| مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
آج رشِدہ بہت پرِشان تھی کیونکہ اس کا شادی میں پہن کر جانے کیلئے جوڑا بہت میلا ہوچکا تھا، اور بار بار وہی جوڑا پہن کر جانا بھی اچھا نہیں لگتا تھا آج تو اس نے اپنے شوہر کو منع ہی کردیا تھا کہ جب تک نیا جوڑا بن کر نہیں آئے گا، وہ کسی شادی میں نہیں جائے گی، کیونکہ پرانے جوڑنے کی چمک بھی ماند پڑچکی تھی، اور جس شادی میں بھی جاتی تھی، عورتیں اکثر اس کے جوڑنے کو دیکھ کر ہنستی تھیں، اور اسی لے وہ کسی سے بھی آنکھیں نہیں ملا سکتی تھی، آج جس شادی میں جانا تھا وہ تو شاید کسی بڑے امیر گھرانے کی لگتی تھی، کھانا بھی یقینا بہترین ہی ہوگا، لیکن کیا کرتی بیچاری کو اسکے شوہر کی ڈانٹ نے خاموش کرا دیا،!!!!!
اس کا اب دل تو نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ مذاق کا نشانہ بنے، اس لئے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اب آخر میں ہی جائے گی، جب کھانا شروع ہوجائے گا، اسکا شوہر تو ناراض ہوکر چلا گیا، لیکن یہ بھی کیا کرتی شوہر کو ناراض بھی نہیں دیکھ سکتی تھی، مجبورا اس نے وہی جوڑآ جلدی جلدی پہنا اور فورا باہر نکل گئی، شادی ہال گھر کے پیچھے ہی تو تھا، پانچ منٹ میں وہ شادی کی گہماگہمی میں مصروف نظر آرہی تھی اور سب سے گھل مل کر باتیں کرنے میں تو ایسا لگتا تھا کہ اس نے کوئی ڈگری لی ہوئی ہے، لگتا تو ایسا تھا کہ جسے یہی میزبان ہو، کچھ ہی دیر میں کھانا شروع ہوگیا، اور یہ بھی اپنی ایک وہیں پر بنائی ہوئی سہیلی کے ساتھ کھانے کی طرف باتیں کرتی ہوئی چل دی، جسے ہی اس نے پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، اسی اثنا میں ایک محترمہ نے اس کے کندھے پر تھپتھپایا اور کہا کہ،!!!!!!! ذرا سنیں دلہن کی امی آپ کو بلارہی ہیں!!!!!، ر شیدہ کچھ پریشان سی ہوگئی، کیونکہ وہ دلہن کی اماں کو تو نہیں جانتی تھی، خیر وہ اسی خاتون کے پیچھے پیچھے چل دی، جیسے وہاں پہنچی، تو وہاں دلہن کی ماں نے بڑے پیار سے پوچھا کہ ،!!!!! خیر سے آپ شآید دولہا والوں کی طرف سے آئیں ہیں، وہ تو گھبرا سی گئی، اور ہکلاتے ہوے کہا کہ جی !!!!!، جی !!!!!! جی ،!!!!!! انہوں نے فورا کہا کہ میں ہی دولھا کی والدہ ہوں،!!! اور آج میں تم سے کہہ رہی ہوں کہ اگر آیندہ کبھی کسی شادی ہال کے قریب بھی تم یا تمھارا کوئی بھی آدمی نظر آیا، تو سیدھا تھانے میں بند کرادونگی،!!!!!!۔۔۔۔۔۔
__________________
اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے سے دیکھیں کتنا سکون ملتا ہے،!!!! Last edited by عبدالرحمن سید; 03-05-11 at 06:24 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | کنعان (01-05-11), یاسر عمران مرزا (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), عروج (10-05-11), صبیحہ (03-05-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
آغاز تو بہت اچھا تھا درمیان میں بھی مزا آیا لیکن آخر میں کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ذرا اس کا پیغام اگر واضح ہو جائے تو کہانی کا مزا دو بالا ہو جائے گا دولہا کی والدہ نے یہ کیوں کہا کہ ’’کسی بھی شادی ہال کے پاس دیکھا تو ‘‘ وہ پولیس آفیسر تھی یا سارے علاقے کے شادی حال ان کی ملکیت تھے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی اس کہانی میں کیا سبق چھُپا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا | حیدر (01-05-11), عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بھیا سیدھا سادہ ایک افسانہ سا ہے۔۔۔۔۔ کہ اس بےچاری کو پرانے کپڑوں کی وجہ سے بھکارن سمجھ لیا گیا۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور دولہا کی ماں یہ دیکھ کر سمجھ گئی کہ یہ لوگ مہمان نہیں ہیں بلکہ بن بلائے مہمان ہیں ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (11-05-11), ننھا بچہ (01-05-11), حیدر (01-05-11), راجہ اکرام (03-05-11), عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
مختلف پہلو ہیں کوئی سمجھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا | حیدر (01-05-11), عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کئی لوگ تو واقعی بھوک افلاس سے مجبور ہوکریا تو مزاروں کے لنگر کی طرف چلے جاتے ہیں اور کئی ذرا جو اچھے اسٹینڈرڈ کے بھکاری ہوتے ہیں وہ شادی ھال کا رخ کرتے ہیں تاکہ ذرا عزت و احترام سے کھانے پینے کا بندوبست ہوجائے،!!! اور اب تو یہ فیشن بن چکا ہے بہت چالاکی سے کئی حضرات اب تو شوقیہ بھی شادی ھال میں جاکر کھانے سے پہلے یاری دوستی بنا لیتے ہیں اور کسی کو شک بھی نہیں ہوتا،!!!! بلکہ کئی دفعہ تو دولہا دلہن کو باقاعدہ طور پر تحفہ کے طور پر ایک بڑا پیکٹ بھی تھما دیتے ہیں ، جو بعد میں کھولنے پر اندر سے خالی ملتا ہے، میری شادی میں تو جو کہ شاید 35 سال پرانی بات ہے، ایک بہت بڑے بھاری پیکٹ میں ایک تحفہ کسی نے دیا تھا، اسے بڑے شوق سے جب کھولا گیا تو پتہ چلا کہ ایک بہت بڑا تربوز اندر رکھا ہوا تھا، یہ تو خیر دوستوں نے مذاق کیا تھا، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تحفے بھی اندر سے غائب، !!!! ایسے بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ ایسے ہی لوگ دلہن کے لوگوں سے ملتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ دولہا کی طرف سے آئے ہیں، اور اگر دولہا والے ٹکرا جائیں تو اپنے آپ کو دلہن والوں کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار بنادیتے ہیں،!!!! شادی ھالوں میں اتنی افراتفری ہوتی ہے کہ کوئی ایک دوسرے کی خبر نہیں ہوتی یہاں تک کہ اکثر بچے بھی گم جاتے ہیں، بیگم سمجھتی ہے کہ بچہ شوہر سنبھال رہے ہیں، وہ تو ویسے بھی میک اپ اور کپڑوں کی چمک دمک قائم رکھنے کیلئے اکثر عورتیں اپنے بچوں کو اپنے سے دور ہی رکھتی ہیں اور زیادہ تر یہ بچوں کی ڈیوٹی بھی شوہروں کو انجام دینی پڑتی ہے،!!!! آپ کو اگر شادی ہال میں جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بعض شوہر حضرات پر کیا گزررہی ہوتی ہے، اور جن کے بچے چھوٹے ہوں اور دو چار ہوں تو ہھر دیکھیں ان کی حالت، کھانا تو بے چارےکیا کھائیں گے، بچوں کو ہی کھلاتے کھلاتے ان کا بھی پیٹ بھر جائے گا، اور ان کی بیگمات ایک دوسرے کی سہیلیوں کو اپنے کپڑوں اور زیورات کی نمائش ہی کرواتی پھر رہی ھونگی !!!! ابھی تو بہت کچھ لکھنا باقی تھا، لیکن آپ لوگ بھی خوب بور ہورہے ہوں گے، معذرت چاہتا ہوں، میں کوئی مستند ادیب یا شاعر تو ہوں نہیں، لیکن بس جو زبان پر آتا ہے لکھتا چلا جاتا ہوں،!!!! اب تو ایک زندگی ایک بڑا حصہ گزار چکا ہوں دشت سیاحی میں، کچھ سٹھیانے کی عمر کو بھی پار کرچکا ہوں، اس لئے لکھنے میں کوئی بےادبی یا گستاخی ہوجائے تو معافی کا خواست گار ہوں ایک اپنا بڑا بذرگ سمجھ کر معاف کردیجئے گا،!!! بہت شکریہ ، خوش رہیں، |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | skjatala (11-05-11), یاسر عمران مرزا (11-05-11), ننھا بچہ (03-05-11), منتظمین (03-05-11), مرزا عامر (03-05-11), راجہ اکرام (03-05-11), عروج (10-05-11), صبیحہ (03-05-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
ننھے بچے، اس میں تو بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے،!!!!! کبھی بھی بن بلائے مہمانوں کو اس طرح دھتکارنا نہیں چاہئے، نہ جانے کیا مجبوری ہے کہ وہ اس طرح بھوک کے مارے ادھر ادھر بھٹکتے پھررہے ہوتے ہیں،!!!!
اور اب آپ تو کبھی شادی ھالوں میں مت جانا، کیونکہ اب یہاں پر ڈاکے بھی پڑنے لگے ہیں، اور بچے بھی غائب، والدین تو سکون سے ہونگے کیونکہ ابا جان سمجھیں رہے ہوں گے کہ آپ اماں کے پاس ہیں اور اماں جان پھر آپکو آپکے والد کے پاس تصور کررہی ہوں گی،!!! اب ننھے میآن میں بھی کوئی صحیح لکھاری تھوڑی ہوں بس یوں ہی گزارا کرلیتا ہوں، اور سوچتا ہوں کہ کہیں تو کسی کو کوئی ایک بات سمجھ میں آجائے خوش رہیں،!!! |
|
|
|
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مکرمی سید صاحب آپ کی ہمارے درمیان موجودگی ہمارے لیے باعث فخر و مسرت ہے۔ آپ کی زندگی کے تجربات سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔ سوال کرنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ تحریر کا مرکزی خیال ذرا واضح انداز میں قارئین کے سامنے آ جائے اور عملی زندگی میں ان کے کام آئے۔ اور محترم سید صاحب ۔ معذرت کس بات کی، اور آپ کی طرف سے لکھی گئی کوئی بھی تحریر کبھی بھی گستاخی کے زمرے میں نہیں آ سکتی۔ بزرگوں کی ہر بات میں کچھ کچھ نہ سبق اور نصیحت ہوتی ہے۔ امید ہے اسی طرح ہماری محفل میں آتے رہیں گے اور اپنی زندگی کے تجربات شیئر کر کے ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالی آپ کو دوجہانوں کی خوشحالیاں، آسانیاں اور بھلائیاں عطا فرمائے ۔۔ آمین |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | skjatala (11-05-11), عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
خوش رہیں ،!!!!! آپ نے بالکل صحیح ترجمانی کردی ہے،!!!!! بہت شکریہ،!!!! |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (11-05-11), مرزا عامر (03-05-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
Last edited by ننھا بچہ; 03-05-11 at 04:39 PM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا | skjatala (11-05-11), عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,720
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا اپ نے مین نے پہلی ہی بار ساری پڑھ لی
|
|
|
|
| صبیحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالرحمن سید (03-05-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بیگم کے غصہ کو بھی ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے، ورنہ ایک نئی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے، شادی کسی کی ہوتی ہے بھگتنا کسی اور کو ہوتا ہے، بڑی مشکل میں پڑ جاتا ہے، بے چارہ خاوند،!!!!!!!! |
|
|
|
|
| عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا | skjatala (11-05-11) |
![]() |
| Tags |
| ہیں،, فیصلہ, ہے،, کھانے, کوئی, کردیا, پریشان, لے, نظر, آنکھیں, آج, آدمی, اپنے, امیر, بہترین, بار, جانے, جائے, دیکھ, دل, ذرا, شوہر, شادی, شروع, عورتیں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|