| مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدھ, 15 جون 2011 09:20
قصہ ہماری مفت خوری کا کچھ یوں ہے کہ” ہم اپنے گھر کے واحد ناکتخدا، یعنی غیر شادی شدہ، کورے اور کنوارے فرد ہیں۔ گریجویشن کے بعد ہی سے والدین اور دیگر بزرگانِ خاندان ہاتھ دھوکر پنجے جھاڑ کر ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ بیاہ کر غافل، زندگانی پھر کہاں زندگانی گر رہی تو نوجوانی پھر کہاں ادھر محلے کی مشاطاوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ایک گریجویٹ، نوجوان اور صحت مند بکرا قربانی کے لیے تیار ہے اور اس میں کوئی شرعی عیب بھی نہیں ہے، تو وہ ثواب دارین حاصل کرنے کی غرض سی، رشتوں کی چھریاں لیے ہمارے مول تول میں ایک سے بڑھ کر ایک بولی لگانے لگیں۔ گھر والوں کو ہم نے بہت سمجھایا، آج کل کی تجارتی دنیا میں گریجویٹ کا کوئی طلب گار نہیں کہ ”پھرتے ہیں یار خوار کوئی پوچھتا نہیں“ ملک کا ہر گریجویٹ تلاشِ روزگار میں گدھے کی طرح دوڑ رہا ہے۔ گدھا، گدھا ہونے کے باوجود کچھ نہ کچھ کما کر ہی دیتا ہے۔ لیکن ایک گریجویٹ کی زندگی دھوبی کے گدھے سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور جیب کی کل نقدی ہار کر، شام کو جب وہ گھر پہنچتا ہے تو گھر والے اس کی صورت دیکھ کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ کامیابی اس گدھے کے نصیب میں نہیں۔ لیکن، ہمارے بزرگوں کا خیال تھا کہ جب تک ایک عورت کا ہاتھ ہماری پشت پر نہ ہوگا کامیابی ممکن نہیں۔ ان کی ہر دلیل کو رد کرتے ہوئی، ہم نے فیصلہ کن لہجے میں کہا کہ جب تک ہم اعلیٰ تعلیم اور معقول ملازمت حاصل نہ کرلیں، نہ ہم شادی کریں گے اور نہ ہی کرنے دیں گے۔ اگر کسی قسم کے ”سربراہی“ دباو سے کام لیا گیا تو ہم، دولہا بننے پر خودکش بمبار بننے کو ترجیح دیں گے۔ پھر نہ ہوگا دولہا اور نہ بجے گی شہنائی۔ ہماری اس دھماکہ خیز دھمکی سے سارے ہی ”شادی پسندوں“ نے ایسی چپ سادلی کہ پھر کبھی ہماری تو کیا کسی اور کی شادی کا ذکر کرنا بھی گناہ سمجھنے لگے۔ لیکن انتہائی معتبر ذرائع یعنی گھر کے بھیدی بھائی بہنوں کے بچوں سے ہمیں یہ اطلاعات ملتی رہتی تھیں کہ والدین کی زیر زمین سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایک دن ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہم آنے والے کل کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ وہ کیسا ہوگا؟ ہمارے پوسٹ گریجویشن کے امتحانات ہوچکے تھی، اور نتیجے کا انتظار تھا۔ ہر وقت ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ ناکام ہوئے تو کیا ہوگا....؟ اور کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟ نوکری کب ملے گی....؟ تنخواہ کتنی ہوگی....؟ زندگی کیسے گزرے گی....؟ وغیرہ وغیرہ۔ ہم ان ہی خیالوں میں گم تھے کہ اچانک ہمارے بھائی بہنوں کی اولاد نے حملہ کردیا۔ اس اچانک ہونے والے حملے نے ہماری سوچ کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا۔ ان حملہ آوروں کی لیڈر ہماری بڑی بھتیجی امتشال تھی، جسے ہم سب پیار سے ”ایمی“ کہتے تھے۔ وہ انٹر سال اوّل کی طالبہ تھی۔ انتہائی شوخ و شریر پورے گھر پر اس کا راج تھا۔ دادا اوباما اور دادی مشیل اوباما کی طرح اس کے پشت پناہ تھے۔ وہ بلیک واٹر اور ڈرون طیاروں کی مانند، جب چاہے، جہاں چاہے جیسی چاہے کارروائی کرسکتی تھی، مجال ہے جو کوئی اسے کچھ کہہ دے۔ کمرے میں داخل ہوکر، باآواز بلند اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”چاچا جانی! آپ کی وجہ سے ہمارے سارے پروگرام تعطل کا شکار ہیں؟ صبر اور انتظار کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!“ ایمی کے لہجے میں پیار بھرا غصہ تھا۔ ”آپ کے وہ کونسے پروگرام ہیں جو ہماری وجہ سے تعطل کا شکار ہوئے ہیں؟“ ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ”یہی آپ کی شادی کا پروگرام، شادی کے بعد دعوتوں کا پروگرام، دلہن چاچی کے ساتھ سیر و تفریح اور پکنک کا پروگرام.... وغیرہ وغیرہ“ ایمی نے اپنے لہجے میں زور پیدا کرتے ہوئے کہا۔ ”ابھی مرغی گھر آئی نہیں اور آپ لوگوں نے انڈوں کا کاروبار شروع کردیا“۔ ہم نے ایک زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”آپ فکر ہی نہ کریں“۔ ایمی نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا، ”اِدھر آپ نے ہاں کی ادھر مرغی گھر میں۔ میری امی اور آپ کی امی نے محلے کا کوئی گھر نہیں چھوڑا۔ باری باری سارے ہی گھر جھانک آئی ہیں“۔ ایمی نے پرجوش لہجے میں کہا۔ اوہو! تو یہ بات تھی۔ یعنی ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“۔ ہماری بدنامی اور رسوائی میں کسی اور کا نہیں اپنوں ہی کا ہاتھ تھا: دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی ”کیسی بدنامی....؟ اور کیسی رسوائی....؟“ ایمی نے حیران ہوکر پوچھا۔ پچھلے کئی دنوں سے ہم محلے والوں سے منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ ہم دونوں کی اَمیّوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ آتے جاتے محلے کے بزرگ ہماری اور گھر والوں کی خیریت دریافت کرتے، ہماری کامیابی اور شاندار مستقبل کی نوید سنا سنا کر ہمیں حیران کرتے رہے۔ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ: ”یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!“ اس محلے کو یہ ہوا کیا ہے! ایک صاحب نے تو حد ہی کردی، ایک گھنٹے تک ہماری خاندانی شرافت و نجابت اور فرمانبرداری کے پل باندھنے کے بعد کہنے لگی، ”میاں! ہمارے ہاں ایسے لذیذ کھانے تیار ہوتے ہیں، جو ایک بار کھالی، بخدا وہ زندگی بھر ہونٹ چاٹتا رہ جائے“۔ بے اختیار ہمارے منہ سے نکلا ”حضرت! کس کی؟“ ہمارے اس سوال پر وہ بڑی دیر تک قہقہے لگاتے رہے۔ بہ مشکل تمام اپنے قہقہوں پر قابو پانے کی کوشش کی تو کچھ ایسی آواز نکلی جیسے ریل کے ایمرجنسی بریک لگانے پر نکلتی ہے۔ اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئی، بڑی بے تکلفی سے ہماری پیٹھ پر ایک دھموکا رسید کرتے ہوئے کہنے لگے۔ بھئی خوب پھوٹیں گے شگوفے جو مل بیٹھیں گے ہم دو۔ میاں! ہماری طبیعت بھی لڑکپن سے ”شوخیانہ“ ہے۔ جوانی میں، جس محفل میں چلے جاتی، وہ محفل قہقہوں سے گونج اٹھتی۔ یقین کرو، آج بھی ہمارے دیرینہ دوست جب کبھی ملول ہوتے ہیں، یا وہ کیا کہتے ہیں، جدید زمانے کی بیماری کو.... ہاں ”ڈپریشن“ کا شکار ہوتے ہیں تو، ہنسی علاج غم ہے“، کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے ہمیں پکڑ بلاتے ہیں، اور پھر ایسی محفل جمتی ہے کہ یار لوگوں کی ساری کلفت دور ہوجاتی ہے۔ ہمارے انکار اور مسلسل انکار کے باوجود وہ زبردستی اپنے گھر لے گئے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی، ان کی بیگم نے سر پر ہاتھ پھیرا، صحت و تندرستی کے ساتھ درازی عمر اور کامیابی کی دعا دی۔ بلائیں لے کر انگلیاں چٹخائیں۔ اِدھر مارے شرم کے ہمارے ایک ایک مسام سے پسینہ پھوٹنے لگا۔ ان کے اس بے تکلفانہ برتاو سے ہم ایسے گڑ بڑائے کہ کچھ سمجھ میں نہ آیاکہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ اِدھر بزرگوار نے نعرہ لگایا۔ ”لڑکیو! دستر خوان تیار ہے؟“ ”جی ابَّا حضور! آپ اندر تشریف لے آئیں، دستر خوان بالکل تیار ہے“۔ کچھ اندازہ نہ ہوا کہ اندر سے آنے والی اس آواز کا تعلق اولادِ آدم کی کسی صنف سے تھا۔ کمرے میں داخل ہوئے تو ہماری نظر ان دو لڑکیوں پر پڑی جو ہمارے ہاتھ دھلانے کے لیے ایک سلفچی اور دوسری آفتابہ لیے کھڑی تھیں۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ نامحرم کو دوسری بار دیکھنے کی اجازت نہیں۔ ہاتھ دھلنے سے کھانا ختم ہونے تک دوسری بار نظر ڈالنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہاں کچھ ایسا تھا بھی نہیں کہ دوسری نظر کا گناہ کرتے۔ کھانے کے دوران میں والدین ہمیں یہ بتاتے رہے کہ کونسی ڈش کس لڑکی نے بنائی۔ ہم صرف، ہاں، ہوں اور بہت خوب کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکے۔ ہماری کم گوئی کو محسوس کرتے ہوئے ایک لڑکی نے کہا۔ ”جناب! کھاتے وقت یقینا باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مگر دیکھنے سے تو منع نہیں کیا گیا، نظریں ا±ٹھا کر دیکھیے تو دستر خوان پر کیا کیا رکھا ہے“۔ یہ جملہ بڑے ہی معنی خیز انداز میں کہا گیا۔ ایسے اجنبی اور بے حجابانہ ماحول سے ہمارا واسطہ کبھی نہیں پڑا تھا۔ گھبراہٹ اور پریشانی میں منہ کا نوالہ ناک میں چلا گیا۔ لڑکیاں منہ دبائے ہنستی ہوئی دسترخوان چھوڑ کر بھاگ گئیں، اور ہم چھینکتے چھینکتے بے حال ہوگئے۔ خدا خدا کرکے جان چھوٹی تو سر پر پاوں رکھ کر ایسے بھاگے کہ گھر آکر دم لیا۔ اس دن سے یہ سوچ سوچ کر افسردہ ہوجاتا ہوں کہ جن گھروں میں معمولی رنگ و روپ کی بن بیاہی لڑکیاں بیٹھی ہیں ان کے والدین کو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ ”اس میں کسی کا کیا قصور چاچا جانی“ ایمی نے ہماری بات کو کاٹتے ہوئے کہا ”کسی نے کیا خواب کہا ہے ”انسان کی ہر خواہش اس کی مرضی کے مطابق پوری ہونے لگے تو پھر خدا کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے“۔ ”ایمی جان! ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم ایک نہیں ایسے کئی گھروں میں زبردستی کا کھانا کھا چکے ہیں۔ آئے دن وہ بزرگ کھانے پر رکھ کر ہم سے پوچھتے ہیں: ”کہو میاں! پسند آیا؟ کونسی ڈش اچھی لگی؟“ ان کے اس سوال پر ہم کٹ کر رہ جاتے۔ سچ بول کر، ان کی دل آزاری اور جھوٹ بول کر ہم ان کے من میں امید کی جوت جگانا نہیں چاہتے تھے۔ آتے جاتی، بار بار یہی ایک سوال ”کہو میاں! کیسا رہا کھانا کچھ پسند بھی آیا کہ نہیں!“ ہم کیا جواب دیتے، ہماری مسلسل خاموشی سے ان کے صبر کا دامن چھوٹ گیا کل تک جو لوگ ہمیں سر آنکھوں پر بٹھایا کرتے تھی، وہ اب یوں پکارتے ہیں: یوں پکارے ہیں ہمیں کوچہ جاناں والی اِدھر آبی، ابے او مفت کا کھانے والی ہماری بات سن کر ایمی افسردہ یا پریشان ہونے کے بجائے کھلکھلا کر ہنس پڑی اور کہنے لگی ”چاچا جانی! افسوس کہ آپ نے مرزا غالب سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، جو قرض کی پیتے تھی، مگر سمجھتے تھے کہ ایک دن پچھتانا پڑے گا“۔ ”ایمی جان! کاش! کہ ہم یہ جانتے ہوئے کہ زبردستی کی یہ خاطر و مدارات رسوائی اور بدنامی کا سبب بن جائے گی تو مرزا غالب سے معذرت کے ساتھ ہم یہ کہتی: مفت کی کھاتے تھے لیکن یہ سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری مفت خوری ایک دن .... بدر الزمان سے معذرت کے ساتھ ر ب ط : مفت خوری نے مار ڈالا! (شجاع الدین غوری)
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (16-06-11), فیصل ناصر (15-06-11), یاسر عمران مرزا (08-09-11), ننھا بچہ (08-09-11), نبیل خان (18-11-11), مرزا عامر (04-07-11), wajee (16-06-11), احمد نذیر (15-06-11), حیدر (16-06-11), راجہ اکرام (16-06-11), رضی (11-09-11), سحر بٹ (15-06-11), عروج (16-06-11) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آخرے فقرے نے مضمون سے زیادہ مزہ دیا
بہت اچھے skjatala صاحب |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا کہنے لکھاری کے۔ جتالہ بھائی جان اصل شکریے کے حقدار تو آپ ٹھہرے کہ شئیرنگ تو لاجواب لائے ھیں۔ آپکے توسّط سے ھمیں بھی اس تہذیب سے شناسائی ھوئی
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
واقعی بہت بے ساختہ تحریر ہے، پڑھ کر مزہ آیا بدر سے معذرت کے ساتھ
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
کمال کی تحریر تھی
اور میں اس کو سرورق پر بدر بھائی کے حالات و واقعات سمجھ کہ پڑھتا رہا وہ تو تبصرہ کرنے ایا تو پتا چلا کہ۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مزہ تو آیا ہے اب آپ کا نوالہ منہکی بجائے ناک میں چلا گیا اور اس سے چھینک چھینک کر آپکا برا حال تواس میں مزے کا کیا قصور
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائي
جب اتنے لوگ بول رہےہيں تو تو تو تو تو تو توتو توووووووووووووووووووووووو وووووووووووووو |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پوسٹ, نوکری, نظر, مفت, ممکن, معلوم, معذرت, آج, اللہ, اجنبی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, تعلیم, جھوٹ, جواب, حال, خودکش, دھماکہ, دریافت, دعا, زندگی, سیر, عورت, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سلسلہ پیار کا آغوش دَر آغوش بھی ہے | عدنان دانی | شعر و شاعری | 1 | 16-06-11 03:27 PM |
| علامہ اقبال کا ایک قابل غور شعر | محمدخلیل | اسلامی عقیدہ | 13 | 16-12-10 10:29 AM |
| نامعلوم افراد کی ڈاکٹر عافیہ کے بچے کواغوا کرنے کی کوشش | ALI-OAD | خبریں | 2 | 14-11-10 08:51 PM |
| عمران خان v/s بابر غوری | حسنین ایوب | سیاست | 2 | 06-11-10 05:56 PM |
| ::: جیکب آباد :ڈاکوؤں نے 4افراد کو اغوا کرلیا ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 18-12-07 11:21 AM |