کی طرح یا تو ”سٹنٹ“ سے کام چل جاتا ہے۔اگر آمر کی وجہ سے طبیعت بگڑ جائے تو پھر لمبے چیر پھاڑ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

اسہال،دست ،پیچش،ہیضہ

گھٹیا قسم کی یہ بیماریاں عوامی ہیں۔ ان بیماریوں کا براہ راست تعلق عوام سے ہے۔ واسا کی ایک ہی لائن سے وقت دونوں کام فراہمی آب، نکاسی آب بیک وقت لئے جاتے ہیں۔ نکاسی آب کی سہولت سے تو سیاست دان مستفید ہو سکتے ہیں۔ان کا بس چلے تو اس کام کے لئے بھی کوئی اسپیشل طیارہ ہوتا جو آواز کی رفتار سے سفر کرتا اور وہ چند ہی منٹوں کسی یورپین ملک میں ”فارغ“ ہو کر واپس آ جاتے۔ چولستان کے جوہڑ ہوں یا گاﺅں کے گندے تالاب جن میں عوامی انسانی جانور اور جانورایک ہی گھاٹ اور گھونٹ، گھونٹ پانی پیتے ہیں۔اس لئے انسان نما عوامی جانوروں میں ان بیماریوں کی بہتات ہے۔جبکہ سیاست دانوں کا تعلق خواص سے ہوتا ہے ۔وہ فرانس کا پانی یا منرل واٹر پیتے ہیں۔اس لئے یہ گھٹیا قسم کی یہ بیماریاں ان کو گود نہیں لے سکتیں۔

ہیپا ٹائیٹس۔ اے،بی،سی تا زیڈ
عوام کا تعلق چونکہ براہ راست غلاظت سے ہوتا ہے۔اسی وجہ سے یہ بیماریاں بھی عوامی ہیں۔ان بیماریوں کے وقوع پذیر ہونے کی ذیادہ تر وجوہات میںناقص غذا،عوام کھاتے ہیں۔ناقص ماحول،عوام کا ہے۔ناقص پانی ،عوام کے لئے ہے۔فٹ پاتھی نائیوں سے شیو،عوام بنواتے ہیں۔فٹ پاتھی دندان سازوں سے دانت ،عوام نکلواتے ہیں۔ذیادہ تر سیاستدان چونکہ کے باہر کے ممالک میں پاکستان کے لئے زرمبادلہ کے حصول کے لئے دن رات انتھک محنت کرتے ہیں۔یہ عوام جن کا کام صرف اور صرف شک ہے۔ان دوروں کو نہ جانے کیوں شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔چونکہ قوم کا درد سیاستدانوں کی گھٹی میں پڑا ہے۔اس لئے ان کا ذیادہ تر وقت باہر ہی گزرتا ہے۔اس لئے یہ فٹ پاتھی بیماریاں ان سے اتنی ہی دور ہیں جتنی دور الیکشن کے بعد ان سے موجو مسلی ہو جاتا ہے۔

دماغی امراض
دماغی امراض تقریباً سارے سیاست دانوں میں پائے جاتے ہیں۔حتی کہ کونسلر کا اکیشن لڑنے والا بھی مستقبل میں وزیر اعظم کے خواب دیکھتا ہے۔دماغی امراض کی بہت سی شاخیں ہیں جن میں سب سے گھٹیا شاخ یہ ہے کہ تقریباً ہر سیاست دان کی خواہش ہوتی ہے کہ موت آنے سے قبل اس سے کوئی کام لے لیا جائے تا کہ جنازہ تو ذرا دھوم دھام سے نکلے۔اس سلسلے میں بہت سے سیاست دان درپردہ امریکہ سے رابطے میں رہتے ہیں۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ امریکہ ان سے خالی اشٹام پر انگوٹھا لگوا لے قبل اس کہ کوئی اور انگوٹھا لگا ّئے۔

آنکھوں کی بیماریاں
دور وزارت میں موجو مسلی کی شکل دھندلا جاتی ہے اور اگر وہ کبھی رستے میں مل جائے تو موجو مسلی کو گاڑی کے ٹائروں سے اٹھنے والی مٹی کی دھول ہی ملتی ہے۔صاحب تو زن سے گزر جاتے ہیں۔ ہارنے کے بعد آہستہ آہستہ سیاست دان کو سبھی دھندلائی ہوئی ووٹروں کی شکلیں یاد آنے لگتی ہیں۔اور علاقے کے لوگ ان سے بے ساختہ پوچھتے ہیں۔”صاحب !”شعاعیں “لگوا آئے“۔ان بیماریوں میں ذیادہ تر ہارنے والے سیاست دان مبتلا ہوتے ہیں۔ ہارنے والا سیاست دان دوبارہ عوام کے بہت قریب ہو جاتا ہے اس کی واضح مثال شیخ رشید احمد اور چوہدری شجاعت حسین ہیں۔

امرض مخصوصہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بالغوں کے لئے لکھتے ہیں مگر چونکہ ہماری تحریریں بچے بھی پڑھتے ہیں اور بڑوںکی نسبت جلدی سمجھ جاتے ہیں۔اس لئے ہم ان بیماریوں کا تذکرہ بھی نہیں کریں گے۔ان بیماریوں کی تفصیل جاننے کے لئے آپ کسی مختلف حکیموں کی بس سٹاپ پمفلٹ سروس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔اگر کسی جگہ سے آپ کو پمفلٹ نہ ملے اور آپ اس سلسلے میں ذیادہ بے چین ہوں تورات کو کسی وقت جب بچہ سو رہا ہو اپنے نویں میں پڑھنے والے بچے کے بستے کو اکیلے میں الٹ دیں ۔آپ کو کوک شاستر سمیت بہت سی حکیموں کی کتابیں مل جائیں گی۔

مصنف: کے ایم خالد
زارا
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (09-02-11), عروج (10-02-11)
پرانا 09-02-11, 06:33 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,194
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-02-11, 01:14 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زارا ذکیہ جی شئیرنگ کا شکریہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, گھر, گئی, پاکستان, وقت, وزیر, قدم, لوگ, چین, نظر, موت, منتقل, امریکہ, بھائی, بے, جیت, ذرا, رفتار, رات, سفر, سیاست, عوام, عوامی, علاقے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بارش کی سائنس اور کیچڑ کی سیاست گوہر سیاست 0 30-07-09 09:50 PM
نامور سیاہ ست دان وسیم گپ شپ 6 28-02-09 10:40 AM
سیاست چیف سیاست 0 09-11-07 10:23 AM
ایک سیاست دان کی دعا۔۔۔۔ چاند مزاحیہ شاعری 0 10-09-07 09:55 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger