| مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
موبائل فون کی پاکستان آمد بہت تہلکہ خیز تھی۔ لوگ حیرت سے اس آلے کو دیکھتے تھے جس کے ساتھ نہ کوئی تار تھی اور نہ کوئی سوئچ وغیرہ لگانا پڑتا تھا، اس کا سائز اور اس کا بکس اتنا بڑا تھا کہ رئیس قسم کے ”صاحب موبائل فون“ اپنے ساتھ ایک ملازم رکھتے تھے جو یہ آلہ ان کے ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتا تھا۔ میں نے پہلے دفعہ یہ آلہ ایک زمیندار کے پاس دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ دو ملازم تھے، ایک نے موبائل فون اور دوسرے نے حقہ اٹھایا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کا سائز کم ہوتا چلا گیا۔ اس کے ساتھ اس کی قیمت میں بھی کمی آئی، اس کے باوجود یہ قیمت اتنی کم نہیں تھی کہ ہر ”ایرا غیرا“ خرید سکتا چنانچہ اس دور کی میری ایک ڈرامہ سریل ”شب دیگ“ میں ایک شخص باغ جناح میں جاگنگ کرتے ہوئے موبائل فون پر کسی سے بات کر رہا ہے۔
جس پر میرا ایک کردار ”انکل کیوں“ سیخ پا ہو کر اس سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے ”تم لوگ اپنی امارت کا اظہار اب سیر گاہوں میں بھی کرنے لگے ہو، تمہارا بس چلے تو تم اپنی دس دس کینال کی کوٹھیوں کو بھی پہیے لگا کر باغ جناح میں لے آو اور انہیں جاگنگ کے وقت بھی اپنے ساتھ رکھو“ مگر اب یہی موبائل فون جو کبھی امارت کی نشانی تھی اور جسے کسی کے ہاتھ میں دیکھ کر ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے تھے۔ اب اپنی ”ناقدری“ کا رونا روتا نظر آتا ہے، میں جب اس کا ماضی یاد کرتا ہوں اور اس کے حال پر نظر ڈالتا ہوں تو دھیان مسلمانوں کے عروج و زوال کی طرف چلا جاتا ہے۔ ان دنوں جس طرح مغربی حکمران جس مسلمان حکمران کو خریدنا چاہیں، اس کی ”قیمت“ ادا کرنے کے بعد کسی اور حکمران کو خریدنے آگے نکل جاتے ہیں، اسی طرح جس کی جیب میں چند سکے ہیں وہ موبائل فون خرید سکتا ہے صرف یہی نہیں بلکہ کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعد کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیتا ہے جس طرح امریکہ ہمارے حکمرانوں کو استعمال کرنے کے بعد انہیں کوڑے کے ڈبے میں پھینکنے میں تامل نہیں کرتا اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری موبائل فون ہی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 18 کروڑ کی آبادی میں سے دس کروڑ افراد کے پاس یہ فون موجود ہے۔ یہ وہ سائنسی ایجاد ہے جو خرید کر، چھین کر یا چوری کر کے اپنے استعمال میں لائی جا سکتی ہے بقول شخصے ایک شخص نے اپنے دوست سے شکایت کی کہ تم میرا فون نہیں اٹھاتے، چنانچہ وہ دوسرے روز اس کا فون ”اٹھا“ لایا۔ موبائل فون کی جو رہی سہی عزت تھی وہ بھی اس کے ”فقرے“ قسم کے خریداروں نے ختم کر دی ہے۔ وہ فون تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اسے استعمال کرنے کے لئے اس میں ”بیلنس“ کا ہونا ضروری ہے چنانچہ مجھے اکثر اس مضمون کی ایک ایس ایم ایس وصول ہوتی ہے“ برادران اسلام، میں ایک ہسپتال میں بستر مرگ پر پڑا ہوں میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ آپ کو خدا اور اس کے رسول کا واسطہ ہے۔ مجھے دس روپے کا بیلنس بھیج دیں“ چنانچہ میں ہر بار اس کے نمبر پر فون کرتا ہوں تاکہ اس کی دوسری ضروریات کے بارے میں بھی دریافت کر سکوں لیکن ”بستر مرگ“ سے دس روپے کا ”بیلنس“ مانگنے والا وہ شخص فون ہی نہیں اٹھاتا، دراصل اس طرح کے لوگ قناعت پسند ہوتے ہیں۔ انہوں نے آپ سے صرف دس روپے مانگے ہیں۔ وہ آپ بھیج سکتے ہیں تو بھیج دیں۔ انہیں فون کر کے کیوں پریشان کرتے ہیں۔ اگر ایک دن میں اللہ کے ایک سو نیک بندے بھی انہیں دس دس روپے بھیج دیں تو ایک ہزار روزانہ کے حساب سے تیس ہزار روپے ماہوار بنتے ہیں۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے کبھی ایسے اجنبی فون نمبر پر کال نہیں کی جس کے نتیجے میں آپ کا سارا بیلنس ادھر منتقل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ واردات کا ایک طریقہ یہ بھی ہے: شنید ہے کہ بیلنس کی بھیک اب خواتین بھی مانگنے لگی ہیں۔ حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ آوارہ قسم کے لونڈے بعد میں اس بیلنس کو ”بیلنس“ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کی ایجاد کو اس گھٹیا سطح پر لانے میں موبائل فون کمپنیوں کی اس اشتہاری مہم کا بھی بہت حصہ ہے جو آپ کو زیادہ سے زیادہ فون استعمال کرنے پر اکساتی رہتی ہیں۔ یہ اشتہاری مہم اتنی ”اشتہا انگیز“ ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ فون کی طلب محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ان میں بچت کے نام پر فضول خرچی کا پیغام مضمر ہوتا ہے، چنانچہ ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر جب آپ ان کے بتائے ہوئے ”بچت“ کے منصوبے پر عمل شروع کرتے ہیں تو مہینے کے آخر میں اجنبی لوگوں کو پھر اسی قسم کے ایس ایم ایس بھیجنا پڑتے ہیں کہ ”برادران اسلام۔ آپ کو خدا اور اس کے رسول کا واسطہ ہے کہ …“ میں نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ مغرب سے جو ایجاد ہمارے ہاں آتی ہے وہ اپنے ساتھ ایسا کلچر بھی لاتی ہے اور میں نے اس کی کچھ مثالیں بھی پیش کی تھیں لیکن یہ واحد ایجاد ہے جو اپنے ساتھ اپنا کلچر نہیں لائی۔ مغربی ادب آداب کے تحت کسی کو فون کرتے وقت پوچھا جاتا ہے کہ آپ اس وقت مصروف تو نہیں ہیں، کیا آپ سہولت سے بات کر سکتے ہیں؟ دوسرا اگر گرین سگنل دے تو گفتگو کا آغاز کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ آپ شیو کر رہے ہیں، داڑھی کو ”وسمہ“ لگا رہے ہیں۔ بہت بری طرح ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آپ کھانا کھا رہے ہیں اور لقمہ آپ کے حلق میں پھنسا ہوا ہے۔ آپ کو کھانسی کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ آپ کسی تقریب میں بیٹھے ہیں یا اسی طرح کی کسی اور ”بھسوڑی“ میں پھنسے ہوئے ہیں کہ فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ آپ جیسے تیسے اس شریف آدمی کو بتاتے ہیں کہ میں اس وقت اس مشکل میں گرفتار ہوں۔ لہٰذا آپ سے بعد میں بات ہو گی، مگر وہ آپ کو ”سوری سوری“ بھی کہتا جائے گا اور اپنی بے ہودہ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔ دراصل یہ ایجاد نہیں، ایک نشہ ہے جو آپ کے لہجے کی ترشی بھی نہیں اتار پاتی۔ ہمارے ہاں ان دنوں ایک ایس ایم ایس زوروں پر ہے کہ فون پر یا عام میل ملاقات کے دوران ایک دوسرے کو ”ہیلو“ نہ کہیں کیونکہ یہ ”ہیلو“ دراصل HELL یعنی دوزخ سے نکلا ہے۔ اس نکتہ آفرین پر لاحول کے علاوہ اور کیا پڑھا جا سکتا ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شراب، چرس، افہیم اور دوسری نشہ آور چیزوں کے علاوہ موبائل فون کے ”نشے“ کے خلاف مہم چلائی جائے کہ یہ نشہ بھی اب قوم کو اس کی قدروں سے دور اور بداخلاقی کے نزدیک لانے کا باعث بن رہا ہے۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (20-11-11), فیصل ناصر (18-07-11), ھارون اعظم (18-07-11), یاسر عمران مرزا (18-07-11), مرزا عامر (18-07-11), احمد نذیر (18-07-11), ارشد کمبوہ (18-07-11), حیدر (18-07-11), راجہ اکرام (18-07-11), سیفی خان (18-07-11), شمشاد احمد (19-07-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی نشہ ہے۔ اور ظالم نشہ ہے
چھوٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | skjatala (18-07-11), ھارون اعظم (18-07-11), احمد نذیر (18-07-11), ارشد کمبوہ (18-07-11), حیدر (18-07-11), شمشاد احمد (19-07-11) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,407
کمائي: 96,188
شکریہ: 52,556
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا تو موبالئل تین دن سے خراب ہوا پڑا ہے۔
کمپنی والے منتیں کر رہے ہیں کہ یار اللہ کا واسطہ ہے ہمارے خرچے پر موبائل لے لو، سستا لے لو، مہنگا خرید کو ، مگر موبائل خرید لو۔ مگر میں ہوں کہ چین کی بانسری بجا رہا ہوں۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | skjatala (18-07-11), ھارون اعظم (18-07-11), احمد نذیر (19-07-11), ارشد کمبوہ (18-07-11), سیفی خان (18-07-11), شمشاد احمد (19-07-11) |
|
|
#5 | |||
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Oct 2010
عمر: 22
مراسلات: 105
کمائي: 4,145
شکریہ: 8,440
92 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
__________________
زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مری خموشی نہیں ہے، گویا مزار ہے حرف آرزو کا |
|||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے احمد نذیر کا شکریہ ادا کیا | skjatala (18-07-11), فیصل ناصر (18-07-11), ھارون اعظم (18-07-11), ارشد کمبوہ (18-07-11), حیدر (18-07-11), شمشاد احمد (19-07-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
ویسے غور طلب بات ہے کہ hello اگر hell سے نکلا ہوتا تو انگریز کیا کوئی انگریز اسے استعمال کرتا جن کی زبان ہے
افسوس ہے ہم خود السلام علیکم کہتے نہیں ہیں اور دوسروں کی زبان کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا | احمد نذیر (18-07-11), شمشاد احمد (19-07-11) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اب تو یہ نشے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے ۔ پاس ہوتو چین نہیںاور اگر نہ ہوتو چین نہیں ۔
ہُن دسو بندہ کرے تے کی کرے ؟
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,306
شکریہ: 25,212
16,399 مراسلہ میں 41,650 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بندہ کجھ نہ کرے ۔۔ موبائل نوں روزانہ صبح شام کھال دے پانی نال غسل دوے ۔۔ ساری بے چینی ایک ہفتے وچ درست ہو جاوے گی، موبائل دی وی تے بندے دی وی
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
زبردست ،،،، ایسی تحریر عطاالحق قاسمی جیسا بندہ ہی لکھ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
اچھی تحریر ہے ۔ ۔ ۔ شئیرنگ کا شکریہ جتالہ بھائی
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ميري دقيانوسي سي رائے ہے كہ اس سب ميں نہ قوم كا قصور ہے نہ موبائل كا۔۔۔۔۔۔ اس ميں قدرے قصور موبائل كمپنيوں كا ہےاور اس سےزيادہ ہمارے حكمرانوں كا ہے جنھوں نے ان كي لگام ڈھلي كي ہوئي ہے۔۔۔۔۔ قوم كا كيا ہے يہ تو وہ موم كي ناك ہوتي ہے اسے جہاں چاہو موڑ دو۔۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,207
کمائي: 23,651
شکریہ: 3,780
1,321 مراسلہ میں 3,018 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوبصورت تحریر ہے، بہت خوبی سے اور مزاح کے انداز میں سچی بات۔۔۔۔۔
اچھی شئرنگ ہے جناب۔ |
|
|
|
| Miss Khan کا شکریہ ادا کیا گیا | skjatala (20-11-11) |
![]() |
| Tags |
| ٹریفک, پاکستان, پسند, لوگ, نظر, موبائل, منتقل, آبادی, آدمی, ایس ایم ایس, اللہ, امریکہ, اجنبی, اعلیٰ, حال, خواتین, خلاف, خدا, دوست, داڑھی, دریافت, روتا, سیر, شخص, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|