واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > مزاحیہ ادب



مزاحیہ ادب مزاحیہ ادب


ہمارے پڑوسی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-02-11, 06:57 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہمارے پڑوسی

ہمارے پڑوسی

سنتے ہیں کہ اچھے پڑوسی اللہ کی نعمت ہیں، لیکن یہ بات شاید ہمارے پڑوسیوں نے نہیں سنی۔ ہم نہیں کہتے کہہمارے پڑوسی اچھے نہیں ہیں۔ صرف آپ کے سامنے ایک نقشا سا کھینچتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے پڑوسی کیسے ہیں۔
سب سے پہلے مرزا صاحب کو لیجئے۔ یہ حضرت ریڈیو بجانے کے بہت شوقین ہیں، بلکہ یوں لگتا ہے کہ مارکوفی صاحب کو ریڈیو ایجاد کرنے کا خیال مرزا صاحب کے ذوق و شوق کو دیکھ کر ہی آیا تھا۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو چوبیس گھنٹوں میں سے کوئی بائیس گھنٹے ان کا ریڈیو بجتا ہے بلکہ چیختا ہے اور پورے زور و شور سے چیختا ہے۔ ان کو غالباً ریڈیو کی آواز کم کرنے کا طریقہ نہیں معلوم، اسی لیے تمام محلے والوں نے اپنے اپنے ریڈیو بیچ کر روئی کے بنڈل خرید لیے ہیں اور روئی نکال نکال کر کانوں میں ٹھونستے رہتے ہیں۔ ان کے ریڈیو پر دنیا بھر کے دور دراز کے ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہونے والے پروگرام پورا محلہ (روئی ٹھونسنے کے باوجود) آسانی سے سن لیتا ہے۔ البتہ قریب کھڑے ہوئے آدمی کی آواز نہیں سنائی دیتی۔
قریشی صاحب بھی کچھ اسی قسم کا شوق رکھتے ہیں۔ انہیں موسیقی سے بہت لگائو ہے۔ لیکن فرصت انہیں آدھی رات کے بعد ہی نصیب ہوتی ہے،اسی لیے یہ ٹھیک اسی وقت ستار، ہارمونیم اور طبلہ بجانا شروع کرتے ہیں جب مرزا صاحب کا ریڈیو بند ہوتا ہے۔ اس طرح ہمارے محلے میں چوبیس گھنٹے بجلی، پانی اور گیس کی سہولت کے ساتھ موسیقی بھی چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔
محلے میں آدمی رات کو رونق میں مزید اضافہ اس وقت ہوجاتا ہے۔ جب جمالی صاحب کے دوستوںج کی محفل جمتی ہے۔ اس محفل میں خوب خوب قہقہے لگائے جاتے ہیں اور وہ ادھم مچا ہے کہ توبہ ہی بھلی، کبھی کبھی ان کے دوستوں میں سے کوئی صاحب تانیں بھی اڑاتے ہیں۔ اس سارے ہنگامہ ہائو سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ محلے میں رات بھر کوئی چور پاس پھٹک تک نہیں سکتا۔
اس سارے شور شرابے پر جلالی صاحب البتہ بہت خفا ہوتے ہیں۔ جلالی صاحب کئی سال یورپ میں رہ چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ یورپ کے کسی شہر میں یہ سارا شور و غل ہو تو فوراً پولیس آجائے اور ان بدتمیزوں کو پکڑ کر لے جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں لوگ رات دس بجے کے بعد سیڑھیاں بھی دبے قدموں چڑھتے اترتے ہیں تاکہ گھروں میں سوئے ہوئے لوگوں کی نیند خراب نہ ہو لیکن اس کا کیا علاج کہ ابھی جلال صاحب کی موٹر سائیکل میں سائلنسر یعنی شور کم کرنے والا آلہ نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حضرت جب موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے جاتے ہیں تو پھٹ پھٹ کا ایک ایسا کان پھاڑ دینےو الا شور سنائی دیتا ہے کہ قبر میں پڑے مردے بھی سن لیں تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں یا کم از کم کروٹ تو ضرور لیں۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ اگر ایسی موٹر سائیکل یورپ کے کسی شہر میں چلائی جائے تو کیا ہو۔کیا وہاں پولیس ایسے بدتمیزوں کو انعام دیتی ہے۔
نازک صاحب بھی مزے کے آدمی ہیں۔ انہیں جانور پالنے کا شوق ہے۔ ان کے گھر کے باہر ایک بکرا دو بھینسیں اور ایک ہرن بندھا رہتا ہے۔ گھر کے صحن میں مور اور بطخیں ہیں اور گھر میں کسی جگہ طوطے، چڑیاں، بلبلیں اور نہ جانے کون کون سے پرندے پال رکھے ہیں۔ غرض گھر کیا ہے اچھا خاصا چڑیا گھر ہے۔ نازک صاحب ان تمام حیوانات کی غلاظت اور اپنے گھر کا کوڑا بڑی پابندی سے روزانہ گھر سے باہر سڑک پر پھینکتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ شہر میں گندگی بڑھتی جارہی ہے، لوگ صفائی کا خیال نہیں کرتے، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے ایک اور پڑوسی طفیلی صاحب کی عادت ہے کہ وہ اکثر چیزیں ادھار مانگتے ہیں۔ مثلاً استری، اخبار، جھاڑو، برتن، کتابیں، تھوڑی سی چائے کی پتی، ذرا سا آٹا، صرف ایک انڈا، معمولی سا نمک، چٹک بھر کالی مرچیں وغیرہ اور بے چارے اکثر واپس کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایک دفعہ وہ ہماری بجلی کی استری کئی دن تک استعمال کرتے رہے اور ہم بڑی مشکل سے مانگ کر واپس لائے تو اگلے دن آموجود ہوئے کہا "ہماری" استری واپس کیجئے۔ خاصی مغز مارے کے بعد انہیں یاد آیا کہ وہ استری ان کی نہیں اصل میں ہماری تھی اور کافی عرصے سے ان کے گھر میں رہنے کی وجہ سے انہیں اپنی لگنے لگی تھی۔
ہمارے پڑوسیوں کی فہرست خاصی لمبی ہے اور ان سب کی دلچسپ عادتیں بیان کی جائیں تو دفتر کے دفتر بھر جائیں لیکن ہم یہ سوچ کر اس مضمون کو ختم کیے دیتے ہیں کہ آخر ہم بھی تو کسی کے پڑوسی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کو بھی ہم سے کچھ شکایتیں ہوں۔ اگرچہ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی پڑوسی کو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس شخص کی شراتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں وہ مومن نہیں۔
نونہال دوستو! امید ہے کہ آپ وہ سب نہیں کرتے ہوں گے جو ہمارے پڑوسی کرتے ہیں۔

ہمارے پڑوسی
سنتے ہیں کہ اچھے پڑوسی اللہ کی نعمت ہیں، لیکن یہ بات شاید ہمارے پڑوسیوں نے نہیں سنی۔ ہم نہیں کہتے کہہمارے پڑوسی اچھے نہیں ہیں۔ صرف آپ کے سامنے ایک نقشا سا کھینچتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے پڑوسی کیسے ہیں۔
سب سے پہلے مرزا صاحب کو لیجئے۔ یہ حضرت ریڈیو بجانے کے بہت شوقین ہیں، بلکہ یوں لگتا ہے کہ مارکوفی صاحب کو ریڈیو ایجاد کرنے کا خیال مرزا صاحب کے ذوق و شوق کو دیکھ کر ہی آیا تھا۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو چوبیس گھنٹوں میں سے کوئی بائیس گھنٹے ان کا ریڈیو بجتا ہے بلکہ چیختا ہے اور پورے زور و شور سے چیختا ہے۔ ان کو غالباً ریڈیو کی آواز کم کرنے کا طریقہ نہیں معلوم، اسی لیے تمام محلے والوں نے اپنے اپنے ریڈیو بیچ کر روئی کے بنڈل خرید لیے ہیں اور روئی نکال نکال کر کانوں میں ٹھونستے رہتے ہیں۔ ان کے ریڈیو پر دنیا بھر کے دور دراز کے ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہونے والے پروگرام پورا محلہ (روئی ٹھونسنے کے باوجود) آسانی سے سن لیتا ہے۔ البتہ قریب کھڑے ہوئے آدمی کی آواز نہیں سنائی دیتی۔
قریشی صاحب بھی کچھ اسی قسم کا شوق رکھتے ہیں۔ انہیں موسیقی سے بہت لگائو ہے۔ لیکن فرصت انہیں آدھی رات کے بعد ہی نصیب ہوتی ہے،اسی لیے یہ ٹھیک اسی وقت ستار، ہارمونیم اور طبلہ بجانا شروع کرتے ہیں جب مرزا صاحب کا ریڈیو بند ہوتا ہے۔ اس طرح ہمارے محلے میں چوبیس گھنٹے بجلی، پانی اور گیس کی سہولت کے ساتھ موسیقی بھی چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔
محلے میں آدمی رات کو رونق میں مزید اضافہ اس وقت ہوجاتا ہے۔ جب جمالی صاحب کے دوستوںج کی محفل جمتی ہے۔ اس محفل میں خوب خوب قہقہے لگائے جاتے ہیں اور وہ ادھم مچا ہے کہ توبہ ہی بھلی، کبھی کبھی ان کے دوستوں میں سے کوئی صاحب تانیں بھی اڑاتے ہیں۔ اس سارے ہنگامہ ہائو سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ محلے میں رات بھر کوئی چور پاس پھٹک تک نہیں سکتا۔
اس سارے شور شرابے پر جلالی صاحب البتہ بہت خفا ہوتے ہیں۔ جلالی صاحب کئی سال یورپ میں رہ چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ یورپ کے کسی شہر میں یہ سارا شور و غل ہو تو فوراً پولیس آجائے اور ان بدتمیزوں کو پکڑ کر لے جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں لوگ رات دس بجے کے بعد سیڑھیاں بھی دبے قدموں چڑھتے اترتے ہیں تاکہ گھروں میں سوئے ہوئے لوگوں کی نیند خراب نہ ہو لیکن اس کا کیا علاج کہ ابھی جلال صاحب کی موٹر سائیکل میں سائلنسر یعنی شور کم کرنے والا آلہ نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حضرت جب موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے جاتے ہیں تو پھٹ پھٹ کا ایک ایسا کان پھاڑ دینےو الا شور سنائی دیتا ہے کہ قبر میں پڑے مردے بھی سن لیں تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں یا کم از کم کروٹ تو ضرور لیں۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ اگر ایسی موٹر سائیکل یورپ کے کسی شہر میں چلائی جائے تو کیا ہو۔کیا وہاں پولیس ایسے بدتمیزوں کو انعام دیتی ہے۔
نازک صاحب بھی مزے کے آدمی ہیں۔ انہیں جانور پالنے کا شوق ہے۔ ان کے گھر کے باہر ایک بکرا دو بھینسیں اور ایک ہرن بندھا رہتا ہے۔ گھر کے صحن میں مور اور بطخیں ہیں اور گھر میں کسی جگہ طوطے، چڑیاں، بلبلیں اور نہ جانے کون کون سے پرندے پال رکھے ہیں۔ غرض گھر کیا ہے اچھا خاصا چڑیا گھر ہے۔ نازک صاحب ان تمام حیوانات کی غلاظت اور اپنے گھر کا کوڑا بڑی پابندی سے روزانہ گھر سے باہر سڑک پر پھینکتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ شہر میں گندگی بڑھتی جارہی ہے، لوگ صفائی کا خیال نہیں کرتے، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے ایک اور پڑوسی طفیلی صاحب کی عادت ہے کہ وہ اکثر چیزیں ادھار مانگتے ہیں۔ مثلاً استری، اخبار، جھاڑو، برتن، کتابیں، تھوڑی سی چائے کی پتی، ذرا سا آٹا، صرف ایک انڈا، معمولی سا نمک، چٹک بھر کالی مرچیں وغیرہ اور بے چارے اکثر واپس کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایک دفعہ وہ ہماری بجلی کی استری کئی دن تک استعمال کرتے رہے اور ہم بڑی مشکل سے مانگ کر واپس لائے تو اگلے دن آموجود ہوئے کہا "ہماری" استری واپس کیجئے۔ خاصی مغز مارے کے بعد انہیں یاد آیا کہ وہ استری ان کی نہیں اصل میں ہماری تھی اور کافی عرصے سے ان کے گھر میں رہنے کی وجہ سے انہیں اپنی لگنے لگی تھی۔
ہمارے پڑوسیوں کی فہرست خاصی لمبی ہے اور ان سب کی دلچسپ عادتیں بیان کی جائیں تو دفتر کے دفتر بھر جائیں لیکن ہم یہ سوچ کر اس مضمون کو ختم کیے دیتے ہیں کہ آخر ہم بھی تو کسی کے پڑوسی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کو بھی ہم سے کچھ شکایتیں ہوں۔ اگرچہ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی پڑوسی کو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس شخص کی شراتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں وہ مومن نہیں۔
نونہال دوستو! امید ہے کہ آپ وہ سب نہیں کرتے ہوں گے جو ہمارے پڑوسی کرتے ہیں۔

مصنف: روف

والسلام
زارا
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (28-02-11), حیدر (28-02-11)
پرانا 28-02-11, 07:39 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,197
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوبصورت شئیرنگ ہے
کیپ اٹ اپ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (28-02-11)
پرانا 10-03-11, 07:29 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,230
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پسندیدگی کا شکریہ ۔۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہنگامہ, کوشش, پولیس, وقت, لوگ, نیند, چور, موٹر سائیکل, آدمی, اللہ, انعام, جھوٹ, دنیا, ذرا, رات, سال, شہر, شور, شخص, شروع, علاج, عادت, عادتیں, صحن, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پڑوسی sahj مطالعہ حدیث 1 13-08-09 04:30 PM
قدم بوسی میاں شاہد عبدالمجید سالک 2 07-04-08 06:16 AM
’روسی صدر کی نجی زندگی پر فلم instafotos کمپیوٹر کی باتیں 0 07-02-08 09:37 AM
طوسی کا طوطا چاچا کمال مزاحیہ ادب 1 02-12-07 07:19 PM
فردوسی کی مثال خرم شہزاد خرم آئیں شاعری سیکھیں 0 22-09-07 11:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger