واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > مزاحیہ ادب



مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب


مفت خوری نے مار ڈالا! (شجاع الدین غوری)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-11, 06:55 PM   #1
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مفت خوری نے مار ڈالا! (شجاع الدین غوری)

مفت خوری نے مار ڈالا! (شجاع الدین غوری)

بدھ, 15 جون 2011 09:20

قصہ ہماری مفت خوری کا کچھ یوں ہے کہ” ہم اپنے گھر کے واحد ناکتخدا، یعنی غیر شادی شدہ، کورے اور کنوارے فرد ہیں۔ گریجویشن کے بعد ہی سے والدین اور دیگر بزرگانِ خاندان ہاتھ دھوکر پنجے جھاڑ کر ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ بیاہ کر غافل، زندگانی پھر کہاں زندگانی گر رہی تو نوجوانی پھر کہاں ادھر محلے کی مشاطاوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ایک گریجویٹ، نوجوان اور صحت مند بکرا قربانی کے لیے تیار ہے اور اس میں کوئی شرعی عیب بھی نہیں ہے، تو وہ ثواب دارین حاصل کرنے کی غرض سی، رشتوں کی چھریاں لیے ہمارے مول تول میں ایک سے بڑھ کر ایک بولی لگانے لگیں۔ گھر والوں کو ہم نے بہت سمجھایا، آج کل کی تجارتی دنیا میں گریجویٹ کا کوئی طلب گار نہیں کہ ”پھرتے ہیں یار خوار کوئی پوچھتا نہیں“ ملک کا ہر گریجویٹ تلاشِ روزگار میں گدھے کی طرح دوڑ رہا ہے۔ گدھا، گدھا ہونے کے باوجود کچھ نہ کچھ کما کر ہی دیتا ہے۔

لیکن ایک گریجویٹ کی زندگی دھوبی کے گدھے سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور جیب کی کل نقدی ہار کر، شام کو جب وہ گھر پہنچتا ہے تو گھر والے اس کی صورت دیکھ کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ کامیابی اس گدھے کے نصیب میں نہیں۔ لیکن، ہمارے بزرگوں کا خیال تھا کہ جب تک ایک عورت کا ہاتھ ہماری پشت پر نہ ہوگا کامیابی ممکن نہیں۔ ان کی ہر دلیل کو رد کرتے ہوئی، ہم نے فیصلہ کن لہجے میں کہا کہ جب تک ہم اعلیٰ تعلیم اور معقول ملازمت حاصل نہ کرلیں، نہ ہم شادی کریں گے اور نہ ہی کرنے دیں گے۔ اگر کسی قسم کے ”سربراہی“ دباو سے کام لیا گیا تو ہم، دولہا بننے پر خودکش بمبار بننے کو ترجیح دیں گے۔ پھر نہ ہوگا دولہا اور نہ بجے گی شہنائی۔ ہماری اس دھماکہ خیز دھمکی سے سارے ہی ”شادی پسندوں“ نے ایسی چپ سادلی کہ پھر کبھی ہماری تو کیا کسی اور کی شادی کا ذکر کرنا بھی گناہ سمجھنے لگے۔ لیکن انتہائی معتبر ذرائع یعنی گھر کے بھیدی بھائی بہنوں کے بچوں سے ہمیں یہ اطلاعات ملتی رہتی تھیں کہ والدین کی زیر زمین سرگرمیاں جاری ہیں۔

ایک دن ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہم آنے والے کل کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ وہ کیسا ہوگا؟ ہمارے پوسٹ گریجویشن کے امتحانات ہوچکے تھی، اور نتیجے کا انتظار تھا۔ ہر وقت ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ ناکام ہوئے تو کیا ہوگا....؟ اور کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟ نوکری کب ملے گی....؟ تنخواہ کتنی ہوگی....؟ زندگی کیسے گزرے گی....؟ وغیرہ وغیرہ۔ ہم ان ہی خیالوں میں گم تھے کہ اچانک ہمارے بھائی بہنوں کی اولاد نے حملہ کردیا۔ اس اچانک ہونے والے حملے نے ہماری سوچ کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا۔ ان حملہ آوروں کی لیڈر ہماری بڑی بھتیجی امتشال تھی، جسے ہم سب پیار سے ”ایمی“ کہتے تھے۔ وہ انٹر سال اوّل کی طالبہ تھی۔ انتہائی شوخ و شریر پورے گھر پر اس کا راج تھا۔ دادا اوباما اور دادی مشیل اوباما کی طرح اس کے پشت پناہ تھے۔ وہ بلیک واٹر اور ڈرون طیاروں کی مانند، جب چاہے، جہاں چاہے جیسی چاہے کارروائی کرسکتی تھی، مجال ہے جو کوئی اسے کچھ کہہ دے۔

کمرے میں داخل ہوکر، باآواز بلند اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”چاچا جانی! آپ کی وجہ سے ہمارے سارے پروگرام تعطل کا شکار ہیں؟ صبر اور انتظار کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!“ ایمی کے لہجے میں پیار بھرا غصہ تھا۔ ”آپ کے وہ کونسے پروگرام ہیں جو ہماری وجہ سے تعطل کا شکار ہوئے ہیں؟“ ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ”یہی آپ کی شادی کا پروگرام، شادی کے بعد دعوتوں کا پروگرام، دلہن چاچی کے ساتھ سیر و تفریح اور پکنک کا پروگرام.... وغیرہ وغیرہ“ ایمی نے اپنے لہجے میں زور پیدا کرتے ہوئے کہا۔ ”ابھی مرغی گھر آئی نہیں اور آپ لوگوں نے انڈوں کا کاروبار شروع کردیا“۔ ہم نے ایک زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”آپ فکر ہی نہ کریں“۔ ایمی نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا، ”اِدھر آپ نے ہاں کی ادھر مرغی گھر میں۔ میری امی اور آپ کی امی نے محلے کا کوئی گھر نہیں چھوڑا۔ باری باری سارے ہی گھر جھانک آئی ہیں“۔ ایمی نے پرجوش لہجے میں کہا۔ اوہو! تو یہ بات تھی۔ یعنی ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“۔ ہماری بدنامی اور رسوائی میں کسی اور کا نہیں اپنوں ہی کا ہاتھ تھا: دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی ”کیسی بدنامی....؟ اور کیسی رسوائی....؟“ ایمی نے حیران ہوکر پوچھا۔

پچھلے کئی دنوں سے ہم محلے والوں سے منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ ہم دونوں کی اَمیّوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ آتے جاتے محلے کے بزرگ ہماری اور گھر والوں کی خیریت دریافت کرتے، ہماری کامیابی اور شاندار مستقبل کی نوید سنا سنا کر ہمیں حیران کرتے رہے۔ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ: ”یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!“ اس محلے کو یہ ہوا کیا ہے! ایک صاحب نے تو حد ہی کردی، ایک گھنٹے تک ہماری خاندانی شرافت و نجابت اور فرمانبرداری کے پل باندھنے کے بعد کہنے لگی، ”میاں! ہمارے ہاں ایسے لذیذ کھانے تیار ہوتے ہیں، جو ایک بار کھالی، بخدا وہ زندگی بھر ہونٹ چاٹتا رہ جائے“۔ بے اختیار ہمارے منہ سے نکلا ”حضرت! کس کی؟“ ہمارے اس سوال پر وہ بڑی دیر تک قہقہے لگاتے رہے۔ بہ مشکل تمام اپنے قہقہوں پر قابو پانے کی کوشش کی تو کچھ ایسی آواز نکلی جیسے ریل کے ایمرجنسی بریک لگانے پر نکلتی ہے۔ اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئی، بڑی بے تکلفی سے ہماری پیٹھ پر ایک دھموکا رسید کرتے ہوئے کہنے لگے۔ بھئی خوب پھوٹیں گے شگوفے جو مل بیٹھیں گے ہم دو۔ میاں! ہماری طبیعت بھی لڑکپن سے ”شوخیانہ“ ہے۔ جوانی میں، جس محفل میں چلے جاتی، وہ محفل قہقہوں سے گونج اٹھتی۔ یقین کرو، آج بھی ہمارے دیرینہ دوست جب کبھی ملول ہوتے ہیں، یا وہ کیا کہتے ہیں، جدید زمانے کی بیماری کو.... ہاں ”ڈپریشن“ کا شکار ہوتے ہیں تو، ہنسی علاج غم ہے“، کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے ہمیں پکڑ بلاتے ہیں، اور پھر ایسی محفل جمتی ہے کہ یار لوگوں کی ساری کلفت دور ہوجاتی ہے۔

ہمارے انکار اور مسلسل انکار کے باوجود وہ زبردستی اپنے گھر لے گئے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی، ان کی بیگم نے سر پر ہاتھ پھیرا، صحت و تندرستی کے ساتھ درازی عمر اور کامیابی کی دعا دی۔ بلائیں لے کر انگلیاں چٹخائیں۔ اِدھر مارے شرم کے ہمارے ایک ایک مسام سے پسینہ پھوٹنے لگا۔ ان کے اس بے تکلفانہ برتاو سے ہم ایسے گڑ بڑائے کہ کچھ سمجھ میں نہ آیاکہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ اِدھر بزرگوار نے نعرہ لگایا۔ ”لڑکیو! دستر خوان تیار ہے؟“ ”جی ابَّا حضور! آپ اندر تشریف لے آئیں، دستر خوان بالکل تیار ہے“۔ کچھ اندازہ نہ ہوا کہ اندر سے آنے والی اس آواز کا تعلق اولادِ آدم کی کسی صنف سے تھا۔ کمرے میں داخل ہوئے تو ہماری نظر ان دو لڑکیوں پر پڑی جو ہمارے ہاتھ دھلانے کے لیے ایک سلفچی اور دوسری آفتابہ لیے کھڑی تھیں۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ نامحرم کو دوسری بار دیکھنے کی اجازت نہیں۔ ہاتھ دھلنے سے کھانا ختم ہونے تک دوسری بار نظر ڈالنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہاں کچھ ایسا تھا بھی نہیں کہ دوسری نظر کا گناہ کرتے۔ کھانے کے دوران میں والدین ہمیں یہ بتاتے رہے کہ کونسی ڈش کس لڑکی نے بنائی۔ ہم صرف، ہاں، ہوں اور بہت خوب کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکے۔ ہماری کم گوئی کو محسوس کرتے ہوئے ایک لڑکی نے کہا۔ ”جناب! کھاتے وقت یقینا باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مگر دیکھنے سے تو منع نہیں کیا گیا، نظریں ا±ٹھا کر دیکھیے تو دستر خوان پر کیا کیا رکھا ہے“۔ یہ جملہ بڑے ہی معنی خیز انداز میں کہا گیا۔ ایسے اجنبی اور بے حجابانہ ماحول سے ہمارا واسطہ کبھی نہیں پڑا تھا۔ گھبراہٹ اور پریشانی میں منہ کا نوالہ ناک میں چلا گیا۔ لڑکیاں منہ دبائے ہنستی ہوئی دسترخوان چھوڑ کر بھاگ گئیں، اور ہم چھینکتے چھینکتے بے حال ہوگئے۔ خدا خدا کرکے جان چھوٹی تو سر پر پاوں رکھ کر ایسے بھاگے کہ گھر آکر دم لیا۔

اس دن سے یہ سوچ سوچ کر افسردہ ہوجاتا ہوں کہ جن گھروں میں معمولی رنگ و روپ کی بن بیاہی لڑکیاں بیٹھی ہیں ان کے والدین کو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ ”اس میں کسی کا کیا قصور چاچا جانی“ ایمی نے ہماری بات کو کاٹتے ہوئے کہا ”کسی نے کیا خواب کہا ہے ”انسان کی ہر خواہش اس کی مرضی کے مطابق پوری ہونے لگے تو پھر خدا کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے“۔ ”ایمی جان! ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم ایک نہیں ایسے کئی گھروں میں زبردستی کا کھانا کھا چکے ہیں۔ آئے دن وہ بزرگ کھانے پر رکھ کر ہم سے پوچھتے ہیں: ”کہو میاں! پسند آیا؟ کونسی ڈش اچھی لگی؟“ ان کے اس سوال پر ہم کٹ کر رہ جاتے۔ سچ بول کر، ان کی دل آزاری اور جھوٹ بول کر ہم ان کے من میں امید کی جوت جگانا نہیں چاہتے تھے۔ آتے جاتی، بار بار یہی ایک سوال ”کہو میاں! کیسا رہا کھانا کچھ پسند بھی آیا کہ نہیں!“ ہم کیا جواب دیتے، ہماری مسلسل خاموشی سے ان کے صبر کا دامن چھوٹ گیا کل تک جو لوگ ہمیں سر آنکھوں پر بٹھایا کرتے تھی، وہ اب یوں پکارتے ہیں: یوں پکارے ہیں ہمیں کوچہ جاناں والی اِدھر آبی، ابے او مفت کا کھانے والی ہماری بات سن کر ایمی افسردہ یا پریشان ہونے کے بجائے کھلکھلا کر ہنس پڑی اور کہنے لگی ”چاچا جانی! افسوس کہ آپ نے مرزا غالب سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، جو قرض کی پیتے تھی، مگر سمجھتے تھے کہ ایک دن پچھتانا پڑے گا“۔

”ایمی جان! کاش! کہ ہم یہ جانتے ہوئے کہ زبردستی کی یہ خاطر و مدارات رسوائی اور بدنامی کا سبب بن جائے گی تو مرزا غالب سے معذرت کے ساتھ ہم یہ کہتی: مفت کی کھاتے تھے لیکن یہ سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری مفت خوری ایک دن ....

بدر الزمان سے معذرت کے ساتھ



ر ب ط : مفت خوری نے مار ڈالا! (شجاع الدین غوری)
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), فیصل ناصر (15-06-11), یاسر عمران مرزا (08-09-11), ننھا بچہ (08-09-11), نبیل خان (18-11-11), مرزا عامر (04-07-11), wajee (16-06-11), احمد نذیر (15-06-11), حیدر (16-06-11), راجہ اکرام (16-06-11), رضی (11-09-11), سحر بٹ (15-06-11), عروج (16-06-11)
پرانا 15-06-11, 07:02 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-06-11), ننھا بچہ (08-09-11), نبیل خان (18-11-11), حیدر (16-06-11), عروج (16-06-11)
پرانا 15-06-11, 07:23 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آخرے فقرے نے مضمون سے زیادہ مزہ دیا

بہت اچھے skjatala صاحب
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (15-06-11), نبیل خان (18-11-11), مرزا عامر (04-07-11), احمد نذیر (15-06-11), حیدر (16-06-11), رضی (18-09-11)
پرانا 16-06-11, 11:22 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,204
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہاہاہاہاہا بدر بھائی کی ہر جگہ شامت ہو رہی ہے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-06-11), نبیل خان (18-11-11), حیدر (16-06-11)
پرانا 16-06-11, 12:35 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آخرے فقرے نے مضمون سے زیادہ مزہ دیا

بہت اچھے skjatala صاحب
اقتباس:
ر ب ط : مفت خوری نے مار ڈالا! (شجاع الدین غوری)
اس جملے نے کیا مزا دے ڈالا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-06-11), نبیل خان (18-11-11)
پرانا 16-06-11, 12:40 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عرصے بعد اس قدر بے ساختہ مضمون پڑھنے کو ملا۔
بہت شاندار
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-06-11), نبیل خان (18-11-11)
پرانا 16-06-11, 03:23 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا کہنے لکھاری کے۔ جتالہ بھائی جان اصل شکریے کے حقدار تو آپ ٹھہرے کہ شئیرنگ تو لاجواب لائے ھیں۔ آپکے توسّط سے ھمیں بھی اس تہذیب سے شناسائی ھوئی
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
skjatala (08-09-11), نبیل خان (18-11-11)
پرانا 16-06-11, 03:28 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
واقعی بہت بے ساختہ تحریر ہے، پڑھ کر مزہ آیا

بدر سے معذرت کے ساتھ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-06-11), فیصل ناصر (16-06-11), نبیل خان (18-11-11)
پرانا 08-09-11, 08:42 PM   #9
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کمال کی تحریر تھی
اور
میں اس کو سرورق پر بدر بھائی کے حالات و واقعات سمجھ کہ پڑھتا رہا
وہ تو تبصرہ کرنے ایا تو پتا چلا کہ۔۔۔۔۔
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
skjatala (08-09-11), نبیل خان (18-11-11)
پرانا 11-09-11, 02:41 AM   #10
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اس جملے نے کیا مزا دے ڈالا۔
مزہ تو آیا ہے اب آپ کا نوالہ منہکی بجائے ناک میں چلا گیا اور اس سے چھینک چھینک کر آپکا برا حال تواس میں مزے کا کیا قصور
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-09-11, 03:23 AM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائي
جب اتنے لوگ بول رہےہيں تو تو تو تو تو تو توتو توووووووووووووووووووووووو وووووووووووووو
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-11-11, 10:50 PM   #12
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آج دوبارہ پڑھنے پر بھی وہی سواد مِلا
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (20-11-11)
پرانا 18-11-11, 11:11 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آخر میں میرا نام نہ ہو تو کبھی مزا نہ آئے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (20-11-11), ننھا بچہ (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 11:36 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,633
شکریہ: 8,509
1,595 مراسلہ میں 3,524 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب جناب
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (18-11-11)
پرانا 18-11-11, 11:39 PM   #15
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
آخر میں میرا نام نہ ہو تو کبھی مزا نہ آئے
حق اے
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
skjatala (20-11-11), حیدر (18-11-11)
جواب

Tags
پوسٹ, نوکری, نظر, مفت, ممکن, معلوم, معذرت, آج, اللہ, اجنبی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, تعلیم, جھوٹ, جواب, حال, خودکش, دھماکہ, دریافت, دعا, زندگی, سیر, عورت, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سلسلہ پیار کا آغوش دَر آغوش بھی ہے عدنان دانی شعر و شاعری 1 16-06-11 03:27 PM
علامہ اقبال کا ایک قابل غور شعر محمدخلیل اسلامی عقیدہ 13 16-12-10 10:29 AM
نامعلوم افراد کی ڈاکٹر عافیہ کے بچے کواغوا کرنے کی کوشش ALI-OAD خبریں 2 14-11-10 08:51 PM
عمران خان v/s بابر غوری حسنین ایوب سیاست 2 06-11-10 05:56 PM
::: جیکب آباد :ڈاکوؤں نے 4افراد کو اغوا کرلیا ::: ابو کاشان خبریں 0 18-12-07 11:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger